Ayahs 52:1–2[ 1] کوہ طور کی قسم اور اس سے مقصود و مراد ؟:
سو ارشاد فرمایا گیا کہ قسم ہے طور کی، جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف نصیب ہوا، اور نبوت عطا ہوئی جو اللہ تعالیٰ کے قانون مکافات و مجازات کا ایک عظیم الشان اور تاریخی نشان ہے، اور جہاں بنی اسرائیل جیسی ظلم و ستم میں دبی اور پسی ہوئی اور صدیوں کی غلامی میں جکڑی ہوئی قوم کو اٹھائے جانے، اور فرعون جیسے ظالم اور اس کی بگڑی ہوئی قوم کی غرقابی کے فیصلے کا گویا اعلان کردیا گیا تھا، سو یہ ایک تاریخی ثبوت ہے قانون مکافات کا، یعنی اس بات کا کہ اللہ پاک کی اس دنیا میں صرف قانون طبیعی ہیں لاگو نہیں کہ یہ کائنات کچھ لگے بندھے طبیعی قواعد و ضوابط کے مطابق یونہی چلتی رہے، اور پھر بغیر کسی نتیجہ وثمرہ کے یونہی ختم ہوجائے اور بس۔ نہیں ایسے نہیں، بلکہ اس میں ایک قانون اخلاق [ Moral Law ] بھی کارفرما ہے جس کے مطابق انسان جیسی عظیم الشان اور ذی اختیار مخلوق کے حق میں فیصلہ کیا جاتا ہے، تاکہ ہر کوئی اپنے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ پاس کے، اور اس طرح عدول و انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔ اس لئے قیام قیامت ضروری ہے تاکہ جزاء و سزا کا یہ عظیم الشان مقصد اپنی آخری اور کامل شکل میں پورا ہوسکے، ورنہ دنیا کی اس عظیم الشان تخلیق کا مقصد ہی ختم ہوجاتا ہے۔ بہرکیف تاریخ کے اس عظیم الشان حوالے سے یہ عظیم الشان اہم اور بنیادی حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اللہ پاک کی اس دنیا میں صرف قانون طبیعی ہی نہیں۔ بلکہ قانون مکافات [ Law of Retribution ] بھی لاگو ہے جس کے کچھ مظاہر اس دنیا میں بھی کبھی کبھی یہاں اور وہاں جگہ جگہ پیش آتے رہتے ہیں، مگر جزا و سزا کے تقاضے پوری طرح اس دنیا میں پورے نہیں ہوسکتے۔ کہ نہ دنیا کے اس ظرف ناقص محدود میں اس کی گنجائش ہے، اور نہ ہی یہ اس کا موقع و محل ہے، کہ یہ دنیا دارالعمل ہے نہ کہ دار الجزائ، سو جزا و سزا کے تقاضے اپنی کامل اور آخری شکل میں آخرت کے اس جہان حقیقی ہی میں پورے ہوں گے اور وہیں پورے ہو سکیں گے، کہ وہی اس کا موقع و محل بھی ہوگا کہ وہ دارالجزاء ہے، اور اس کا ظرف بھی لامحدود ہوگا جس میں ہر کوئی اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ پاس کے گا، سو اس نے اس دنیا کے خاتمے کے بعد بہرحال آکر رہنا ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے حق اور حقیقت بہرحال یہی اور صرف یہی ہے۔ پس اس جہان کے تقاضوں کو ہی اپنا اصل مقصد اور حقیقی نصیب العین بنانا عقل اور نقل دونوں کا تقاضا ہے، وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الیٰ السبیل، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، فی کل ان وحین،
Ayah 52:3[ 3] رقٍ منشورٍکامفہوم اور اس سے مقصود و مراد ؟ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لکھی ہے ایک کھلے ہوئے دفتر میں۔ رق اور رق یعنی فتح اور کسرہ دونوں کے ساتھ دراصل اس باریک جلد کو کہا جاتا ہے جس پر لکھا جاتا ہے اور اسی جلد کے حکم میں ہے وہ کاغذ وغیرہ بھی جس پر لکھا جاتا ہے، اسی لئے ابوعبیدہ لغوی نے رق کے معنی ورق ہی کے کئے ہیں [ روح، قرطبی، محاسن اور صفوہ، وغیرہ ] ور منشور [ کھلے ہوئے دفتر ] سے مراد یہ ہے کہ وہ ہر کسی کے پڑھنے کے لیے موجود ہے، جیسا کہ جملہ آسمانی کتب کی یہی شان رہی ہے، اور خاص کر قرآن حکیم کی جو کہ سب کی جامع، سب سے آخری، اور سب کے لئے ناسخ کتاب ہے، اس میں دوسرے اوصاف اور خصائص کی طرح یہ وصف بھی بدرجہئِ اتم موجود ہے، اور لوح محفوظ سے فرشتے پڑھتے ہیں، اور نامہئِ اعمال کل قیامت کو لوگوں کے پڑھنے کے لیے پھیلا دئیے جائیں گے اور ہر ایک انسان سے کہا جائے گا لو تم اپنا عمال نامہ خود پڑھ لو۔ اقرا کتٰبک [ اپنی کتاب کو تم خود پڑھ لو ] اور خود ہی دیکھ لو کہ تم کس سزا و جزا کے مستحق ہو۔ { کفٰی بنفسک لیوم علیک حسیبا۔} [ بنی اسرائیل : 15 پ 14] سو یہ ساری ہی آسمانی کتابیں جو حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے اس کے بندوں کی ہدایت و راہنمائی کیلئے نازل فرمائی گئیں، مکافات عمل اور جزاو سزا کے بارے میں دنیا کو بتارہی ہیں، جیسا کہ ابھی اوپر کے حاشیہ میں بھی گزرا ہے، اور اس ضمن میں قرآن حکیم کا معاملہ سب سے اعلیٰ وبالا اور کامل و مکمل ہے، سو اس کے باوجود جزاوسزا اور مکافات عمل کی اس حقیقت کا انکار اور قیام قیامت کا جھٹلانا کھلا مکابرہ اور انتہائی سخافت اور ظلم ہے۔ اور اس طرح ایسے لوگ اپنے لئے ہولناک خسارے کا سامان کرتے ہیں، مگر ان کو اسی کا احساس و شعور ہی نہیں، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین،
Ayah 52:4[ 4] بیت معمور کی قسم اور اس سے مقصود و مراد ؟:
سو ارشاد فرمایا گیا اور قسم ہے اس آباد گھر کی۔ یعنی کعبۃ اللہ کی، جو کہ حج، عمرہ، طواف، نماز، اعتکاف، ذکر و فکر اور تعلیم و تذکیر وغیرہ عبادات سے معمور آباد ہے۔ کیونکہ یہ بیت عظیم اپنی اس شان و شوکت اور ہیبت کذائیہ کے ساتھ ساتھ پیغمبروں کی صداقت و حقانیت کی دلیل، اور اس بات پر ایک کھلی نشانی اور اس کا واضح ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کی تصدیق و تائید ان حضرات کی پشت پر ہوتی ہے، جو ایمان و یقین کی دولت سے سرفراز و سرشار ہوتے ہیں اور جو کچھ ان حضرات نے کہا اور جزا و سزا کے بارے میں جو کچھ بتایا ہے وہی حق و صدق ہے، کہ کس طرح صدیوں پہلے اللہ کے ایک بندے نے اس بےآب و گیا وادی میں اللہ پاک کی عبادت و بندگی کیلئے اس گھر کی بنیاد رکھی، پھر اس کو مکمل کرنے کے بعد اس نے اعلان کیا کہ اے لوگو ! تم پر اس گھر کا حج فرض کیا گیا ہے لہٰذا تم اس کا حج کرو، یہ آواز کس حیرت انگیز طریقے سے لوگوں تک پہنچی، اور اس نے ان کے دل و دماغ کو اپیل کیا، ان کے دل اس بیت عتیق کے ایسے گروید ہوگئے کہ یہ چار دانگ عالم سے اس کی طرف کھچ کھچ کر چلے آرہے ہیں، اور اس کے گردا گرد دیوانہ وار چکر لگا رہے ہیں، اور یہ سلسلہ جب سے اب تک، اور دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں لگاتار جاری وساری ہے، اور اس گھر اور اس کی برکتوں نے اس بقعہئِ طاہرہ کو امن وامان اور سکون و اطمینان کا ایسا گہوارہ بنادیا کہ پوری روئے زمین پر اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال ممکن نہیں، نہ آج تک کبھی اور کہیں ہوئی ہے، اور نہ قیامت تک کبھی ممکن ہے، سو حق وہی ہے جو حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) نے پیش فرمایا۔ بیت معمور سے مراد کے بارے میں یہ ایک قول ہے، یعنی یہ کہ اس سے مراد بیت اللہ ہے جب کہ دوسرا قول اس بارے میں مفسرین کرام کا یہ ہے کہ اس بیت معمور سے مراد وہ گھر ہے جو کہ ساتویں آسمان میں واقع ہے، جو بیت اللہ کے بالکل محازاۃ میں واقع ہے، اور جو فرشتوں کی عبادت و بندگی کیلئے اسی طرح ایک عظیم الشان مرکز کی حیثیت رکھتا ہے جس طرح زمین والوں کیلئے کعبہ مشرفہ اور جس کے ساتھ آنحضرت ﷺ نے شب معراج میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ٹیک لگائے بیٹھے دیکھا تھا، اور ان دونوں قولوں میں کوئی تضاد نہیں، بلکہ دونوں ہی مراد ہوسکتے ہیں، [ ابن کثیر، خازن، وغیرہ ] اور بعض لوگوں نے اس بارے میں کچھ اور احتمال بھی پیش کیے ہیں، لیکن وہ الفاظ و کلمات کے ظاہر اور ان کے تبادر کے خلاف ہیں، والعلم عند اللہ سبحانہ وتعالیٰ جل وعلا۔ بہرکیف اس میں جزاوسزا کے اثبات کیلئے بیت المعمور کی قسم کھائی گئی ہے۔ اور یہ بھی بڑی اہم قسم ہے۔ اور اس میں بھی بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں، غور و فکر کرنے والوں کیلئے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید،
Ayah 52:5[ 5] سقف مرفوع کی قسم اور اس سے مقصود و مراد :
سو ارشاد فرمایا گیا " سو قسم ہے اس اونچی اٹھائی گئی چھت کی " یعنی آسمان کی جو کہ اس دنیا کے لئے بمنزلہ چھت کے ہے اور جو کہ قادر مطلق ررب ذوالجلال کی قدرت مطلقہ اور حکمت بالغہ کا ایک عظیم الشان مظہر اور کھلی ہوئی علامت ہے، سبحانہ و تعالیٰ ، سو اس ارشاد سے زمین کے بعد آسمان کی شہادت پیش فرمائی گئی ہے، اور یہ قرآن حکیم کا ایک عام معروف اسلوب ہے کہ یہ اپنے دعاوی کی تائید و تصدیق میں بالعموم زمین کی نشانیوں کے ساتھ ساتھ آسمان کی نشانیوں کا بھی حوالہ دیتا ہے، جیسا کہ پ 26 سورة الذٰرِیٰت کی آیت نمبر 20 تا 22 میں اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا۔ { وفی الارض اٰیت للموقنین۔ وفی انفسکم ط افلا تبصرون } یعنی زمین کے اندر بڑی بھاری نشانیاں ہیں یقین والوں کیلئے۔ اور اس کے ساتھ ہی تیسری آیت میں ارشاد فرمایا گیا۔ { وفی السماء رزقکم وما تو عدون } " اور آسمان میں تمہاری روزی بھی ہے اور وہ کچھ بھی جس سے تمہیں ڈرایا جاتا ہے "۔ اور یہاں آسمان کی صفت مرفوع بیان فرمائی گئی جو کہ اللہ پاک کی قدرت کاملہ اور حکمت بلغہ کے علاوہ اس کی رحمت و عنایت اور ربوبیت پر بھی ایک کھلی اور واضح دلیل ہے کہ یہ اس رب رحمن و رحیم کی عنایت بالغہ اور بےپایاں کرم گستری ہی کا ایک عظیم الشان مظہر ہے کہ اس نے اپنے بندوں کے سروں پر یہ ایک عظیم الشان اور بےمثال خیمہ اس پر حکمت طریے سے تان دیا، جو اس میں غور و فکر کی نگاہ ڈالنے والوں کیلئے اپنے اندر عظیم الشان نشانہائے عبرت و بصیرت رکھتا ہے، تو پھر ایسے قادر مطلق کی قدرت مطلقہ سے آخر کون سا کام باہر ہوسکتا ہے ؟ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو وہ ہر چیز پر قادر اور ہر اعتبار سے اور ہر حال میں قادر ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ جل و علا، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب،
Ayah 52:6[ 6] بحر مسجور کی قسم اور اس سے مقصود و مراد ؟:
سو ارشاد فرمایا گیا " اور قسم ہے اس جوش مارتے سمندر کی "۔ جو آج پانی کی موجوں کی شکل میں جوش مار رہا ہے۔ اور کل قیامت کے روز بھڑکتی ہوئی آگ کی صورت میں جوش مار رہا ہوگا۔ سو سمندر کا یہ عظیم الشان ذخیرہء آب حضرت حق۔ جل مجدہ۔ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کا ایک عظیم الشان مظہر ہے کہ اسی کی طرف سے اس کو اس طرح روک کر اور بند کرکے رکھا گیا ہے، کہ پانی کا اس قدر ذخیرہ ہونے کے باوجود یہ زمین اور اہل زمین کو غرق نہیں کرتا، جیسا مسند امام احمد (رح) کی روایت میں حضرت عمر ؓ سے مروی ہے کہ سمندر روزانہ تین مرتبہ حق تعالیٰ سے اجازت مانگتا ہے کہ اپنی حدوں کو پھلانگ کر باہر نکل جائے، مگر خدائے پاک اس کو اس سے روک دیتے ہیں، [ ابن کثیر، ابن جریر، مراغی، وغیرہ ] تو " بحر " کے تین معنی ہوئے الامتلاء [ بھرا ہوا ہونا اور جوش مارنا ] " الایقاد " [ بھڑک اٹھنا ] " الکف والمنع " [ رُکا ہوا اور بند ہونا ] اور یہ تینوں معانی یہاں مراد لینا درست ہے اور ہر صورت میں معنی بھی صحیح ہے، اور اس کا ایک عمدہ اور وقیع مطلب بھی بنتا ہے، جیسا کہ ابھی گزرا، رہ گئی یہ بات کہ پانی کا یہ ذخیرہ کس طرح بھڑک سکتا ہے، تو موجودہ سائنسی تحقیقات کی روشنی میں بھی اگر دیکھا جائے تو اس پانی کا اس طرح ہونابرائے خود ایک معجزہ اور قدرت کا ایک عجوبہ ہے، کہ سائنس کا کہنا ہے کہ پانی کی ترکیب آکسیجن اور ہائیڈروجن ان دو مختلف گیسوں سے ہے، جن میں سے ایک بھڑکا دینے والی اور دوسری بھڑک اٹھنے والی ہے، مگر ان دونوں کی ترکیب سے وجود میں آنے والا پانی آگ کو بجھا دینے والا ہے۔ فسبحان اللّٰہ القادر الحکیم جل و علا شانہٗ سو جس دن حضرت حق جل مجدہٗ کی اس عالم رنگ و بو کو نیست و نابود کرکے عالم آخرت کو قائم کرنا اور قیامت کو بپا کرنا منظور ہوگا، اس دن اس کے محض ارادہ و اشارہ ہی سے پانی کی صورت میں موجود ان دونوں گیسوں کا یہ نہایت باریک اور پر حکمت تناسب ختم ہوجائے گا اور اس کی مشیت سے سمندری پانی کے یہ عظیم الشان ذخائر آگ بن جائیں گے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { واذا البحار سجرت } [ التکویر : 6 پ 30] سو یہ سب کچھ اس یوم عظیم کے آثار و اثرات میں سے ہے۔ والامرللّٰہ جل وعلا، سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 52:7[ 7] جواب قسم کا ذکر وبیان :
سو ان چھ قسموں کے بعد جو اب قسم کے ذکر وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا بیشک تمہارے رب کے عذاب نے بہرحال واقع ہو کر رہنا ہے۔ سو یہ جواب ہے ان سب قسموں کا جن کا ذکر اوپر ہوا کہ یہ سب قسمیں اللہ پاک کی عظیم الشان اور بےپایاں قدرت کا پتہ دیتی ہیں اس لئے نہ تو یہ عجیب و غریب عالم بےمقصد ہوسکتا ہے، اور نہ ہی اس عالم کی ان سب چیزوں سے فائدہ اٹھانے والا حضرت انسان جواب دہی اور بازپرسی سے بچ سکتا ہے، پس بدلے اور انصاف کے اس دن کا آنا عقل سلیم اور فطرت مستقیم کے تقاضوں کے عین مطابق ہے، تاکہ اس طرح ہر کسی کو اس کے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا بدلہ وصلہ مل سکے، نیکوں کو ان کی نیکی کا، اور بروں کو ان کی برائی کا، اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہو سکیں، اور اس طرح اس دنیا اور اس کے گل سرسبد یعنی حضرت انسان کی تخلیق اور اس کے مقصد وجود کی تکمیل ہو سکے، کیونکہ سزاوجزا کے تصور کے بغیر یہ سارا کارخانہ ہست و بود ہی عبث اور بیکار ہو کر رہ جاتا ہے، کیونکہ اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ خیر و شر اور نیک و بد سب برابر ہیں، والعیاذ باللّٰہ، پس عقل و نقل کا تقاضا ہے کہ ایک ایسا یوم فصل و جزا آئے جس میں نیک و بد ہر ایک کو اس کے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ ملے، سو وہی یوم قیامت ہے، جس نے اس دنیا کے بعد آنا ہے، اور بہرحال آکر رہنا ہے۔ سو عقل و دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ اس یوم حساب کو اور اس کے تقاضوں کو اور اس کے مقصد کو ہمیشہ پیش نظر رکھا جائے کہ وہاں کی کامیابی ہی اصل کامیابی ہے وباللہ التوفیق۔ اور وہاں کی ناکامیہی سب سے بڑی اور ہولناک ناکامی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ ہر حال میں او ہر اعتبار سے اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر گامزن رکھے۔ اور نفس شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین، سبحانہ وتعالیٰ جل و علا۔
Ayahs 52:8–9[ 8] رب کے عذاب کو کوئی ٹال نہیں سکتا :
سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک تمہارے رب کے عذاب نے بہرحال آکر اور واقع ہو کر رہنا ہے اسے کوئی ٹالنے والا نہیں ہوگا۔ اپنے اس وقت سے جو اس کے لئے تمہارے رب نے مقرر فرما رکھا ہے اور جس کا علم اسی وحدہٗ لاشریک کو ہے، یہاں کائِن [ ہونے والا ] نہیں بلکہ " واقعٌ " فرمایا گیا ہے جس کے معنی بلندی سے نیچے گرنے والی، اور زور سے لگنے والی چیز کے ہیں، سو وہ عذاب بڑا ہی ہولناک ہوگا، اور وہ بہرحال ہو کر رہنے والا ہے، یہ منکر لوگ نہ تو خود اس کو ٹال سکیں گے اور نہ ہی ان کے مزموعہ شرکاء و شفعاء میں سے کسی کے اندر اس کا ٹالنے کی کوئی ہمت و سکت ہوگی، پس کوئی مانے یا نہ مانے، ایمان لائے یا نہ لائے، تسلیم کرے یا نہ کرے۔ یہ امر بہرحال قطعی اور یقینی ہے کہ اس عذاب نے اپنے وقت پر بہرحال آکر اور واقع ہو کر رہنا ہے، سو بڑے بدنصیب، محروم اور خسارے والے ہیں وہ لوگ جو اس یوم عظیم اور اس کے تقاضوں سے غفلت میں پڑے ہوئے ہیں، اور وہ اس کو بھول کر عمر رواں کی فرصت محدود و مختصر کو یونہی ضائع کر رہے ہیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جو خبر دی گئی آسمانی اور الہامی کتابوں میں جو ریکارڈ مرقوم و مسطور ہے اور یہ زمین جن شواہد و دلائل سے مملوومعمور ہے، اور اس نیلگوں آسمان کا یہ سقف مرفوع جن عجائب قدرت سے مزین ہے اور یہ ٹھاٹھیں مارتے سمندر جن آیات الٰہی اور دلائل قدرت کے امین و پاسدار ہیں، یہ سب اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ تمہارے رب کے عذاب نے بہرحال واقع ہر کر رہنا ہے، اور اس حد تک کہ اس میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی، اس کے باوجود جو لوگ اس حقیقت کبری کو ماننے کیلئے تیار نہیں ہوتے، تو ان کا کوئی علاج نہیں سوائے اس کے کہ وہ اس عذاب میں مبتلا ہو کر رہیں جس سے ان کو خبردار کیا جا رہا ہے، لیکن اس کے بعد ان کیلئے اس سے نچنے کی کوئی صورت کسی بھی طرح ممکن نہ ہوگی، اور جرم تکذیب و انکار کے نتیجے میں ان کو ہمیشہ ہمیش کے عذاب میں رہنا ہوگا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف، بکل حال من الاحوال۔
Ayah 52:10[ 9] وقوع قیامت کے ہولناک حوادث کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس روز لرز اٹھے گا یہ آسمان تھرتھراکر، اور جب پہاڑ چل پڑیں گے اپنی جگہیں چھوڑ کر۔ اور اپنی اس معتاد و معروف چال کے خلاف، جو کہ وہ آج زمین کی حرکت کے تابع ہو کر چل رہے ہیں، کہ اس روز یہ سلسلہ ختم ہوجائے گا، کیونکہ اس روز ایک نئے جہاں نے نئے توامیس و قوانین کے مطابق وجود میں آنا ہے، سو اس روز اول تو یہ پہاڑ اپنی اپنی جگہوں سے اکھڑ کر بادلوں کی شکل میں ہوا میں اڑیں گے۔ { وتری الجبال تحسبھا جامدۃ وہی تمر مر السحاب صنع اللّٰہ الذی اتقن کل شیء ط انہٗ خبیرٌ م بما تفعلون } [ النمل : 88 پ 20] پھر یہ روئی کے گالوں کی طرح ہوجائیں گے۔ { وتکون الجبال کالعھن المنفوش } [ القارعۃ : 5] پھر یہ زمین پر گر کر ریگ رواں کے ٹیلوں کی طرح ہوجائیں گے۔ { کثیبا مہیلا } [ المزمل : 14] اور پھر ہوا ان کو ریت کے ذروں کی طرح اڑا کر { ھبائً منثورًا } کر دے گی۔ [ المراغی، وغیرہ ] سو یہ تصویر ہے اس حادثہئِ کبری کی جو قیامت کے اس ہولناک موقع پر، اس ساری کائنات پر چھا جائے گا، اور یہ سب کچھ جو آج بڑا مستحکم نظر آ رہا ہے سب ڈانوں ڈول ہوجائے گا، اور یہ سب نظام درہم برہم ہوجائے گا، یہ آسمان جو آج بڑا مستحکم اور اپنی جگہ ٹکا ہوا نظر آرہا ہے اس روز لرز اٹھے گا کپکپا کر، اور یہ پہاڑ جو آج اپنی صلابت میں ضرب المثل ہیں، اڑنے لگیں گے روئی کے گالوں کی طرح، بہرکیف اس سے اس عذاب کی تصویر پیش فرمادی گئی ہے۔ سو جب آسمان و زمین کی اس مخلوق اور ان دیوہیکل پہاڑوں کا یہ حال ہوگا تو پھر اس انسان ضعیف البنیان پر اس روز کیا گزرے گی ؟ اور اس کا اس روز کیا حال ہوگا ؟ سو اس روز اس کی قوت و جمعیت اس کے لاؤ لشکر اور اس کے مضبوط قلعوں اور مورچوں میں سے کوئی بھی چیز اس کے کچھ کام نہ آسکے گی جن پر آج اس کو بڑا ناز ہے۔ اور جن کی بناء پر یہ نچنت اور بےفکر بیٹھے ہیں، پس حفاظت اللہ تعالیٰ ہی کی حفاظت ہے، سبحانہ وتعالیٰ ، فسبحان اللہ القادر الحکیم جل و علا شانہ وعم نوالہٗ والحمدللہ رب العالمین، فی کل زمان ومکان، وبکل حالٍ من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیوۃ۔
Ayah 52:11[ 10] جھٹلانے والوں کے لئے بڑی خرابی۔ والعیاذ باللّٰہ :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اس روز جھٹلانے والوں کیلئے بڑی ہی ہولناک خرابی اور ہلاکت و تباہی ہوگی۔ والعیاذ باللّٰہ۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز بڑی خرابی ہوگی جھٹلانے والوں کیلئے جنہوں نے پیغام حق و ہدایت کو جھٹلا کر اپنے آپ کو ہلاکت و تباہی کی راہ پر ڈال دیا تھا کہ زندگی کی پونجی کو انہوں نے حق و صدق کی تکذیب و انکار میں ضائع کردیا ہوگا، اور آخرت کے لئے کمائی سے وہ محروم رہے ہوں گے، جو اس یوم عظیم میں ان کو کام آتی، اور اب کمائی اور تلافیئِ مافات کی کوئی صورت ممکن نہیں ہوگی، اس لئے اس روز ان کو اپنی تکذیب اور انکار حق کی پاداش میں ہمیشہ کیلئے عذاب الیم بھگتنا ہوگا۔ سو اس سے بڑھ کر ہلاکت و خرابی اور تباہی و نقصان اور کیا ہوسکتا ہے ؟ والعیاذ باللّٰہ العزیز الرحمن، پس تکذیب حق خرابیوں کی خرابی اور محرومیوں کی محرومی ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا اور صاف صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جھٹلانے والوں کے اس روز بڑی ہی ہولناک خرابی ہلاکت و تباہی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اور ہر طرف سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے اور ہر قسم کے زیغ و ضلال سے ہمیشہ محفوظ و مامون رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayahs 52:12–13[ 11] مکذبین کی غفلت شعاری اور سخن سازی کا حوالہ و ذکر :
سو اس سے مکذبین یعنی جھٹلانے والوں کی ایک خاص صفت یعنی ان کی غفلت اور سخن سازی کا حوالہ و ذکر فرمایا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ بڑی ہی ہولناک خرابی اور ہلاکت ہے ان جھٹلانے والوں کے لئے جو اپنی سخن سازیوں میں پڑے کھیل رہے ہیں۔ خوض کے اصل معنی گھسنے اور پانی میں چلنے کے ہیں، پھر یہ مطلقاً شروع کرنے اور اپنانے کے معنی میں مستعمل ہونے لگا۔ اور پھر باطل میں گھسنے اور مشغول ہونے کے معنی میں استعمال کیا جانے لگا، اور باطل پرست انسان چونکہ اپنے باطل کو درست ثابت کرنے کے لئے طرح طرح کی منطق طرازی، سخن سازی، اور حجت بازی، سے کام لیتا ہے، اور حق بات کو سمجھنے سیکھنے میں نہ تو وہ مخلص ہوتا ہے، اور نہ اس کا شوقین اور خواہش مند، اس لئے وہ محض حجت بازی، دل لگی اور مذاق و استہزا کے طور پر بات کرتا ہے، جس کی بناء پر وہ نور حق و ہدایت سے اور دور اور محروم ہوتا چلا جاتا ہے، اور اس طور پر کہ اس کو اس کا کوئی خیال و احساس بھی نہیں ہوتا، کہ اس طرح وہ کتنے بڑے خسارے میں مبتلا ہو رہا ہے، اور کس قدر ہولناک انجام کی طرف بڑھ رہا ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم، سو ایسے لوگ حق اور اہل حق کے خلاف طرح طرح کی باتیں بناتے، حق کا راستہ روکنے کے لئے طرح طرح کے ہتھکنڈے اپناتے، اور قسما قسم کے پروپیگنڈے کرتے ہیں، اور اس طرح ایسے لوگ اپنی شقاوت و بدبختی اور ہلاکت و محرومی میں اور پکے ہوتے چلے جاتے ہیں مگر ان کو اس کا کوئی شعور و احساس ہی نہیں ہوتا اور یہ چیز خسارے پر خسارہ اور ہلاکت پر ہلاکت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے اور ہمیشہ راہ حق پر گامزن رہنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 52:14[ 12] منکرین و مکذبین کی تزلیل کے ایک منظر کا ذکر وبیان :
سو اس سے منکرین و مکذبین کی تحقیر و تذلیل اور ان کی تانیب و توبیخ کا ایک نہایت ہی ہولناک منظر پیش فرمایا گیا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اس دن ان کو دھکے مار مار کرلے جایا جائے گا، دوزخ کی طرف اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ چیز جس کو تم لوگ جھٹلایا کرتے تھے۔ یعنی اپنی دنیاوی زندگی میں۔ اور ایسا کہنا ان کی تحقیر و تذلیل اور تقبیح و تفضیح کیلئے ہوگا۔ ان کے ہاتھوں کو ان کی گردنوں سے اور ان کی پیشانیوں کو ان کے قدموں سے باندھ کر۔ [ ابن جریر، ابن کثیر، بحر، مدارک، بیضاوی وغیرہ ] " دَعَ " کے معنی نہایت شدت اور نفرت کے ساتھ دھکے دینے کے ہیں۔ اور پھر " دَعاً " سے اس کی مزید تاکید فرما دی گئی۔ سو اس طرح ان کی تذلیل در تذلیل ہوگی، جو اصل میں بدلہ ہوگا ان کے اس کبر و غرور اور عناد و اسکتبار کا جس کی بناء پر یہ لوگ دنیا میں حق و ہدایت کے مکذب و منکر اور اس سے منحرف رہے تھے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو آج تو یہ منکر لوگ اپنی دل لگیوں اور سخن سازیوں میں مست و مگن اور حق سے منہ موڑے ہوئے ہیں، لیکن اس روز ان کو اس ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا، والعیاذ باللّٰہ۔ یہاں پر { یُدعون } کے مضارع کی تاکید کے لئے { دَعاً } کے مصدر کو ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ آج تو یہ لوگ اس طرح لاپرواہی اور غفلت کے ساتھ نچنت اور بےفکر ہو کر اس طرح کی دل لگیوں اور خود فریبیوں میں لگے ہوئے ہیں لیکن اس روز ان کو ایسی ہولناک ذلت و رسوائی سے سابقہ پیش آنے والا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا اکرم الاکرمین،
[ 13] منکرین و مکذبین کی تزلیل و تقضیح قول و فعل دونوں سے۔ والعیاذ باللّٰہ :
ان آیات کریمات سے واضح فرما دیا گیا کہ اس روز منکرین و مکذبین کی تحقیر و تذلیل قول اور فعل دونوں سے ہوگی، چناچہ اوپر ان کی فعلی تذلیل و تحقیر کا ذکر اور بیان فرمایا گیا کہ ان کو اس روز دھکے مار مار کر دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ کی طرف لے جایا جائے گا کہ یہ ہے وہ آگ جس کو تم لوگ جھٹلایا کرتے تھے۔ پس اب تم بتاؤ کیا یہ جادو ہے ؟ جیسا کہ تم لوگ دنیا میں حق و ہدایت کی دعوت کے جواب میں کہا کرتے تھے اور اس کو جادو کہہ کر اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے، اور حق کو اپنانے کی بجائے تم اس سے اور زیادہ بدکتے اور دور ہوا کرتے تھے، اور اللہ کے رسول ﷺ جن تم کو اس انجام سے ڈراتے اور خبردار کرتے تھے تو تم لوگ خود اپنے آپ کو اور اپنے عوام کو نچنت اور بےفکر رکھنے کیلئے قرآن کے انذار کو الفاظ کی جادو گری قرار دیا کرتے تھے، اور تم مست اور مگن ہو کر کہا کرتے تھے کہ زندگی تو بس یہی دنیاوی زندگی ہے اور بس، جس نے اس میں عیش کرلی اس نے عیش کرلی، وغیرہ وغیرہ، سو اب تم بتاؤ کہ یہ جادوگری ہے یا حقیقت ؟ اب تمہیں یہ حقیقت نظر آرہی ہے یا کہ نہیں ؟ یا تم اب بھی ویسے ہی اندھے ہو، جیسے دنیا میں تھے اور جیسا کہ تم کو دنیا میں کچھ دکھتا اور سوجھتا نہیں تھا ؟ سو اس سے ان بدبختوں کے دل و دماغ پر جو گزرے گی اس کا اندازہ کون کرسکتا ہے ؟ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 52:15[ 14] منکرین و مکذبین کی تحقیر و تذلیل مزید کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہا جائے گا کہ کیا تم لوگوں کو اب بھی کچھ دکھتا اور سوجھتا ہے کہ نہیں ؟ جیسے دنیا میں نہیں سوجھتا تھا۔ اب بتاؤ کہ یہ جادوگری ہے یا قطعی حقیقت ؟ سو اس طرح وہ بدبخت مارے افسوس اور صدمے کے اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائیں گیم، مگر اس کا کوئی فائدہ ان کو بہرحال نہیں ہوگا، سوائے یاس و حسرت اور غم اندوہ میں اضافے کے، والعیاذ باللّٰہ العظیم، سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس کتاب حکیم قرآن مجید کا دنیا میں ہی آگاہ کردیا ہے، تاکہ جس نتے ان کو غیب کے ان عظیم الشان اور جلیل القدر حقائق سے اس قدر صراحت و وضاحت کے ساتھ اس دنیا میں ہی آگاہ کردیا ہے، تاکہ جس نے بچنا ہو بچ جائے، سو کتنے بدنصیب اور کس قدر محروم ہیں وہ لوگ جو اس سب کے باوجود اس کتاب حکیم سے منہ پھیرے ہوئے ہیں اور اس کی تکذیب کرتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو تکذیب و انکار حق کا بڑا جرم ہی سنگین اور انتہائی ہولناک جرم ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے ہر شائبے سے محفوظ اور ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے اور ہمیشہ اپنی مرضیات پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayahs 52:16–17[ 15] منکرین کو دوزخ میں داخلے کا حکم۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا :
سو منکرین و مکذبین کی اس طرح تذلیل و توبیخ کے بعد ان کو صاف اور صریح طور پر حکم ہوگا کہ اب تمداخل ہوجاؤ اس دوزخ میں برابر ہیں تمہارے حق میں کہ تم لوگ صبر کرو یا نہ کرو اب تم نے بہرحال اسی میں رہنا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ، کہ تمہارے چھٹکارے کی کوئی صورت اب بہرحال ممکن نہیں، کہ تم لوگوں کو دائمی ٹھکانہ دوزخ کی یہ دہکتی آگ ہی ہے جس میں تم لوگوں کو ہمیشہ ہمیش کیلئے جلتے رہنا ہے کہ یہ طبعی تقاضا اور لازمی نتیجہ ہے تمہارے اس کفر و انکار کا جس کو تم لوگوں نے زندگی بھر گلے لگائے رکھا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس سے دنیا کی زندگی اور اس کے عمل کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ آج یہاں کے تھوڑے سے صبر و برداشت کی بھی بڑے قدر و قیمت ہے جب کہ وہاں کے ہمیشہ ہمیش کے صبر سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا، والعیاذ باللّٰہ، اور ان سے صاف اور صریح طور پر کہہ دیا جائیگا کہ اب تم صبر کرو یا چیخو چلاؤ، دونوں صورتیں تمہارے لئے ایک برابر ہیں، نہ تمہیں صبر کی کوئی داد مل سکتی ہے، اور نہ تمہاری آہ و بکا اور چیخ و پکار کی کوئی شنوائی ہوسکتی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے اور ہمیشہ اور ہر حال میں راہ حق پر ثابت قدم رہنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین۔
[ 16] عذاب دوزخ انسان کے اپنے ہی عمل کا نتیجہ۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہا جائے گا اور صاف وصریح طور پر اور حصر و قصر کے اسلوب میں کہا جائے گا کہ تم لوگوں کو تو بس اپنے کیے کرائے ہی کا بدلہ دیا جا رہا ہے۔ پس تم سے کسی زیادتی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کہ یہ سب کچھ نتیجہ وثمرہ ہے تمہارے اپنے ہی زندگی بھر کے کیے کرائے کا، اور نور حق و ہدایت سے انحراف و روگردانی کا، والعیاذ باللّٰہ العظیم پس یہ تمہاری اپنے ہی بوئی فصل ہے اس کا پھل تم خود کاٹو، اور اپنے کیے کرائے کا بھگتان خود بھگتو اور خود اپنے آپ ہی کو کوسو۔ { ولوموا انفسکم } کہ یہ جو کچھ بھی آج تمہارے سامنے آیا ہے تمہارے اپنے ہی اعمال کا طبعی نتیجہ ہے۔ سو جس کفر و انکار، بغاوت سرکشی اور تکذیب و روگردانی کو تم لوگوں نے دنیا میں اپنا رکھا تھا اور شیطان نے اپنی ملع سازی سے اس کو تمہارے لئے مزین و خوشنما بنا رکھا تھا۔ وہ سب اب اپنی اصلی شکل میں تمہارے سامنے آگیا ہے۔ پس اب تم لوگ اپنے کیے کرائے کا نتیجہ و انجام بھگتو اور بھگتتے ہی رہو کہ اب تمہارے لئے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔ والعیاذ باللّٰہ جل و علا۔
Ayah 52:18[ 19] اہل جنت کی لطف اندوزیوں کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہاں پر وہ لطف اندوز ہو رہے ہوں گے وہاں کی ان عظیم الشان نعمتوں سے جو ان کو اللہ نے بخشی ہونگی محض اپنے کرم و احسان سے۔ اور ان کے ایمان و یقین اور صدق و اخلاص کی بناء پر، سو وہ ہر طرح کے رنج و غم سے محفوظ اور ہر اعتبار سے شاداں وفرحاں ہوں گے، جو متقضٰی ہے " فاکہین " لے لفظ کا، اللہ نصیب فرمائے آمین، اور " بما اتھم ربھم " میں جو ابہام ہے وہ تفحیم شان کی دلیل ہے، سو کوئی اندازہ نہیں کرسکتا کہ ان کے رب نے ان کو وہاں پر کیا کچھ بخشا ہوگا، ان نعمتوں کی حقیقت اسی دن کھلے گی جس دن یہ عطا ہونگی اور انہی خوش نصیبوں پر کھلے گی جن کو یہ عطا ہوں گی، اللہ نصیب فرمائے، اور محض اپنے فضل و کرم سے عطا فرمائے، آمین ثم آمین، کہ وہ اکرم الاکرمین بھی ہے اور ارحم الراحمین بھی۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
[ 20] دوزخ سے بچاؤ کے عظیم الشان انعام کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ خاص طور پر اس نعمت سے خوش ہوں گے کہ ان کے رب نے ان کو بچا لیا ہوگا دوزخ کے عذاب سے۔ سو دوزخ سے بچ جانا بذات خود ایک مستقل اور عظیم اور حقیقی کامیابی ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { کل نفس ذائقۃ الموت ط وانما توفون اجورکم یوم القیٰمۃ ط فمن زحزح عن النار وادخل الجنۃ فقد فازَ ط وما الحیوۃ الدنیا الا متاع الغرور۔ } [ آل عمران : 185 پ 4] اللہ نصیب فرمائے آمین۔ سو جنت کے وہ باسی وہاں کی دوسری عظیم الشان اور بےمثال نعمتوں کے علاوہ خاص طور پر اس نعمت سے خوش ہو رہے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دوزخ کے عزاب سے بچا لیا ہوگا، اور ظاہر ہے کہ دوزخ سے بچاؤ کی اس عظیم الشان اور بےمثال نعمت سے سرفرازی اللہ پاک کے خاص فضل و کرم ہی سے نصیب ہو سکے گی۔ اللہ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے آمین اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین،
Ayah 52:19[ 21] جنتیوں کے لئے عمدہ اور خوشگوار کھانے پینے کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہا جائے گا اب کھاؤ پیو تم لوگ نہایت عمدہ اور خوشگوار کھانا پینا۔ اور ایسا کہ نہ اس کے لئے کمانے اور محنت کرنے کی ضرورت، اور نہ ختم ہونے اور چھن جانے کا کوئی خطرہ، اور نہ ہی کسی خرابی اور بدہضمی وغیرہ کا کوئی خوف و اندیشہ و خوف۔ سبحان اللّٰہ !۔ کیا کہنے جنت کی ان نعمتوں کے اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ سو ان کو رب کریم کی طرف سے یہ بشارت دی جائے گی کہ اب تم عیش و آرام اور سکون و راحت سے کھاؤ پیو جنت کی ان نعمتوں میں سے، بغیر کسی تکدرو پریشانی اور بدون کسی تعب اور مشقت کے۔ نہ اس سے کوئی ضرر و نقصان لاحق ہوگا اور نہ ہی اس میں کسی نقص و کمی کا کوئی خدشہ و اندیشہ ہوگا۔ " ھنیئی " فعیل کے وزن پر صفت کا صیغہ ہے اور اس کے معنی اصل میں راس آنے والی چیز کے ہیں، اور یہاں پر یہ مصدر محذوف کی صفت ہے۔ جملہ دراصل اس طرح ہے " کلوا واشربوا اکلا وشربا ھنیئا " یعنی ایسا کھانا پینا جو ہر لحاظ سے عمدہ اور خوشگوار ہوگا، اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین،
[ 22] جنت کے اپنے اعمال کا صلہ وثمرہ ہونے کا مطلب ؟:
سو اس سے اہل جنت کیلئے ایک خوشکن اعلان کا ذکر فرمایا گیا کہ جنت تمہارے اپنے اعمال کا صلہ و بدلہ ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہا جائے گا کہ تم لوگ کھاؤ پیو خوشگوار کھانا اور پینا اپنے ان اعمال کے صلہ و بدلہ میں جو تم اپنی دنیاوی زندگی میں کرتے رہے تھے۔ سو یہ اعلان ان کی خوشی کو دوبالا کرنے کیلئے فرمایا جائے گا۔ جس طرح دوزخیوں کو ایسی باتیں سنائی جائیں گی جن سے ان کے دکھ اور عذاب میں اضافہ ہوگا۔ اسی طرح اہل جنت کو ایسی باتوں سے نوازا جائے گا جن سے ان کا سرور دوبالا ہوتا جائے گا، اور جنت کو اہل جنت کے اعمال کا بدلہ دینا بھی ازراہ کرم ہوگا، ورنہ انسان کے سارے اعمال ملا کر ان نعمتوں کا بھی بدلہ نہیں بن سکتے، جن سے وہ اس دنیا میں فائدہ اٹھاتا ہے، چہ جائیکہ وہ جنت کا عوض بن سکیں، وہ تو محض اس اکرام الاکرمین کا کرم اور اس کا احسان ہوگا، سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو جنت اور اس کی نعمتوں کو اہل ایمان کے اعمال کا بدلہ قرار دینا اس مالک الملک کا ایک اور کرم اور احسان ہوگا، جس سے وہ اپنی شان کریمی کی بناء پر اہل جنت کو نوازے گا، سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو جس طرح وہ خالق کل اور مالک مطلق خود بےمثل اور بےمثال ہے اسی طرح اس کا ہر کرم اور ہر انعام بھی بےمثل اور بےمثال ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللّٰہم فعاملنا بما انت اہلہٗ ، ولا تعاملنا بما نحن اہلہٗ یا ذا الجلال والاکرام، تبارکت وتعالیت، نستغفرک ونتوب الیک۔ سو ایمان صحیح اور عمل صالح دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے پس ہمیشہ ایمان و یقین اور عمل و کردار کے اسی سرمائے کے حصول اور اسی کی حفاظت کی دھن میں لگے رہنا چاہیے وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الیٰ السبیل بکل حال من الاحوال،
[ 23] دنیاوی زندگی کی آخرت کی کمائی کی فرصت :
سو حضرت حق جل مجدہٗ کی طرف سے اس خوش کن اعلان میں فرمایا جائے گا کہ یہ بدلہ ہے تمہارے ان اعمال کا جو تم لوگ اپنی دنیاوی زندگی میں کرتے رہے تھے۔ اپنی آخرت کو بنانے، سنوارنے اور اپنے رب کی رضا کو حاصل کرنے کیلئے۔ سو اہل ایمان آج دنیا میں جو نیک عمل کرتے ہیں، وہ اپنے ہی دائمی آرام اور حقیقی سعادت سے سرفرازی کے لئے کرتے ہیں۔ چناچہ حضرت ربیع بن خیثم کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے جب ایک مرتبہ پوری رات عبادت و بندگی میں گزاری، تو ان سے کسی نے کہا " اتعبت نفسک " یعنی آپ نے تو اپنے آپ کو تکلیف دے دی، تو انہوں نے جواب میں کہا " راح تھا اطلب " یعنی میں نے اپنی جان کے آرام و راحت ہی کے لئے ایسے کیا، [ تفسیر المراغی، وغیرہ ] سو انسان اس دنیا میں جو بھی کوئی کام کرتا ہے وہ اپنے بھلے یا برے کے لئے کرتا ہے، کہ اس کا نفع و نقصان خود اسی کو پہنچے گا، نیک اعمال کا بدلہ جنت کی عظیم الشان اور سدا بہار نعمتوں کی شکل میں ملے گا، اور برائی کا دوزخ کی صورت میں، والعیاذ باللّٰہ، بہرکیف جنتیوں کو رب کریم کی طرف سے اس بشارت سے نوازا جائے گا کہ اب لوگ تم غل و غش کھاؤ پیو اپنے اعمال کے بدلے میں، نہ تمہیں اس سے کوئی ضرر لاحق ہوگا، اور نہ اس میں کوئی کمی واقع ہوگی، اور نہ ہی تمہیں اس سے کوئی دکھ جھیلنا پڑے گا، اللہ نصیب فرمائے آمی۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ دنیاوی زندگی دراصل آخرت کی کمائی اور نعیم جنت سے سرفرازی کا موقع اور اس کی فرصت ہے۔ اللہ حیات دنیا کی اس فرصت اور اس کا ایک ایک لمحہ اپنی رضا کے لئے صرف کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین،
Ayah 52:20[ 24] اہل جنت کے آرام و راحت کی تصویر :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے صف در صف بچھے ہوئے عظیم الشان تختوں پر۔ جو علامت ہے انتہائی سکون و راحت اور دلی آرام و اطمینان کی، ورنہ جو کوئی تکلیف اور پریشانی وغیرہ میں مبتلا ہو، وہ ایسے کیونکر بیٹھ سکتا ہے ؟ سو وہ خوش نصیب جنت کی ان پر کیف فضاؤں میں صف در صف بچھی نشست گاؤں پر ٹیک لگائے نہایت آرام و سکون سے بیٹھے ہوں گے۔ سو یہ ان کے کمال درجہ سکون و اطمینان کی بھی تعبیر ہے اور اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ان کے درمیان کامل درجے کی محبت بھی ہوگی، اور بےتکلفی بھی، اسی لئے وہ وہاں پر رودررو ہو کر بیٹھے ہوں گے اسی لئے دوسرے مقام پر ان کے لئے " متقابلین " بھی فرمایا گیا ہے، کیونکہ جن لوگوں کے دلوں میں کدوت ہوتی ہے وہ اس طرح آمنے سامنے اور پرسکون طور پر نہیں بیٹھ سکتے۔ اس لئے اہل جنت کے دلوں کو ہر طرح کی کدوت سے پاک صاف کردیا گیا ہوگا جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی اس طرح تصریح فرمائی گئی ہے۔ { ونزعنا ما فی صدورھم من غلٍ اخوانا علی سررٍ متقبلین } [ الحجر : 47 پ 14] یعنی ہم نکال دیں گے ان کو دلوں سے جو بھی کوئی کھوٹ کھپٹ رہا ہوگا ان کے اندر۔ جس کے نتیجے میں وہ بھائیوں کی طرح عظیم الشان تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وفی کل زمان ومکان، وانت العزیز الوھاب، والھادی الی سواء السبیل، فعلیک نتوکل وبک نستعین فی کل ان وحین، وانت نعم المولیٰ ونعم النصیر، تبارکت وتعالیت۔
[ 25] اہل جنت کیلئے رشتہئِ ازدواج کا ذکر وبیان :
رشتہئِ ازدواج چونکہ ایک ایسا عظیم الشان رشتہ اور قدرت کی ایک ایسی عظیم الشان نعمت ہے کہ انسان کا کوئی بھی لطف و سرور بیوی بچوں کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔ اس لئے یہاں پر ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان کی شادی کردی ہوگی آہو چشم حوروں سے۔ کہ کھانے پینے آرام و راحت اور امن و عافیت کے بعد انسان کے لئے سب سے بڑی نعمت یہی ہے۔ اور ایسی بڑی نعمت کہ اس کے بغیر زندگی ہی ناقص اور ادھوری ہوتی ہے، اور حوروں کی یہ جنس ایک خاص جنس ہوگی، جو اہل جنت کے لئے قدرت کی طرف سے بطور خاص وہاں پیدا فرمائی جائے گی، اور ان کے علاوہ ان اہل جنت کو اپنی وہ دنیاوی بیویاں بھی وہاں ملیں گی جو دخول جنت کی نعمت سے سرفراز ہوں گی، اور ان کو ایسی نئی اٹھان اور نئی زندگی سے نواز دیا گیا ہوگا کہ ان کے اندر ان عیبوں اور کمزوریوں میں سے بھی کوئی عیب اور کمزوری وہاں ان کے اندر باقی نہیں رہے گی جو دنیا میں ان کے اندر پائی جاتی تھیں، سو اہل جنت کو ملنے والی اس نعمت کے لئے جو الفاظ استعمال فرمائے گئے ہیں ان سے ہم ان کا فی الجملہ تصور ہی کرسکتے ہیں، ورنہ اس کی اصل حقیقت کو اس دنیا میں سمجھنا کسی کے لئے ممکن نہیں۔ اس کا پورا اور صحیح علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے اور یہ صرف آخرت ہی میں واضح ہوسکے گی۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین،
Ayah 52:21[ 26] اہل جنت کے لئے ایک اور بشارت کا ذکر وبیان :
سو اس سے اہل جنت کی تکمیل مسرت کے لئے ایک اور بشارت کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے کہ ان کی ایماندار اولاد کو بھی ان کے ساتھ شامل و شریک کردیا جائے گا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ہم اہل جنت کیلئے ان کی ایماندار اولاد کو بھی ان کے ساتھ ملا دیں گے، تاکہ وہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دلوں کے سکون و سرور میں اضافے کا باعث نہیں۔ طبرانی (رح) میں حضرت ابن عباس ؓ ۔ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جنتی جنت میں داخل ہونے کے بعد اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں کے بارے میں پوچھے گا کہ وہ کہاں ہیں ؟ تو اس کو جواب ملے گا کہ ان کے اعمال چونکہ تمہارے برابر نہیں تھے۔ اس لئے وہ تمہارے درجے کو نہیں پہنچ سکے۔ تو اس پر وہ جنتی شخص عرض کرے گا کہ الٰہی میں نے جو عمل کیے تھے وہ میں نے صرف اپنے ہی لئے نہیں کیے تھے بلکہ ان کے لئے بھی کیے تھے، تو اس پر ان کو بھی اس کے ساتھ شامل کردیا جائے گا۔ [ ابن کثیر، ابن جریر، مراغی وغیرہ ] ۔ سو اسی سے متعلق یہاں ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ ایمان و یقین کی برکت سے اور اس رشتہ وتعلق کی بناء پر ہم چھوٹے درجے والے جنتیوں کو بھی ان کے ان آباواجداد کے ساتھ ان کتے بلند درجات میں شامل کردیں گے، اور ایسا نہیں کریں گے کہ اوپر کے درجات والوں کو نیچے لاکر ان نچلے درجوں والوں میں رکھ دیا جائے کہ یہ ہماری شان کرم و عنایت کے تقاضوں کے مطابق نہیں۔ والحمدللّٰہ الذی لاحد لجودہ وکرمہ واحسانہٗ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف جنت میں اہل ایمان کی مسرت کی تکمیل کے لئے جو اہتمام فرمایا جائے گا یہ بشارت اسی کا ایک حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
[ 27] متبوعین کے درجے میں کسی قسم کی کمی نہ کرنے کے انعام کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ان کے عمل میں سے کچھ بھی کم نہیں کریں گے۔ بلکہ اپنے کرم سے ان کم درجہ والوں کو بلند درجہ عطاء فرما دیں گے۔ حدیث میں وارد ہے کہ حضرت خدیجہ الکبریٰ ؓ نے آنحضرت ﷺ سے اپنے ان دو بچوں کے بارے میں پوچھا جو کہ زمانہ جاہلیت میں فوت ہوگئے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ دوزخ میں ہوں گے۔ پھر پوچھا تو آپ ﷺ سے میری جو اولاد فوت ہوگئی ہے، اس کا کیا بنے گا ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ جنت میں ہوگی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اہل ایمان اور ان کی اولاد جنت میں ہوگی، اور اہل شرک اور ان کی اولاد دوزخ میں، پھر آپ ﷺ نے یہی آیت کریمہ تلاوت فرمائی، [ ابن کثیر، ابن جریر، جامع البیان وغیرہ ] بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اس ضمن میں والدیّت کے عمل میں کچھ بھی کمی نہیں کی جائے گی، بلکہ وہ اپنے اسی مرتبے پر فائز رہیں گے جس کے وہ اپنے ایمان و عمل کے اعتبار سے مستحق قرار پائیں گے، البتہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے ان کی اولاد کے درجے بلند کرکے ان کو ان کے درجات میں پہنچا دے گا، اگرچہ وہ اپنے ایمان و عمل کے اعتبار سے ان درجات کے مستحق نہ ہوں۔ والحمدللّٰہ جل وعلا۔
[ 28] ہر کوئی اپنی کمائی کے بدلے میں رہن ہوگا :
پس جس کا عمل نیک ہوگا تو اس کو رہائی نصیب ہوجائے گی اور جس کا عمل برا ہوگا تو وہ اس کو ہلاک کر دے گا۔ سابقہ و واسطہ بہرحال اپنے ہی عمل سے ہوگا۔ کوئی کسی دوسرے کے عمل کی پاداش میں نہیں پکڑا جائے گا۔ سو ہر کسی کو اس کا عمل ہی چھڑائے گا اور عمل ہی ہلاک کرے گا۔ یہ نہیں ہوگا کہ کوئی اپنے ایمان و عمل کے بغیر محض نیکیوں سے نسبت رکھنے کے سبب جنت میں ان کے پاس پہنچ جائے۔ اللہ تعالیٰ اپنا فضل و کرم انہی پر فرمائے گا جو اپنے ایمان و عمل سے اس کا استحقاق اپنے اندر پیدا کریں گے۔ بس اس میں یہود و نصاریٰ اور مشرکین وغیرہ پر رد ہے جو ایمان و عمل کے بغیر محض بڑوں سے نسبت اور تعلق ہی کو کافی سمجھتے ہیں، اور وہ کہتے ہیں کہ۔ " نحن انبائُ اللّٰہِ واحبائُ ہٗ " یعنی ہم لوگ اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں، ہم جو چاہیں کریں کوئی پرواہ نہیں، جس طرح کہ بہت سے جاہل مسلمان بھی اسی غلط فہمی میں مبتلا ہیں اور ان کا صاف کہنا ہے کہ ہم نے فلاں کا لڑ پکڑ رکھا ہے، پس یہی بات ہمارے لئے کافی ہے، ہمیں کسی عمل وغیرہ کی کوئی ضرورت نہیں، وغیرہ وغیرہ۔
Ayah 52:22[ 29] اہل جنت کے لئے نعمتوں میں اضافے کی خوش خبری :
سو اس ارشاد سے اہل جنت کے لئے جنت کی نعمتوں میں اضافے اور ان سے ان کو برابر نوازے جانے کی خوشخبری دے دی گئی۔ یعنی وقت بوقت ہم ان کو نعمتوں سے نوازتے رہیں گے جن کی وہ خواہش کریں گے، [ مدارک وغیرہ ] اور پھل اور گوشت کو بطور خاص اس لئے ذکر فرمایا گیا کہ دنیا میں کھانے کی چیزوں میں سب سے بڑھ کر اور اصل یہی دو چیزیں ہیں۔ سو تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ ان کے لئے رزق و فضل میں بھی اضافہ کیا جاتا رہے گا۔ اللہ نصیب فرمائے۔ بہرکیف اس موقع پر اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ جس طرح ہم ان کی اولاد کو ان سے ملا دیں گے اور ان کے کیف و سرور کو دوبالا کرنے کے لئے ان سب کو یکجا کردیں گے، اسی طرح ہم ان کیلئے مطلوب فواکہ اور ان کے مرغوب گوشت میں بھی اضافہ کردیں گے اور { امددنا } کے لفظ سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ ان میں کم کے اضافے کے ساتھ کیف کا اضافہ بھی کردیا جائے گا اور " فوکہ " اور " لحمٍ " کے ان لفظوں کے اندر تمام غذائی نعمتوں کو جمع کردیا گیا ہے خواہ وہ تفکہات کی نوعیت کی ہوں خواہ غذا کی نوعیت کی۔ اللہ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین،
Ayah 52:23[ 30] اہل جنت کے لطف و سرور کے ایک اور منظر کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہاں پر ان کے درمیان تبادلے ہو رہے ہوں گے ایسے جامہائے شراب کے جس میں نہ کوئی بیہودگی ہوگی، اور نہ کوئی گنہگاری۔ جیسا کہ دنیاوی شراب میں ہوتا ہے۔ اسی لئے وہ ام الخبائث کہلاتی ہے، جبکہ وہاں کی وہ شراب ہر قسم کے غل و غش اور عیب اور خرابی سے پاک ایای عمدہ اور بےمثال شراب ہوگی کہ اس میں نہ کسی طرح کی کوئی بیہودگی ہوگی، اور نہ کسی قسم کی کوئی گنہگاری، یعنی اہل جنت کو پیش کی جانے والی وہ شراب ان تمام مفاسد اور برے اثرات سے خالی اور ان سے بالکل پاک ہوگی، جو دنیاوی شراب کے لوازم میں سے ہیں، اس کے پینے سے آدمی نہ کسی طرح کی لغو اور بیہودہ گوئی میں مبتلا ہوگا اور نہ ہی کسی پر گناہ کی تمہت لگائے گا، جیسا کہ دنیا کی شراب خبیث کے پینے سے ہوتا ہے، بلکہ جنت کی وہ پاکیزہ شراب سراسر لذت و انبساط اور سرور و نشاط ہوگی۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین۔ تاثیم کے معنی گناہ کی تمہت لگانے کے ہیں۔ سو دنیاوی شراب سے بدمستی میں مبتلا ہو کر انسان دوسروں پر اور خاص کر اپنے حریفوں کی بہو بیٹیوں پر طرح طرح کی تہمتیں جڑنے اور آوازے کسنے لگتا ہے۔ جس سے آگے طرح طرح کے معاشرتی اور خاندانی فتنے اور فساد پیدا ہوتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ۔ مگر وہاں کی اس پاکیزہ شراب میں اس طرح کی کسی بیہودگی کا کوئی شمہ اور شائبہ نہیں ہوگا۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین۔ بہرکیف اس ارشاد سے اہل جنت کے لطف و سرور کے ایک اور منظر کو پیش فرمایا گیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو ایسی بےمثال شراب کے لبالب بھرے پیالے پیش کر رہے ہوں گے جس میں نہ کسی طرح کی کوئی بیہودگی ہوگی اور نہ کسی طرح کی کوئی گنہگاری کی کیفیت ہوگی، سو وہ ایک عظیم الشان اور بےمثال شراب ہوگی جو اہل جنت کو وہاں پر نصیب ہوگی۔ تنازعو الک اس۔ کے معنی اہل لغت اس طرح کرتے ہیں۔ تعاطوھا۔ یعنی باہم ایک دوسرے کو دینا لینا سو چھپنا جھپٹی اس لفظ کے لوازم میں سے نہیں، جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔ سو وہ ایک بڑا ہی پر لطف نظارہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین، ویامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ویجار علیہ،
Ayah 52:24[ 31] جنتیوں کے خادموں کی صفت و شان کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کی خدمت کے لئے وہاں پر ایسے عمدہ اور بےمثال لڑکے چل پھر رہے ہوں گے جیسے کہ وہ موتی ہوں جن کو چھپا رکھا گیا ہو۔ یعنی اپنی صفائی چمک سفیدی عمدگی اور خوش منظری وغیرہ میں، سو وہ ان موتیوں کی طرح ہوں گے جن کو چھپا کر رکھا گیا ہو۔ سو اہل جنت کو ملنے والی دوسری نعمتوں کی طرح ان کے خادم بھی ایک خاص عظمت شان کے مالک اور ایسے بےمثال ہوں گے کہ اس دنیا میں ان کو کوئی نظیر و مثال ممکن نہیں۔ آمین۔ سو اہل جنت کے یہ بےمثال اور حاضر باش خادم جو ان کی ہر فرمائش کی تعمیل کے لئے ہر وقت وہاں موجود ہوں گے اپنی عمدگی اور نفاست میں ایسے ہوں گے جیسے موتی ہوں جو صدف میں محفوظ رہے ہوں۔ سو وہاں کی دوسری نعمتوں کی طرح وہاں کے خدام بھی بےمثال ہوں گے۔
Ayahs 52:25–26[ 32] اہل جنت کے لطف و سرور کے ایک اور منظر کا ذکر وبیان :
یعنی یہ کہ اہل جنت وہاں پر آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر اس کے احوال پوچھیں گے۔ یعنی اپنے دنیاوی حال و احوال کے بارے میں۔ تاکہ وہاں کی تنگی و تکلیف کے مقابلے میں جنت کی ان نعمتوں کو دیکھ کر ان کی لذت و سرور میں اضافہ ہوتا جائے، اور کافروں کو بھی دنیاوی عیش و عشرت یاد ہوگی، تاکہ اس طرح ان کو دوزخ کے عذاب کی اذیت و تکلیف اور زیادہ محسوس ہو، [ کبیر، مراغی، اور صفوہ وغیرہ ] ۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو جس طرح کٹھن اور لمبا سفر طے کرنے کے بعد منزل مقصود پر پہنچنے کے بعد مسافر آپس میں ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں، اور حال دریافت کرتے ہیں اسی طرح اہل جنت بھی وہاں پر تڑپ کر ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے، اور ان سے حال پوچھیں گے، کہ کہیے کیسی گزری۔ راستے میں کن کن اور کیسی کیسی گھاٹیوں سے گزرنا پڑا، اور آخر کار منزل مقصود تک کس طرح پہنچنا نصیب ہوا ؟ اور اہل عیال سے یکجائی کس طرح نصیب ہوئی ؟ وغیرہ وغیرہ۔ سو اس طرح وہ خوش نصیب اپنے اس انجام اور اپنی بےمثال کامیابی پر ایسے خوش ہوں گے کہ ان کے جسم و جان کا ایک ایک رواں خوشی و مسرت میں ڈوب جائے گا، اور وہ بےساختہ اور دل وجان سے پکار اٹھیں گے کہ سب شکر اس اللہ کا ہے جس نے ہم سے ہر قسم کے رنج و غم کو دور کردیا۔ بلاشبہ ہمارا رب بڑا ہی بخشنے والا انتہائی قدر دان ہے جس نے اپنے فضل سے ہمیں ہمیشہ رہنے کے اس گھر میں اتار دیا جس میں ہمیں نہ کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور نہ کسی طرح کی کوئی تھکان۔ جیسا کہ پ 22 سورة ء فاطر کی آیت نمبر 34 تا 36 میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے، { الذی احلنا دار المقامۃ من فضلہٖ ج لایمسُّنا فیہا نصب ولا یمسنا فیہا لغوب۔ والذین کفروا لہم نار جھنم ج لایقضٰی علیہم فیموتوا ولا یخفف عنھم من عذابھا ط کذلک نجزِی کل کفورٍ ۔ سو آتش دوزخ سے بچا کر جنت کی سدا بہار نعمتوں سے سرفراز کردینے کی یہ نعمت ایسی عظیم الشان اور بےمثال نعمت ہوگی کہ اس کی دوسری کوئی نظر و مثال ممکن ہی نہیں، اور ظاہر ہے کہ اس سے بڑھ کر خوشی و مسرت کی شکل اور کیا ہوسکتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 52:27[ 34] خوف خداوندی ذریعہ نجات و سرفرازی :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ خوف خداوندی اور اندیشہئِ آخرت ذریعہئِ نجات اور باعث سرفرازی وفائز المرامی ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اہل جنت دوزخ سے بچاؤ اور جنت سے سرفرازی کے بارے میں کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان فرمایا اور ہمیں بچا دیا دوزخ کے اس عذاب سے۔ یعنی احسان در احسان سے نوازا کہ اول تو ایمان اور عمل صالح کی توفیق بخشی، پھر اس پر استقامت نصیب فرمائی، اور پھر اسے شرف قبولیت سے سرفراز فرما کر ہمیں اس ہولناک آگ کے سخت عذاب سے بچا لیا، جو کہ مسام جان کے اندر گھس گھس جاتی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ اگر اس آگ کا انگلی کے ایک پور کے برابر بھی اس دنیا میں ظہور ہوجائے تو تمام روئے زمین اور جو کچھ اس کے اوپر ہے سب بھسم ہوجائے [ مراغی وغیرہ ] مسروق (رح) کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ ؓ نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی تو اس پر آپ ؓ نے اس طرح دعا مانگی " اللّٰہم من علینا وقنا عذاب السموم انک انت الرحمن الرحیم " اس پر مسروق سے پوچھا گیا کہ کیا آپ (رح) نے ایسا نماز کے اندر کیا تھا ؟ تو انہوں نے کہا ہاں، [ ابن کثیر وغیرہ ] اللّٰہم من علینا وقنا عذاب السموم انک انت البر الرحیم یا ارحم الراحمین ویا اکرم الاکرمین۔ سو اس سے ظاہر فرما دیا گیا کہ خوف خداوندی اور اندیشہئِ آخرت باعث سرفرازی وفائز المرامی ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل، فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، فی کل ان وحین، سبحانہ وتعالیٰ ۔