51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 51:1–3

وَ الذّٰرِیٰتِ ذَرْوًاۙ Open ayah 51:1 in the Quran reader

قسم ہے ان ہوائوں کی جو مٹی خاکاوڑاتی ہیں

فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًاۙ Open ayah 51:2 in the Quran reader

پھر ان بادلوں کی جو پانی کا بوجھ اٹھاتے ہیں

فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًاۙ Open ayah 51:3 in the Quran reader

پھر ان کشتیوں کی جو دریا میں بےتکان نرمی سے ملتی ہیں5

ف 5 ان آیات کی یہ تفسیر حضرت عمر، حضرت علی اور بعض دوسرے صحابہ سے مروی ہے۔ (ابن کثیر)
Ayahs 51:4–8

فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًاۙ Open ayah 51:4 in the Quran reader

پھر ان فرشتوں کی جو روٹی رزق پانی سب چیزوں کی تقسیم کرتے ہیں

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌۙ Open ayah 51:5 in the Quran reader

جس قیامت کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ سچ ہے

وَّ اِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌؕ Open ayah 51:6 in the Quran reader

اور بیشک اعمال کا بدلہ ضرور دیا جائیگا

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُكِۙ Open ayah 51:7 in the Quran reader

قسم ہے اس آسمان کی جس میں ستاروں یک گردش کے رستے ہیں

اِنَّكُمْ لَفِیْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍۙ Open ayah 51:8 in the Quran reader

تمہاری ایک بات نہیں ہے کبھی کچھ کہتے ہو کبھی کچھ6

ف 6 یعنی کبھی آنحضرت کو شاعر بناتے ہیں کبھی کاہن کبھی مجنون اور کبھی ساحر اور کبھی سحر زدہ یا کبھی آخرت سے انکار کرتے ہو اور کبھی شک میں پڑجاتے ہو۔ یا اللہ تعالیٰ کے خالق ومالک ہونے کا اقرار کرتے ہوئے مگر بندگی دوسروں کی کرتے ہو۔
Ayah 51:9

یُّؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ اُفِكَؕ Open ayah 51:9 in the Quran reader

پیغمبر کی بات (یا قیامت کو) ماننے سے وہی باز رہتا ہے جو روز ازل باز رکھا گیا7

ف 7 یعنی جس کی قسمت میں اللہ تعالیٰ نے روز ازل سے کفر و نافرمانی لکھ دی ہے۔ …” من افک “ کا دوسرا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” جو (حق سے) پھر ہوا ہے۔ یعنی گمراہ ہے۔
Ayah 51:10

قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَۙ Open ayah 51:10 in the Quran reader

یہ اٹکل کے مکہ چلانے والے کافر تباہ ہوں8

ف 8 مراد ہیں جھوٹے لوگ جو کسی قابل اعتماد ذریعہ علم کے بغیر محض جو اٹل پچو بات ذہن میں آتی ہے زبان سے ادا کردیتی ہیں جیسا کہ کفار مکہ آنحضرت کو مجنون، کذاب شاعر اور ساحر وغیرہ کہا کرتے تھے
Ayahs 51:11–12

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ غَمْرَةٍ سَاهُوْنَۙ Open ayah 51:11 in the Quran reader

ملعون جو غفلت میں خدا کو بھولے ہوئے ہیں

یَسْئَلُوْنَ اَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِؕ Open ayah 51:12 in the Quran reader

یہ مردود کافر پوچھتے ہیں بدیل کا دن کب آئیگا9

ف 9 یعنی قیامت کے آنے پر یقین نہیں رکھتے اس لئے مذاق کرتے ہوئے پوچھتے ہیں ” اجی ! وہ تمہاری قیامت کب آئیگی۔
Ayahs 51:13–14

یَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ یُفْتَنُوْنَ Open ayah 51:13 in the Quran reader

اے پیغمبر ان سے کہدیض جس دن وہ آگ پر تپائے جائینگے (سینکے جائینگے ان سے کہا جائیگا )

ذُوْقُوْا فِتْنَتَكُمْ١ؕ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 51:14 in the Quran reader

ابن اپنی شرارت کا مزہ چکھو یا اپنا عذاب چکھو اسی کی تم دنیا میں جلدی کرتے تھے10

ف 10 یعنی مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ اگر قیامت آنے والی ہے تو اسے جلدی کیوں نہیں لے آتے ؟
Ayahs 51:15–16

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 51:15 in the Quran reader

نابیشک پرہیز گار خدا سے ڈرنیوالے اس دن) باغوں اور چشموں میں مزے کرتے ہونگے

اٰخِذِیْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِیْنَؕ Open ayah 51:16 in the Quran reader

ان کو جو ان کا مالک دیتا جائیگا لیتے جائیں گے خدا سے اور بندہ نے نعمت پر نعمت بیشک یہ لوگ بہشت میں جانے سے پہلے ہی نیک تھے1

ف 1 یعنی دنیا میں نیک کام کرتے تھے اور برائیوں سے بچتے تھے۔ ان کی نیکو کاری کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
Ayah 51:17

كَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَهْجَعُوْنَ Open ayah 51:17 in the Quran reader

رات کو تھوڑا ہی سوتے تھے2

ف 2 یعنی رات کا اکثر حصہ عبادت میں گزارتے تیھ۔ آنحضرت نے متعدد احادیث میں تہجد کی نماز کی فضیلت بیان فرمائی ہے اور صحابہ کرام کو اس ترغیب دی ہے۔ چناچہ ایک حدیث میں ہے لوگو ! غریبوں کو کھانا کھلایا کرو، صلہ رحمی کرتے رہو … اور راتکو جب لوگ سو رہے ہوں تو نماز پڑھو، جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو گے۔ (ابن کثیر)
Ayah 51:18

وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 51:18 in the Quran reader

اور سحر کے وقت یا صبح سویر سے استغفار کرتے رہتے تھے3

ف 3 سحر کے وقت یعنی رات کے آخری حصہ میں …امام حسن بصری فرماتے ہیں یعنی وہ سحرتک نماز لمبی کرتے ہیں اور پھر استغفار کرتے ہیں۔ “ ضحاک “ کہتے ہیں کہ اس سے مراد نماز فجر ہے۔ (شوکانی)
Ayah 51:19

وَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ Open ayah 51:19 in the Quran reader

اور ان کے مال میں بھیک مانگنے والے فقیر اور چپ رہنے والے فقیر دونوں کا حصہ ہے4

ف 4 یعنی وہ ان کی دستگیری اور مدد کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔” حق “ (حصہ) سے مراد نفلی صدقہ ہے۔ کیونکہ یہ سورة مکی ہے اور زکوۃ مدینہ منورہ میں فرض ہوئی۔ ” محروم “ سے مراد وہ شخص ہے جو ہو تو محتاج لیکن لوگوں سے سوال نہ کرے اس لئے اسے لوگ غیر محتاج سمجھیں یا جو کسی آفت کی وجہ سے اپنی روزی سے محروم ہوگیا ہو۔ جیسے کوئی بچہ جس کا باپ فوت ہوگیا ہو یا عورت جس کا شوہر انتقال کر گیا ہو یا آدمی جس کا روزگار چھوٹ گیا ہو یا اس کا مال تباہ ہوگیا ہو وغیرہ ہم سبھی مراد ہوسکتے ہیں حضرت فاطمہ بنت قیس کا بیان ہے کہ میں نے آنحضرت سے اس آیت کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا مال میں برہ کے علاوہ بھی (غربیوں اور) محتاجوں کا حق ہے۔ (شوکانی)
Ayah 51:20

وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَۙ Open ayah 51:20 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں ان کے لئے زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں5

ف 5 جو اس نظام کائنات کے خلاق، مالک کے وجود اور آخرت کے امکان بلکہ وجوب و لزوم کی شہادت دیتی ہیں۔
Ayah 51:21

وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 51:21 in the Quran reader

اور خود تم میں اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں کیا تم غور سے نہیں دیکھتے6

ف 6 یعنی باہر کی نشانیوں سے قطع نظر خود تمہاری پیدائش نشو و نما جوانی بڑھاپے اور نظام ہضم و صحت میں ایسی سینکڑوں نشانیاں موجود ہیں جن پر اگر تم غور کرو تو تمہیں صاف معلوم ہوسکتا ہے کہ تم خود پیدا نہیں ہوئے ہو بلکہ کسی خالق کے پیدا کرنے سے پیدا ہوئے ہو اور یہ کہ تم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کہئے جائو گے اور اپنے خلاق ومالک سے اپنے اچھے یا برے اعمال کا بدلہ پائو گے۔
Ayah 51:22

وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 51:22 in the Quran reader

اور آسمان ہی میں تمہاری روزی ہے7 اور جس چیز کا تم سے وعدہ ہے8

ف 7 مراد بارش ہے جو روزی کا سبب ہے۔ 8 یعنی حشر و نشر جزا و سزا اور جنت و دوزخ وغیرہ جن کے رونما ہونے کا وعدہتمام انبیاء کی زبانی اور تمام آسمانی کتابوں کے ذریعہ کیا گیا ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ ” آنے والی جو بات ہے اس کا حکم آسمان ہی سے اترتا ہے۔ (موضح)
Ayah 51:23

فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَاۤ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ۠ Open ayah 51:23 in the Quran reader

تو آسمان اور زمین کے مالک کی قسم وہ یعنی دہشت زدہ قیامت) سچ ہیں (ان میں کوئی شبہ نہیں) جیسے تمہارا بات کرنا9(

ف 9 یعنی جیسے بات کرتے وقت تمہیں اپنے گویا ہونے کا یقین ہوتا ہے۔
Ayah 51:24

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَ الْمُكْرَمِیْنَۘ Open ayah 51:24 in the Quran reader

اے پیغمبر) کیا تو نے10 ابراہیم کے عزت دار مہمانوں کا قصہ سنا ہے11

ف 10 یہ بتلانے کے لئے کہ جن پچھلی قوموں نے انبیاء کی تکذیب کی ان کا انجام کیا ہوا ؟ یہاں سیحضرت ابراہیم اور دوسرے انبیاء کے واقعات جکا ذکر شروع ہو رہا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ حضرت ابراہیم کا قصہ حضرت لوط کے قصہ کی تمہید ہو۔ کیونکہ حضرت لوط بھی تو حضرت ابراہیم کی قوم ہی میں سے تھے۔ (رازی) 11 عزت دار مہمانوں سے مراد فرشتے ہیں جو حضرت لوط کی قوم کی طرف جاتے ہوئے راستہ میں حضرت ابراہیم کے ہاں مردوں کی شکل میں مہمان بن کر آئے تھے۔ ان کا قصہ سورة ہود (رکوع) سورة حجردرکوع 4 اور سورة عنکبوت رکوع 14 میں پہلے گزر چکا ہے۔
Ayah 51:25

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ١ۚ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَۚ Open ayah 51:25 in the Quran reader

جب وہ ابراہیم کے پاس پہنچے تو کہنے لگے سلام ابراہیم نے بھی جواب دیا سلام ( اور دل میں کہا) یہ لوگ تو کچھ نئی قسم کے معلوم ہوتے ہیں12

ف 12 یعنی اپنی ہئیت کذائی کے اعتبار سے پردیسی معلوم ہوتے ہیں۔
Ayahs 51:26–28

فَرَاغَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِیْنٍۙ Open ayah 51:26 in the Quran reader

پھر اپنے گھر جا کر ایک بھنا ہوا) موٹا بچھڑا لے کر آیا

فَقَرَّبَهٗۤ اِلَیْهِمْ قَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 51:27 in the Quran reader

وہ ان کے سامنے رکھا (انہوں نے کھانے میں تامل کیا) ابراہیم نے کہا تم کھاتے کیوں نہیں

فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ؕ وَ بَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 51:28 in the Quran reader

تب تو ابراہیم کا دل ان سے دہل گیا ڈر گیا13 انہوں نے یہ حال دیکھ کر ابراہیم سے کہا ڈر نہیں اور انہوں نے ایک علم والے لڑ کے (کے پیدا ہونے) کی اس کو خوشخبری سنائی14

ف 13 کہ کہیں دشمن کے لوگ نہ ہوں جو برے ارادہ سے اس علاقہ میں آئے ہوں۔ عربوں میں قاعدہ تھا اگر کسی کے ہاں برے ارادے سے جاتے تو اس کا کھانا کھاتے۔ یا ان کے کھانا نہ کھانے سے مجھ گئے ہو یہ فرشتے ہیں اور کسی علاقہ میں عذاب نازل کرنے کا حکم لے کر نہ آئے ہوں۔ 14 یعنی حضرت اسحاق
Ayah 51:29

فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِیْ صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَ قَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِیْمٌ Open ayah 51:29 in the Quran reader

یہ سن کر اس کی بی بی (سارہ) آگے بڑھی اور منہ پیٹ کر کہنے لگی اے نوج مجھے بیٹا ہوگا میں تو بوڑھی دوسرے بانجھ ہوں15

ف 15 بائیبل (باب پیدائش) میں ہے کہ اس وقت حضرت ابراہیم کی عمر سو سال اور حضرت سارہ کی عمر نوے سال تھی۔
Ayah 51:30

قَالُوْا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ Open ayah 51:30 in the Quran reader

انہوں نے (یعنی فرشتوں نے) کہا (تو تعجب کیا کرتی ہے) تیرے مالک نے ایسا ہی فرمایا ہے16 بیشک وہ تو بڑا حکمت والا ہے سب جانتے ہو

ف 16 یعنی یہ خوش خبری ہم اپنی طرف سے نہیں دے رہے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی بنا پردے رہے ہیں۔
Ayah 51:31

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 51:31 in the Quran reader

(جب یہ باتیں ہو چکیں تو) ابراہیم نے پوچھا بھلا یہ تو بتلائو) تم جو بھیجے1 گئے ہو تو کس کام کے لئے

ف 1 یعنی اس بشارت کے علاوہ دوسرا اہم کام کیا ہے جسے انجام دینے کے لئے تمہیں اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے ؟ خطب کے معنی اہم کام یا مہم کے ہیں
Ayah 51:32

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 51:32 in the Quran reader

وہ کہنے لگے ہم کچھ گنہگار لوگوں کی طرف بھیجے گئے ہیں2

ف 2 مراد حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم ہے۔
Ayahs 51:33–34

لِنُرْسِلَ عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ طِیْنٍۙ Open ayah 51:33 in the Quran reader

ان پر مٹی کی اینٹیں کھنگر برسانے کو

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 51:34 in the Quran reader

جن پر تیرے مالک کے پاس حد سے بڑھ جانے والوں کے لئے نشان پڑچکا ہے3

ف 3 یعنی جن میں سے ہر پتھر پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نشان لگا دیا گیا ہے کہ اس سے فلاں مجرم کا سر کچلنا ہے۔ سورة عنکبوت میں ہے کہ اس کے بعد حضرت ابراہیم نے فرشتوں سے فرمایا : ان فیھا لوطا جس بستی کی طرف تم جا رہے ہو اس میں لوط رہتا ہے۔ “ وہ بولے ” نحن اعلم بمن فیھا النجیتہ و اھلہ الا امرانہ، ہمیں خوب معلوم ہے کہ وہاں کون کون ہے۔ ہم بجز ان کی بیوی کے انہیں اور ان کے سب گھر والوں کو بچا لیں گے۔
Ayah 51:35

فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِیْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 51:35 in the Quran reader

آخر اس بستی میں جتنے ایماندار تھے ان کو تو ہم نے نکال لیا4

ف 4 یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اشراد ہے۔ اس کی تفصیل کے لئے دیکھئے سورة ہود : 77 تا 83 سورة حجر : 61 تا 74 سورة عنکبوت : 33 تا 34
Ayah 51:36

فَمَا وَجَدْنَا فِیْهَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَۚ Open ayah 51:36 in the Quran reader

وہاں ایک ہی گھر مسلمانوں کا ہم نے پایا5

ف 5 یعنی حضرت لوط کا۔
Ayah 51:37

وَ تَرَكْنَا فِیْهَاۤ اٰیَةً لِّلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَؕ Open ayah 51:37 in the Quran reader

اور اس بستی میں ہم نے ان لوگوں کے لئے جو تکلیف کے عذاب سے ڈرتے ہیں ایک نشانی چھوڑ دی6

ف 6 نشانی سے مراد عذاب کے آثار میں یعنی سیاہ اینٹیں گھروں کے کھنڈر اور وہ ” بحر مردار “ جو اس علاقہ میں ہے اور جس کے اردگرد زمین اس قدر دھسنی ہوئی ہے کہ اس کی سطح سطح سمندر سے تیرہ سو فٹ نیچی ہے۔ ماہرین آثار قدیمہ کا اندازہ ہے کہ قوم لوط کا مرزی شہر سدوم اسی بحر مردار کے جنوبی حصہ میں ڈوبا ہوا ہے۔
Ayah 51:38

وَ فِیْ مُوْسٰۤى اِذْ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 51:38 in the Quran reader

اور موسیٰ (پیغمبر میں (بھی ہم نے اپنی قدرت کی نشانی چھوڑی) جب ہمنی اس کو کھلا ہوا معجزہ دیکر فرعون کی طرف بھیجا7

ف 7 یعنی عصا ید بیضا اور دوسرے معجزات جو اس بات کیصریح دلیل تھے کہ حضرت موسیٰ کو اللہ تعالیٰ ہی نے اپنا رسول بنا کر بھیجا تھا۔
Ayah 51:39

فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ وَ قَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ Open ayah 51:39 in the Quran reader

اس نے اپنے لشکر سمیت (یا اپنے بل بوتے کے بھروسے پر) منہ پھیرلیا (موسیٰ کا کہنا نہ سنا) اور8 کیا کہنے لگا موسیٰ جادوگر ہے یا باولا ہے9

ف 8 اصل میں لفظ رکن کے لفظی معنی گوشہ کے ہیں اور اس سے مراد ہر وہ چیز ہوتی ہے جس کا آدمی سہارا لے کر اس موقع پر مفسرین نے اس کے معنی لائو لشکر بھی کئے ہیں اور قوت اور بل بوتا بھی۔ 9 یعنی کبھی جادوگر قرار دیا اور کبھی بائولا بتایا تاکہ قوم کو ان کی دعوت قبول کرنے سے باز رکھے سکے۔
Ayah 51:40

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ وَ هُوَ مُلِیْمٌؕ Open ayah 51:40 in the Quran reader

آخر ہم نے اس کو اس کے لشکر سمیت دھر پکڑا اور سمندر میں پھینک مارا اور وہ تھا ہی ملامت کے قابل10

ف 10 کیونکہ خدائی کا دعویدار تھا اور بنی اسرائیل پر ظلم توڑتا تھا۔ سورة دخان میں فرمایا : فما بکت علیھم السمآء و والارض پھر نہ آسمان ان پر رویا اور نہ زمین نے دو آنسو بہائے۔ یعنی خس کم جہاں پاک ۔ انکے فرق ہونے کی تفصیل سورة یونس کے رکوع 9 میں گزر چکی ہے۔