47. Surah Muhammad

محمدMuhammad · 38 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 47:1

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:1 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا (اسلام کو نہیں مانا) اور اللہ کی راہ سے لوگوں کو) وہ اللہ نے ان کے (اچھے) کام سب اکارت کردیئے5

ف 5 یعنی کافر رہتے ہوئے ان لوگوں نے جو بظاہر اچھے کام کئے ہیں جیسے صدقہ و خیرات، خانہ کعبہ کی مرمت وغیرہ ان پر اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کو کوئی اجر نہیں ملے گا کیونکہ ایمان کے بغیر کسی عمل کی کوئی قیمت نہیں۔ کافروں کے کام اکارت کردینے کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے وہ تمام مکروہ فریب ناکام کردیئے جو وہ اسلام کو سچا دکھانے کے لئے کام میں لاتے تھے۔
Ayah 47:2

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۙ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ اَصْلَحَ بَالَهُمْ Open ayah 47:2 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور جو کام کئے اور جو محمد پر اترا قرآن اس پر بھی ایمان لائے اور وہ برحق ہے ان کے مالک کے پاس سے اترا ہے ان کے گناہ اللہ نے بخش دیئے اور ان کا کام بنادیا6

ف 6 یعنی دنیا و آخرت دونوں بنادیں، دنیا میں ان کے لئے عزت اور آخرت میں جنت ہے۔
Ayah 47:3

ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَ اَنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ Open ayah 47:3 in the Quran reader

اس کی وجہ یہ ہے کہ کافر غلط رستے پر چلے یا انہوں نے شیطان کا کہا مانا اور جو لوگ ایمان والے ہیں وہ اپنے مالک کے ٹھیک رستے پر چلے7 یوں اللہ تعالیٰ لوگوں کے سمجھانے کے لئے ان کے حالات بیان کرتا ہے8

ف 7 یعنی توحید کی راہ اختیار کی جو حق ہے۔ 8 تاکہ ایک طرف حق پرستوں کی کامیابی و بامرادی کو دیکھ کر نیکی کی طرف رغبت پیدا ہو اور دوسری طرف باطل پرستوں کی ناکامی و نامردای دیکھ کر برائی سے نفرت ہو۔
Ayahs 47:4–5

فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ١ۙۗ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعْدُ وَ اِمَّا فِدَآءً حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا١ۛ۫ۚ۬ ذٰؔلِكَ١ۛؕ وَ لَوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَاۡ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:4 in the Quran reader

تو مسلمانو جب تم لڑائی میں کافروں سے بھڑ جائو ان کی گردنیں اڑا دیئے1 بےتامل ان کو قتل کرو جب خوب ان کو قتل کر چکو ان کا زور بالکل ٹوٹ جائے تو اب ان کی مشکیں کس لو2 ان کو قید کرلو اس کے بعد یا احسان رکھ کر مفت چھوڑ دو کچھ بدلے لے کر3 یہاں تک کہ لڑائی موقوف ہو دشمن ہتھیار رکھ دیں4 یہ ہمارا حکم ہے اور اگر اللہ چاہتا ہے بغیر تمہارے لڑے کافروں سے بدلہ نے لیتا مگر اس کو یہ منظور ہے کہ تم کو ایک دوسرے سے لڑا کر جانچے5 اور جو لوگ اللہ کی راہ میں جہاد میں مارے گئے ان کے نیک کام اللہ ہرگز اکارت نہیں کرنیکا6

سَیَهْدِیْهِمْ وَ یُصْلِحُ بَالَهُمْۚ Open ayah 47:5 in the Quran reader

بلکہ ان کو راہ پر لگا دیگا اور ان کا کام بنا دے گا

ف 1 مسلمان اور کافر کے مابین امتیازظاہر کرنے کے بعد اب کفار سے جہاد کا حکم فرمایا یہاں کافروں سے مراد مشرکین اور اہل کتاب ہیں بشرطیکہ وہ ذمی نہ ہوں اور نہ ان سے معاہدہ ہو (قربطی) 2 قید کرنے کا یہ حکم اس وقت ہے جب کافروں کا زور ٹوٹ چکا ہو اور اگر ان کا زور نہ ٹوٹا ہو تو قید کرنے کی اجازت نہیں جیسا کہ ( سورة انفال 68, 67) میں گزر چکا ہے کہ جنگ بدر میں جب مسلمانوں نے کافروں کو قتل کرنے کی بجائے ان سے فدیہ لینے کا فیصلہ کرلیا، حالانکہ ان کا زور نہ ٹوٹا تھا تو اس پر عتاب نازل ہوا۔ 3 بعض کے نزدیک یہ حکم آیت ” فاقتلوا المشرکین حیث و جدتموھم “ اور دیگر آیات قتال سے منسوخ ہوچکا ہے اور نابالغ بچے اور عورتوں کے سوا تمام قیدیوں کو قتل کرنا ضروری ہے مگر جمہور علما اور ائمہ تحقیق نے اس آیت کو محکم (غیر منسوخ) تسلیم کیا ہے اور لکھا ہے کہ اسیران جنگ کو فدیہ لے کر یا احسان رکھ کر چھوڑ دینے میں حکومت کو اتخیار دیا گیا ہے۔ جیسا کہ آنحضرت اور خلفائے راشدین کے عمل سے معلوم ہوتا ہے۔ البتہ اگر کوئی قیدی واجب القتل ہے تو اسے قتل کردیا جائے چناچہ آنحضرت نے بدر کے قیدیوں میں سے نضر بن حارث اور عقبہ بن ابی معیط کو قتل فرمایا اور ان کے علاوہ باقی قیدیوں کو فدیہ لے کر رہا کردیا اور متعدد مواقع پر قیدیوں کو احسان رکھ کر رہا کردیا گیا۔ مثلاً بنی ہو ازن کے قیدی ازراہ احسان چھوڑ دیئے۔ الغرض حکومت کو اسلامی مصلحت کے پیش نظر قتل کرنے، غلام بنا کر رکھے اور فدیہ لے کردیا احسان رکھ کر چھوڑ دینے میں ہر طرح سے اختیار حاصل ہے۔ (قرطبی ابن کثیر) 4 یعنی حتی کہ شکست ہوجائے یا اس سے صلح ہوجائے۔ 5 یعنی تمہاری آزمائش کرلے کہ کون اس کے راستہ میں جہاد کرتا اور ثابت قدم رہتا ہے اور کون بھاگتا ہے تاکہ ثابت قدم رہنے والوں کو جہاد کا ثواب نصیب ہو اور کافران کے ہاتھ سے قتل ہوا۔ بعض تابعین کا خیال ہے کہ یہ آیت غزوہ احد کے دن نازل ہوئی جس میں بہت سے مسلمان شہید اور زخمی ہوئے اور کفار نے اغل ھبل امبل بت کی فتح کا نعرہ لگایا اور مسلمانوں انکے جواب میں اللہ اعلی واجل کا نعرہ بلند کیا اور مشرکوں نے کہ :” لنا الغزی ولا عزی لکم “ اس پر مسلمانوں نے کہا :” اللہ مولانا ولا مولی لکم۔ “ اس کا مفصل بیان سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔ 6 یعنی ان کی محنت ٹھکانے لگائے گا، انہیں جنت کی راہ پر گامزن کرلے گا اور آخرت میں پیش آنیوالی تمام منازل و مواقف میں ان کی حالت کو درست رکھے گا۔ حدیث شریف میں ہے کہ شہید کو قرض کے سوا ہر چیز معاف کردی جائے گی۔ (ابن کثیر)
Ayah 47:6

وَ یُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ Open ayah 47:6 in the Quran reader

اور ان کو میں باغ میں لے جائے گا جو ان کو بتادے گا7

ف 7 چناچہ ہر جنتی جنت میں اپنا ٹھکانہ پہچان لے گا۔ حدیث میں ہے کہ اہل جنت میں سے ہر شخص اپنے جنت کے گھر کو اپنے دنیا کے گھر سے زیادہ پہچان لیگا۔ “ (ابن کثیر)
Ayah 47:7

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ Open ayah 47:7 in the Quran reader

مسلمانوں اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کو گے تو اللہ بھی تمہاری مدد کریگا تم کو دشمنوں پر فتح دیگا اور لڑائی میں) تمہارے پائوں جما دیگا8

ف 8 چناچہ اسلامی تاریخ شاہد ہے کہ جب تک مسلمانوں نے اللہ کے دین کی مدد کی وہ دنیا میں غالب و باعزت رہے اور جب انہوں نے اس کے دین کی مدد چھوڑ دی تو وہ ہر جگہ ذلیل و خوار ہوئے اور ان کے دشمن ان پر غالب آگئے۔
Ayahs 47:8–10

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:8 in the Quran reader

اور جو کافر ہیں وہ تباہ ہوں گے یا ان کے پائوں اکھڑ جاویں گے اور اللہ ان کے کام برباد کر دیگا9

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:9 in the Quran reader

اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے جو قرآن اتارا اس کو انہوں نے پسند نہیں کیا تو اللہ نے بھی ان کے نیک کام سب اکارت کردیئے کیا

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ دَمَّرَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١٘ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ اَمْثَالُهَا Open ayah 47:10 in the Quran reader

ان لوگوں نے ملک کی سیر نہیں کی اگر کرتے تو اپنی آنکھوں سے دیکھل یتے اگلے کافر لوگوں کا انجام کیسا ہوا اللہ نے ان کو جز پیڑے سے اکھیڑ ڈالا بالکل تباہ کردیا اور ان قرش کے کافروں کو بھی اس قسم کی سزائیں ہوں گی

ف 9 ان کے وہ اعمال جن کو وہ نیک خیال کرتے ہیں کیونکہ ایمان کے بغیر کوئی نیک عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں قبل نہیں ہوسکتا۔
Ayah 47:11

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوْلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اَنَّ الْكٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ۠ Open ayah 47:11 in the Quran reader

اس کی وجہ یہ ہے کہ ایمان والوں کا اللہ حامی ہے اور کافروں کا کوئی حامی نہیں10

ف 10 یعنی انہوں نے اپنے لئے جو جھوٹے سہارے بنا رکھے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ان کے کسی کام نہیں آسکتے۔ غزوہ احد کے دن مسلمانوں کا نعرہ (اللہ مولانا ولا مولیٰ لکم) اسی آیت سے ماخوذ تھا (ابن کثیر)
Ayah 47:12

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ وَ یَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ وَ النَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ Open ayah 47:12 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کئے ان کو اللہ ایسے باغوں میں لے جائے گا جن کے تلے نہریں پڑی بہ رہی ہیں اور جو کافر ہیں وہ (دنیا میں) مزے اڑاتے ہیں اور جیسے جانور کھاتے ہیں اس طرح (کھانا) کھاتے ہیں1 اور ان کا آخری ٹھکانا دوزخ ہے

ف 1 یعنی جس طرح جانوروں کو کھانے پینے کے سوا کسی چیز کی فکر نہیں ہوتی ان کافروں کو بھی اس کے سوا کوئی فکر نہیں سر سے پائوں تک دنیا میں غرق ہیں اور کبھی یہ نہیں سوچتے کہ مرنے کے بعد کیا ہوگا۔ یوں بھی بسیار خوری کفار کی عادات میں سے ہے۔ حدیث میں ہے کہ ” مومن ایک آتن میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں۔ ‘ ‘(ابن کثیر)
Ayah 47:13

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ هِیَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْیَتِكَ الَّتِیْۤ اَخْرَجَتْكَ١ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ Open ayah 47:13 in the Quran reader

اور کئی بستیاں اس بستی (یعنی مکہ) سے کہیں زبردست تھیں جن نے (اے پیغمبر) تج ھکو نکال کر باہر کیا ہم نے ان کو تباہ کردیا اور کسی نے ان کی مدد نہ کی2

ف 2 مطلب یہ ہے کہ ان کفار مکہ کی کیا ہستی ہے ہم نے ان سے کہیں زبردست قوموں کو تہس نہس کردیا اور وقت پڑنے پر کوئی ان کی مدد نہ کرسکا حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ ہجرت کے موقع پر جب آنحضرت ﷺ مکہ سے نکل کر غار ثور کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے مکہ کی طرف رخ کر کے فرمایا تو اللہ کے نزدیک سب سے پیارا شہر ہے اور مجھے بھی دوسرے شہروں سے زیادہ محبوب سے اگر مشرکوں کے مجھ تجھ سے نکالا نہ ہوتا تو میں تجھ سے ہرگز نہ نکلنا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (ابن کثیر)
Ayah 47:14

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:14 in the Quran reader

کیا جو لوگ اپنے مالک کی طرف سے ایک سند (رکھ کر اس پر چلتے ہیں مثلاً قرآن اور حدیث پر) وہ ان لوگوں کی طرح ہوں گے جن کے برے کام ان کو بھلے کر کے دکھائے گئے ہیں3 اور وہ اپنے (دل کی) خواہشوں پر چلتے ہیں4

ف 3 یعنی شیطان نے انہیں بہکا دیا ہے اور کفر و شرک کو ان کی نظروں میں اچھا کر دکھایا ہے جس کی کوئی بنیاد نہیں اور نہ اس کے صحیح ہونے پر دلیل لائی جاسکتی ہے۔ 4 اور اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی ہدایت (قرآن و سنت سے) کوئی سروکار نہیں رکھتے۔
Ayah 47:15

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ فِیْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُهٗ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ١ۚ۬ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَ سُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ Open ayah 47:15 in the Quran reader

جس بہشت کا پرہیز گاروں سے وعدہ ہے اس کا تو حال یہ ہے کہ اس میں بن بو (صاف) پانی کی نہریں5 بہہ رہی ہیں اور دودھ کی بھی نہریں ہیں جس کا مزہ نہیں بدلا6 اور شراب کی بھی نہریں ہیں جو پینے والوں کو اچھا مزہ دیں گی7 اور صاف شفاف شہد کی بھی نہریں ہیں8 اور ان کے سوا ہر طرح کے میوے ان کے لئے وہاں موجود ہیں اور سب سے بڑھ کر ان کے مالک کی طرف سے گناہوں کی بخشش یہ الگ ہوگی کیا ایسے بہشت کے رہنے والے ان دوزخیوں کی طرح ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ آگ میں پڑے جلتے رہیں گے اور جھلستا بھلستا پانی ان کو پلایا جائیگا جو ان کی آنتیں کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیگا

ف 5 یعنی کھڑے رہنے یا کسی چیز کی ملاوٹ سے اس میں تغیر نہیں آیا انتہائی صاف شفاف اور شراییں ہے۔ 6 یعنی بالکل تازہ دودھ ہے اس کے مزے میں کوئی تغیر نہیں آیا۔ 7 یعنی دنیا کی شراب کی طرح نہیں ہے جو بدبو دار اور بدمزہ ہوتی ہے اور اس سے سکر آجاتا ہے۔ 8 یعنی موم اور ہر قسم کے میل کچیل سے صاف کیا ہوا شہد ہے۔ ایک حدیث میں آنحضرت نے فرمایا الم یجرج من بطون النحل وہ مکھیوں کے پیٹ سے نکلا۔ حضرت معاویہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” جنت میں دودھ پانی شہد اور شربا کے ایسے دریا میں جن سے ابھی تک نہیں نکالی گئیں۔ (ابن کثیر)
Ayah 47:16

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَا ذَا قَالَ اٰنِفًا١۫ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:16 in the Quran reader

اور اے پیغمبر ان کافروں بعضے (منافق ایسے بھی ہیں جو تیری بات کان لگا کر سنتے ہیں مگر جبتیرے پاس سے اٹھا کر باہر جاتے ہیں تو وہاں علم والوں9 سے کہتے ہیں کیوں جی ابھی اس شخص نے پیغمبر نے کہا باعث یہی تو وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر کردی اور وہ اپنے دل کی خواہشوں پر چلتے ہیں11

ف 9 یعنی ان صحابہ کرام سے جو علم رکھتے ہیں جیسے حضرت عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عباس اور ابو الدرو وغیرہ 10 گویا آپ کے کلام کی تحقیر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہماری سمجھ میں تو آیا نہیں کہ یہ شخص کیا کہتا رہا کیا آپ لوگوں کی سمجھ میں کچھ آیا ؟ 11 اس لئے رسول اللہ ﷺ کی باتوں کو سن کر بھی کوئی اثر قبول نہیں کرتے بلکہ کفر و شرک سے وابستہ رہتے ہیں۔
Ayah 47:17

وَ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّ اٰتٰىهُمْ تَقْوٰىهُمْ Open ayah 47:17 in the Quran reader

اور جو لوگ راہ پائے ہوئے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ (قرآن اور حدیث سے) زیادہ ہدایت دیتا ہے اور ان کو پرہیز گاری میں سے ان کا حصہ عنایت فرماتا ہے12

ف 12 یعنی ان کے ایمان علم اور دینی بصیرت میں اضافہ فرماتا ہے اور انہیں ت قویٰ کے مقام پر پہنچاتا ہے۔
Ayah 47:18

فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً١ۚ فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُهَا١ۚ فَاَنّٰى لَهُمْ اِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرٰىهُمْ Open ayah 47:18 in the Quran reader

تو (اے پیغمبر) یہ ( مکہ کے کافر کس بات کے منتظر ہیں بس اسی کا رستہ دیکھ رہے ہیں13 کہ ایک ہی بار قیامت انکے سر پر آن کھڑی ہو تو قیامت کی بھی نشانیاں آچکی ہیں پھر جب قیامت خود ہی آن پڑے گی اس وقت سمجھنے کا ان کو کیا موقع رہے گا1

ف 13 یعنی کونسی نصیحت اور کونسی وعید ہے جو انہیں نہیں سنائی گی لیکن اتنے بدبخت ہیں کہ جب تک قیامت کو اپنی آنکھ سے نہ دیکھ لیں ایمان لانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس لئے گویا اسی کا انتظار کر رہے ہیں لیکن قیامت کے آنے میں بھی کونسی کسر رہ گئی ہے۔ اس کی نشانیاں تو آ ہی چکی ہیں پھر اس کے بعد اس کی آمد میں کونسا شبہ رہ گیا۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں :” بڑی نشانی قیامت کی ہماری نبی ﷺ کا پیدا ہونا ہے۔ سب نبی خاتم النبین کی راہ دیکھتے تھے۔ جب وہ آچکے تو اب قیامت ہی باقی ہے۔ حضرت سہل بن سعد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ آنحضرت نے انگشت شہادت اور بیج کی انگلی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا : بعثت انا والساعۃ کھاتین مجھے قیامت کے ساتھ یوں بھیجا گیا ہے جیسے یہ دو انگلیاں باہم ملی ہوئی ہیں یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ (ابن کثیر بحوالہ صحیح بخاری) 1 یعنی اس وقت کا سمجھنا اور ماننا بیکار ہوگا کیونکہ اس سے نجات نہیں ہوسکتی۔
Ayah 47:19

فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ۠ Open ayah 47:19 in the Quran reader

اے پیغمبر اس اعتقاد پر جمارہ کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور اپنے گناہ کی بخشش کے لئے دعا مانگتا رہ اور ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتوں کے گناہ ہونکے) لئے بھی2 اور اللہ جانتا ہے تم دنیا میں کیا کرتے ہو گے اور آخرت میں کہاں ہو گے3

ف 2 ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت نے فرمایا :” لوگو ! اپنے رب کے حضور توبہ کرو اس لئے کہ میں اپنے رب کے حضور ستر مرتبہ سے زیادہ توبہ و استغفار کرتا ہوں۔ (ابن کثیر) اللہ تعالیٰ نے آنحضرت کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردیئے تھے لیکن اس کے باوجود آنحضرت کے استغفار کرتے رہنے کا مقصد اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ اللہ کا زیادہ سے زیادہ شکر بجالایا جائے۔ جیسا کہ ایک موقع پر آنحضرت سے کثرت عبادت کا سبب پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : افلا اکون عبدالشکورا کہ کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں (ابن کثیر) اور استغفار جیسے ان گناہوں سے ہوتا ہے جو انسان سے سر زد ہوچکے ہوں اسی طرح آئندہ گناہوں سے بچنے کے لئے بھی ہوتا ہے۔ (قرطبی) 3 یعنی انسان رات اور دن میں جو نقل و حرکت بھی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں ہے۔
Ayah 47:20

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ١ۚ فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِیْهَا الْقِتَالُ١ۙ رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ؕ فَاَوْلٰى لَهُمْۚ Open ayah 47:20 in the Quran reader

اور جو لوگ سچے ایماندار ہیں وہ کہتے ہیں میں کاش جہاد کے باب میں کوئی سورة اترتی4 پھر جب کوئی پکی سورة جو نسوخ نہ ہو اتری ہے اور اس میں جہاد کا حکم ہوتا ہے تو اے پیغمبر جن لوگوں کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے وہ تجھ کو ایسا تکنے لگتے ہیں جیسے کوئی بیہوشی میں مرتے وقت تکتا ہے5 سخت افسوس ہے ان پر یا سخت خرابی ہے ان کی

ف 4 یعنی ہمیں جہاد کا حکم دیا جاتا اور ہم اللہ کی راہ میں دشمنوں سے لڑتے۔ 5 یعنی اس خوف سے کہ اب مسلمانوں کے ساتھ جہاد کے لئے نکلنا پڑیگا ورنہ نفاق کا پردہ چاک ہوجائیگا۔
Ayah 47:21

طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ١۫ فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ١۫ فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْۚ Open ayah 47:21 in the Quran reader

ان کو پیغمب رکی اطاعت کرنا تھی اور اچھی بات کہنا صاف صاف بےلاگ لپیٹ اور جب جہاد فرض ہوا اس وقت اگر خدا کے ساتھ سچے رہتے تو ان کے حق میں بہتر ہوتا6

ف 6 یعنی جہاد کا پختہ حکم آنے پر اس سے گھبرانے اور پیچھے رہنے کی بجائے اگر وہ خدا کے ساتھ سچے رہتے اور آگے بڑھ کر اس کی راہ میں اپنی جان اور مال پیش کرتے تو ان کے حق میں بہتر ہوتا۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں :” یعنی حکم شرع کو نہ ماننے سے کافر ہوجاتا ہے۔ اللہ کا حکم ہر طرح ماننا ہی چاہیے پھر رسول بھی جانتا ہے کہ نامردوں کو کیوں لڑوائے۔ ہاں بہت ہی تاکید آپڑے اس وقت لڑنا ضروری ہوگا، نہیں تو لڑنے والے بہت ہیں۔ (موضع)
Ayahs 47:22–23

فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ Open ayah 47:22 in the Quran reader

تو اے منافقو اگر تم پیغمبر کا کہنا منہ مانو یا تم کو حکومت مل جائے تو تم سے یہی توقع ہے کہ تم جاہلیت کے زمانہ کی طرح پھر ملک میں دھند مچائو گے اور ناطے توڑ و گے7

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ Open ayah 47:23 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور ان کو سچی بات سننے سے پہرا کردیا ہے اور سیدھا رستہ دیکھنے سے ان کی آنکھوں کو اندھا بنادیا ہے

ف 7 یعنی تم ہرگز امن وامان سے نہ رہو گے بلکہ نافرمانی اور قطع رحمی کرو گے جس کے نتیجہ میں خانہ جنگی اور لوٹ مار کی وہی حالت عود کر آئے گی جو اسلام سے پہلے تھی۔ احادیث میں رشتے ناتے توڑنے اور ان کے حقوق ادا نہ کرنے پر سخت وعید آئی ہے۔
Ayah 47:24

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا Open ayah 47:24 in the Quran reader

کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے بلکہ ان کے دلوں پر قفل پڑے ہیں8

ف 8 اوپر لی آیت کے سیاق کو محلوظ رکھا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ لوگ ملعون ہونے کی وجہ سے اولاً تو قرآن پر غور و تدبر ہی نہیں کرتے اور اگر کرتے بھی ہیں تو کفر و نفاق کی وجہ سے سمجھ نہیں پاتے۔ ہاں اگر صدق نیت سے غور کرتے تو ضرور سمجھ لینے کیو وجہ جہاد میں کس قدر دنیوی اور اخروی فوائد ہیں۔
Ayah 47:25

اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدَى١ۙ الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ١ؕ وَ اَمْلٰى لَهُمْ Open ayah 47:25 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں کو حق بات معلوم ہوگئی پھر بھی وہ الٹے پائوں پھرگئے شیطان نے ان کو بتادیا جل دیا اور ان کی آرزو کی رسی لمبی کردی9

ف 9 یعنی ان کے دلوں میں یہ ڈال دیا ہے کہ اگر جہاد نہ کرو گے تو مدت دراز تک زندہ رہو گے اور دنیا کے عیش و آرام سے لطف اٹھائو گے۔ حالانکہ انہیں سجھنا چاہیے تھا کہ موت اپنے وقت پر آتی ہے اور اس میں لمحہ پھر بھی تقدم یا تاخیر نہیں ہوسکتا، پھر جہاد سے بھاگنے کا کیا فائدہ ؟
Ayah 47:26

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِیْعُكُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ Open ayah 47:26 in the Quran reader

اس کی وجہ یہ ہوئی کہ ان لوگوں (یعنے منافقوں) نے ان لوگوں سے کہا جو خدا کے اتارے ہوئے (قرآن) کو ناپسند کرتے ہیں10 کہ ہم (ظاہر میں مسلمان تو ہوجاتے ہیں مگر) بعض باتوں میں تمہارا کہناضرور سنتے رہیں گے11 اور اللہ تو ان کی چھپ چھپاتی باتوں کو خوب جانتا ہے1

ف 10 یعنی مشرکوں اور یہودیوں سے۔ 11 ” بعض باتوں “ سے مراد آنحضرت کی مخالفت اور عداوت ہے اور یہ کہ جب جنگ کا موقعہ آئیتو مسلمانوں کو دھوکا دیا جائے اور ہر طریقہ سے ان کے دشمنوں کی مدد کی جائے۔ 1 یعنی ان کی سرگوشیوں اور سازشوں کو جنہیں وہ چھپ کر کرتے ہیں، خوب جانتا ہے۔
Ayah 47:27

فَكَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ Open ayah 47:27 in the Quran reader

جب فرشتے ان کی جانیں نکالتے وقت ان کے منہ اور پیٹھ پر مارا گائیں گے اس وقت ان کا کیا حال ہوگا2

ف 2 یعنی کیا انہیں فکر نہیں کہ اس وقت ان کی کیسی گت بنے گی ؟ (نیزد یکھیے سورة انفال آیت : 5 انعام 93)
Ayah 47:28

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَاۤ اَسْخَطَ اللّٰهَ وَ كَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ۠ Open ayah 47:28 in the Quran reader

اس کی وجہ یہ ہے کہ اس راہ پر چلے جس سے اللہ غصے ہوا3 اور ان لوگوں نے اللہ کی خوشی کو برا سمجھا4 تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان کے نیک کام سب لیا میٹ کردیئے5

ف 3 یعنی کفر و شرک اور نفاق کی راہ پر 4 یعنی ہر اس کام کو برا سمجھا جس میں اللہ تعالیٰ کی رضا مندیھی جسے ایمان توحید اخلاق تقویٰ اور جہاد وغیرہ۔ 5 کیونکہ ان کی بنیاد و اخلاص و ایمان پر نہ تھی یاد رہے کہ ایمان کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں ہوسکتا۔
Ayah 47:29

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ یُّخْرِجَ اللّٰهُ اَضْغَانَهُمْ Open ayah 47:29 in the Quran reader

کیا جن لوگوں کے دل میں (نفاق کی بیماری ہے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے کینوں کو کبھی نہیں کھولے گا6

ف 6 یعنی ان کا بھانڈا نہیں پھوڑے گا۔ کینوں سے مراد وہ عداوت ہے جو یہ منافقین آنحضرت اور مسلمانوں کے خلاف دلوں میں رکھتے تھے۔
Ayahs 47:30–31

وَ لَوْ نَشَآءُ لَاَرَیْنٰكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ؕ وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:30 in the Quran reader

اور اے پیغمبر اگر ہم چاہتے تو ان منافقوں کو اچھی طرح کھول کر تجھ کو دکھلا دیتے تو ان کی نشانی سے (جو اللہ ان پر لگا دیتا) ان کو پہچان لیتا اور یوں بھی تو ان کو ان کی بات کے ڈھنک سیضرور پہچان لے گا7 اور اللہ تعالیٰ کو تمہارے کام معلوم ہیں

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِیْنَ مِنْكُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ١ۙ وَ نَبْلُوَاۡ اَخْبَارَكُمْ Open ayah 47:31 in the Quran reader

ہم تو اے مسلمانو تم کو ضرور آزمائینگے یہاں تک کہ ہم کھول دینگے کہ تم میں سے کون لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے میں کافروں کی ایذا دی پر صبر کرتے ہیں اور تمہارے دوسرے حالات بھی ہم جانچین گے

ف 7 یعنی ان کے انداز گفتگو سے ان کا منافق ہونا معلوم کیا جاسکتا ہے۔
Ayah 47:32

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ شَآقُّوا الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدٰى١ۙ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیُحْبِطُ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:32 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے خود کھفر کیا اور دوسرے خدا کے بندوں کو بھی خدا کی راہ سے روکا اور حق بات معلوم ہوجانے کے بعد پیغمبر کا خلاف کیا8 وہ اللہ کا ہرگز کچھ بھی بگاڑ نہ کرسکیں گے اور الٹا یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ان کے نیک کام بھی سب ملیا میٹ کر دیگا9

ف 8 یعنی منافقین اور یہود جنہیں یہ معلوم ہوچکا تھا کہ آنحضرت واقعی اللہ کے رسول ہیں اور سب سابقہ میں آپ کی آمد کی بشارت دی جاتی رہی ہے مگر وہ ضد اور عداوت سے آپ کی مخالفت کرتے رہے۔ 9 یا ان کی مکاریوں اور چالبازیوں کو ناکام بنا دے گا۔ “
Ayah 47:33

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:33 in the Quran reader

مسلمانو اللہ کا حکم مانو اور پیغمبر کا حکم مانو اور ان کے خلاف کر کے اپنے نیک کام ملیا میٹ نہ کرو10

ف 10 معلوم ہوا کہ بسا اوقات معصیت سے نیک عمل ضائع ہوجاتے ہیں اور نیکی اسی صورت میں نفع دے سکتی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا فرمانبردار ہے۔
Ayah 47:34

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ Open ayah 47:34 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کافر ہے اور دوسرے لوگوں کو بھی اللہ کی راہ سے روکتے ہیں پھر کفر ہی کی حالت میں مرگئے تو اللہ تعالیٰ نے کبھی ان کو نہیں بخشے گا11

ف 11 یعنی یہ مرنے سے پہلے کفر و شرک سے تائب نہ ہوئے۔
Ayah 47:35

فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ١ۖۗ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ١ۖۗ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ وَ لَنْ یَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:35 in the Quran reader

تو (اے مسلمانو جہاد سے) بودے نہ بنوا میں سستی نہ کرو) اور اپنی طرف سے صلح کا پیام نہ دو12 اور آخر کار اللہ کے فضل سے تم ہی غالب ہو گے گھبرائو نہیں13 اور اللہ تمہارے ساتھ ہے یعنی اسکی مدد14 اور وہ تمہارے کاموں کے ثواب میں تم کو گھاٹا نہیں دیگا

ف 12 یعنی صبرو استقلال سے مقابلہ کرتے رہو اور جب تک وہ برسر پیکار رہیں ان سے صلح کی پیشکش نہ کرو وہاں اگر ان کا زور ٹوٹ جائے اور وہ خود صلح کی درخواست کریں تو بشریا مصلحت تم ان کی درخواست قبول کرسکتے ہوے۔ ملاحظہ ہو ( سورة انفال 61) الغرض یہ آیت اور سورة انفال وال آیت دوں حالتوں کے اعتبار سے ہے اور یہ دونوں ناسخ یا منسوخ نہیں ہے۔ (قرطبی) 13 یعنی تمہیں آخر کار غلبہ ہوگا۔ بشرطیکہ مومن ہو۔ (آل عمران :129) 14 بلکہ اور تمہارے نیک اعمال کا بھرپور اجر عنایت فرمائے گا۔
Ayah 47:36

اِنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا یُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ وَ لَا یَسْئَلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ Open ayah 47:36 in the Quran reader

دنیا کی زندگی کچھ نہیں چند روز کا کھیل تماشا ہے1 اور اگر تم ایمان لائو گے اور کفر اور گناہ سے بچے ہو گے تو اللہ تمہارے نیک تم کو دیگا اور وہ تم لوگوں کے مال تم سے نہیں مانگے گا2

ف 1 یعنی آخرت کے مقابل ہمیں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ لہٰذا دنیا میں پھنس کر اپنی آخرت برباد نہ کرو۔ 2 یعنی اس کو تمہارے مال و دولت کی ضرورت نہیں۔ اگر زکوۃ و صدقات میں تھوڑا سا مال نکالنے کا اس نے تمہیں حکم دیا ہے تو تموہارے ہی فائدے کے لئے دیا ہے۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں : حق تعالیٰ نے ملک فتح کردیئے مسلمانوں کو تھوڑے ہی دنوں خرچ کرنا پڑا سو جتنا خرچ کیا تھا اس سے سو برابر ہاتھ لگا۔ (موضح)
Ayahs 47:37–38

اِنْ یَّسْئَلْكُمُوْهَا فَیُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَ یُخْرِجْ اَضْغَانَكُمْ Open ayah 47:37 in the Quran reader

اگر وہ تم سے تمہارے مال مانگے اور سارا مال چاہے (یا مال لینے پر اصرار کرے) تو تم بخیلی کرو گے اور اللہ تمہارے دل کی غلطیاں کھول دیگا3

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ فَمِنْكُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ١ۚ وَ مَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۙ ثُمَّ لَا یَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ۠ Open ayah 47:38 in the Quran reader

سن رکھو تم لوگ (سارا مال کیا دو گے) تم کو تو کہتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں (کچھ تھوڑا سا) خرچ کرو اس پر تو کوئی تم میں بخیلی کرتا ہے اور زکوۃ تک نہیں دیتا اور ہر کوئی تم میں بخیلی کرتا ہے وہ بخیلی کر کے اپنا نقصان کرتا ہے اپنا ہی ثواب اور اجر کھوتا ہے اور اللہ تو بےپروا ہے اور تم ہی محتاج ہو اور اے عرب کے لوگو اگر تم پیغمبر کا کہنا نہ مانوگے تو اللہ تعالیٰ تمہارے سوا دوسرے لوگوں کو بدل کر (تمہاری جگہ) لے آئے گا پھر وہ تمہاری طرح نافرمان نہ ہوں گے۔

ف 3 یعنی اگر وہ زبردستی تم سے تمہارے اموال مانگے تو تم بخل کرو گے اور تمہارے دلوں کی خفگیاں کھل کر سامنے آجائیں گی۔