49. Surah Al-Hujuraat

الحجراتThe Inner Apartments · 18 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 49:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 49:1 in the Quran reader

مسلمانو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے سامنے بڑھ کر بات نہ کرو7 اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ سب کچھ سنتا جانتا ہے8

ف 7 یا ” ان کے آگے پیش قدمی نہ کرو “ یعنی جب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا ارشاد سنوتو فوراً بسر و چشم مانل و اور آگے بڑھ کر باتیں مت بنائو، یا ان کے فیصلہ پر اپنی یا کسی کی رائے کو مقدم مت رکھو اور نہ کسی معاملہ میں ان کے فیصلہ سے بےنیاز ہو کر کوئی فیصلہ کرو کیونکہ یہ ان پر ایمان کا کم سے کم تقاضا ہے۔ نواب صاحب فرماتے ہیں جو شخص قرآن و حدیث کا معاوضہ رائے یا اجتہاد سے کرے وہ بھی اللہ و رسول کے سامنے بڑھ کر باتیں بناتا ہے۔ (فتح البیان) 8 یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی خلاف ورزی کرو گے تو اس سے تمہارا جرم چھپا نہ رہے گا۔ وہ تمہیں قرار واقعی سزا دیگا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں :” یعنی مجلس میں کوئی کچھ پوچھے حضرت کی راہ دیکھو کیا فرما دیں تم اپنی عقل سے آگے جواب نہ دے بیٹھو۔ (موضع )
Ayah 49:2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 49:2 in the Quran reader

مسلمانو پیغمبر کی آواز سے اپنی آوازوں کو اونچا نہ ہونے دو اور پیغمبر سے اس طرح پکار کر بات نہ کرو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے سے پکار کر کرتے ہو9 ایسا نہ ہو تمہارے نیک اعمال غارت ہوجائیں (اکارت ہوں) اور تم کو خبر نہ ہو1

ف 9 یہ ہے وہ ادب جو آنحضرت کی مجلس میں بیٹھنے والوں کو سکھایا گیا تھا۔ آج بھی اس ادب کا تقاضا ہے کہ جب بھی نبی ﷺ کا ذکر کیا جائے یا آپ کی احادیث پڑھ کر سنائی جائیں تو انہیں پورے سکون اور دلجمعی کے ساتھ سنا جائے۔ 1 حافظ ابن القیم فرماتے ہیں کہ قرآن پاک اور حدیث شریف اور آثار صحابہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ارتداد کے سوا دیگر معاصی سے بھی نیک اعمال کے اکارت ہوجانے کا خطرہ ہے جیسا کہ نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں۔ (کذافی الوخیز)
Ayah 49:3

اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 49:3 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اللہ کے رسول کے سامنے اپنی آوازیں دبی دھیمی رکھتے ہیں انہی کے دلوں کو اللہ نے پرہیز گاری کی کسوٹی پر کس لیا ہے2 ان کے لئے آخرت میں گناہوں کی معافی اور بڑا نیگ ثواب ہے

ف 2 یعنی وہ پرہیز گاری کے امحتان میں پورے اترے ہیں۔
Ayah 49:4

اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 49:4 in the Quran reader

اے پیغمبر جو لوگ تجھ کو حجروں کے باہر سے جن میں آپ تشریفرکھا کرتے تھے آواز دیتے ہیں ان میں اکثر بےعقبل ہیں2

ف 3 متعدد روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قبیلہ بنی تمیم کے کچھل وگ تھے جو ایک روز عین دوپہر کے وقت آپ کے حجرے پر آئے اور آپ کا نام لے کرچلانے لگے۔ ” اے محمد باہر نکلو، دیکھو ہماریتعریف موجب زینت اور ہماری مذمت موجب عیب ہے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے ادب سکھانے کے لئے یہ اور اس سے اگلی آیت نازل فرمائی۔ ابن کثیر
Ayahs 49:5–6

وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:5 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ اس وقت تک دم لیتے جب تک تو ان کے پاس برآمد ہوتا تو ان کے لئے دین اور دنیا دونوں میں) بہتر ہوتا اور اللہ (انکے قصور اور بےادبی پر بھی) بخشنے والا مہربان ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ Open ayah 49:6 in the Quran reader

(اگر وہ توبہ کریں) مسلمانو جلدی امت کیا کرو) اگر کوئی بدکار شخص کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کرلیا کرو ایسا نہ ہو کہ تم بےجانے بوجھے (تحقیق کئے) کسی قوم پر چڑھ دوڑو4 پھر (جب اصل حال معلوم ہوا تو اپنے کئے پر پچتائو

ف 4 تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ آیت والید بن عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی جسے آنحضرت نے قبیلہ اپنی المصلق سے زکوۃ وصول کرنے بھیجا یہ راستہ میں کسی وجہ سے ڈر گیا (غالباً ) اس وجہ سے کہ زمانہ جاہلیت سے بنی المطلق اور اس کے قبیلہ میں دشمنی چلی آتی تھی اور وہیں سے مدینہ واپس ہو کر آنحضرت سے شکایت کی کہ نبی المطلق نے زکوۃ دینے سے انکار کردیا ہے بلکہ وہ مجھے قتل کرنا چاہتے تھے۔ آنحضرت نے یہ سن کر بنی المطلق ادھر سے بنی المطلق کے سردار حارث بن ضرار ام المومنین حضرت جویریہ کے والد اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ آتے نظر آئے۔ قریب پہنچ کر انہوں نے لشکر والوں سے دریافت کیا کہ آپ لوگ کدھر جا رہے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ تمہاری طرف ہی جا رہے ہیں۔ انہوں نے سبب پوچھاتو لشکر والوں نے بتایا کہ آنحضرت نے ولید بن عقبہ کو تمہارے پاس بھیجا اور تم نے زکوۃ دینے سے انکار کردیا بلکہ اسے قتل کرنے پر آمادہ ہوگئے۔ وہ بولے ” مجھے اس ذات کی قسم جس نے آنحضرت کو حق دے کر مبعوث کیا ہے، ولید نہ مارے پاس آیا اور نہ ہم نے اس کی شکل دیکھی۔ پھر یہی بات انہوں نے آحضرت کی خدمت میں حاض رہو کر کہی اور مزید کہا کہ ہم تو خود آپ کی خدمت میں اس لئے حاضر ہوئے ہیں کہ آپ کی طرف سے کوئی نہ کوئی وصول کرنے نہیں پہنچا اور ہم ڈر گئے کہ کہیں آپ ہم سے ناراض نہ ہوگئے ہوں۔ “ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (شوکانی)
Ayah 49:7

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ فِیْكُمْ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ؕ لَوْ یُطِیْعُكُمْ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَیْكُمُ الْاِیْمَانَ وَ زَیَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ كَرَّهَ اِلَیْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْیَانَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَۙ Open ayah 49:7 in the Quran reader

اور یہ جان لو کہ اللہ کا پیغمبر تم میں موجود ہے اللہ اس کو ہر خبر کا حال بتلا دیگا بہت باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ اگر وہ تمہارا کہنا ان میں مان لیا کرے تو تم آفت میں پھنس جائو5 مگر عمدہ یہ بات ہے کہ اللہ نے تم کو ایمان کی محبت دی اور تمہارے دلوں میں اس کو اچھا کرو دکھایا ہے فقر اور نافرمانی اور گناہ سے تم میں نفرت ڈال دی ہے6 یہی لوگ تو ٹھیک رستے پر ہیں

ف 5 ” اس لئے کسی کام میں جلدی نہ کرو بلکہ پیغمبر کی طرف رجوع کرو اور جو ارشاد وہاں سے پائو اس پر عمل کرو۔ “ شاہ صاحب لکھتے ہیں، یعنی تمہارا مشورہ قبول نہ ہو تو برا نہ مانو، رسول عمل کرتا ہے اللہ تعالیٰ کے حکم پر اسی میں تمہارا بھلا ہے اگر تمہاری بات مانا کرے تو ہر کوئی اپنے بھلے کی کہے پھر کس کس کی بات پر چلے۔ (موضع) 6 ” اس لئے بعض اوقات بتقاضائے بشریت تم سے غلطی ہوجاتی ہے مگر ایمان کی بدلوت جلد ہی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوتے ہو اور نافرمانی اور گناہوں سے باز رہتے ہو۔ “
Ayahs 49:8–9

فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ نِعْمَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 49:8 in the Quran reader

اللہ کے فضل و کرم سے اور اللہ تعالیٰ (سب کچھ) جانتا ہے حکمت والا

وَ اِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا١ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 49:9 in the Quran reader

اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پیں تو ان میں ملاپ کیا کرا دو7 پھر اگ ایک گروہ ان میں کا (سمجھانے پر بھی نہ مانے اور دوسرے گروہ پر نظم کرنے لگیتو جو گروہ متحکم کرنے لگے اس سے لڑو سافنک کہ وہ اللہ کا حکم مان لے پھر بیشک اللہ انصاف کرنے والے سے محبت رکھتا ہے1

ف 7 یعنی دونوں کو سمجھائو اور حق بات ماننے کے لئے کہو۔ یہ خطاب ان مسلمانوں سے ہے جو دونوں گروہوں میں شامل نہ ہوں۔ صحیحین میں حضرت انس سے روایت ہے کہ آنحضرت ایک مرتبہ ایک گدھے پر سوار ہو کر انصار کی ایک مجلس میں گئے جس میں عبداللہ بن ابی منافق بھی تھا۔ وہ بدبخت کہنے لگا ذرا ہٹ کر بیٹھو مجھے تمہارے گدننے کی بدبو سے تکلف ہو رہی ہے۔ ای کا نصاری کہنے لگا ” خ دا کی قسم ! آنحضرت کا گدھا تجھ سے زیادہ خوشبودار ہے۔ عبداللہ یہ سن کر غصہ میں آگیا اور دونوں طرف کے لوگ جھڑپوں، جوتوں اور گھونسوں سے باہم مار پٹائی کرنے لگے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (شوکانی) یہ حدیث مختلف الفاظ اور سیاق کے ساتھ کتب حدیث میں مذکور ہے۔ 1 حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن انصاف کرنے والے عرش کی دائیں طرف نور کے منبروں پر ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے دنیا میں غیروں اور اپنوں کے درمیان
Ayah 49:10

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠ Open ayah 49:10 in the Quran reader

مسلمانتو آپس میں بھائی بھائی ہیں تو اپنے دونوں بھائیوں میں جو جھگڑا کریں ملاپ کرلیں اور اللہ سے ڈرتے رہو اس کے رحم کی امید کو2

ف 2 جیسا کہ حدیث میں ہے۔ ” مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ وہ اسے بےیارو مددگار چھوڑتا ہے۔ “ دوسری حدیث میں ہے، اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے۔ (ابن کثیر)
Ayah 49:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّ١ۚ وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ١ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 49:11 in the Quran reader

مسلمانو ! مرد و دوسرے مردوں بد ہنسیں شاید وہ اللہ کے نزید ان سے بہتر ہوں اور عورتیں دوسری عورتیں پر ہنسیں) شاید وہ اللہ کے نزدیک ان سے اچھی ہوں اور ایک دوسرے پر طعنہ نہ مارو اشارے سے یا زبان سے اور کبھی کسی کو برے نام سے ( جس سے وہ چڑتا ہو) نہ پکارو3 ایمان لائے پیچھے ایسی بد زبانی کرنا4 فسق بدنامی) کی بات ہے اور جو لوگ ایسی حرکتوں سے توبہ کریں وہ (بڑے) شریر ہیں

ف 3 جیسے کسی کو فاسق منافق کانا گدھا وغیرہ ناموں سے پکارنا یا کسی کو مسلمان ہوجانے کے بعد اس کے سابق مذہب کی بنیاد پر یہودی نصرانی وغیرہ کہہ کر پکارنا 4 یعنی مسلمان پر طعن کرنا، اس کا مذاق اڑانا اور اسے برے ناموں سے پکارنا۔
Ayah 49:12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ١٘ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا١ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:12 in the Quran reader

مسلمانو اپنے بھائی مسلمان کے ساتھ بہت گمان کرنے سے بچے رہو کیونکہ بعضا گمان گناہ ہے5 ایک کھوج نہ کیا کرو ٹوھنگایا لگایا کرو6 اور کوئی تم میں دوسرے کی غصیبت کرے7 بھلا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھاتے۔ تم ضرور اس کے گھمن کرو گے8 اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ بڑا معاف کرنیوالا مہربان ہے

ف 5 اس سے مراد وہ بدظنی ہے جو ایک مسلمان کے بارے میں بلا وجہ کی جائے۔ آیت میں ایسی بدگمانیوں سے منع کیا گیا ہے جن سے فساد اور بہت سی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ 6 یعنی بلاوجہ کسی کا راز نہ ٹوٹولو اور اس کے عیب اور کمزوریاں معلوم کرنے کی کوشش نہ کرو بلکہ حتی المقدور ان پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرو۔ حدیث میں ہے کہ جس نے کسی مسلمان کے پوشیدہ عیب پر پردہ ڈالا اس نے گویا ایک زندہ درگور لڑکی کو موت سے بچایا۔ “ ایک دوسری حدیث میں ہے اگر تم لوگوں کے پوشیدہ حالات معملوم کرنے کے درپے ہوگئے تو تم انہیں بگاڑو گے۔ خصوصاً حکمران جب لوگوں کے اندر شبہات تلاش کرتا ہے تو انہیں بگاڑ کر رکھ دیتا ہے۔ (ابن کثیر) 7 غیبت سے مراد کسی شخص کی عدم موجودگی میں اس کے متعلق ایسی بات کہنا ہے جس ی اگر وہ سنے تو برا مانے۔ غیبت کی یہ تعریف آنحضرت نے خود فرمائی ہے۔ نیز آپ نے فرمایا اگر وہ بات اس میں پائی جاتی ہے تو تم نے اس کی غیبت کی اور نہیں پائی جاتی تو بہتان لگایا (جو دوہرا گنا ہے) متعدد احادیث میں یہ مضمون منقول ہے۔ (ابن کثیر) 8 گویا ایک مسلمان کے لئے مسلمان بھائی کی عزت اس کے گوشت کی طرح ہے۔ لہٰذا جب وہ اس کی عدم وجودگی میں اس کا ذکر برائی سے کرتا ہی تو اس کے مردہ جسم کا گوشت کھاتا ہے حجتہ الوداع کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے آنحضرت نے فرمایا : مسلمانو ! تمہاری جانیں، تمہاری مال اور تمہاری آبروئیں تم میں سے ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح یہ شہر، یہ مہینہ اور یہ دن با حرمت ہے (ابن کثیر)
Ayah 49:13

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا١ؕ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ Open ayah 49:13 in the Quran reader

لوگ ہم نے تم سب کو مردم آدم اور ایک عورت حوا سے بنایا9 اور تمہاری خواتین اور برادریاں یا قومیں اور خاندان) لئے ٹھہرائے کہ تم پہچانے جائو10 اللہ کے نزدیک تم میں وہی زیادہ عزت دار ہے جو تم میں زیادہ پرہیز گار ہے11 بیشک اللہ تم جاننے والا خبر دار ہے

ف 9 یعنی ایک باپ اور ایک ماں کی اولاد ہونے کی بنا پر تم سب کا مرتبہ یکساں ہے۔ لہٰذا کسی کا اپنے نسب پر فخر کرنا اور دوسرے کے نسب کو ذلیل سمجھنا جہالت ہے۔ 10 یعنی اپنی اصل کے اعتبار سے ایک ہونے کے باوجود تمہارا مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم ہونا چونکہ فطری امر تھا اس لئے ہم نے تمہیں تقسیم کردیا مگر اس تقسیم کا مقصد برتر اور کمتر کا ا امتیاز قائم کرنا نہیں ہے بلکہا یک دوسرے کی پہچان ہے تاکہ باہم تعان کی فطری صورت پیدا ہو۔ 11 یعنی ترجیح اور برتری کی بنیاد نسلی امتیازات پر نہیں ہے بلکہ پرہیز گاری پر ہے۔ حجتہ الوداع کے خطبہ میں آنحضرت نے اس کی خوب وضاحت فرمائی ہے۔
Ayah 49:14

قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا١ؕ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا وَ لَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَا یَلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:14 in the Quran reader

بنی اسد یا جہینہ اور مزینہ اور اسلم اور اشجع اور غفار کے گنوار لوگ کہتے ہیں ہم12 ایمان لائے (اے پیغمبر نے) کہ دے تم (بھی) مومن نہیں ہوئے البتہ یوں کہو ہم ڈر کے مارے مسلمان ہوگئے تابعدار بن گئے ابھی تو تمہارے دلوں میں ایمان گھسا تک نہیں1 اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کا کہا مانو گے تو تمہارے اچھے اعمال کے ثواب میں وہ کچھ کمی نہیں کرنے کا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

ف 12 ابن عباس سے روایت ہے کہ بنو اسد ایک مرتبہ قحط سالی کے زمانہ میں مدینہ آئے اور انہوں نے مالی امداد کا مطالبہ کرتے ہوئے بار بار آنحضرت سے یہی کہا ہم جنگ کئے بغیر مسلمان ہوئے ہیں اور ہم نے فلاں قبیلے کی طرح جنگ نہیں کی تو ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (قرطبی) 1 اس سے معلوم ہوا کہ اسلام اور ایمان میں فرق ہے۔ ایمان کے لئے قلبی ایفان بھی شرط ہے مگر اسلام کا لفظ ظاہری اطاعت پر بھی بولا جاتا ہے۔ گویا ایمان کو اسلام کی بہ نست خصوصیت حاصل ہے اور یہی بات اس حدیث سے معلوم ہوتی ہے جس میں جبریل نے آنحضرت سے پہلے سلام کے بارے میں سوال کیا اور پھر ایمان کے بارے میں صحیحین میں حضرت سعد سے روایت ہے کہ ایک غزوہ میں آنحضرت نے بعض لوگوں کو دیا تو ایک آدمی کو کچھ نہ دیا۔ حضرت سعید کہتے ہیں میں نے عرض کیا ” اے اللہ کے رسول آپ نے اس شخص کو کچھ نہیں دیا حالانکہ وہ مومن ہے۔ “ فرمایا ” یا مسلم ہے یہاں تک کہ میں تین مرتبہ یہ بات دہرائی اور آپ نے ہر مرتبہ یہی جواب دیا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ظاہری طور پر فرمانبردار کو مسلمان تو کہہ سکتے ہیں مگر یقین کیساتھ مومن نہیں کہہ سکتے۔ (ابن کثیر)
Ayahs 49:15–17

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ Open ayah 49:15 in the Quran reader

مومن تو وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر دل سے یقین لائے پھر ان کو ایمان کی باتوں میں کسی طرح کا شک نہیں رہا اور انہوں نے اپنی جان اور مال سے اللہ کی راہ میں کوشش کی ایسے ہی لوگ سچے ایماندار ہیں

قُلْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰهَ بِدِیْنِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 49:16 in the Quran reader

اے پیغمبر ان گنواروں سے کہ دے سے کیا تم اللہ سے اپنی دینداری جتلاتے ہو اللہ و آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے وہ جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو سب کچھ معلوم ہے

یَمُنُّوْنَ عَلَیْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا١ؕ قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَیَّ اِسْلَامَكُمْ١ۚ بَلِ اللّٰهُ یَمُنُّ عَلَیْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِیْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 49:17 in the Quran reader

(اے پیغمبر) یہ لوگ اسلام لا کر اپنا احسان تجھ پر جتاتے ہیں تو ان سے کہ دے اپنے مسلمان ہونے کا احسان مجھ پر نہ رکھو بلکہ اللہ تم پر احسان ہے کہ اس نے تم کو ایمان کا رستہ دکھلایا اگر تم سچے مسلمان ہو2

ف 2 یعنی سچے مسلمان کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے پر اپنے مسلمان ہونے کا احسان جتلائے
Ayah 49:18

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 49:18 in the Quran reader

بیشک اللہ آسمان اور زمین کی غیب کیب اتیں جانتا ہے اور جو تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے3

ف 3 یعنی اسے خوب معلوم ہے کہ تمہارا ایمان کتنے پانی میں ہے اور تم کہاں تک دل سے اسلام کی پیروی کررہے ہو لہٰذا کسی پر احسان جتلانے کی ضرورت نہیں جو مانگتا ہے سیدھی طرح مانگو۔