39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 39:1

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 39:1 in the Quran reader

یہ کتاب اللہ تعالیٰ غالب اور حکمت والے کی طرف سے نازل شدہ 1 ہے۔

1 مکی سورة کا آغاز عموماً ایسی ہی آیات سے ہوا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ کفار مکہ رسول اللہ ﷺ کی دعوت اور کلام کو منزل من اللہ نہیں سمجھتے تھے۔ اس آیت میں ایک تو یہ بتایا گیا ہے کہ یہ کتاب نبی کی اپنی تصنیف نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ اللہ سب سے زبردست ہے اور اپنے فرامین و احکام کو نافذ کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ تیسرے یہ کہ اللہ چونکہ حکیم ہے لہذا اس کا یہ کلام بھی حکمتوں سے لبریز ہے۔
Ayah 39:2

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَؕ Open ayah 39:2 in the Quran reader

ہم نے اس کتاب کو آپ کی طرف حق 2 کے ساتھ نازل کیا ہے لہذا آپ خالصتاً اس کی حاکمیت تسلیم کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت کیجئے

2 یعنی یہ کتاب اس لئے نازل نہیں کی گئی کہ اس کی آیات کا مذاق اڑایا جائے بلکہ اس لئے اتاری ہے کہ اس سے مثبت اور تعمیری نتائج حاصل ہوں جنہیں سب لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ اس میں مذکور ہے وہ ٹھوس حقائق پر مبنی ہے۔
Ayah 39:3

اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ فِیْ مَا هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ١ؕ۬ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ Open ayah 39:3 in the Quran reader

یاد رکھو ! بندگی 3 خالصتاً اللہ ہی کے لئے ہے اور جن لوگوں نے اللہ کے علاوہ کارساز بنا رکھے ہیں (وہ کہتے ہیں کہ) ہم تو ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ 4 سے قریب کردیں۔ جن باتوں میں یہ اختلاف 5 کر رہے ہیں یقینا اللہ ان کے درمیان فیصلہ کردے گا اللہ ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا اور حق کا منکر 6 ہو۔

3 دین کا لفظ چار معنوں میں آتا ہے۔ (1) اللہ تعالیٰ کی مکمل سیاسی اور قانونی حاکمیت کو تسلیم کیا جائے۔ (2) دوسرا معنی اس کے بالکل برعکس ہے یعنی اپنے آپ کو ہمہ وقتی اللہ کا غلام سمجھا جائے اور صرف اسی کی عبادت کی جائے، (3) قانون جزا و سزا (4) اور اس قانون جزا و سزا کے مطابق اچھے اور برے لوگوں کو بدلہ دینا۔ آیت نمبر 2 اور 3 میں دین کا لفظ اپنے پہلے دونوں معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ 4 توسل اور اللہ کا قرب ڈھونڈنا :۔ غیر اللہ کو پکارنے اور ان کے حضور نذر و نیاز پیش کرنے کے سلسلہ میں مشرکوں کی دلیل ہمیشہ یہ ہوا کرتی ہے کہ ہم یہ کام اس لئے کرتے ہیں کہ یہ چھوٹے خدا ہماری معروضات بڑے خدا تک پہنچا دیں۔ ہماری اللہ کے حضور سفارش کریں۔ ہم ان کی عبادت نہیں کرتے بلکہ ہم نے انہیں صرف اللہ کا تقرب حاصل کرنے کا وسیلہ یا ذریعہ بنایا ہے۔ یہ جواب تو دور نبوی کے مشرکوں کا تھا۔ مگر افسوس ہے کہ آج امت مسلمہ کا بھی بالکل یہی حال ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ جو مقام مشرکوں کے نزدیک اپنے بتوں کا تھا وہی مقام مسلمانوں کے نزدیک ان کے پیروں یا مشائخ کا ہے اور دوسرا فرق یہ ہے کہ مشرکوں کو تو بتوں کی نیاز مندی کے آداب واطوار شیطان نے سجھائے تھے۔ مگر مسلمانوں کے مشائخ خود اپنے مریدوں کو یہ آداب واطوار بتاتے ہیں۔ ان پیروں اور بزرگوں نے شرک کی منزلیں طے کرانے کے لئے تین درجے مقرر کر رکھے ہیں۔ (1) فنا فی الشیخ، (2) فنا فی الرسول اور (3) فنا فی اللہ۔ خ تصور شیخ اور سلوک کی منزلیں :۔ فنا فی الشیخ کے درجہ کی ابتدا تصور شیخ سے کرائی جاتی ہے۔ تصور شیخ سے مراد صرف پیر کی غیر مشروط اطاعت ہی نہیں ہوتی بلکہ اسے یہ بات باور کرائی جاتی ہے کہ اس کا پیر ہر وقت اس کے حالات سے باخبر رہتا ہے۔ اور بوقت ضرورت ان کی مدد کو پہنچتا ہے۔ اس عقیدہ کو مرید کے ذہن میں راسخ کرنے کے لئے اسے یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ وہ ہر وقت پیر کی شکل کو اپنے ذہن میں رکھے۔ یہی واہمہ اور مشق بسا اوقات ایک حقیقت بن کر سامنے آنے لگتا ہے اور صورت یہ بن جاتی ہے کہ : دل کے آئینہ میں ہے تصویر یار۔۔ جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی ان حضرات نے پیری کے فن کو خاص تکنیک دے کر عوام پر اس طرح مسلط کردیا ہے کہ کوئی آدمی اس وقت تک اللہ کے ہاں رسائی نہیں پاسکتا۔ جب تک باقاعدہ کسی سلسلہ طریقت میں داخل نہ ہو۔ پہلے تصور شیخ کی مشق کرے۔ حتیٰ کہ فنا فی الشیخ ہوجائے۔ یعنی اسے اپنی ذات کے لئے حاضر ناظر، افعال و کردار اور گفتار کو سننے والا اور دیکھنے والا سمجھنے لگے تب جاکر یہ منزل ختم ہوتی ہے اور عملاً ہوتا یہ ہے کہ مرید بیچارے تمام عمر فنا فی الشیخ کی منزل میں ہی غوطے کھاتے کھاتے ختم ہوجاتے ہیں۔ یہ گویا اللہ اور اس کے رسول سے بیگانہ کرکے اپنا غلام بنانے کا کارگر اور کامیاب حربہ ہے۔ یہ حضرات کس طرح اللہ سے بھی زیادہ اپنی پرستش کی تاکید کرتے ہیں یہ بات درج ذیل اقتباس میں ملاحظہ فرمائیے جو تصور شیخ، غیر اللہ کو پکارنا، توسل اور استمداد جیسے سب مسائل حل کردیتا ہے۔ خ اللہ کی بجائے مصیبت میں یا جنید پکارنے کی تلقین :۔ اس کے راوی جناب اعلیٰ حضرت رضا خان بریلوی ہیں۔ فرماتے ہیں غالباً حدیقہ ندیہ میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیدی جنید بغدادی دجلہ پر تشریف لائے اور یا اللہ کہتے ہوئے اس پر زمین کی طرح چلنا شروع کردیا۔ بعد میں ایک شخص آیا۔ اسے بھی پار جانے کی ضرورت تھی کوئی کشتی اس وقت موجود نہ تھی۔ جب اس نے حضرت کو جاتے دیکھا ؟ عرض کیا : میں کس طرح آؤں ؟ فرمایا یا جنید ! یا جنید کہتا چلا آ۔ اس نے یہی کہا اور دریا پر زمین کی طرح چلنے لگا جب بیچ دریا میں پہنچا۔ شیطان لعین نے دل میں وسوسہ ڈالا کہ حضرت خود یا اللہ کہیں اور مجھ سے یاجنید کہلواتے ہیں۔ میں بھی کیوں نہ یا اللہ کہوں ؟ خ اللہ کے قرب کی بجائے دور رکھنے کا طریقہ :۔ اس نے یا اللہ کہا اور ساتھ ہی غوطہ کھایا۔ پکارا یا حضرت میں چلا۔ فرمایا : وہی کہہ یا جنید ! یا جنید ! جب کہا دریا سے پار ہوا۔ عرض کیا حضرت ! یہ کیا بات تھی۔ آپ یا اللہ کہیں تو پار ہوں اور میں کہوں تو غوطہ کھاؤں ؟ فرمایا : اے نادان ! ابھی تو جنید تک تو پہنچا نہیں، اللہ تک رسائی کی ہوس ہے۔ اللہ اکبر (ملفوظات مجدد مائۃ حاضر حضرت احمد رضا خان بریلوی ص 117) پیر کس طرح اپنی پرستش کرواتے ہیں :۔ دیکھا آپ نے پیر کو وسیلہ پکڑنے کی کتنی زبردست دلیل ہے جو امام اہل سنت، موجودہ صدی کے مجدد صاحب غالباً حدیقہ ندیہ کے حوالہ سے پیش فرما رہے ہیں۔ اور واقعہ بھی ایسا لاجواب گھڑا ہے کہ اس بیچارے کو تسلیم کرنا پڑا کہ میرا اللہ کو پکارنا واقعی شیطانی وسوسہ تھا۔ یہ ہیں تصور شیخ جیسی بدعت کے کرشمے۔ یہ لوگ ایسے افسانے تراش تراش کر لوگوں کو شرک میں مبتلا کرتے اور اللہ سے دور رکھتے اور فی الحقیقت اپنی پرستش کراتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے خود جو اپنے قرب کا وسیلہ بتایا وہ درج ذیل قدسی حدیث سے واضح ہوتا ہے : قرب الہٰی کا حقیقی وسیلہ اس کے نیک اعمال ہیں :۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ : قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : اے آدم کے بیٹے میں بیمار ہوا تو نے میری بیمار پرس نہ کی، وہ کہے گا : اے میرے پروردگا ! میں کیسے تیری عبادت کرتا جبکہ تو تو رب العالمین ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا، تو نے اس کی عیادت نہ کی۔ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے وہاں پالیتا۔ اے ابن آدم ! میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو تو نے کھانا نہ دیا۔ وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! میں تجھے کیسے کھانا کھلاتا۔ تو تو رب العالمین ہے ؟ پروردگار فرمائے گا۔ کیا تو نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تو تو نے اسے کھانا نہ کھلایا۔ اگر تو اسے کھانا کھلاتا تو اس کا اجر میرے ہاں پالیتا۔ اے ابن آدم ! میں نے تجھ سے پانی مانگا تو تو نے مجھے پانی نہ پلایا۔ بندہ کہے گا کہ میں تجھے کیونکر پانی پلاتا، تو تو رب العالمین ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ میرے فلاں بندہ نے تجھ سے پانی مانگا تو تو نے اسے پانی نہ پلایا۔ اگر تو اسے پانی پلاتا تو اس کا اجر میرے ہاں پالتا (مسلم۔ کتاب البروالصلۃ والادب۔ باب فضل عیادۃ المریض) 5 پھر صرف یہی نہیں کہ وہ اپنے عقائد پر جمے ہوئے ہیں بلکہ اگر انہیں سمجھایا جائے تو مخالفت پر اتر آتے ہیں اور اسے ولیوں کے منکر یا گستاخ کا طعنہ دیتے ہیں۔ ایسے اختلافات دنیا میں مٹ نہیں سکتے۔ کیونکہ یہ معاملہ غور و فکر اور افہام کا نہیں بلکہ ضد اور چڑ کا بن جاتا ہے پھر کچھ دنیوی مفادات کا بھی دھندا چلتا ہے۔ لہذا ان اختلافات کا فیصلہ قیامت کے دن اللہ ہی کرے گا۔ اور وہاں ہر ایک کو ٹھیک سمجھ آجائے گی۔ 6 یہ مشرک جھوٹے تو اس لحاظ سے ہیں کہ ان کے سب عقیدے من گھڑت ہوتے ہیں۔ اور حق کے منکر اس لحاظ سے کہ بات سمجھنے کی بجائے ضد اور ہٹ دھرمی پر اتر آتے ہیں۔ اور اگر کفار کا معنی ناشکرگزار کیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ کھاتے تو اللہ کا دیا ہوا رزق ہیں اور ان کی ہر طرح کی نیاز مندیاں اللہ کے بجائے دوسروں کے لئے وقف ہوتی ہیں۔
Ayah 39:4

لَوْ اَرَادَ اللّٰهُ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 39:4 in the Quran reader

اللہ اگر کسی کو بیٹا بنانا چاہتا تو وہ اپنی مخلوق سے جسے چاہتا چن 7 سکتا تھا مگر وہ تو ایسی باتوں سے پاک ہے وہ یکتا ہے، سب پر غالب ہے

7 یہ دراصل مشرکوں کے اس عقیدہ کا جواب ہے جو کہتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ حالانکہ اپنے لئے بیٹیاں انہیں ناگوار ہیں۔ انہیں جواب یہ دیا گیا کہ اللہ کے لئے تو اولاد ہونا ہی محالات سے ہے۔ اس لئے کہ باپ اور بیٹے میں جنسی اور نوعی اشتراک ہوتا ہے۔ نیز بیٹا نہ باپ کا مملوک ہوتا ہے نہ مخلوق۔ جبکہ سب چیزیں اللہ کی مملوک و مخلوق ہیں۔ لہذا ان میں کسی قسم کا اشتراک ناممکن ہے۔ اور اگر بفرض محال اللہ اولاد بناتا تو پھر کیا بیٹیاں ہی اپنے لئے انتخاب کرتا ؟ جیسا کہ تم کہتے ہو جبکہ تم انہیں اپنی ذات کے لئے قطعاً پسند نہیں کرتے۔
Ayah 39:5

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ۚ یُكَوِّرُ الَّیْلَ عَلَى النَّهَارِ وَ یُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اَلَا هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 39:5 in the Quran reader

اس نے زمین و آسمان کو حق 8 کے ساتھ پیدا کیا۔ وہ رات کو دن پر اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور سورج اور چاند کو کام پر لگا دیا۔ ہر ایک، ایک مقررہ وقت تک یونہی 9 چلتا رہے گا۔ یاد رکھو ! وہی سب پر غالب 10 اور بخش دینے والا ہے۔

8 یعنی زمین و آسمان یا کائنات کو بےفائدہ پیدا نہیں کیا بلکہ اس میں بیشمار حکمتیں ہیں اور ان کی تخلیق سے کثیر مقاصد حاصل ہو رہے ہیں۔ 9 گردش لیل ونہار میں دلائل توحید :۔ یعنی شام کے وقت اگر مغرب کی طرف نگاہ ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ادھر سے اندھیرا اوپر کو اٹھ رہا ہے۔ جو بتدریج بڑھتا جاتا ہے۔ تاآنکہ سیاہ رات چھا جاتی ہے۔ اسی طرح صبح کے وقت اجالا مشرق سے نمودار ہوتا ہے۔ جو بتدریج بڑھ کر پورے آسمان پر چھا جاتا ہے۔ اور سورج نکل آتا ہے تو کائنات جگمگا اٹھتی ہے۔ ایسا نظر آتا ہے رات کو دن پر اور دن کو رات پر لپیٹا جارہا ہے۔ دن کو روشن کرنے اور رکھنے والی چیز سورج ہے۔ اور چاند رات کو روشنی دیتا ہے۔ یہ سورج اور یہ چاند جب سے پیدا کئے گئے ہیں۔ انسان کی خدمت سرانجام دے رہے ہیں اور انسانوں کو ان سیاروں سے بیشمار فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ لیکن یہ نظام شمس و قمر بھی ابدی نہیں ہے۔ ایک وقت آئے گا جب ان کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔ 10 اللہ تعالیٰ کائنات کی ہر چیز سے زبردست اور ان سب پر غالب ہے جو ایسے عظیم الجثہ کروں سے اپنی حسب پسند کام لے رہا ہے اور وہ بخش دینے والا یہاں اس نسبت سے مذکور ہے کہ حضرت انسان نے اس دنیا جو فتنہ و فساد بپا کر رکھا ہے اس کا تو یہی تقاضا ہے کہ یہ نظام درہم کرکے انسانوں کو تباہ کردیا جائے۔ مگر وہ عفو و درگزر سے کام لے رہا ہے۔
Ayah 39:6

خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ؕ یَخْلُقُكُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 39:6 in the Quran reader

اس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا پھر اس سے اس کی بیوی 11 بنائی اور تمہارے لیے مویشیوں سے آٹھ 12 نر و مادہ پیدا کئے وہ تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں، تین تاریک پردوں میں، ایک کے بعد دوسری شکل دیتے ہوئے پیدا کرتا 13 ہے۔ یہ ہے اللہ (ان صفات کا) تمہارا پروردگار، بادشاہی اسی کی ہے، اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ پھر تم کہاں سے پھیر دیئے 14 جاتے ہو ؟

11 یہ توحید باری پر دوسری دلیل ہے کہ وہ تم سب کا خالق ہے۔ بظاہر الفاظ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نفس واحدہ یعنی سیدنا آدم سے تمہیں پیدا کیا پھر اس کے بعد اس کی بیوی بنائی مگر یہاں ترتیب زمانی کے بجائے ترتیب بیان کو ملحوظ رکھا گیا ہے اور ایسی مثالیں ہر زبان میں پائی جاتی ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے پہلے آدم کو پیدا کیا، پھر اس سے اس کی بیوی کو، پھر ان دونوں سے نسل چلا کر تمہیں پیدا کیا۔ 12 مویشیوں کے آٹھ جوڑے جن میں اہل عرب شرک کرتے تھے :۔ یعنی اونٹ، گائے، بھیڑ، بکری، یہ چار نوع ہیں ان کے نر و مادہ ملا کر کل آٹھ جوڑے ہوئے۔ اور ان کا ذکر پہلے سورة انعام کی آیت نمبر 143 کے تحت گزر چکا ہے یہی چار نوع یا آٹھ جوڑے تھے جو اہل عرب پالتے تھے۔ اور انہیں میں ان کی شرکیہ رسوم جاری تھیں۔ اسی لئے ان کا ہی ذکر کیا گیا جبکہ ہمارے ہاں اونٹ بہت کم ہوتا ہے اور دودھ وغیرہ کی اغراض کے لئے گائے کے بجائے بھینسیں زیادہ پالی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں بھی ان جانوروں کا دودھ مزاروں پر چڑھایا جاتا ہے۔ 13 تین تاریکیوں میں جنین کی پیدائش :۔ اللہ تعالیٰ کے حیرت انگیز کارناموں میں سے ایک یہ ہے کہ ہر جنین کی، خواہ وہ انسان کا بچہ ہو یا حیوان کا تین تہ بہ تہ تاریکیوں کے اندر پرورش ہوتی ہے اور تینوں پردے اس جنین کو بیرونی آفتوں سے محفوظ رکھتے ہیں تب جاکر جنین پیدا ہونے کے قابل بچہ بنتا ہے۔ ان میں پہلا پردہ ماں کا پیٹ ہے دوسرا پیٹ کے اندر رحم اور تیسرا رحم کے اندر جھلی جس میں جنین ملفوف اور محفوظ ہوتا ہے۔ پھر اس عرصہ میں اس جنین پر کئی مراحل اور اطوار گزرتے ہیں۔ پہلے وہ نطفہ ہوتا ہے۔ پھر منجمد خون ہے پھر گوشت کا لوتھڑا، پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے بعد ازاں اس کی شکل و صورت بنتی ہے اور یہ سب کچھ تین تاریکیوں کے اندر ہی ہوتا رہتا ہے۔ تاآنکہ وہ جنین مقررہ وقت کے بعد انسان کی شکل و صورت لے کر ماں کے پیٹ سے باہر آجاتا ہے۔ 14 جاہل عوام کو شرک کی گمراہیوں میں پھنسانے والے حضرات :۔ تمہارے پروردگار کی یہ صفات ہیں کہ وہ ہی تمہارا خالق ہے وہی تمہاری پرورش کرنے والا ہے اور وہی تمہارا اور ساری کائنات کا مالک ہے۔ لہذا وہی تمہاری نیاز مندیوں، نذروں نیازوں، قربانیوں اور عبادات کا مستحق ہوسکتا ہے۔ اب تم جو اللہ کے علاوہ دوسروں کے لئے یہ افعال بجا لاتے ہو تو بتاؤ کیا یہ سیدھی سی بات بھی تمہاری سمجھ میں نہیں آسکتی اور وہ کون لوگ ہیں جو تمہیں اس سیدھی سی بات سے پھیر کر غلط راہوں پر ڈال دیتے ہیں۔ اور یہ تو واضح بات ہے کہ اس سیدھی سی بات سے بہکانے والے وہی لوگ ہوسکتے ہیں جن کے کچھ اپنے دنیوی مفادات ایسے غلط راستوں سے وابستہ ہوں اور یہ لوگ ہوتے ہیں مندروں کے گرو اور مہنت بت خانوں کے پنڈت اور پروہت اور مزاروں کے سجادہ نشین اور مجاور حضرات جنہوں نے عوام کو طرح طرح کی داستانیں سنا کر اس جال میں پھنسا رکھا ہے۔ اور اس طرح اپنا تو الو سیدھا کرلیا ہے۔ لیکن جاہل عوام کو شرک کی گمراہیوں میں دھکیل رکھا ہے۔
Ayah 39:7

اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنْكُمْ١۫ وَ لَا یَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ١ۚ وَ اِنْ تَشْكُرُوْا یَرْضَهُ لَكُمْ١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 39:7 in the Quran reader

اگر تم کفر کرو گے تو اللہ یقینا تم سے بےنیاز ہے (لیکن) وہ اپنے بندوں کے لیے کفر پسند نہیں کرتا۔ اور اگر تم شکر کرو تو وہ اسے تمہارے 15 ہی لئے پسند کرتا ہے۔ کوئی بار گناہ اٹھانے والا کسی دوسرے 16 کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھر تمہیں اپنے پروردگار کے ہاں ہی واپس جانا ہے۔ وہ تمہیں بتادے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو بلاشبہ وہ سینوں کے راز تک جاننے والا ہے۔

15 شکر کے فائدے :۔ اللہ تعالیٰ کے تم پر بےبہا انعامات کے باوجود بھی اگر تم کفران نعمت کرو گے اور اس کا حق عبادت دوسروں کو دیتے رہو گے تو اس سے اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ تمہارا اپنا ہی نقصان ہوگا۔ یہ الگ بات ہے کہ اللہ تمہارے کفران نعمت یا ایسی نمک حرامی کو پسند نہیں کرتا۔ اس کے ہاں پسندیدہ بات یہی ہے کہ تم اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو اور اسے بھی وہ تمہارے ہی فائدے کے لیے پسند کرتا ہے۔ شکر کا تمہیں فائدہ یہ پہنچے گا کہ ایک تو تمہارا پروردگار خوش ہوگا دوسرے تمہیں اور بھی زیادہ نعمتیں عطا فرمائے گا۔ مزید تفصیل کے لئے دیکھئے سورة ابراہیم کی آیت نمبر 7 کا حاشیہ۔ 16 یعنی اگر آج تم کسی کو راضی رکھنے کے لئے یا اس کی ناراضگی سے بچنے کے لئے کفر یا گمراہی کی راہ اختیار کرو گے تو قیامت کے دن وہ تمہارا بوجھ اٹھا نہیں لے گا۔ اس کے تو اپنے گناہوں کا بوجھ اس کے لئے وبال جان بنا ہوگا وہ تمہارا بوجھ کیسے اٹھائے گا۔ ؟ لہذا اللہ سے شرک اور کفران نعمت کے بارے میں انتہائی محتاط روش اختیار کرو۔ دوسروں کے بہکاوے میں نہ آؤ۔ اور خود سیدھی سی بات اور سیدھی راہ کو پہچاننے اور سمجھنے کی کوشش کرو۔ جن لوگوں کو آج تم نے اپنا پیشوا سمجھ رکھا ہے وہ کل تمہارے کسی کام نہیں آئیں گے۔
Ayah 39:8

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِیْبًا اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِیَ مَا كَانَ یَدْعُوْۤا اِلَیْهِ مِنْ قَبْلُ وَ جَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِیْلًا١ۖۗ اِنَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ Open ayah 39:8 in the Quran reader

اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرتے ہوئے اسے پکارتا ہے پھر جب وہ اسے اپنی نعمت سے نوازتا ہے تو یوں بھول جاتا ہے جیسے اس سے پہلے اس نے اپنے پروردگار کو پکارا 17 ہی نہ تھا اور اللہ کے شریک بنانے لگتا ہے تاکہ (دوسروں کو بھی) اس کی راہ 18 سے بہکا دے۔ اسے کہیے کہ اپنے کفر کا تھوڑا سا فائدہ اٹھا لے۔ تو یقینا اہل جہنم سے ہے۔

17 جمعرات کو مزاروں پر حاضری دینے والے :۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک دنیادار اور جاہل قسم کے انسان کی فطرت بیان فرمائی ہے جو مزاروں پر جمعرات کو حاضری دینے میں اپنی سب سعادت سمجھتا ہے۔ اس سے زیادہ اسے نہ دین کے سمجھنے کی ضرورت پیش آتی ہے اور نہ وہ اس کے لئے کوئی کوشش کرتا ہے۔ اور یہ سمجھتا ہے کہ یہ دنیا بس اللہ کے ان پیاروں کے سہارے ہی قائم ہے۔ جو ان مقبروں اور مزاروں میں موجود زندہ ہیں اور لوگوں کی داد رسی کر رہے ہیں۔ اور کچھ ایسے ہی عقیدے مشرکین مکہ کے اپنے بتوں سے وابستہ تھے۔ ایسے لوگوں کو جب کوئی ایسی مصیبت بن جاتی ہے کہ موت سامنے کھڑی نظر آنے لگتی ہے تو صرف اللہ کو پکارتے ہیں اور اللہ کے پیاروں کو بھول جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ سارے مشرکوں کا کبھی اس بات پر اتفاق نہیں ہوسکا کہ فی الواقع اللہ کے بعد وہ کون سی ہستی ہے۔ جو دافع البلاء ہوسکتی ہے۔ کسی کے نزدیک ایک بزرگ ہوتا ہے تو کسی کے نزدیک کوئی دوسرا بزرگ۔ البتہ اللہ کی ذات پر سب متفق ہوجاتے ہیں اور اسے پکارنے لگتے ہیں۔ پھر جب اللہ اس مصیبت سے نجات دے دیتا ہے اور انہیں سکھ چین نصیب ہوجاتا ہے تو پھر اللہ کو بھول جاتے ہیں اور اب ان کی ساری نیاز مندیاں بس اللہ کے پیاروں کے لئے رہ جاتی ہیں۔ 18 پھر وہ اسی پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ دوسروں سے یوں کہنے لگتا ہے کہ ہمیں تو فلاں آستانے سے شفا نصیب ہوئی تھی۔ اور فلاں بزرگ کی نظر کرم کی وجہ سے ہم اس مصیبت سے بچ نکلے تھے اور فلاں بزرگ کی بارگاہ سے ہماری فلاں حاجت پوری ہوئی تھی اور ہمارے دن پھرے تھے اسی طرح دوسرے بہت سے لوگ بھی ان حضرتوں کے معتقد بن جاتے ہیں اور ہر جاہل اپنے اسی طرح کے تجربے بیان کر کرکے عوام میں گمراہی پھیلاتا جاتا ہے۔
Ayah 39:9

اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّ قَآئِمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ یَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:9 in the Quran reader

کیا (ایسا شخص بہتر ہے) یا وہ جو رات کے اوقات قیام اور سجدہ میں عبادت کرتے گزارتا ہے، آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے پروردگار کی رحمت کا امیدوار ہے ؟ آپ ان سے پوچھئے : کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں برابر 19 ہوسکتے ہیں ؟ مگر ان باتوں سے سبق تو وہی حاصل کرتے ہیں جو اہل عقل و خرد ہوں۔

19 اللہ کے ہاں عالم کون اور جاہل کون ؟ اب ایک یہ شخص ہے جو صرف مصیبت کے وقت غیر اللہ کو پکارتا ہے۔ اور اسے قرآن جاہل یا نہ جاننے والے کے نام سے پکارتا ہے۔ خواہ وہ علامہ ئدہر ہو اور دوسرا وہ شخص ہے جو تنگی ترشی اور خوشحالی غرض ہر طرح کے حالات میں صرف اللہ پر ہی تکیہ کرتا ہے اور اسے ہی پکارتا ہے۔ رات کے اندھیروں میں اس کے حضور سجدہ ریز ہوتا ہے۔ اسی سے ڈرتا ہے اور اسی سے اس کی رحمت کی توقع بھی رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو عالم یا جاننے والے کے نام سے پکارتا ہے۔ خواہ وہ پرائمری پاس بھی نہ ہو یا ابتدائی دینی کتابیں بھی نہ پڑھا ہو۔ اور اس مفہوم کی تائید قرآن کریم کے ایک اور جملہ (إنَّمَا یَخْشَی اللّہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰۤؤُا) (35: 38) سے بھی ہوجاتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اہل عقل و خرد کے سامنے یہ سوال رکھتا ہے کہ بتاؤ ان دونوں کی طرز زندگی ایک جیسی ہے یا ان دونوں کا انجام ایک جیسا ہوسکتا ہے ؟
Ayah 39:10

قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ١ؕ اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 39:10 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ : اے میرے بندو ! جو ایمان لائے ہو، اپنے پروردگار سے ڈرتے رہو جو لوگ نیک کام کرتے ہیں۔ ان کے لئے اس دنیا میں (بھی) بھلائی 20 ہے۔ اور اللہ کی زمین وسیع 21 ہے۔ بلاشبہ صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بلا حساب دیا جائے گا۔

20 یہاں بھلائی سے مراد صرف مال و دولت ہی نہیں اگرچہ مال و دولت بھی اس بھلائی میں شامل ہے۔ یعنی یہ ممکن ہے کہ اس دنیا میں پرہیزگاروں کو مال و دولت عطا ہوا اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہیں مال و دولت عطا نہ کیا جائے۔ البتہ بھلائی کی اور بھی بہت سی اقسام ہیں۔ جو انہیں یقیناً حاصل ہوتی ہیں۔ مثلاً ایسے لوگوں کی سب ہی عزت کرتے ہیں خواہ عزت کرنے والے دیندار ہوں یا دنیا دار۔ ایسے لوگوں کی بات قابل اعتماد سمجھی جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کی ساکھ قائم ہوتی ہے اور آخرت کی بھلائی جو بہرحال ایسے لوگوں کے لئے یقینی ہے۔ 21 حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے :۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورة ہجرت حبشہ سے پہلے یا اس عرصہ کے لگ بھگ نازل ہوئی تھی۔ جبکہ مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا تھا۔ اور انہیں احکام اسلام کی بجاآوری میں کفار مکہ کی طرف سے سخت دشواریاں پیش آرہی تھیں۔ یعنی اگر مکہ کی سرزمین یا آس پاس کا علاقہ تمہارے لئے تنگ ہوگیا ہے تو اللہ کی زمین بڑی وسیع ہے کسی دوسرے ملک میں چلے جاؤ۔ جہاں آزادی سے اسلام کے احکام بجا لاسکو۔ ترک وطن کے سلسلہ میں بھی تمہیں کئی طرح کی مشکلات پیش آئیں گی اور جہاں جاؤ گے وہاں بھی ابتدائ ً مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ ان مشکلات کو اگر صبر و ثبات سے برداشت کرو گے تو اس کا ثواب بھی بےحساب ملے گا۔ واضح رہے کہ صبر کا تعلق ان مسلمانوں سے بھی ہے جو ہجرت کرکے چلے گئے تھے اور ان سے بھی جنہوں نے رسول اللہ کی صحبت یا کسی دوسری وجہ سے ہجرت نہ کی بلکہ مکہ میں ہی کفار کی سختیاں سہنے کے باوجود اپنے دین پر ڈٹے رہے۔
Ayahs 39:11–13

قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَۙ Open ayah 39:11 in the Quran reader

آپ کہئے : مجھے تو یہ حکم ہوا ہے کہ میں خالصتاً اسی کی حاکمیت تسلیم کرتے ہوئے اس کی عبادت 22 کروں

وَ اُمِرْتُ لِاَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 39:12 in the Quran reader

اور یہ بھی کہ سب سے پہلے میں خود مسلم بنوں

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 39:13 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو میں بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں

22 ہر نبی سب سے پہلے اپنی نبوت پر ایمان لاتا ہے اور احکام الہٰی کا عملی نمونہ پیش کرتا ہے :۔ ہر نبی پر یہ واجب ہوتا ہے کہ سب سے پہلے خود اپنی نبوت پر ایمان لائے۔ پھر دوسروں کو دعوت دے۔ اسی طرح اس پر یہ بھی واجب ہوتا ہے کہ اللہ کی طرف سے جو بھی حکم نازل ہو سب سے پہلے خود اس پر عمل کرے اور اپنی ذات کو بطور نمونہ دوسروں کے سامنے پیش کرے پھر دوسروں کو دعوت دے۔ یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ کی زبان سے یہ بات کہلوائی کہ مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ خالصتا ً اللہ اکیلے کی عبادت کروں اور اس حکم پر سب سے پہلے میں خود سرتسلیم خم کرتا ہوں۔
Ayah 39:14

قُلِ اللّٰهَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهٗ دِیْنِیْۙ Open ayah 39:14 in the Quran reader

آپ کہئے کہ : میں تو اپنے دین کو خالص کرتے ہوئے اللہ کی عبادت 23 کرتا ہوں

23 شرک سے سمجھوتہ ناممکن ہے :۔ آپ کو حکم یہ ہوتا تھا کہ خالصتاً اللہ اکیلے کی عبادت کریں۔ جبکہ کفار مکہ پر ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ آپ سے سمجھوتہ کرنے پر آمادہ ہوگئے تھے۔ اور وہ سمجھوتہ اس بات پر چاہتے تھے کہ ہم آپ کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالتے بشرطیکہ آپ ہمارے معبودوں کو برا بھلا نہ کہیں۔ بالفاظ دیگر آپ لا الہ الا اللہ نہ کہیں کیونکہ یہی کلمہ ان کے بتوں کو ناکارہ ثابت کرتا تھا جسے وہ اپنی، اپنے آباء واجداد کی اور اپنے بتوں کی توہین سمجھتے تھے۔ اور اس کلمہ سے انکار ہی اللہ کی سب سے بڑی نافرمانی تھی۔ لہذا آپ کی زبان سے اس کا جواب یہ دلوایا گیا کہ مجھے تو حکم ہی یہی ہے کہ اکیلے اللہ کے سوا کسی بھی معبود کو تسلیم نہ کروں۔ اور اگر میں اس حکم کی نافرمانی کروں تو میں بھی اللہ کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ لہذا میں ایسا کام کسی قیمت پر نہیں کرسکتا۔
Ayah 39:15

فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 39:15 in the Quran reader

تم اسے چھوڑ کر جس کی عبادت کرنا چاہتے ہو کرتے رہو (نیز) کہئے کہ اصل میں تو خسارہ اٹھانے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارہ میں ڈال دیا۔ دیکھو ! یہی بات صریح خسارہ 24 ہے

24 شرک سے خسارہ کے مختلف پہلو :۔ یہ صریح خسارہ اس لحاظ سے ہے کہ مشرکوں کے اگر کچھ نیک اعمال ہوئے بھی تو وہ شرک کی وجہ سے برباد ہوجائیں گے۔ اب ان کے صرف گناہ ہی گناہ باقی رہ جائیں گے۔ دوسرے ان کے بال بچوں کے گناہوں سے حصہ رسدی کے طور پر انہیں بھی گناہ ہوگا۔ تیسرے یہ کہ دنیا میں تو خسارہ کی اس طرح تلافی ہوسکتی ہے کہ بعد میں کسی وقت نفع ہوجائے۔ قیامت میں یہ صورت بھی ممکن نہ ہوگی گویا ہر طرف سے خسارہ ہی خسارہ انہیں گھیرے ہوئے ہوگا۔
Ayah 39:16

لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَ مِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ١ؕ ذٰلِكَ یُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ یٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 39:16 in the Quran reader

ان کے اوپر بھی آگ کے سائبان 25 ہوں گے اور ان کے نیچے بھی۔ اسی بات سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ اے میرے بندو ! مجھ سے ڈرتے رہو

25 ظلل ظلۃ کی جمع ہے جس کے معنی سایہ بھی ہے، بادل بھی اور ایسا خیمہ یا سائبان بھی جس کی صرف چھت ہی چھت ہو، دیواریں نہ ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے صریح خسارہ پانے والوں کی سزا یہ ہوگی جیسے ان کے اوپر آگ کی گھٹا چھا رہی ہو اور ان کے نیچے سے بھی ایسی آگ کی گھٹا اٹھ رہی ہو اور انہیں دونوں طرف سے اپنی لپیٹ میں لے لے۔
Ayah 39:17

وَ الَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْهَا وَ اَنَابُوْۤا اِلَى اللّٰهِ لَهُمُ الْبُشْرٰى١ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِۙ Open ayah 39:17 in the Quran reader

جو لوگ 26 طاغوت کی عبادت کرنے سے بچتے رہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا ان کے لئے بشارت ہے لہذا میرے بندوں کو بشارت 27 دے دیجئے

26 طاغوت کا مفہوم :۔ طاغوت کا معنی عموماً بت یا شیطان کرلیا جاتا ہے۔ ان الفاظ سے اس لفظ کا پورا مفہوم ادا نہیں ہوتا۔ طاغوت سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کی اللہ کے مقابلہ میں اطاعت یا عبادت کی جاتی ہو یا وہ خود اللہ کے مقابلہ میں اپنی اطاعت یا عبادت لوگوں سے کروانا پسند کرتا ہو، گویا طاغوت سے مراد دنیادار چودھری اور حکمران بھی ہوسکتے ہیں کوئی ادارہ یا پارلیمنٹ بھی ہوسکتی ہے۔ بت، شیطان اور جن بھی ہوسکتے ہیں اور ایسے پیر فقیر بھی ہوسکتے ہیں جو اللہ کے مقابلہ میں اپنی اطاعت کروانا پسند فرماتے ہیں اور شریعت پر طریقت کو ترجیح دیتے ہیں۔ 27 یہ بشارت صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو ہر قسم کے طاغوت کی اطاعت یا عبادت سے بچتے رہے اور تنگی ترشی میں بھی اللہ کی ہی اطاعت و عبادت کرتے رہے، اسی کی طرف رجوع کیا اور اسی پر توکل کیا۔
Ayah 39:18

الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 39:18 in the Quran reader

جو بات کو توجہ سے سنتے ہیں پھر اس کے بہترین 28 پہلو کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت بخشی اور یہی دانشمند ہیں۔

28 اتباع احسن سے کیا مراد ہے ؟ ان لوگوں کی ایک صفت یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام و فرامین کی اس صورت میں پیروی کرتے ہیں جو بہتر سے بہتر ہو۔ مثلاً نماز کی ادائیگی کی جائے تو خلوص نیت اور اللہ کی رضا اور اس کی محبت کے جذبے سے ادا کرے۔ بروقت اور باجماعت ادا کرے۔ طہارت اچھی طرح کرے۔ نماز میں خشوع و خضوع ہو اور ظاہری ارکان و آداب بھی درست ہوں۔ تو یہ نماز کی اچھی سے اچھی صورت ہے۔ اب اگر کوئی شخص نماز تو باجماعت ادا کرتا ہے لیکن نماز میں خیال بس دنیوی باتوں کے ہی آتے رہیں۔ نماز میں بےتوجہی ہو۔ فضول حرکتیں بھی کرتا رہے اور سست اور ڈھیلا ڈھالا کھڑا رہے۔ تو نماز تو اس نے بھی ادا کرلی۔ اور اللہ کے حکم کی اطاعت بھی ہوگئی مگر یہ احسن صورت نہیں۔ اور پہلے اور اس شخص کی نماز میں بہت فرق ہے۔ یہی حال تمام اعمال کا ہے۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ باتیں تو سب کی سنتے ہیں مگر قبول صرف وہ بات کرتے ہیں جو ان سے بہتر ہو پھر اسی پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔
Ayah 39:19

اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ١ؕ اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِۚ Open ayah 39:19 in the Quran reader

کیا جس شخص پر عذاب کی بات ثابت ہوچکی ہو تو (اے نبی) آپ ایسے شخص کو چھڑا سکتے ہیں 29 جو آگ میں گرچکا ہو۔

29 یعنی جن لوگوں پر ان کے عناد، ضد اور ہٹ دھرمی اور ان کی بداعمالیوں کے سبب سے عذاب کا حکم ثابت ہوچکا ہو کیا وہ ہدایت کی راہ اختیار کرسکتے ہیں۔ بھلا ایسے بدبختوں کو جو انہی بدعنوانیوں کے باعث آگ میں پڑچکے ہیں۔ انہیں آپ یا کوئی دوسرا راہ راست پر لاسکتا ہے اور انہیں آگ سے نکال سکتا ہے ؟
Ayah 39:20

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِیَّةٌ١ۙ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ۬ وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ الْمِیْعَادَ Open ayah 39:20 in the Quran reader

لیکن جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہے ان کے لئے بالا خانے ہیں جن کے اوپر اور بالا خانے بنے 30 ہوئے ہیں اور ان کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ کبھی اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا

30 کیا جنت اور دوزخ تیار کی جا چکی ہیں :۔ بعض دفعہ امت میں ایسی بےکار بحثیں شروع ہوجاتی ہیں جن کا انسان کی عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ لیکن جب شروع ہوجائیں تو اہل حق کو جواباً کچھ کہنا ہی پڑتا ہے۔ ایسے ہی مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ آیا جنت اور جہنم تیار کی جاچکی ہیں یا قیامت کے بعد لوگوں کے جزاو سزا کے فیصلوں کے بعد تیار ہوں گی۔ کتاب و سنت کے الفاظ میں یہ صراحت موجود ہے کہ یہ تیار ہوچکی ہیں۔ مگر ایک فرقہ نے اس کا انکار کیا اور کہا کہ قیامت کے بعد تیار ہوں گی۔ اس آیت میں لفظ مبنیۃ سے بھی واضح ہوتا ہے کہ یہ بالا خانے بنائے جاچکے ہیں۔ یہاں بالا خانوں سے مراد یہ نہیں ایک مکان پر کوئی چوبارہ ہوتا ہے جیسے دوسری منزل ہو۔ بلکہ اس سے درجات کی بلندی مراد ہے۔ یعنی ایک مکان سے دوسرا مکان بلندی پر واقع ہوگا اور تیسرا اس سے بلندی پر۔
Ayah 39:21

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهٗ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ یُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَجْعَلُهٗ حُطَامًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:21 in the Quran reader

کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ آسمان سے پانی برساتا ہے پھر زمین میں چشمے بنا کر اس 31 پانی کو آگے چلا دیتا ہے۔ پھر اس سے مختلف رنگوں کی کھیتی پیدا کرتا ہے پھر وہ جوبن پر آتی ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد پڑجاتی ہے پھر وہ اسے بھس بنا دیتا ہے۔ بلاشبہ اہل عقل کے لئے اس 32 میں ایک سبق ہے۔

31 بارش کا کچھ پانی زمین میں جذب ہو کر زمین کو سیراب کرتا ہے۔ زائد پانی اور نیچے چلا جاتا ہے۔ جو کبھی چشموں کی صورت میں پھوٹ نکلتا ہے اور کبھی کنوئیں وغیرہ کھود کر نکالا جاتا ہے۔ اور زائد پانی ندی نالوں میں بہتا ہوا دریاؤں کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ یہ سب پانی کے منابع ہیں۔ اور جو بھی صورت ہو بارش کے پانی سے انسانوں، حیوانوں اور نباتات کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ 32 دنیا کے کمال کو بھی زوال آکے رہے گا :۔ سبق یہ ہے کہ جو چیز بھی عروج کو پہنچے اسے زوال بھی ضرورآتا ہے۔ جب وہ جوبن پر ہو تو بڑی بہار دکھاتی اور اچھی لگتی ہے مگر اس کا انجام عبرت آموز ہوتا ہے۔ نباتات کی بھی یہی کیفیت ہے۔ پھر انسان کی اپنی زندگی کی بھی یہی کیفیت ہے۔ یہ چیزیں تو ہر انسان کے مشاہدے میں آسکتی ہیں۔ مگر قوموں کے عروج وزوال کی بھی اگرچہ یہی کیفیت ہوتی ہے مگر وہ انسان کے مشاہدہ میں نہیں آتی۔ کیونکہ وہ صدیوں پر محیط ہوتی ہے۔ اور اس کا ہمیں تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ فلاں قوم پر فلاں وقت عروج کا دور تھا اور فلاں وقت انحطاط کا۔ پھر اس سے آگے اس دنیا کا بھی یہی حال ہے جو اس وقت اپنی بہاریں دکھا رہی ہے اور اکثر لوگ اسی پر ریجھ بیٹھے اور اسی میں مست اور مگن ہوگئے ہیں۔ حالانکہ اس کا انجام بھی اللہ کی سنت کے مطابق وہی کچھ ہونے والا ہے جو دوسری چیزوں کا ہو رہا ہے۔ لہذا انسان کو ان مثالوں سے سبق حاصل کرنا چاہئے اور اس پر ریجھنے کے بجائے اس گھر کی فکر کرنا چاہئے جسے کبھی زوال نہیں آئے گا۔
Ayah 39:22

اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 39:22 in the Quran reader

بھلا جس شخص کا سینہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لئے کھول 33 دیا ہو اور وہ اپنے پروردگار کی طرف سے ایک روشنی 34 پر ہو (اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو کوئی سبق نہیں لیتا) لہذا ان لوگوں کے لئے ہلاکت ہے جن کے دل اللہ کے ذکر سے (اور) سخت 35 ہوجاتے ہیں۔ یہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں۔

33 شرح صدر کا مفہوم :۔ اسلام کے لئے سینہ کھول دینے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی حقانیت کا دل میں اس طرح یقین پیدا ہوجائے جس میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش باقی نہ رہے۔ اور انسان اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لئے اس طرح آمادہ ہوجائے کہ اس سے پیچھے ہٹنا اسے کسی قیمت پر گوارا نہ ہو۔ گو ایسا شرح صدر اللہ ہی کی توفیق سے نصیب ہوتا ہے۔ تاہم یہ توفیق بھی اللہ اسی شخص کو دیتا ہے۔ جو خود بھی حق بات کو قبول کرنے پر آمادہ ہو۔ 34 اس روشنی سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ کتاب ہے جو زندگی کے ہر میدان میں اور اس کے ہر موڑ پر اس کی رہنمائی کرتی ہے۔ پھر اس کے بعد رسول اللہ کی سنت ہے۔ جنہوں نے اللہ کے احکام کو عملی جامہ پہنا کر اپنے آپ کو امت کے سامنے نمونہ کے طور پر پیش فرمایا۔ 35 یعنی ایک طرف تو ایسا شخص ہے جس کا اللہ نے سینہ بھی اسلام کے لئے کھول دیا ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ روشنی میں نہایت سکون و اطمینان کے ساتھ اللہ کے راستہ پر گامزن ہے۔ دوسری طرف وہ شخص ہے جس کے دل میں حق بات سنتے ہی گھٹن پیدا ہوجاتی ہے اور ناگواری کے اثرات اس کے چہرہ پر نمودار ہونے لگتے ہیں۔ پھر اس کی ضد، عناد اور ہٹ دھرمی نے اس کے دل کو پتھر کی طرح سخت بنادیا ہو جس کے دل میں خیر کا ایک قطرہ بھی نہ گھس سکتا ہو۔ نہ کوئی نصیحت اس پر اثر کرے۔ نہ کبھی اللہ کی یاد کی توفیق نصیب ہو۔ وہ یا تو اپنے ہی نفس کی پیروی کرے یا اپنے آباء کی رسوم اور تقلید کی تاریکیوں میں بھٹکتا پھرے۔ کیا یہ دونوں انجام کے لحاظ سے ایک جیسے ہوسکتے ہیں ؟
Ayah 39:23

اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِیَ١ۖۗ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ١ۚ ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 39:23 in the Quran reader

اللہ نے بہترین کلام نازل 36 کیا جو ایسی کتاب ہے جس کے مضامین ملتے جلتے 37 اور بار بار دہرائے 38 جاتے ہیں۔ جن سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں پھر ان کی جلدیں اور ان کے دل نرم ہو کر اللہ کے ذکر کی طرف راغب 39 ہوجاتے ہیں۔ یہی اللہ کی ہدایت ہے، وہ جسے چاہتا ہے۔ اس (قرآن) کے ذریعہ راہ راست پر لے آتا ہے اور جسے اللہ گمراہ کر دے اسے کوئی راہ پر لانے والا نہیں۔

36 قرآن بہترین کلام کیسے ہے ؟:۔ قرآن بہترین کلام اس لحاظ سے ہے کہ اس کی آیات ٹھوس حقائق پر مبنی ہیں۔ اس کا انداز بیان دلنشین ہے۔ اس کے دلائل عام فہم ہیں۔ جن سے ایک دیہاتی بھی ایسے ہی مستفید ہوسکتا ہے جیسے ایک جید عالم، اور اس کے احکام و فرامین دنیا میں بہترین زندگی گزارنے کا راستہ بتاتے ہیں۔ نیز اس کے احکام محض نظریاتی نہیں بلکہ سب قابل عمل ہیں اور اگر ان پر عمل کیا جائے تو اخروی فلاح کے ضامن ہیں۔ اور یہ سب خوبیاں اللہ کے کلام کے علاوہ دوسرے کسی کے کلام میں نہیں ہوسکتیں۔ 37 ملتی جلتی آیات سے مراد ؟ یعنی قرآن میں ایک مضمون اگر بیس مقامات پر آیا ہے تو بھی اس میں اختلاف اور تضاد واقع نہیں ہوتا۔ اندازِبیان اور اختلاف الفاظ کے باوجود ایک جگہ کا مضمون دوسری جگہ کے مضمون کی تائید و توثیق ہی کرتا ہے۔ جس سے بات پوری طرح ذہن نشین ہوجاتی ہے اسی لئے کہتے ہیں کہ (إنَّ الْقُرْآنَ یُفَسِّرُ بَعَضَہ بَعْضًا) یہ تو ممکن ہے کہ ایک جگہ اجمال ہو اور دوسری جگہ تفصیل۔ مگر اختلاف اور تضاد واقع نہیں ہوتا۔ مثلاً قرآن نے ایک حکم دیا ہے کہ کسی غیرمسلم کو اپنا دلی دوست اور راز دار نہ بناؤ، تو کسی جگہ آپ کو یہ بات نہیں ملے گی کہ سیاست میں کوئی بات یا کوئی اصول حرف آخر نہیں ہوتا۔ 38 مثانی سے مراد کیسی آیات ہیں :۔ مثانی سے مراد ایک تو ایسی آیات ہیں جو بار بار پڑھی اور دہرائی جاتی ہیں۔ اسی لحاظ سے سورة فاتحہ کو سبع من المثانیکہا گیا ہے کہ یہ سورت کم از کم نماز کی ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے۔ پھر نماز کے علاوہ بھی پڑھی جاتی ہے۔ دوسری مراد وہ آیات ہیں جو قرآن میں بہ تکرار وارد ہیں۔ مثلاً (وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِلْمُکَذِّبِیْنَ ) یا (وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآن للذِّکْرِ فَھَلْ مِنْ مُدَّکِرٍ ) یا (فَبِایِّ اٰلاَءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ) اور ایسی آیات جو دو دو یا تین بار وارد ہیں وہ بہت ہیں۔ تیسری مراد اقوام سابقہ کے انجام سے خبردار کرنے والی آیات یا انبیاء کے قصص ہیں جو قرآن میں بار بار مختلف پیرایوں میں مذکور ہوئے ہیں۔ ایسے ہی شرک کے ابطال اور توحید کے دلائل ہر سورة کی بیشمار آیات میں مذکور ہیں۔ جو سب ایک دوسری کی تائید کرتی ہیں اور چوتھی مراد ایسی آیات ہیں جن میں نوعی تقابل پایا جاتا ہے۔ مثلاً جہاں اہل جنت کا ذکر ہے وہاں اہل دوزخ کا ذکر بھی آجاتا ہے اور اس کے برعکس بھی۔ جہاں رات کا ذکر ہے وہاں دن کا بھی ذکر ہے۔ جہاں اللہ تعالیٰ کی صفت قہار کا ذکر ہے تو اگلی آیت میں صفت غفار یا غفور کا بھی ذکر آگیا ہے۔ 39 قرآن سننے پر حال پڑنا محض ریاکاری ہے :۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر نے اپنی والدہ سیدہ اسماء بنت ابی بکر ؓ سے پوچھا کہ جب قرآن پڑھا جاتا تو رسول اللہ کے صحابہ کا کیا حال ہوتا تھا۔ وہ کہنے لگیں کہ ان کی آنکھوں میں آنسو آجاتے اور بدن پر رونگٹے کھڑے ہوجاتے عبداللہ بن زبیر کہنے لگے کہ ہمارے زمانہ میں تو بعض لوگ ایسے ہیں کہ قرآن سننے سے ان کو غش آجاتا ہے سیدہ اسماء نے کہا اللہ کی پناہ شیطان مردود سے اور جلدوں اور دلوں کے نرم پڑنے کا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ بڑی خوش دلی اور رغبت کے ساتھ اللہ کی عبادت بجا لاتے ہیں۔ یہ تو صحابہ کرام ؓ اور ان لوگوں کی صفات ہیں جو فی الواقع قرآن کی تاثیر قبول کرتے ہیں۔ پھر کچھ لوگوں نے تصنع سے ایسے طریقے ایجاد کر لئے کہ قرآن سننے سے غش آجائے اور وہ گرپڑیں جسے ہماری زبان میں حال پڑنا یا حال کھیلنا کہتے ہیں۔ ریا کار اور مصنوعی پیر قسم کے لوگ عام لوگوں پر اپنی بزرگی کی دھاک بٹھانے کے لئے ایسے کام کرتے ہیں۔ چناچہ سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ عراق کے ایک ایسے شخص پر سے گزرے جو مدہوش گرا ہوا تھا۔ انہوں نے پوچھا : اسے کیا ہوا ؟ لوگوں نے کہا : جب یہ قرآن سنتا ہے تو اس کا یہی حال ہوجاتا ہے سیدنا عبداللہ کہنے لگے : ہم بھی اللہ سے ڈرتے ہیں مگر گرتے نہیں اور ایسے لوگوں کے پیٹ میں شیطان ہوتا ہے۔ رسول اللہ کے اصحاب کا یہ طریقہ نہ تھا اور ابن سیرین سے کسی نے پوچھا : کچھ لوگ قرآن سن کر گرجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا : ایسے لوگوں کو ایک چھت پر اس طرح بٹھاؤ کہ وہ نیچے کی طرف دیوار کے ساتھ پاؤں لٹکائے ہوئے ہوں پھر انہیں قرآن سناؤ۔ اگر وہ نیچے گرپڑیں تب وہ سچے ہیں ورنہ وہ جھوٹے اور ریاکار ہیں۔
Ayahs 39:24–25

اَفَمَنْ یَّتَّقِیْ بِوَجْهِهٖ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ قِیْلَ لِلظّٰلِمِیْنَ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:24 in the Quran reader

پھر جو شخص قیامت کے دن کے سخت 40 عذاب کو اپنے چہرے پر روکے گا (اس کی بےبسی کا کچھ اندازہ ہوسکتا ہے ؟ ) اور ظالموں سے کہا جائے گا کہ اپنی ان کرتوتوں کا مزا چکھو جو تم کیا کرتے تھے۔

كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 39:25 in the Quran reader

ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی جھٹلایا تو ان کو ایسی جگہ سے عذاب آیا جس کا انہیں سان گمان تک نہ تھا۔

40 انسان کی عادت ہے کہ جب اس کے بدن پر کوئی ضرب پڑنے والی ہو تو سب سے پہلے وہ اپنے ہاتھوں سے اس کی روک تھام کرتا ہے یعنی پڑنے والے وار کی ہاتھوں سے مدافعت کرتا ہے۔ اور اگر حملہ شدید ہو اور ہاتھوں سے اسے روکا نہ جاسکتا ہو تو باقی بدن کے ہر حصے پر ضرب پڑنا گوار کرلیتا ہے لیکن جیسے بھی بن پڑے چہرے کو اس ضرب سے بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ قیامت کے دن ان کے ہاتھ تو بندھے ہوں گے اور بےبسی کا بھی یہ عالم ہوگا کہ اس عذاب کو مجبوراً انہیں اپنے چہروں پر برداشت کرنا پڑے گا۔ پھر ساتھ ہی انہیں یہ بھی کہا جائے گا کہ یہ تمہارے ہی اعمال کا بدلہ ہے۔ یہاں پھر سوال کا اگلا حصہ مخدوف ہے اور یہ جملہ یوں مکمل ہوتا ہے کہ کیا ایسا شخص اس مومن کی طرح ہوسکتا ہے جسے آخرت میں کوئی تکلیف اور نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہی نہ ہو بلکہ اسے اس دن ہر طرح سے راحت اور اطمینان میسر ہو ؟
Ayah 39:26

فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ الْخِزْیَ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:26 in the Quran reader

پھر اللہ نے انہیں دنیا کی زندگی میں ہی رسوائی کا مزا چکھا دیا اور آخرت کا عذاب تو کہیں 41 بڑھ کر ہے کاش وہ جانتے ہوتے

41 دنیا میں سزامحض ظالم کا ہاتھ روکنے کے لئے دی جاتی ہے :۔ وہ اللہ کی آیات یا اس کی وعید کا مذاق اڑانے میں لگے رہے اور پیغمبروں سے یہی کہتے رہے کہ وہ عذاب کب آئے گا جس کی دھمکی دے رہے ہو۔ اسے لے کیوں نہیں آتے۔ وہ اپنے اس شغل میں ہی مگن تھے کہ انہیں اللہ کے عذاب نے آلیا اور یہ عذاب کوئی ان کے جرائم کی سزا نہیں تھی بلکہ اس طرح انہیں مزید ظلم اور زیادتیوں سے روک دیا گیا اور اصل سزا تو انہیں اس وقت دی جائے گی جب وہ میدان محشر میں پیش کئے جائیں گے۔
Ayah 39:27

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 39:27 in the Quran reader

ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لئے ہر طرح کی مثالیں 42 بیان کردی ہیں تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔

42 اس سے مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ہم نے شرک کی تردید میں ہر طرح کی مثالیں دلائل کے ساتھ پیش کردی ہیں تاکہ لوگوں کو اصل حقیقت سمجھنے میں کوئی دشواری نہ رہے اور اس سے مراد دین کی سب ضروری باتیں بھی ہوسکتی ہیں جن میں اوامرو نواہی بھی شامل ہیں۔ ایسی بنیادی باتیں سب قرآن میں موجود ہیں اور سنت رسول اللہ سے ان کا مطلب اور مفہوم پوری طرح واضح ہوجاتا ہے۔ یعنی ہر شخص کو دین سے متعلق جملہ ہدایات کتاب و سنت سے مل سکتی ہیں۔ اور اسے اپنے دین کی حفاظت کے لئے قرآن کریم اور حدیث کافی ہے۔
Ayah 39:28

قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 39:28 in the Quran reader

وہ قرآن جو عربی زبان 43 میں ہے جس میں کوئی کجی نہیں۔ تاکہ لوگ (اللہ کی نافرمانی سے) بچ جائیں۔

43 قرآن ٹھیٹھ عربی زبان میں کیوں ہے :۔ قرآن اگر کسی دوسری زبان میں ہوتا تو اسے سمجھنے کے لئے ترجمانوں کے علاوہ اور بھی کئی قسم کی دشواریاں پیش آسکتی تھیں۔ یہ ان کی اپنی مادری اور ٹھیٹھ زبان میں ہے جسے سب لوگ بآسانی سمجھ سکتے ہیں پھر اس میں جو باتیں مذکور ہیں وہ صاف اور سیدھی ہیں جنہیں ہر عقل سلیم قبول کرتی ہے۔ اس کے انداز بیان اور دلائل میں کوئی الجھاؤ یا پیچیدگی نہیں۔ علاوہ ازیں جو احکام اس میں بیان کئے گئے ہیں ان پر عمل کرنا محال نہیں اور لوگ بسہولت ان پر عمل پیرا ہوسکتے ہیں اور جو لوگ کسی بھی درجہ میں معذور ہیں ان کے لئے رخصتوں یا مراعات کا پورا پورا خیال رکھا گیا ہے۔
Ayah 39:29

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیْهِ شُرَكَآءُ مُتَشٰكِسُوْنَ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ۚ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:29 in the Quran reader

اللہ ایک مثال بیان کرتا ہے۔ ایک شخص چند بدسرشت اور اپنے حق کے لئے باہم جھگڑنے 44 والوں کا غلام ہے اور دوسرا صرف ایک ہی آدمی کا غلام ہے۔ کیا ان دونوں غلاموں کی حالت ایک جیسی ہوسکتی ہے ؟ الحمد 45 للہ لیکن اکثر لوگ یہ بات جانتے نہیں

44 ایک انسان کے مختلف اور متشاکس آ قا کون کون سے ہیں ؟ تشاکس کے معنی بخل، تند خوئی اور بدمزاجی کی وجہ سے ایک دوسرے سے اپنے اپنے حق کے لئے کھینچا تانی کرنا ہے۔ مثال یہ ہے کہ ایک غلام کے ایک نہیں بلکہ متعدد آقا ہیں۔ اور ہر ایک کا جی یہ چاہتا ہے کہ وہ غلام کو اپنے ہی کام میں لگائے رکھے اور جتنا اس کا حق بنتا ہے اس سے زیادہ اس سے محنت لے۔ دوسروں کی خدمت خواہ وہ کرسکے یا نہ کرے۔ پھر وہ تند خو اور بدسرشت بھی ہیں ان میں سے ہر شخص اس غلام سے ڈانٹ ڈپٹ بھی کرتا ہے اور بدسلوکی سے بھی پیش آتا ہے۔ تو بتاؤ اس غلام کا کیا حال ہوگا اور وہ کس مشکل اور مصیبت میں پڑا ہوگا اور دوسرے غلام کا مالک صرف ایک ہی ہے تو بتاؤ ان دونوں غلاموں کی حالت ایک جیسی ہوسکتی ہے ؟ اور اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ایسے بدسرشت لوگ جو اپنے مشترکہ غلام سے اپنا زیادہ سے زیادہ حق وصول کرنے کے لئے جھگڑتے ہیں۔ غلام کو اس کا حق دینے میں سخت بخیل ہوتے ہیں۔ ایسے غلام کو نہ کوئی صرف اپنا غلام سمجھتا ہے نہ اس کی خبر لیتا ہے نہ اس کے حقوق کا خیال رکھتا ہے۔ اور دوسرا غلام جو صرف ایک شخص کا ہو وہ اسے اپنا ہی غلام سمجھتا ہے اور اس کے حقوق کا بھی خیال رکھتا ہے۔ اس لحاظ سے بھی وہ غلام جس کا ایک ہی آقا ہو وہ بہتر ہوا۔ یہ مثال دراصل ایک مشرک اور ایک موحد کی مثال ہے۔ مشرک کئی معبودوں کا غلام ہوتا ہے۔ اسے یہ فکر بھی دامنگیر رہتی ہے کہ اگر ایک کی حاضری اور نذر و نیاز دے کر اس کو خوش کرنے کی کوشش کرے تو دوسرے کہیں بگڑ نہ بیٹھیں اور اسے کوئی گزند نہ پہنچا دیں۔ اسی کھینچا تانی میں وہ پریشان اور پراگندہ دل رہتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں ایک موحد کو صرف ایک اکیلے اللہ کی رضا مندی مطلوب ہوتی ہے پھر چونکہ موحد اللہ کا ہی بن کر رہتا ہے اللہ بھی ہر آڑے وقت میں اس کی دستگیری فرماتا، مصائب سے نجات دیتا اور انعامات سے نوازتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان دونوں کی حالت ایک جیسی نہیں ہوسکتی۔ اور اسے سمجھنے کے لئے کسی لمبے چوڑے غور و فکر کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ اب یہ تو ظاہر ہے کہ اس مثال میں معبودوں سے مراد پتھر کے بت نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ ان کا بخیلی، تند خوئی اور بدمزاجی سے کوئی تعلق نہیں۔ نہ ہی وہ اپنے حقوق کے لئے جھگڑا کرسکتے ہیں۔ لامحالہ ان سے مراد ایسے جیتے جاگتے آقا ہی ہوسکتے ہیں جو عملاً آدمی کو متضادا حکام دیتے ہیں اور فی الواقع اس کو اپنی طرف کھینچتے رہتے ہیں۔ ان میں سب سے پہلا آقا تو انسان کا اپنا نفس ہے جو طرح طرح کی خواہشات اس کے سامنے پیش کرتا ہے اور اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ انہیں پورا کرے۔ دوسرے بیشمار آقا گھر میں، خاندان میں، برادری میں، قوم میں اور ملک کے معاشرے میں، مذہبی پیشواؤں میں، حکمرانوں اور قانون سازوں میں، کاروبار اور معیشت کے دائروں میں اور دنیا کے تمدن پر غلبہ رکھنے والی طاقتوں میں ہر طرف موجود ہیں جن کے متضاد تقاضے اور مختلف مطالبے ہر وقت آدمی کو اپنی اپنی طرف کھینچتے رہتے ہیں اور ان میں سے جس کا تقاضا پورا کرنے میں بھی وہ کوتاہی کرتا ہے وہ اپنے دائرہ کار میں اس کو سزا دیئے بغیر نہیں چھوڑتا۔ البتہ ہر ایک کی سزا کے ہتھیار الگ الگ ہیں۔ کوئی دل مسوستا ہے، کوئی روٹھ جاتا ہے، کوئی مقاطعہ کرتا ہے، کوئی دیوالیہ نکالتا ہے، کوئی مذہب کا وار کرتا ہے اور کوئی قانون کی چوٹ لگاتا ہے۔ اس پریشانی اور تنگی سے نکلنے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ انسان صرف ایک اللہ کا بندہ بن جائے اور اللہ کے احکام میں کسی دوسرے کی قطعاً پروانہ کرے۔ یہی اس کے لئے سلامتی، اطمینان اور نجات کا راستہ ہے۔ 45 الحمد للہ کے استعمال کا خاص موقع :۔ یہاں الحمدللہ کا استعمال ان معنوں میں ہوا ہے کہ بہت سے آقاؤں کے پرستار اس سوال کا جواب دیں تو بھی مرتے ہیں اور اگر نہ دیں تو بھی مرتے ہیں پھر اگر جواب نہ دیں تو گویا یہ ان کے خلاف مسکت دلیل ہوئی۔ اور اگر جواب دیں تو وہ یہ تو کہہ نہیں سکتے کہ ان دونوں غلاموں کی حالت برابر ہے اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ زیادہ آقا رکھنے والا غلام بہتر ہے۔ لہذا اللہ کا شکر ہے کہ اتنی بات تو وہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ایک آقا رکھنے والا غلام ہی بہتر ہوسکتا ہے۔ پھر جب عملی زندگی کا وقت آتا ہے تو یہ سب باتیں بھول کر نادان بن جاتے ہیں۔
Ayah 39:30

اِنَّكَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّهُمْ مَّیِّتُوْنَ٘ Open ayah 39:30 in the Quran reader

(اے نبی ! ) بلاشبہ آپ کو مرنا 46 ہے اور یہ بھی مرنے والے ہیں

46 کفار مکہ بسا اوقات یہ آرزو کرتے تھے کہ اگر یہ نبی مرجائے تو سارے جھگڑے ختم ہوجائیں۔ اس آیت میں ان کی اسی بری آرزو کا نہایت سنجیدہ انداز میں جواب دیا گیا ہے اور اس نبی کو ہی مخاطب کرکے کہا گیا ہے کہ اگر آپ کو موت آتی ہے تو یہ کیا موت سے بچ سکتے ہیں ؟ پھر یہ کیا معلوم پہلے موت کس کو آئے گی ؟ موت آنے کی حد تک تو سب یکساں ہیں مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ موت کے بعد کس کا انجام بخیر ہوگا۔ اور کون اپنی سرکشی کی پاداش میں ماخوذ ہوگا۔
Ayah 39:31

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ۠ Open ayah 39:31 in the Quran reader

پھر قیامت کے دن تم اپنے پروردگار کے ہاں اپنا اپنا 47 مقدمہ پیش کرو گے۔

47 اللہ کے ہاں کس کس قسم کے لوگ آپس میں جھگڑا کریں گے ؟:۔ یہ جھگڑے بھی کئی قسم کے ہوں گے۔ مظلوم ظالم کو دامن سے پکڑے اللہ کے حضور پیش کرے گا اور اپنے ظلم کے بارے میں اللہ کے حضور دلائل پیش کرے گا۔ دوسری قسم یہ کہ کافر اور مشرک اپنے جرم کا انکار کردیں گے۔ پھر ان کے خلاف رسولوں کی اور ایمانداروں کی شہادتیں ہوں گی۔ پھر ان کے اپنے اعضاء بھی ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ تیسری قسم اہل حق اور اہل باطل یا موحدوں اور مشرکوں میں جھگڑوں کا فیصلہ اللہ تعالیٰ خود کریں گے۔ چوتھی قسم مشرکین اور ان کے معبودوں یا بڑے لوگوں اور ان کے تابعداروں میں جھگڑا ہوگا۔ دونوں ایک دوسرے پر الزام دھریں گے۔ غرض کئی قسم کے جھگڑے ہوں گے۔ جن کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں نہایت انصاف کے ساتھ کیا جائے گا۔
Ayah 39:32

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ وَ كَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:32 in the Quran reader

پھر اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور جب سچی بات اس کے سامنے آئی تو اسے 48 جھٹلا دیا۔ کیا ایسے کافروں کا دوزخ میں ہی ٹھکانا نہیں ؟

48 سب سے بڑھ کر ظالم کون کون ہیں ؟ یعنی قیامت کے دن سب سے زیادہ ظالم اور سزا کا مستحق وہ شخص ہوگا جس نے ایسے عقیدے گھڑے کہ اللہ نے اپنے بہت سے اختیارات اور تصرفات اپنے پیاروں کو سونپ دیئے ہیں۔ اور ان کے پاس جو ایسے اختیارات ہیں وہ اللہ ہی کے عطا کئے ہوئے تھے۔ ان کے ذاتی نہیں ہیں۔ پھر جب انہیں حقیقت حال سے خبردار کیا جائے تو سمجھانے والے کو ہی جھوٹا سمجھیں اور اس کی مخالفت پر اتر آئیں۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر کوئی شخص جھوٹ موٹ کہہ دے کہ وہ اللہ کا نبی ہے۔ اور اس پر اللہ کا کلام نازل ہوتا ہے تو ایسا شخص سب سے بڑا ظالم ہے۔ اور وہ اپنی بات میں سچا اور فی الواقع اللہ کا نبی اور اللہ ہی کا کلام پیش کر رہا ہو۔ لیکن سننے والا اسے جھٹلا دے تو پھر یہ شخص سب سے بڑھ کر ظالم ہوگا۔ پہلے مطلب کے لحاظ سے اس آیت کا مصداق ایک ہی شخص ہے اور دوسرے مطلب کے لحاظ سے اس کا مصداق دو الگ الگ اشخاص ہیں۔ اور یہ سب ہی بڑے بڑے ظالموں کی قسمیں ہیں۔
Ayah 39:33

وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 39:33 in the Quran reader

اور جو شخص سچی بات لایا اور جس نے 49 اس کی تصدیق کی۔ یہی لوگ پرہیزگار ہیں

49 یہ آیت سابقہ آیت کا عکس ہے۔ اور اس کا مصداق ایک بھی ہوسکتا ہے اور دو الگ الگ بھی۔ یعنی جو شخص خود بھی سچ بات پیش کرتا ہے۔ سچ ہی بولتا ہے اور اگر کوئی سچی بات اس کے سامنے پیش کی جائے تو اس کی تصدیق بھی کردیتا ہے تو ایسا شخص فی الواقع متقی ہے اور دوسری صورت میں سچ بولنے والا تو رسول ہے۔ اور اس کی تصدیق کرنے والے مومنین ہیں۔ اور ایسے لوگ اللہ سے ڈرنے والے ہیں۔
Ayah 39:34

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الْمُحْسِنِیْنَۚۖ Open ayah 39:34 in the Quran reader

وہ جو کچھ چاہیں گے ان کے لئے ان کے پروردگار کے ہاں موجود 50 ہے۔ نیکی کرنے والوں کا یہی بدلہ ہے

50 ہر انسان موت کے دروازے پر پہنچتے ہی اپنے پروردگار کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ لہذا اللہ کے انعامات کا سلسلہ یہیں سے شروع ہوجاتا ہے اور دخول جنت سے پہلے کافی مراحل ہیں جہاں ایسے متقین پر اللہ کی عنایات ہوں گی۔ اور اللہ تعالیٰ ان کی خواہشات پوری فرمائے گا۔ مثلاً وہ چاہیں گے کہ عذاب قبر سے بھی محفوظ رہیں اور روز قیامت کی ہولناکیوں اور حساب و کتاب میں سختی سے بھی تو ان کی ایسی خواہشات پوری کی جائیں گی۔
Ayah 39:35

لِیُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 39:35 in the Quran reader

تاکہ اللہ ان سے وہ برائیاں دور کردے جو انہوں 51 نے کی تھیں اور جو اچھے کام وہ کرتے رہے انہی کے لحاظ سے انہیں ان کا اجر عطا کرے

51 یعنی ایسے متقین نے اگر اپنے دور جاہلیت میں کچھ گناہ کے کام کئے بھی تھے تو اللہ ان کو محو کر دے گا۔ پھر اسلام لانے کے بعد انہوں نے جو اچھے کام کئے تھے ان میں سے جو کام سب سے بہتر ہوگا اسی کی جزا کے مطابق دوسرے عملوں کی بھی جزا دی جائے گی خواہ وہ اس پایہ کے نہ ہوں۔
Ayah 39:36

اَلَیْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ١ؕ وَ یُخَوِّفُوْنَكَ بِالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍۚ Open ayah 39:36 in the Quran reader

کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو کافی نہیں ؟ اور یہ لوگ آپ کو ان سے ڈراتے ہیں جو اس کے سوا 52 ہیں۔ اور جسے اللہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔

52 مشرکوں کا اپنے معبودوں کے انتقام سے ڈرنا :۔ اس جملہ کے مخاطب مشرکین مکہ ہیں۔ جو اکثر آپ سے کہا کرتے تھے کہ ہمارے معبودوں کی توہین کرنا چھوڑ دو ۔ ان کی شان میں جس کسی نے گستاخی کی وہ تباہ و برباد ہو کے رہ گیا۔ لہذا اگر تم ایسی باتوں سے باز نہ آئے تو تمہارا بھی یہی حشر ہوگا۔ اسی کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ : کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو کافی نہیں ؟ واضح رہے کہ یہ خطاب صرف مشرکین مکہ کے لئے مختص نہیں بلکہ ہر دور کے اور ہر جگہ کے مشرکوں کے لئے ہے۔ دور کیوں جائیں۔ اپنے ہاں کے ہی اولیاء اللہ کے متداول تذکرے ملاحظہ فرما لیجئے۔ ان میں آپ کو ایسا خاصا مواد مل جائے گا کہ فلاں شخص نے فلاں آستانے کی توہین کی تو چند ہی دنوں میں اس کا کاروبار تباہ ہوگیا۔ اور فلاں شخص نے فلاں بزرگ کے حق میں گستاخانہ کلمے کہے تو ایسا بیمار پڑا کہ پھر اٹھ نہ سکا۔ پھر یہ انتقام کا سلسلہ صرف زندہ بزرگوں اور پیروں سے مخصوص نہیں کہ فوت شدہ بزرگوں کے حق میں گستاخی کی جائے تو وہ بھی اپنا انتقام لے کر چھوڑتے ہیں۔ گویا انبیاء کا کام تو یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے بندوں کو صرف اللہ سے ڈرائیں اور ماسوا اللہ سے بےنیاز کردیں جبکہ ان مشرکوں کا مشن انبیاء کے مشن کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ وہ بس اپنے معبودوں اور بزرگوں کے انتقام سے ہی ڈرا ڈرا کر ان کے جال میں پھنسائے رکھتے ہیں۔ پھر ان اللہ کے پیاروں کے ذکر میں اللہ تعالیٰ خود ہی پس منظر میں چلا جاتا ہے۔
Ayah 39:37

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّضِلٍّ١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِعَزِیْزٍ ذِی انْتِقَامٍ Open ayah 39:37 in the Quran reader

اور جسے اللہ ہدایت دے دے اسے گمراہ کرنے والا کوئی نہیں۔ کیا اللہ سب پر غالب اور انتقام لینے والا 53 نہیں ؟

53 اللہ کی توہین کیسے ؟۔ ان مشرکوں کو اپنے اپنے معبودوں اور بزرگوں کی عزت کا تو بڑا خیال رہتا ہے اور اس غرض کے لئے وہ بہت سے قصے اور افسانے بھی گھڑ گھڑ کر لوگوں میں مشہور کرتے رہتے ہیں۔ مگر اس بات کا انہیں کبھی خیال نہیں آتا کہ ان سب کے اوپر ایک ایسی زبردست ہستی ہے جس کی یہ لوگ، اپنے معبودوں کی عزت بڑھانے کی آڑ میں زبردست توہین کر رہے ہیں۔ اور وہ ان سے پوری طرح انتقام بھی لے سکتی ہے اور انہیں یہ موٹی سی بات بھی سمجھ میں نہیں آتی کہ اللہ زبردست کے مقابلہ میں ان کے معبودوں کی حقیقت ہی کیا ہے۔ جو اللہ اکیلے کے پرستار کو اسطرح کی گیڈر بھبکیوں سے ہراساں کرنا چاہتے ہیں۔
Ayah 39:38

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَنِیَ اللّٰهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّهٖۤ اَوْ اَرَادَنِیْ بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكٰتُ رَحْمَتِهٖ١ؕ قُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ١ؕ عَلَیْهِ یَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 39:38 in the Quran reader

اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ تو یقینا کہیں گے کہ اللہ نے آپ انہیں کہئے بھلا دیکھو، جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، اگر اللہ مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو تمہارے معبود اس کی پہنچائی ہوئی تکلیف کو دور ہٹاسکتے ہیں ؟ یا اگر وہ مجھ پر رحمت کرنا چاہے تو یہ اس کی رحمت کو روک سکتے 54 ہیں ؟ آپ ان سے کہئے : مجھے اللہ کافی ہے (اور) بھروسہ کرنے والے اسی پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔

54 یہ بات تو مشرکین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ زمین و آسمان یعنی اس کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ اور خالق اپنی پیدا کی ہوئی یا بنائی ہوئی چیز میں ہر طرح کے تصرف کا اختیار بھی رکھتا ہے۔ اور ایسے تصرف کا اختیار خالق کے علاوہ دوسری کسی ہستی کو نہیں ہوسکتا۔ بالخصوص جب کہ وہ خود بھی اللہ کی مخلوق اور اسی کے زیر تصرف ہے۔ اب ایک طرف تو اللہ تعالیٰ ہے جو اپنی مخلوق میں تصرف کے وسیع اختیارات رکھتا ہے اور دوسری طرف جو بھی معبود ہوگا بہرحال وہ اللہ کی مخلوق ہی ہوگا اور اللہ کے مقابلہ میں اس کا کچھ اختیار بھی نہیں چل سکتا اب بتاؤ کہ ان دونوں میں سے کس پر بھروسا کرنا چاہئے اور کس کو اپنی مدد کے لئے کافی سمجھنا چاہئے۔ اور ان معبودوں کا تو یہ حال ہے کہ وہ سب مل کر بھی میری اس تکلیف کو دور نہیں کرسکتے جو اللہ نے میرے مقدر میں لکھ دی ہے اور اگر اللہ مجھے اپنی رحمت سے نوازنا چاہے تو یہ سب مل کر بھی اسے روک نہیں سکتے۔ کیونکہ اللہ کے مقابلہ میں ان کے کچھ بھی اختیارات نہیں ہیں۔ پھر جو چیزیں میرے نفع و نقصان سے متعلق مجبور محض ہیں۔ ان پر بھروسہ کرنا تو سخت نادانی کی بات ہوگی۔ واضح رہے کہ رسول اللہ کے علاوہ اور بھی کئی رسولوں کو مشرکوں کی طرف سے اس قسم کی دھمکیاں دی جاتی رہیں کہ اگر تم ہمارے معبودوں کی گستاخی سے باز نہ آئے تو وہ تمہیں مخبوط الحواس بنادیں گے اور تمہیں تباہ کرکے رکھ دیں گے اور یہ کردیں گے اور وہ کردیں گے تو اس کے جواب میں رسول یہی کہتے رہے۔ خ مشرکوں کی دھمکی کا جواب :۔ ان معبودوں سے کہو کہ میرا جو کچھ بگاڑنا چاہتے ہیں بگاڑ لیں اور فوری طور پر سب مل کر میرے خلاف کارروائی کر دیکھیں اور مجھے مہلت بھی نہ دیں۔ تاکہ مجھے بھی علم ہوجائے کہ وہ کچھ کرسکتے ہیں یا نہیں اور تمہیں بھی