Ayah 37:4121 جنت کے رزق کی خصوصیات :۔ یعنی وہ رزق جو کتاب و سنت میں جابجا مذکور ہے۔ مثلاً یہ کہ وہ ہر قسم کے اور آپس میں ملتے جلتے پھلوں پر مشتمل ہوگا۔ جبکہ ان کا مزا بالکل ایک دوسرے سے جداگانہ ہوگا۔ نیز انہیں ہر وہ چیز مہیا کی جائے گی جس کی وہ خواہش کریں گے۔ اس رزق کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ باعزت طور پر دیا جائے گا۔ ایک یہ ہے کہ وہ کبھی ختم نہ ہوگا نہ اس کا سلسلہ منقطع ہوگا۔ ایک یہ کہ جو زرق انہیں دیا جائے گا اسے اس دنیا میں پوری طرح سمجھا بھی نہیں جاسکتا کیونکہ ویسی چیزیں نہ کسی نے دیکھی ہیں، نہ سنی ہیں اور نہ کسی کے حاشیہ خیال میں آسکتی ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ رزق صرف لذت حاصل کرنے کے لئے کھایا جائے گا۔ بھوک لگنے کی بنا پر نہیں کھایا جائے گا۔ یعنی اس لئے نہیں کہ محنت مشقت کی وجہ سے بدن کے کچھ اجزاء تحلیل ہوچکے ہیں تو ان کی تلافی کے لئے یا اپنی زندگی کی بقا کے لئے وہ رزق کھایا جائے۔
Ayahs 37:42–4322 فواکہ کیسے پھل ہیں ؟ یہاں فواکہ کا لفظ آیا ہے اور فواکہ ایسے پھلوں کو کہتے ہیں جن سے لذت و سرور حاصل ہو۔ (مقاییس اللغۃ) اور اس لفظ کا اطلاق عموماً خشک پھلوں پر ہوتا ہے۔ اس سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ اہل جنت کو جو رزق دیا جائے گا وہ بطور غذا نہیں بلکہ لذت کے حصول کے لئے دیا جائے گا۔
Ayah 37:4423 آیت نمبر 42، 43، 44 میں (رزق کریم) یعنی باعزت طور پر روزی ملنے کی ہی تفصیل بیان کی گئی ہے۔
Ayahs 37:45–4624 کأس کا لغوی مفہوم :۔ کَأسٌ کا لفظ صرف شراب سے بھرے ہوئے پیالہ یا گلاس کے لئے مستعمل ہے، جسے ہماری زبان میں جام یا ساغر کہتے ہیں۔ دودھ یا پانی سے بھرے ہوئے پیالہ کو کَأسٌ نہیں کہہ سکتے اور اگر یہ پیالہ خالی ہو اور شیشے کا ہو تو اسے قَدْحٌ کہتے ہیں، چمڑے کا ہو توعَلْبۃٌ اور مٹی کا ہو تو مُوْکِنْ اور مَعِیْنٌ دراصل صاف شفاف نتھرے، خوش ذائقہ، میٹھے اور ٹھنڈے پانی کو کہتے ہیں۔ مگر جب معین کے ساتھ کأس کا لفظ آئے تو معین سے مراد یہی صفات رکھنے والی شراب ہوگی۔ کیونکہ کأس کا لفظ شراب کے بھرے ہوئے پیالہ کے لئے ہی مخصوص ہے۔
Ayah 37:4725 شراب کے تین نقصان اور ایک فائدہ :۔ دنیا میں جو شراب تیار کی جاتی ہے۔ وہ کچھ مخصوص پھلوں یا غلوں کو گلا سڑا کر اور ان میں خمیر اٹھا کر بنائی جاتی ہے۔ اور ایسی شراب میں تین نقص ہوتے ہیں اور ایک فائدہ ہوتا ہے۔ نقص یہ ہیں کہ وہ پینے کے بعد کڑوی محسوس ہوتی ہے، دوسرا یہ کہ وہ سر کو چڑھ جاتا ہے جس سے بعض دفعہ سر چکرانے لگتا ہے اور تیسرا یہ کہ اسی وجہ سے انسان بہکی بہکی باتیں کرنے لگتا ہے۔ اور نشہ زیادہ چڑھ جائے تو کئی طرح کے غلط کام بھی کر بیٹھتا ہے۔ شراب کے ساتھ اول فول بکنا اور فحاشی کے کام عموماً لازم و ملزوم بن جاتے ہیں اور اس کا فائدہ یہ ہے کہ پینے والے کو وقتی طور پر کچھ سرور حاصل ہوتا ہے۔ جنت میں اہل جنت کو جو شراب دی جائے گی وہ مندرجہ بالا تمام نقائص سے تو پاک ہوگی۔ مگر اپنی لطافت، پاکیزگی اور لذت کے لحاظ سے دنیا کی شرابوں سے بہت افضل ہوگی۔
Ayah 37:4826 قصر کا لغوی مفہوم : قَصَرَ کے معنی کسی چیز کی لمبائی یا اس کی انتہا کو نہ پہنچنا۔ نیز کم کرنا، چھوٹا کرنا، یا کوئی کام جتنا کرنا تھا اتنا نہ کرنا اور قصر الطرف یعنی جتنی دور نگاہ جاسکتی ہے اتنی دور تک نہ دیکھنا، یا نظر بھر کر نہ دیکھنا بلکہ صرف نیچے نظر رکھنا۔ اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کی اشیاء خوردونوش کے بعد ان کی عائلی زندگی کا ذکر فرمایا کہ انہیں عورتیں ایسی دی جائیں گی جو اپنے خاوندوں کے سوا کسی کو دیکھنے کی بھی روادار نہ ہوں گی۔
27 عین بمعنی آنکھ اور عیناء اس عورت کو کہتے ہیں جس کی آنکھیں بڑی اور موٹی موٹی ہوں اور عیناء کی جمع عین آتی ہے۔ موٹی آنکھیں چہرے کی خوبصورت کو دوبالا کردیتی ہیں۔ گویا اہل جنت کی عورتوں میں دوسری صفت یہ ہوگی کہ ان کی آنکھیں موٹی اور خوبصورت ہوں گی۔
Ayahs 37:49–5028 بیض کی مختلف تعبیریں :۔ اس آیت کی کئی تعبیریں کی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ ان کی رنگت سفید ہوگی یعنی گورے رنگ کی ہوں گی اور جلد بالکل بےداغ ہوگی۔ دوسری یہ کہ یہاں انڈوں سے مراد شتر مرغ کے انڈے ہیں جو نہایت خوش رنگ ہوتے ہیں۔ اور اس تعبیر کی تائید اس آیت سے بھی ہوجاتی ہے (کَأنَّھُنَّ الْیَاقُوْتُ وَالْمَرْجَانُ ) (55: 58) (یعنی اہل جنت کی عورتیں یاقوت اور مرجان کی طرح ہوں گی) اور تیسری تعبیر وہ ہے جو ماثور ہے۔ چناچہ سیدہ ام سلمہ ؓ نے جب اسی آیت کی تفسیر رسول اللہ سے پوچھی تو آپ نے فرمایا : کہ ان کی نرمی و نزاکت اس جھلیّ جیسی ہوگی جو انڈے کے چھلکے اور اس کے گودے کے درمیان ہوتی ہے (ابن جریر) اسی تعبیر کو معتبر سمجھ کر ترجمہ اس کے مطابق درج کیا گیا ہے۔ یہ اہل جنت کی عورتوں کی تیسری صفت ہوئی۔
Ayahs 37:51–5229 قرین ایسے ساتھی یا دوست کو کہتے ہیں جو اپنا ہم عمر ہو یا بہادری، قوت اور اسی طرح کے دیگر اوصاف میں ہمسر ہو اور اس لفظ کا استعمال عموماً برے معنوں میں ہوتا ہے۔
Ayah 37:5330 یعنی کیا تمہاری بھی ایسی مت ماری گئی ہے کہ تم اس قسم کے بعید از عقل باتوں کو تسلیم کرنے لگے ہو۔
Ayah 37:5431 یہ جملہ اللہ تعالیٰ کا کلام بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا۔ کہ جب اہل جنت آپس میں محو گفتگو ہوں گے اور ان میں سے ایک اپنے دنیادار ساتھی کی سرگزشت سنائے گا تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا : کیا تم اس کے حالات معلوم کرنا چاہتے ہو ؟ اور سرگزشت بیان کرنے والے کا اپنا کلام بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آؤ ذرا اس کا حال تو معلوم کریں۔
Ayahs 37:55–5632 عالم آخرت میں سمعی اور بصری قوتوں میں بےپناہ اضافہ :۔ اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عالم آخرت میں جو سمعی و بصری قوتیں عطا کی جائیں گی وہ اس دنیا کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہوں گی۔ ہم اس دنیا میں بھی ہزاروں میل دور بیٹھے آدمیوں کی آوازیں سنتے اور انہیں دیکھتے ہیں۔ مگر صرف ان لوگوں کی جو ٹیلیویژن سنٹر میں ہوتے ہیں اور براڈ کا سٹ کرتے ہیں۔ عالم آخرت میں ہر شخص دوسرے سے گفتگو کرسکے گا اور اسے دیکھ بھی سکے گا۔ خواہ یہ فاصلہ ہزاروں بلکہ لاکھوں میل کا ہو۔ اور کسی آلہ کے واسطہ کے بغیر سن اور دیکھ سکے گا۔
Ayahs 37:57–5933 سرگزشت بیان کرنے والا جب دوزخ کی طرف جھانکے گا تو اسے اس کا ساتھی دوزخ کے عین وسط میں پڑا دکھائی دے گا۔ اس وقت وہ اس سے کہے گا : ارے کم بخت ! اگر میں تیری باتوں میں آجاتا تو تو مجھے بھی اپنے ساتھ لے ڈوبتا اور میرا بھی وہی حشر ہوتا جو تمہارا ہو رہا ہے۔ یہ تو مجھ پر اللہ کی خاص مہربانی ہوئی جو میں تیرے بہکاوے میں نہ آیا اور اس عذاب سے بچ گیا ورنہ تو نے تو مجھے گمراہ کرنے میں کسر نہ چھوڑی تھی۔
Ayah 37:6034 یہ باتیں وہ اللہ تعالیٰ کے احسان کے شکر کے طور پر اپنے آپ سے کہے گا اور سنا دراصل اپنے دنیا دار ساتھی کو رہا ہوگا۔ تاکہ اس کی کوفت اور جلن میں مزید اضافہ ہو۔ یعنی عالم آخرت میں موت نہیں آئے گی۔ اہل جنت کے لئے یہی خبر انتہائی خوش کن ہوگی۔ جبکہ اہل دوزخ کے لئے یہی خبر انتہائی تکلیف دہ ہوگی۔
Ayah 37:6135 افضل اعمال کونسے ہیں ؟ درج ذیل دو احادیث میں ان اعمال کا ذکر ہے جنہیں رسول اللہ نے افضل الا عمال بتایا ہے :
1۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ صحابہ نے آپ سے پوچھا : کون سا عمل افضل ہے ؟ فرمایا : اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا صحابہ نے پوچھا : پھر کونسا ؟ فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد کرنا پھر پوچھا : اس کے بعد کون سا ؟ فرمایا : حج مبرور (بخاری۔ کتاب الایمان۔ باب من قال ان الایمان ھوالعمل)
2۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے آپ سے پوچھا : اللہ تعالیٰ کو کون سا کام سب سے زیادہ پسند ہے ؟ فرمایا : نماز کو اپنے وقت پر ادا کرنا میں نے پوچھا پھر کون سا کام ؟ فرمایا : ماں باپ سے اچھا سلوک کرنا میں نے پوچھا : پھر کون سا ؟ فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد کرنا آپ نے یہ تین باتیں بیان کیں اگر میں اور پوچھتا تو آپ اور زیادہ بیان فرماتے (بخاری۔ کتاب مواقیت الصلوٰۃ۔ باب فضل الصلٰوۃ لوقتھا)
Ayahs 37:62–6336 ایسی مہمانی سے مراد اہل جنت کی مہمانی ہے۔ جیسا کہ سابقہ آیات میں ان کی لذیذ خوراک، صاف اور پاکیزہ مشروب اور نہایت خوبصورت عورتوں کا ذکر کیا گیا ہے اور کفار مکہ سے پوچھا یہ جارہا ہے کہ آیا اہل جنت کی ایسی مہمانی بہتر ہے یا اہل دوزخ کی جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔
37 اہل جنت کی خوراک لذید پھل تھے اور اہل دوزخ کی خوراک تھوہر کا درخت ہوگا، جس کے پتے چوڑے اور خاردار ہوتے ہیں۔ بوناگوار اور ذائقہ کڑوا ہوتا ہے۔ اور اس میں سے جو سفید قسم کا سیال مادہ یا دودھ نکلتا ہے وہ اگر انسان کے جسم پر لگ جائے تو ورم ہوجاتا ہے۔
Ayah 37:6438 اللہ کی محیر العقول مخلوق :۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو کافروں نے خوب مذاق اڑایا کہ بھلا آگ میں درخت کیسے پیدا ہوسکتا یا برقرار رہ سکتا ہے۔ اور یہ اعتراض محض ان کی کم عقلی اور کم عملی کی بنا پر تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی صورتیں بعض دفعہ بڑی نرالی اور حیران کن ہوتی ہیں۔ مثلاً جس فصل کے اوپر سے پانی گزر جائے۔ خواہ وہ پانی سیلاب کا ہو اور زیادہ بارش کا وہ فصل برباد ہوجاتی ہے۔ پودوں اور درختوں کا بھی یہی حال ہے مگر سمندر کی تہہ میں درخت اگتے ہیں۔ پھر ایسی جمادات بھی ہیں جو درختوں کی طرح پھلتی پھولتی ہیں۔ اور ان کی نشوونما پانی میں ہوتی ہے۔ جیسے مرجان۔ اور یہاں تو آگ میں صرف تھوہر کا درخت یعنی نباتات اگنے کا ذکر ہے۔ جبکہ آگ میں جاندار بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔ جیسے آگ کا کیڑا سمندر جو آگ میں ہی زندہ رہ سکتا ہے۔
Ayahs 37:65–6639 شیطان کے مختلف مفہوم :۔ شیطان دراصل ہر بد روح کو کہتے ہیں جو اپنی سرکشی اور نافرمانی کی بنا پر حق سے دور ہوچکا ہو۔ اور جنوں میں سے جو خبیث، موذی اور بدکردار قسم کے جن ہوں انہیں ہی شیطان کہا جاتا ہے۔ پھر اس کا اطلاق ہر ایسی صفات رکھنے والی چیز پر ہونے لگا۔ خواہ وہ جن ہو یا انسان ہو یا کوئی جانور ہو۔ اور سانپ کو اس کی ایذا ہی کی وجہ سے شیطان کہتے ہیں۔ (منجد) اور اس معنی کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ جب تم گھر میں کوئی سانپ دیکھو تو اسے مارنے سے پہلے یہ کہہ دو کہ اگر وہ کوئی جن یا شیطان ہے تو چلا جائے۔ اگر پھر بھی نہ جائے تو اسے مار ڈالو۔ (مسلم۔ باب قتل الحیات، بخاری۔ کتاب بدء الخلق۔ باب قول اللّٰہ تعالیٰ و بث فیھا من کل دابۃ)
گویا اس آیت میں شیطان کے سر سے مراد سانپوں کے سر یا ناگ پھن ہیں۔ اور اس پودے کے شگوفے ایسے ہی ہوں گے اور یہ بھی ممکن ہے یہ تشبیہ محض بدصورتی کی بنا پر ہو جیسے ہم اپنی زبان میں بعض ان دیکھی چیزوں سے تشبیہ دے دیتے ہیں۔ جیسے وہ عورت ایسی خوبصورت ہے جیسے پری یا وہ ایسی بدصورت ہے جیسے چڑیل یا بھتنی یا ڈائن۔ حالانکہ پری، چڑیل، بھتنی یا ڈائن کو کسی نے بھی دیکھا نہیں ہوتا۔
Ayah 37:6740 یہ تو تھی دوزخیوں کی خوراک اور مشروبات کا یہ حال ہوگا کہ زخموں کا دھو ون جس میں پیپ اور لہو سب کچھ شامل ہوتا ہے وہ پینے کو ملے گا اور اس میں گرم کھولتا ہوا پانی بھی شامل کرلیا جائے گا۔
Ayahs 37:68–6941 اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دوزخی جب بھوک سے بےتاب ہوجائیں گے تو انہیں جہنم کے اس علاقہ کی طرف لے جایا جائے گا جہاں بہت سے تھوہر کے درخت اگے ہوئے ہوں گے۔ وہ بھوک کے مارے اسے کھانے کی کوشش کریں گے تو وہ حلق میں پھنس جائے گا۔ جس پر انہیں پانی کی طلب ہوگی تو پیپ ملا کھولتا پانی پینے کو دیا جائے گا اس طرح ان کی بھوک کا علاج کیا جاوے گا اس مہمانی کے بعد انہیں پھر ان کے اصل ٹھکانوں تک لے جایا جائے گا۔
Ayahs 37:70–7442 تقلید آباد کی مذمت :۔ انہوں نے یہ سوچنے کی زحمت گوارا ہی نہ کی کہ جو کچھ ان کے آباء و اجداد کرتے آرہے ہیں۔ وہ درست ہے یا غلط ہے۔ جس راہ پر انہیں چلتے دیکھا اسی پر دوڑنے لگے، کنواں کھائی کچھ نہ دیکھا اور اگر ان کے پاس رسول آئے تو انہیں بھی جھٹلا دیا۔ اور اپنی آبائی رسوم کی حمایت میں رسولوں کی مخالفت پر اتر آئے حالانکہ اگر وہ سابقہ اقوام کی روش سے اور ان کے انجام سے کچھ سبق حاصل کرنا چاہتے تو کرسکتے تھے۔
Ayahs 37:75–7643 نوح کی بددعا اور اس کی قبولیت :۔ سیدنا نوح نے ساڑھے نو سو سال اپنی قوم سے سر کھپایا۔ ان کو دلائل سے سمجھایا اور مختلف پیرایوں میں سمجھانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ مگر ان لوگوں نے ان کی ایک نہ مانی۔ الٹا ان کا مذاق اڑاتے اور ایذائیں پہنچاتے رہے۔ اس طویل عرصہ میں معدودے چند آدمی آپ پر ایمان لائے۔ پھر جب آپ اپنی قوم سے قطعی طور پر مایوس ہوگئے کہ اب باقی لوگوں میں سے کوئی بھی ایمان لانے والا نظر نہیں آتا اور سب میرے اور میرے ساتھیوں کے درپے آزار ہیں تو اس وقت آپ نے اللہ کے حضور فریاد کی کہ یا اللہ ! مجھے ان لوگوں نے دبا لیا ہے اب تو ہی ان سے بدلہ لے اور مجھے ان ظالموں سے نجات دے۔
44 یعنی ہم نے سیدنا نوح کی فریاد سنی تو ان کی فریاد رسی کردی۔ ان کی مصیبت کا ازالہ کردیا، انہیں ظالموں سے نجات دے دی۔ کیونکہ یہ بات ہمارے ذمہ ہے کہ حق و باطل کے معرکہ میں ہم ایمانداروں کی فریاد رسی کیا کرتے ہیں۔ اور انہیں ظالموں سے بچا لیتے ہیں۔
Ayah 37:7745 کیا نوح آدم ثانی ہیں ؟ یہاں صرف اتنا ہی مذکور ہے کہ طوفان نوح کے بعد نسل انسانی صرف نوح کے تین بیٹوں (حام۔ سام اور یا فث) سے چلی (اور چوتھا بیٹا یام کافر تھا جو طوفان میں غرق ہوگیا تھا) اور اس کی تائید ترمذی کی درج ذیل حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ سیدنا سمرہ سے روایت ہے کہ آپ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ نوح کے تین بیٹے تھے۔ حام سام یافث حام حبش کا باپ سام عرب کا اور یافث روم کا (ترمذی۔ ابو اب التفسیر) مگر بعض دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ طوفان نوح کے بعد نسل سیدنا نوح کی اولاد اور ان لوگوں کی اولاد سے چلی تھی جو کشتی میں آپ کے ساتھ سوار تھے۔ ( سورة بنی اسرائیل آیت نمبر 3) اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ پہلی آیت میں اجمال اور دوسری میں تفصیل ہے۔