50. Surah Qaaf

قThe letter Qaaf · 45 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 50:1

قٓ١ۚ۫ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِۚ Open ayah 50:1 in the Quran reader

قسم ہے قرآن کی جو بڑی شان والا ہے5

ف 5 ” ہمیں نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے لیکن یہ مکہ والے آپ پر ایمان نہیں لائے۔ “ قسم کا یہ جواب محذوف ہے۔
Ayah 50:2

بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَیْءٌ عَجِیْبٌۚ Open ayah 50:2 in the Quran reader

بلکہ ان کو تعجب ہوا کہ ایک ڈرائیوالا (پیغمبر) انہی (کی قوم) میں سے ان کے پاس آیا تو کافر کیا کہنے لگے یہ تو مرضی اٹھنا) ایک عجیب بات ہے6

ف 6 یا ” خود ہم میں سے ایک شخص کا ہمارے پاس اللہ کا رسول بن کر آنا عجب بات ہے۔
Ayah 50:3

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ Open ayah 50:3 in the Quran reader

کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی خاک ہوجائیں گے پھر زندہ ہو کر اٹھائے جائینگے یہ7 دوبارہ لوٹنا تو عقل سے دور ہے

ف 7 یعنی ہماری سمجھ میں نہیں آتا یا یہ عام عادت کے خلاف ہے۔
Ayah 50:4

قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ١ۚ وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِیْظٌ Open ayah 50:4 in the Quran reader

ہم تو جتنا ان کو زمین میں کھاتی جاتی ہے وہ جانتے ہیں1 اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جس میں سب کچھ موجود یہ (یعنی لوح محفوظ)

ف 1 یعنی ان کے جسموں میں سے جتنا کچھ زمین کھاتی جاتی ہے وہ سب ہمارے علم میں ہے پھر ہمارے لئے کیا مشکل ہے کہ بکھرے ہوئے تمام ذروں کو ایک جگہ جمع کردیں اور انہیں جوڑ کر دوبارہ زندگی بخش دیں۔
Ayah 50:5

بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ Open ayah 50:5 in the Quran reader

ان کافروں نے تو (اس سے بڑھ کر ایک بات کی) سچا قرآن جب ان کو پہونچ گیا تو اس کو جھٹلایا اور وہ ڈگمگا رہے ہیں2

ف 2 یعنی انہیں پیغمبر اور قرآن کے بارے میں ایک بات پر قرار نہیں ہے اور سخت ذہنی الجھن میں پڑے ہوئے ہیں کبھی پیغمبر کو شاعر کہتے ہیں کبھی کاہن کبھی مجنون اور کبھی ساحر اسی طرح قرآن کو کبھی محمد ﷺ کا اپنا تصنیف کیا ہوا کلام کہتے ہیں اور کبھی کہتے ہیں کہ کوئی عجمی شخص انہیں سکھا جاتا ہے اور کبھی اسے جادو کہتی ہیں الغرض ہر موقع پر کوئی نہ کوئی بات گھڑ لیتے ہیں۔
Ayah 50:6

اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ Open ayah 50:6 in the Quran reader

کیا ان کافروں نے اتنا بڑا آسمان نہیں دیکھا جو ان کے اوپر ہے اس نے اس کو کس خوبی سے3 بنایا اور اس کو ستاروں سے کیسا آرساتہ کیا اور اس میں کہیں4 درز نہیں کہ بےموقع پھٹا ہوا ہو)

ف 3 کہ اس کے کہیں ستون تک نظر نہیں آتے۔ “ 4 جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا : ما تری فی خلق الرحمٰن من تفوت “ ” تم اللہ کی خلق میں کوئی خلل نہیں پاتے ہو
Ayahs 50:7–11

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍۙ Open ayah 50:7 in the Quran reader

اور زمین کو ہم نے (فرش کی طرح) پھیلایا اور اس میں بھاری بھرکم پہاڑ ڈالے اور سب قسم کی خوشنما رونق دار چیزیں اس میں اگائیں پھل پھول غلہ ترکاری وغیرہ

تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ Open ayah 50:8 in the Quran reader

اس لئے کہ جو بندہ ہماری طرف رجوع ہونیوالا ہے وہ ان کو دیکھے اور ہماری قدرت سمجھے یا یاد کرے

وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِیْدِۙ Open ayah 50:9 in the Quran reader

اور ہم نے برکت والا پانی آسمان سے اتارا اس نے بندوں کے کھانے کے لئے باغ اگائے اور اناج کے کھیت

وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌۙ Open ayah 50:10 in the Quran reader

اور لمبی لمبی کھجور کے درخت جن کی گیلیں (خوشے) گتھی ہوئی ہیں

رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ١ۙ وَ اَحْیَیْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ؕ كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ Open ayah 50:11 in the Quran reader

اور اسی پانی سے ہم نے مری ہوئی (اجا اڑ) بستی کو زندہ کیا اسی طرح (لوگ بھی قبروں سے) نکل اٹھیں گے5

ف 5 یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنے میں تعجب کی کونسی بات ہے ؟ کیا تم اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتے کہ ایک زمین بارش نہ ہونے کی وجہ سے بنجر پڑی ہوتی ہے جیسے اس میں زندگی کے کوئی آثار ہی نہیں۔ یکایک بارش ہوتی ہے تو اس میں کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں اور درخت اگتے ہیں گویا مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوجاتی ہے۔ اس طرح تم بھی مرنے کے بعد زندہ کئے جاسکتے ہو۔
Ayah 50:12

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُۙ Open ayah 50:12 in the Quran reader

ان (مکہ کے) کافروں سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اور کنوئیں والوں (شعیب کی قوم) نے اور ثمود6

ف 6 اصحاب الرس کا ذکر سورة فرقان میں گزر چکا ہے۔
Ayahs 50:13–14

وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍۙ Open ayah 50:13 in the Quran reader

اور عاد نے اور فرعون نے اور لوط کی قوم والوں نے

وَّ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ١ؕ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ Open ayah 50:14 in the Quran reader

اور بن کے رہنے والوں نے اور تبع کی قوم والوں نے جن کا ذکر اوپر گذر چکا جھٹلایا ان میں سے ہر ایک نے پیغمبروں کو جھٹلایا7 آخر ہمارا عذاب ان پر اتر کر رہا

ف 7 ہر ایک نے اگرچہ اپنے اپنے پیغمبر کو جھٹلایا لیکن چونکہ ایک پیغمبر کو جھٹلانا سبھی پیغمبروں کو جھٹلانا ہے اسی لئے ہر ایک نے گویا بھی پیغمبروں کو جھٹلایا۔
Ayah 50:15

اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۠ Open ayah 50:15 in the Quran reader

کیا ہم پہلی بار دنیا میں پیدا کر کے تھک گئے8 پھر نہیں ان کو نئے سرے سے دوبارہ پیدا ہونے میں شک ہے9

ف 8 کہ پھر دوسری بار آخرت میں پیدا نہ کرسکیں گے ؟ 9 یعنی یہ اس چیز کے منکر نہیں ہیں کہ ان کو پہلی بار ہمیں نے پیدا کیا اور یہ کہ پہلی با رپیدا کر کے ہم تھک کر نہیں رہ گئے لیکن اس کے باوجود انہیں شک ہے کہ ہم دوبارہ بھی پیدا کرسکیں گے یا نہیں حالانکہ معمولی غور و فکر سے یہ بات سمجھی جاسکتی ہے کہ ہمیں اگر ہمیں دشواری پیش آتی تو پہلی بار پیدا کرنے میں آتی، دوسری بار پیدا کرنے کا کام تو پہلی بار کی بہ نسبت کہیں آسان ہے۔ ( سورة روم :27)
Ayah 50:16

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ١ۖۚ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ Open ayah 50:16 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے ہی آدمی کو بنایا اور ہم اس کے دل میں جو خیال آتے ہیں ان تک کو جاتنے ہیں اور ہم گردن کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے نزدیک ہیں1

ف 1 شاہ صاحب لکھتے ہیں ” گردن کی رگ مراد ہے جس میں جا نپھرتی ہے دل سے دماغ تک اس کے کٹنے سے موت ہے اللہ اندر سے نزدیک ہے اور رگ آخر باہر سے جان سے (موضح) حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ یہاں ہم سے مراد فرشتے ہیں۔ (دیکھیے سورة واقعہ آیت 85)
Ayah 50:17

اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ Open ayah 50:17 in the Quran reader

جب وہ لکھ لینے والے فرشتے داہنی اور بائیں طرف بیٹھے ہوئے لکھ لیتے جاتے ہیں2

ف 2 مراد کرام کا تبین فرشتے ہیں جن میں سے دائیں طرف والا فرشتہ نیکیاں اور بائیں طرف والا برائیاں لکھتا ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ بندے کے تمام اعمال کے ریکارڈ رکھنے کا اہتمام اتمام حجت کے لئے ہے کہ قیامت کے دن انسان اپنے کسی عمل سے مکر نہ سکے
Ayah 50:18

مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ Open ayah 50:18 in the Quran reader

منہ سے بات نکالنے کی دیر ہے اس کے پاس ایک فرشتہ تیار ہے جو راہ دیکھ رہا ہے3

ف 3 یعنی جونہی انسان منہ سے کوئی بات نکالتا ہے فرشتہ لکھ لیتا ہے۔ نیز دیکھیے لفظ 12 ۔ 10) ابن عباس کہتے ہیں کہ فرشتہ اس کی ہر بات لکھتا ہے حتی کہ اس کا یہ کہنا بھی کہ میں نے کھانا کھایا میں نے پانی پیا وغیرہ پھر جمعرات کے روز وہ اپنا لکھا ہوا ریکارڈ خدا کے سامنے پیش کرتا ہے اور پھر انہی باتوں کو باقی رکھتا ہے جن کا تعلق ثواب یا عقاب سے ہوتا ہے اور دوسری باتوں کو مٹا دیتا ہے۔ یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول کا یمحواللہ مایشاء ویبت کہ اللہ جو چاہتا ہے مٹاتا ہے اور جو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے صحیحین میں ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اس امت کے دل میں آنے والے خیال معاف کردیئے جب تک انہیں منہ سے نہ نکالے یا ان پر عمل نہ کرے۔ (شو کانی)
Ayah 50:19

وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ Open ayah 50:19 in the Quran reader

اور موت کی بےہوشی سبحقیقت کھول دے گی4 اس وقت اس سے کہا جائیگا یہی تو وہ ہے یعنی موت جس سے توڑ کر بھاگتا پھرتا تھا

ف 4 یعنی آخرت کی جن باتوں کی انبیاء (علیہم السلام) نے خبر دی تھی موت آتے ہی بندہ انہیں آنکھوں سے دیکھنا شروع کر دے گا اور ان کے بارے میں اسے کسی قسم کا شبہ نہ رہے گا۔
Ayah 50:20

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ Open ayah 50:20 in the Quran reader

اور حشر کے دن صور پھونکا جائیگا یہی تو سزا کا دن ہے5

ف 5 اس سے مراد دوسرا نفخہ ہے یعنی وہ جس کے ساتھ ہی تمام مرے ہوئے لوگ دوبارہ زندہ ہو کر جزا و سزا کے لئے اٹھ کھڑے ہونگے۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں بےفکر کیسے رہوں حالانکہ فرشتے نے ” صور “ ‘ سنبھال یا ہے اور گردن جھکالیا ہے اور وہ اجازت ملنے کے انتظار میں ہے۔ صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! تو ہم کیا کہا کریں، فرمایا یہ کہا کرو : حسبنا اللہ ونعم الوکیل ” ہمارے لئے اللہ کافی ہے اور وہی اچھا کار ساز ہے۔ “ (ابن کثیر)
Ayah 50:21

وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآئِقٌ وَّ شَهِیْدٌ Open ayah 50:21 in the Quran reader

اور ہر شخص جوابدہی کے لئے حاضر ہوگا اس کے ساتھ دو فرشتے ہوں گے ایک ہانکنے والا ایک حال بتانیوالا گواہ6

ف 6 آیت کا یہی مطلب حضرت عثمان اسی کے مطابق شاہ صاحب فرماتے ہیں، ایک فرشتہ ہانک لاتا ہے اور ایک (کے) پاس نامہ اعمال ساتھ ہے۔ (موضح)
Ayah 50:22

لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ Open ayah 50:22 in the Quran reader

کافر سے اس دن کہا جائیگا بیشک تو دنیا میں اس دن سے غافل تھا پھر آج ہم نے تیرا پردہ تجھ پر سے اٹھا دیا اب تیری نگاہ آج خوب تیز ہے7

ف 8 یعنی اب تو تمہیں وہ حقیقت نظر آرہی ہے جس کا تم دنیا میں انکار کرتے تھے۔
Ayahs 50:23–24

وَ قَالَ قَرِیْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌؕ Open ayah 50:23 in the Quran reader

اور اس کا ساتھی فرشتہ جو اعمالناہم لایا تھا کہے گا میرے پاس تو یہ تیرا اعمال نامہ حاضر ہے

اَلْقِیَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 50:24 in the Quran reader

دونوں جا کر ہر ناشکرے شریر کو دوزخ میں جھونک دو8

ف 8 یہ حکم ہے جو اس روز اللہ تعالیٰ ہانکنے والے اور گواہی دینے والے فرشتے کو دے گا۔
Ayahs 50:25–27

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِۙ Open ayah 50:25 in the Quran reader

بھلائی سے روکنے والے حد سے بڑھ جانیوالے ایمان کی باتوں میں) شک کرنیوالے کو

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَاَلْقِیٰهُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ Open ayah 50:26 in the Quran reader

جس نے اللہ کے سوا دوسرا معبود ٹھہرایا اس کو خواب لے دو

قَالَ قَرِیْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ وَ لٰكِنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 50:27 in the Quran reader

اس کا ساتھی ہمزاد شیطان کہے گا مالک میرے میں نے اس کو گمراہ نہیں کیا وہ کمبخت خود پر لے سرے کا گمراہ تھا9

ف 9 اس لئے اسے انبیاء کی کوئی بات پسند نہ آئی اور وہ میرے بھرے میں آگیا۔
Ayahs 50:28–29

قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْكُمْ بِالْوَعِیْدِ Open ayah 50:28 in the Quran reader

اللہ فرمائے گا بس بس میرے سامنے یہ جھگڑے نہ نکالو اور میں تو پہلے ہی دنیا میں تم کو یغمبر بھیج کر اپنے عذاب سے ڈرا چکا تھا

مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 50:29 in the Quran reader

دیکھو میرے پاس جو بات ٹھہر چکی ہے وہ بدل نہیں سکتی1 اور میں بندوں پر ظلم کرنیوالا نہیں ہوں2

ف 1 یعنی میں نے جو تمہیں جہنم میں ڈالنے کا فیصلہ صادر کردیا ہے وہ اب بدلن ہیں سکتا اور نہ میرا وہ مستقبل فیصلہ بدل سکتا ہے جس سے میں نے تمہیں دنیا میں متنبہ کردیا تھا یعنی : (انعام :16) یا (ہود 119) ” میں جنوں اور انسانوں دونوں سے جہنم بھر دوں گا۔ “ (قرطبی شو کانی) 2 یعنی میں کسی کو بےقصور سزا نہیں دیتا اور نہ اس کے قصور سے زیادہ سزا دیتا ہوں
Ayah 50:30

یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ Open ayah 50:30 in the Quran reader

جس دن ہم دوزخ سے پوچھیں گے کیا تو بھر گئی وہ کہے گی کچھ اور بھی ہے3

ف 3 یعنی میں نہیں بھری کچھ اور لائو صحیحین میں حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دوزخ میں لوگ ڈالے جاتے رہیں گے اور وہ برابر کہتی رہے گی ’ ’ ھل من مزید ؟ “ یہاں تک کہ رب العزت اس میں اپنا قدم رکھے گا اس سے وہ سکڑ جائے گی اور کہے گی ” بس بس ! “ مجھے تیرے غلبہ اور کر مکی قسم اور جنت میں خالی جگہ بچ رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک اور مخلوق پیدا کرے گا اور اسے جنت کی خالی بچی ہوئی جگہوں میں ٹھہرائے گا۔ یہ مضمون متعدد و احادیث میں بیان ہوا ہے۔ (ابن کثیر) دوزخ کے اس کلام کو بعض مفسرین نے تمثیلی قرار دیا ہے لیکن اگر اسے حقیقت پر معمول کرلیا جائے تو یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے بعید نہیں ہے۔ (شوکانی)
Ayah 50:31

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ Open ayah 50:31 in the Quran reader

اور بہشت پرہیز گاروں کے پاس لائی جائی گی کچھ دور نہ ہوگی4

ف 4 یعنی قیامت کے روز وہ ان سے دور نہ ہوگی۔ حشر کے میدان میں کھڑے ہوئے اوہ اسے قریب سے دیکھے اور اس کی تروتازگی اور مہک پائیں گے۔
Ayahs 50:32–34

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍۚ Open ayah 50:32 in the Quran reader

ان سے کہا جائیگا یہی تو وہ بہشت ہے جس کا تم ایسے اللہ کی طرف رجوع ہونیوالوں اللہ کے حکموں کو نگاہ رکھنے والوں سے وعدہ کیا پاتا تھا

مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِۙ Open ayah 50:33 in the Quran reader

جو لوگ بن دیکھے اللہ سے ڈرتے تھے اور یہاں احلاص سے بھرا ہوا زیادہ سچے اعتقاد سے بھرا ہوا دل لیکر آئے

اِ۟دْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ Open ayah 50:34 in the Quran reader

ایسے لوگوں سے کہا جائیگا تم سلامتی کے ساتھ بہشت پر آجائو یہ دن ہمیشہ قائم رہے گا5

ف 5 یعنی تمہیں کبھی موت نہ آئیگی اور نہ تم جنت سے نکلو گے۔
Ayah 50:35

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ فِیْهَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ Open ayah 50:35 in the Quran reader

وہ جو چاہیں گے وہاں ان کو ملے گا اور کچھ زیادہ بھی ہمارے پاس سے6

ف 6 یعنی جو کھ وہ چاہیں گے وہ تو انہیں ملے گا ہی اس کے علاو ہہم انہیں اتنا کچھ اور دیں گے جس کا تصور تک ان کے ذہن میں نہیں آیا کہ وہ اس کی خواہش کریں … یا ” مزید “ سے مراد دیدار الٰہی ہے جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا للذین احسنوا الحسنی کی وزیادۃ جنہوں نے نیک کی ان کو بھلائی ملے گی اور کچھ بڑھ کر بھی یونس 26 حضرت انس فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر روز انہیں اپنی تجلی سے نوازے گا۔ (ابن کثیر)
Ayah 50:36

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ١ؕ هَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 50:36 in the Quran reader

اور ہم نے ان مکہ کے کافروں سے پہلے کتنی قومیں تباہ کردیں جو بل بوتے میں ان سے کہیں بڑھ کر تمہیں ہمارا عذاب اترتے وقت وہ لوگ شہروں کو چھانتے پھر سے (موت سے بھاگتے پھرے) کہیں ان کو پناہ ملے7

ف 7 دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کاروبار کے سلسلہ میں دنیا بھر کا چکر کاٹتے تھے لیکن جب ہماری گرفت کا وقت آیاتو کیا انہیں کہیں پناہ مل سکی۔
Ayahs 50:37–38

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ Open ayah 50:37 in the Quran reader

جو شخص عقل رکھتا ہے یا کان لگا کر دل سے سنتا ہے اس کے لئے تو ان قصوں میں پوری نصیحت ہے

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ١ۖۗ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ Open ayah 50:38 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو ان دونوں کے بیچ میں ہے سب چھ دن میں بنادیا اور ہم کو ذرا بھی تھکن نہ ہوئی8

ف 8 اس آیت سے مقصود ان یہودیوں کی تردید ہے جو کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو چھ دنوں میں بنایا اور وہ ساتویں دن تھک کرلیٹ گیا۔
Ayahs 50:39–40

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِۚ Open ayah 50:39 in the Quran reader

تو اے پیغمبر ان کافروں کی باتوں پر صبر کئے رہ اور سورج نکلنے اور سورج ڈوبنے سے پہلے اپنے مالک کی خوبی تعریف کے ساتھ بیان کرتا رہ

وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ Open ayah 50:40 in the Quran reader

اور ات کے وقت اور نماز کے بعد اس کی پاکی بیان کر9

ف 9 اس سے مراد نماز پڑھنا ہے۔ سورجن نکلنے سے پہلے فجر کی نماز ہے اور سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی نماز ہے اور رات کے وقت تہجد کی نماز ہے۔ ان اوقات میں نماز پڑھنا آنحضرت اور مسلمانوں پر فرض تھا پھر معراج کے موقع پر جب پانچ نمازیں فرض کی گئیں اور ان کے اوقات بھی متعین کردیئے گئے تو فجر اور عصر کی نمازیں تو بدستور فرض رہیں لیکن تہجد کی نماز نفلی قرار دے دی گئی۔ فجر اور عصر کی نماز کی قرآن و حدیث میں خاص طور پر ترغیب آئی ہے اور جو لوگ یہ دو نمازیں پابندی سے پڑھتے ہیں ان کو آخرت میں دیدار الٰہی نصیب ہوگا۔ (ابن کثیر) نماز بعد تسبیح سے مراد سبحان اللہ والحمد اللہ اللہ اکبر کلمات بھی ہوسکتے ہیں جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے کہ نماز فرض کے بعد سبحان اللہ الحمد اللہ 33 بار اور اللہ اکبر 34 بار پڑھا جائے۔ بعض نے اس تسبیح سے مراد مغرب کے بعد کی دو رکعتیں لی ہیں۔ (ابن کثیر)