37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 37:1

وَ الصّٰٓفّٰتِ صَفًّاۙ Open ayah 37:1 in the Quran reader

صف بستہ کھڑا ہونے والوں (فرشتوں) کی قسم

Ayah 37:2

فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًاۙ Open ayah 37:2 in the Quran reader

پھر ان کی جو ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں

Ayah 37:3

فَالتّٰلِیٰتِ ذِكْرًاۙ Open ayah 37:3 in the Quran reader

پھر ان کی جو ذکر (قرآن) کی تلاوت کرنے والے 1 ہیں

1 صفیں باندھے ہوئے فرشتے :۔ تمام مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس سورة کی ابتدائی تین آیات میں جن کی قسم اٹھائی گئی ہے ان سے مراد فرشتے ہیں اور اس بات کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو سیدنا جابر ؓ سے مروی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : تم لوگ اس طرح صف باندھا کرو جس طرح فرشتے بارگاہ الٰہی میں صف بستہ رہتے ہیں۔ تم لوگ سب سے پہلے اگلی صف پوری کیا کرو اور صف میں خوب مل کر کھڑے ہوا کرو (مسلم۔ کتاب الصلوٰۃ۔ باب الامر بالسکون فی الصلوٰۃ) پہلی آیت میں ان فرشتوں کا ذکر ہے جو اللہ کے احکام کے منتظر اور اس کے دربار میں ہر وقت صف بستہ کھڑے رہتے ہیں اور یہی ان کی عبادت ہے کہ ادھر اللہ کا حکم ہو تو ادھر فوراً اسے بجا لائیں۔ دوسری آیت میں ان فرشتوں کا ذکر ہے جو تدبیر امور کائنات پر مامور ہیں اور ڈانٹ ڈپٹ اس لئے کرتے ہیں کہ جلد سے جلد اللہ کا حکم بجا لائیں۔ ڈانٹنے ڈپٹنے سے مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اسی دوسری قسم کے فرشتوں میں وہ گروہ بھی شامل ہے جو مجرموں اور نافرمانوں پر لعنت اور پھٹکار کرتے ہیں۔ اور انسانوں پر جو حوادث یا عذاب آتے ہیں انہی کے واسطہ سے آتے ہیں۔ اور تیسرے گروہ سے مراد وہ فرشتے ہیں جو خود بھی اللہ کے ذکر میں مشغول رہتے ہیں اور انسان کی روحانی غذا یا ہدایت کا واسطہ بھی بنتے ہیں۔ پیغمبروں پر اللہ کا حکم لاتے ہیں اور نیک لوگوں کے دلوں میں القاء والہام کرتے ہیں۔
Ayah 37:4

اِنَّ اِلٰهَكُمْ لَوَاحِدٌؕ Open ayah 37:4 in the Quran reader

بلاشبہ تمہارا الٰہ ایک ہی 2 ہے

2 قرآن اللہ کا کلام اور کائنات اس کا فعل ہے ان دونوں میں تضاد ناممکن ہے :۔ ان تینوں قسم کے فرشتوں کی قسم اٹھا کر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کہ تمہارا معبود حقیقی ایک ہی ہے یہاں یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ یہ کائنات اللہ تعالیٰ کا فعل ہے اور ذکر یا قرآن اللہ تعالیٰ کا قول یا کلام ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے قول اور فعل میں نہ اختلاف ہوسکتا ہے اور نہ تضاد۔ اگر ہم اللہ تعالیٰ کا کلام پڑھ کر اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ معبود حقیقی صرف ایک ہی ہوسکتا ہے تو لامحالہ اس کائنات کے مربوط اور منظم نظام پر غور کرنے کے بعد بھی ہم اسی نتیجہ پر پہنچتے ہیں اور یہ دونوں چیزیں ایک دوسری کی تائید و توثیق کرتی ہیں اور ان میں پوری ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ نظام کائنات میں وہ کیا کیا قابل غور باتیں ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ معبود حقیقی یا پروردگار صرف ایک ہی ہوسکتا ہے، قرآن میں بیشمار مقامات پر مذکور ہیں جن میں سے چند باتوں کا ذکر آگے بھی آرہا ہے۔
Ayah 37:5

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ رَبُّ الْمَشَارِقِؕ Open ayah 37:5 in the Quran reader

جو آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے اور ان چیزوں کا بھی جو ان دونوں کے درمیان ہیں اور مشرقوں 3 کا بھی پروردگار ہے

3 مشارق ومغارب کتنے ہیں ؟ مشارق سے مراد بیشمار مشرق ہیں۔ سورج ہمیشہ عین مشرقی سمت سے ہی طلوع نہیں ہوتا بلکہ گرمیوں میں اس کا مشرق شمال کی طرف سرکتا جاتا ہے اور سردیوں میں جنوب کی طرف۔ سورج کے مشرق کا زاویہ ہر روز جداگانہ ہوتا ہے اس لحاظ سے سورج کے سال بھر میں 365 مشرق ہوئے۔ پھر اس کائنات میں صرف سورج ہی گردش نہیں کر رہا اور بھی ہزاروں سیارے محو گردش ہیں۔ اور ان کے اپنے اپنے مشرق یا طلوع ہونے کے مقامات ہیں۔ علاوہ ازیں ان کے مشرقوں میں بھی سورج کے مشرقوں کی طرح تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ اس لحاظ سے مشرقوں کی تعداد ہمارے حساب سے باہر ہوجاتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے رب المشارق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان تمام سیاروں کی نقل و حرکت کا وہی مالک ہے اور ان پر اسی کا کنٹرول ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ مشارق کا مالک ہے مغارب کا بھی ہے۔ مغارب کا یہاں تو ذکر نہیں تاہم سورة معارج کی آیت نمبر 40 میں مغارب کا بھی ذکر آگیا ہے۔
Ayahs 37:6–7

اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِزِیْنَةِ اِ۟لْكَوَاكِبِۙ Open ayah 37:6 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں کی زینت سے مزین 4 کیا ہے۔

وَ حِفْظًا مِّنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِدٍۚ Open ayah 37:7 in the Quran reader

اور اسے ہر سرکش شیطان سے محفوظ بنادیا ہے

4 آسمانوں کا وجود ایک ٹھوس حقیقت ہے :۔ نیلے آسمان پر چمکتے ہوئے ستارے یوں دکھائی دیتے ہیں جیسے اس میں ہیرے اور زمرد جڑے ہوئے ہیں۔ اور اس خوشنما منظر کو دیکھنے سے ہی انسان راحت محسوس کرتا ہے۔ موجودہ دور کے ہیئت دان کسی آسمان کے قائل نہیں۔ ان کے خیال کے مطابق آسمان صرف حد نگاہ کا نام ہے۔ جبکہ کتاب و سنت میں صراحت سے مذکور ہے کہ آسمان ایک ٹھوس حقیقت ہے اور ان کی تعداد سات ہے۔ آج کے ماہرین فلکیات کئی ستاروں کا زمین سے لاکھوں اور کروڑوں میل کا فاصلہ بتاتے ہیں اور یہ بھی بتاتے ہیں کہ ان ستاروں کی روشنی ذاتی نہیں ہوتی بلکہ انعکاس روشنی کے اصول کے تحت سورج کی روشنی سے ہی یہ منور اور روشن اور چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بلکہ ہمارے چاند کی روشنی بھی سورج کی روشنی ہی کی مرہون منت ہے۔ اب قرآن یہ کہتا ہے کہ ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں سے مزین کیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ ان ماہرین کی تمام تر تحقیقات تاحال آسمان دنیا کے بھی نیچے ہیں۔ اور باقی آسمانوں کی تو اس کے بعد ہی باری آسکتی ہے۔ جو شاید انسان کی بساط سے باہر ہے۔
Ayahs 37:8–9

لَا یَسَّمَّعُوْنَ اِلَى الْمَلَاِ الْاَعْلٰى وَ یُقْذَفُوْنَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍۗۖ Open ayah 37:8 in the Quran reader

وہ عالم بالا کی باتیں سن ہی نہیں سکتے اور ہر طرف سے ان پر (شہاب) پھینکے 5 جاتے ہیں

دُحُوْرًا وَّ لَهُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌۙ Open ayah 37:9 in the Quran reader

تاکہ وہ بھاگ کھڑے ہوں اور ان کے لئے پیہم عذاب ہے۔

5 دور نبوی میں کہانت کا چرچا :۔ دور نبوی میں عرب میں کہانت کا بڑا چرچا تھا اور کاہنوں کو معاشرہ میں ایک معزز مقام حاصل تھا۔ ان کے متعلق مشہور یہ تھا کہ جن اور شیطان کاہنوں کے قبضہ میں ہوتے ہیں جو انہیں غیب کی خبریں مہیا کرتے ہیں۔ اچھے بھلے لوگ ان کے ہاں آتے اور ان کی خدمات حاصل کرتے تھے حتیٰ کہ بعض دفعہ اپنے مقدمات کے فیصلے کے لئے ان کے ہاں آتے تھے۔ ایسے ہی ایک کاہن کا واقعہ احادیث میں بھی مذکور ہے۔ قرآن جب نازل ہوا تو اس میں کچھ سابقہ انبیاء و اقوام کے حالات تھے اور کچھ آئندہ کی خبریں بھی تھیں۔ پھر آپ نے لوگوں کو یہ بھی بتایا تھا کہ آپ کے پاس فرشتہ آتا ہے جو آپ پر یہ کلام نازل کرتا ہے۔ ان ساری باتوں سے ان لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ شاید وہ دوسرے کاہنوں کی طرح آپ کے پاس بھی کوئی جن یا شیطان آتا ہے۔ چناچہ ایک دفعہ آپ بیمار ہوئے تو دو تین راتیں تہجد کی نماز کے لیے اٹھ نہ سکے تو ابو لہب کی بیوی آپ کے پاس آکر کہنے لگی۔ میں سمجھتی ہوں کہ تیرے شیطان نے تجھے چھوڑ دیا ہے۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ تفسیر سورة والضحیٰ ) اور اسی وجہ سے وہ لوگ آپ کو کاہن ہی سمجھتے تھے۔ اگلی دو آیات میں ان کے اسی غلط نظریہ کی تردید کی گئی ہے۔
Ayah 37:10

اِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ ثَاقِبٌ Open ayah 37:10 in the Quran reader

تاہم اگر کوئی شیطان کوئی بات لے اڑے تو ایک تیز شعلہ اس کا تعاقب 6 کرتا ہے۔

6 شہاب ثاقب :۔ اس آیت کی تفسیر کے لئے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے : سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ : ایک دفعہ آپ صحابہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ دفعتا ایک ستارہ ٹوٹا اور روشنی ہوگئی۔ آپ نے صحابہ سے پوچھا : دور جاہلیت میں جب ایسا واقعہ ہوتا تو تم کیا کہتے تھے ؟ صحابہ کہنے لگے : ہم تو یہی کہتے تھے کہ کوئی بڑا آدمی مرگیا یا پیدا ہوا ہے آپ نے فرمایا : یہ کسی کی زندگی یا موت کے سبب سے نہیں ٹوٹتا بلکہ ہمارا پروردگار کسی کام کا فیصلہ کرلیتا ہے تو حاملان عرش تسبیح کرتے ہیں پھر آسمان والے فرشتے جو ان سے قریب ہوتے ہیں پھر ان سے قریب والے تسبیح کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ سبحان اللہ کی آواز ساتویں آسمان تک پہنچتی ہے پھر چھٹے آسمان والے ساتویں آسمان والوں سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا۔ وہ انہیں خبر دیتے ہیں۔ اسی طرح نیچے آسمان والے اوپر کے آسمان والوں سے پوچھتے جاتے ہیں یہاں تک کہ یہ خبر دنیا کے آسمان تک پہنچتی ہے اور شیطان اچک کر سننا چاہتے ہیں تو ان کو مار پڑتی ہے اور وہ کچھ بات لاکر اپنے یاروں (کاہنوں وغیرہ) پر ڈال دیتے ہیں۔ وہ خبر تو سچ ہوتی ہے مگر وہ اسے بدلتے اور گھٹا بڑھا دیتے ہیں۔ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر) نیز اس سلسلہ میں سورة حجر کی آیت نمبر 18 کا حاشیہ نمبر 9 بھی ملاحظہ فرمائیے۔
Ayah 37:11

فَاسْتَفْتِهِمْ اَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّنْ طِیْنٍ لَّازِبٍ Open ayah 37:11 in the Quran reader

(اے نبی ! ) آپ ان سے پوچھئے کہ کیا ان کی پیدائش زیادہ مشکل ہے یا جو کچھ ہم پیدا کرچکے ہیں۔ ہم نے انہیں لیسدار 7 گارے سے پیدا کیا ہے۔

7 مٹی کی مختلف حالتیں جن سے آدم کا پتلا بنایا گیا ڈارون کے نظریہ کا ابطال :۔ مٹی کو جن سات مختلف حالتوں سے گزار کر انسان کو پیدا کیا گیا ان کی تفصیل یہ ہے (1) تراب بمعنی خشک مٹی (40: 67) (2) ارض بمعنی عام مٹی یا زمین (71: 17) (3) طین بمعنی گیلی مٹی یا گارا (6: 2) (4) طین لازب معنی لیسدار یا چپکدار مٹی (37: 11) (5) حماٍ مسنون بمعنی بدبودار کیچڑ (15: 26) (6) صلصال بمعنی ٹھیکرا یعنی حرارت سے پکائی ہوئی مٹی (15: 26) (7) صلصال کا لفخار بمعنی ٹن سے بجنے والی ٹھیکری (55: 14) یہ مٹی یا زمین کی مختلف شکلیں ہیں۔ کسی وقت مٹی میں پانی کی آمیزش کی گئی تو بعد میں حرارت کے ذریعہ پانی کو خشک کردیا گیا۔ قرآن نے مختلف مقامات پر ان مختلف حالتوں میں سے کسی بھی ایک یا دو حالتوں کا ذکر کردیا ہے۔ اور جس حالت کا بھی نام لیا جائے وہ سب درست ہے۔ اس بیان سے ڈارون کا نظریہ ارتقاء کا رد ہوجاتا ہے جس کی رو سے انسان نباتات اور حیوانات کی منزلوں سے گزر کر وجود میں آیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے جو سات مختلف حالتیں بیان کی ہیں وہ سب کی سب جمادات یا مٹی میں ہی پوری ہوجاتی ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دو مزید باتیں ارشاد فرمائیں ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ جو عظیم الجثہ اور محیرالعقول مخلوقات پیدا کرچکا ہے اس کے مقابلہ میں انسان کی حیثیت ہی کیا ہے کہ اس کی تخلیق اس کے لئے کچھ مشکل ہو اور دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مٹی ہی کی سات مختلف حالتوں سے گزار کر پیدا کیا ہے۔ پھر وہ مر کر مٹی میں مل کر مٹی ہی بن جائے گا۔ تو کیا جس نے مٹی کی اتنی حالتوں سے گزار کر انسان کو پہلے پیدا کیا تھا اب دوبارہ مختلف حالتوں سے گزار کر پیدا نہ کرسکے گا ؟ (ڈارون کے نظریہ ارتقاء کی تفصیل کے لئے دیکھئے 15: 29، حاشیہ 19)
Ayahs 37:12–14

بَلْ عَجِبْتَ وَ یَسْخَرُوْنَ۪ Open ayah 37:12 in the Quran reader

آپ کو تو (اللہ کی ایسی قدرتوں پر) تعجب 8 ہے اور یہ لوگ ان کا مذاق اڑاتے ہیں

وَ اِذَا ذُكِّرُوْا لَا یَذْكُرُوْنَ۪ Open ayah 37:13 in the Quran reader

اور جب سمجھایا جائے تو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔

وَ اِذَا رَاَوْا اٰیَةً یَّسْتَسْخِرُوْنَ۪ Open ayah 37:14 in the Quran reader

اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو تمسخر کرتے ہیں۔

8 یعنی آپ کو اللہ کے ایسے عظیم تخلیقی کارنامے سن کر تعجب ہوتا ہے مگر یہ لوگ نہایت بےفکری اور لاپروائی سے ایسی محیرا لعقول نشانیوں کا مذاق اڑا دیتے ہیں یا آپ کو اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ یہ کس قدر بےحس اور ناانصاف لوگ ہیں کہ اللہ کی ایسی واضح قدرتیں بھی ان پر کچھ اثر نہیں کرتیں۔
Ayahs 37:15–17

وَ قَالُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 37:15 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ : یہ تو صریح جادو 9 ہے

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 37:16 in the Quran reader

بھلا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا پھر ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے ؟

اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَؕ Open ayah 37:17 in the Quran reader

اور کیا ہمارے آباء و اجداد بھی اٹھائے جائیں گے !

9 بلکہ عجیب باتیں تو یہ لوگ بناتے ہیں جو اللہ کی ان آیات کو کسی طلسماتی دنیا کی باتیں سمجھتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے تو پھر دوبارہ جی اٹھیں گے۔ پھر ہم سب کے سب اللہ کی عدالت میں پیش ہوں گے پھر لوگوں کے اعمال کے فیصلے ہوں گے۔ پھر ایک طرف جہنم ہوگی جس کے یہ اور یہ اوصاف ہونگے۔ اور ایک طرف جنت ہوگی جس کے یہ اور یہ اوصاف ہوں گے۔ ایسی باتیں کسی خیالی دنیا کے متعلق تو کی جاسکتی ہیں۔ بھلا ایک بھلا چنگا اور درست عقل والا آدمی ایسی باتیں کیسے کہہ سکتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس پر کسی نے جادو کردیا ہے جو یہ یک لخت ایسی تصوراتی اور بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے۔
Ayah 37:18

قُلْ نَعَمْ وَ اَنْتُمْ دَاخِرُوْنَۚ Open ayah 37:18 in the Quran reader

آپ ان سے کہئے : ہاں 10 (ایسا ضرور ہوگا) اور تم بالکل بےبس ہوگے۔

10 انسان کی دوبارہ زندگی کیسے ؟ کفار مکہ کے اس اعتراض اور انکار کو قرآن میں بہت سے مقامات پر ذکر کیا گیا ہے اور اس کا جواب بھی کئی طرح سے دیا گیا ہے اس مقام پر بھی مذکور ہے کہ انسان کی پیدائش مٹی سے ہوئی ہے۔ پھر وہ زندہ ہو کر مٹی یا زمین سے جدا نہیں ہوا بلکہ اس کی تمام تر ضروریات مٹی یا زمین ہی سے وابستہ ہیں۔ مر کر بھی وہ اس مٹی میں دفن ہوگا تو جب گل سڑ کر مٹی بن کر مٹی میں مل جائے گا تو زمین اس کے تحلیل شدہ اجزاء نکال کر باہر نہیں پھینک دے گی۔ بلکہ سنبھال کر اپنے اندر محفوظ رکھے گی پھر انہیں تحلیل شدہ اجزاء کو اللہ تعالیٰ پھر سے اکٹھا کرکے ان اجزاء کو اپنی پہلی حالت میں لے آئے گا۔ اس کی روح پہلے ہی مرتے وقت قبض کرلی تھی۔ اور یہی روح اس کا اصل تشخص ہے جو پہلے ہی اللہ کے قبضہ میں ہے۔ یہی روح اس کے جسم میں ڈال کر اسے پھر سے اٹھا کھڑا کیا جائے گا۔ رہی یہ بات کہ ان کے آباء و اجداد جو مدتوں پہلے مرچکے ان میں سے کوئی بھی زندہ ہوا نہ ان کے پاس واپس آیا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ زمین میں پڑا ہوا بیج پڑا ہی رہتا ہے۔ جب اس کے اگنے کا موقع آتا ہے۔ اگتا وہ اسی وقت ہے پہلے نہیں اگتا۔ اسی طرح جب تمہارے دوبارہ جی اٹھنے کا وقت یا موسم آئے گا اسی وقت تم بھی اور تمہارے آباء و اجداد بھی جی کر زمین سے نکل آؤ گے پہلے نہیں۔ اور دوسری بات یہ کہ دوبارہ زندہ ہو کر تمہارے پاس نہیں آئیں گے بلکہ تم بھی اور وہ بھی اللہ کے حضور حاضر ہوجاؤ گے۔
Ayah 37:19

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ فَاِذَا هُمْ یَنْظُرُوْنَ Open ayah 37:19 in the Quran reader

وہ تو بس ایک ڈانٹ 11 ہوگی جس پر وہ فوراً (سب کچھ) دیکھنے لگیں گے

11 یعنی تمہارے دوبارہ جی اٹھنے کا موسم یا وقت وہ ہوگا جب دوسری بار صور پھونکا جائے گا۔ صور کی آواز بالکل ایک ڈانٹ کی طرح ہوگی۔ جیسے کوئی شخص سوئے ہوئے آدمی کو ڈانٹ کر کہتا ہے اب اٹھتے کیوں نہیں ہو اتنا دن چڑھ آیا ہے۔ تو وہ خواہ کیسی گہری نیند لے رہا ہو، بیدار ہوجاتا ہے۔ یہی تمہاری کیفیت ہوگی۔ اور تمہاری یہ کیفیت اختیاری نہیں بلکہ اضطراری ہوگی۔ یعنی جس طرح تمہاری پیدائش اور تمہاری موت میں تمہاری اپنی مرضی کا کوئی عمل دخل نہ تھا اسی طرح تم دوبارہ جی اٹھنے پر بھی مجبور اور بےبس ہوگے۔
Ayahs 37:20–21

وَ قَالُوْا یٰوَیْلَنَا هٰذَا یَوْمُ الدِّیْنِ Open ayah 37:20 in the Quran reader

اور کہیں 12 گے : ہائے ہماری بدبختی ! یہ تو جزا و سزا کا دن ہے

هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ۠ Open ayah 37:21 in the Quran reader

(پھر انہیں کہا جائے گا) یہی فیصلہ کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے

12 یہ کہنے والے مجرم خود بھی ہوسکتے ہیں جو ایک دوسرے سے یوں ہم کلام ہوں گے۔ فرشتے بھی ہوسکتے ہیں اور اہل ایمان بھی۔ بلکہ اس دن ہر کوئی یہ پکار اٹھے گا کہ یہی وہ انصاف کا دن ہے جسے اے مجرمو ! تم جھٹلاتے ہی رہے
Ayahs 37:22–24

اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَ اَزْوَاجَهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 37:22 in the Quran reader

ان ظالموں کو اور ان کے ہم جنسوں 13 کو اور (معبودوں کو) سب کو اکٹھا کرو جس کی یہ اللہ کے سوا عبادت کیا 14 کرتے تھے۔

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَاهْدُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:23 in the Quran reader

پھر انہیں جہنم کی راہ پر چلا دو ۔

وَ قِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْئُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:24 in the Quran reader

اور (دیکھو) انہیں ذرا ٹھہرائے رکھو، ان سے کچھ پوچھا جائے گا

13 زوج کے تینوں معانی اکٹھے مراد ہیں :۔ ازواج کا لفظ تین معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس مقام پر تینوں معنی دے رہا ہے۔ ایک معنی یہ ہے کہ مرد بیوی کا اور بیوی مرد کی زوج ہے۔ اس لحاظ سے معنی یہ ہوگا کہ فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ظالموں اور ان کی بیویوں کو جو بغاوت میں ان کی شریک تھیں سب کو گھیر لاؤ۔ زوج کا دوسرا معنی اس کے مماثل ہوتا ہے۔ جیسے ایک جوتا دوسرے کا زوج ہے۔ اس لحاظ سے معنی یہ ہوگا ظالموں کی جتنی اقسام ہیں ان سب کو گھیر کرلے آؤ۔ اور زوج کا تیسرا معنی اس کی ضد ہے جیسے رات دن کا زوج ہے اور دن رات کا، یا تاریکی روشنی کا زوج ہے۔ اور روشنی تاریکی کا۔ اس لحاظ سے معنی یہ ہوگا۔ معبودوں اور ان کے عبادت گزاروں سب کو گھیر گھار کر ہمارے سامنے لا حاضر کرو۔ 14 معبودان باطل کی تین اقسام :۔ اللہ کے سوا معبودوں کی بڑی قسمیں دو ہیں۔ ایک غیر ذوی العقول، ان میں بت، ستارے، شجر و حجر اور حیوانات وغیرہ مثلاً گائے، بیل اور سانپ وغیرہ سب کچھ آجاتا ہے۔ دوسرے ذوی العقول جسے انبیائ، فرشتے، اولیاء اور بزرگ۔ پھر انسانوں اور جنوں میں سے کچھ ایسے معبود ہیں جو خود بھی چاہتے تھے کہ اللہ کے مقابلہ میں ان کی اطاعت کی جائے یا ان کی خدائی اور خدائی اختیارات تسلیم کئے جائیں۔ ان سب میں سے صرف فرشتے، انبیاء اور وہ بزرگ جہنم میں نہیں جائیں گے جو خود شرک سے منع کرتے رہے۔ باقی سب معبودوں کو اکٹھا کرکے جہنم میں پھینک دیا جائے گا اور اس کی وجہ پہلے کئی جگہ درج کی جاچکی ہیں۔
Ayahs 37:25–27

مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ Open ayah 37:25 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوگیا (آج) تم ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں 15 کرتے ؟

بَلْ هُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ Open ayah 37:26 in the Quran reader

بلکہ آج وہ بالکل مطیع و منقاد بن جائیں گے۔

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:27 in the Quran reader

اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر باہم سوال کریں گے

15 مطیع اور مطاع کا قیامت کے دن مکالمہ :۔ ایسے عابد اور معبود جنہیں جہنم میں داخل کردینے کا حکم دیا جائے گا۔ فرشتوں کو حکم ہوگا کہ انہیں ذرا روک لو پہلے ان سے ایک بات تو پوچھ لیں۔ ان مجرموں میں ہر قسم کے عابد اور ہر قسم کے معبود ہوں گے۔ مشرکین اور ان کے معبودوں کا تو پہلے ذکر ہوچکا۔ ان میں چودھری اور رئیس بھی ہوں گے اور ان کے پیروکار بھی، سیاسی لیڈر بھی اور ان کی پارٹی کے لوگ بھی۔ خدائی کا دعویٰ کرنے والے اور خدائی کو منوانے والے بھی اور ماننے والے بھی۔ گورو جی اور ان کے چیلے چانٹے بھی، اعلیٰ حضرت بھی اور ان کی شفاعت پر بھروسہ کرنے والے مریدان باصفا بھی۔ اور یہ سب جوڑے اس دن ایک دوسرے سے بیزاری کا اظہار کر رہے ہونگے۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ آج تمہیں کیا ہوگیا ہے۔ آج تم ایک دوسرے سے بےتعلق کیوں ہوگئے ہو۔ اور وہ تمہاری شیخیاں اور تمہارے بلند بانگ دعوے کہاں گئے دنیا میں جو تم نے آپس میں مل کر جتھے بنا رکھے تھے یا ایک دوسرے کی مدد کے دعوٰے کیا کرتے تھے۔ آج وہ تمہارے وعدے کہاں گئے انہیں پورا کیوں نہیں کرتے ؟
Ayahs 37:28–29

قَالُوْۤا اِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ Open ayah 37:28 in the Quran reader

(کمزور لوگ بڑوں سے) کہیں گے : تم تو ہمارے پاس دائیں 16 (اور بائیں) سے آتے تھے

قَالُوْا بَلْ لَّمْ تَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 37:29 in the Quran reader

(بڑے لوگ) کہیں گے۔ (بات یوں نہیں) بلکہ تم خود ہی ایمان لانے والے نہیں تھے

16 لفظ یمین کے مختلف معنی اور ان سب کا اطلاق :۔ یمین کا لفظ بہت وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً (1) یمین بمعنی دایاں ہاتھ بھی اور دائیں طرف بھی اور (2) اصحاب الیمین کے معنی دائیں ہاتھ یا دائیں جانب والے بھی اور اصحاب خیرو برکت بھی (مفردات القرآن) (3) پھر جس طرح ید کا لفظ قوت اور قبضہ کے معنوں میں آتا ہے یمین اس سے بھی زیادہ وسیع معنوں میں آتا ہے۔ کیونکہ قوت اور کارکردگی کے لحاظ سے دایاں ہاتھ بائیں سے افضل اور بہتر ہے۔ اور ملک یمین اس چیز کو کہتے ہیں جس پر پورا قبضہ اور اختیار ہو اور محاورۃ یہ لفظ لونڈی اور غلام کے معنوں میں آتا ہے۔ (4) علاوہ ازیں اہل عرب کی عادت تھی کہ اپنے عہد و پیمان اور قسم کو مضبوط تر بنانے کے لئے اپنا ہاتھ مخاطب کے ہاتھ میں دیتے تھے یا مارتے تھے۔ لہذا یہ لفظ قسم کے معنوں میں بھی استعمال ہونے لگا یعنی ایسی قسم جو عہد و پیمان کو پختہ کرنے کے لیے اٹھائی جائے۔ اس آیت میں یمین کا لفظ تقریباً اپنے سب معانی کے لحاظ سے درست ہے۔ مثلاً کمزور یا پیروی کرنے والے لوگ اپنے بڑے بزرگوں سے کہیں گے کہ (1) تم لوگوں نے ہم پر کچھ ایسا دباؤ ڈال رکھا تھا کہ ہم تمہاری باتیں ماننے پر مجبور ہوگئے تھے۔ یا (2) تم لوگوں نے یہ پروپیگنڈا کر رکھا تھا کہ جو راہ ہم نے اختیار کر رکھی ہے وہی خیر و برکت کا راستہ ہے لہذا ہم تمہارے بھرّے میں آگئے یا (3) تم لوگوں نے قسمیں کھا کھا کر ہمیں یقین دلایا تھا کہ ہم فی الواقع تمہارے خیر خواہ ہیں۔ اس طرح تم نے ہمیں بھٹکا کر اپنے ساتھ لگا لیا تھا اور ہم تمہاری اطاعت کرنے لگے تھے۔ اور ان سب مطالب کا خلاصہ یہی ہے کہ ہمیں اس انجام بد سے دو چار کرنے والے اور گمراہ کرنے والے تم ہی لوگ ہو۔
Ayahs 37:30–34

وَ مَا كَانَ لَنَا عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ١ۚ بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِیْنَ Open ayah 37:30 in the Quran reader

اور ہمارا تم پر کچھ زور 17 بھی نہیں تھا بلکہ تم خود سرکش تھے۔

فَحَقَّ عَلَیْنَا قَوْلُ رَبِّنَاۤ١ۖۗ اِنَّا لَذَآئِقُوْنَ Open ayah 37:31 in the Quran reader

ہمارے پروردگار کا قول (آج) ہم پر صادق آگیا کہ ہم عذاب کا مزا چکھنے والے ہیں۔

فَاَغْوَیْنٰكُمْ اِنَّا كُنَّا غٰوِیْنَ Open ayah 37:32 in the Quran reader

ہم نے تمہیں گمراہ کیا کیونکہ ہم خود بھی گمراہ تھے۔

فَاِنَّهُمْ یَوْمَئِذٍ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 37:33 in the Quran reader

آج کے دن وہ سب (کمزور اور بڑے لوگ) عذاب میں برابر کے شریک ہوں گے

اِنَّا كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 37:34 in the Quran reader

واقعی ہم مجرموں سے ایسا ہی سلوک کیا کرتے ہیں۔

17 اس کے جواب میں ان کے قائد، لیڈر اور پیشوا حضرات یہ جواب دیں گے کہ تم خود مجرم ضمیر تھے تم نے اپنا فائدہ اسی میں دیکھا تھا کہ ہمارے ساتھ لگ جاؤ۔ ہم نے زبردستی تمہیں اپنی اطاعت پر مجبور نہیں کیا تھا نہ ہم میں کوئی ایسا زور اور طاقت تھی۔ آج تم خواہ مخواہ ہمیں مورد الزام ٹھہرا رہے ہو۔ لہذا جیسے مجرم ہم ہیں ویسے ہی تم بھی مجرم ہو۔ اگر ہم گمراہ تھے تو ایک گمراہ سے بجز گمراہی کی طرف بلانے کے اور کیا توقع ہوسکتی ہے ہم نے وہی کچھ کیا جو ہمارے حال کے مناسب تھا۔ مگر تمہیں اپنی عقل اور عاقبت اندیشی سے کام لینا چاہئے تھا۔ آج تو ہم سب کو اپنی غلط کاریوں کا مزہ چکھنا ہوگا۔
Ayah 37:35

اِنَّهُمْ كَانُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ١ۙ یَسْتَكْبِرُوْنَۙ Open ayah 37:35 in the Quran reader

انہیں جب یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں تو وہ اکڑ 18 بیٹھتے تھے۔

18 خوشحال لوگوں کے اکڑنے کی تین وجوہ :۔ ان کے تکبر کی کئی وجوہ تھیں، ایک یہ کہ جب انہیں یہ بتایا جاتا کہ اللہ کے سوا کوئی حاجت روا اور مشکل کشا نہیں تو تم اس میں اپنے بتوں اور معبودوں کی بھی توہین سمجھتے تھے، اپنی بھی اور اپنے آباء واجداد کی بھی لہذا وہ اکڑ بیٹھتے تھے دوسری یہ کہ مشرکانہ رسوم کے رواج سے جو کچھ دنیوی مفادات حاصل کر رہے تھے اس سے انہیں دستبردار ہونا پڑتا تھا لہذا وہ اکڑ بیٹھتے تھے، تیسری یہ کہ اگر وہ لا الہ الا اللہ کا دل سے اقرار کرتے تو انہیں اپنی چودھراہٹوں اور سرداریوں سے دستبردار ہو کر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنا پڑتا تھی۔ لہذا وہ اکڑ بیٹھتے تھے۔
Ayah 37:36

وَ یَقُوْلُوْنَ اَئِنَّا لَتَارِكُوْۤا اٰلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍؕ Open ayah 37:36 in the Quran reader

اور کہتے تھے : کیا ہم ایک دیوانہ شاعر 19 کی خاطر اپنے معبودوں کو چھوڑ سکتے ہیں ؟

19 شاعر اور نبی کا فرق :۔ تمام پیغمبروں کو اور اسی طرح رسول اللہ کو بھی شاعر اور مجنوں کے القابات سے نوازا جاتا رہا ہے۔ شاعر کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ فصیح اور منظوم زبان میں اپنے تخیل کی بلندی اور نکتہ آفرینی یوں پیش کرتا ہے کہ اس سے سننے والے پر عارضی اور وقتی طور پر ایک وجدانی سی کیفیت آجاتی ہے۔ قرآن کریم گو بحر اور اوزان سے مبرا ہے لیکن دل میں اتر جانے کے لحاظ سے اس میں شعر سے بھی زیادہ تاثیر پائی جاتی ہے۔ اسی وجہ مماثلت کی بنا پر آپ کو شاعر بھی کہا جاتا رہا ہے۔ حالانکہ شاعر اور نبی میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ شاعر کے کلام میں جب تک جھوٹ، مبالغہ اور غلو شامل نہ ہو اس میں کچھ دلکشی پیدا نہیں ہوتی۔ جبکہ اللہ کا کلام ایسی تمام بےہودگیوں سے پاک ہوتا ہے۔ شاعر کے تخیل کی پرواز کا میدان زندگی کا ہر اچھا یا برا پہلو ہوتا۔ ماحول کا تاثر اس کی طبیعت پر غالب رہتا ہے اور معاشرہ کی اکثریت چونکہ گمراہ ہوتی ہے لہذا اس کا تخیل بھی انہی راستوں پر پرواز کرتا ہے۔ جبکہ اللہ کے کلام کا بنیادی موضوع صرف ایک ہے اور وہ ہے انسان کو حکیمانہ اور ناصحانہ انداز میں ہدایت کی راہ دکھانا۔ مزید برآں شاعر کے قول اور فعل میں نمایاں تضاد ہوتا ہے جبکہ ایک پیغمبر جو کچھ کہتا ہے سب سے پہلے اس پر خود عمل کرکے دکھاتا ہے۔ پھر دوسروں کو دعوت دیتا ہے۔ خ مجنون اور نبی کا فرق :۔ پیغمبروں کو کفار اور بالخصوص وہ لوگ جو آخرت اور جزا و سزا کے منکر ہوتے ہیں دیوانہ اس لحاظ سے کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں مرنے کے بعد جی اٹھنا، اللہ کی عدالت میں پیش ہونا اور روز قیامت کے ہولناک مناظر اور جنت و دوزخ سب طلسماتی اور افسانوی قسم کی باتیں ہیں۔ لہذا وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے حواس ٹھکانے نہیں رہے۔ حالانکہ نبی ہر ایک کا ہمدرد، عہد کا پابند، پاکیزہ سیرت و کردار کا مالک ہوتا ہے۔ جبکہ دیوانوں کا نہ کوئی اخلاق ہوتا ہے نہ سیرت و کردار حتیٰ کہ وہ ساری ہی باتیں بہکی بہکی کرتے ہیں۔ اور لوگ ان کی دیوانہ وار حرکتوں سے خائف رہتے ہیں اور ان سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور کافروں کی ناانصافی یہ ہوتی ہے کہ ان کے زعم کے مطابق محض ایک وجہ مماثلت کی بنا پر پیغمبروں کو شاعر اور مجنوں کہہ دیتے ہیں جبکہ بیشمار پہلوؤں میں وہ شاعروں اور دیوانوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ اور ان کے دل ان سب باتوں کی گواہی بھی دیتے ہیں۔ مگر صرف پیغمبروں سے مخالفت کی بنا پر انہیں ایسے ناموزوں القابات سے نوازتے ہیں اور ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ بھلا ہم ایسے شاعروں اور دیوانوں کے کہنے پر اپنے معبودوں کو چھوڑ سکتے ہیں۔
Ayahs 37:37–40

بَلْ جَآءَ بِالْحَقِّ وَ صَدَّقَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 37:37 in the Quran reader

حالانکہ وہ (رسول) حق لے کر آیا اور اس نے رسولوں 20 کی تصدیق کی تھی

اِنَّكُمْ لَذَآئِقُوا الْعَذَابِ الْاَلِیْمِۚ Open ayah 37:38 in the Quran reader

(پھر انہیں کہا جائے گا) آج تمہیں یقینا درد ناک عذاب چکھنا پڑے گا۔

وَ مَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 37:39 in the Quran reader

اور تمہیں ایسا ہی بدلہ دیا جائے گا جیسے تم کام کرتے رہے

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:40 in the Quran reader

مگر اللہ کے مخلص بندے (اس انجام سے محفوظ رہیں گے)

20 بعُد زمانی کے باوجود مماثلت نبی کی تعلیم کے برحق ہونے کا ثبوت ہے :۔ رسول جو کچھ کلام پیش کرتا ہے وہ نہ طلسماتی باتیں ہیں اور نہ افسانے اور تمثیلی داستانیں ہیں بلکہ اس کی تعلیم ٹھوس حقائق پر مبنی ہے۔ نبی اپنے سے پہلے رسولوں کی بھی تصدیق کرتا ہے اور ان کی تعلیم کی بھی حالانکہ ان کے زمانہ میں سینکڑوں سال کی مدت حائل ہوتی ہے۔ اس بعد زمانی کے باوجود رسولوں کی تعلیم میں مماثلت ہی ان کی اور ان کی تعلیم کے حق ہونے کا بڑا قوی ثبوت ہے۔