48. Surah Al-Fath

الفتحThe Victory · 29 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 48:1–2

اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًاۙ Open ayah 48:1 in the Quran reader

اے پیغمبر یہ حدیبیہ کی صلح کیا ہے ہم نے تجھ کو کھلم کھلا فتح دی

لِّیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ یَهْدِیَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:2 in the Quran reader

فتح5 اس لئے کہ تو اللہ کا شکر کرے اور اللہ تریے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے6 اور اپنا احسان تجھ پر پورا کرے7 اور تجھ کو دین کے سیدھے رستے پر جمائے رہے8

ف 5 اس فتح سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ امام زہری کہتے ہیں، صلح حدیبیہ سے بڑی کوئی فتح نہیں ہوئی۔ شعبی کہتے ہیں کہ آنحضرت کو اس صلح سے جو کچھ ملا وہ کسی غزوہ میں نہیں ملا۔ حضرت برائن عازب کہتے ہیں :” تم لوگ فتح مکہ کو فتح سمجھتے ہو لیکن ہم اصل فتح بیعت رضوان کو سمجھتے ہیں جو حدیبیہ میں ہوئی۔ “ (شو کانی بحوالہ صحیحین) 6 اس فتح میں آنحضرت سے ایسے کام ہوئے جو اللہ تعالیٰ کے نزیک بڑی قدر رکھتے تھے، اس لئے اس فتح میں آنحضرت کو مغفور ہونے کی خشوخبری سنائی گئی اور ہمیشہ کے لئے بالفرض اگر آپ سے کوئی لغزش سر زد ہو تو اسے معاف فرما دیا گیا۔ حدیث میں ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد آنحضرت اللہ تعالیٰ کی اس قدر عبادت کرنے کہ رات کی نماز میں کھڑے کھڑے پائوں پر ورم ہوجاتا۔ حضرت عائشہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! جب اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردیئے ہیں تو آپ عبادت میں اس قدر مشقت کیوں اٹھاتے ہیں فرمایا ” عائشہ کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔ (ابن کثیر) 7 نعمت (احسان) سے مراد وہ تمام ظاہری اور باطنی نعمتیں ہیں جو آنحضرت کو حاصل تھیں جیسے یہاں دنیا میں دین کا قلبا اور آخرت میں مقام محمود 8 یہاں تک آپ دنیا سے رخصت ہو کر اس کی جناب میں پہنچ جائیں۔
Ayah 48:3

وَّ یَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَصْرًا عَزِیْزًا Open ayah 48:3 in the Quran reader

اور تیری پوری زبردست مدد کرے9

ف 9 یعنی ایسی مدد جس کے بعد آپ کا کوئی دشمن آپ کو نیچا نہ دکھا سکے۔
Ayah 48:4

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْۤا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِهِمْ١ؕ وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 48:4 in the Quran reader

وہی خدا ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں تشفی اور تسلی اتاری10 اس سے یہ غرض تھی کہ پہلے ایمان کے ساتھ ان کا ایمان اور پڑھ جائے11 اور آسمان اور زمین کیفوجیں اللہ ہی کی ہیں12 اور اللہ علم والا ہے حکمت والاف 13

ف 10 یہ اس طرف اشارہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد عام مسلمان بہت رنجیدہ و غمگین تھے لیکن جب اللہ و رسول کی رضا اسی صلح میں پائی تو خوش ہوگئے اور بعد کے حالات سے ان پر صلح حدیبیہ کا فتح مبین ہونا عیاں ہوتا چلا گیا حتی کہ ان کے دل بالکل مطمئن ہوگئے۔ 11 یعنی جوں جوں اللہ و رسول کی بتائی باتیں حقیقت بن کر ان کے سامنے آتی گئیں، اللہ و رسول پر ان کا ایمان بڑھتا گیا۔ ایمان میں یہ اضافہ کو مصدق بہ کے اعتبار سے بھی ہوسکتا ہے کیونکہ انہیں اللہ اور رسول کی کسی بات میں شک نہ تھا مگر اصل بات یہ ہے کہ نفس ایمان میں اضافہ تسلیم کیا جائے کہ دلائل کی کثرت سے ایمان میں مزید پختگی حاصل ہوتی ہے۔ ایمان میں کمی و بیشی قرآن کی دوسری آیات اور احادیث سے بھی ثابت ہے صحیح بخاری کتاب الایمان میں امام بخاری نے اس مسئلہ کو مدلل طور پر ثابت کیا ہے۔ 12 جیسے فرشتوں جنوں اور انسانوں کی فوجیں۔ ابن عباس نے اس کی یہی تفسیر بیان کی ہے (قرطبی) 13 ۔ یعنی وہ جیسے چاہتا ہے ہے ان کا انتظام فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے دوسری پر غالب کرت ا ہے۔ مطل یہ ہے کہ مسلمانوں کو جو فتح و کامیابی نصیب ہوئی ہے یا ہو رہی ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے۔ اس میں خود مسلمانوں کا کمال نہیں ہے۔
Ayah 48:5

لِّیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ یُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 48:5 in the Quran reader

(اور یہ بھی غرض تھی) کہ مسلمان مرد اور مسلمان عورتوں کو اللہ تعالیٰ ایسے باغوں میں لے جائے جن کے تلے نہریں پڑی بہ رہی ہیں وہ ہمیشہ انہی میں رہیں گے اور ان کے گناہ ان پر سے اتارا دے1 اور اللہ کے نزدیک یہ بڑی کامیابی ہے

ف 1 یعنی بشری کمزوریوں کی بنا پر ان سے جو گناہ سرزد ہوگئے انہیں معاف کر دے گا۔
Ayah 48:6

وَّ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ الظَّآنِّیْنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ السَّوْءِ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ۚ وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ لَعَنَهُمْ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا Open ayah 48:6 in the Quran reader

اور منافق مرد اور مناق عورتوں اور مشرک مرد اور مشرک عورتوں کو جو اللہ کے ساتھ برا گمان رکھتے ہیں سزا دے2 وہی آفت کے چکر میں آئیں گے3 اور اللہ کا غضب ان پر اترا اور اللہ نے ان کو پھٹکار دیا اور ان کے لئے دوزخ تیار کر رکھی ہے اور وہ بری جگہ ہے

ف 2 منافقین سے مراد مدینہ منورہ کے منافین ہیں اور مشرکوں سے مراد مکہ معظمہ کے مشرکین۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو ذلت و رسوائی کی سزا دی اور وہ اس وجہ سے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے غلط توقع رکھتے تھے کہ آنحضرت اور صحابہ کرام جو غزوہ حدیبیہ میں آپ کے ساتھ گئے ہیں وہ مدینہ واپس نہیں آسکیں گے اور مشرکین ان کو تباہ و برباد کردیں گے اور مشرکین نے یہ سمجھ رکھات ھ کہ اللہ ہرگز اپنے دین کو مٹنے سے نہ بچا سکے گا اور کفر کا کلمہ بلند ہو کر رہے گا۔ (قرطبی وغیرہ) 3 جس سے بچنے کے لئے انہوں نے ہزار جتن کئے۔
Ayah 48:7

وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:7 in the Quran reader

اور آسمان اور زمین کی فوجیں سب اللہ ہی کی ہیں اور اللہ زبردست ہے حکمت والاف 4

ف 4 اس سے مراد اسی حقیقت کی تائید ہے جو اوپر بیان ہوئی
Ayah 48:8

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 48:8 in the Quran reader

اے پیغمبر ہم نے تجھ کو تیری امت پر) گواہ5 اور (ایمان والو کو) خوشخبری دینے والا

ف 5 یا حق کی شادت دینے والا ‘ یعنی اپنے قول و عمل سے لوگوں کو بتانے والا کہ حق کیا ہے ؟ دیکھیے سورة بقرہ آیت 143 و سورة نساء آیت (4)
Ayah 48:9

لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ١ؕ وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 48:9 in the Quran reader

اور (کافروں کو ڈرانیوالا (بنا کر) بھیجا کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو اور اس کے رسول کا ادب کرو اور اس کی تعظیم کرو6 اور صبح اور شام اللہ کی پاکی بیان کرو7

ف 6 یا ” اس کا ساتھ دو ۔ ‘ 7 یا ” نماز پڑھو “
Ayah 48:10

اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَ١ؕ یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ١ۚ فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا یَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَیْهُ اللّٰهَ فَسَیُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:10 in the Quran reader

بیشک جو لوگ تجھ سے (اے پیغمبر حدیبیہ میں) بیعت کر رہے ہیں وہ گویا خدا سے بیعت کر رہے ہیں8 اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے9 پھر جو کوئی اپنا اقرار توڑے وہ اقرار توڑ کر اپنا آپ نقصان کریگا اور جو کوئی اس اقرار کو ماورا کرے جو اس نے اللہ کے ساتھ باندھا اس کو اللہ بہت بڑا نیگ ثواب دیگا10

ف 8 کیونکہ من یطع الرسول فقد اطاع اللہ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی …“ اس بیعت سے مراد بیعت رضوان ہے جو نبی ﷺ نے حدیبیہ کے مقام پر صحابہ کرام کو ایک درخت کے نیچے جمع کر کے لی اور وہ اس وقت جب آپ نے حضرت عثمان کو کفارے گفتگو کرنے کے لئے مکہ معظمہ بھیجا اور انہوں نے حضرت عثمان کو روک لیا اور ادھر مسلمانوں میں مشہور ہوگیا کہ حضرت عثمان شہید کردیئے گئے۔ یہ بیعت اس بات پر تھی کہ مرتے دم تک میدان جہاد سے نہیں بھاگیں گے۔ صیحیحن میں حضرت جابر اور دوسری روایات کے مطابق مسلمانوں کی اس وقت تعداد چودہ پندرہ سو کے درمیان تھی اس کی کچھ تفصیل آئندہ آیات میں آرہی ہے۔ (قرطبی) 9 یا مطلب یہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا احسان و کرم ان کی اس بیعت سے کہیں زیادہ تھا یا ان کی قوت و نصرت سے اللہ تعالیٰ کی قوت و نصرت بہت زیادہ ہے۔ (قرطبی) 10 حضرت عبادہ بن صامت کہتے ہیں کہ ہم نے ہرحال میں جمع و طباعت پر آنحضرت کی جیت کی تھی کہ کسی حال میں آپ کا ساتھ نہ چھوڑیں گے۔
Ayah 48:11

سَیَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ شَغَلَتْنَاۤ اَمْوَالُنَا وَ اَهْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا١ؕ بَلْ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 48:11 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ابوہ گائوں والے جو اس سفر میں پیچھے رہ گئے11 یہ بہا نہ کرینگے ہم اپنے مال اور بال بچوں میں پھنس گئے (تیرے ساتھ نہ جاسکے) تو ہمارا گناہ (اللہ سے) بخشوا دے اپنی زبانوں سے وہ باتیں کرتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہیں کہ دے (اس بہانے سے کیا فائدہ) بھلا اگر اللہ تم کو کوئی فائدہ پہنچانا چاہے یا کچھ نقصان دینا چاہے تو اس کے مقابلے میں تمہارے لئے کسی کا کچھ چل سکتا ہے1 نہیں اللہ کو تمہارے سب کاموں کی خبر ہے2

ف 11 یعنی حدیبیہ کے سفر میں آپ کے ساتھ نہیں گئے۔ یہ مدینہ منورہ کے گرد رہنے والے قبائل … غفار، مزینہ، جھینہ، اسلم اور اشجع وغیرہ … کے لوگ تھے۔ 12 یعنی یہ منافق ہیں اور آپ کو جھوٹا سمجھتے ہیں اس وقت جو آپ سے استغفار کی درخواست کر رہے ہیں۔ یہ ان کی ظاہری ضدی ہے ورنہ حقیقت میں یہ اپنی کسی حرکت پر نادم نہیں ہیں۔ 1 یعنی یہ تمہارا خیال قطعاً غلط ہے کہ تم گھروں میں بیٹھ رہے تو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائو گے اگر وہ تمہارے گھروں میں عذاب بھیجنا چاہے تو تم بچ نہیں سکتے۔ 2 یعنی وہ جانتا ہے کہ تمہارا گھروں میں بیٹھے رہنا بال بچوں کی نگہداشت اور ان میں شغل کی وجہ سے نہ تھا۔ یہ برا بہانہ ہے۔ درحقیقت تمہارے دلوں میں نفاق بھرا ہوا تھا۔
Ayah 48:12

بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ اِلٰۤى اَهْلِیْهِمْ اَبَدًا وَّ زُیِّنَ ذٰلِكَ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ ظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ١ۖۚ وَ كُنْتُمْ قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 48:12 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ تم یہ سمجھے کہ اب پیغمبر اور مسلمان ہرگز اپنے گھروں کو کبھی لوٹ کر آنے والے نہیں3 اور یہ بات متہارے دلوں میں کھب گئی4 اور لگے برا گمان کرنے5 اور (ایسی بدگمانی کر کے) تم لوگ خود تباہ ہوئے6

ف 3 یعنی سب کے سب قریش کے ہاتھوں مارے جائیں گے اور ایک یخص بھی زندہ بچ کر نہ آئے گا 4 یعنی شیطان نے تمہارے دلوں میں یہ خیال خوشنما بنا کر ڈال دیا تھا اور تم نے اسے قبول کرلیا۔ 5 یعنی یہ گمان کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی ہرگز مدد ہیں کرے گا۔ 6 یعنی اپنی دنیا اور آخرت دونوں تباہ کرلیں۔ یہ ’ دبائر “ ‘ کی جمع ہے اور ” بائر “ اس غلط کا کار آدمی کو کہتے ہیں جس میں کسی قسم کی خیر نہ ہو۔ اس لئے یہ لفظ نہایت شریر اور فسادی آدمی پر بھی بولا جاتا ہے۔
Ayah 48:13

وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا Open ayah 48:13 in the Quran reader

اور تم پر کیا موقف ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ِ 7 پر ایمان نہ لائے تو ہم نے ایسے منکروں کے لئے دہکتی دوزخ کی) آگ تیار کر رکھی ہے

ف 7 جیسا کہ تم نہیں لائے
Ayah 48:14

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 48:14 in the Quran reader

اور آسمان اور زمین کی بادشاہت اللہ ہی کی ہے وہ جس بندے کو چاہتا ہے بخشتا ہے اور جس بندے کو چاتہا ہے سزا دیتا ہے اور باوجودیکہ اس کو سب طرح کا اختیار ہے وہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے8

ف 8 اس میں اشارہ فرمایا ہے کہ اب بھی اپنی منافقانہ روش چھوڑ کر مخلص مومن بن جائو تو اللہ کی رحمت کے دامن میں آسکتے ہو۔
Ayah 48:15

سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْهَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْكُمْ١ۚ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا كَذٰلِكُمْ قَالَ اللّٰهُ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا١ؕ بَلْ كَانُوْا لَا یَفْقَهُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 48:15 in the Quran reader

(مسلمانو) اب جب تم لوٹ (کا مال) لینے کے لئے (خیبر کو) جانے لگو گے تو یہ گنوار لوگ جو حدیبیہ سے پیچھے رہ گئے تھے کہیں گے ہم کو بھی اپنے ساتھ چلنے دو9 وہ اللہ کی بات بدلنا چاہتے ہیں10 (اے پیمبر ان گنواروں سے) کہہ دے تم ہرگز ہمارے ساتھ مت چلو اللہ نے پہلے ہی سے ایسا فرما دیا ہے (کہ یہ لوٹ خاص ہمارا حصہ ہے) اب یوں کہیں گیتم ہم سے جلتے ہو11 بات یہ یہ کہ ان کی سمجھ ہی کم ہے12(

ف 9 جب آنحضرت اور صحابہ کرام حدیبیہ سے واپس آئے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا کہ خیبر فتح ہوگا اور اس کا مال غنیمت صرف ان لوگوں کو ملے گا جو صلح حدیبیہ میں آنحضرت کے ساتھ گئے تھے چناچہ جب مسلمانوں نے خیبر کا رخ کیا تو یہ گنوار منافق بھی آپہنچے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے دو ۔ 10 اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی یہ بات ہے کہ خیبر کے سفر میں صرف ان لوگوں کو ساتھ لیا جائے جو حدیبیہ گئیت ہے اور بیعت رضوان میں ش ریک ہوئیت ہے یا آیت فاستاذنوا اللخروج نقل لن تخرجوا معنی ابدا ولن تقابلو معنی عدوا (توبہ 83) کی طرف اشارہ ہے مگر علمائے تفسیر نے پہلی تاویل کو زیادہ پسند فرمایا ہے۔ (قرطبی) 11 یعنی حسد کرتے ہو یکہ غنیمت کے اموال میں ہمارا حصہ کیوں ہو۔ 12 جو مخلص مسملانوں کو حسد کا طعنہ دیتے ہیں۔ حالانکہ جانتے ہیں کہ انہیں ہرگز دنیا کی طمع نہیں ہے اور یہ کہ خیبر کی طرف انہیں ان کا جذبہ جہاد لے جا رہا ہے نہ کہ محض مال غنیمت کا حصول
Ayah 48:16

قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ١ۚ فَاِنْ تُطِیْعُوْا یُؤْتِكُمُ اللّٰهُ اَجْرًا حَسَنًا١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ قَبْلُ یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:16 in the Quran reader

اے پیغمبر) ان کے پیچھے رہ جانے والے گنواروں سے کہ دے اب وہ وقت قریب ہے جب تم ایسے لوگوں سے لڑنے کے لئے بلائے جائو گے جو بڑے لڑنے والے ہیں فارس اور روم کے لوگ12 یا تو تم کو ان سے لڑنا ہوگا وہ بےلڑے مسلمان ہوجائیں گے14 اس وقت اگر تم اللہ کا کہنا مان لو گے تو تم کو اچھا نیک ثواب دیگا اور اگر اس وقت بھی تم پھرگئے جہاد سے بیٹھ رہے جیسے پہلے حدیبیہ جاتے وقت پھر چکے تو تم کو تکلیف کا عذاب دیگا

ف 13 یا مسیلمہ کذاب کے قبیلہ بنو حنیفہ کے لوگ یا ہوا زن غطفان وغریہ قبائل جن سے حنین وغیرہ میں مسلمانوں کو نقصان پہنچایا وہ مرتدین جن پر آنحضرت کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیق نے فوج کشی کی۔ اکثر مفسرین نے اس سے مراد بنو حنیفہ کو لیا ہے کیونکہ وہ جنگجو بھی تھے اور ان سے معرکہ بھی اس واقعہ کے بعد جلد ہی پیش آیا۔ (شوکانی) 14 اس سے بھی معلوم ہوا کہ وہ ایسے کافر ہونگے، جن سے جزیہ قبول نہ کیا جائے گا بلکہ اسلام یا جنگ یہ تعریف عرب کے کافر قبائل پر ہی صادق آتی ہے۔
Ayah 48:17

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ یُعَذِّبْهُ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 48:17 in the Quran reader

اندھے پر جہاد کی تکلیف نہیں اور نہ لنگڑے پر تکلیف ہے اور نہ بیمار پر تکلیف ہے1 اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کا کہنا مان لے تو اللہ اس کو ایسے باغوں میں لے جائے گا جن کے تلے نہریں پڑی بہ رہی ہیں اور جو کوئی نہ مانے اس کو تکلیف کا عذاب دیگا

ف 1 یعنی یہ وہ معذور لوگ ہیں جن پر جہاد میں شریک ہونا فرض نہیں ہے۔
Ayah 48:18

لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ عَلَیْهِمْ وَ اَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاۙ Open ayah 48:18 in the Quran reader

(اے پیغمبر) مسلمانوں سے راضی ہوچکا ہے وہ (کیکر یا بیری) درخت کے تلے (حدیبیہ میں) تجھ سے بیعت کر رہے تھے2 اللہ تعالیٰ نے جان لیا جو صاخلاص) ان کے دلوں میں تھا تو ان کے دلوں پر تسلی اتاری3 اور ایک نزدیک والی فتح ان کو انعام میں دی یعنی خیبر کی فتح

ف 2 یہ اسی بیعت رضوان کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ نافع سے روایت ہے کہ جس درخت کے نیچے یہ بیعت ہوئی تھی لوگ اس کی زیارت کے لئے جانے لگے حضرت عمر کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے اس درخت کو کٹوا دیا ابو دائود ترمذی میں حضرت جابر سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا :” جس شخص نے اس بیعت میں حصہ لیا وہ ہرگز دوزخ میں نہ جائے گا۔ (شوکانی) جب ان صحابہ کرام کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے گواہی دے دی ہے کہ میں ان سے خوش ہوں پھر وہ بڑا خبیث فرقہ ہے جو ان مقبول بندوں سے ناراض اور ان کے ساتھ بغض و عداوت رکھے۔ (امام الہند) 3 تسلی سے مراد وہ قلبی اطمینان ہے۔ جس کی بنا پر ایک شخص کسی تردد کے بغیر اپنے آپ کو سخت سے سخت خطرہ میں جھونک دیتا ہے اور اس پر کسی قسم کی گھبراہٹ طاری نہیں ہوتی۔ یہی تسلیم و رضا کا درجہ ہے۔ (قرطبی)
Ayah 48:19

وَّ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً یَّاْخُذُوْنَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:19 in the Quran reader

اور بہت سی لوٹیں جو وہ حاصل کریں گے اور اللہ تعالیٰ زبردست ہے حکمت والاف 4

ف 4 ومعالم کثیرۃ “ بدل من فتحاً قریباً والوائو مقحمۃ) چناچہ حدیبیہ کے تین اور بعد ہی رسول اللہ خیبر کی طرف متوجہ ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے خیبر فتح کرایا۔ بہت سا مال غنیمت مانوں کے ہاتھ آیا اور اس کے علاوہ بہت سے باغ بھی ملے اللہ تعالیٰ کا یہ انعام تھا ان مسلمانوں پر جنہوں نے حدیبیہ کی کٹھن مہم میں آنحضرت کا ساتھ دیا تھا۔ (قرطبی)
Ayah 48:20

وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً تَاْخُذُوْنَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هٰذِهٖ وَ كَفَّ اَیْدِیَ النَّاسِ عَنْكُمْ١ۚ وَ لِتَكُوْنَ اٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَ یَهْدِیَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:20 in the Quran reader

(مسلمانو) اللہ تم کو بہت سی لوٹیں دینے کا وعدہ فرما ات ہے جن کو تم حاصل کرو گے5 سردست تو تم کو یہ حدیبیہ کی یا خیبر کی لوٹ دلا دی اور ادھر مکہ کے کافر لوگوں کا ہاتھ تم سے روک دیا یہ سب اس لئے کہ تم خدا کا شکر کرو اور اس لئے کہ یہ واقعہ مسلمانوں کی واسطے خدا کی قدرت کی ایک نشنی ہو اور وہ تم کو (یعنی اللہ) سیدھے رستے پر جمائے رہے

ف 5 اس سیم راد وہ دوسری فتوحات ہیں جو خیبر کے بعد مسلمانوں کو پے در پے حاصل ہوتی رہیں۔
Ayahs 48:21–22

وَّ اُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا Open ayah 48:21 in the Quran reader

اور ایک لوٹ اور ہے جو (ابھی) تمہارے ہاتھ نہیں آئی (حنین کی) مگر اللہ کے قابو میں ہے اور اللہ سب کھچ کرسکتا ہے

وَ لَوْ قٰتَلَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 48:22 in the Quran reader

اور اگر مکہ کے کافر حدیبیہ میں تم سے صلح نہ کرتے بلکہ لڑتے تو کیا ہوتا پیٹھ پھیر کر بھگاتے اس کے بعد نہ کوئی ان کا6 حامی ہوتا نہ کوئی دوست

ف 6 یعنی اللہ تعالیٰ نے حدیبیہ میں جو صلح کرائی اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ تم کمزور تھے اور کافروں سے لڑ نہ سکتے تھے۔ لڑائی ہوتی تو تم ہی فتحیاب ہوتے اور کافر پیٹھ پھیر کر بھگاتے صلح کرانے میں بہت سی دوسری مصلحتیں ہیں جن میں سے بعض تم پر واضح ہوچکی ہیں اور بعض آگے چل کر واضح ہوں گی۔
Ayahs 48:23–24

سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ١ۖۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 48:23 in the Quran reader

اللہ کا یہی قانون پہلے سے ہوتا چلا آرہا ہے کہ ہمیشہ حق والوں ہی کا غلبہ ہوتا ہے اور اے پیغمبر تو اللہ کا قانون بدلتا ہوا نہیں دیکھے

وَ هُوَ الَّذِیْ كَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا Open ayah 48:24 in the Quran reader

گا اور وہی خدا7 تو ہے جس نے (اے مسلمانو) عین مکہ کی سرحد میں تم کو کافروں پر فتح دنیے کے بعد کافروں کا ہاتھ تم پر سے روک دیا اور تمہارا ہاتھ ان پر سے نہ وہ تم کو مار سکے نہ تم ان کو صلح ہوگئی اور اللہ تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے

ف 7 حدیبیہ میں صلح کی گفتگو ہو رہی تھی کہ مشرکین مکہ میں سے ستر یا اسی آدمی مسلح ہو کر جبل تغیم سے اتر آئے کہ مسلمانوں پر اچانک حملہ کردیا جائے مگر وہ گرفتار ہوگئے اور آنحضرت نے ان کو رہا کردیا۔ آیت میں اسی مضمون کی طرف اشارہ ہے۔ (قرطبی) شاہ صاحب لکھتے ہیں اور نہ روکے لوگوں کے ہاتھ۔ “ یعنی لڑائی نہ ہونے دی۔
Ayah 48:25

هُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ الْهَدْیَ مَعْكُوْفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ١ؕ وَ لَوْ لَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَ نِسَآءٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْهُمْ اَنْ تَطَئُوْهُمْ فَتُصِیْبَكُمْ مِّنْهُمْ مَّعَرَّةٌۢ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ لِیُدْخِلَ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ لَوْ تَزَیَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:25 in the Quran reader

یہ مکہ والے وہی تو ہیں جنہوں نے کفر اور ادب والی مسجد سے تم کو روک دیا1 اور قربانی کے جانوروں کو بھی تھما دیا وہ اپنی جگہ یعنے حرم میں نہ پہونچ سکے2 اور اگر مکہ میں اس وقت چند مسلمان مرد اور چند مسلمان عورتیں ایسی نہ ہوتیں جن کا حال تم کو معلوم نہ تھا3 لڑائی ہوتی تو تم ان کو بھی کافروں کے ساتھ پیس ڈالتے پھر تم کو ان کی طرف سے نادانستہ نقصان پہونچ جاتا4 لئے کہ5 ان مسلمان مرد اور مسلمان عورتوں میں سے جس کو اللہ چاہے اپنی رحمت میں شریک کرے6 اگر کہیں یہ غریب مسلمان مردف 7 اور مسلمان عورتیں الگ ہوجاتے تو بیشک ہم ان مکہ کے کافروں کو تمہارے ہاتھ سے تکلیف کا عذاب پہونچاتے8

ف 1 ۔ حالانکہ تم اس مسجد کے ان کی یہ نسبت زیادہ حقدار تھے اور پھر تم نے انہیں سمجھایا بھی کہ ہم لڑنے کے لئے نہیں آئے ہیں۔ صرف عمرہ کر کے واپس ہوجائیں گے۔ ‘ 2 یعنی حرم کے اس حصہ تک نہ پہنچ سکے جاں ذبح کرنے کا عام دستور ہے بلکہ حدیبیہ ہی میں رکے رہے اور وہیں ذبح کئے گئے اس موقع پر مسلمانوں کے ساتھ قربانی کے ستر اونٹ تھے۔ (شو کانی) 3 یعنی جن کا مسلمان ہونا تمہیں معلوم نہ تھا۔ ان سے مراد وہ مرد اور عروتیں ہیں جو اس وقت مکہ میں موجود تھے اور مسلمان ہوچکے تھے لیکن یا تو انہوں نے اپنا ایمان چھپا رکھا تھا یا بےبسی کی وجہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت نہ کرسکتے تھے بلکہ کفار کے ظلم و ستم کا نشانہ بن رہے تھے۔ 4 تو تمہیں لڑائی سے منع نہ کیا جاتا۔ یہ ” لولا “ کا جواب ہے جو محذوف ہے تم کو ان کی طرف سے پہنچنے کا مطلب یہ ہے کہ تم پر مسلمان افراد کے قتل کرنے کرانے کا الزم آتا ہے اور تمہیں دیت ادا کرنی پڑتی ادھر مشرکین کو بھی یہ کہنے کا موقع مل جاتا کہ مسلمان ایسے دشی ہیں کہ لڑائی میں خود اپنے بھائیوں کو مار ڈالتے ہیں۔ 5 یعنی تمہیں جو لڑائی سے منع کیا گیا اس کی مصلحت یہ تھی کہ … 6 یعنی انہیں کفارہ کے نرغہ سے نکال کر مسلمانوں کی جماعت میں لے آئے، یا (کفار قریش میں سے) جسے چاہے اپنی رحمت میں شریک کرے۔ “ یعنی ان میں سے جن لوگوں کا اسلام لانا مقدر تھا، انہیں لڑائی کی کشمکش سے بچائے اور اپنی رحمت … اسلام… میں داخل کرے چناچہ بعد میں جب مکہ فتح ہوا تو ان میں سے اکثر لوگ اسلام میں داخل ہوئے۔ اگر حدیبیہ کے موقع پر جنگ ہوتی تو نہ معلوم ان میں سے کتنے مارے جاتے۔ 7 ” جو پہلے سے مسلمانت ہے یا آزاد مسلمان ہونے والے تھے۔ 8 یعنی تمہیں لڑائی کا حکم دیتے اور وہ مارے جاتے یا قید و ذلیل ہوتے۔ 9 جاہلیت کی ضد سے مراد کفار مکہ کا یہ کہنا ہے کہ ان مسلمانوں نے ہمارے بھائیوں اور بیٹوں کو قتت کیا ہے اسلئے اگر وہ مکہ میں داخل ہوگئے چاہے عارضی طور پر عمرہ کرنے ہی کے لئے سہی، تو ہماری ناک کٹ جائیگی کیونکہ اردگرد کے تمام عرب قبائل کہیں گے کہ وہ ہمارے علی الرغم ہمارے گھر میں داخل ہوئے اس لئے لات و عزیٰکی قسم ہم انہیں ہرگز عمرہ کرنے کی اجازت نہ دینگے۔
Ayah 48:26

اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْحَمِیَّةَ حَمِیَّةَ الْجَاهِلِیَّةِ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 48:26 in the Quran reader

(اے پیغمبر وہ وقت یاد کر) جب ان مکہ کے کافروں نے اپنے دل میں جایا ہے کی ضد کی طرف ضد باندھ لی تھی9 تو اللہ نے اپنی تسلی اور تشقی اپنے پیغمبر اور مسلمانوں پر اتاری10 اور ان کو پرہیز گاری کی بات پر جمائے رکھا (توحید پر)11 اور یہی لوگ اس بات کے لائق اور سزا وار تھے13 اور اللہ سب کچھ جانتا ہے

ف 10 یعنی انہیں صبر و وقار کی توفیق دی اس لئے وہ اللہ و رسول کے فیصلہ پر مطمئن ہوگئے۔ قریش کی جاہلانہ ضد پر مشتعل ہو کر آپے سے باہر نہ ہوئے۔ 11” پرہیزگاری کی بات “ یہ مراد وہ بات ہے جس کا تقاضاپرہیز گاری ہے یعنی توحید کا اقرار یا صبر و تحمل اور وایفائے عہد جو پرہیزگاری کا تقاضا ہے 12 کیونکہ وہ ایماندار تھے۔ اور رسول اللہ ﷺ کی صحبت کے تربیت یافتہ۔
Ayahs 48:27–28

لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْیَا بِالْحَقِّ١ۚ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَ١ۙ مُحَلِّقِیْنَ رُءُوْسَكُمْ وَ مُقَصِّرِیْنَ١ۙ لَا تَخَافُوْنَ١ؕ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِیْبًا Open ayah 48:27 in the Quran reader

بیشک اللہ نے اپنے پیغمبر کی سچی خواب کو ٹھیک کیا اللہ نے چاہا تو آئندہ سال میں ادب والی مسجد میں تم اطمینان سے جائو گے کوئی تو اپنا سر منڈائو گے کوئی بال کترائو گے تم کو کوئی ڈر نہ ہوگا اور اللہ کو وہ معلوم ہے جو تم کو معلوم نہیں اس نے کچھ مصلحت سے تم کو پہلے سردست یہ فتح (یعنی صلح حدیبیہ) عنایت فرمائی

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 48:28 in the Quran reader

وہی خدا ہے جس نے1 پیغمبر (حضرت محمد) کو ہدایت اور سچا دین دے کر اس لئے بھیجا کہ اس کو سب دنیوں پر غالب کر دے اور اسلام کی سچائی کے لئے اللہ کی گواہی بس کرتی ہے

ف 1 ہوا یہ کہ حدیبیہ روانہ ہونے سے پہلے مدینہ منورہ آنحضرت نے خواب دیکھا کہ آپ اپنے صحابہ سمیت اطمینان سے مکہ معظمہ میں داخل ہوئے ہیں اور عمرہ کے ارکانب جا لا رہے ہیں۔ کوئی حلق کر رہا ہے اور کوئی تقصیر یعنی بال ترشوارہا ہے پیغمبر کا خوب چونکہ جھوٹا نہیں ہوسکتا اس لئے مسلمان خوش ہوئے اور عموماً یہ سمجھے کہ اسی سال مکہ میں داخلہ ہوگا لیکن جب مکہ میں داخل ہوئے بغیر حدیبیہ سے پلٹے تو دلوں میں تردد پیدا ہوا اور منافقوں کو یہ طعنہ دینے کا موقعہ ملا کہ پیغمبر کا خواب غلط نکلا۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر کے واضح فرمایا کہ پیغمبر کو یہ خواب ہم نے دکھایا اور وہ سچا ہے جو یقینا پورا ہوگا۔ چناچہ اس کے مطابق اگلے سال مکہ معظمہ میں داخل ہوئے اور اطمینان سے عمرہ کر کے واپس آئے۔ خود خواب میں اس کے پورا ہونے کا وقت نہیں بتایا گیا تھا۔ مسلمانوں نے اپنے طور پر یہ سمجھ لیا تھا کہ شاید اسی سال مکہ معظمہ میں داخلہ ہوگا۔ چناچہ روایات میں ہے کہ حدیبیہ سے واپسی پر حضرت عمر نے آنحضرت سے عرض کی ” کیا آپ نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ ہم مسجد حرام میں داخل ہو کر طواف کرینگے “ آپ نے جواب دیا۔ ” ہاں لیکن کیا میں نے تم سے یہ کہا تھا کہ تم اسی سال مسجد حرام میں دخل ہو گے ؟ اور یہی جواب حضرت عمر کو حضرت ابوبکرصدیق نے بھی دیا تھا۔ (ابن کثیر)
Ayah 48:29

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا١٘ سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ١ۛۖۚ وَ مَثَلُهُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ١ۛ۫ۚ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْئَهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰى عَلٰى سُوْقِهٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ١ؕ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:29 in the Quran reader

محمد اللہ کا پیغمبر ہے جو لوگ اس کے ساتھ ہیں یعنی صحابہ وہ کافروں پر سخت ہیں آپس میں (ایک دوسرے پر رحم دل ہیں (اے دیکھنے والے) تو ان کو دیکھتا ہے کبھی رکوع کر رہے ہیں کبھی سجدہ کر رہے ہیں اللہ کے فضل اور اس کی رضا مندی کی فکر میں رہتے ہیں ان کی نشانی ان کے منہ پر ہے یعنی سجدے کے نشانی2 یہ تو ان کا حال تورات شریف میں بیان ہوا ہے اور انجیل شریف میں ان کی مثال ایک کھیتی کی سی بیان کی گئی ہے جس نے زمین سے اپنی سوئی نکالی (مول کہ یا پٹھا) پھر اس کو زور دار کیا وہ موٹی ہوگئی اب اپنی نال پر سیدھی کھڑی ہوگئی کسانوں کو بھلی لگنے لگی3 اللہ تعالیٰ نے یہ اسلئے کیا کہ کافروں کو دیھ کر جلیں4 ان لوگوں میں جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے ان سے اللہ تعالیٰ نے بخشش کا اور بڑے نیگ کا وعدہ کیا ہے5

ف 2 مراد وہ نور اور وقار ہے جو کثرت عبادت سے انسان کے چہرے پر ظاہر ہوجاتا ہے۔ چناچہ صحابہ کرام کے چہرے اس اعتبار سے ممتاز نظر آتے تھے۔ امام مالک فرماتے ہیں :” جب صحابہ کرام کی فوجیں شام میں داخل ہوئیں تو وہاں کے عیسائی انہیں دیکھ کر کہ نیل گے۔ ہمیں مسیح کے حواریوں کی جو شان معلوم ہے ان کی شان اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ (مختصر از ابن کثیر) 3 یعنی اپنے لاگنے والوں کو بھلی لگنے لگی۔ یہ صحابہ کرام کی مثال ہے جوش روع اسلام میں تھوڑے تھے۔ پھر ان کی تعداد بڑھی اور آخر کار ان کا اجتماعی و سیاسی نظام مستحکم بنیادوں پر قائم ہوگیا۔ 4 یعنی جو جوں اسلام کی کھیتی بڑھتی اور شاداب ہوتی جائے کافر حسد کی آگ میں جل بھن کر خاک ہوتے جائیں۔ اس آیت سے امام مالک نے رافضیوں کے کافر ہونے پر استدلال کیا ہے اور علماء نے امام مالک سے اتفاق کیا ہے۔ (ابن کثیر) صحابہ کرام کی فضیلت میں بہت سی احادیث مروی ہیں۔ 5 یعنی جنت کا جو سب سے بڑی نعمت اور سب سے بڑا اجر ہے۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں، یہ وعدہ دیا ان کو جو ایمان والے ہیں اور بھلے کام کام کرتے ہیں حضرت کے سب صحابہ ایسے ہی تھے صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : میرے صحابہ کو برا نہ کہو مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے اگر کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی اللہ کی راہ میں سونا دے تو وہ ان کے ایک مد یا نصف مد کھجور کے اجر کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ یہ تھا ان کا اخلاص صحابہ کرام پر تنقید کرنے والے خاص طور پر غور فرمائیں۔