38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsتیسیر القرآن

Ayahs 38:1–2

صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ Open ayah 38:1 in the Quran reader

ص۔ قرآن کی قسم جو سراسر نصیحت ہے۔

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ عِزَّةٍ وَّ شِقَاقٍ Open ayah 38:2 in the Quran reader

بلکہ یہ کافر 1 ہی تکبر اور مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں

1 نصیحت والے قرآن کی قسم اٹھانے کے بعد بل کے لفظ سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہاں کچھ عبارت محذوف ہے جسے پڑھنے اور سننے والے کی فہم و بصیرت پر چھوڑ دیا گیا ہے اور یہ عبارت یوں بنتی ہے کہ اس سراسر نصیحت والے قرآن کی قسم کہ اس کی عبارت میں کوئی پیچیدگی نہیں، اس کے دلائل بھی عام فہم ہیں اور اس کے مطالب سمجھنے میں بھی کسی کو کوئی دشواری نہیں مگر کافر پھر بھی اس پر طرح طرح کے اعتراض کر رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ انہیں سمجھ نہیں آرہی بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ اس کی تعلیمات کو تسلیم کرنے میں اپنی، اپنے آباء واجداد کی اور اپنے معبودوں کی ہتک محسوس کرتے ہیں۔ لہذا چڑ کر اس کی مخالفت پر اتر آئے ہیں۔
Ayah 38:3

كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّ لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ Open ayah 38:3 in the Quran reader

ان سے پہلے ہم کئی قومیں ہلاک کرچکے ہیں (عذاب کے وقت) انہوں نے چیخ و پکار شروع کردی۔ حالانکہ تب مخلصی کا وقت 2 نہ رہا تھا

2 سابقہ اقوام نے بھی یہی کچھ کیا تھا۔ پھر جب ان پر اللہ کا عذاب آگیا اس وقت وہ اللہ سے فریاد کرنے لگے اور ایمان کا اقرار کرنے لگے۔ حالانکہ توبہ و استغفار اور ایمان لانے کا وقت گزر چکا تھا۔ وہ تو عذاب کے نزول یا موت سے پہلے پہلے ہی ہوتا ہے۔ بعد میں کوئی بات کچھ فائدہ نہیں دے سکتی۔
Ayah 38:4

وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ١٘ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌۖۚ Open ayah 38:4 in the Quran reader

کافر اس بات پر متعجب ہیں کہ انہی میں سے 3 ایک ڈرانے والا ان کے پاس آیا ہے اور کافر کہنے لگے کہ : یہ تو جادوگر 4 ہے بڑا جھوٹا

3 تعجب کی بات تو تب تھی کہ نبی کوئی اجنبی یا فرشتہ ہوتا : ان کی عقل پر کچھ اس طرح پتھر پڑگئے ہیں کہ انہی میں سے ایک ڈرانے والا آیا ہے جو ان کی زبان جانتا ہے، انہی کی زبان میں انہیں سمجھاتا ہے، تو انہیں اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ ہم جیسا ہی ایک آدمی رسول بن بیٹھا ہے۔ حالانکہ تعجب کی بات تو تب تھی کہ کوئی اجنبی ان میں نبی بنا کر بھیج دیا جاتا جس کی زبان نہ یہ سمجھتے نہ وہ ان کی زبان سمجھتا۔ یا کوئی فرشتہ نبی بنا کر ان پر مسلط کردیا جاتا جو ان کے انکار پر ان کی گردنیں توڑ کر رکھ دیتا۔ 4 کافر آپ کو جادوگر ان معنوں میں کہتے تھے کہ آپ اللہ کا جو کلام پیش کرتے تھے۔ اس میں اس قدر شیرینی اور تاثیر تھی کہ جو کوئی سنتا وہ آپ کا گرویدہ ہوجاتا اور آپ ہی کا ہو کر رہ جاتا تھا۔ خواہ اسے اس راستہ میں کتنی ہی مشکلات پیش آتیں اور جھوٹا اس لحاظ سے کہتے تھے کہ آپ جو تعلیم پیش کر رہے تھے وہ ان کے معتقدات کے خلاف تھی۔ وہ تو یہ سوچنے کے لئے قطعاً تیار نہ تھے کہ ہمارے معتقدات بھی غلط ہوسکتے ہیں اس کے بجائے وہ آپ کو جھوٹا کہہ دیتے تھے۔
Ayahs 38:5–6

اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ Open ayah 38:5 in the Quran reader

اس نے تو سب خداؤں کو ایک ہی الٰہ بنا ڈالا۔ یہ کیسی عجیب بات ہے

وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ Open ayah 38:6 in the Quran reader

اور ان کے سردار چل کھڑے ہوئے (اور کہنے لگے کہ) چلو اور اپنے خداؤں کی عبادت 5 پر ڈٹے رہو۔ یہ بات تو کسی اور ہی ارادہ 6 سے کہی جارہی ہے

5 سمجھوتہ کے لئے ایک 25 رکنی وفد کا ابو طالب کے پاس آنا :۔ ان آیات کے نزول کا پس منظر یہ ہے کہ 10 نبوی میں ابو طالب بیمار پڑگئے (اسی مرض سے ان کی وفات ہوئی اور اس سال ام المومنین سیدہ خدیجہ ؓ کا انتقال ہوا تھا لہذا اس سال کو عام الحزن کہا جاتا تھا۔ کیونکہ اس سال رسول اللہ کو یہ دونوں بھاری صدمے پہنچے تھے) اس وقت ابو طالب کی عمر 80 برس کی ہوچکی تھی نیز رسول اللہ کی حمایت میں انہوں نے جو مصائب، اور شعب ابی طالب میں جو فاقے جھیلے تھے انہوں نے ابو طالب کو بہت کمزور کردیا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اب ان کی زندگی کے دن گنے جاچکے ہیں۔ سرداران قریش کو خیال آیا کہ اگر ابو طالب کے مرنے کے بعد ہم نے اس کے بھتیجے محمد پر زیادتی کی تو سارا عرب یہ طعنہ دے گا کہ چچا کے جیتے جی تو ان سے کچھ بن نہ پڑا اب اس کے مرنے کے بعد اسے دبانے لگے ہیں۔ لہذا ابو طالب کی زندگی میں ہی سمجھوتہ کی غرض سے سرداران قریش کا ایک 25 رکنی وفد ابو طالب کے پاس آیا اور کہا کہ ذرا اپنے بھتیجے کو بلاؤ۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم اس کے مذہب میں مداخلت نہیں کرتے وہ اپنے مذہب کے مطابق جیسے چاہے عبادت کرے۔ لیکن یہ لوگ ہمارے مذہب میں مداخلت نہ کریں۔ نہ ہمارے معبودوں اور بزرگوں کو برا بھلا کہیں۔ وہ ہمیں ہمارے دین پر چھوڑ دیں اور ہم انہیں ان کے دین پر چھوڑ دیں چناچہ ابو طالب نے آپ کو بلایا۔ اس وقت ابو طالب کے قریب ایک آدمی کی جگہ خالی تھی۔ ابو جہل فورا اٹھ کر وہاں جا بیٹھا تاکہ آپ اس کے قریب نہ بیٹھ سکیں۔ خیر جب آپ پرے ہٹ کر بیٹھ گئے تو ابو طالب نے کہا : یہ تمہاری قوم کے معزز لوگ ہیں اور اس قسم کی بات پر سمجھوتہ اور عہد و پیمان کرنے آئے ہیں۔ تمہارا کیا خیال ہے ؟ آپ کا جواب ایک اللہ کی عبادت کرو عرب وعجم کے مالک بن جاؤ گے : آپ نے جواب میں فرمایا : کیا میں انہیں ایسی بات نہ بتاؤں کہ اگر وہ اسے مان لیں تو سارا عرب ان کے تابع فرمان ہوجائے اور عجم پر ان کی بادشاہت قائم ہوجائے اور وہ انہیں جزیہ ادا کریں ؟ یہ سن کر ابو جہل کہنے لگا : تمہارے باپ کی قسم ! ایسی ایک بات کیا، دس باتیں بھی پیش کرو تو ہم ماننے کو تیار ہیں آپ نے کہا : تم لوگ لا الٰہ الا اللّٰہ کہو اور اللہ کے سوا جن جن کو پوجتے ہو انہیں چھوڑ دو اس بات پر ان سب نے ہاتھ پیٹ پیٹ کر کہا : محمد ! سارے خداؤں کی جگہ بس ایک ہی خدا ! یہ تو بڑی عجیب بات ہے پھر آپس میں کہنے لگے : اٹھو یہاں سے اور اپنے آباء کے دین پر ڈٹ جاؤ۔ یہ شخص تمہاری کوئی بات ماننے کو تیار نہ ہوگا۔ اسی موقع پر اس سورة کی ابتدائی سات آیات نازل ہوئیں (ابن ہشام) 1: 417 تا 419) اسی واقعہ کو امام ترمذی نے مختصراً یوں روایت کیا ہے : ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ابو طالب بیمار ہوئے تو قریش اس کے پاس آئے اور نبی اکرم بھی ان کے پاس آئے اور ابو طالب کے پاس ایک ہی آدمی کے بیٹھنے کی جگہ تھی۔ ابو جہل اٹھا کہ آپ کو وہاں بیٹھنے سے روک دے۔ پھر ان لوگوں نے ابو طالب سے آپ کے متعلق شکایت کی۔ ابو طالب آپ سے کہنے لگے : بھتیجے ! تم اپنی قوم سے کیا چاہتے ہو ؟ آپ نے فرمایا : صرف ایک کلمہ : اگر وہ اسے قبول کرلیں تو عرب کے حاکم بن جائیں اور عجم سے جزیہ لیں ابو طالب نے کہا : صرف ایک کلمہ ؟ آپ نے فرمایا : ہاں صرف ایک کلمہ پھر فرمایا : چچا جان ! آپ لوگ یہ تسلیم کرلیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں قریشی کہنے لگے : کیا ہم صرف ایک ہی خدا کی عبادت کریں (باقی سب چھوڑ دیں) یہ تو بڑی عجیب بات ہے ہم نے زمانہ قریب کے دین میں تو یہ بات کبھی سنی ہی نہیں۔ یہ تو محض من گھڑت بات ہے انہیں لوگوں کے حق میں یہ آیات نازل ہوئیں (ترمذی۔ کتاب التفسیر) عرب میں قبیلے قبیلے کا جدا جدا بت تھا۔ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ ہر قبیلے کا بت اس قبیلے کے لوگوں کی مشکلات کو دور کرتا اور ان کی حاجات پوری کرتا ہے۔ اور بڑا خدا یا رب العالمین صرف ان کی نگرانی کر رہا ہے۔ لہذا انہیں یہ بات دور از قیاس بلکہ محال معلوم ہوتی تھی کہ ایک ہی پروردگار تمام جہان کے لوگوں کی ضروریات کو پورا کرے۔ 6 قریش کا خیال کہ یہ نبی اقتدار چاہتا ہے :۔ یعنی اس دعوت میں ضرور کچھ کالا ہے اس نبی کی اصل غرض یہ معلوم ہوتی ہے کہ اکیلے خدا کا نام لے کر ہم سب کو اپنا تابع اور محکوم بنا لے اور اپنی حکومت قائم کرے۔ ہم بھلا اس کی یہ بات چلنے دیں گے ؟ ہم تو یہ بات کسی قیمت پر قبول نہیں کرسکتے۔ بعض مفسرین نے اس کا یہ مطلب بھی لیا ہے کہ محمد جس عزم و استقلال کے ساتھ اپنی دعوت پیش کر رہے ہیں معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہ کسی طرح اس سے ہٹنے والے نہیں اور ایسا انقلاب آبھی سکتا ہے لہذا جہاں تک ہوسکے اپنے آبائی دین کی حفاظت پر ڈٹ جاؤ۔
Ayah 38:7

مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِی الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ١ۖۚ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌۖۚ Open ayah 38:7 in the Quran reader

جو ہم نے زمانہ قریب کے دین 7 میں کبھی نہیں سنی۔ یہ تو بس ایک من گھڑت بات ہے۔

7 یعنی قریب کے زمانہ میں ہمارے اپنے بزرگ بھی گزرے ہیں یہودی اور عیسائی بھی ہمارے ملک اور آس پاس کے ملکوں میں موجود ہیں۔ ایران، عراق اور مشرقی عرب مجوسیوں سے بھرا پڑا ہے۔ کسی نے بھی ہم سے یہ نہیں کہا کہ انسان بس ایک اللہ کو مانے اور کسی کو نہ مانے۔ اللہ کے پیاروں کے تصرفات کو تو ایک دنیا مان رہی ہے اور ان سے فیض پانے والے بتا رہے ہیں کہ ان درباروں سے فی الواقع لوگوں کی مشکل کشائی اور حاجت روائی ہوجاتی ہے۔ پھر آخر اللہ اکیلے پر کون اکتفا کرتا ہے ؟ لہذا معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض ایک من گھڑت بات ہے اور اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہم ان کی تابعداری کریں اور یہ ہمارا حاکم بن جائے۔
Ayah 38:8

ءَاُنْزِلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَیْنِنَا١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِیْ١ۚ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِؕ Open ayah 38:8 in the Quran reader

کیا ہم میں سے یہی ایک شخص 8 رہ گیا تھا جس پر ذکر نازل کیا گیا ؟ میرے ذکر کے بارے میں ہی شک میں 9 پڑے ہیں اور یہ اس لیے کہ انہوں نے ابھی تک میرا عذاب 10 نہیں چکھا۔

8 قریش کا قول کہ کیا نبوت کے لئے یہی شخص رہ گیا تھا ؟: دنیا دار لوگوں کے نزدیک کسی شخص کی عظمت کو ماپنے کا پیمانہ مال و دولت ہوتا ہے یا جاہ منصب۔ اسی خیال سے کفار مکہ کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اگر اللہ نے ہم میں سے کسی بشر کو ہی رسول بنانا تھا تو کیا اللہ تعالیٰ کو یہی شخص رسالت کے لئے ملا تھا کیا سرداران قریش مرگئے تھے ؟ اگر بنانا ہی تھا تو مکہ اور طائف کے لوگوں میں سے کسی رئیس کو اپنا رسول بناتا۔ بالفاظ دیگر ان کا اصل اعتراض یہ تھا کہ اللہ میاں نے رسالت کا منصب سونپتے وقت ہم سے مشورہ کیوں نہیں لیا ؟۔ 9 بات یوں نہیں بلکہ اصل معاملہ یہ ہے کہ یہ لوگ سرے سے آپ کی رسالت ہی کے منکر ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ میرا کلام بھی ان کے نزدیک مشکوک ہوگیا ہے اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ رسالت سے پیشتر کفار مکہ آپ کی را ستبازی کے قائل تھے۔ اب جو آپ کی رسالت کے دعویٰ میں ان کی جانب سے آپ کی راستبازی پر بھی شک کیا جانے لگا ہے اور اس ہستی کو کذاب کہنے لگے ہیں جسے وہ ہمیشہ سے را ستباز سمجھتے آئے ہیں تو اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ انہیں میرے ذکر، میرے کلام اور میرے پیغام میں شک ہے۔ 10 ان کے ایسے بیہودہ اعتراض کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ابھی تک انہوں نے میری مار کا مزا نہیں چکھا۔ ایک دفعہ انہیں میری مار پڑگئی تو ان کے سب کس بل نکل جائیں گے اور آئندہ ایسی باتیں بنانے کا انہیں ہوش ہی نہ رہے گا۔
Ayah 38:9

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِیْزِ الْوَهَّابِۚ Open ayah 38:9 in the Quran reader

یا ان کے پاس آپ کے پروردگار کی رحمت کے خزانے 11 ہیں جو ہر چیز پر غالب اور سب کو عطا کرنے والا ہے

11 جواب : کیا یہ اپنے آپ کو اللہ کی رحمت کا ٹھیکیدار سمجھتے ہیں : اللہ کی رحمت کے خزانوں کے یہ تو مالک نہیں کہ جس کو چاہیں اسے رسالت کے منصب پر فائز کردیں۔ اور جس سے چاہیں چھین لیں۔ یہ کام صرف اللہ تعالیٰ کا ہے جو ہر ایک کو دے رہا ہے اور جونسی نعمت جسے چاہتا ہے اسے ہی دیتا ہے۔ اس کے کاموں میں کسی کو مداخلت کی ہمت نہیں۔
Ayah 38:10

اَمْ لَهُمْ مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١۫ فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ Open ayah 38:10 in the Quran reader

یا یہ آسمانوں، زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کے مالک ہیں (اگر یہ بات ہے تو) یہ رسیاں تان کر اوپر چڑھ 12 جائیں

12 اور دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ زمین و آسمان کی چیزوں کے مالک ہوگئے ہیں جو یہ خدائی اختیارات اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں ؟ اگر ایسی بات ہے تو انہیں چاہئے کہ تمام اسباب کو بروئے کار لا کر آپ پر وحی کا سلسلہ بند کردیں۔ اور جسے یہ رسالت کے لئے منتخب کرنا چاہتے ہیں وحی کا رخ ادھر موڑ دیں۔
Ayah 38:11

جُنْدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ Open ayah 38:11 in the Quran reader

یہ تو بڑے بڑے لشکروں میں ایک معمولی سا لشکر ہے جو اسی جگہ 13 شکست کھاجائے گا۔

13 اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے والے گروہوں میں سے یہ کوئی اتنا بڑا جتھا نہیں ان سے بڑے بڑے جتھے پہلے گزر چکے اور مات کھاچکے ہیں۔ یہ کفار مکہ کی تو ایک معمولی سی جمعیت ہے جو اسی مقام پر یعنی مکہ میں ہی جہاں یہ بیٹھے باتیں بنا رہے ہیں، اپنی مکمل شکست دیکھ لیں گے۔ یہ گویا کفار مکہ کے حق میں ایک پیشین گوئی تھی جو چند ہی سال بعد حرف بحرف پوری ہو کے رہی۔
Ayah 38:12

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِۙ Open ayah 38:12 in the Quran reader

ان سے پہلے قوم نوح، عاد اور میخوں والا 14 فرعون جھٹلا چکے ہیں

14 میخوں والا فرعون :۔ اگر محاورۃً اس کے معنی لئے جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ ایک بڑی مضبوط سلطنت کا مالک تھا۔ تاہم اس کے لفظی معنی بھی لئے جاسکتے ہیں۔ فرعون کا دستور یہ تھا کہ جس شخص کو سولی پر چڑھانا ہوتا تو اسے تختے کے ساتھ کھڑا کرکے اس کے ہاتھوں اور پاؤں میں چار میخیں ٹھونک دیا کرتا تھا اسی وجہ سے وہ ذِیْ الاَوْتَاد یعنی میخوں والا مشہور ہوگیا تھا۔ مزید تشریح سورة فجر کی آیت نمبر 10 کے حاشیہ میں دیکھئے۔
Ayah 38:13

وَ ثَمُوْدُ وَ قَوْمُ لُوْطٍ وَّ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الْاَحْزَابُ Open ayah 38:13 in the Quran reader

نیز ثمود، قوم لوط اور اصحاب 15 ایکہ بھی (جھٹلا چکے) یہ واقعی 16 بڑے لشکر تھے۔

15 اصحاب الایکہ :۔ لفظی معنی بن والے ان کا علاقہ ایک سطح مرتفع پر واقع تھا۔ ان کی طرف شعیب مبعوث ہوئے تھے۔ ان کا حال پہلے گزر چکا ہے۔ 16 بڑی طاقتیں اور قومیں جو تباہ ہوچکیں ہیں :۔ ان دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے سابقہ اقوام میں سے چھ قوموں کے نام گنوا کر کفار مکہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ فی الواقع بڑے مضبوط جتھے تھے۔ قد و قامت میں زور و قوت میں، مال و دولت کی فراوانی اور خوشحالی میں ان سے بہت آگے تھے ان کی تعداد بھی کفار مکہ سے بہت زیادہ تھی۔ مگر جب انہوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا تو میرا عذاب ان پر نازل ہوا تو انہیں ملیا میٹ کرکے رکھ دیا۔ اب تم کس کھیت کی مولی ہو کہ میرے رسول کی تکذیب کرنے کے بعد صحیح و سلامت بچے رہو گے۔
Ayahs 38:14–15

اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ۠ Open ayah 38:14 in the Quran reader

ان سب نے رسولوں کو جھٹلایا تو ان پر میرا عذاب واجب ہوگیا

وَ مَا یَنْظُرُ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ Open ayah 38:15 in the Quran reader

یہ لوگ بس ایک دھماکہ کے منتظر ہیں جس میں کوئی وقفہ 17 نہیں ہوگا

17 فواق کا لغوی معنی :۔ فواق دراصل دودھ دوہتے وقت گائے کا ایک دفعہ تھن نچوڑنے اور دوسری دفعہ وہی تھن نچوڑنے کے درمیان کے وقفہ کو کہتے ہیں۔ اور اس سے مراد انتہائی قلیل مدت لی جاتی ہے۔ اس لحاظ سے اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جب یہ دھماکہ یا کڑکا ہوگا تو یہ اس وقت تک مسلسل ہوتا رہے گا جب تک سارے مجرم ڈھیر نہ ہوجائیں اور اس میں معمولی سا وقفہ بھی نہ ہوگا۔ اور دوسرا مطلب یہ کہ انہیں ہلاک کرنے کے لئے ایک کڑکا ہی کافی ہوگا دوسرے کی نوبت یا حاجت ہی پیش نہ آئے گی۔
Ayah 38:16

وَ قَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:16 in the Quran reader

اور کہتے ہیں : پروردگار ! ہمیں ہماری چارج شیٹ جلدی کرکے روز حساب 18 سے پہلے ہی دے دے

18 کفار کا مطالبہ ہمارا اعمال نامہ ابھی دیا جائے :۔ چونکہ کفار مکہ بعث بعد الموت، روز آخرت، اعمال نامہ اور حساب کتاب سب باتوں کے منکر تھے۔ اس لئے از راہ مذاق جس طرح یہ کہتے تھے کہ جس عذاب کی تم دھمکی دیتے ہو وہ لے کیوں نہیں آتے ؟ اسی طرح یہ بھی کہتے تھے کہ ہمارا اعمال نامہ جو ہمیں قیامت کے دن ملنا ہے ابھی ہمارے حوالے کردیں اور ہمارے حصے جو شامت لکھی ہوئی ہے وہ اس دنیا میں ہی ہم سے حساب لے لے۔
Ayah 38:17

اِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ١ۚ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:17 in the Quran reader

آپ ان کی باتوں پر صبر کیجئے اور ہمارے بندے داؤد 19 کو یاد کیجئے۔ بلاشبہ وہ 20 صاحب قوت اور (ہماری طرف) رجوع 21 کرنے والا تھا۔

19 وَاذْکُرْکا دوسرا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کا قصہ دوسروں سے بیان کیجئے۔ 20 ید اور ذوالاید کا لغوی مفہوم :۔ ذَالاَیْدِ کا لفظی معنی ہاتھوں والا ہے اور تقریباً ہر زبان میں ایسے لفظ بول کر قوت اور طاقت مراد لی جاتی ہے۔ صاحب قوت سے مراد جسمانی قوت بھی ہوسکتی ہے۔ چناچہ آپ سے متعلق منقول ہے کہ بچپن میں جب آپ بکریوں کا ریوڑ چرایا کرتے تھے تو جب کوئی درندہ ان پر حملہ آور ہوتا آپ اس کے ایک جبڑے کو پکڑ کر دوسرے کو اس زور سے کھینچتے تھے کہ اسے چیر دیتے تھے پھر یہ بھی آپ کی جسمانی قوت ہی تھی کہ آپ نے میدان کارزار میں جالوت کو مار ڈالا تھا۔ اور فوجی اور سیاسی قوت بھی مراد ہوسکتی ہے کہ آپ نے گردوپیش کی مشرک قوموں کو شکست دے کر ایک مضبوط اسلامی سلطنت قائم کردی تھی۔ 21 آپ کے اعلیٰ درجہ کے اوصاف :۔ ان کے رجوع الی اللہ اور عبادت گزاری کا یہ حال تھا کہ آپ نے بادشاہی پر ہمیشہ فقیری کو ترجیح دی۔ آپ کی تعریف میں بہت سی صحیح احادیث وارد ہیں۔ آپ نے اپنے ذاتی اخراجات کا بار بیت المال پر نہیں ڈالا تھا بلکہ اپنے ہاتھ کی کمائی سے اپنا خرچ چلاتے تھے۔ آپ ایک دن روزہ رکھتے، دوسرے دن روزہ نہ رکھتے زندگی بھر یہی دستور رہا۔ رات کا تہائی حصہ عبادت میں گزارتے تھے۔ آپ نے دن رات کے چوبیس گھنٹوں کو اپنے اور اپنے بال بچوں میں کچھ اس طرح تقسیم کر رکھا تھا کہ کوئی وقت ایسا نہ گزرے جبکہ آل داود میں سے کوئی شخص اللہ کی عبادت میں مصروف و مشغول نہ ہو۔ آپ نے یہ التزام بھی کر رکھا تھا کہ ہر تین دنوں میں ایک دن اللہ کی عبادت کے لئے تھا۔ ایک دن لوگوں کے مقدمات کے فیصلہ کے لئے اور ایک دن امور سلطنت کے انتظام و انصرام میں صرف کرتے تھے۔
Ayahs 38:18–19

اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِشْرَاقِۙ Open ayah 38:18 in the Quran reader

ہم نے پہاڑوں کو مسخر کردیا تھا کہ وہ صبح و شام ان کے ساتھ (مل کر) تسبیح کرتے تھے

وَ الطَّیْرَ مَحْشُوْرَةً١ؕ كُلٌّ لَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:19 in the Quran reader

اور پرندوں کو بھی جو جمع ہوجاتے تھے وہ سب ان کی تسبیح کی طرف متوجہ 22 ہوجاتے تھے۔

22 سیدنا داؤد کی خوش الحانی :۔ اللہ نے آپ کو ایسی سریلی آواز بخشی تھی کہ اس میں ایسی شرینی اور تاثیر تھی کہ جب آپ ہر روز پہلے پہر اور پچھلے پہر اللہ کی حمد کے ترانے گاتے تو پوری فضا مسحور ہوجاتی تھی۔ پہاڑوں کی وادیوں میں ایسی گونج پیدا ہوجاتی تھی اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ پہاڑ بھی آپ کے ساتھ اللہ کی حمد و ثنا میں شریک ہوگئے ہیں۔ اور پرندوں تک آپ کے گردو پیش میں جمع ہو کر آپ کے نغمات نہایت توجہ سے سنتے اور چہچہا کر آپ کے ہم آہنگ ہوجاتے تھے۔ آپ کی اس خوش الحانی کا ذکر پہلے سورة المومنون کی آیت 79 میں بھی گزر چکا ہے۔ اور سورة سبا کی آیت نمبر 10 میں بھی۔
Ayah 38:20

وَ شَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَ فَصْلَ الْخِطَابِ Open ayah 38:20 in the Quran reader

ہم نے ان کی سلطنت کو مضبوط بنادیا تھا، ہم نے انہیں حکمت عطا کی اور مقدمات 23 کے فیصلہ کی استعداد بخشی تھی۔

23 اس کا مطلب تو ترجمہ سے واضح ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ خطاب یا تقریر یا باہمی گفتگو کے درمیان آپ کا انداز گفتگو ایسا مدلل سادہ اور عام فہم ہوتا تھا کہ مخاطب آسانی سے آپ کا ما فی الضمیر سمجھ جاتا تھا۔
Ayah 38:21

وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ١ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ Open ayah 38:21 in the Quran reader

بھلا آپ کے پاس ان مقدمہ 24 والوں کی خبر پہنچی ہے جو دیوار پھاند کر محراب میں جا پہنچے تھے۔

24 خصم کا لغوی مفہوم :۔ خصم بمعنی دعویدار، مدعی اور مدعا علیہ، دونوں یا ان دونوں میں سے کوئی ایک۔ فریق مخالف۔ خواہ ایک فرد ہو یا زیادہ ہوں۔ نیز ایسا جھگڑا یا مقدمہ بھی جس میں فریقین کے حقوق زیر بحث ہوں۔
Ayah 38:22

اِذْ دَخَلُوْا عَلٰى دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ۚ خَصْمٰنِ بَغٰى بَعْضُنَا عَلٰى بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَ لَا تُشْطِطْ وَ اهْدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ Open ayah 38:22 in the Quran reader

جب وہ داؤد کے پاس آپہنچے تو وہ انہیں دیکھ کر گھبرا 25 گئے۔ وہ کہنے لگے ڈرو نہیں۔ ہم مقدمہ کے دو فریق 26 ہیں جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے لہذا ہمارے درمیان انصاف سے فیصلہ کیجئے۔ اور زیادتی نہ کیجئے اور ہمیں سیدھی راہ بتائیے۔

25 ایک دن آپ عبادت میں مصروف تھے اور یہ دن آپ کی عبادت کا دن تھا۔ اس دن آپ خلوت میں رہتے اور دربان کسی کو آپ کے پاس نہ آتے دیتے تھے۔ ناگہانی طور دو شخص دیوار پھاند کر آپ کے پاس آن کھڑے ہوئے۔ سیدنا داؤد یہ ماجرا دیکھ کر گھبرا گئے کہ یہ آدمی ہیں یا کوئی اور مخلوق ہے ؟ آدمی ہیں تو انہیں اس وقت آنے کی کیسے ہمت ہوئی۔ دربانوں نے انہیں کیوں نہیں روکا۔ اتنی اونچی دیواروں کو پھاند کر کس نیت اور کس غرض سے آئے ہیں۔ اچانک یہ عجیب اور مہیب واقعہ دیکھ کر گھبرا گئے۔ 26 دیوار پھاند کر اندر آنے والے دو شخص اور مقدمہ کی نوعیت :۔ اکثر مفسرین کا یہ خیال ہے کہ یہ آدمی نہیں بلکہ فرشتے تھے جو انسانی شکل میں آئے اور انہیں اللہ تعالیٰ نے سیدنا داؤد کے پاس تنبیہ کے طور پر بھیجا تھا۔ جیسا کہ اگلے بیان سے واضح ہوتا ہے۔ انہوں نے آپ کی گبھراہٹ کو محسوس کرلیا تو کہنے لگے کہ ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ ہم دونوں میں ایک جھگڑا ہے۔ وہ سن کر آپ ہمارے درمیان انصاف سے فیصلہ کر دیجئے تاکہ کسی فریق پر زیادتی نہ ہونے پائے۔
Ayah 38:23

اِنَّ هٰذَاۤ اَخِیْ١۫ لَهٗ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوْنَ نَعْجَةً وَّلِیَ نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ١۫ فَقَالَ اَكْفِلْنِیْهَا وَ عَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ Open ayah 38:23 in the Quran reader

یہ میرا بھائی ہے۔ اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہی دنبی ہے۔ اب یہ کہتا ہے کہ وہ بھی مجھے دے دے اور گفتگو میں بھی اس 27 نے مجھے دبا لیا ہے۔

27 اس تمہیدی مشترکہ بیان کے بعد مدعی نے اپنا مقدمہ پیش کیا کہ یہ (مدعا علیہ) میرا بھائی ہے (بھائی سے مراد یہ نہیں کہ وہ رشتے سے بھائی ہو، بلکہ دینی بھائی بھی مراد ہوسکتا ہے اور کسی کاروباری اشتراک کی بنا پر بھی) اس کے پاس ننانوے دنبیاں تو پہلے ہی موجود ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہے۔ اب یہ کہتا ہے کہ وہ بھی مجھے دے دے اور مجھے اس سے اپنے حق کی حفاظت کے لئے بات کرنے کی بھی ہمت نہیں۔ مجھے ایسی بات کرنے ہی نہیں دیتا اور دبا جاتا ہے۔
Ayah 38:24

قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْخُلَطَآءِ لَیَبْغِیْ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ قَلِیْلٌ مَّا هُمْ١ؕ وَ ظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٗ وَ خَرَّ رَاكِعًا وَّ اَنَابَ۩ Open ayah 38:24 in the Quran reader

داؤد نے جواب دیا کہ اس شخص نے تیری دنبی کو اپنی دنبیوں میں ملانے کے لئے اس کا سوال کرکے تجھ پر ظلم کیا ہے۔ اور اکثر خلیط 28 ایک دوسرے پر زیادتی 29 کرتے ہی رہتے ہیں سوائے ان لوگوں کے جو ایماندار ہوں اور نیک عمل کرتے ہوں اور ایسے لوگ تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔ اب داؤد کو خیال آیا کہ (اس مقدمہ سے) دراصل ہم نے اس کی آزمائش 30 کی ہے۔ چناچہ انہوں نے اپنے پروردگار سے معافی مانگی اور رکوع میں گرگئے اور اس کی طرف رجوع 31 کیا۔

28 خُلَطَاء خَلِیْط کی جمع ہے اور خلیط کا معنی جزوی شریک کار ہے۔ یعنی ایسی کاروباری شراکت جس میں شریک کام کاج کے کچھ پہلوؤں میں تو آپس میں شریک ہوں اور کچھ پہلوؤں میں آزاد ہوں۔ مثلاً زید اور بکر دونوں کے پاس الگ الگ ریوڑ ہے جو ان کی اپنی اپنی ملکیت ہے لیکن ان کی حفاظت کے لئے جگہ مشترکہ طور پر کرایہ پر لے رکھی ہے۔ چرواہے کو مل کر معاوضہ ادا کرتے ہیں۔ تو ایسے شریک ایک دوسرے کے خلیط کہلاتے ہیں۔ 29 مدعی کا بیان سننے کے بعد جب مدعا علیہ خاموش رہا اور اس نے مدعی کے بیان پر کوئی تنقید یا اس کی کوئی تردید نہ کی تو سیدنا داؤد نے سمجھا کہ مقدمہ کی نوعیت وہی ہے جو مدعی نے بیان کی ہے۔ لہذا آپ نے مدعی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : کہ واقعی مدعا علیہ نے اس قسم کا سوال کرکے تم پر ظلم اور زیادتی کی ہے۔ اسے ہرگز ایسا نہ کرنا چاہئے تھا۔ مگر اکثر دنیا دار شرکائے کار ایک دوسرے پر ایسی زیادتیاں کرتے ہی رہتے ہیں الا یہ کہ وہ ایماندار ہوں اور اللہ سے ڈرنے والے ہوں۔ مگر ایسے لوگ کم ہی ہوتے ہیں۔ 30 سیدنا داؤد اور اسرائیلیات :۔ جب فریقین مقدمہ آپ کا یہ فیصلہ سنتے ہی رخصت ہوگئے اور انہوں نے اس فیصلہ کے نفاذ کا بھی مطالبہ نہ کیا تو سیدنا داؤد شش و پنج میں پڑگئے۔ سوچنے پر انہیں خیال آیا کہ یہ مقدمہ ان فریقین مقدمہ کا نہ تھا۔ بلکہ یہ ان کا اپنا مقدمہ تھا۔ اور یہ شخص آپ کے پاس تنبیہ کے طور پر آئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے خود سیدنا داؤد کو ایک آزمائش میں ڈال دیا تھا۔ اس خیال کے آتے ہی انہوں نے اپنے پروردگار سے معافی مانگنی شروع کردی۔ یہ آزمائش کیا تھی ؟ اس کے متعلق اسرائیلیات میں بہت لغو اور شرمناک باتیں مذکور ہیں جنہیں ہمارے بعض مفسرین نے بھی نقل کردیا ہے کہ سیدنا داؤد کی اپنی ننانوے بیویاں تھیں۔ اس کے باوجود آپ اپنے ایک فوجی افسر اوریا حتی کی بیوی پر عاشق ہوگئے اور بعض روایات کے مطابق آپ نے نعوذ باللہ اس سے زنا بھی کیا پھر اس فوجی افسر کو کسی مہم پر بھیج دیا جہاں وہ مارا گیا۔ یا آپ نے خود اسے قتل کروا دیا۔ اس کے بعد اس کی بیوی سے نکاح کرلیا۔ اسرائیلیات میں جس طرح انبیاء کی عصمت کو داغدار کیا گیا ہے یہ اس کی ایک بدترین مثال ہے اسی لئے اکثر مفسرین نے اس واقعہ کی پرزور تردید کی ہے۔ اور سیدنا علی صتو یہ فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص ایسی ہرزہ سرائی کرے گا میں اس کو ایک سو ساٹھ کوڑے لگاؤں گا۔ کیونکہ قذف کی حد اسی کوڑے ہے اور کسی نبی پر تہمت کی حد دگنی ہونی چاہئے۔ خ سیدنا داؤد کی آزمائش کیا تھی :۔ اب سوال یہ ہے معاملہ کی اصل نوعیت کیا تھی تو قرآن کے انداز بیان سے ہی اس کی حقیقت معلوم ہوجاتی ہے۔ مثلاً یہ کہ یہ مقدمہ سیدنا داؤد کی خواہش نفس سے تعلق رکھتا تھا۔ اور اس مقدمہ کا حاکمانہ اقتدار کے نامناسب استعمال سے بھی تعلق تھا جیسا کہ مدعی نے کہا تھا کہ وہ مجھے بات میں دبا لیتا ہے اور میں اس کے سامنے بات بھی نہیں کرسکتا۔ اور یہ بھی مسلّم ہے کہ سیدنا داؤد کی ننانوے بیویاں تھیں۔ اور یہ بھی مدعی نے یوں کہا تھا کہ یہ میرا بھائی مجھ سے میری ایک دنبی بھی لے لینا چاہتا ہے۔ اس نے یہ نہیں کہا تھا کہ میری دنبی اس نے مجھ سے چھین لی ہے۔ پھر فورا ہی سیدنا داؤد کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا تھا۔ ان باتوں کی روشنی میں جو صورت حال سامنے آتی ہے وہ یہ ہے۔ کہ داؤد نے اوریا حتی کی بیوی کے اچھے عادات و خصائل کا کہیں سے ذکر سن لیا تو انہیں دل میں خیال آگیا ہوگا کہ اگر یہ عورت میرے نکاح میں ہوتی تو کیا اچھا تھا۔ بس اس خیال کا آنا تھا کہ ادھر اللہ کی طرف سے گرفت ہوگئی۔ اگرچہ ایسے خیالات کا آنا عام لوگوں کے لئے کوئی قابلِ مؤاخذہ بات نہیں مگر انبیاء کا مقام اور ہے۔ لہذا ان کی چھوٹی چھوٹی لغزشوں پر بھی اللہ تعالیٰ انہیں فوراً اور بروقت تنبیہ فرما دیتے ہیں۔ 31 اس آیت پر سجدہ ہے۔ یعنی جس طرح سیدنا داؤد اللہ کے حضور رجوع ہوگئے تھے۔ عام مسلمانوں کو بھی اس کام میں ان کا ساتھ دینا چاہئے۔ البتہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ سورة کا سجدہ کچھ تاکیدی سجدوں میں سے نہیں اور میں نے رسول اللہ کو اس میں سجدہ کرتے دیکھا ہے۔ (بخاری کتاب الصلوٰۃ۔ باب ماجاء فی سجود القرآن)
Ayah 38:25

فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَ١ؕ وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ Open ayah 38:25 in the Quran reader

تب ہم نے ان کی یہ غلطی معاف کردی اور ہمارے ہاں یقینا اسے بڑا قرب ملے گا اور اچھی باز گشت 32 ہوگی

32 یعنی اس غلطی سے ان کے تقرب اور مرتبہ میں کچھ فرق نہیں آیا۔ صرف تھوڑی سی تنبیہ کردی گئی۔ کیونکہ مقربین کی چھوٹی سی غلطی بھی بڑی سمجھی جاتی ہے۔
Ayah 38:26

یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَیُضِلَّكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ۠ Open ayah 38:26 in the Quran reader

(ہم نے ان سے کہا) اے داؤد ! ہم نے تمہیں زمین میں نائب بنایا ہے لہذا لوگوں میں انصاف سے فیصلہ کرنا اور خواہش نفس کی پیروی 33 نہ کرنا ورنہ یہ بات تمہیں اللہ کی راہ سے بہکا دے گی۔ جو لوگ اللہ کی راہ سے بہک جاتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے کیونکہ وہ روز حساب 34 کو بھول گئے۔

33 یعنی تمہارا مقام عام لوگوں سے بہت بلند ہے کیونکہ تم ہمارا نائب ہونے کی حیثیت سے لوگوں میں فیصلے کرتے ہو۔ لہذا تمہارے کسی بھی معاملہ میں یا فیصلہ میں اپنی خواہش نفس کا شائبہ تک نہ ہونا چاہئے کیونکہ یہی چیز اللہ کی راہ سے بہکانے والی ہوتی ہے۔ 34 یعنی انسان بہکتا اس وقت ہے جب اپنی خواہش نفس کے پیچھے لگ جائے اور اپنی خواہش نفس کے پیچھے اس وقت لگتا ہے جب اللہ کے حساب کا دن یاد نہ رہے۔ اگر اللہ کے سامنے جواب دہی کا تصور آنکھوں کے سامنے رہے تو انسان خواہش نفس کی قطعاً پروا نہیں کرتا۔ اور جو شخص یوم الحساب کو بھول گیا تو لازماً اپنی زندگی شتر بےمہار کی طرح گزار دے گا جس کا لازمی نتیجہ اسے عذاب شدید کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔
Ayah 38:27

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ Open ayah 38:27 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے یہ چیزیں فضول 35 ہی پیدا نہیں کردیں۔ یہ تو ان لوگوں کا گمان ہے جو کافر ہیں اور ایسے کافروں کے لئے دوزخ کی آگ سے ہلاکت ہے

35 روز جزا پر عقلی دلیل : دنیا کھیل تماشا نہیں : یعنی ہم نے اس کائنات کو محض کھیل کے طور پر پیدا نہیں کردیا جس کا کوئی مقصد، کوئی غرض اور کوئی حکمت نہ ہو اور کسی کے اچھے یا برے فعل کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو اور اس کائنات میں انسان کو اس لئے نہیں پیدا کیا کہ بےلگام ہو کر جو کچھ جی چاہے کرتا پھرے اور اس سے کوئی باز پرس نہ ہو۔ یہ دنیا کوئی اندھیر نگری نہیں ہے اور جو شخص روز آخرت اور جزاوسزا کا قائل نہیں وہ دراصل اس دنیا کو ایک کھلونا اور اس کے بنانے والے کو کھلنڈرا سمجھتا ہے اس کا خیال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا بنا کر اور انسان کو پیدا کرکے نعوذ باللہ ایک عبث فعل کا ارتکاب کیا ہے۔ سو ایسے آخرت کے منکروں کے لئے آگ کا عذاب تیار ہے مرنے کے بعد جب وہ دوزخ میں پڑیں گے اس وقت انہیں معلوم ہوگا کہ ان کے پیدا کرنے کی کیا غرض تھی ؟
Ayah 38:28

اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ Open ayah 38:28 in the Quran reader

کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان لوگوں کی طرح کردیں گے جو زمین میں فساد کرتے پھرتے ہیں ؟ یا ہم پرہیزگاروں اور بدکاروں کو یکساں 36 کردیں ؟

36 دوسری دلیل عدل کا تقاضا :۔ یعنی یہ آیت ہر انسان کو اس کے اچھے اور برے اعمال کا بدلہ دیئے جانے کی ضرورت یا آخرت کے قیام پر ایک عقلی دلیل ہے۔ سوال یہ ہے کہ اے روز آخرت سے انکار کرنے والو ! کیا تمہارے خیال کے مطابق یہ درست ہے۔ کہ ایک نیک انسان کو اس کی نیکی کا کوئی معاوضہ یا بدلہ نہ ملے، نہ بدکار کو اس کی بدکاری کی سزا ملے ؟ اس دنیا میں اگر کوئی شخص ساری زندگی دوسروں کے حقوق غصب کرتا رہے اور ان پر ظلم و زیادتی کرتا رہے پھر مرجائے تو اسے کوئی سزا نہ دی جائے یا ایک انسان خود تکلیف اٹھا کر بھی دوسروں سے بھلائی اور ہمدردی کرتا رہا ہے اور ساری زندگی دکھوں میں گزار کر مرگیا ہے تو اسے اس کے نیک اعمال کا کچھ بدلہ نہ دیا جائے اور انجام کے لحاظ سے دونوں برابر ہوجائیں ؟ ظاہر بات ہے کہ اگر آخرت کا قیام اور انسان کے اعمال کا محاسبہ نہ ہو تو اس سے ایک تو اللہ کی حکمت اور عدل کی نفی ہوجاتی ہے دوسرے یہ کائنات کا پورا نظام ایک بےکار اور اندھا نظام بن کر رہ جاتا ہے۔
Ayah 38:29

كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 38:29 in the Quran reader

جو کتاب ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے بڑی برکت والی 37 ہے تاکہ لوگ اس کی آیات میں غور و فکر کریں اور اہل عقل و دانش اس سے سبق حاصل کریں۔

37 برکت والی اس لحاظ سے ہے کہ وہ انسان کو اس کے انجام سے پوری طرح خبردار کرتی ہے اور دلائل سے ہر بات سمجھاتی ہے پھر اخروی فلاح کے طریقے بھی بتاتی ہے۔ اور انسانی زندگی کے ہر پہلو میں اس کی رہنمائی کرتی ہے۔ اور اس کی پیروی میں انسان کا فائدہ ہی فائدہ ہے اور نقصان کا کوئی احتمال نہیں۔ اور اگر صاحب عقل و دانش اس میں کچھ غور و فکر کریں تو صحیح نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں اور اس کتاب کی خیر و برکت سے مستفید ہوسکتے ہیں۔
Ayah 38:30

وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ Open ayah 38:30 in the Quran reader

اور داؤد کو ہم نے سلیمان عطا کیا 38 ۔ وہ بہت اچھا بندہ اور (اپنے پروردگار کی طرف) بکثرت رجوع کرنے والا تھا۔

38 بات یہاں سے چلی تھی کہ خواہش نفس کی پیروی وہی لوگ کرتے ہیں جو روز آخرت کے محاسبہ کا خیال نہیں رکھتے۔ پھر روز آخرت پر دو دلائل دینے کے بعد اسی قصہ کی طرف رجوع کیا جارہا ہے۔ کہ ہم نے داؤد کو سلیمان (جیسا بیٹا) عطا فرمایا جو انہی کی طرح نبی بھی تھے اور بادشاہ بھی۔ اور انہی کی طرح اللہ کے عبادت گزار بھی تھے۔
Ayah 38:31

اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ Open ayah 38:31 in the Quran reader

جب پچھلے پہر ان کے سامنے عمدہ نسل کے تیز رفتار 39 گھوڑے پیش کئے گئے

39 صافنات کا لغوی معنی :۔ صافنات، صافن کی جمع ہے اور صَفَنَ (الفرس) بمعنی گھوڑے کا تین ٹانگوں پر اس طرح کھڑا ہونا کہ چوتھے کھر کا صرف سرا زمین پر ٹکا رہے اور اس سے چاک و چوبند گھوڑا مراد لیا جاتا ہے۔ اور جیاد، جَیِّد کی جمع ہے۔ اور جاد الفرس یعنی گھوڑے کا سبک اور تیز رفتار ہونا ہے۔ یہ ان گھوڑوں کی صفات ہیں جو سیدنا سلیمان نے جہاد کی خاطر رکھے ہوئے تھے۔
Ayah 38:32

فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ Open ayah 38:32 in the Quran reader

تو کہا : میں نے اس مال کو اپنے پروردگار کی یاد کی بنا پر پسند کیا ہے۔ حتیٰ کہ وہ رسالہ آپ کے سامنے سے 40 اوجھل ہوگیا۔

40 سیدنا سلیمان کے ہاں پیش کئے جانے والے گھوڑے :۔ تو ارت میں واحد مونث کی ضمیر کس طرف راجع ہے ؟ اس میں اختلاف کی وجہ سے اس آیت کی تفسیر میں بھی خاصا اختلاف واقع ہوا ہے۔ ( تَوَارَتْ بالْحِجَابِ ) سے بعض مفسرین نے یہ مراد لی ہے کہ جب گھوڑوں کا رسالہ نظروں سے چھپ گیا۔ اور بعض نے یہ مراد لی ہے کہ جب سورج غروب ہوگیا۔ پہلے معنی کے لحاظ سے تفسیر یہ کی جاتی ہے کہ ایک دن پچھلے پہر سیدنا سلیمان اپنے گھوڑوں کا معائنہ کر رہے تھے پھر ان کی دوڑ کرائی تاآنکہ وہ نظروں سے اوجھل ہوگئے چونکہ یہ سارا سلسلہ جہاد کی خاطر تھا اس لئے آپ اس شغل سے بہت محظوظ ہوئے اور کہنے لگے کہ میں نے اپنے پروردگار کی یاد کی وجہ سے ہی یہ شغل پسند کیا ہے۔ پھر گھوڑے اپنے پاس طلب کئے اور شفقت سے ان کی گردنوں اور ان کی پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے تفسیر یہ ہے کہ آپ گھوڑوں کے شغل میں اتنے محو ہوئے کہ سورج ڈوب گیا اور اس شغل نے آپ کو اللہ کی یاد یعنی نماز سے غافل کردیا۔ اس واقعہ سے آپ کو بہت دکھ ہوا۔ آپ نے گھوڑوں کو طلب کیا اور ان کی گردنیں اور پنڈلیاں کاٹنا شروع کردیں اور چند گھوڑے کاٹ کر ان کا گوشت محتاجوں میں تقسیم کردیا۔ چونکہ آپ نے یہ کام اللہ کی محبت کی خاطر کیا تھا اس لئے اللہ نے آپ کو یہ صلہ دیا کہ ہواؤں کو آپ کے تابع کردیا اور آپ کو گھوڑوں کے رسالے کی اتنی احتیاج ہی نہ رہی جتنی پہلے تھی۔
Ayahs 38:33–34

رُدُّوْهَا عَلَیَّ١ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ Open ayah 38:33 in the Quran reader

(آپ نے حکم دیا کہ) کہ ان گھوڑوں کو میرے پاس واپس لاؤ تو آپ ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔

وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ Open ayah 38:34 in the Quran reader

نیز ہم نے سلیمان کو آزمائش میں ڈالا اور اس کی کرسی پر ایک جسد لا کر ڈال 41 دیا پھر اس نے رجوع کرلیا

41 اس آیت کے تحت بعض مفسرین نے درج ذیل حدیث درج کی ہے : سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : کہ سیدنا سلیمان نے کہا کہ میں آج رات اپنی نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ان سے ہر ایک ایک سوار جنے گی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا آپ کے کسی ساتھی نے کہا انشاء اللہ کہو مگر انہوں نے یہ بات نہ کہی تو ان میں سے کوئی بھی حاملہ نہ ہوئی ماسوائے ایک کے اور وہ بھی ادھورا بچہ جنی۔ اس پروردگار کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے اگر وہ انشاء اللہ کہہ لیتے تو سب کے ہاں بچے پیدا ہوتے اور سوار ہو کر اللہ کی راہ میں جہاد کرتے (بخاری۔ کتاب الایمان والنذور۔ باب کیف کانت یمین النبی) لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث کا اس آیت کی تفسیر سے کچھ تعلق نہیں اور اس کی وجوہ درج ذیل ہیں : 1۔ یہ حدیث بخاری کے علاوہ دوسری کتب حدیث میں موجود ہے لیکن کسی محدث نے اپنی کتاب التفسیر میں اس حدیث کو اس آیت کی تفسیر میں درج نہیں کیا۔ 2۔ امام بخاری نے اس حدیث کو چار مختلف مقامات پر درج کیا ہے جو یہ ہیں (کتاب بدء الخلق۔ کتاب الانبیائ، کتاب الایمان والنذور۔ باب کیف کانت یمین النبی، اور باب الکفارۃ قبل الحنث اور کتاب التوحید، باب فی المشیئۃ والارادۃ) مگر کتاب التفسیر میں درج نہیں کیا۔ 3۔ اگرچہ اس حدیث میں لفظی اختلاف موجود ہے۔ مگر کسی متن میں بھی یہ الفاظ موجود نہیں ہیں کہ یہ ادھورا بچہ دایہ نے یا لوگوں نے سیدنا سلیمان کے تخت یا کرسی پر ڈال دیا تھا۔ یہ مفسرین کا اپنی طرف سے اضافہ ہے۔ حالانکہ سیدنا سلیمان کی آزمائش کا تعلق اسی بات سے ہے۔ سیدنا سلیمان کو اللہ نے کس آزمائش میں ڈالا تھا :۔ اس کے علاوہ بھی بعض مفسرین نے کچھ باتیں نقل کی ہیں لیکن وہ بالکل ہی بےسروپا، غیر معقول اور لایعنی ہیں قرآن سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا سلیمان کی آزمائش کا تعلق ایک بےجان دھڑ سے تھا جو آپ کی کرسی پر ڈال دیا گیا تھا۔ اس پر آپ کو معلوم ہوا کہ آپ تو آزمائش میں پڑچکے ہیں پھر اسی وقت اللہ کی طرف رجوع ہوئے اپنے قصور کی معافی مانگی اور ساتھ ہی یہ دعا کی مجھے ایسی بادشاہی عطا فرما جو میرے بعد کسی کے شایان نہ ہو۔ چناچہ آپ کا یہ قصور بھی معاف کردیا گیا اور دعا بھی قبول ہوگئی کہ ہواؤں اور جنوں کو آپ کے لئے مسخر کردیا گیا جیسا کہ آگے مذکور ہے اور درج ذیل حدیث اسی کی وضاحت کرتی ہے : رسول اللہ سے بھڑنے والا جن :۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : گزشتہ رات ایک دیو ہیکل جن مجھ سے بھڑ پڑا۔ آپ نے یہ یا کوئی ایسا ہی کلمہ کہا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر غالب کردیا۔ میں نے چاہا کہ مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ اسے باندھ دوں تاکہ صبح تم اسے دیکھ سکو پھر مجھ کو اپنے بھائی سلیمان کی دعا یاد آگئی کہ : اے میرے پروردگار ! مجھے ایسی حکومت عطا فرما جو میرے بعد اور کسی کے شایان نہ ہو۔ روح راوی نے کہا کہ آپ نے اس جن کو ذلت کے بعد بھگا دیا۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر) نیز کتاب الصلوۃ باب الاسیر اوالغریم یربطہ فی المسجد) اور یہ ایسی فضیلت ہے کہ جو آپ کے بعد (یا پہلے) نہ کسی نبی کو حاصل ہوئی اور نہ بادشاہ کو۔ رہی یہ بات کہ اصل آزمائش تھی کیا ؟ اور بےجان دھڑ سے کون سے واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ اس کی کوئی معقول توجیہ نہ مجھے کہیں سے ملی ہے اور نہ ہی میرے ذہن میں آسکی ہے۔ واللّٰہ اعلم بالصواب۔
Ayahs 38:35–36

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 38:35 in the Quran reader

آپ نے کہا : اے میرے پر ورگار : مجھے معاف کر دے اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما جو میرے بعد کسی کے شایاں نہ ہو، بلاشبہ تو ہی سب کچھ عطا کرنے والا ہے۔

فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَۙ Open ayah 38:36 in the Quran reader

چناچہ ہم نے ہوا کو ان کے تابع کردیا۔ جہاں آپ کو پہنچنا ہوتا وہ آپ کے حکم پر نرمی کے ساتھ 42 چلتی تھی۔

42 اس کی تفسیر کے لئے دیکھئے سورة انبیاء کی آیت 81 کا حاشیہ نمبر 69
Ayah 38:37

وَ الشَّیٰطِیْنَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَّ غَوَّاصٍۙ Open ayah 38:37 in the Quran reader

اور شیطان بھی مسخر کردیئے تھے جو سب معمار اور غوطہ زن 43 تھے۔

43 جن آپ کے حکم کے تحت بلند وبالا عمارتیں تعمیر کرتے تھے۔ دریاؤں میں غوطہ لگا کر ان سے ہیرے جواہرات موتی وغیرہ نکالتے تھے۔ دوسرے کام جو عام انسانوں کی طاقت سے زیادہ ہوتے تھے وہ آپ جنوں سے لیا کرتے تھے۔ مزید تفصیل کے لئے سورة انبیاء آیت نمبر 82 اور سورة سبا آیت نمبر 12 کے حواشی۔
Ayah 38:38

وَّ اٰخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ Open ayah 38:38 in the Quran reader

اور کچھ دوسرے جو زنجیروں میں جکڑے 44 ہوئے تھے

44 اور جو جن آپ کے حکم سے سرتابی کرتے یا شرارتیں کرکے کام میں رکاوٹ ڈالتے یا دوسروں کو تنگ کرتے تھے، انہیں آپ زنجیروں میں جکڑ کر قید خانہ میں ڈال دیتے تھے۔
Ayah 38:39

هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 38:39 in the Quran reader

(ہم نے ان سے کہا) یہ ہماری بخشش ہے۔ اب کسی پر احسان کرو یا 45 اپنے پاس رکھو، کوئی حساب نہیں۔

45 جنوں پر سیدنا سلیمان کی حکمرانی :۔ یعنی جنوں کے معاملہ میں آپ کو مکمل اختیارات حاصل تھے کسی سے کام لیں یا نہ لیں۔ کسی کو معاوضہ دیں یا نہ دیں۔ یہ معاوضہ تھوڑا دیں یا زیادہ دیں۔ یہ سب کچھ آپ کی صوابدید پر منحصر تھا۔ اور اگر اس آیت کو عام سمجھا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے آپ کو بےپناہ مال و دولت عطا کی تھی۔ اور کہہ دیا تھا کہ اسے جیسے چاہو خرچ کرو آپ سے اس کا کچھ مؤاخذہ نہ ہوگا۔ اب ایک طرف اللہ تعالیٰٰ کے انعامات کا یہ حال ہے کہ بےحساب مال و دولت دے کر فرمایا کہ جیسے چاہو خرچ کرو آپ سے کوئی حساب نہیں لیا جائے گا۔ دوسری طرف سیدنا سلیمان کا یہ حال تھا کہ اپنی ذاتی ضروریات کے لئے بیت المال سے ایک پیسہ بھی نہیں لیتے تھے بلکہ اپنے والد بزرگوار کی طرح اپنی کمائی سے کھاتے تھے۔ سیدنا داؤد تو زرہیں بنایا کرتے تھے اور آپ تانبے کی مصنوعات تیار کرتے تھے۔
Ayah 38:40

وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ۠ Open ayah 38:40 in the Quran reader

بلاشبہ انہیں ہمارے ہاں قرب 46 اور عمدہ مقام ہے۔

46 یعنی ان کی سلطنت اور فرمانروائی ہماری عبادت گزاری کے آڑے نہ آسکی۔ شاہی میں فقیرانہ زندگی بسر کرنا بھی ایک بڑی آزمائش ہے جس میں وہ پورے اترے لہذا اللہ نے انہیں مقربین میں شامل کرلیا اور بلند درجات عطا فرمائے۔