Ayahs 37:78–8246 یعنی رہتی دنیا تک سیدنا نوح کا نام بھلائی سے لیا جاتا رہے گا۔ چناچہ اس وقت دنیا میں جتنی بھی قومیں آباد ہیں۔ سب اپنا سلسلہ نسب سیدنا نوح سے ملاتی اور اس میں فخر محسوس کرتی ہیں۔ نیز اکثر اقوام انہیں اپنا مذہبی قائد تسلیم کرتی ہیں۔ حتیٰ کہ ایران کے مجوسی اور صابی بھی انہیں اپنا نبی تسلیم کرتے ہیں۔
Ayah 37:8347 شیعہ کا لغوی مفہوم :۔ یہاں لفظ شیعہ استعمال ہوا ہے۔ شیعہ ایسے فرقہ یا پارٹی کو کہتے ہیں جن کے عقائد آپس میں ملتے جلتے ہوں مگر دوسروں سے مختلف ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ توحید اور معاد کے بارے میں سیدنا ابراہیم کے بھی وہی عقائد تھے جو سیدنا نوح کے تھے۔ اور یہ تو واضح سی بات ہے کہ تمام انبیاء کی اصولی تعلیم ایک ہی جیسی رہی ہے۔ اور اسی اصولی تعلیم کا نام دین ہے۔
Ayahs 37:84–8648 یعنی اپنے معاشرہ، اپنے ماحول، اپنے گھر والوں سب قسم کے لوگوں کے عقائد و رسومات سے بالکل خالی الذہن ہو کر اپنے آپ کو اپنے پروردگار کے حوالے کردیا کہ جو کچھ تیری طرف سے ہدایت یا حکم ملے میں اسے بلاچوں و چرا تسلیم کروں گا اور سر تسلیم خم کر دوں گا۔
Ayahs 37:87–8949 سیدنا ابراہیم کی ستارہ پرست قوم :۔ سیدنا ابراہیم کا اصل وطن عراق کا شہر بابل تھا۔ یہ لوگ ستارہ پرست تھے۔ اور بالخصوص سات مشہور سیاروں سورج، چاند، زہرہ، عطارد، مشتری، مریخ اور زحل کی چال سے خوب واقف تھے۔ علاوہ ازیں یہ لوگ ان سیاروں کے انسانی زندگی پر اثرات کے بھی سختی سے قائل تھے۔ انہیں سیاروں کے الگ الگ مندر تعمیر کر رکھے تھے۔ ، جن میں ان سیاروں کے خیالی مجسمے یا بت رکھے جاتے تھے۔ وہ خود ہی زائچے تیار کرتے اور اس کے مطابق ان سیاروں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ان کے مجسموں کے سامنے نذریں نیازیں پیش کی جاتی تھیں۔ انہیں زائچوں کے ذریعہ وہ آئندہ سے متعلق اپنی اپنی قسمت کا حال معلوم کرتے تھے۔۔ ان کے ستاروں کے اثرات پر اعتقاد کا یہ حال تھا کہ ان میں ہر شخص زائچہ تیار کرنے کے بغیر بھی سیاروں کی چال پر غور کرکے اپنا پروگرام بناتا تھا۔ اس قدر مشرک تھی یہ قوم جس میں سیدنا ابراہیم مبعوث ہوئے تھے۔ انہوں نے جب بالکل خالی الذہن ہو کر اور یکسو ہو کر اپنے آپ کو اپنے پروردگار کے حوالہ کردیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت عطا فرمائی۔ اور سیدنا ابراہیم کو اپنی مکمل فرمانروائی اور ان سیاروں اور ان کے مجسموں کے بالکل بےاختیار اور مجبور محض ہونے کی حقیقت واضح کردی۔
خ دعوت توحید کا آغاز اپنے باپ سے :۔ چناچہ آپ نے توحید کی دعوت کا آغاز اپنے گھر سے کیا۔ سب سے پہلے باپ کو اس حقیقت سے روشناس کرایا وہ خود شاہی مندر کا پروہت، بت تراش اور بت فروش تھا وہ آپ کی اس نصیحت پر بگڑ بیٹھا تو آپ اپنی قوم کی طرف متوجہ ہوئے۔ آپ کا اپنے باپ اور اپنی قوم سے سوال یہ تھا کہ تم یہ بت اپنے ہاتھوں سے بناتے ہو پھر خود ہی انہیں خدائی اختیارات بانٹ دیتے ہو کہ فلاں سیارہ کی روح یا مجسمہ اگر ہم سے خوش رہے تو ہمیں مال و دولت زیادہ ملے گا۔ فلاں کی عبادت کی جائے تو علم نصیب ہوگا۔ اور فلاں کو خوش کیا جائے تو فصل بہت اچھی ہوگی۔ یہ سب اختیارات تو تم نے ان میں تقسیم کردیئے۔ اب بتاؤ کہ جس ہستی نے اس کائنات اور ان سیاروں کو پیدا کیا ہے اور اس کا ان پر کنٹرول ہے اس کے پاس بھی کوئی اختیار تم نے چھوڑا ہے یا نہیں ؟ کیا اب وہ بالکل بےبس ہوچکا ہے ؟ آخر اس کے متعلق تم کیا سمجھتے ہو ؟
Ayahs 37:90–9250 قوم ابراہیم اور جشن نوروز :۔ جب سورج برج حمل میں داخل ہوتا تو اس دن یہ قوم جشن نوروز مناتی تھی۔ اس پکنک کے لئے زور شور سے تیاریاں شروع ہوگئیں۔ علی الصبح لوگوں نے اچھے اچھے کھانے پکائے کچھ کھائے کچھ مندروں میں بتوں کے سامنے نیاز کے طور پر رکھ دیئے۔ اور نور کے تڑکے میلہ میں شمولیت کے لئے روانہ ہونے لگے تو سیدنا ابراہیم کو اس میں شمولیت کی دعوت دی بلکہ ساتھ لے جانے پر اصرار کیا۔ سیدنا ابراہیم ان کی بےہودگیوں میں قطعا شامل نہ ہونا چاہتے تھے۔ آپ کو فوراً ایک ترکیب سوجھی جو قوم کے مزاج کے موافق تھی۔ آپ نے ستاروں میں نظر ڈالی پھر کہنے لگے کہ میں تو آج بیمار ہونے والا ہوں۔ قوم نے اپنے اعتقاد کے مطابق اس عذر کو معقول سمجھا اور انہیں چھوڑنے پر رضا مند ہوگئے۔
Ayahs 37:93–9551 سیدنا ابراہیم کا بتوں کو توڑ پھوڑ دینا :۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ سیدنا ابراہیم کتنی مدت سے ایسے موقعہ کے منتظر تھے۔ ادھر قوم کے لوگ میلہ منانے چلے گئے ادھر آپ سب سے بڑے مندر کا دروازہ کھول کر اس میں داخل ہوگئے۔ بتوں کی طرف غصہ سے متوجہ ہو کر کہنے لگے۔ بدبختو ! تمہارے سامنے مٹھائیاں اور کھانے پڑے ہیں انہیں کھاتے کیوں نہیں ؟ کچھ بولو تو سہی، کچھ جواب تو دو ؟ ان بےجان پتھروں نے کیا جواب دینا تھا۔ اس پر سیدنا ابراہیم کو اور بھی زیادہ غصہ آیا۔ ایک کلہاڑا لیا۔ اور سب بتوں کو خوب جی بھر کے ضربیں لگانا شروع کیں۔ سب کو توڑ پھوڑ دیا۔ البتہ سب سے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔ اس کے کندھے پر کلہاڑا رکھ دیا تاکہ یہ معلوم ہو کہ یہ سب اس بڑے بت کی کارستانی ہے پھر مندر کا دروازہ بند کرکے باہر نکل آئے۔
Ayahs 37:96–9752 سیدنا ابراہیم سے قوم کا سوال و جواب :۔ میلہ سے واپسی پر قوم نے جب اپنے معبودوں کا یہ حشر دیکھا تو ان کا پارا بہت چڑھ گیا وہ پہلے ہی جانتے تھے کہ ہمارے بتوں کی مخالفت صرف ابراہیم ہی کرتا رہتا تھا اور وہ پیچھے بھی رہ گیا تھا۔ لہذا یہ اسی کا کارنامہ ہوسکتا ہے۔ چناچہ ان کے پاس دوڑتے آئے اور معبودوں سے اس طرح کی بدسلوکی کی وجہ پوچھی تو آپ نے کہا کہ بڑے بت سے کیوں نہیں پوچھتے۔ جس کے کندھے پر کلہاڑا ہے۔ شاید اس نے ہی اپنے چھوٹوں سے ناراض ہو کر ان کا یہ حشر کردیا ہو۔ پھر ساتھ ہی کہہ دیا کہ یہ پتھر کے بےجان جو اپنی حفاظت نہیں کرسکتے تمہارا کیا سنوار سکتے ہیں اور تم لوگ جو ان کی عبادت کرتے ہو اس کا فائدہ کیا ہے۔ پھر یہ بت تم نے خود ہی تراش رکھے ہیں علاوہ ازیں تم کو اور اس پتھر کو بھی اللہ نے پیدا کیا ہے اور یہ بت تو مخلوق در مخلوق کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور عبادت کی مستحق تو وہ ہستی ہوسکتی ہے جو خالق ہو۔ یہ مخلوق در مخلوق کیسے مستحق ہوسکتی ہے ؟
Ayah 37:9853 سیدنا ابراہیم کو آگ کے الاؤ میں پھینکنا :۔ سیدنا ابراہیم کے دلائل کا جواب تو کسی کے پاس تھا نہیں۔ لہذا وہ اوچھے ہتھیاروں پر اتر آئے اور کہنے لگے، اپنے معبودوں کے گستاخ کو ایسی قرار واقعی سزا دو جس سے دوسروں کو عبرت حاصل ہو۔ چناچہ بالاتفاق طے ہوا کہ ایک بہت بڑا الاؤ تیار کیا جائے اور اس میں سیدنا ابراہیم کو پھینک کر زندہ جلا دیا جائے۔ چناچہ ان لوگوں نے حسب تجویز بہت بڑا الاؤ تیار کیا اور سیدنا ابراہیم کو اس میں پھینک دیا۔ اللہ نے آگ کو حکم دیا کہ ابراہیم کو کسی قسم کا گزند نہ پہنچنے پائے۔ چناچہ آپ صحیح سلامت اس آگ سے باہر نکل آئے۔ اس طرح آپ تو اس بھاری آزمائش میں پوری طرح کامیاب ہوگئے اور قوم کو پہلے سے بھی زیادہ رسوا ہونا پڑا۔
Ayahs 37:99–10054 شام کی طرف ہجرت :۔ جب آپ کا باپ اور آپ کی ساری قوم آپ کی جانی دشمن بن گئی تو آپ نے ترک وطن کا فیصلہ کرلیا کہ اب یہاں سے نکل جانا ہی بہتر ہے۔ نکلتے وقت یہ بھی معلوم نہ تھا کہ کہاں جانا ہے۔ فقط اتنا کہا کہ میں اللہ کی خاطر ہجرت پر روانہ ہوا ہوں۔ مجھے کہاں جانا چاہئے یہ بات میرا پروردگار مجھے خود ہی بتائے گا اور میری رہنمائی فرمائے گا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو شام کی طرف جانے کا حکم ہوا اور آپ اپنی بیوی اور بھتیجا یا چچا زاد بھائی سیدنا لوط سمیت شام کی طرف چلے گئے اس وقت تک صرف سیدنا لوط ہی آپ پر ایمان لائے تھے۔ اور آپ کی اس وقت تک کوئی اولاد بھی نہ تھی۔
Ayah 37:10155 سیدنا اسماعیل کی بشارت :۔ آپ گھر بار اور عزیز و اقارب چھوڑ کر شام کے علاقہ میں آئے۔ کافی عمر ہونے کے باوجود ابھی تک اولاد نہ تھی لہذا اللہ سے دعا کی کہ مجھے ایک صالح بیٹا عطا فرما جو میرے گھر کی رونق بنے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس بیٹے کی بشارت دی اس کی نمایاں صفت حلیم تھی اور اس صفت میں سیدنا اسماعیل کے قربانی کے واقعہ اور اس موقع پر ان کے بردبار ہونے کی طرف لطیف اشارہ پایا جاتا ہے۔
Ayah 37:10256 بیٹے کو ذبح کرنے کے متعلق خواب :۔ سیدنا اسماعیل جب اس عمر کو پہنچے جب وہ اپنے باپ کے کاموں میں ان کا ہاتھ بٹاسکتے تھے تو سیدنا ابراہیم کو ایک اور بہت بڑی آزمائش میں ڈالا گیا۔ آپ کو تین راتیں مسلسل خواب آتا رہا جس میں آپ دیکھتے تھے کہ آپ اسی بیٹے کو جسے آپ نے اللہ سے دعا کرکے لیا تھا اور جو آپ کے بڑھاپے میں آپ کا سہارا بن رہا تھا، ذبح کررہے ہیں چناچہ آپ نے سمجھ لیا کہ یہ اللہ کی طرف سے حکم ہے۔
57 بیٹے سے سوال :۔ چناچہ سیدنا ابراہیم نے اپنے نوجوان بیٹے کو یہ خواب بتا کر ان کی رائے دریافت کی۔ آپ نے یہ رائے اس لئے دریافت نہیں کی تھی کہ اگر بیٹا اس بات پر آمادہ نہ ہو یا وہ انکار کردے تو آپ اللہ کے اس کے حکم کی تعمیل سے باز رہیں گے بلکہ اس لئے پوچھا تھا کہ آیا یہ فی الواقع صالح بیٹا ثابت ہوتا ہے یا نہیں ؟ کیونکہ آپ نے جو دعا کی تھی وہ صالح بیٹے کے لئے کی تھی۔
58 خنبی کا خواب وحی ہوتا ہے :۔ اس سے معلوم ہوا کہ خواب سن کر سیدنا اسماعیل بھی اسی نتیجہ پر پہنچے تھے کہ اللہ کا حکم ہے جس سے یہ نتیجہ مستنبط ہوتا ہے کہ نبی کا خواب بھی وحی ہوتا ہے اور اس کی تائید بعض دوسری آیات اور احادیث سے بھی ہوجاتی ہے۔
59 بیٹے کی بےمثال فرمانبرداری :۔ سیدنا اسماعیل اس قدر خندہ پیشانی اور فراخ دلی سے قربان ہونے کو تیار ہوگئے جس کی دوسری کوئی مثال دنیا میں مل نہیں سکتی وہ ایک نہایت صالح اور انتہائی فرمانبردار بیٹے ثابت ہوئے۔ کیونکہ بیٹے کی قربانی دینے کا حکم تو باپ کو ہوا تھا۔ بیٹے کو قربان ہوجانے کا حکم نہیں ہوا تھا۔ بیٹے نے اپنے والد کا فرمان بلاچون وچرا تسلیم کرکے اپنے والد کی بھی انتہائی خوشنودی حاصل کرلی اور اپنے پروردگار کی بھی۔
Ayahs 37:103–10460 قربانی کا منظر :۔ سیدنا ابراہیم نے اپنے بیٹے کو پیشانی کے بل اس لئے لٹایا کہ کہیں پدرانہ شفقت تعمیل حکم الٰہی میں آڑے نہ آجائے۔ اور چھری چلاتے وقت ہاتھ میں لغزش نہ واقع ہو۔ منہ کے بل لٹانے سے نہ بیٹے کا چہرہ نظر آئے گا نہ پدرانہ جذبات برانگیختہ ہوں گے۔ کہتے ہیں کہ سیدنا اسماعیل نے اسی مصلحت کے پیش نظر خود اپنے والد محترم کو ایسا مشورہ دیا۔
Ayah 37:10561 باپ بیٹے کا امتحان میں سرفراز ہونا :۔ جب باپ اور بیٹا دونوں نے اللہ کی فرمانبرداری کی بےنظیر مثال قائم کردی تو اس وقت رحمت الٰہی جوش میں آگئی۔ اور فوراً سیدنا ابراہیم پر وحی ہوئی کہ بس بس اس سے زیادہ کچھ نہ کرو۔ ہمیں تو صرف تمہارا امتحان لینا مقصود تھا۔ اور وہ ہوچکا جس میں تم پوری طرح کامیاب اترے ہو۔ ہمارا یہ مقصود ہرگز نہ تھا کہ تم فی الواقع بیٹے کو ذبح کر ڈالو۔ واضح رہے کہ سیدنا ابراہیم نے جو خواب دیکھا تھا وہ یہ تھا کہ میں ذبح کر رہا ہوں یہ نہیں دیکھا تھا کہ میں نے ذبح کردیا ہے اور جتنا خواب آپ نے دیکھا تھا اتنا کام ہوچکا تو آگے ذبح کردینے سے اللہ تعالیٰ نے روک دیا۔
62 یعنی ہمارا دستور ہے کہ ہم نیکو کار لوگوں کو آزمائش میں ڈالتے ہیں پھر جب وہ اس آزمائش میں پورے اترتے ہیں، تو ان کے درجات بلند کرتے ہیں۔ ان کو فضیلت عطا کردیتے ہیں۔ پھر جس آزمائش میں ہم انہیں ڈالتے ہیں اس سے نکلوا بھی دیتے ہیں۔ جیسے سیدنا ابراہیم کو آگ کی آزمائش میں ڈالا وہ وہاں سے سلامت نکال بھی لائے اور ان کا مرتبہ بھی بلند کیا اسی طرح بیٹے کی قربانی کی آزمائش میں ان کے بیٹے کو بھی بچا لیا اور درجات بھی بلند کئے۔
Ayah 37:10663 بھلا جس آزمائش کے متعلق اللہ تعالیٰ خود فرمائیں کہ وہ ایک بہت بڑی آزمائش تھی اس کے بڑی آزمائش ہونے میں کیا شک کیا جاسکتا ہے۔ اور اس کا تصور یوں کیا جاسکتا ہے ایک بوڑھا باپ ہو جس کا ایک ہی نوجوان بچہ ہو۔ وہی اس کا سہارا ہو اور اسے بھی اس نے اللہ سے دعائیں کر کر کے لیا ہو۔ پھر اسے اضطراری موت نہ آئے بلکہ اس باپ سے کہا جائے کہ میری راہ میں قربان کردو تو اس کے دل پر کیا گزرتی ہے۔
Ayahs 37:107–10964 بیٹے کی قربانی کا فدیہ :۔ یہ ذبح عظیم ایک سینگ دار مینڈھا تھا جسے فرشتوں نے عین موقع پر لاکر حاضر کردیا اور کہا تھا کہ بیٹے کی جگہ اسے قربان کردو۔ یہی جانثار بیٹے کا فدیہ تھا جسے اللہ نے بھیجا تھا۔ اس لحاظ سے یہ عظیم قربانی تھی اور اس کے عظیم ہونے کی دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ قیامت تک کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ سنت جاری کردی کہ اسی تاریخ کو دنیا بھر کے اہل ایمان جانور قربان کریں۔ اور وفاداری اور جان نثاری کے اس عظیم واقعہ کی یاد تازہ کرتے رہیں۔
خ ذبیح اللہ سیدنا اسماعیل تھے یا سیدنا اسحاق (علیہما السلام) :۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ذبیح اللہ سیدنا اسماعیل نہیں بلکہ سیدنا اسحاق تھے۔ ان کا نظریہ درج ذیل وجوہ کی رو سے درست معلوم نہیں ہوتا۔
1۔ اسی سورة میں پہلے سیدنا ابراہیم کے اس بیٹے کا ذکر آیا جو فی الواقع ذبیح اللہ تھے اور اس کے بعد سیدنا اسحاق (علیہ السلام) کا ذکر اسی سورة کی آیت نمبر 112 میں آرہا ہے۔
2۔ جب سیدنا اسماعیل کی بشارت دی گئی تو اس کے ساتھ حلیم کی صفت مذکور ہے۔ اور اس کا تعلق قربانی سے ہے۔ اور جب سیدنا اسحاق کی بشارت دی گئی تو اس کے ساتھ صفت علیم ذکر کی گئی (15: 53، 51: 28) اور اس صفت کا قربانی سے کچھ تعلق نہیں۔ نیز جب سیدنا اسحاق کی بشارت دی گئی تو ساتھ ہی یہ بتادیا گیا کہ اسحاق کے بعد ان کا بیٹا یعقوب بھی پیدا ہوگا۔ (11: 71) اور ظاہر ہے جس بیٹے کے پوتے کی بھی بذریعہ وحی بشارت دی جاچکی ہو اس کے متعلق نوجوانی میں ہی قربانی کی وحی آنا محال ہے۔ کیونکہ پوتے کی بشارت پہلے دی جاچکی تھی۔
3۔ تورات میں یہ تصریح موجود ہے کہ سیدنا ابراہیم کو اپنے اکلوتے اور محبوب بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا اور یہ بھی مسلم ہے کہ سیدنا اسمٰعیل، سیدنا اسحاق سے عمر میں بڑے تھے پھر سیدنا اسحاق سیدنا اسماعیل کی موجودگی میں اکلوتے کیسے ہوسکتے ہیں ؟
4۔ قربانی کی یادگار اور اس سے متعلقہ رسوم بنی اسرائیل میں بطور وراثت مسلسل منتقل ہوتی چلی آئی ہیں حتیٰ کہ دور نبوی میں بھی موجود تھیں۔ یہ بات بھی اس بات کی قوی دلیل ہے کہ ذبیح اللہ سیدنا اسماعیل تھے نہ کہ سیدنا اسحاق علیہ السلام۔
5۔ احسان کا وسیع مفہوم :۔ قربانی اور اس سے متعلقہ رسوم مثلاً سعی صفا ومروہ وغیرہ کا تعلق مکہ سے ہے۔ اور یہ سیدنا اسماعیل کا وطن تھا۔ سیدنا اسحاق کا اصل وطن ملک شام تھا۔
Ayahs 37:110–11165 مُحْسِنِیْنَ کا ترجمہ اردو میں ایک دو لفظوں میں ادا کرنا بہت مشکل ہے۔ لہذا عموماً اس کا ترجمہ نیکی کرنے والے یا نیکو کار کردیا جاتا ہے۔ إحْسَانٌ کا مطلب دراصل کسی کام کو بہتر سے بہتر طریق پر سرانجام دینا ہے۔ جیسا کہ حدیث جبریل سے واضح ہوتا ہے کہ جب سیدنا جبریل نے آپ سے یہ سوال کیا کہ إحْسَانٌ کیا چیز ہے۔ تو اس کے جواب میں آپ نے فرمایا : تو اللہ کی عبادت ایسے کرے جیسے تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر یہ نہ ہوسکے تو کم از کم اتنا تو سمجھے کہ وہ تجھے دیکھ رہا ہے (متفق علیہ) اور احسان میں کم از کم تین باتوں کا ہونا ضروری ہے (1) جو کام کیا جائے پوری خلوص نیت سے اور رضائے الٰہی کے لئے کیا جائے۔ (2) حکم کی تعمیل محض اطاعت کے جذبہ سے نہ ہو بلکہ اس میں مطاع کی محبت کا جذبہ بھی شامل ہو۔ اور (3) کام کے آداب و ارکان کو اس طریقہ پر سرانجام دیا جائے جو بہتر سے بہتر ہوسکتے ہیں۔
اور سیدنا ابراہیم نے چونکہ ہر کام احسان کے ساتھ کیا تھا۔ لہذا اللہ نے دنیا میں انہیں دو طرح سے بدلہ دیا ایک یہ کہ رہتی دنیا تک ان پر سلامتی کی دعائیں کی جایا کریں۔ جیسا کہ ہم ہر نماز میں رسول اللہ کے ساتھ سیدنا ابراہیم اور ان کی آل پر بھی درود وسلام کی دعا کرتے ہیں اور دوسرے یہ کہ اکثر مذاہب والے انہیں اپنا روحانی پیشوا تسلیم کرتے ہیں۔ ان سے نسبت جوڑنے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور ان کا ذکر اچھے الفاظ میں ہی کرتے ہیں۔
Ayah 37:11266 معلوم ہوا کہ پہلی خوشخبری کا تعلق سیدنا اسماعیل سے ہی ہے۔ اور قصہ ذبح کا تعلق انہی سے ہے۔ اس کے بعد دوسری بار سیدنا ابراہیم کو سیدنا اسحاق کی خوشخبری دی گئی۔
Ayah 37:11367 ذُرِّیَّتِھِمَا میں تثنیہ کی ضمیر سیدنا ابراہیم اور سیدنا اسماعیل کی طرف بھی راجع ہوسکتی ہے اور سیدنا اسماعیل اور سیدنا اسحاق کی طرف بھی۔ جن سے دو بڑی قومیں پیدا ہوئیں۔ ایک بنی اسماعیل اور دوسرے بنی اسرائیل۔ بنو اسماعیل میں صرف نبی آخر الزمان مبعوث ہوئے جبکہ بنی اسرائیل میں بیشمار انبیاء پیدا ہوئے۔ اور اچھے اور برے لوگ ان دونوں قوموں میں موجود رہے۔
Ayahs 37:114–11568 یعنی انہیں نبوت عطا فرمائی۔ معجزات بھی دیئے اور اپنی مدد کا وعدہ دے کر انہیں فرعون کے پاس بھیجا تاکہ وہ اپنی قوم کو فرعون کی غلامی اور طرح طرح کی تکلیفوں سے نجات دلائیں۔
Ayahs 37:116–11769 مصر میں بنی اسرائیل کی حالت زار :۔ مصر میں بنی اسرائیل کی حالت ہندوستان کے شودروں سے بھی بدتر تھی۔ وہ صرف ایک محکوم قوم ہی نہ تھے۔ بلکہ ذلیل اور رسوا بھی سمجھے جاتے تھے۔ آل فرعون ان سے طرح طرح کی بیگار بھی لیتے تھے۔ پھر ان کی نسل کو ختم ہی کردینے کے درپے ہوگئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کی مدد صرف یہی نہیں کی کہ ان کے پنجے سے انہیں نجات دلائی بلکہ ان کے سامنے اس ظالم کو سمندر میں غرق کرکے نیست و نابود بھی کردیا۔