37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتیسیر القرآن

Ayahs 37:118–120

وَ هَدَیْنٰهُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۚ Open ayah 37:118 in the Quran reader

اور انہیں راہ راست 70 پر چلایا

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِمَا فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 37:119 in the Quran reader

اور ان کا ذکر خیر پچھلی نسلوں میں چھوڑ دیا

سَلٰمٌ عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 37:120 in the Quran reader

موسیٰ اور ہارون پر سلام ہو۔

70 فرعون اور آل فرعون کی غرقابی کے بعد ہی طور سینا کے مقام پر سیدنا موسیٰ پر تورات نازل ہوئی۔ اس سے پیشتر سیدنا موسیٰ پر بھی صحیفے ہی نازل ہوتے رہے۔ تورات پہلی آسمانی کتاب ہے جس میں بنی اسرائیل کو زندگی سے متعلق واضح احکام دیئے گئے تھے۔ پھر اسی کتاب کی روشنی میں ان دونوں نبیوں نے بنی اسرائیل کی رہنمائی کی۔
Ayahs 37:121–124

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:121 in the Quran reader

ہم نیکو کاروں کو ایسے ہی صلہ 71 دیا کرتے ہیں۔

اِنَّهُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:122 in the Quran reader

وہ دونوں ہمارے ایماندار بندوں میں سے تھے۔

وَ اِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:123 in the Quran reader

اور الیاس بھی بلاشبہ رسولوں میں سے تھے

اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 37:124 in the Quran reader

جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا : کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں

71 یعنی ان دونوں نبیوں نے بھی راہ حق میں بیشمار قربانیاں دی تھیں۔ وہ اللہ کے حکم کے تحت اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر فرعون جیسے جابر اور ظالم فرمانروا کے پاس پہنچ گئے تھے۔ جبکہ سیدنا موسیٰ خود ان کے مجرم بھی تھے۔ پھر انہوں نے فرعون سے دعوت توحید کے بعد جو مطالبہ کیا تھا وہ بھی اسے سیخ پا کردینے والا تھا۔ اور وہ یہ تھا کہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کرکے انہیں ہمارے ہمراہ روانہ کردو۔ اور بنی اسرائیل کی نجات کے بعد انہوں نے اس بگڑی قوم کو سنوارنے کے لئے مقدور بھر کوششیں کی تھیں۔ ان کے ایسے ہی کارناموں کا صلہ ہم نے انہیں یہ دیا کہ رہتی دنیا تک انہیں بھلائی سے یاد کیا جائے۔ چناچہ یہود و نصاریٰ اور مسلمان ہی سب سے بڑی قومیں ہیں اور یہ سب سیدنا موسیٰ کو سچا نبی و روحانی پیشوا سمجھتے ہیں۔
Ayah 37:125

اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا وَّ تَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَۙ Open ayah 37:125 in the Quran reader

تم بعل 72 کو تو پکارتے ہو اور احسن الخالقین 73 کو چھوڑ دیتے ہو ؟

72 سیدنا الیاس کا مرکز تبلیغ اور بعل کی پرستش :۔ سیدنا الیاس، سیدنا ہارون کی اولاد سے ہیں۔ ان کا زمانہ نبوت نویں صدی قبل مسیح ہے۔ ان کا مرکز تبلیغ بعلبک نامی شہر تھا جو شام میں واقع تھا۔ آپ کی قوم بعل نامی بت کی پرستار تھی اور یہی بعل ہی ان کا دیوتا تھا۔ بعل کا لغوی معنی مالک، آقا، سردار اور خاوند ہے اور قرآن میں بعل کا لفظ متعدد مقامات پر خاوند کے معنوں میں استعمال ہوا ہے مگر قدیم زمانے میں سامی اقوام اس لفظ کو الٰہ یا خداوند کے معنوں میں استعمال کرتی تھیں۔ ان لوگوں نے ایک خاص دیوتا کو بعل (یعنی دوسرے دیوتاؤں یا معبودوں کا سردار) کے نام سے موسوم کر رکھا تھا۔ بابل سے لے کر مصر تک پورے شرق اوسط میں بعل پرستی پھیلی ہوئی تھی بنی اسرائیل جب فرعون سے نجات پاکر مصر سے فلسطین آکر آباد ہوئے اور ان لوگوں سے شادی بیاہ ہوئے تو یہ مرض ان میں بھی پھیل گیا۔ بعل کے نام کا ایک مذبح بھی بنا ہوا تھا جس پر قربانیاں کی جاتی تھیں۔ عوام تو درکنار فلسطین کی اسرائیل ریاست بھی بعل پرستی میں مبتلا ہوگئی تھی۔ 73 یعنی اللہ کے علاوہ خالق اور بھی ہوسکتے ہیں۔ مثلاً انسان میدہ، گھی اور چینی کی آمیزش اور ترکیب سے کئی قسم کی مٹھائیاں وجود میں لاتا ہے اور مادے کے خواص معلوم کرکے نت نئی قسم کی ایجادات کو وجود میں لاتا ہے۔ اسی طرح ایک مصنف چند کتابیں یا تحریریں سامنے رکھ کر ایک نئی کتاب کو وجود میں لاتا ہے۔ یہ سب تخلیقی کارنامے ہیں۔ مگر یہ سب کارنامے ایسے ہیں جن کا مواد پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی تخلیق نہ مادہ کی محتاج ہے نہ اس کے اوصاف کی کیونکہ مادہ میں وصف پیدا کرنے والا وہ خود ہے پھر اس کے تخلیقی کارنامے اس لحاظ سے انسان کی بساط سے باہر ہیں کہ وہ روح پھونک کر جیتی جاگتی اور نشوونما پانے والی اشیاء تیار کرتا ہے۔ پھر اس کے تخلیقی کارنامے ایسے ہیں جنہیں انسان کا بنانا تو درکنار انسان سمجھ بھی نہیں سکتا۔ مثلاً انسان کی اندرونی ساخت اور اس کے اعضاء وجوارح کے وظائف اور وہ قوتیں جو انسان میں رکھ دی گئی ہیں ایک آنکھ کے نور ہی کو لیجئے کہ وہ کیا چیز ہے اور کیسے پیدا ہوتا ہے اور اگر ضائع ہوجائے تو کیا کوئی بڑے سے بڑا ڈاکٹر اسے بحال کرسکتا ہے ؟ اب سب باتوں کا جواب نفی میں ہے۔ لہذا احسن الخالقین صرف اللہ کی ذات ہی ہوسکتی ہے۔
Ayahs 37:126–127

اللّٰهَ رَبَّكُمْ وَ رَبَّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 37:126 in the Quran reader

اس اللہ کو جو تمہارا اور تمہارے پہلے آباء و اجداد 74 کا پروردگار ہے ؟

فَكَذَّبُوْهُ فَاِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ Open ayah 37:127 in the Quran reader

مگر ان لوگوں نے انہیں جھٹلا دیا لہذا وہ سب (عذاب کے لئے) حاضر کئے جائیں گے

74 یعنی سیدنا الیاس نے ان کی توجہ اس طرف مبذول کرائی کہ یہ بعل دیوتا کا بت تو تم نے خود گھڑا ہے۔ یہ پتھر کا بےجان بت ہے جس کے خالق تم خود ہو۔ اس کی حفاظت بھی تم ہی کرتے ہو۔ پھر اسی کی عبادت بھی کرنے لگتے ہو۔ تمہیں چاہئے تو یہ تھا کہ اس کی عبادت کرتے جس نے تم کو بنایا ہے۔ پھر تمہیں صرف بنا ہی نہیں دیا بلکہ تمہاری پرورش بھی کرتا ہے۔ تمہارے آباء و اجداد کا بھی وہی خالق اور رازق ہے۔ ایسے بہترین خالق کو چھوڑ کر اپنے گھڑے ہوئے پتھر کے سامنے سربسجود ہوتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آتی۔
Ayahs 37:128–129

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:128 in the Quran reader

بجز اللہ کے مخلص بندوں 75 کے

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 37:129 in the Quran reader

اور پچھلی نسلوں میں اس کا ذکر خیر چھوڑ دیا

75 مگر بعل کے ان پرستاروں کو الیاس کی دعوت راس نہ آئی۔ انہوں نے اپنے نبی کی دعوت کو جھٹلا دیا اور اس کے در پے آزار ہوگئے۔ ایسے سب لوگوں کو ان کے گناہوں کی سزا مل کے رہے گی۔ اور اس سزا سے وہ لوگ بچے جو سیدنا الیاس پر ایمان لے آئے اور اللہ کے فرمانبردار بن کر رہے۔
Ayahs 37:130–134

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلْ یَاسِیْنَ Open ayah 37:130 in the Quran reader

الیاسین 76 پر سلام ہو

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:131 in the Quran reader

ہم نیکو کاروں کو ایسے ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:132 in the Quran reader

یقینا وہ ہمارے ایماندار بندوں میں سے تھے۔

وَ اِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:133 in the Quran reader

اور لوط بھی بلاشبہ ہمارے رسولوں میں سے تھے

اِذْ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 37:134 in the Quran reader

جب ہم نے انہیں اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی

76 الیاسین اور الیاس ایک ہی بات ہے :۔ الیاس اور الیاسین ایک ہی بات ہے۔ الیاسین بھی سیدنا الیاس ہی کا دوسرا نام ہے اور تلفظ کی ایسی کمی بیشی تقریباً سب زبانوں میں پائی جاتی ہے۔ قرآن میں اس کی دوسری مثال طور سینا ہے جسے سورة والتین میں سینین کہا گیا ہے۔
Ayah 37:135

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 37:135 in the Quran reader

سوائے ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں 77 میں سے تھی۔

77 سیدنا لوط اور ان کی قوم :۔ سیدنا لوط کی بیوی جو اپنے شوہر کی خائن تھی۔ اس کی تمام وفاداریاں مجرم قوم کے ساتھ تھیں۔ گھر میں کوئی مہمان آجاتا تو وہی ان مجرموں کو خفیہ اشارے کرتی تھی۔ ہجرت کے وقت سیدنا لوط کو خصوصی ہدایت تھی کہ وہ تمہارے ساتھ نہیں جائے گی۔ بلکہ مجرموں جیسا ہی اس کا بھی حشر ہوگا۔
Ayah 37:136

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:136 in the Quran reader

پھر باقی لوگوں کو ہم 78 نے تباہ کردیا

78 یعنی سدوم اور اس کے مضافات کا پورا علاقہ ہی بلندی پر لے جا کر اور الٹا کر زمین پر پٹخ دیا گیا اوپر سے پتھروں کی بارش برسائی گئی۔
Ayahs 37:137–139

وَ اِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْهِمْ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 37:137 in the Quran reader

اور تم تو ان (کی اجڑی 79 بستی) پر شب و روز گزرتے ہی رہتے ہو۔

وَ بِالَّیْلِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 37:138 in the Quran reader

پھر کیا تمہیں سمجھ نہیں آتی ؟

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:139 in the Quran reader

اور یونس بھی بلاشبہ رسولوں سے تھے

79 یہ علاقہ اس شاہراہ پر واقع تھا جہاں سے کفار مکہ کے تجارتی قافلے مکہ سے شام اور شام سے واپسی پر گزرتے تھے اور اس اجڑے ہوئے علاقہ کے تاریخی حالات بھی معلوم تھے۔ بسا اوقات دیکھتے بھی رہتے تھے۔ لیکن یہ سوچنے کی کبھی زحمت ہی گوارا نہ کرتے تھے کہ یہ علاقہ کیوں ہلاک کیا گیا تھا ؟ اور اگر ہم بھی اللہ کے نافرمان اور سرکش بن کر رہیں تو ہم پر بھی عذاب الٰہی نازل ہوسکتا ہے۔
Ayah 37:140

اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 37:140 in the Quran reader

جب وہ ایک بھری ہوئی کشتی کی طرف بھاگ 80 نکلے

80 سیدنا یونس کی بلا اذن الہٰی ہجرت :۔ اَبَقَ کا لفظ بالخصوص ایک غلام کا اپنے آقا کے ہاں سے بھاگ کھڑا ہونے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ سیدنا یونس بھی چونکہ اللہ کے حکم ہجرت کے بغیر اپنی قوم کے لوگوں سے بھاگ آئے تھے اس لئے یہ لفظ استعمال کیا گیا اس میں لطیف اشارہ یہ ہے کہ ہر شخص حتیٰ کہ ہر نبی بھی اپنے پروردگار کا ہمہ وقتی غلام اور بندہ ہوتا ہے۔
Ayah 37:141

فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ Open ayah 37:141 in the Quran reader

پھر قرعہ 81 ڈالا تو انہوں نے زک 82 اٹھائی۔

81 کشتی میں قرعہ اندازی :۔ سیدنا یونس اہل نینوا کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ بھاگ کر ساحل سمندر پر پہنچے تو دیکھا کہ کشتی کھچا کھچ بھری ہوئی ہے۔ آپ کے کہنے پر کشتی والوں نے آپ کو بھی سوار کرلیا، روانہ ہوئے ہی تھے کہ کشتی آگے بڑھنے کے بجائے چکر کھانے لگی۔ کشتی والوں نے اپنے تجربہ کی بنا پر کشتی پر سوار لوگوں سے کہا کہ ایسا معاملہ ہمیں اس وقت پیش آتا ہے جب کوئی بھاگا ہوا غلام کشتی پر سوار ہو۔ انہوں نے قرعہ ڈالا تو سیدنا یونس کے نام قرعہ نکلا۔ دوبارہ سہ بارہ قرعہ ڈالنے سے بھی سیدنا یونس ہی کا نام نکلا اور یہ سب کچھ اللہ کی مشیئت کے مطابق ہو رہا تھا۔ 82 سیدنا یونس مچھلی کے پیٹ میں :۔ چناچہ کشتی والوں نے سیدنا یونس کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دیا۔ ایک بہت بڑی وہیل مچھلی پہلے ہی منہ کھولے کھڑی تھی۔ اس نے فوراً سیدنا یونس کو ایک ہی لقمہ بنا کر نگل لیا۔ اس طرح سیدنا یونس جیتے جاگتے مچھلی کے پیٹ میں چلے گئے۔
Ayahs 37:142–143

فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ Open ayah 37:142 in the Quran reader

چناچہ مچھلی نے انہیں نگل لیا 83 اور وہ ملامت زدہ 84 تھے

فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ Open ayah 37:143 in the Quran reader

اب اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے

83 مُلِیْمٌکا معنی وہ شخص ہے جس کا ضمیر خود ہی ملامت کر رہا ہو کہ وہ واقعی مجرم ہے اور کوئی ملامت کرے یا نہ کرے۔ اور سیدنا یونس کو اپنی اجتہادی غلطی کا احساس بھاگنے کے فوراً بعد ہی ہوگیا تھا۔ اور قرعہ میں ہر بار آپ کا نام نکلنے پر اس کا یقین ہوگیا۔ 84 چناچہ آپ مچھلی کے پیٹ میں چلے جانے کے بعد اپنے پروردگار کے حضور توبہ استغفار میں مشغول رہنے لگے۔ مچھلی کے پیٹ کی تاریکیوں میں آپ کا وظیفہ یہ ہوتا تھا۔ (لاَاِلٰہَ الاَّ أنْتَ سُبْحَانَکَ إنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمیْن) َجیسا کہ سورة انبیاء کی آیت نمبر 87 میں مذکور ہے۔ اگر آپ یہ کلمات تسبیحات نہ پڑھتے رہتے تو ہمیشہ مچھلی کے پیٹ میں ہی رہتے یعنی اس کی غذا بن کر اس کے جسم میں تحلیل ہوجاتے۔
Ayahs 37:144–145

لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ Open ayah 37:144 in the Quran reader

تو تا روز قیامت مچھلی کے پیٹ 85 میں ہی پڑے رہتے

فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ Open ayah 37:145 in the Quran reader

پھر ہم نے انہیں ایک چٹیل میدان میں پھینک دیا جبکہ وہ بیمار تھے۔

85 مچھلی کے پیٹ سے باہر آنا :۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی توبہ و استغفار کو قبول فرمایا اور مچھلی کو حکم دیا کہ وہ انہیں ساحل کے کنارے پر پھینک دے۔ چناچہ مچھلی نے جیسے آپ کو نگلا تھا ویسے ہی صحیح وسالم ایک چٹیل میدان کے قریب اگل دیا۔ آپ اس وقت سخت نحیف و ناتواں تھے۔ جلد بھی بہت نرم و نازک بن گئی تھی۔ اس وقت آپ کی وہی حالت تھی جیسے ایک بچہ کی ماں کے پیٹ سے نکلنے کے بعد ہوتی ہے۔
Ayah 37:146

وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ Open ayah 37:146 in the Quran reader

اور ان پر ایک بیل دار 86 درخت اگا دیا

86 آپ کی رہائش اور خوراک کا بندوبست :۔ یَقْطِیْنٌکا اطلاق ہر اس پودے پر ہوتا ہے جس کا تنا نہ ہو مثلاً کدو، ککڑی، تربوز وغیرہ اور بالخصوص اس کا اطلاق پیٹھا کدو کی بیل پر ہوتا ہے۔ اور مفسرین کی اکثر رائے کے مطابق یہی پودا وہاں اگ آیا تھا۔ اس کے پتے چوڑے چوڑے ہوتے ہیں جو دھوپ وغیرہ سے سایہ کا کام دیتے ہیں۔ نیز کہتے ہیں کہ مکھی اس پودے کے نزدیک نہیں آتی۔ آپ کی خوراک کا اللہ تعالیٰ نے کیا انتطام فرمایا ؟ کتاب و سنت میں اس کی کوئی صراحت نہیں۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ روزانہ ایک ہرنی آتی جس کا آپ دودھ پی لیتے تھے۔ تاآنکہ چند دنوں میں آپ چلنے پھرنے کے قابل ہوگئے۔
Ayah 37:147

وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ Open ayah 37:147 in the Quran reader

اور (اس کے بعد) انہیں ایک لاکھ 87 یا اس سے زیادہ لوگوں کی طرف بھیجا

87 اللہ تعالیٰ نے آپ کو اسی قوم کے ہاں جانے کا حکم دیا۔ جس سے آپ بھاگ آئے تھے۔ ان کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی۔ انہوں نے جس آہ وزاری سے توبہ کی تھی اللہ نے ان کی توبہ قبول کرکے ان سے عذاب کو ٹال دیا تھا اور وہ کسی رہنمائی کرنے والے کے منتظر تھے۔ سیدنا یونس کو تلاش کرتے رہے۔ مگر وہ کہیں نہ ملے۔
Ayahs 37:148–149

فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ Open ayah 37:148 in the Quran reader

چناچہ وہ لوگ ایمان لے آئے تو ہم 88 نے انہیں کچھ مدت زندگی سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا۔

فَاسْتَفْتِهِمْ اَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ وَ لَهُمُ الْبَنُوْنَۙ Open ayah 37:149 in the Quran reader

آپ ان لوگوں سے پوچھئے : کیا آپ کے پروردگار کے لئے تو بیٹیاں ہوں اور ان کے لئے بیٹے ؟

88 سیدنا یونس کا اپنی قوم میں واپس آنا :۔ جب سیدنا یونس اپنی قوم کے پاس پہنچے تو وہ پہلے ہی آپ کے منتظر بیٹھے تھے۔ وہ فوراً آپ پر ایمان لے آئے۔ اور پھر سے ان پر اللہ تعالیٰ کے انعامات و اکرامات ہونے لگے۔ چونکہ اس واقعہ میں سیدنا یونس کے ایک کمزور پہلو کی نشاندہی ہوتی ہے۔ غالباً اسی لئے رسول اللہ نے یہ بتاکید فرما دیا کہ تمام انبیاء نبی ہونے کے لحاظ سے برابر ہیں اور کسی نبی کو دوسرے پر فضیلت نہیں۔ ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ مجھے یونس بن متیٰ پر فضیلت نہ دو اور دوسری حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ جس نے مجھے یونس بن متیٰ پر فضیلت دی اس نے جھوٹ بولا (مسلم۔ کتاب الفضائل۔ باب من فضائل موسیٰ ) دراصل یہ یونس کی ایک اجتہادی غلطی تھی۔ اور یہ ہر انسان حتیٰ کہ انبیاء سے بھی ممکن ہے۔ لیکن مقربین کی چھوٹی سی غلطی اور لغزش بھی اللہ کے ہاں بڑی اور قابل مواخذہ ہوتی ہے۔ اسی بنا پر انبیاء پر بھی اللہ کی طرف سے عتاب نازل ہوتا ہے۔
Ayahs 37:150–156

اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰٓئِكَةَ اِنَاثًا وَّ هُمْ شٰهِدُوْنَ Open ayah 37:150 in the Quran reader

یا ہم نے فرشتوں کو عورتیں 89 ہی پیدا کیا تھا اور یہ اس وقت موجود تھے ؟

اَلَاۤ اِنَّهُمْ مِّنْ اِفْكِهِمْ لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:151 in the Quran reader

یاد رکھو ! یہ لوگ جھوٹ گھڑ کر یہ بات کہتے ہیں

وَلَدَ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 37:152 in the Quran reader

کہ اللہ کی اولاد ہے اور یہ لوگ یقینا جھوٹے ہیں

اَصْطَفَى الْبَنَاتِ عَلَى الْبَنِیْنَؕ Open ayah 37:153 in the Quran reader

کیا اللہ نے بیٹوں کے بجائے بیٹیوں کو پسند کیا ؟

مَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 37:154 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوگیا۔ یہ تم کیسا فیصلہ کرتے ہو ؟

اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 37:155 in the Quran reader

کچھ بھی ہوش نہیں کرتے ؟

اَمْ لَكُمْ سُلْطٰنٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 37:156 in the Quran reader

یا تمہارے پاس کوئی صریح سند ہے ؟

89 قریش کا فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دینا :۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کی انکار آخرت کے علاوہ دوسری بڑی گمراہی کا ذکر فرمایا ہے۔ جو شرک فی الذات یا شرک کی سب سے بڑی اور بدترین قسم سے تعلق رکھتی ہے۔ یعنی وہ یہ سمجھتے تھے کہ اللہ بھی صاحب اولاد ہے۔ اور یہ اتنا بڑا گناہ ہے جس کے بارے میں بہت سخت الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ پھر اس عقیدہ میں بھی وہ کئی طرح کی بےانصافیاں کرتے تھے۔ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ پھر ان کے خیالی مجسمے اور بت بنا کر ان کی پوجا بھی کرتے تھے۔ ان میں تین مجسموں کا ذکر قرآن میں مذکور ہے۔ (1) لات یہ الٰہ کا مؤنث ہے یعنی لات کا استھان یا آستانہ طائف میں تھا اور بنی ثقیف اس کے معتقد تھے، (2) عزیٰ ۔ عزیز سے مونث ہے بمعنی عزت والی۔ یہ قریش کی خاص دیوی تھی اور اس کا آستانہ مکہ اور طائف کے درمیان وادی نخلہ میں حراص کے مقام پر واقع تھا، (3) منات کا آستانہ مکہ اور مدینہ کے درمیان بحراحمر کے کنارے قدید کے مقام پر واقع تھا۔ بنوخزاعہ، اوس اور خزرج اس کے معتقد تھے۔ گویا مشرکین عرب وہ بڑا ظلم ڈھاتے تھے ایک اللہ کی اولاد قرار دینے کا، دوسرے شریک بھی ایسے جنہیں وہ اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ جبکہ وہ اپنے لئے بیٹیوں کو کبھی پسند نہیں کرتے تھے۔ بلکہ انہیں زندہ درگور کردیتے تھے۔
Ayah 37:157

فَاْتُوْا بِكِتٰبِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 37:157 in the Quran reader

اگر تم سچے ہو تو ایسی 90 تحریر لا کر دکھاؤ

90 دعویٰ کے اثبات کے لئے دو طرح کے دلائل عینی شہادت اور نقلی دلیل :۔ کسی دعویٰ کو ثابت کرنے کے لئے دو طرح کے دلائل ہی کام دے سکتے ہیں۔ ایک عینی شہادت جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے مشرکین عرب سے پوچھا کہ جب ہم نے فرشتوں کو پیدا کیا تھا تو اس وقت تم موجود تھے اور یہ دیکھا تھا کہ انہیں عورتیں بنا کر پیدا کیا گیا ہے ؟ ظاہر ہے کہ مشرکین عرب کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا اور حقیقت یہ ہے کہ فرشتوں میں نرو مادہ کی تمیز ہے ہی نہیں اور دوسری دلیل کوئی نقلی دلیل بھی ہوسکتی ہے۔ یعنی کسی آسمانی کتاب میں یہ لکھا ہو کہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے عورتیں بنا کر پیدا کیا ہے اور وہ اس کی بیٹیاں ہیں۔ اگر مشرکین عرب کوئی ایسی تحریر بھی نہ دکھا سکیں تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ان کے عقائد من گھڑت لغو اور باطل ہیں۔