Ayah 39:3955 تمہارے کام یہ ہیں کہ اللہ کی آیات کا مذاق اڑاؤ۔ ایمانداروں کو اذیتیں پہنچاؤ۔ اسلام کی راہ روکنے کے لئے سازشیں اور منصوبے تیار کرو اور اپنے آبائی دین اور شرکیہ رسوم پر ڈٹے رہو سو یہ کام تم کرتے جاؤ۔ اس کے مقابلہ میں میں اور میرے پیروکار تمہاری طرف سے ہر طرح کے دکھ سہہ کر بھی اللہ کے دین کی سربلندی کے لئے انشاء اللہ کام کرتے رہیں گے۔
Ayah 39:4056 رسوا کرنے والے عذاب سے مراد دنیا کا عذاب ہے۔ گویا تھوڑی ہی مدت بعد تم اس رسوائی کے عذاب سے دوچار ہوجاؤ گے اور دائمی عذاب سے مراد آخرت کا عذاب ہے جس کا علم تمہیں مرنے کے ساتھ ہی ہوجائے گا۔
Ayah 39:4157 یعنی ہمارا کام یہ تھا کہ ہم لوگوں کی ہدایت کے لئے ایک ایسی کتاب نازل کریں جو ٹھوس حقائق پر مبنی ہو تاکہ لوگوں پر اتمام حجت ہوجائے سو ایسی کتاب ہم نے آپ پر نازل کردی ہے اور آپ کا کام صرف یہ ہے کہ لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچا دیں اور وہ پیغام آپ نے پہنچادیا۔ لوگوں کو زبردستی ان حقائق کا قائل بنانا آپ کی ذمہ داری نہیں۔ آگے ہر شخص خود اپنا نفع سوچ لے۔ اگر نصیحت قبول کرے گا تو اس میں اس کا اپنا ہی بھلا ہے اور اگر اکڑ جائے گا اور مخالفت پر اتر آئے گا تو اس کی سزا خود بھگتے گا۔
Ayah 39:4258 اس آیت سے درج ذیل امور کا پتہ چلتا ہے بالفاظ دیگر اس میں مندرجہ ذیل نشانیاں موجود ہیں۔
1۔ روح حیوانی اور روح نفسانی :۔ روح کی دو قسمیں ہیں۔ ایک روح حیوانی جس کا تعلق دوران خون سے ہوتا ہے۔ اور یہ نیند کی حالت میں بھی جسم کے اندر موجود رہتی ہے۔ دوسری روح نفسانی یا نفس ناطقہ ہے جو نیند یا خواب کی حالت میں بدن کو چھوڑ کر سیر کرتی پھرتی ہے اور ہر طرح کے واقعات سے خواب میں ہی دوچار ہوتی رہتی ہے۔ اسی روح کو اللہ تعالیٰ مخاطب فرماتے ہیں۔
خ دوام روح نفسانی کو ہے :۔ اور اسی روح کو دوام ہے یہ روح جب بدن کو چھوڑ دیتی ہے تو انسان کے حواس خمسہ میں نمایاں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ نیند کے دوران انسان کی قوت باصرہ، لامسہ اور ذائقہ کی کارکردگی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ قوت سامعہ بھی ماند پڑجاتی ہے۔ ہاں اگر غل غپاڑا ہو یا کوئی دوسرا آدمی سوئے ہوئے کو بلند آواز سے پکار کر جگا دے تو روح نفسانی دوبارہ اپنے جسم میں لوٹ آتی ہے۔ اس روح کو اپنے جسم سے عشق کی حد تک محبت ہوتی ہے۔ کیونکہ یہی جسم اس روح کی آرزؤں کی تکمیل کا ذریعہ بنتا ہے۔
2۔ عذاب قبر کی ماہیت :۔ ان دونوں قسم کی روحوں کا آپس میں نہایت گہرا اور قریبی تعلق ہوتا ہے کیونکہ یہ ایک ہی اکائی کے دو جزو ہوتے ہیں۔ روح نفسانی اگر خواب میں کسی بات پر یا کسی چیز سے لطف اندوز ہوتی ہے تو انسان جاگنے پر ہشاش بشاش نظر آتا ہے۔ اور اگر اس روح نفسانی کو خواب میں کوئی ناگوار حادثہ پیش آجائے تو بعض دفعہ انسان سوتے میں ہی چیخنے چلانے لگتا ہے اور جاگتا ہے تو سخت اندوہناک ہوتا ہے اور کہیں مار پٹے تو حیرت کی بات ہے کہ اس مار پٹائی کے اثرات اور نشانات بعض دفعہ انسان کے جسم پر نمودار ہوجاتے ہیں۔ جنہیں جاگنے کے بعد انسان خود بھی مشاہدہ کرسکتا ہے۔ اس حقیقت سے عذاب قبرر یا عالم برزخ کے عذاب کی ماہیت کو کسی حد تک سمجھا جاسکتا ہے۔
3۔ روح حیوانی موت کے ساتھ ہی فنا ہوجاتی ہے :۔ روح حیوانی کا تعلق محض بدن سے ہے۔ بدن نہ ہو تو اس روح کا کوئی وجود ہی نہیں رہتا۔ بلکہ یہ روح تو بدن کے بوسیدہ ہونے یا فنا ہونے کا بھی انتظار نہیں کرتی بلکہ موت کے ساتھ ہی ختم ہوجاتی ہے۔ اس کے ختم ہونے سے بدن بدن نہیں کہلاتا ہے بلکہ جسد، میت، لاش اور نعش کہلاتا ہے۔
4۔ ان دونوں قسم کی روحوں میں سے کسی بھی ایک قسم کی روح کے خاتمہ سے دوسری قسم کی روح کا از خود جسم سے تعلق ختم ہوجاتا ہے اس کی مثال یوں سمجھئے کہ ایک شخص سوتے میں کوئی خواب دیکھ رہا ہے کہ کسی دوسرے شخص نے اسے سوتے میں قتل کردیا۔ تو اب روح نفسانی خواہ کہیں بھی سیر کرتی ہوگی، دوبارہ اس جسم میں داخل نہیں ہوگی بلکہ اللہ تعالیٰ اسے وہیں قبض کرلے گا۔ اس کے برعکس صورت یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی انسان کی روح نفسانی کو خواب میں قبض کرلیں تو بستر پر سونے والا آدمی بغیر کسی حادثہ یا بیماری کے مرجائے گا۔
5۔ نیند آدھی موت ہوتی ہے :۔ اللہ تعالیٰ موت کی حالت میں بھی روح نفسانی کو قبض کرتا ہے۔ اور نیند کی حالت میں بھی۔ اور یہی وہ روح ہے جسے انا یا (eGO) کہا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے نیند بھی بہت حد تک موت کے مشابہ ہوتی ہے۔ اسی لئے سوتے وقت ہمیں جو دعا سکھائی گئی ہے۔ وہ یہ ہے۔ (اللّٰھُمَّ باسْمِکَ أمُوْتُ وَأحْیٰی) # یعنی اے اللہ ! میں تیرے ہی نام سے مرتا ہوں اور تیرے ہی نام سے زندہ ہوجاؤں گا اور بیدار ہوتے وقت یہ دعا سکھائی گئی ہے۔ (ألْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ أحْیَانَا بَعْدَمَا أمَاتَنَا وَإلَیْہِ النُّشُوْرُ ) سب طرح کی تعریف اس اللہ کو سزاوار ہے جس نے ہمیں مارنے کے بعد دوبارہ زندہ اٹھا دیا اور اسی کے حضور حاضر ہونا ہے
خ 6۔ نیند سے اٹھنے اور دوبارہ اٹھنے میں مماثلت :۔ وہ اللہ جو ہمیں ہر روز سلا کر موت کا نمونہ دکھاتا اور پھر اس کے بعد زندہ کرتا رہتا ہے وہ اس بات پر بھی پوری قدرت رکھتا ہے کہ حقیقی موت کے بعد دوبارہ زندہ کردے۔
Ayah 39:4359 مشرکین مکہ اپنے بتوں کی پرستش کے لئے یہ دلیل دیتے تھے کہ یہ اللہ کی بارگاہ میں ہمارے سفارشی ہیں۔ ان ہی کی سفارش سے کام بنتے ہیں۔ سو پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی کے شفیع ہونے سے یہ کب لازم آتا ہے کہ اسے معبود بنا لیا جائے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ ان بتوں کو نہ عقل ہے، نہ سمجھ ہے، نہ سنتے ہیں، نہ بولتے ہیں۔ اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں سکتے کسی بھی بات کا یہ اختیار نہیں رکھتے تو پھر تمہاری سفارش کیسے کریں گے ؟
Ayah 39:4460 سفارش سے متعلق جملہ اختیارات اللہ کو ہیں :۔ اس آیت میں سفارش کا ضابطہ واضح فرما دیا کہ سفارش کے جملہ اختیارات تو اللہ کو ہیں اور سفارش تو وہ کرسکے گا جسے اللہ اجازت دے گا۔ اب کیا تمہیں معلوم ہے کہ جن بتوں کو یا ان کی روحوں کو یا بزرگوں کو تم نے شفیع بنا رکھا ہے یا سمجھ رکھا ہے انہیں سفارش کی اجازت بھی دے گا یا نہیں ؟ سفارش کے لئے دوسری شرط یہ ہے کہ سفارش اسی کے حق میں قبول ہوگی جن کے لئے اللہ تعالیٰ کی مرضی ہو۔ کیا تم بتاسکتے ہو کہ اللہ تمہارے حق میں سفارش کی کسی کو اجازت دے دے گا ؟ گویا جس سفارش پر تم بھروسہ کئے بیٹھے ہو اس کا خیال دل سے نکال دو ۔ یعنی اگر سفارش کرنے والا اپنی مرضی سے سفارش کر ہی نہ سکے جب تک اللہ کی طرف سے اجازت نہ ہو تو پھر یہ اللہ کے حکم کی تعمیل ہوئی اس کا اختیار کہاں سے آگیا ؟ قیامت کے دن کچھ لوگ دوسروں کی سفارش کریں گے ضرور۔ لیکن اس پر پابندیاں ایسی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ کی مرضی کے تحت ہوگا۔ اس میں سفارش کرنے والے بھی اللہ کے حکم کے پابند اور جن کے حق میں سفارش ہوگی وہ بھی اللہ کی رضا کے تحت۔ تو جملہ اختیارات تو اللہ کے ہوئے اور کسی دوسرے کے اختیار یا پسند کو اس میں کچھ دخل نہ ہوگا۔
Ayah 39:4561 مشرکوں کی ایک پکی علامت توحید خالص سے چڑ :۔ اس آیت میں مشرکوں کی ایک پکی خصلت کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ مشرک بتوں کے پجاری ہوں یا قبروں کے یا پیروں فقیروں کے نیز کسی بھی دور کے مشرک ہوں سب میں یہ خصلت پائی جاتی ہے کہ اگر اللہ اکیلے کی ہی صفات بیان کی جائیں اس کے محیرالعقول کارنامے بیان کیے جائیں اس کی حکمت سے لبریز آیات کی تشریح بیان کی جائے تو اس سے مشرکوں کے سینے ٹھنڈے نہیں ہوتے بلکہ ان میں انقباض اور گھٹن پیدا ہونے لگتی ہے۔ اور بسا اوقات وہ بیان کرنے والے کو بتوں کا یا اولیاء اللہ کا منکر ہونے کا طعنہ دینے لگتے ہیں۔ اس کے بجائے اگر ولیوں کی کرامات بیان کی جائیں۔ اور یہ بتایا جائے کہ فلاں بزرگ نے اپنی گستاخی کا یوں انتقام لیا تھا۔ فلاں شخص کی قسمت میں ایک لڑکا بھی نہیں لکھا تھا لیکن فلاں بزرگ نے اللہ تعالیٰ سے اصرار اور تکرار کرکے اس شخص کے حق میں سات بیٹے اللہ تعالیٰ سے منوا لیے۔ چناچہ اس کے ہاں سات بیٹے پیدا ہوئے۔ جب کوئی ایسے من گھڑت قصے بیان کرتا ہے تو سامعین سبحان اللہ ! کے نعرے لگانے لگتے ہیں اور بڑے خوش رہتے ہیں البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ ان کے بزرگوں کے بیان میں اگر کہیں اللہ کا نام آجائے تو اسے گوارا کرلیتے ہیں۔ لیکن اصل محبت انہیں اپنے اولیاء سے ہی ہوتی ہے۔
Ayah 39:4662 مشرکوں کو سمجھانے کے بعد دعا : یعنی جب اتنی موٹی موٹی باتوں میں بھی اختلاف اور جھگڑے ہونے لگیں۔ اللہ کے وقار اور اس کی عظمت کا احساس تک نہ رہے۔ اور ساری وفاداریاں اور نیاز مندیاں اللہ کے بجائے اللہ کے پیاروں کے لئے ہی وقف ہو کر رہ جائیں۔ تو اے اللہ ! اب تجھ سے فریاد ہے اور تیرا ہی حوصلہ ہے جو یہ سب کچھ برداشت کئے جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو مہلت دیئے جاتا ہے۔ اور ان کا فیصلہ قیامت کے دن پر ٹال رکھا ہے۔ جب کوئی شخص حق بات سننے کو تیار نہ ہو اور ناحق جھگڑا کرتا ہو تو ہر شخص کو یہ دعا پڑھنی چاہئے۔ جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو سکھائی ہے۔
Ayah 39:4763 شرک کا فدیہ : اس آیت میں ظالموں سے مرادیہی مشرک ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ کی صفات دوسروں میں بانٹتے پھرتے ہیں۔ پھر ایسی من گھڑت باتوں کا خوب پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ اللہ اکیلے کی توحید بیان کی جائے تو سمجھتے ہیں کہ یہ درپردہ ہمارے اولیاء کی توہین کی جارہی ہے ایسے لوگوں کا قیامت کے دن یہ حشر ہوگا کہ اگر زمین و آسمان کے سب خزانے ان کے قبضہ میں ہوں تو وہ بھی چاہیں گے کر یہ سب کچھ دے دلا کر اس عذاب سے چھٹکارا حاصل کرلیں جو ان کے ان گناہوں کے سلسلہ میں ان کو لاحق ہوگا۔ لیکن یہ صورت بھی ناممکن ہوگی اور انہیں اپنے گناہوں کی سزا بھگتنا ہی پڑے گی۔
Ayah 39:4864 اللہ کی گستاخی کیسے ہوتی ہے ؟ یعنی مشرکین اپنے معبودوں کی شان بڑھا چڑھا کر بیان کرتے تھے جس کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کے معبودوں کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں۔ قیامت کے دن ان کو ٹھیک طرح سے یہ علم ہوجائے گا کہ ہر طرح کا اختیار اور قدرت صرف اللہ کے پاس ہے اور ان کے معبود بالکل بےبس ہیں۔ اس دن وہ اللہ کی شان میں گستاخیوں کے نتائج اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ اور اللہ کے جس عذاب کا صرف اس لیے مذاق اڑایا کرتے تھے کہ روز آخرت کے ہی منکر تھے، وہی عذاب انہیں ہر طرف سے گھیرے میں لے لے گا۔
Ayah 39:4965 یعنی خوشحالی کے دور میں اپنے معبودوں کی شان بڑھاتے اور اللہ کی گھٹاتے ہیں۔ لیکن مصیبت پڑنے پر پھر اللہ ہی کو پکارتے ہیں اور جن معبودوں کی شان بڑھا چڑھا کر بیان کرتے تھے، مصیبت کے وقت وہ کام نہیں آتے۔
66 اس جملہ کے تین مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ جو مال و دولت کی فراوانی مجھے نصیب ہوئی ہے۔ پہلے ہی اللہ کے علم میں تھی اور میرے مقدر میں لکھی ہوئی تھی۔ دوسرا یہ کہ اللہ کو میری استعداد معلوم تھی اور قیاس چاہتا تھا کہ مجھے یہ مال و دولت ملنی چاہئے۔ تیسرا یہ کہ جو کہ مجھے ملا ہے۔ میرے علم، میرے تجربہ اور میری استعداد کے مطابق ہی مجھے ملا ہے۔
67 مال کی آزمائش بڑی سخت ہے۔ بحرین کے جزیہ کی رقم کی تقسیم :۔ یہ دنیا دارالامتحان ہے اور اس دنیا میں ہر انسان کی ہر حال میں آزمائش ہو رہی ہے اور ہر وقت ہو رہی ہے۔ اور جن چیزوں سے انسان کا امتحان ہو رہا ہے ان میں سے ایک نہایت اہم چیز مال و دولت کی فراوانی ہے۔ یہ انسان کے لئے کتنی بڑی آزمائش ہے ؟ درج ذیل احادیث سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے :
1۔ رسول اللہ نے سیدنا ابو عبیدہ بن الجراحص کو بحرین سے جزیہ لانے کے لئے بھیجا۔ جب ابو عبیدہ جزیہ کا مال لے کر واپس آئے تو اگلے دن صبح کی نماز میں معمول سے زیادہ لوگ شریک ہوئے اور سلام پھیرتے ہی (حسن طلب کے طور پر) آپ کے سامنے آئے۔ آپ بات سمجھ کر مسکرا دیئے اور فرمایا : تم خوش ہوجاؤ اور خوشی کی امید رکھو۔ (یعنی تم کو روپیہ ضرور ملے گا) پھر فرمایا : اللہ کی قسم ! مجھ کو تمہاری محتاجی کا ڈر نہیں ہے بلکہ مجھ کو تو یہ ڈر ہے کہ تم پر سامان زیست کی یوں فراوانی ہوجائے جیسے اگلے لوگوں پر ہوئی اور تم بھی اسی طرح دنیا کے پیچھے پڑجاؤ جس طرح وہ پڑگئے اور یہ مال کی کشادگی تمہیں آخرت سے اسی طرح غافل نہ کردے جس طرح ان لوگوں کو کیا تھا (بخاری۔ کتاب الرقاق۔ باب مایحذر من زھرۃ الدنیا والتنافس فیھا)
2۔ آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! مجھے یہ ڈر نہیں کہ تم میرے بعد شرک کرنے لگ جاؤ گے بلکہ میں تو اس بات سے ڈرتا ہوں کہ تم دنیا پر ریجھ نہ جاؤ
3۔ نیز آپ نے فرمایا : ہر امت کی ایک آزمائش ہے اور میری امت کی آزمائش مال ہے (ترمذی۔ بحوالہ مشکوۃ۔ کتاب الرقاق۔ دوسری فصل)
Ayah 39:5068 انہیں لوگوں میں سے ایک قارون تھا۔ جس نے یہی بات کہی تھی کہ مجھے جو مال و دولت ملا ہے تو اس کی وجہ میرا ذاتی علم، تجربہ اور قابلیت ہے۔ پھر جب اسے اسی کے خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا تو اس وقت نہ اس کا مال و دولت کسی کام آسکا اور نہ جاہ و حشم۔
Ayah 39:5169 مال کی کشادگی اللہ کی رضا کی دلیل نہیں :۔ پہلی قومیں بھی اس غلط فہمی میں مبتلا رہیں کہ ہماری آسودہ حالی اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارا پروردگار ہم سے راضی اور خوش ہے۔ پھر اس بات کو وہ اپنے آبائی شرکیہ دین کی صداقت پر دلیل لاتے تھے۔ سو انہیں ان باتوں کا جو انجام دیکھنا پڑا وہ سب کو معلوم ہے اور اب جو مشرکین انہی کی ڈگر پر چل رہے ہیں تو یہ بھی ایسے ہی انجام سے دوچار ہونے والے ہیں۔ یہ کہیں بھاگ کر اللہ کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔
Ayah 39:5270 رزق کا انحصار مشیئت الٰہی پر ہے :۔ نشانیوں سے مرادیہ ہے کہ رزق کی اس کمی بیشی کی حکمتوں پر غور صرف اہل ایمان ہی کرتے ہیں۔ کیونکہ رزق کے حصول کا مسئلہ ایسا مسئلہ ہے جس کا انحصار محض اللہ کی مرضی اور حکمت پر ہے۔ رزق کا انحصار نہ عقل پر ہے نہ علم پر، نہ قابلیت اور تجربہ پر، نہ جسمانی قوت اور استعداد پر۔ سب انسان ہی یہ چاہتے ہیں اور اس کام کے لئے بھرپور کوشش بھی کرتے ہیں کہ انہیں زیادہ سے زیادہ مال و دولت حاصل ہو۔ الا ماشاء اللہ مگر تھوڑے ہی لوگ ہوتے ہیں جو آسودہ حال ہوتے ہیں زیادہ ایسے ہی ہوتے ہیں جو رزق کی تنگی کی وجہ سے پریشان ہوتے ہیں۔ اگر رزق کا انحصار عقل پر ہوتا تو بیوقوف بھوکے مرجاتے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر عقلمند تو پریشان حال ہوتے ہیں جبکہ عقل سے کورے لوگ مال و دولت میں کھیلتے ہیں۔ اسی طرح بسا اوقات راست باز اور نیک لوگ پریشان حال ہوتے ہیں۔ جبکہ ظالم اور اللہ کے نافرمانوں کو وافر مقدار میں رزق دیا جاتا ہے۔ تو اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ جس کو مال ودولت ملا ہے اللہ اس سے خوش ہے۔ قطعاً غلط ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ رزق کی تقسیم کے لئے ضابطہ الٰہی دوسرا ہے اور اس کی حکمتیں قرآن کریم میں جا بجا مذکور ہیں۔
Ayah 39:5371 اسلام لانے سے پہلے گناہ معاف ہوجاتے ہیں :۔ اس آیت کے انداز سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ کسی سوال کے جواب میں نازل ہوئی ہے اور ان لوگوں کے لئے پیغام امید لے کر آئی ہے جو دور جاہلیت میں قتل، زنا، چوری، ڈاکے اور ایسے ہی سخت گناہوں میں غرق رہ چکے تھے اور اس بات سے مایوس تھے کہ یہ قصور کبھی معاف نہ ہوسکیں گے۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے :
1۔ سیدنا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ کچھ مشرکوں نے بہت خون کئے تھے اور بکثرت زنا کرتے رہے، وہ آپ کے پاس آکر کہنے لگے : آپ جو کچھ کہتے ہیں اور جس دین کی طرف دعوت دیتے ہیں وہ اچھا ہے۔ کیا اچھا ہو اگر آپ ہمیں یہ بتادیں کہ ہمارا اسلام لانا ہمارے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا ؟ اس وقت ( سورة فرقان کی) یہ آیت ( وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا 68ۙ ) 25 ۔ الفرقان :68) تاآخر اور ( سورة زمر کی) یہ آیت (قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ 53) 39 ۔ الزمر :53) تاآخر نازل ہوئی۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر)
2۔ آپ نے فرمایا : کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندو ! تم رات دن گناہ کرتے ہو اور میں تمام گناہ معاف کردیتا ہوں تم مجھ ہی سے معافی مانگو۔ میں معاف کردوں گا (مسلم۔ کتاب البر والصلۃ۔ باب تحریم الظلم)
خ تحریف معنوی کی ایک مثال :۔ اس آیت کی بعض لوگوں نے بہت عجیب سی تاویل کی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے کہہ رہا ہے کہ آپ لوگوں سے کہہ دیجئے کہ اے میرے بندو ! یعنی بندے اللہ کے نہیں بلکہ رسول اللہ کے ہیں۔ یہ تاویل دراصل تاویل نہیں بلکہ بدترین قسم کی تحریف ہے۔ کیونکہ یہ تاویل قرآن کی ساری تعلیم کے برخلاف ہے۔ نیز اس سے رسول اللہ کی شان بڑھتی نہیں بلکہ ان پر سخت الزام آتا ہے۔ آپ اس لئے مبعوث ہوئے تھے کہ سب لوگوں کو دوسرے معبودوں کی بندگی سے ہٹاکر خالص اللہ کے بندے بنائیں۔ نہ یہ کہ اپنے ہی بندے بنانا شروع کردیں۔ آپ خود بھی اللہ کے بندے تھے اور اس بندگی کا اقرار کرنے سے ہی ایک شخص اسلام میں داخل ہوسکتا ہے اور اس بندگی کا اقرار ہم سب نمازوں میں کئی بار کرتے ہیں۔ اس تاویل کو دیکھ کر بےاختیار ڈاکٹر اقبال (رح) کے یہ شعر یاد آجاتے ہیں :
زمن برصوفی و ملا سلامے۔۔ کہ پیغام خدا گفتند مار اولے تاویل شان در حیرت انداخت۔۔ خدا و جبرئیل ومصطفی را
(ترجمہ : میری طرف سے صوفی و ملا کو سلام ہو جنہوں نے ہمیں اللہ کا پیغام پہنچایا۔ لیکن ان کی تاویل نے اللہ، جبرئیل اور رسول اللہ ﷺ سب کو حیرت میں ڈال دیا (کہ ہم نے کیا کہا تھا اور ان لوگوں نے اس کا کیا مطلب لے لیا ہے)
Ayah 39:5472 یعنی اللہ کی معافی کی دو شرطیں ہیں۔ ایک تو اس کی طرف رجوع کرو یعنی اسلام لے آؤ اور دوسری اس کے احکام بجا لاؤ۔ یعنی آئندہ ایسے گناہوں سے پرہیز کرو گے تو پھر تمہارے سابقہ گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے معافی کا اعلان عام ہے۔ لہذا جلد از جلد اللہ تعالیٰ کے اس اعلان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرو۔ اور یہ خطاب صرف مشرکین مکہ سے ہی نہیں بلکہ اس کا حکم عام ہے اور ہر غیر مسلم کے لئے ہے۔
Ayah 39:5573 اتباع احسن سے کیا مراد ہے ؟ اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ قرآن کریم سارے کا سارا ہی احسن الحدیث ہے۔ لہذا اس میں جو اوامر ہیں ان کی تعمیل کرے، نواہی سے اجتناب کرے امثال اور قصوں میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے اس سے عبرت اور نصیحت حاصل کرے۔ اس کے برعکس جو شخص جو نہ اوامر کی تعمیل کرے نہ نواہی سے اجتناب کرے اور نہ وعظ و نصیحت سے کوئی اثر قبول کرے۔ ایسا شخص وہ پہلواختیار کرتا ہے جسے کتاب اللہ بدترین پہلو قرار دیتی ہے۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس کے اوامر کو اچھی سے اچھی شکل میں بجا لائے۔ نواہی سے پوری طرح اجتناب کرے بلکہ جس بات میں شک ہو اسے بھی چھوڑ دے اور پندو نصیحت سے بھی وہ مطلب لے اور اثر قبول کرے جو ایک قلب سلیم کا تقاضا ہوتا ہے۔ اپنے نظریات اور خواہشات کو قرآن سے کشید کرنے کی کوشش نہ کرے۔
Ayahs 39:56–5774 یعنی میں نے اللہ کے احکام کے مقابلہ میں اپنے آباء کی تقلید کو ترجیح دی۔ اللہ کے حقوق دوسروں کو دیتا رہا۔ اللہ کے بجائے دوسروں کو پکارتا اور ان کی عبادت کرتا رہا۔ اللہ کے دین کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتا رہا اور اللہ کی آیات اور اس کی وعید کا مذاق اڑاتا رہا۔ اور ان چیزوں کی کوئی حقیقت ہی نہ سمجھی۔ کاش ! میں ایسے ایسے کام نہ کرتا جس کے نتیجہ میں مجھے آج یہ برا وقت دیکھنا پڑا۔
Ayah 39:5875 مگر اس حسرت کا کچھ فائدہ نہ ہوگا کیونکہ عمل کا وقت گزر چکا ہوگا۔ اس طرف سے مایوس ہونے کے بعد اب وہ یہ آرزو کرے گا کہ کاش اسے ایک بار پھر دنیا میں بھیج کر موقعہ دیا جائے۔ تو میں یقیناً اچھے عمل کروں گا تاکہ میں بھی نیک لوگوں میں شامل ہوسکوں۔
Ayah 39:5976 یعنی تو جھوٹ بکتا ہے جو یہ کہتا ہے کہ اگر مجھے ایک بار پھر موقعہ دیا جائے تو میں نیکوکار بن جاؤں گا۔ جب تو دنیا میں تھا تو اس وقت تجھے میری آیات پہنچی تھیں۔ لیکن تیری فطرت ہی ایسی ہے جس میں اکڑ اور تکبر ہے جس کی وجہ سے تو میری آیات کو جھٹلاتا رہا۔ اور اب بھی تیری طبیعت ویسی کی ویسی ہے۔ وہ دوبارہ دنیا میں جاکر بدل نہیں جائے گی۔ آج جو کچھ تو کہہ رہا ہے وہ صرف عذاب کو دیکھ کر کہہ رہا ہے۔ جب تو نے اس سے نجات پالی تو تیری اصل فطرت پھر عود کر آئے گی۔
Ayah 39:6077 اللہ پر افترا کی صورتیں :۔ اللہ پر جھوٹ بولنے کی ایک صورت یہ ہے کہ اللہ نے اپنے فلاں فلاں معبودوں یا بتوں یا پیاروں کو فلاں فلاں اختیارات سونپ رکھے ہیں۔ لہذا رزق کے لئے فلاں کے پاس اور اولاد کے لئے فلاں درگاہ پر اور شفا کے لئے فلاں آستانے پر حاضری دینے سے مراد حاصل ہوجاتی ہے اور دوسری صورت یہ ہے کہ اللہ کی آیات اور اس کے رسول کو جھٹلایا جائے اور کہا جائے کہ اللہ نے تو کوئی چیز نازل نہیں کی۔ حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ تھی۔
78 ان کے جھٹلانے کی سزا یہ ہے کہ ان کے منہ کالے کردیئے جائیں گے جیسا کہ مثل مشہور ہے کہ جھوٹے کا منہ کالا اور تکبر کی سزا جہنم کے سوا اور کوئی ہو نہیں سکتی تاکہ اس کے سب کس بل نکل جائیں اور دماغ ٹھکانے پر آجائے۔
Ayah 39:6179 یعنی اللہ تعالیٰ نیکوکار لوگوں کو اتنے بلند مقام پر پہنچا دے گا۔ جہاں انہیں روز محشر کی لو اور تپش نہ پہنچ سکے گی۔ وہاں وہ ہر طرح کی تکلیف سے محفوظ ہوں گے۔ جو اعمال انہوں نے دنیا میں کئے ہوں گے ان پر وہ مطمئن ہوں گے اور انہیں کسی قسم کا غم لاحق نہ ہوگا۔
Ayahs 39:62–6380 یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز کا صرف خالق ہی نہیں بلکہ ہر آن ہر چیز کی نگرانی بھی کررہا ہے۔ جس سے یہ نظام کائنات باقاعدگی سے چل رہا ہے۔ اس نظام کائنات کی باقاعدگی سے تمام جانداروں کا رزق وابستہ ہے۔ بارش سے زمین نباتات اگاتی ہے۔ نیز ہر طرح کی معدنیات اور دوسرے خزانے جو زمین میں مدفون ہیں سب اللہ ہی کے علم اور تصرف میں ہیں۔ آج بھی اس کے تصرف میں ہیں اور کل بھی اسی کے تصرف میں ہوں گے۔ نیز جنت اور دوزخ بھی اسی کے تصرف میں ہے۔ لہذا جو شخص اللہ کی آیات کا منکر اور اس کا باغی ہے وہ کیسے فلاح کی امید رکھ سکتا ہے ایسے لوگ یقیناً خسارہ میں ہی رہیں گے۔
Ayah 39:6481 کفار کے سمجھوتہ کی شکلیں :۔ کفار مکہ نے اسلام کی راہ روکنے کے لئے کئی قسم کے حربے استعمال کئے تھے۔ ان میں سب سے زیادہ عام طریقہ یہ تھا کہ اسلام لانے والوں پر اس قدر ظلم و ستم ڈھائے جائیں کہ اگر وہ اپنے دین پر واپس نہ آئیں تو دوسروں کو ضرور عبرت حاصل ہو اور وہ اسلام قبول کرنے کا نام تک نہ لیں۔ ان سختیوں کے باوجود بھی جب اسلام پھیلتا گیا تو پھر اس کے سیاسی حل سوچے جانے لگے اور مذاکرات کے سلسلے شروع ہوئے۔ کبھی ابو طالب کی وساطت سے آپ کو دھمکی دی گئی۔ کبھی لالچ کی راہیں دکھائی گئیں اور کبھی باہمی سمجھوتہ کی۔ پھر باہمی سمجھوتہ کی بھی کئی شکلیں تھیں۔ ایک یہ کہ تم بھی لچک اختیار کرو کچھ ہم کرتے ہیں اور اس شکل کا ذکر سورة القلم کی آیات نمبر 9 میں مذکور ہے۔ انہیں میں سے ایک شکل یہ تھی کہ زیادہ نہیں تو صرف ایک دفعہ ہی آپ ہمارے بتوں کو سجدہ کردیں تو پھر ہم آپ کی باقی باتیں تسلیم کرنے پر آمادہ ہیں۔ انہیں مذاکرات کی ایک قسم ایسی بھی تھی جس پر غور کرنے کے لئے آپ آمادہ ہوچلے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ایسے خیال سے بھی آپ کو سختی سے روک دیا اور اس کا ذکر سورة بنی اسرائیل کی آیت نمبر 74 میں آیا ہے۔ یہاں بھی آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ ان مشرکوں کو نہایت سختی سے دو ٹوک جواب دے دیں اور کہہ دیں کہ اے نادانو ! ہم سب کا خالق بھی اللہ ہو، مالک بھی اللہ ہو، رازق بھی اللہ ہو، کائنات میں ہر قسم کے تصرفات پر قبضہ بھی اللہ کا ہو، تو آخر میں کس خوشی میں ان بتوں کی عبادت کروں۔ اس سے بڑھ کر بھی کوئی نادانی کی بات ہوسکتی ہے ؟ یہ تم مجھے کیسا غلط مشورہ دے رہے ہو ؟ علاوہ ازیں مجھ پر بھی یہ وحی آچکی ہے اور سابقہ تمام انبیاء پر بھی اسی قسم کی وحی آئی تھی کہ جو شخص بھی اور اسی طرح اگر میں خود بھی شرک کروں تو میرے تمام تر اعمال برباد ہوجائیں گے۔ پھر بھلا میں تمہارا یہ مشورہ کیسے قبول کرسکتا ہوں ؟
Ayahs 39:65–6682 واضح رہے کہ انبیاء سے شرک کا صدور محال ہے۔ کیونکہ وہ جن مقاصد کے لئے مبعوث کئے جاتے ہیں ان میں اولین مقصد شرک کی بیخ کنی اور توحید کی ترویج ہوتا ہے۔ اسی بات پر وہ خود قائم رہتے اور دوسروں کو دعوت دیتے ہیں۔ یہاں جو آپ کو مخاطب کرکے یہ بات کہی گئی ہے۔ تو اس سے شرک کی انتہائی مذمت مقصود ہے۔
Ayah 39:6783 یعنی جن مشرکوں نے آپ کو بتوں کو سجدہ کرنے کا مشورہ دیا تھا، ان کم بختوں نے یہ سمجھا ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا مقام کس قدر ارفع و اعلیٰ ہے ان کو اللہ کی عظمت وکبریائی کا کچھ بھی اندازہ نہیں۔ بھلا اللہ کے مقابلہ میں یہ بتوں جیسی حقیر ہستیاں کیا شے ہیں۔ اگر انہیں اللہ کی عظمت اور اس کے مقام کا کچھ اندازہ ہوتا تو ایسی نادانی کی بات کبھی نہ کہتے۔
84 قیامت کے دن اللہ کا دنیا کے بادشاہوں سے خطاب :۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور کبریائی اور پوری کائنات پر کلی تصرف کا یہ حال ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز اس کے ہاتھ میں بالکل بےبس ہے اور اسی مضمون کی تفسیر درج ذیل احادیث بھی پیش کرتی ہیں :
1۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ کو یہ فرماتے سنا کہ اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) زمین کو ایک مٹھی میں لے لے گا اور آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا۔ پھر فرمائے گا : میں بادشاہ ہوں (آج) زمین کے بادشاہ کہاں ہیں ؟ (بخاری۔ کتاب التفسیر)
2۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ یہودیوں کا ایک عالم آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا : محمد ! ہم (اپنی کتابوں میں یہ لکھا ہوا) پاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) آسمانوں کو ایک انگلی پر، زمینوں کو ایک انگلی پر، درختوں کو ایک انگلی پر، پانی اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر اور باقی تمام مخلوق کو ایک انگلی پر اٹھالے گا پھر فرمائے گا : میں بادشاہ ہوں یہ سن کر آپ اتنا ہنسے کہ آپ کی کچلیاں ظاہر ہوگئیں۔ آپ نے اس عالم کے قول کی تصدیق کی۔ پھر یہی آیت پڑھی ( وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ ڰ وَالْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ بِيَمِيْنِهٖ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ 67) 39 ۔ الزمر :67) تاآخر (بخاری۔ کتاب التفسیر) گویا مشرکوں کے سب معبود بھی اللہ تعالیٰ کی مٹھی میں ہوں گے۔ جنہیں آج یہ اللہ کا ہمسر قرار دے رہے ہیں۔
Ayah 39:6885 نفخہ ئصور کی بےہوشی سے کون مستثنیٰ ہوگا ؟:۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ ایسی مخلوق بھی ہوگی جو بےہوش نہیں ہوگی۔ بعض نے اس استثناء سے چاروں بزرگ فرشتے یعنی جبرائیل، میکائیکل، اسرافیل اور عزرائیل مرادلیے ہیں۔ بعض نے ان میں حاملین عرش کو بھی شامل کیا ہے اور بعض نے انبیاء صلحاء اور شہداء کو بھی۔ لیکن اگلے حاشیہ میں مندرج حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں میں سے کوئی بھی اس بےہوشی سے نہ بچے گا۔ جب رسول اللہ بھی بےہوش ہوں گے تو دوسرے کیسے بچے رہ سکتے ہیں۔ البتہ موسیٰ کو آپ نے مستثنیٰ کیا۔ وہ بھی اس صورت میں کہ شاید وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے ہوں یا بےہوش ہوئے ہی نہ ہوں۔ اس لئے کہ وہ دنیا میں ایک بار بےہوش ہوچکے۔
86 اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ صور دو بار پھونکا جائے گا۔ درج ذیل احادیث اسی آیت کی تفسیر پیش کرتی ہیں :
خ نفخہ صور دو بار یا تین بار :۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : کہ دونوں نفخہ ئصور میں چالیس کا فاصلہ ہوگا۔ لوگوں نے پوچھا : ابوہریرہ ؓ کیا چالیس دن کا ؟ انہوں نے کہا : یہ میں نہیں کہہ سکتا پھر لوگوں نے کہا : کیا چالیس برس کا ؟ کہنے لگے یہ میں نہیں کہہ سکتا پھر لوگوں نے کہا : کیا چالیس ماہ کا ؟ کہنے لگے : یہ میں نہیں کہہ سکتا اور آپ نے فرمایا : کہ انسان کا سارا جسم (مٹی میں) گھل جاتا ہے ماسوائے ریڑھ کی ہڈی کے سرے کے۔ (جورائی کے دانہ برابر ہوتی ہے) اسی سے تمام خلقت کو ترکیب دے کر اٹھا کھڑا کیا جائے گا۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر)
2۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : دوسری دفعہ صور پھونکنے پر سب سے پہلے میں سر اٹھاؤں گا تو دیکھوں گا کہ موسیٰ عرش تھامے لٹک رہے ہیں۔ اب میں نہیں جانتا کہ وہ پہلے صور پر بےہوش ہی نہ ہوں گے یا دوسرے صور پر مجھ سے پہلے ہوش میں آجائینگے۔ (کیونکہ دنیا میں وہ ایک دفعہ بےہوش ہوچکے) لیکن سورة نمل کی آیت 87 میں ایک اور نفخہ کا بھی ذکر آیا ہے۔ جسے سن کر زمین و آسمان کی ساری مخلوق دہشت زدہ ہوجائے گی۔ پھر اس کی بعض احادیث سے بھی تائید ہوجاتی ہے اسی لئے بعض علماء کہتے ہیں کہ نفخہ صور تین بار ہوگا۔ پہلے نفخہ پر صرف گھبراہٹ واقع ہوگی دوسرے نفخہ پر لوگ بےہوش ہو کر گرپڑیں گے اور مرجائیں گے۔ اور تیسرے نفخہ پر سب انسان جی اٹھیں گے اور اپنی قبروں سے نکل کر اپنے پروردگار کے حضور چل کھڑے ہوں گے۔
Ayah 39:6987 یعنی آج تو زمین سورج کی روشنی سے منور ہوتی ہے مگر میدان محشر کے لئے جو زمین تیار کی جائے گی۔ وہ براہ راست اپنے پروردگار کے نور سے جگ مگ جگمگ کر رہی ہوگی۔
88 قیامت کو گواہی کس کس کی ہوگی ؟:۔ شہداء سے مرادسرفہرست انبیاء ہیں اور ان کا ذکر اس آیت میں پہلے ہی الگ طور پر آگیا ہے پھر ان سے وہ لوگ مراد ہیں جن کے ذریعہ انہیں اللہ کا پیغام پہنچا تھا پھر وہ فرشتے بھی جو ان کے اعمال قلم بند کرتے رہے اور اگر وہ مجرم پھر بھی اپنے گناہوں کا اعتراف نہ کریں گے تو ان کے اپنے اعضاء اور اس ماحول کے درودیوار اور شجر و حجر سب مجرموں کے خلاف گواہی دیں گے۔
Ayah 39:7089 کیا قاضی اپنے ذاتی علم کی بنا پر فیصلہ دے سکتا ہے ؟:۔ اگرچہ اللہ ان کے اعمال سے پوری طرح واقف ہے۔ پھر بھی ان پر گواہیاں قائم کی جائیں گی۔ حتیٰ کہ یا تو مجرم خود اپنے گناہ کا اقرار کرلے یا پھر اس کے خلاف گواہیوں کی بنا پر الزام پوری طرح ثابت ہوجائے اور ان کی سزا کے لئے اتمام حجت ہوجائے۔
اس آیت سے نیز اسی آیت کی تائید میں بعض احادیث سے شریعت کا ایک نہایت اہم مسئلہ مستنبط ہوتا ہے کہ قاضی محض اپنے علم کی بنا پر کسی مقدمہ کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ فیصلہ کا انحصار گواہیوں پر ہونا ضروری ہے۔ یہی عدل و انصاف کا تقاضا ہے۔ اور اسی عدل و انصاف کے تقاضا کو پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ گواہیاں قائم کریں گے۔ بعض علماء نے اس مسئلہ میں اتنی لچک ضرور رکھی ہے کہ اس اصول کا اطلاق حدود و تعزیرات یعنی فوجداری مقدمات پر ہوتا ہے لین دین کے معاملات یا دیوانی مقدمات میں قاضی اپنے علم کی بنا پر فیصلہ دے سکتا ہے لیکن بعض آثار سے اس گنجائش کی بھی نفی ہوجاتی ہے۔ لہذا بہتر یہی ہے کہ مالی مقدمات میں بھی قاضی اپنے علم کو فیصلہ تو دور کی بات ہے، ایک شہادت کے طور پر بھی استعمال میں نہ لائے۔
Ayah 39:7190 اس لئے کہ کفر کی بھی بیسیوں اقسام ہیں۔ اور اسی لحاظ سے ان کافروں کی قیامت کے دن گروہ بندی ہوگی۔ اور ان کی گروہ بندی کرنے کے بعد انہیں جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔ جیسے ان مجرموں کو، جو عدالت کے فیصلہ کے بعد واقعی مجرم ثابت ہوجاتے ہیں پابہ زنجیر کرکے جیل خانہ کی طرف لے جایا جاتا ہے اور جس طرح ان مجرموں کے جیل خانہ پہنچنے پر جیل کا پھاٹک کھول دیا جاتا ہے۔ اسی طرح کافروں کے گروہوں کے جہنم کے پاس پہنچنے پر جہنم کے دروازے کھول دیئے جائیں گے۔
91 جہنم کے داروغے اور ان کا سوال :۔ جب یہ گروہ جہنم پر پہنچ جائیں گے تو جہنم کے داروغے یا سپرنٹنڈنٹ ملامت کے طور پر انہیں پوچھیں گے، ارے کم بختو ! تمہارے پاس اللہ کے رسول تمہیں آج کے حالات سے خبردار کرنے یا ڈرانے کے لئے نہیں پہنچے تھے ؟ مجرم جواب دیں گے : آئے تو تھے مگر ہماری بدبختی اور نالائقی کہ ہم نے انہیں سچا نہ سمجھا جس کے نتیجہ میں آج ہم یہاں پہنچ گئے ہیں۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے اعمال کی سزا ہمیں مل کر ہی رہے گی۔
Ayah 39:7292 انکار حق کی سب سے بڑی وجہ تکبر :۔ اس جملہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قبول حق کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تکبر یا اپنا پندار نفس ہوتا ہے۔ حق کو قبول نہ کرنے کی دوسری وجوہ بھی اسی ذیل میں آتی ہیں۔ جیسا کہ ابلیس کا بھی اصل جرم تکبر ہی تھا۔ اگرچہ اس نے بھی اپنے موقف کی حمایت میں کئی دلائل پیش کئے تھے۔ اسی طرح کافر قبول حق سے انکار کی خواہ کئی وجوہ بتائیں۔ اللہ کی آیات کا تمسخر اڑائیں۔ اللہ کے عذاب کو چیلنج کریں ان سب کی تہ میں یہی تکبر یا پندار نفس ہی کام کر رہا ہوتا ہے۔ لہذا یہ سب جرموں سے بڑا جرم ہوا۔ اسی لئے تمام گروہوں کے الگ الگ جرائم کا نام لینے کے لئے صرف اس جرم کا نام لے لیا گیا ہے جو سب گروہوں میں بطور قدر مشترک پایا جاتا ہے۔
Ayah 39:7393 جنت کے درجات :۔ جس طرح کفر کے بہت سے درجات اوراقسام ہیں اسی طرح ایمان اور تقویٰ کے بھی بہت سے درجات ہیں۔ اور ایک حدیث کے مطابق جنت کے سو درجات ہیں جس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ایمان وتقویٰ کے بھی اتنے ہی درجات ہیں۔ ان متقین کی بھی درجوں کے لحاظ سے گروہ بندی کی جائے گی۔ انہیں بڑی عزت و تکریم کے ساتھ جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔ جب یہ گروہ جنت کے پاس پہنچیں گے۔ تو ان کے پہنچنے سے پہلے ہی جنت کے دروازے کھول دیئے جائیں گے۔ جنت کے محافظ فرشتے ان کے استقبال کو آگے بڑھ کر ان پر سلام پیش کریں گے۔ انہیں داخلہ کی بشارت اور مبارک باد دیں گے اور اعلان عام ہوگا کہ اب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے داخل ہوجاؤ۔
Ayah 39:7494 جنت کے بطور وراثت دائمی اور مالکانہ حقوق :۔ اہل جنت کو وہاں مالکانہ حقوق حاصل ہوں گے کہ وہ اپنی اپنی وسیع و عریض الاٹ شدہ جنت میں جس جگہ کو اپنے حالات کے موافق سمجھیں وہاں رہیں۔ کیونکہ تَبَوَّاَ کا لفظ ایسی جگہ پر رہائش کے لئے آتا ہے جہاں کی آب و ہوا اور ماحول رہنے والے کی طبیعت کے موافق اور ساز گار ہو۔
95 اس جملہ کی نسبت متقین کی طرف بھی ہوسکتی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے یہ بات کہیں گے۔ فرشتوں کی طرف بھی اور اللہ تعالیٰ کی طرف بھی۔
Ayah 39:7596 دربار برخواست ہونے پر الحمدللہ رب العالمین کی صدائیں :۔ یعنی جس دن اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لئے میدان محشر میں نزول اجلال فرمائے گا اس وقت فرشتے اللہ تعالیٰ کے عرش کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہوں گے۔ اور جب اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان علی رؤس الاشہاد مبنی برانصاف فیصلہ فرماچکے گا تو ہر طرف سے جوش و خروش کے ساتھ (ألْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ) کا نعرہ بلند ہوگا۔ اسی نعرہ تحسین پر اللہ تعالیٰ کا دربار برخاست ہوگا۔ پھر تمام لوگوں کو ان کے فیصلہ کے مطابق ان کے ٹھکانوں پر بھیج دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ یہ دن موجودہ دن رات کے حساب سے پچاس ہزار برس کا ہوگا۔