38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 38:41

وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ Open ayah 38:41 in the Quran reader

اور ہمارے بندے ایوب کا ذکر کیجئے۔ جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ : شیطان 47 نے مجھے سخت تکلیف اور عذاب میں ڈال دیا ہے

47 برے ایمان کی نسبت شیطان کی طرف :۔ ہر مسلمان کے عقیدہ میں یہ بات شامل اور اس کے ایمان بالغیب کا ایک جزء ہے کہ رنج ہو یا راحت، برائی ہو یا بھلائی سب کچھ اللہ کی مشیئت کے تحت ہوتا ہے۔ لیکن اس مشیئت کا انحصار بھی بعض دفعہ انسان کے اپنے قصور یا شیطانی وساوس سے کسی نہ کسی درجہ میں ضرور ہوتا ہے۔ اور قرآن کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جن امور میں کوئی پہلو شر کا یا ایذا یا کسی صحیح مقصد کے فوت ہوجانے کا ہو ان کو اللہ کے مقرب بندے ادب کے نقطہ نظر اور تواضع کی خاطر کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کرتے بلکہ اسے اپنے نفس یا شیطان کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ جیسے سیدنا ابراہیم نے اپنے مرض کو اپنی طرف منسوب کیا۔ سیدنا موسیٰ کے ساتھ یوشع بن نون نے مچھلی کے سمندر میں چلے جانے کی بات کو شیطان کی طرف منسوب کیا، اسی طرح ایوب نے بھی اپنی بیماری اور تکلیف کو شیطان کی طرف منسوب کیا ہے اور اس کا مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ سیدنا ایوب طویل بیماری اور تکلیف کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی صحیح طور پر عبادت گزاری سے قاصر رہے تھے تو اس قصور کا باعث شیطانی وساوس کو قرار دیا ہو۔
Ayah 38:42

اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ Open ayah 38:42 in the Quran reader

(تو ہم نے انہیں حکم دیا کہ) اپنا پاؤں (زمین پر) مارو۔ یہ ہے ٹھنڈا پانی نہانے 48 کے لیے اور پینے کے لیے

48 سیدنا ایوب کا واقعہ پہلے سورة انبیاء کی آیت نمبر 83، 84 کے حواشی میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔ وہ ملاحظہ کرلیے جائیں۔
Ayah 38:43

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 38:43 in the Quran reader

اور ہم نے انہیں ان کے اہل و عیال عطا کئے اور اپنی مہربانی سے ان کے ساتھ اتنے اور بھی دیئے 49 اور یہ اہل عقل و خرد کے لئے ایک نصیحت 50 ہے۔

49 اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کی جو بیویاں اور بچے بیماری کی حالت میں آپ کا ساتھ چھوڑ گئے وہ واپس آگئے۔ پھر اللہ نے مزید اولاد بھی عطا فرما دی۔ اور یہ بھی سب کچھ اللہ تعالیٰ نے نئے سرے سے عطا فرمایا ہو، اولاد بھی اور مال و دولت بھی اور جس معجزانہ طریقے سے اللہ نے آپ کو مال و دولت عطا فرمایا اس کا اندازہ کچھ درج ذیل حدیث سے بھی ہوتا ہے۔ سیدنا ایوب پر اللہ کے انعامات :۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ جب ایوب ننگے نہا رہے تھے تو آپ پر سونے کی ٹڈیوں کی بارش ہوئی جنہیں آپ اپنے کپڑے میں اکٹھا کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں پکارا کہ اے ایوب ! کیا میں نے تمہیں ان ٹڈیوں سے بےنیاز نہیں کردیا ؟ انہوں نے عرض کیا، ٹھیک ہے لیکن اے پروردگار ! میں تیری برکت سے کیسے بےنیاز ہوسکتا ہوں (بخاری۔ کتاب التوحید۔ باب یریدون ان یبدلوا کلام اللہ) نیز کتاب الغسل۔ باب من اغتسل عریانا) 50 صبر ایوب :۔ وہ نصیحت یہ ہے کہ ہر ایماندار اور صاحب عقل کو چاہئے کہ وہ خوشحالی کے دور میں اللہ کا شکر ادا کرے اور اگر ابتلا میں پڑجائے اور اس پر تنگی ترشی کا دور آئے تو سیدنا ایوب کی طرح صبر کا مظاہرہ کرے۔ اس طرح عین ممکن ہے کہ جس طرح سیدنا ایوب پر اللہ تعالیٰ نے انعامات کی بارش فرمائی تھی۔ اللہ تعالیٰ اسے بھی اپنے ایسے ہی انعامات سے نواز دے۔
Ayah 38:44

وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:44 in the Quran reader

اور (ہم نے انہیں کہا کہ) اپنے ہاتھ میں تنکوں 51 کا ایک مٹھا لے، اس سے مار لو اور قسم نہ توڑ۔ ہم نے ایوب کو صابر پایا، بہترین بندے جو ہر وقت (اپنے پروردگار کی طرف) رجوع کرنے والے ہیں۔

51 سیدنا ایوب کا اپنی بیوی کو سزا دینا :۔ آپ کی طویل بیماری (جو صحیح روایات کے مطابق 13 سال پر محیط ہے) کے دوران آپ کی سب بیویاں اور اولاد آپ کا ساتھ چھوڑ گئے تھے۔ کیونکہ تنگدستی بھی تھی اور بیماری بھی۔ آپ کی صرف ایک بیوی نے اس طویل عرصہ میں آپ کا ساتھ دیا۔ اس بیوی نے بھی ایک دن کوئی ایسی بات کہہ دی جس سے اللہ کی ناشکری ظاہر ہوتی تھی۔ سیدنا ایوب کو بیوی کی اس بات پر طیش آگیا اور کہنے لگے کہ جب میں تندرست ہوگیا تو تمہاری اس ناشکری کی بات کی پاداش میں تمہیں سو لکڑیاں ماروں گا۔ اب یہ تو ظاہر بات ہے کہ ہر دکھ درد میں آپ کی شریک بیوی سے اگر کوئی ایسی بات نکل بھی گئی ہو تو وہ اتنی قصور وار نہ تھی کہ اسے سو لکڑیاں ماری جائیں۔ یہ تو صرف سیدنا ایوب کی غیرت ایمانی کا تقاضا تھا اور اللہ تعالیٰ تو ہر ایک کو اس کی وسعت کے مطابق ہی تکلیف دیتا ہے۔ چناچہ سیدنا ایوب تندرست ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے خود انہیں تدبیر بتائی کہ ایک جھاڑو لو جس میں سو تنکے ہوں۔ اس سے بس ایک ہی معمولی سی ضرب لگاؤ۔ اور اس طرح اپنی قسم پوری کرلو۔ اس طرح سیدنا ایوب کی قسم بھی پوری ہوگئی اور اس وفادار بیوی پر اللہ کی مہربانی کا تقاضا بھی پورا ہوگیا۔ خ شرعی حیلہ کس صورت میں جائز ہے :۔ یہاں ایک بحث یہ چل نکلی ہے کہ آیا شرعاً حیلہ کرنا جائز ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر اپنی ذات سے یا کسی دوسرے سے ظلم کو دفع کرنا مقصود ہو تو اس وقت شرعاً حیلہ کرنا جائز ہے اور اس کی دلیل ایک تو یہی آیت ہے۔ دوسرے اللہ تعالیٰ نے سیدنا یوسف کو خود ایسی تدبیر بتائی تھی کہ جس سے ان کا چھوٹا بھائی بنیامین اپنے سوتیلے بھائیوں کے ظلم و ستم سے محفوظ رہے اور تیسرے درج ذیل حدیث بھی یہ وضاحت کرتی ہے : سعید بن سعد بن عبادہ کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ (یعنی سعید راوی کے باپ) ایک ناقص الخلقت بیمار شخص کو پکڑ کر رسول اللہ کے پاس لائے کہ وہ محلہ کی لونڈیوں میں سے کسی کے ساتھ زنا کر رہا تھا۔ آپ نے فرمایا : کھجور کی ایک بڑی ٹہنی پکڑ کر جس میں سو چھوٹی ٹہنیاں ہوں اور ایک مرتبہ اس کو مارو (شرح السنہ بحوالہ مشکوٰۃ۔ کتاب الحدود الفصل الثانی) اور یہ حیلہ آپ نے اس لئے اختیار کیا کہ وہ سو درے کھانے کی تاب نہ رکھتا تھا۔ اور اس صورت میں اس کا مرجانا یقینی امر تھا۔ رہے ایسے حیلے جن سے کوئی شرعی حکمت یا مقصد فوت ہو رہا ہو تو ایسے حیلے قطعاً ناجائز بلکہ حرام ہیں جیسے زکوٰۃ کو ساقط کرنے کے لئے یہ حیلہ کرنا کہ سال پورا ہونے سے پہلے مال کا کچھ حصہ کسی دوسرے کو ہبہ کردیا جائے پھر سال گزرنے پر اس سے وہی چیز اپنے حق میں ہبہ کرالی جائے۔ یا کسی عورت کو جبراً اپنے نکاح میں لانے کے لئے عدالت میں جھوٹی شہادتیں بھگتا کر اپنے حق میں فیصلہ لے لیا جائے اور ایسے بہت سے حیلے ہدایہ کی کتاب الحیل میں مذکور ہیں۔ امام بخاری نے ان کا تعاقب بھی کیا ہے کہ ان میں اکثر حیلے ناجائز بلکہ حرام ہیں۔
Ayah 38:45

وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ Open ayah 38:45 in the Quran reader

اور ہمارے بندوں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کو یاد کیجئے جو بڑی قوت عمل رکھنے والے 52 اور صاحبان بصیرت تھے۔

52 یعنی یہ تینوں پیغمبر اپنی پوری قوت سے دین کی سربلندی کے لئے جدوجہد کرتے رہے اور معصیت کے کاموں سے بچتے رہے۔ نیز وہ اللہ تعالیٰ کی ہر سو بکھری ہوئی آیات میں اور اللہ تعالیٰ کے احکام میں غور و فکر کرتے اور بصیرت حاصل کرتے تھے وہ حقیقت شناس تھے۔ اندھوں کی طرح نہیں چلتے تھے۔ بلکہ آنکھیں کھول کر علم و معرفت کی روشنی میں ہدایت کا سیدھا راستہ دیکھتے ہوئے چلتے تھے۔
Ayah 38:46

اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ Open ayah 38:46 in the Quran reader

ہم نے انہیں ایک خاص صفت کی بنا پر برگزیدہ کیا تھا وہ دارآخرت کی یاد 53 تھی۔

53 یعنی آخرت کی یاد رکھنا ہی وہ نسخہ کیمیا ہے جو انسان کو اللہ کا برگزیدہ بنا دیتا ہے۔ ان برگزیدہ ہستیوں نے اس دنیا کو بس ایک مسافر خانہ کی طرح سمجھا اور آخرت کا گھر ہی ہمیشہ ان کا مطمح نظر رہا۔
Ayahs 38:47–48

وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:47 in the Quran reader

ہمارے ہاں وہ یقینا نیک اور برگزیدہ لوگوں میں سے تھے۔

وَ اذْكُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ وَ كُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:48 in the Quran reader

اور اسمٰعیل، الیسع 54 اور ذوالکفل کا بھی ذکر کیجئے۔ ان میں سے ہر ایک نیک تھا۔

54 الیسع اور ذوالکفل کا ذکر :۔ سیدنا اسماعیل تو معروف ہیں اور ان کا ذکر قرآن میں بہت جگہ آیا ہے۔ الیسع سیدنا الیاس کے نائب اور خلیفہ تھے ان کا سلسلہ نسب چوتھی پشت پر جاکر سیدنا یوسف سے جا ملتا ہے۔ بعد میں آپ کو نبوت بھی عطا ہوئی تھی۔ آپ کا حلقہ تبلیغ شام کا علاقہ تھا۔ اور ذوالکفل ان کے خلیفہ کا لقب ہے نام نہیں۔ اور ذوالکفل کا معنی صاحب نصیب ہے۔ آپ کا نام بشیر ہے اور سیدنا ایوب کے بیٹے تھے۔ آپ الیسع کے خلیفہ تھے بعد میں نبی ہوئے شام کا علاقہ ہی آپ کی تبلیغ کا مرکز رہا۔ عمالقہ شاہ وقت بنی اسرائیل کا سخت دشمن تھا۔ آپ نے اس سے بنی اسرائیل کو آزاد کرایا پھر وہ بادشاہ بھی مسلمان ہوگیا اور حکومت آپ کے سپرد کی جس کے نتیجہ میں شام کے علاقہ میں پھر ایک دفعہ اسلام خوب پھیلا۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ یہ سب ہی بہترین لوگ تھے۔ قرآن نے ان انبیاء کا اور بھی بہت سے مقامات پر ذکر فرمایا ہے اور ہر مقام پر قرآن انبیاء کی تعریف میں رطب اللسان نظر آتا ہے۔ جبکہ بائیبل نے بہت سے اولوالعزم انبیاء پر اتہام لگائے اور ان کی کردار کشی کی ہے۔ جن انبیاء پر بائیبل میں اتہام لگائے گئے ہیں وہ یہ ہیں : سیدنا نوح، سیدنا لوط، سیدنا یعقوب، سیدنا ہارون، سیدنا داؤد، سیدنا سلیمان اور سیدنا عیسیٰ (علیہم السلام) تفصیل کے لئے دیکھئے سورة انعام کی آیت نمبر 86 پر حاشیہ نمبر 87۔ الف)
Ayah 38:49

هٰذَا ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:49 in the Quran reader

یہ تو ان کا ذکر ہے (جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سب) پرہیزگاروں 55 کے لئے اچھا ٹھکانہ ہے۔

55 یعنی اللہ کے انعامات صرف نبیوں اور پیغمبروں تک محدود نہیں بلکہ اللہ سے ڈر کر زندگی گزارنے والے کو اچھا ٹھکانا ملے گا۔ اگرچہ ان کے اعمال کے مطابق ان کے درجات میں فرق ہوگا۔
Ayah 38:50

جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ Open ayah 38:50 in the Quran reader

(یعنی) ہمیشہ رہنے والے باغ جن کے دروازے 56 ان کے لئے کھلے ہوں گے

56 جنت کے کھلے ہوئے دروازے :۔ یعنی اہل جنت بلاروک ٹوک اپنے اپنے گھروں میں آجاسکیں گے اور دروازوں کے کھلے ہونے یا رہنے کی تین صورتیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ دروازے ہر وقت کھلے رہیں دوسری یہ کہ دروازے بند ہوں مگر جب اہل جنت گزرنا چاہیں تو وہ از خود کھل جائیں۔ اور تیسری یہ کہ جب اہل جنت گزرنا چاہیں تو فرشتے فوراً دروازے کھول دیں۔ سورة الزمر کی آیت نمبر 73 سے اسی تیسری صورت کی تائید ہوتی ہے۔
Ayahs 38:51–52

مُتَّكِئِیْنَ فِیْهَا یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍ وَّ شَرَابٍ Open ayah 38:51 in the Quran reader

وہ ان میں تکیہ لگائے ہوں گے اور وہاں بہت سے لذیذ میوے اور مشروب طلب کریں گے۔

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ Open ayah 38:52 in the Quran reader

نیز ان کے پاس نگاہیں جھکائے رکھنے والی ہم عمر 57 بیویاں بھی ہوں گی۔

57 اتراب کا لغوی : مفہوم۔ اتراب بمعنی ایسی ہم عمر عورتیں جن کے مزاج میں ہم آہنگی بھی پائی جاتی ہو۔ اس کی پھر دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ وہ عورتیں باہم ہم عمر ہوں، دوسرے یہ کہ وہ اپنے خاوندوں کی ہم عمر ہوں اور یہ دونوں صورتیں ممکن ہیں۔
Ayahs 38:53–57

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:53 in the Quran reader

یہ وہ چیزیں ہیں جن کا روز حساب کے لئے تم سے وعدہ کیا جاتا ہے۔

اِنَّ هٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍۚۖ Open ayah 38:54 in the Quran reader

بلاشبہ یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا۔

هٰذَا١ؕ وَ اِنَّ لِلطّٰغِیْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:55 in the Quran reader

یہ (تو تھا پرہیزگاروں کا انجام) اور سرکشوں کے لئے بہت برا ٹھکانا ہوگا

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 38:56 in the Quran reader

یعنی دوزخ، جس میں وہ داخل ہوں گے جو بہت بری جگہ ہے۔

هٰذَا١ۙ فَلْیَذُوْقُوْهُ حَمِیْمٌ وَّ غَسَّاقٌۙ Open ayah 38:57 in the Quran reader

یہ ہے ان کا انجام اب وہ مزا چکھیں کھولتے ہوئے پانی کا اور پیپ 58 کا

58 غساق کا لغوی مفہوم :۔ غساق کا معنی عموما پیپ یا بہتی پیپ کرلیا جاتا ہے جس میں خون کی بھی آمیزش ہو جبکہ صاحب منجد، فقہ اللغہ اور منتہی الارب سب نے اس کے معنی انتہائی ٹھنڈا اور بدبودار پانی بتائے ہیں۔ قرآن میں دو مقامات پر غساق کا لفظ حمیم کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے ایک اس مقام پر اور دوسرے سورة نبا کی آیت نمبر 25 میں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے معنی شدید ٹھنڈا اور بدبودار پانی ہی کرنا زیادہ مناسب ہے۔
Ayahs 38:58–59

وَّ اٰخَرُ مِنْ شَكْلِهٖۤ اَزْوَاجٌؕ Open ayah 38:58 in the Quran reader

اور ایسی ہی کئی قسم کی دوسری چیزوں کا

هٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ١ۚ لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ١ؕ اِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ Open ayah 38:59 in the Quran reader

(دیکھو) یہ ایک اور لشکر 59 (تمہارے پیرو وں کا) تمہارے ساتھ گھسا چلا آرہا ہے انہیں کوئی خوش آمدید نہیں یہ بھی دوزخ میں آرہے 60 ہیں

59 یہاں ازواج کا لفظ ہم مثل چیزوں کے معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی اسی طرح کی اور بھی کئی گندی اور ناگوار چیزیں انہیں کھانا یا پینا پڑیں گی یا ایسی چیزوں سے انہیں عذاب دیا جائے گا۔ 60 اہل جہنم کا باہمی مکالمہ اور ایک دوسرے پر الزام :۔ یہ اہل دوزخ کے دوزخ میں داخل ہونے کے وقت کا ایک مکالمہ پیش کیا گیا ہے پہلا گروہ تو بڑے لوگوں اور سرداروں اور پیشواؤں کا ہوگا۔ انہیں فرشتے جہنم کے کنارے لا کھڑا کریں گے۔ پھر ان کے بعد ان کے پیروکاروں کی عظیم جماعت کو لایا جائے گا۔ سردار حضرات اس عظیم جماعت کو دیکھتے ہی کہنے لگیں گے۔ یہ ایک اور جماعت جہنم میں داخل ہونے کے لئے بیتابی سے آگے بڑھتی چلی آرہی ہے۔ ان پر اللہ کی مار اور پھٹکار یہ کہاں سے آگئے ؟ جب پچھلی جماعت پہلوں کی یہ بات سنے گی تو وہ کہیں گے کہ اللہ کی مار اور پھٹکار تم پر ہو۔ تمہیں تو ہمارے پیشوا تھے اور یہاں جہنم میں لانے کا سبب بنے ہو۔ اور اب تم ہی ہم پر لعنت اور پھٹکار بھی کہہ رہے ہو۔
Ayahs 38:60–61

قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ١۫ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ١ؕ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْهُ لَنَا١ۚ فَبِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 38:60 in the Quran reader

(آنے والے پہلوں کو) کہیں گے۔ نہیں بلکہ تمہارے لئے ہی خوش آمدید نہ ہو۔ تم ہی ہمارے لیے اس (عذاب) کے پیش رو بنے جو اتنی بری قرار گاہ ہے۔

قَالُوْا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِی النَّارِ Open ayah 38:61 in the Quran reader

پھر وہ دعا کریں گے : اے ہمارے پروردگار ! ہمارے لئے جو اس عذاب کا پیش رو بنا اسے 61 دوزخ میں دگنا عذاب دے

61 پھر یہ پیروی کرنے والا گروہ اپنے پیشواؤں سے توجہ ہٹا کر اپنے پروردگار سے درخواست کرے گا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو ہماری گمراہی اور ہمیں یہاں جہنم میں لانے کا باعث بنے تھے۔ لہذا اے پروردگار ! انہیں ہم سے دگنا عذاب دے لیکن ان کی یہ التجا محض ایک طفل تسلی اور دل کی حسرت مٹانے کے طور پر ہوگی۔ جس کا کچھ فائدہ نہ ہوگا۔
Ayah 38:62

وَ قَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِؕ Open ayah 38:62 in the Quran reader

نیز وہ کہیں گے : کیا بات ہے کہ ہمیں وہ آدمی نظر نہیں آرہے جنہیں ہم برے لوگوں 62 میں شمار کرتے تھے۔

62 یہاں برے لوگوں سے مراد وہ کمزور مسلمان ہیں جنہیں سرداران قریش حقیر اور کمتر درجہ کے لوگ سمجھتے تھے اور ان کے ساتھ بیٹھنا بھی گوارا نہیں کرتے تھے اور رسول اللہ سے کہتے تھے کہ اگر لوگوں کو اپنے ہاں سے اٹھا دو ۔ تو ہم آپ کی بات توجہ سے سنیں گے۔ اور وہ تھے سیدنا بلال حبشی ؓ ، صہیب رومی ؓ ، سلمان فارسی ؓ خباب بن ارتّ ؓ ، عمار بن یاسر ؓ اور اسی طرح کے دوسرے مخلص مسلمان۔
Ayah 38:63

اَتَّخَذْنٰهُمْ سِخْرِیًّا اَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْاَبْصَارُ Open ayah 38:63 in the Quran reader

کیا ہم یونہی ان کا مذاق اڑاتے رہے ؟ یا اب ہماری نگاہیں ہی ان سے 63 پھر گئی ہیں ؟

63 یعنی چودھری اور سردار قسم کے لوگ آپس میں کہیں گے کہ جن لوگوں کو ہم حقیر اور کمتر درجہ کے لوگ سمجھا کرتے تھے کیا بات ہے وہ ہمیں آج کہیں دکھائی نہیں دے رہے۔ اب اس کی دو ہی صورتیں ممکن ہیں ایک یہ کہ شاید وہ یہیں کہیں ہوں اور ہماری نظروں سے اوجھل ہوں اور دوسری یہ کہ ممکن ہے کہ ہم غلطی پر ہوں جو انہیں حقیر سمجھ کر ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے، اور وہ حقیقتًا اچھے لوگ ہوں اور وہ اس عذاب سے بچ گئے ہوں۔
Ayah 38:64

اِنَّ ذٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِ۠ Open ayah 38:64 in the Quran reader

یہ بات یقینا سچی ہے کہ دوزخی باہم ایسے ہی جھگڑتے 64 ہوں گے

64 اگرچہ روز محشر کی ہولناکیاں اتنی شدید ہوں گی کہ کسی کو دوسرے کی طرف توجہ کرنے کا ہوش تک نہ ہوگا۔ تاہم یہ ایک یقینی بات ہے اور اہل دوزخ ایک دوسرے کے سر الزام دیں گے اور آپس میں جھگڑ رہے ہوں گے یہ دو قسم کے لوگ ہوں گے۔ ایک بڑے لوگ جن میں حکمران، سیاسی لیڈر، چودھری، رئیس جھوٹے پیشوایان دین اور ہر ایسا شخص شامل ہوگا جس کی دنیا میں کسی نہ کسی رنگ میں اللہ کے مقابلہ میں اطاعت کی جاتی رہی اور دوسرا فریق کمزور یا مرید قسم کے لوگ ہوں گے جو اپنے بڑوں کی اطاعت حتیٰ کہ عبادت کرتے رہے۔
Ayah 38:65

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنْذِرٌ١ۖۗ وَّ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُۚ Open ayah 38:65 in the Quran reader

آپ ان سے کہئے کہ : میں تو محض ایک ڈرانے والا ہوں 65: اللہ کے سوا تمہارا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ یکتا ہے اور سب کو دبا کر رکھنے والا ہے۔

65 یعنی میرا کام صرف تمہیں تمہارے برے انجام سے آگاہ کردینا اور سمجھا دینا ہے۔ تمہیں زبردستی پکڑ کر راہ راست پر لے آنا میرا کام نہیں۔ اگر میری بات مان لوگے تو اس میں تمہارا فائدہ ہے اور نہ مانو گے تو اپنا انجام خود دیکھ لو گے اور یاد رکھو کہ حقیقی الٰہ صرف اللہ اکیلا ہے جو تمہیں سزا دینے کی پوری قدرت رکھتا ہے۔
Ayah 38:66

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 38:66 in the Quran reader

وہ آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا پروردگار ہے، غالب ہے 66 ، معاف کرنے والا ہے

66 اس سے پہلی آیت میں اپنی صفت قہاری کا ذکر فرمایا۔ جبکہ مخاطب کافر تھے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دبا کر رکھنے والا ہے۔ کافر اس کی گرفت سے کسی وقت بھی بچ نہیں سکتے۔ اور اس آیت میں اپنی صفت غفاری کا ذکر فرمایا یعنی جو بندے ایمان لے آئیں اور اس کے بندے بن کر رہیں ان کے گناہوں کو معاف کردینے والا ہے۔
Ayahs 38:67–68

قُلْ هُوَ نَبَؤٌا عَظِیْمٌۙ Open ayah 38:67 in the Quran reader

آپ ان سے کہئے کہ : یہ ایک بہت بڑی خبر ہے

اَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُوْنَ Open ayah 38:68 in the Quran reader

جس سے تم اعراض 67 کر رہے ہو

67 یعنی قیامت کی خبر کوئی معمولی خبر نہیں جس کا تم مذاق اڑاتے اور بار بار پوچھتے رہتے ہو کہ کب آئے گی، آ کیوں نہیں جاتی ؟ ہمارا حساب کتاب ابھی ہمیں کیوں نہیں دے دیا جاتا ؟ اگر تم اس کی حقیقت کو سمجھ لو۔ اور اس دن کے ہولناک مناظر کو اپنے سامنے لاؤ تو یہ اتنی بڑی چیز ہے کہ تمہارے طرز زندگی کا رخ موڑ سکتی ہے۔
Ayah 38:69

مَا كَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍۭ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰۤى اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 38:69 in the Quran reader

مجھے تو عالم بالا 68 کے متعلق کچھ علم نہ تھا جب وہ جھگڑ رہے تھے۔

68 عالم بالا میں فرشتوں کی بحثیں :۔ عالم بالا سے مراد فرشتوں کا مستقر ہے۔ ان میں بھی کبھی کبھار کوئی بحث چھڑ جاتی ہے۔ انہیں میں سے ایک بحث وہ ہے جو سیدنا آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت ہوئی تھی اور جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ اور رسول اللہ سے یہ خطاب ہے۔ کہ آپ ان کافروں سے کہہ دیجئے کہ عالم بالا میں جو کچھ بحثیں وغیرہ ہوتی ہیں۔ مجھے ان کا قطعاً کچھ علم نہیں ہوتا صرف اسی بات کا علم ہوتا ہے۔ جو مجھ پر وحی کی جاتی ہے اور میں چونکہ لوگوں کو ان کے انجام سے خبردار کرنے والا ہوں لہذا مجھے صرف انہی بحثوں کے متعلق وحی کی جاتی ہے جن کا تعلق انسانوں کی ہدایت سے ہوتا ہے۔
Ayahs 38:70–74

اِنْ یُّوْحٰۤى اِلَیَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 38:70 in the Quran reader

مجھے تو صرف اس لیے وحی کردی جاتی ہے کہ میں کھلا کھلا ڈرانے والا ہوں

اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ Open ayah 38:71 in the Quran reader

جبکہ آپ کے پروردگار نے فرشتوں سے کہا تھا کہ میں مٹی سے ایک انسان بنانے والا ہوں

فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ Open ayah 38:72 in the Quran reader

تو جب میں اسے ٹھیک ٹھاک کردوں اور اس میں اپنی (پیدا کی ہوئی) روح پھونک دوں تو تم اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجانا۔

فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ Open ayah 38:73 in the Quran reader

چناچہ سب فرشتوں نے مل کر اسے سجدہ کیا۔

اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اِسْتَكْبَرَ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 38:74 in the Quran reader

سوائے ابلیس کے، جو اکڑ بیٹھا اور کافروں سے 69 ہوگیا۔

69 فرشتوں کو سیدنا آدم کو سجدہ کا حکم :۔ اللہ تعالیٰ کے آدم کو مٹی سے بنانے، اس میں اپنی روح پھونکنے، فرشتوں کو آدم کو سجدہ کا حکم دینے ابلیس کی حقیقت اور اس کے آدم کو سجدہ سے انکار کرنے کی تفصیل پہلے کئی مقامات پر گزر چکی ہے۔ مثلاً سورة بقرہ کا چوتھا رکوع، سورة حجر کی آیات 25 تا 43، سورة اعراف آیات 11 تا 15، سورة بنی اسرائیل آیات 61 تا 65، سورة کہف آیت نمبر 50، سورة طہٰ آیات نمبر 116 تا 123 میں گزر چکی ہے۔ اور نظریہ ارتقاء کی تردید کے لئے سورة حجر کا حاشیہ نمبر 19 ملاحظہ فرمائیے۔
Ayah 38:75

قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ١ؕ اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ Open ayah 38:75 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا : اے ابلیس ! جس انسان کو میں نے اپنے ہاتھوں 70 سے بنایا اسے سجدہ کرنے سے تجھے کس بات نے روک دیا ؟ کیا تو بڑا بننا چاہتا ہے یا تو ہے ہی اونچا درجہ رکھنے والوں 71 میں سے ؟

70 اللہ تعالیٰ کے ہاتھ پاؤ : اللہ تعالیٰٰ نے بڑی صراحت سے فرمایا کہ آدم کے پتلے کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا۔ اس سے کائنات کی تمام اشیاء پر آدم اور بنی آدم کا شرف اور فضیلت ثابت ہوئی۔ دوسرے اس سے ڈارون کے نظریہ ارتقاء کا رد ہوا۔ تیسرے ان لوگوں کا جو اللہ کے ہاتھ، آنکھیں اور پاؤں وغیرہ ہونے کے یکسر منکر ہیں۔ ان کی بنائے استدلال یہ ہے کہ اللہ کی ذات ہر جگہ موجود ہے تو اس کے ہاتھ پاؤں کیسے ہوسکتے ہیں لامحالہ ایسی آیات اور ایسے الفاظ کی تاویل کرنا ضروری ہے۔ جس کا جواب یہ ہے کہ اللہ اپنی صفات علم اور قدرت وغیرہ کے لحاظ سے ہر جگہ موجود ہے لیکن اس کی ذات عرش پر ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ خود اپنے ہاتھ، پاؤں اور آنکھوں کا صراحت سے ذکر کرتا ہے تو دوسرا کون اس سے بڑھ کر اس کی تنزیہہ کرسکتا ہے۔ خواہ اس نے اپنے ہاتھ، پاؤں وغیرہ کا ذکر ہمارے سمجھانے کے لئے کیا ہو تاہم کیا تو ہے۔ رہی یہ بات کہ اس کے ہاتھ، آنکھیں اور پاؤں کیسے ہیں۔ تو یہ بات ہم سمجھنے کے نہ مکلف ہیں اور نہ سمجھ سکتے ہیں ہماری عافیت بس اس میں ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ فرمائے اسے جوں کا توں تسلیم کرلیں۔ 71 کیا تو اب بڑا بننا چاہتا ہے یا پہلے سے ہی یہ سمجھتا ہے کہ میں دوسروں سے کوئی برتر مخلوق ہوں۔
Ayahs 38:76–78

قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ؕ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ Open ayah 38:76 in the Quran reader

کہنے لگا : میں اس سے بہتر ہوں (کیونکہ) مجھے تو تو نے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے

قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۚۖ Open ayah 38:77 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : نکل جا یہاں سے یقینا تو مردود ہے

وَّ اِنَّ عَلَیْكَ لَعْنَتِیْۤ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ Open ayah 38:78 in the Quran reader

اور روز قیامت تک تجھ پر میری لعنت 72 رہے گی

72 یعنی قیامت تک تو اللہ، اس کے فرشتے، تمام انسان حتیٰ کہ ابلیس کی پیروی کرنے والے بھی اس پر لعنت پھٹکار کرتے رہیں گے پھر اس کے بعد ابدا لآباد ابلیس اور اس کی آل اولاد کو عذاب میں مبتلا رکھا جائے گا۔