Ayah 48:1824 صحابہ کرام ؓ پر طعن کرنے والے ؟ اس آیت کا آغاز ( لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ ) سے ہوا ہے۔ اسی وجہ سے اس بیعت کا نام بیعت رضوان پڑگیا یعنی ایسی مخلصانہ اور سرفروشانہ بیعت جس پر اللہ نے ان لوگوں کو اپنی خوشنودی کا سرٹیفیکیٹ دے دیا۔ اور بعض احادیث میں صراحت سے یہ مذکور ہے کہ اس بیعت میں حصہ لینے والے سب جنتی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بعض لوگ ان صحابہ کرام کے ایمان میں بھی شک کرتے ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ بلاشبہ یہ لوگ بیعت رضوان کے وقت تو اسلام کے وفادار اور اس کے لئے مخلص تھے مگر بعد میں بےوفاثابت ہوئے۔ گویا ان لوگوں نے پہلا الزام تو ان عظیم المرتبت صحابہ کرام ؓ پر لگایا تھا۔ دوسرا اللہ تعالیٰ پر لگایا جسے اپنی رضامندی کا سرٹیفکیٹ دیتے وقت اتنا بھی پتا نہ چل سکا کہ جن لوگوں کو میں یہ سند دے رہا ہوں وہ تو بعد میں بےوفا نکلیں گے۔ گویا یہ نظریہ ممتاز صحابہ کرام کی توہین ہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب پر بھی زبردست چوٹ ہے۔ ایسے لوگوں کو اپنے ایمان کی خیرمنانا چاہئے۔
خ درخت جس کے نیچے بیعت کی گئی تھی :۔ جس درخت کے نیچے رسول اللہ نے بیعت لی تھی اس کے متعلق دو طرح کی روایات ملتی ہیں۔ طبری کی روایت کے مطابق مسلمان اس درخت کی زیارت کو جانے لگے۔ وہ وہاں جاکر نمازیں اور نوافل وغیرہ ادا کرتے تھے۔ سیدنا عمر کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے اسے اپنے دور خلافت میں کٹوا دیا۔ اس کے مقابلہ میں صحیح اور معتبر روایات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اگلے ہی سال خود بیعت رضوان میں شامل ہونے والے بعض صحابہ وہاں گئے تو وہ خود بھی اس درخت کو پہچان نہ سکے جس کے نیچے بیعت لی گئی تھی۔ اس سلسلہ میں درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے :
1۔ سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری ؓ کہتے ہیں کہ حدیبیہ کے دن ہم ایک ہزار چار سو آدمی تھے۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر)
طارق بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں حج کی نیت سے روانہ ہوا۔ راستے میں کچھ لوگوں کو نماز ادا کرتے دیکھا تو پوچھا کہ یہ مسجد کیسی ہے ؟ کہنے لگے : یہاں وہ درخت تھا جس کے نیچے آپ نے صحابہ سے بیعت رضوان لی تھی۔ یہ سن کر میں سعید بن مسیب کے پاس آیا۔ تو انہوں نے کہا کہ میرے والد (مسیب بن حزم) ان لوگوں سے تھے جنہوں نے درخت کے تلے بیعت کی تھی۔ وہ کہتے تھے کہ جب میں دوسرے سال وہاں گیا تو اس درخت کو پہچان نہ سکا سعید کہتے ہیں کہ آپ کے اصحاب تو اس درخت کو پہچان نہ سکے۔ اور تم لوگ ان سے زیادہ علم رکھتے ہو۔ (کہ اسے پہچان کر وہاں مسجد بنا ڈالی) (بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب غزوۃ الحدیبیۃ)
25 اس دن جنگ کو روکنا اللہ کا احسان تھا :۔ یعنی بیعت کرنے والوں کی نسبت یہ معلوم ہوگیا کہ ان میں اسلام کی خاطر کس قدر جان نثاری اور سرفروشی کا جذبہ موجود ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو اس بات پر جما دیا کہ نتائج خواہ کیسے برآمد ہوں ہمیں ضرور جنگ لڑنا چاہئے۔ بظاہر جو نتیجہ نظر آرہا تھا وہ تو یہی تھا ایک طرف صرف چودہ سو نہتے اور پردیسی مسلمان تھے۔ دوسری طرف ان کا طاقتور جانی دشمن تھا جو سازوسامان کے لحاظ سے، تعداد کے لحاظ سے، رسد کے لحاظ سے غرضیکہ ہر لحاظ سے ان سے بڑھ کر تھا اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہ اپنے گھر پر تھا اور اس کے حریف اس مسلمان کے گھر آگئے تھے۔ اس صورت حال میں اللہ کا مسلمانوں کے دلوں کو جنگ پر جما دینا اور اسے اطمینان مہیا کردینا واقعی اللہ کی بہت بڑی نعمت تھی۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جنگ کی طرف اس قدر پیش رفت کے بعد اللہ نے کافروں سے بہرحال صلح کرلینے کی خاطر ان کے جذبات کو ٹھنڈا کرکے انہیں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر مطمئن کردیا۔
26 قریبی فتح سے مراد فتح خیبر ہے جو صلح نامہ حدیبیہ کے صرف تین ماہ بعد وقوع پذیر ہوئی تھی۔
Ayah 48:1927 یعنی حدیبیہ کے مقام پر جنگ نہ ہونے میں اور بہرحال صلح ہوجانے میں اللہ کی بیشمار حکمتیں تھیں لہذا اس نے وہی کام ہونے دیا جو اسے منظور تھا۔ رہا بیعت کرنے والوں کی جانثاری کا صلہ تو وہ غنائم خیبر کی صورت میں انہیں مل جائے گا۔ اور اللہ کے ہاں ان کے لئے جو صلہ ہے وہ تو بہت زیادہ ہے۔
Ayah 48:2028 اس سے مراد فتح مکہ، حنین کے اموال غنائم ہیں۔ بلکہ صلح حدیبیہ کے بعد وہ کثیر مقدار میں اموال غنیمت بھی جو پے در پے فتوحات کے نتیجہ میں مسلمانوں کو حاصل ہوتے رہے۔
29 حدیبیہ کے مقام پر جنگ نہ ہونے کی حکمتیں :۔ اللہ تعالیٰ یہ بات بطور احسان مسلمانوں سے فرما رہے ہیں اور اس کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ تمہاری پوزیشن اتنی مضبوط نہ تھی کہ کفر کے سب سے بڑے مرکز میں تم دشمن کی تاب لاسکتے۔ لہذا اللہ نے جنگ کی صورت پیدا ہی نہ ہونے دی۔ اور یہ بھی ایک طرح سے اللہ کی مدد تھی۔ دوسرے یہ کہ تم مدینہ کا مرکز چھوڑ کر بہت دور نکل آئے تھے۔ جنگ کی صورت میں یہ بھی ممکن تھا کہ تمہارے دوسرے دشمن تمہاری غیر حاضری میں مدینہ پر چڑھ آتے۔ اللہ نے انہیں بھی تم سے روک دیا۔
30 یہاں آیت سے مراد معجزہ ہے۔ یعنی صلح حدیبیہ جسے بظاہر مسلمان اپنی شکست اور توہین سمجھ رہے تھے وہ درحقیقت ان کی معجزانہ فتح تھی جس کی کفار تو درکنار، مسلمانوں کو بھی سمجھ نہیں آرہی تھی۔ جوں جوں اس کے نتائج سامنے آتے گئے مسلمانوں کو یقین ہوتا چلا گیا کہ دراصل یہ صلح اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھی۔
31 یہ سیدھی راہ ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہے۔ اگر وہ کٹ مرنے کو کہیں تو اس کے لئے تیار ہوجاؤ اور اگر وہ اپنے جذبات کو ٹھنڈا کرنے اور دب جانے کو کہیں تو اس وقت دب جاؤ۔ جوش و خروش کا مظاہرہ نہ کرو۔ یہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتا ہے کہ اسلام کی سربلندی کے لئے فلاں وقت کون سا اقدام بہتر ہے۔
Ayah 48:2132 صلح حدیبیہ کیسے فتح مکہ کا پیش خیمہ بنی ؟ اس سے مراد فتح مکہ ہے۔ جس کا پیش خیمہ یہ صلح حدیبیہ ہی بن گئی تھی۔ اور اللہ کو ٹھیک معلوم تھا کہ یہ صلح کس طرح فتح مکہ کا پیش خیمہ بننے والی ہے۔ صلح نامہ کی دوسری شرط کی رو سے بنو خزاعہ مسلمانوں کے اور بنو بکر قریش کے حلیف بن گئے تھے۔ صلح کے ڈیڑھ سال بعد بنوخزاعہ اور بنوبکر کی آپس میں لڑائی ہوگئی جس میں قریش نے کھلم کھلا بنوبکر کی مدد کی اور جب بنوخزاعہ نے حرم میں پناہ لی تو انہیں وہاں بھی نہ چھوڑا۔ بعد ازاں بنو خزاعہ کے چالیس شتر سوار فریاد کے لئے مدینہ پہنچے۔ آپ کو قریش کی اس بدعہدی پر سخت صدمہ ہوا۔ لہذا آپ نے قریش کے لئے تین شرطیں پیش کیں کہ ان میں سے کوئی ایک تسلیم کرلی جائے۔
(1) بنوخزاعہ کے مقتولین کا خون بہا دیا جائے۔
(2) قریش بنوبکر کی حمایت سے دستبردار ہوجائیں۔
(3) اعلان کیا جائے کہ حدیبیہ کا معاہدہ ختم ہوگیا۔
قاصد نے جب یہ شرائط قریش کے سامنے پیش کیں تو ان کا نوجوان طبقہ بھڑک اٹھا۔ ان میں سے ایک شخص فرط بن عمر نے قریش کی طرف سے اعلان کردیا کہ صرف تیسری شرط منظور ہے۔ قاصد واپس چلا گیا تو ان لوگوں کا جوش ٹھنڈا ہو کر ہوش و حواس درست ہوئے اور انہیں سخت فکر دامن گیر ہوئی۔ چناچہ ابو سفیان کو تجدید معاہدہ کے لئے بھیجا گیا۔ اس نے مدینہ پہنچ کر رسول اللہ سے تجدید معاہدہ کی درخواست کی۔ لیکن آپ نے کوئی جواب نہ دیا۔ پھر اس نے علی الترتیب سیدنا ابو بکرصدیق ؓ سیدنا عمر ؓ حتیٰ کہ سیدہ فاطمہ ؓ تک سے سفارش کی درخواست کی۔ لیکن جب سب نے جواب دے دیا تو اس نے خود ہی مسجد نبوی میں کھڑے ہو کر یکطرفہ اعلان کردیا کہ میں نے معاہدہ حدیبیہ کی تجدید کردی۔
قریش کی یہ بدعہدی، پھر اس کے بعد صرف تیسری شرط منظور کرنے کا جواب دراصل اعلان جنگ کے مترادف تھا۔ چناچہ آپ نے فتح مکہ کی مہم کا آغاز کردیا اور جب ابو سفیان وہاں پہنچا تو اس وقت تجدید معاہدہ کا وقت گزر چکا تھا۔ لہذا آپ اسے کسی قسم کا جواب دینے کی پوزیشن میں نہ تھے۔
Ayahs 48:22–2333 یعنی اگر کافر میدان حدیبیہ میں مسلمانوں سے بھڑ جاتے تو بھی اللہ اس بات پر قادر تھا کہ کافروں کو مار بھگاتا اور مسلمانوں کو فتح عطا کردیتا۔ مگر جنگ ہونے کے بجائے صلح ہوجانے میں دوسری کئی مصلحتیں کار فرماتھیں۔ جن کی وجہ سے اللہ نے جنگ نہ ہونے دی۔
Ayah 48:2434 صلح حدیبیہ کی مزید تفصیلات کے لئے درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے :
1۔ سیدنا انس فرماتے ہیں کہ : صبح کی نماز کے قریب آپ اور صحابہ تنعیم کے پہاڑ سے اترے۔ کافر لوگ یہ چاہتے تھے کہ آپ کو مار ڈالیں مگر سب کے سب پکڑے گئے۔ پھر آپ نے ان سب کو آزاد کردیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر)
2۔ حدیبیہ کے مقام پر آپ کا معجزہ اور پانی کی مشکل کا حل :۔ مسور بن مخرمہ اور مروان دونوں روایت کرتے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ مکہ سے نکلے۔ ابھی راہ میں ہی تھے کہ آپ نے فرمایا : خالد بن ولید دو سو سواروں کا ہر اول دستہ لئے غمیم تک آچکا ہے۔ لہذا تم داہنی طرف کا رستہ لو خالد کو مسلمانوں کی آمد کی اس وقت خبر ہوئی جب اس نے سواروں کی گرد اڑتی دیکھی تو وہ قریش کو ڈرانے کے لئے دوڑا۔ جب آپ اس گھاٹی پر پہنچے جہاں سے مکہ کو اترتے ہیں تو آپ کی اونٹنی قصواء اَڑ گئی۔ آپ نے فرمایا : قصواء کو اسی اللہ نے روکا ہے جس نے اصحاب الفیل کو روکا تھا۔ اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر اہل مکہ مجھ سے کوئی ایسی بات چاہیں جس میں اللہ کے حرم کی تعظیم ہو تو میں اسے مان لوں گا۔ چناچہ آپ وہاں سے مڑ کر گئے اور حدیبیہ کے پرلے کنارے پر ڈیرے ڈال دیئے۔ وہاں ایک گڑھا تھا جس میں پانی بہت کم تھا۔ لوگوں نے آپ سے پیاس کا شکوہ کیا آپ نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکال کر صحابہ سے کہا کہ اسے گڑھے میں گاڑ دو تیر گاڑتے ہی پانی جوش مارنے لگا۔ پھر آپ کی وہاں سے واپس تک کسی کو پانی کی کمی کی شکایت نہیں ہوئی۔
خ صلح کی تفصیل :۔ اس دوران بدیل بن ورقاء خزاعی اپنے کئی آدمیوں سمیت وہاں پہنچا۔ وہ تہامہ والوں میں سے آپ کا خیرخواہ اور محرم راز تھا۔ وہ کہنے لگا کہ کعب بن لوئی اور عامربن لوئی نے حدیبیہ پہنچ کر زیادہ پانی والے چشموں پر ڈیرہ ڈال دیا ہے اور وہ آپ سے لڑنا اور آپ کو مکہ جانے سے روکنا چاہتے ہیں آپ نے فرمایا : ہم لڑنے نہیں آئے صرف عمرہ کی نیت سے آئے ہیں۔ قریش بھی لڑتے لڑتے تھک چکے ہیں۔ اگر وہ چاہیں تو میں ایک مقررہ مدت تک ان سے صلح کرنے کو تیار ہوں بشرطیکہ وہ دوسروں کے معاملہ میں دخل نہ دیں۔ اگر دوسرے لوگ مجھ پر غالب آجائیں تو ان کی مراد برآئی۔ اور اگر میں غالب ہوا پھر اگر وہ چاہیں تو اسلام لے آئیں ورنہ اللہ کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں ان سے دین کے معاملہ میں لڑوں گا۔ یہاں تک میری جان چلی جائے اور اللہ ضرور اپنے دین کو پورا کرکے رہے گا، بدیل نے کہا : میں آپ کا یہ پیغام قریش کو پہنچا دیتا ہوں
بدیل بن ورقاء کا آپ کا پیغام پہنچانا اور اس کا جواب :۔ چناچہ بدیل قریش کے پاس آئے اور کہنے لگے : محمد نے ایک بات کہی ہے اتنی بات کہنے پر ہی کچھ جلد باز بیوقوف کہنے لگے۔ ہمیں کوئی بات سننے کی ضرورت نہیں۔ مگر جو عقل والے تھے وہ کہنے لگے کہ بتاؤ تو سہی وہ کیا کہتے ہیں۔ چناچہ بدیل نے وہ سب کچھ بیان کردیا جو انہوں نے آپ سے سنا تھا۔
قریش کے پہلے سفیر عروہ بن مسعود کی رپورٹ :۔ یہ سن کر عروہ بن مسعود ثقفی قریش سے کہنے لگے۔ اگر مجھ پر اعتماد کرتے ہو تو محمد کے پاس جانے دو ۔ قریش نے کہا۔ اچھا جاؤ۔ عروہ آیا تو آپ نے اس سے بھی وہی بات کہی جو بدیل کو کہی تھی۔ عروہ کہنے لگا : محمد اگر تم نے اپنی قوم کو تباہ کردیا تو یہ اچھی بات نہ ہوگی اور قریش غالب آگئے تو تمہارے یہ ساتھی تمہیں چھوڑ کر چلتے بنیں گے اس بات پر ابوبکر صدیق ؓ غصہ میں آگئے اور عروہ کو کہا : جا جاکر لات کی شرمگاہ چوس۔ کیا ہم آپ کو چھوڑ جائیں گے ؟ عروہ نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ لوگوں نے کہا : ابوبکر صدیق ؓ ! عروہ نے کہا اگر تمہارا مجھ پر احسان نہ ہوتا تو میں تمہیں اس کا جواب دیتا پھر عروہ باتیں کرتا تو آپ کی داڑھی تھام لیتا اور مغیرہ بن شعبہ تلوار کے دستے سے اس کا ہاتھ پیچھے ہٹا دیتے۔ پھر وہ آپ کے صحابہ کو بغور ملاحظہ کرنے لگا۔ پھر اپنے ساتھیوں کے پاس جاکر کہنے لگا : میں بادشاہوں کے پاس کئی بار جا چکا ہوں۔ روم، ایران اور حبش کے بادشاہوں کے ہاں گیا۔ اللہ کی قسم ! میں نے نہیں دیکھا کہ کسی بادشاہ کے لوگ اس کی ایسی تعظیم کرتے ہوں جیسے محمد کی تعظیم ان کے اصحاب کرتے ہیں۔ اگر انہوں نے تھوکا تو کوئی اپنے ہاتھ میں لیتا اور اپنے منہ اور بدن پر مل لیتا ہے۔ وہ کوئی حکم دیتا ہے تو لپک کر اس کا حکم بجا لاتے ہیں۔ وہ وضو کریں تو وضو کا پانی حاصل کرنے کے لئے قریب ہوتے تھے کہ لڑ مریں گے وہ بات کریں تو اپنی آواز پست کرلیتے ہیں اور از راہ ادب انہیں نظر بھر کر دیکھتے بھی نہیں۔ لہذا محمد نے جو بات کی ہے وہ تمہارے فائدے کی ہے۔ اس کو مان لو
خ دوسرے سفیر کی رپورٹ :۔ اب بنی کنانہ کا ایک شخص بولا مجھے ان کے پاس جانے دو لوگوں نے کہا : اچھا جاؤ جب وہ آپ کے قریب پہنچا تو آپ نے فرمایا : اب جو شخص آرہا ہے۔ یہ بیت اللہ کی قربانی کی عظمت کرنے والوں سے ہے۔ لہذا قربانی کے جانور اس کے آگے کردو چناچہ وہ جانور اس کے سامنے لائے گئے اور صحابہ نے لبیک پکارتے ہوئے اس کا استقبال کیا۔ یہ صورت حال دیکھ کر وہ کہہ اٹھا سبحان اللہ ایسے لوگوں کو کعبے سے روکنا مناسب نہیں وہ واپس چلا گیا اور جاکر کہا : میں نے اونٹوں کے گلے میں ہار اور ان کے کوہان چرے خود دیکھے ہیں۔ میں تو انہیں بیت اللہ سے روکنا درست نہیں سمجھتا
خ تیسرا سفیر سہیل بن عمرو اس کے اعتراضات اور صلح کی شرائط :۔ اس کے بعد قریش کی طرف سے سہیل بن عمرو (سفیر بن کر) آیا۔ اسے دیکھ کر آپ نے فرمایا : اب تمہارا کام سہل ہوگیا سہیل کہنے لگا : اچھا لائیے، ہمارے اور تمہارے درمیان ایک صلح نامہ لکھا جائے۔ آپ نے منشی (سیدنا علی ؓ کو بلایا اور فرمایا : لکھو بسم اللہ الرحمن الرحیم سہیل کہنے لگا : عرب کے دستور کے موافق باسمک اللّٰھم لکھوائیے۔ آپ نے کاتب سے فرمایا : اچھا باسمک اللّٰھم ہی لکھ دو ۔ پھر آپ نے لکھوایا : محمد اللہ کے رسول۔۔ اس پر سہیل نے فوراً اعتراض کردیا اور کہا محمد بن عبداللہ لکھوایا جائے آپ نے فرمایا : اچھا محمد بن عبداللہ ہی لکھ دو ۔ اور لکھو محمد بن عبداللہ نے اس شرط پر صلح کی کہ تم لوگ انہیں بیت اللہ جانے دو گے ہم وہاں طواف کریں گے سہیل نے کہا۔ اگر ہم ابھی تمہیں جانے دیں تو سارے عرب میں چرچا ہوجائے گا کہ ہم دب گئے۔ لہذا تم آئندہ سال آؤ۔ (دوسری شرط) سہیل نے یہ لکھوائی۔ اگر ہم میں سے کوئی شخص خواہ وہ مسلمان ہوگیا ہو تمہارے پاس (مدینہ) چلا جائے تو تم اس کو ہمارے پاس لوٹاد و گے صحابہ کہنے لگے : سبحان اللہ ! یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ کہ وہ مسلمان ہو کر آئے اور اسے مشرکوں کے حوالے کردیا جائے ؟
خ ابو جندل کا قصہ :۔ یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ اتنے میں سہیل بن عمرو کا اپنا بیٹا ابو جندل (جو مسلمان ہوچکا تھا) پابہ زنجیر مکہ سے فرار ہو کر مسلمانوں کے پاس جاپہنچا۔ سہیل کہنے لگا : محمد ! یہ پہلا شخص ہے جو شرط کے موافق واپس کرنا چاہئے۔ آپ نے فرمایا : ابھی تو صلح نامہ پورا لکھا بھی نہیں گیا سہیل کہنے لگا : اچھا تو پھر میں صلح ہی نہیں کرتا آپ نے فرمایا : اچھا خاص ابو جندل کی پروانگی دے دو سہیل کہنے لگا : میں کبھی نہ دوں گا آخر ابو جندل کہنے لگے : میں مسلمان ہو کر آیا ہوں اور کافروں کے حوالہ کیا جارہا ہوں۔ دیکھو مجھ پر کیا کیا سختیاں ہوئی ہیں
خ سیدنا عمر کی دینی غیرت :۔ سیدنا عمر کہتے ہیں کہ یہ صورت حال دیکھ کر میں آپ کے پاس آیا اور کہا آپ اللہ کے سچے پیغمبر ہیں ؟ آپ نے فرمایا، کیوں نہیں میں نے کہا، کیا ہم حق پر اور دشمن ناحق پر نہیں ؟ آپ نے فرمایا : کیوں نہیں میں نے کہا : تو پھر ہم اپنے دین کو ذلیل کیوں کریں آپ نے فرمایا : میں اللہ کا رسول اور اس کی نافرمانی نہیں کرتا وہ میری مدد کرے گا میں نے کہا : آپ نے تو کہا تھا کہ ہم کعبہ کے پاس پہنچ کر طواف کریں گے ؟ آپ نے فرمایا : مگر میں نے یہ کب کہا تھا کہ یہ اسی سال ہوگا اس کے بعد میں نے ابوبکر صدیق ؓ کے پاس جاکر وہی سوال کئے جو آپ سے کئے تھے اور انہوں نے بھی بالکل وہی جواب دیئے جو آپ نے دیئے تھے۔ اس موقعہ پر مجھ سے جو بےادبی کی گفتگو ہوئی اس گناہ کو دور کرنے کے لئے میں نے کئی نیک عمل کئے
خ صحابہ پر مایوسی کا عالم اور قربانی کرنے سے گریز جب صلح نامہ پورا ہوگیا تو آپ نے صحابہ سے فرمایا : اٹھو اور اونٹوں کو نحر کرو اور سر منڈاؤ آپ نے یہ کلمات تین بار کہے مگر صحابہ (اتنے افسردہ دل تھے کہ کسی نے اس پر عمل نہ کیا) یہ صورت حال دیکھ کر آپ نے ام سلمہ کے پاس جاکر ساری صورت حال بیان کی تو انہوں نے کہا : یارسول اللہ ! آپ کسی سے کچھ نہ کہئے۔ بلکہ اپنے اونٹ نحر کیجئے اور حجامت بنوالیجئے چناچہ آپ نے ایسا ہی کیا تو آپ کو دیکھ کر سب صحابہ نے بھی اپنے اونٹ نحر کئے اور ایک دوسرے کے سر مونڈنے لگے
خ ابو بصیر اور ابو جندل کا قصہ آپ واپس مدینہ پہنچ گئے تو مکہ سے ایک شخص ابو بصیر مسلمان ہو کر آپ کے پاس آگیا۔ قریش نے اسے واپس لانے کے لئے دو آدمی مدینہ بھیجے اور کہا کہ معاہدہ کی رو سے ابو بصیر کو واپس کیجئے آپ نے ابو بصیر کو ان کے حوالے کردیا۔ ابو بصیر نے راستہ میں ایک شخص کو تو قتل کردیا اور دوسرا بھاگ نکلا اور بھاگ کر مدینہ آپ کے پاس پہنچ گیا اور کہنے لگا : اللہ کی قسم ! میرا ساتھی مارا گیا اور میں بھی نہ بچوں گا اتنے میں ابو بصیر بھی وہاں پہنچ گئے اور کہا : یارسول اللہ ! آپ نے اپنا عہد پورا کرتے ہوئے مجھے واپس کردیا تھا۔ اب اللہ نے مجھے اس سے نجات دلائی ہے آپ نے فرمایا : تیری ماں کی خرابی ہو اگر کوئی تیرا ساتھ دے تو تو لڑائی کو بھڑکانا چاہتا ہے یہ سن کر ابو بصیر سمجھ گیا کہ آپ پھر اسے لوٹا دیں گے چناچہ وہ سیدھا نکل کر سمندر کے کنارے پہنچا اور ابو جندل بن سہیل بھی مکہ سے بھاگ کر ابو بصیر کے ساتھ آملا۔ اب قریش کا جو آدمی مسلمان ہو کر مکہ سے نکلتا وہ ابو بصیر کے پاس چلا جاتا یہاں تک ان کی ایک جماعت بن گئی اور قریش کا جو قافلہ شام کو جاتا اسے روک لیتے اور لوٹ مار کرتے۔ آخر قریش نے تنگ آکر آپ کو اللہ اور رشتہ ناطہ کی قسمیں دے کر کہلا بھیجا کہ آپ ابو بصیر کو اپنے ہاں بلالیں اور آئندہ جو مسلمان آپ کے پاس آئے وہ ہمیں واپس نہ کریں۔ چناچہ آپ نے ابو بصیر کو اپنے پاس بلالیا (بخاری۔ کتاب الشروط۔ باب الشروط فی الجہاد والمصالحۃ۔۔ )
Ayah 48:2535 یہ کل ستر اونٹ تھے جو صحابہ اپنے ہمراہ لائے تھے۔ جب قریشی اس بات پر اڑ گئے کہ کسی قیمت پر مسلمانوں کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیں گے تو معاہدہ صلح کے بعد انہیں وہیں حدیبیہ کے مقام پر ذبح کردیا گیا۔
36 حدیبیہ میں جنگ نہ لڑنے کا ایک بہت اہم پہلو :۔ مکہ میں کچھ ایسے مسلمان موجود تھے جو قریش مکہ کے مظالم کی وجہ سے اپنا اسلام چھپائے رکھتے تھے۔ اور ان کے پاس ایسے ذرائع بھی موجود نہ تھے کہ وہ ہجرت کرکے مدینہ چلے جاتے۔ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی نظروں میں بھی فی الواقع معذور تھے۔ چناچہ سیدنا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں اور میری ماں ایسے ہی لوگوں میں سے تھے۔ جنگ کی صورت میں ایسے معذور مسلمانوں کو بھی مجبوراً کافروں کی صفوں میں شامل ہونا پڑتا اور حملہ کی صورت میں انہیں یقیناً نقصان پہنچ سکتا تھا جس کی تمہیں خبر تک نہ ہوتی۔ پھر خبر لگ جانے پر تمہیں الگ افسوس ہوتا کہ کافر الگ انہیں طعنے دینے لگتے کہ تمہارے مسلمان بھائیوں نے تمہارا بھی خیال تک نہ کیا۔
37 صلح حدیبیہ کا اہل عرب پر تاثر :۔ جنگ روکنے اور بہرحال صلح کرنے کا دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ قبائل عرب میں یہ تاثر عام پھیل گیا کہ مسلمان ایک امن پسند قوم ہیں۔ اسی بات سے متاثر ہو کو صلح حدیبیہ کے بعد بیشمار لوگ علی وجہ البصیرت اسلام کو حق سمجھ کر اسلام لے آئے۔ ان میں دو نامور شخصیتیں بالخصوص قابل ذکر ہیں۔ ایک سیدنا خالد بن ولید سیف اللہ اور دوسرے سیدنا عمرو بن عاص جنہوں نے بعد میں مصر کو فتح کیا۔
38 البتہ اگر مکہ میں معذور مسلمان موجود نہ ہوتے یا انہیں الگ کرلینے کی کوئی صورت نکل آتی تو پھر یقیناً صلح کے بجائے جنگ ہی بہتر تھی۔ اس صورت میں ہم کافروں کو تمہارے ہاتھوں بری طرح پٹوا دیتے۔
Ayah 48:2639 قریش کی جاہلانہ حمیت :۔ قریش کی اس عصبیت کے بھی دو پہلو تھے ایک یہ کہ جن مسلمانوں نے جنگ بدر میں ہمارے عزیز و اقارب کو مار ڈالا ہے، ہم انہیں مکہ میں اپنے ہاں داخل ہونے کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں اور دوسرا پہلو یہ تھا کہ اگر ہم نے مسلمانوں کو مکہ میں داخل ہوجانے دیا تو عرب بھر میں یہ بات مشہور ہوجائے گی کہ قریش مکہ مسلمانوں سے دب گئے ہیں۔ یہ تھی جاہلی حمیّت جس کی پچ میں انہوں نے ایک ایسے دستور کی خلاف ورزی کر ڈالی جو ان میں معروف تھا اور وہ یہ تھا کہ کسی بھی حج، عمرہ اور طواف کرنے والے کو ان کاموں سے روکا نہیں جاسکتا۔ علاوہ ازیں وہ حرمت والے مہینہ میں بھی لڑائی کرنے پر آمادہ تھے۔
40 وہ تقویٰ کی بات یہ تھی کہ مسلمان تنگی ترشی، جوش، غضب، غرضیکہ ہر طرح کے حالات میں اپنے آپ کو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا پابند بنائے رکھیں گے۔ یہ اللہ کی خاص مہربانی تھی کہ اس نے اپنے رسول اور صحابہ کرام کے مشتعل جذبات کو سکون بخش کر انہیں صلح کے سمجھوتہ پر مائل کردیا۔
Ayah 48:2741 عمرہ کے خواب کی حقیقت :۔ کافر یا منافقین تو درکنار خود بعض مسلمانوں کو بھی اس بات میں تردد تھا کہ نبی کا خواب تو وحی ہوتا ہے۔ پھر یہ کیا معاملہ ہے کہ ہمیں عمرہ سے روک دیا گیا ہے۔ اور خود رسول اللہ اس شرط کو منظور فرما رہے ہیں۔ اس کا ایک جواب تو رسول اللہ نے سیدنا عمر کو دے دیا تھا کہ : میں نے یہ کب کہا تھا کہ یہ عمرہ اسی سال ہوگا (یعنی خواب میں وقت کی تعیین نہیں کی گئی تھی) اور دوسرا جواب خود اللہ تعالیٰ نے دے دیا کہ پیغمبر کا خواب فی الواقع سچا تھا اور ہم نے ہی دکھایا تھا وہ ضرور پورا ہوگا۔ تم یقیناً امن وامان کے ساتھ حرم میں داخل ہو کر عمرہ ادا کرو گے۔ تم سر منڈاؤ گے اور بال کتراؤ گے۔ یہاں پہلے سر منڈانے کا ذکر فرمایا جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سر منڈانا، بال کتروانے سے افضل ہے۔ چناچہ صلح حدیبیہ سے اگلے سال مسلمانوں نے عمرہ قضا ادا کیا اور یہ سب باتیں پوری ہوئیں۔
خایفائے عہد کی مثال :۔ از روئے معاہدہ حدیبیہ طے یہ ہوا تھا کہ مسلمان اگلے سال عمرہ کے لئے آئیں اور تین دن کے اندر اندر عمرہ کرکے واپس اپنے وطن چلے جائیں۔ اور جب مسلمان آگئے تو قریش مکہ یہ برداشت نہ کرسکے کہ مسلمان ان کی نظروں کے سامنے بلاتکلف کعبہ میں داخل ہو کر عمرہ کے ارکان آزادی سے بجا لاسکیں۔ لہذا انہوں نے صرف حرم کعبہ کو خالی کرنے کے بجائے اس شہر کو ہی خالی کردیا اور خود آس پاس پہاڑیوں پر تین دن کے لئے جامقیم ہوئے۔ اس دوران اگر مسلمان چاہتے تو بڑی آسانی سے مکہ پر قبضہ کرسکتے تھے۔ مگر مسلمان ایفائے عہد میں اس قسم کی موقع شناسی کو بدترین جرم تصور کرتے تھے۔ لہذا کسی کو بھی ایسا خیال تک نہ آیا اور تین دن کی طے شدہ مدت کے بعد مسلمان عمرہ کرکے واپس چلے گئے۔
خ عمرہ قضا کو کس لحاظ سے عمرہ قضا کہا جاتا ہے ؟ :۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حدیبیہ میں چونکہ مسلمانوں کو عمرہ کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ لہذا اس عمرہ کی قضا لازم تھی۔ جو انہوں نے اگلے سال ادا کی۔ اور مغالطہ غالباً لفظ قضا سے ہوا۔ حالانکہ یہاں قضا اپنے لغوی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی وہ عمرہ جس کے متعلق معاہدہ حدیبیہ میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ مسلمان اس سال نہیں بلکہ اگلے سال آکر کریں گے جس کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ نے اگلے سال کوئی ایسا اعلان نہیں فرمایا کہ جو لوگ پچھلے سال عمرہ سے روک دیئے گئے تھے وہ عمرہ کے لئے تیار ہوجائیں اور مسلمان بھی جو حدیبیہ میں حاضر ہوئے تھے اس معاملہ میں آزاد تھے۔ جو آسکتے تھے وہ آگئے اور جو نہ آسکے وہ نہیں آئے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث میں بھی اس کی وضاحت موجود ہے۔
سیدنا ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ قضا اس پر لازم ہے جو عورت سے صحبت کرکے حج توڑے، اور جسے کوئی عذر لاحق ہوجائے، دشمن روک دے یا اور کچھ بیماری وغیرہ کا عذر ہو تو وہ اپنا احرام کھول دے اور قضا نہ دے۔ اور اگر اس کے ساتھ قربانی ہو اور اسے حرم میں نہ بھیج سکے تو وہیں ذبح کردے اور اگر حرم تک بھیج سکتا ہے تو جب تک قربانی وہاں نہ پہنچ جائے، وہ احرام نہیں کھول سکتا اور امام مالک وغیرہ نے کہا کہ جب وہ رک جائے تو جہاں کہیں چاہے وہیں قربانی ذبح کر دے اور سر منڈا لے اور اس پر قضا لازم نہیں۔ کیونکہ رسول اللہ اور آپ کے اصحاب ؓ نے حدیبیہ میں قربانیاں ذبح کیں اور سر منڈائے اس سے پہلے کہ وہ طواف کریں اور قربانی بیت اللہ کو پہنچے۔ پھر کسی روایت میں اس کا ذکر نہیں کہ آپ نے ان میں سے کسی کو قضا کا حکم دیا ہو یا دہرانے کو کہا ہو۔ اور حدیبیہ حرم کی حد سے باہر ہے۔ (بخاری۔ کتاب المناسک۔ ابو اب المحصر۔ باب من قال لیس علی المحصر بدل۔۔ )
42 یعنی یہ کہ یہ عمرہ اگلے سال ہوگا۔ اس سال نہیں ہوگا۔
43 یعنی یہ فتح خیبر تمہاری حدیبیہ کے مقام پر پیش آنے والی پریشانیوں پر صبر و برداشت اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے صلہ کے طور پر تمہیں دی جارہی ہے۔
Ayah 48:2844 اس آیت کی تشریح کے لئے سورة توبہ کی آیت نمبر 33 کا حاشیہ نمبر 33 ملاحظہ فرمائیے۔
Ayah 48:2945 تحریر صلح پر اعتراضات :۔ جب صلح نامہ حدیبیہ لکھا جارہا تھا تو رسول اللہ نے یوں لکھوانا شروع کیا : محمد اللہ کے رسول کی جانب سے تو اس پر کفار کے سفیر سہیل بن عمرو نے یہ اعتراض جڑ دیا کہ یہی بات تو سارے تنازعہ کی بنیاد ہے۔ ہم محمد ﷺ کو رسول اللہ ﷺ تسلیم کرلیں تو باقی جھگڑا ہی کیا رہ جاتا ہے ؟ اس کے بجائے، محمد بن عبداللہ لکھو۔ اور آپ چونکہ ہر صورت صلح کرنا چاہتے تھے۔ اس لئے آپ نے محمد رسول اللہ کے بجائے محمد بن عبداللہ لکھنے کو کہا۔ اس آیت میں ان کافروں سے یہ کہا جارہا ہے کہ اللہ ہی نے آپ کو رسول بنا کر اور ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے۔ اگر تم تسلیم نہیں کرتے تو نہ کرو۔ کسی وقت تمہیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا۔ کیونکہ اس رسول کی بعثت کا مقصد ہی یہ ہے کہ اسے تمام ادیان پر غالب کردے۔ اور یہ کام ہو کر رہے گا۔ لہذا اس کے اللہ کا رسول ہونے پر اللہ کی گواہی ہی کافی ہے۔
46 صحابہ کے خصائل کافروں کے سامنے شان وشوکت کا مظاہرہ درست ہے :۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مسلمان کافروں سے تند مزاجی اور سخت کلامی سے پیش آتے ہیں۔ یا انہیں پیش آنا چاہئے۔ بلکہ یہ ہے کہ وہ کافروں سے کسی صورت دب کر نہیں رہتے، اصول دین کے معاملہ میں نہ وہ ان سے سمجھوتہ کرسکتے ہیں، نہ بک سکتے ہیں، نہ نرم رویہ اختیار کرتے ہیں نہ ان کی دھمکیوں اور سازشوں سے مرعوب ہوتے ہیں بلکہ اس کے بجائے خود انہیں مرعوب رکھتے ہیں اور دور نبوی میں ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں۔
خ جنگ احد میں ابو دجانہ کا کردار :۔ جنگ احد میں رسول اللہ نے صحابہ سے پوچھا : آج میری تلوار کا حق کون ادا کرے گا ؟ سیدنا ابو دجانہ جو پہلوان تھے آگے بڑھ کر کہنے لگے : میں کروں گا چناچہ آپ نے انہیں اپنی تلوار دے دی۔ انہوں نے ایک سرخ پٹی اپنے سر پر باندھ رکھی تھی۔ رسول اللہ کی عطا کردہ تلوار لے کر بڑی شان اور فخر کے ساتھ کافروں کی طرف بڑھے اور بہت سے کافروں کو موت کے گھاٹ اتارتے جارہے تھے۔ انہیں دیکھ کر رسول اللہ نے فرمایا : اللہ کو یہ چال ہرگز پسند نہیں، مگر آج ابو دجانہ کی یہ چال اللہ کو بہت پسند ہے جب آپ خود چودہ سو صحابہ کے ہمراہ عمرہ قضا کے لئے آئے۔ تو صحابہ کو طواف میں رمل کا حکم دیا۔ کیونکہ کافروں میں یہ بات مشہور ہوچکی تھی کہ مدینہ کی آب و ہوا نے مسلمانوں کو کمزور بنادیا ہے۔ اس لئے آپ نے طواف میں نوجوانوں کی طرح اکڑ کر آدھی دوڑ کی چال یعنی رمل کا حکم دیا۔ نیز آپ نے فتح مکہ کے موقعہ پر اپنی فوجی قوت اور شان و شوکت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ جس سے کفار مکہ اس قدر مرعوب ہوئے کہ مقابلہ کی ہمت ہی نہ کرسکے۔
47 صحابہ کی دوسری صفت :۔ صحابہ کرام کی اللہ تعالیٰ نے دوسری صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ آپس میں رحم دل اور نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ ان کی آپس میں ہمدردی اور غمگساری، تواضع اور خاطر و مدارت سے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے وہ آپس میں حقیقی بھائی ہیں۔ بھلا جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے خود اپنی مہربانی سے آپس میں بھائی بنادیا ہو ان کی اخوت اور ایثار و مروت میں کیا شک ہوسکتا ہے ؟ وہی قتل و غارت اور لوٹ مار کے رسیا لوگ جب اسلام لائے تو اسلام نے ان کی ایسی اخلاقی تربیت کی کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں جہاں گرم ہونے کی ضرورت ہوتی فوراً گرم ہوجاتے اور جہاں نرم ہونے کی ضرورت ہوتی نرم پڑجاتے تھے۔ ان کی باہمی محبت اور ایثار کے واقعات اتنے زیادہ ہیں کہ یہاں یہ بحث چھیڑنا ممکن نہیں۔
48 تیسری صفت شب بیداری اور عبادت گزاری :۔ اس سے مراد یہ گٹہ کا نشان نہیں جو بعض نمازیوں کی پیشانیوں پر پڑجاتا ہے۔ بلکہ یہ ہے کہ ان کے چہرے کو دیکھ کر ایک عام انسان بھی یہ سمجھ جاتا ہے کہ کس قدر اللہ سے ڈرنے والے کریم النفس اور راست باز انسان ہیں۔ جیسا کہ رسول اللہ جب مدینہ تشریف لائے تو عبداللہ بن سلام نے جو اس وقت یہود کے بہت بڑے عالم تھے، آپ کا چہرہ دیکھ کر یہ کہہ دیا تھا کہ ایسا چہرہ کسی جھوٹے انسان کا نہیں ہوسکتا۔ غرضیکہ چہرہ دراصل انسان کا آئینہ ہوتا ہے اور تجربہ بھی یہی بتاتا ہے کہ اکثر عقل مند اور جہاں دیدہ لوگ کسی کا چہرہ دیکھ کر ہی یہ اندازہ لگا لیتے ہیں کہ فلاں آدمی کس قبیل کا آدمی ہوسکتا ہے۔ صحابہ کے چہروں کو دیکھ کر ہی یہ معلوم ہوجاتا تھا کہ یہ لوگ شب بیدار، عبادت گزار اور اللہ سے ڈرنے والے لوگ ہیں اور تورات اور انجیل میں رسول اللہ اور آپ کے ساتھیوں کی جو صفات مذکور ہیں، وہ بھی ایسی ہی ہیں۔
49 چوتھی صفت ناگوار حالات میں اسلام کے پودے کو پروان چڑھانے والی جماعت :۔ یعنی مسلمان پہلے صرف ایک تھا اور وہ تھی رسول اللہ کی ذات اقدس جو اپنی نبوت پر سب سے پہلے خود ایمان لائے۔ پھر ایک سے دو ہوئے، دو سے تین، تین سے سات۔ اسی طرح رفتہ رفتہ اسلام کا پودا زمین سے باہر نکل آیا۔ باہر نکل آنے کے بعد اس پر باد مخالف کی ہوائیں چلنا شروع ہوگئیں۔ جو آہستہ آہستہ مظالم کی تیز آندھیوں میں تبدیل ہوگئیں۔ مگر یہ پودا مخالف ہواؤں کے باوجود اپنی جگہ پر بر قرار رہا۔ پھلتا پھولتا اور بڑھتا رہا۔ مخالف ہوائیں جتنی تند و تیز ہوتیں اتنا ہی یہ پودا مضبوط جڑیں پکڑتا اور بلند ہوتا گیا حتیٰ کہ فتح مکہ کے دن یہ پودا ایک مضبوط اور تناور درخت کی شکل اختیار کر گیا۔ جوں جوں یہ پودا بڑھ رہا تھا۔ مخالف قوتیں اسے دیکھ کر جل بھن جاتی تھیں۔ مگر اس پودے کو لگانے والے، اس کی آبیاری اور نگہداشت کرنے والے اسے دیکھ کر اتنا ہی خوش ہوجاتے تھے اور پھولے نہ سماتے تھے اور جب یہ مضبوط درخت بن کر اپنی جڑوں پر استوار ہوگیا۔ اس وقت مخالف طاقتوں کو پوری طرح معلوم ہوگیا کہ اب وہ اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتیں۔ بلکہ اس کے سایہ تلے پناہ لینے کے بغیر اور کوئی چارہ باقی نہیں رہ گیا۔ اس درخت کی آبیاری اور نگہداشت کرنے والی صحابہ کرام کی وہ مقدس جماعت تھی جو نبی اخر الزمان پر ایمان لائے تھے پھر عمر بھر دل و جان سے اس کی اطاعت کرتے اور اس کے اشاروں پر چلتے رہے۔ ایسے لوگوں کا اللہ کے ہاں اجر بھی بہت زیادہ ہے جو ان کی چھوٹی چھوٹی لغزشوں کو معاف کرکے انہیں جنت کے بلند درجات عطا فرمائے گا۔ اس آیت سے بعض علماء نے یہ استنباط کیا ہے کہ صحابہ کرام ؓ سے جلنے والا اور ان کے متعلق بغض اور کینہ رکھنے والا شخص کبھی مسلمان نہیں ہوسکتا۔