52. Surah At-Tur

الطورThe Mount · 49 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 52:1

وَ الطُّوْرِۙ Open ayah 52:1 in the Quran reader

قسم ہے طور (پہاڑ) کی1

ف 1 مراد وہ پہاڑ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے کلام فرمایا تھا۔
Ayah 52:2

وَ كِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍۙ Open ayah 52:2 in the Quran reader

اور اس کتاب کی لکھی ہوئی ہے2

ف 2 مراد قرآن ہے یا لوح محفوظ یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہوئی ہر کتاب یا نامہ اعمال۔
Ayahs 52:3–4

فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍۙ Open ayah 52:3 in the Quran reader

جو کھلے ہوئے کاغذ پر

وَّ الْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِۙ Open ayah 52:4 in the Quran reader

اور آباد گھر کی3

ف 3 یعنی اس مسجد کی جو ساتویں آسمان پر ہے اور فرشتوں سے آباد ہے۔ صحیحین کی ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت نے فرمایا :” معراج کے موقع پر) پھر ساتواں آسمان پار کرلینے کے بعد مجھے ” البیت المعمود “ کی طرف لے جایا گیا۔ اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جو قیامت تک دوبارہ اس میں داخل نہیں ہوں گے۔ (شوکانی)
Ayah 52:5

وَ السَّقْفِ الْمَرْفُوْعِۙ Open ayah 52:5 in the Quran reader

اور اونچے چھت آسمان کی4

ف 4 اور بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد عرش ہے۔ واللہ اعلم (شوکانی)
Ayahs 52:6–13

وَ الْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِۙ Open ayah 52:6 in the Quran reader

اور ابلتے دریا کی

اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌۙ Open ayah 52:7 in the Quran reader

بیشک تیرے مالک کا عذاب اس شخص پر جو عذاب کے لائق ہے ضرور پڑیگا

مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍۙ Open ayah 52:8 in the Quran reader

کوئی اس کو ٹال نہیں کرسکتا

یَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًاۙ Open ayah 52:9 in the Quran reader

جس دن آسمان پھٹ کر چکر مارنے لگے گا

وَّ تَسِیْرُ الْجِبَالُ سَیْرًاؕ Open ayah 52:10 in the Quran reader

اور پہاڑ روئی کی طرح اڑتے پھریں گے

فَوَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ Open ayah 52:11 in the Quran reader

اس دن ان جھٹلانے والوں کی خرابی ہے

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ خَوْضٍ یَّلْعَبُوْنَۘ Open ayah 52:12 in the Quran reader

جو بیہودہ باتوں میں کھیل رہے ہیں

یَوْمَ یُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّاؕ Open ayah 52:13 in the Quran reader

جس دن یہ لوگ دوزخ کی آگ کی طرف (زبردستی) دھکیلے جائیں گے5

ف 5 یعنی جنہیں فرشتے دھکیل کر دوزخ کی طرف لے جائیں گے۔
Ayahs 52:14–15

هٰذِهِ النَّارُ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 52:14 in the Quran reader

(اس نے کہا جائیگا یہی وہ دوزخ ہے جس کو تم (دنیا میں) جھٹلاتے تھے

اَفَسِحْرٌ هٰذَاۤ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَۚ Open ayah 52:15 in the Quran reader

کیا یہ بھی جاد ہے6 یا تم کو سوجھ نہیں پڑتا7

ف 6 ” جیسا کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی کتابوں اور اس کے رسولوں کی باتوں کو جادو بتاتے تھے۔ “ 7” جیسے تمہیں دنیا میں حق دیکھنے کے بعد بھی کوئی بات سمجھائی نہ دیتی تھی۔
Ayahs 52:16–18

اِصْلَوْهَا فَاصْبِرُوْۤا اَوْ لَا تَصْبِرُوْا١ۚ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 52:16 in the Quran reader

جائو اب اس میں گھسو اب تم صبر کردیا بےصبری کرو دو نو باتیں) تمہارے حق میں برابر ہیں جیسے کام تم دنیا میں کرتے ہے ویسا ہی تم کو بدلہ ملے گا

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَعِیْمٍۙ Open ayah 52:17 in the Quran reader

جو پرہیز گار ہیں وہ تو بیشک باغوں میں اور چین میں ہوں گے

فٰكِهِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ۚ وَ وَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 52:18 in the Quran reader

جو میوے ان کے مالک نے کھانے کو ان کو دیئے ہوں8 ان کے مزے اڑا رہے ہوں گے اور ان کا مالک ان کو دوزخ کے عذاب سے بچا لیگا

ف 8 یا جو نعمتیں ان کے رب نے انہیں دی ہوں گی ان سے لذت اندوز ہو رہے ہوں گے۔ “
Ayahs 52:19–20

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 52:19 in the Quran reader

اس نے کہا جایگا تم جو دنیا میں نیک کام کیا کرتے تھے ان کے بدل آج مردے سے کھائو

مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى سُرُرٍ مَّصْفُوْفَةٍ١ۚ وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍ Open ayah 52:20 in the Quran reader

اور پیو وہ ان تختوں ر جو برابر برابر بچھے ہوں گے تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے اور ہم بڑی آنکھوں والی حوروں سے ان کا جوڑا لگا دیں گے9

ف 9 ” حور “ حورا کی جمع ہے اور خور گورے رنگ کی عورت کو کہتے ہیں عین عینا کی جمع ہے اور عیناء بڑی اور سیاہ آنکھوں والی عورت کو کہتے ہیں۔
Ayah 52:21

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّیَّتُهُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ مَاۤ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ كُلُّ امْرِئٍۭ بِمَا كَسَبَ رَهِیْنٌ Open ayah 52:21 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی ایمان کے ساتھ انہی کی راہ پر چلی تو ان کی اولاد کو بھی بہشت میں ان سے ملا دیں گی اور انکے نیک کام کا ثواب کچھ کم نہیں کرینگے10 ہر شخص اپنے عمل میں گرو11 ہے (گٹھا ہوا ہے)

ف 10 یعنی اولاد کے ساتھ آملنے سے یہ نہیں ہوگا کہ ان کے کسی عمل کا ثواب کم ہوجائے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا ان پر فضل و کرم ہوگا کہ ان کی اولاد گو درجات میں کم ہوگی لیکن ان کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچانے کے لئے انہی کے درجہ میں رکھی جائے گی بشرطیکہ وہ انہی کے راستہ پر چلنے والی ہو حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : آدمی جب جنت میں داخل ہوگا تو اپنے والدین بیوی اور اولاد کے بارے میں دریافت کرے گا۔ اس سے کہا جائے گا کہ وہ تیرے درجہ اور عمل کو نہیں پہنچے وہ عرض کرے گا کہ اے اللہ ! میں نے تو اپنے لئے اور ان کے لئے عمل کیا تھا اللہ تعالیٰ حکم دے گا کہ انہیں بلند درجہ دے کر ان کے ساتھ ملا دیا جائے۔ “ اس کے بعد حضرت ابن عباس نے یہ آیت پڑھی۔ (شوکانی) اسی طرح نیک اولاد کی وجہ سے ماں باپ کے درجات میں بھی بلندی ہوگی۔ ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ جنت میں نیک بندے کا درجہ بلند فرمائے گا وہ عرض کرے گا ” یہ بلند درجہ مجھے کیسے مل گیا ؟ “ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” تیرے لڑکے کے تیرے لئے استغفار کی وجہ سے۔ “ (شوکانی) 11 یعنی جس طرح گروی رکھی ہوئی چیز پیسہ دیئے بغیر نہیں چھوٹ سکتی اسی طرح ہر آدمی اپنے عمل کا ثواب یا عذاب پائے بغیر نہیں رہ سکتا۔
Ayahs 52:22–23

وَ اَمْدَدْنٰهُمْ بِفَاكِهَةٍ وَّ لَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَ Open ayah 52:22 in the Quran reader

اور جو میوہ اور گوشت چاہیں گے ہم ان کو برابر پہنچاتے رہیں گے

یَتَنَازَعُوْنَ فِیْهَا كَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِیْهَا وَ لَا تَاْثِیْمٌ Open ayah 52:23 in the Quran reader

آپس میں (شراب کا) جام ایک دوسرے کے ہاتھ سے جھپٹ لیں گے اس کے پینے سے1 تو بیہودہ بکواس کریں گے اور نہ کوئی بری حرکت اس نے سر زد ہوگی

ف 1 یعنی ان میں شراب کا دور چلے گا اور وہ خوش طبعی کے طور پر ایک دوسرے سے جام چھینیں گے لیکن وہ شراب ایسی ہوگی کہ اس میں نشاط اور لذت تو ہوگی، نشہ، بول اس اور فتور عقل وغیرہ کچھ نہ ہوگا اور نہ اسے پی کر وہ بری حرکات کا ارتکاب کریں گے۔
Ayah 52:24

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ Open ayah 52:24 in the Quran reader

اور خدمت کے لئے ان کے چھوکرے ان کے2 پاس پھرتے رہیں گے (ایسے خوبصورت) جیسے چھپے ہوئے یا چھپائے ہوئے ہوتی

ف 2 یعنی ایسے موتی جو غلاف یا سیپ کے اندر ہوں اور کسی نے انہیں چھواء تک نہ ہو۔ اس لئے نہایت صاف شفاف ہوں۔
Ayah 52:25

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 52:25 in the Quran reader

اور آپس میں ایک دوسرے کی طرف منہ کر کے پوچھا یا چھپی کریں گیف 3

ف 3 یعنی اپٓس میں ایک دوسرے سے دریافت کریں گے کہ جنت کی زندگی کیونکہ گزر رہی ہے
Ayah 52:26

قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِیْۤ اَهْلِنَا مُشْفِقِیْنَ Open ayah 52:26 in the Quran reader

ان میں سے کوئی یوں کہیں گے (بھیا ہم تو اس سے پہلے جب دنیا میں اپنے گھر میں تھے) تو بہت ڈرا کرتے تھے4

ف 4” کہ دیکھو انجام کیا ہوتا ہے اور عذاب سے بچائو ہوتا ہے یا نہیں ؟ “
Ayah 52:27

فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ وَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ Open ayah 52:27 in the Quran reader

لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے ہم پر بڑا احسان کیا اور ہم دوزخ سے عذاب سے بچا لیا5

ف 5 سموم کے لفظی معنی لو (جھلس ڈالنے والی گرم ہوا) کے ہیں اور یہ دوزخ کے ناموں میں سے ایک نام بھی ہے۔ اس لئے متن میں اس کا ترجمہ دوزخ کیا گیا ہے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ اگر سموم کے عذاب میں سے اللہ تعالیٰ ایک پورا برابر دنیا والوں پر ڈال دے تو زمین سمیت سب جل کر راکھ ہوجائیں۔ (شوکانی)
Ayah 52:28

اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 52:28 in the Quran reader

ہم تو اس سے پہلے دنیا میں اسی کو پکارا کرتے تھے6 تھے بیشک وہ بڑا احسان کرنیوالا بڑا مہربان ہے

ف 6 یعنی اس کی عبادت کرتے تھے اور اسی سے دعا کرتے تھے۔
Ayah 52:29

فَذَكِّرْ فَمَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَّ لَا مَجْنُوْنٍؕ Open ayah 52:29 in the Quran reader

تو (اے پیغمبر) تو (لوگوں کو) نصیحت کئے جا اللہ کے فضل سے نہ تو تو کاہن ہے نہ بائولا ہے7

ف 7 اس سے مقصود مشرکین کی تردید ہے جو نبی ﷺ کو کبھی کاہن کہتے اور کبھی بائولا۔ کاہن سے مراد پروہت ہے جو وحی کے بغیر غیب دانی کا دعویٰ کرتا ہے۔
Ayah 52:30

اَمْ یَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ Open ayah 52:30 in the Quran reader

کیا وہ جھ کو یوں کہتے ہیں شاعر ہے پڑا رہنے دو ہم اس کے لئے زمانہ کی گردش کا انتظار کر رہے ہیں8

ف 8 یعنی جس طرح قدیم زمانہ کے بہت سے شعراء مر کر ختم ہوگئے یہ بھی ختم ہوجائے گا اور دنیا میں اس کا کوئی نام لیوا باقی نہ رہے گا۔ حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں قریش کا اجتماع ہوا کہ آنحضرت کے معاملے پر غور کیا جائے ایک کہنے والے نے کہا اس شخص کو قید کردو اور اس کی موت کا انتظار کرتے رہو۔ جیسے نابغہ اور دوسرے شعرا مرگئے یہ بھی مرجائے گا۔ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ شوکانی
Ayah 52:31

قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِیْنَؕ Open ayah 52:31 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کہ دے اچھا انتظار کرتے رہو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہا ہوں9

ف 9 یعنی تم میری ہلاکت کا انتظار کرتے رہو میں تمہاری ہلاکت کا انتظار کر رہا ہوں۔ دیکھو اللہ تعالیٰ کا عذاب مجھ پر آتا ہے یا تم پر ؟
Ayah 52:32

اَمْ تَاْمُرُهُمْ اَحْلَامُهُمْ بِهٰذَاۤ اَمْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ Open ayah 52:32 in the Quran reader

کیا ان کی عقلیں ان کو ایسی ہی بیوقوفی کی باتیں سکھاتی ہیں نہیں یہ اپنی ذات سے شریر لوگ ہیں10

ف 10 یعنی یہ جو اس قسم کی بےجوڑ باتیں کرتے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں کہ ان کی عقل نہیں اس طرح بےوقوفی کی باتیں سکھاتی ہیں بلکہ اصل وجہ ان کا طغیان یعنی شراتر اور ہٹ دھرمی کی حد سے گزر جانا ہے۔
Ayah 52:33

اَمْ یَقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَهٗ١ۚ بَلْ لَّا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 52:33 in the Quran reader

یا یوں کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس قرآن کو اپنے دل سے بٹ لیا ہے نہیں بات یہ ہے کہ ان میں ایمان نہیں ہے11

ف 11 یعنی کیا ان کی بےجوڑ باتوں کی وجہ یہ ہے کہ یہ قرآن کو اللہ تعالیٰ کا نہیں بلکہ محمد ﷺ کا اپنا تصنیف کیا ہوا سمجھتے ہیں ؟ نہیں ایسا نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ زبان دان لوگ ہیں اور خوب سجھتے ہیں کہ کوئی انسان اس قسم کا کلام تصنیف کرنے پر قادر نہیں ہوسکتا۔ اصل بات یہ ہے کہ کفر وعناد ان کی طبیعتوں میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے اور وہ کسی طور ایمان لانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
Ayah 52:34

فَلْیَاْتُوْا بِحَدِیْثٍ مِّثْلِهٖۤ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَؕ Open ayah 52:34 in the Quran reader

وہ اس طرح کا ایک کلام بنا کرلے آئیں اگر سچے ہیں12

ف 12 یعنی اگر یہ سب کچھ جاننے کے باوجود رٹ لگائے جا رہے ہیں کہ قرآن محمد ﷺ کا تصنیف کیا ہوا کلام ہے تو اپنی اس بات کو سچا ثابت کرنے کے لئے ایسا کیوں نہیں کرتے کہ اس جیسا کلام تصنیف کر کے لے آئیں۔ حالانکہ ان میں بڑے بڑے ادیب شاعر اور فلسفی موجود ہیں جنہیں اپنی زبان دانی اور فلسفیانہ موشگافیوں پر ناز ہے ؟ ’ مشرکین مکہ کو یہ چیلنج اس سے پہلے کئی مکئی سورتوں میں بھی دیا جا چکا ہے، لیکن کسی موقع پر انہیں اس کا جواب دینے کی ہمت نہ ہوئی۔ یہ قرآن کے خدائی کلام ہونے کا کھلا ثبوت ہے۔
Ayah 52:35

اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَؕ Open ayah 52:35 in the Quran reader

کیا وہ آپ ہی آپ (بغیر کسی بنانے والے کے بن گئے ہیں یا انہوں نے خود اپنے تئیں بنا لیا ہے13

ف 13 اس لئے محمد ﷺ کی بات نہیں مانتے اور سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے معامیل میں خود مختار ہیں جو چاہیں کرتے پھریں ؟ ‘
Ayah 52:36

اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ بَلْ لَّا یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 52:36 in the Quran reader

یا انہوں نے آسمان اور زمین بنائے ہیں نہیں مگر یقین نہیں رکھتے14

ف 14 یعنی نہیں وہ اپنے آپ کو زمین و آسمان کا خلاق نہیں سمجھتے لیکن اس کے باوجود محمد ﷺ کی بات نہیں مان رہے اور کفر و شرکت میں ڈوبے ہوئے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی صفات پر یقین نہیں ہے محض ناقابل اعتبار قسم کا شک ہے۔ اگر یقین ہوتا تو ہرگز کفر و شرک میں مبتلا نہ رہتے بلکہ آنحضرت کی بات مان کر اللہ تعالیٰ پر اس طرح ایمان لاتے جو اس پر ایمان لانے کا حق ہے۔
Ayah 52:37

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜیْطِرُوْنَؕ Open ayah 52:37 in the Quran reader

کیا تیرے مالک کی رحمت کے خزانے ان کے ہاتھ میں ہیں15 یا وہ کوئی داروغہ ہیں ان کا کوئی اجارہ ہے16

ف 15 ” کہ جسے چاہیں روزی دیں اور جسے چاہیں نہ دیں یا جسے چاہیں وہ خدا کا پیغمبر ہو اور جسے نہ چاہیں وہ نہ ہو ؟ “ 16 کہ دنیا میں ہر بات انہی کی مرضی کے مطابق ہوا کرے ؟
Ayah 52:38

اَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ یَّسْتَمِعُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَلْیَاْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 52:38 in the Quran reader

(وہ جو پیغمبر سے جھگڑتے ہیں تو) کیا ان کے17 پاس کوئی ایسی لمبی سیڑھی ہے18 جس پر چڑھ کر وہ آسمان کی باتیں سن لیتے ہیں اگر ایسا ہی ہے تو جو کوئی ان میں سے آسمان کی باتیں سن کر آتا ہے وہ کوئی کھلی سند پیش کرے

ف 17 یعنی کیا ان کی رسائی براہ راست فرشتوں بلکہ خدا تک ہوجاتی ہے اس لئے وہ اپنے آپ کو پیغمبر کی رہنمائی سے آزاد سمجھتے ہیں۔ 18 کھلی سند سے مراد ایسی سند ہے جس سے معلوم ہو کہ وہ واقعی آسمان تک گیا تھا اور وہاں اس نے اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کی باتیں سنی تھیں۔
Ayah 52:39

اَمْ لَهُ الْبَنٰتُ وَ لَكُمُ الْبَنُوْنَؕ Open ayah 52:39 in the Quran reader

کیا اے مشرکو خدا کی تو بیٹیاں ہیں اور تمہارے لئے بیٹے ہیں1

ف 1 یہ اس طرف اشارہ ہے کہ بہت مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں سمجھتے تھے جیسا کہ دوسری متعدد آیات میں ان کے اس عقیدے کا ذکر کر کے اس کا باطل ہونا ثابت کیا گیا ہے۔
Ayah 52:40

اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَؕ Open ayah 52:40 in the Quran reader

یا اے پیغمبر تو اللہ کی باتیں ان کو سنانے پر اس نے کوئی مزدور مانگتا ہے پھر یہ اس تاوان ڈنڈ یا چٹی) کے بوجھ سے دیئے جاتے ہیں2

ف 2 ” اس لئے آپ کی دعوت قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔