46. Surah Al-Ahqaf

الأحقافThe Dunes · 35 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 46:1–3

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 46:2 in the Quran reader

اس کتاب (قرآن) کا اتارا اللہ کی طرف سے جو زبردست ہے حکمت والا

مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 46:3 in the Quran reader

ہم نے آسمان اور زمین اور جو ان کے بیچ میں ہے ان کو مصلحت ہی سے ایک مقرر وعدے سے2 قیامت تک کے لئے بنایا ہے اور کافروں کو جس چیز سے ڈرایا جاتا ہے جیسے حساب کتاب حشر نشر وغیرہ) وہ اس کی پروا ہی نہیں کرتے

ف 2 یعنی زمین و آسمانا کا یہ نظام کھلونا نہیں ہے بلکہ ایک بامقصد حکیمانہ نظام ہے اور نہ یہ دائمی اور ابدی چیز ہی ہے بلکہ اس کی ایک عمر مقرر ہے جب وہ پوری ہوجائیگی تو یہ لازماً درہم برہم ہوجائیگا اور قیامت آجائے گی۔
Ayah 46:4

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ؕ اِیْتُوْنِیْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 46:4 in the Quran reader

(اے پیغمبر ان کافروں سے) کہ دے بھلا دیکھوت و سہی جن دیوتائوں کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ان کا پوجا کرتے ہو مجھے دکھلائو تو انہوں نے زمین میں کیا بتایا آسمانوں کے بنانے میں انکا ساجھا ہے اگر تم سچے ہو تو اس قرآن سے پہلے کی کوئی آسمانی کاتب3 یا اگلی کوئی عملی ہدایت اپنی بات کے ثبوت میں لے کر آئو

ف 3 ابن عباس نے اس کی تفسیر علمی روایت “ سے کی ہے۔ یعنی آنحضرت سے پہلے انبیاء و صلی کی تعلیمات کا کوئی ایسا باقیماندہ حصہ جو بعد کی نسلوں تک کسی قابل اعتماد ذریعہ سے پہنچا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ شرک پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ (ابن کثیر)
Ayah 46:5

وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآئِهِمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 46:5 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے سوا ایسوں کو پکارے جو قایمت تک اس کے پکارنے پر جواب نہ دیں اور (جواب دینات و کیا) وہ ان کا پکارنا سنتے تک نہیں4

ف 4 کیونکہ وہ محض بےجان ہیں۔ مراد بت ہیں اور اگر ان سے مراد انسان ہوں جو مرچکے ہیں اور مشرکین نہیں پکارتے ہیں۔ تو ان کا مشرکین کی پکارے غافل ہونا بھی بظاہر ہے۔
Ayah 46:6

وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 46:6 in the Quran reader

اور جب (قیامت کے دن) لوگ اکٹھا کئے جائیں گے وہ (بت خدا کی قدرت سے زندہ ہو کر) ان کے دشمن5 بن جائیں گے اور کہیں گے تم نے ہم کو نہیں پوجا6

ف 5 بلکہ پن خواہش کے پوجتے رہے۔ وہ فرشتے ہوں یا اللہ کے مقرب بندے یا شیاطین الغرض سب قیامت کے دن ان سے برأت کا اعلان کرینگے اور کہیں گے : تبرء نا الیک ما کانوا ایا نایعبدون (قصص :63) ہم تیرے سامنے ان سے الگ ہوئے وہ ہماری پوجا نہیں کرتے تھے۔ 6 یعنی ہمیں معلوم نہیں کہ تم نے ہماری پوجا کی یا ہم نے تمہیں اپنی پوجا کرنے کا حکم نہیں دیا لہٰذا تم جو ہماری پوجا کرتے رہے دراصل اپنی خواہش کی پوجا کرتے رہے۔
Ayah 46:7

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 46:7 in the Quran reader

اور جب ہماری کھلی کھلی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو یہ کافر کی بات کو سنتے ہی کہہ بیٹھتے ہیں یہ تو صریح جادو ہے7

ف 7 سچی بات سے مراد قرآن ہے۔ کفار مکہ قرآن کو صریح جادو اس لئے کہتے تھے ایک طرف تو وہ اسے خدائی کلام ماننے کیلئے تیار نہ تھے اور دوسری طرف ان کے دل گواہی دیتے تھے کہ کوئی انسان اسجیسا کلام تصنیف کرنے پر قادر نہیں ہوسکتا ہے۔ اس لئے وہ لوگوں کو قرآن سے بدظن کرنے کیلئے یہ مشہور کرتے کہ یہ صریح جادو ہے۔
Ayah 46:8

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ كَفٰى بِهٖ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 46:8 in the Quran reader

بلکہ یوں کہتے ہیں اس شخص نے یعنی پیغمبر نے اس کو اپنے دل سے بٹ لیا ہے اور کہتا ہے اللہ کا کلام ہے اے پیغمبر کہہ دے اگر میں نے8 نے (بالفرض) اس کو بٹ لیا ہے تو تم اللہ کے مقابلے میں مجھے کچھ بچا نہیں سکتے وہ خوب جانتا ہے جن باتوں میں تم لک رہے ہو وہ بس ہے گواہ میرے اور تمہارے بیچ میں1 اور وہی بخشنے والا مہربان ہے2

ف 8 اس لئے میں یہ جرأت کیسے کرسکتا تھا کہ قرآن اپنے دل سے گھڑ لیتا۔ 9 یعنی قرآن کے بارے میں جو بکواس کر رہے ہیں اللہ کو اس کا خوب علم ہے۔ 1 لہٰذا وہ میرے حق میں ضرور یہ گواہی دیگا کہ اس نے مجھ پر قرآن نازل کر کے اسے دوسروں تک پہنچانے کا حکم دیا تھا اور یہ کہ تم نے قرآن کی تکذیب کر کے سخت جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ 2 یعنی اس کے لئے جو تائب ہو کر قرآن پر ایمان لائے اور اس کی تصدیق کرے۔
Ayah 46:9

قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْ١ؕ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 46:9 in the Quran reader

اے پیغمبر کہ دے میں کوئی نیا پیغمبر تھوڑے ہوں3 اور مجھے معلوم نہیں آئندہ دنیا میں مجھ سے4 سے کیا سلوک کیا جائیگا اور تم سے کیا سلوک کیا جائیگا5 میں تو اسی پر چلتا ہوں جو مجھ کو خدا کی طرف سے حکم ہوتا ہے6 اور میں اور کچھ نہیں ایک کھلا ڈرانے والا (بندہ) ہوں

ف 3 بلکہ مجھ سے پہلے ہزاروں پیغمبر دنیا میں آچکے ہیں اور ان کی دعوت وہی رہی ہے جو میری ہے۔ “ 4 آیا مکہ میں رہوں گا یا اس سے نکال دیا جائونگا اور کیا طبعی طریق پر وفات پائوں گا یا دشمنوں کے ہاتھوں شہید کردیا جائیگا 5 کیا تم پر عذاب ابھی آئیگا یا تمہیں مزید مہلت دی جائیگی ؟ “ یہ سب غیب کی باتیں ہیں جن کے متعلق آنحضرت کو بیخبر ہونے کا اعلان کردینے کا حکم دیا گیا۔ رہی آخرت ! تو آنحضرت کو معلوم تھا کہ اس میں آپ ﷺ کو اور آپ کے متعین کو جنت اور تکذیب کرنے والوں کو دوزخ نصیب ہوگی۔ ابن جریر وغیرہ نے آیت کے اسی مفہوم کو اختیار کیا ہے اور یہی صحیح ہے۔ مگر بعض نے آیت کے مفہوم کو عام رکھا ہے کہ آنحضرت کو آخرت کے بارے میں بھی معلوم نہ تھا کہ آپ ﷺ کے ساتھ کیا معاملہ درپیش آنیوالا ہے۔ اس کی تائید صحیح بخاری کی اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں حضرت ام العلا بیان کرتی ہیں کہ عثمان بن مظعون کی وفات پر میں نے کہا۔” ابا السائب ! میں تمہارے متعلق شہادت دیتی ہوں کہ تم اللہ کے ہاں عزت دار ہو۔ “ اس پر آنحضرت نے فرمایا کہ تمہیں یہ کیسے معلوم ہوگیا۔ میں اللہ کا پیغمبر ہوں لیکن مجھے معلوم نہیں کہ میر اور تمہارا حال کیا ہونیوالا ہے علما نے لکھا ہے کہ اس مفہوم کے اعتبار سے یہ آیت انا فتحنلک سے منسوخ ہوچکی ہے۔ مگر قرطبی لکھتے ہیں کہ صحیح بخاری میں دوسری روایت مایفعل بہ “ ہے کہ مجھے معلوم نہیں ہے کہ اس (عثمان) کے ساتھ کیا ہونیوالا ہے۔ وھو الصحیح انشاء اللہ تعالیٰ نسخ کی ضرورت نہیں یا یہ کہ حسن تفسیر کو اختیار کیا جائے کہ دنیا میں جو عوارض پیش آنیوالے ہیں ان کا مجھے تفصیلی علم نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی خاص آدمی کے لئے قطعی ہونے کا حکم لگانا صحیح نہیں ہے بجز ان لوگوں کے جٹ کے جنتی ہونے کی شارع نے تصریح کی ہے جیسے عشرہ مبشرہ (قرطبی، ابن کثیر) 6 چاہے وہ حکم قرآن میں آیا ہو یا حدیث میں اس کی خبر دی گئی ہو کیونکہ وحی کا اطلاق کتاب اور سنت دونوں پر ہوتا ہے۔
Ayah 46:10

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهٖ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 46:10 in the Quran reader

(اے پیغمبر ان لوگوں سے) کہہ دے بتلائو تو سہی اگر یہ قرآن اللہ کے پاس سے آیا ہو ور تم نے اس کو نہ مانا اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ7 ایسی ہی کتاب اترنے کی گواہی دے چکا اور وہ ایمان لے آیا لیکن تم اکڑے رہے تو تمہارا حال کیا ہوتا ہے یشک اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو راہ پر نہیں لگاتا

ف 7 یہاں بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ “ سے مراد علمائے یہود ہیں جن سے مشرکین عرب آنحضرت کے بارے میں دریافتک رتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہی بنی اسرائیل (اہل کتاب) آنحضرت کی تصدیق کرچکے ہیں تو تم کیوں ایمان نہیں لاتے۔ واضح رہے کہ علمائے یہود صراحت کے ساتھ اس بات کا اقرار کرچکے تھے کہ بیشک تو رات میں عرب (بنو اسماعیل) میں سے نبی آخر الزمان اور کتاب آنے کی خبر دی گئی ہے اور یہ رسول وہی معلوم ہوتا ہے۔ علمائے یہود کی یہ شہادتیں ان پیشنگوئیوں پر مبنی تھیں جو بائبل میں موجود چلی آرہی تھیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کا سب سے بڑا گواہ (یعنی حضرت موسیٰ ) خود ہی گواہی دے چکا ہے کہ بنی اسرائیل کے بنو عم (بنو اسماعیل) میں سے اسی کی مثل ایک رسول آنے والا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ بعض حق پرست علمائے یہود عبداللہ بن سلام وغیرہ آنحضرت کو دیکھتے ہی آپ پر ایمان لے آئے۔ پس شاہد سے مراد حضرت موسیٰ اور ” مثلہ “ سے مراد توراۃ ہے بعض نے شاہد بنی اسرائیل سے مراد عبداللہ بن سلام لیا ہے اور اس آیت کو ادنی تسلیم کیا ہے۔ مگر عبداللہ بن سلام کے بارے میں اس آیت کے نازل ہونے کے یہ معنی ہیں کہ ان پر یہ آیت چسپاں ہوسکتی ہے اور وہ بھی اس کے مصداق ہیں۔ (ابن کثیر قرطبی)
Ayah 46:11

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ Open ayah 46:11 in the Quran reader

اور کافر مسلمانوں سے کہتے ہیں اگر اسلام کا دین اچھا ہوتا تو مسلمان ہم سے پہلے کبھی اس کو اختتام نہ کرتے8 اور جب قرآن سے ان کو ہدایت نہیں ہوئی (یا حضرت محمد سے یا ایمان سے) تو اب کہیں گے یہ تو ایک پرانا9 جھوٹ (چلا آتا ہے

ف 8 ’ بلکہ ہم اسے پہلے اختیار کرنے والے ہوتے۔ “ یہ بات سردارن قریش مسلمانوں کے بارے میں اس لئے کہا کرتے تھے کہ وہ اپنے آپ کو معزز اور جہاں دیدہ اور مسلمانوں کو ذلیل و ناتجربہ کار سمجھتے تھے کیونکہ اس زمانہ میں آنحضرت کی پیروی اختیار کرنے والے یا تو غریب طبقہ کے لوگ تھے یا نوجوان 9 گویا ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ معیار حق ہم ہیں۔ اگر ہم کسی چیز کو قبول کرلیں تو وہ حق ہے ورنہ سراسر باطل جس میں پرانے زمانے سے لوگ اپنی بیوقوفی کی بدلوت پھنستے رہے ہیں۔
Ayahs 46:12–15

وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ وَ بُشْرٰى لِلْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 46:12 in the Quran reader

حالانکہ قرآن سے پہلے موسیٰ کی کاتب (تورات شریف) اتر چکی ہے جو پیروی کے لائق اور خدا کی رحمت تھی اور یہ قرآن بھی ایک کاتب ہے جو اگلی کتابوں کو سچ بتلاتی ہے عربی زبان میں اس لئے اتری ہے کہ گنہگاروں کو خدا کے عذاب سے ڈرایئے اور نیکوں کو بہشت کی خوشخبری دے

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 46:13 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے کہا اللہ ہمارا مالک ہے پھر اس پر جمے رہے شرک نہیں کی ان کو قیامت کے دن نہ ڈر ہوگا نہ غم

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 46:14 in the Quran reader

یہی لوگ تو بہشت والے ہیں وہ اپنے نیک کاموں کے بدلے میں (جو دنیا میں کرتے رہے ہمیشہ اس میں رہیں گے

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ اِحْسٰنًا١ؕ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًا١ؕ وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ بَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۙ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕۚ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 46:15 in the Quran reader

اور ہم نے آدمی کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ماں سے تکلیف اٹھا کر (چھ مہینے یا زیادہ) اس کو پیٹ میں رکھا اور تکلیف اٹھا کر اس کو جنا اور اس کا پیٹ میں رہنا اور دودھ چھٹنا تیس مہینے میں پورا ہوتا ہے1 یہاں تک کہ جب وہ اپنے زور کو پہونچا اور پھر چالیس برس کی عمر ہوئی تو کہنے لگا2 مالک میرے مجھ کو ایسی توفیق دے کہ میں تیرے اس احسان کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیا اور میں ایسے نیک کام کرتا رہوں جس سے تو رضا ہو اور میری اولاد کو بھی لائق نیک کر دے میں نے تیری درگاہ میں توبہ کی اور میں تیرا فرمانبردار ہوں

ف 1 اس آیت سے حضرت عل نے یہ استدلال کیا اور حضرت عمر حضرت عثمان اور صحابہ کرام کی ایک جماعت نے اس پر ان سے موافقت کی کہ حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ ہوسکتی ہے کیونکہ اس آیت میں حمل اور نہ دودھ پلانے کی مجموعی مدت تیس ماہ اور سورة بقرہ کی آیت (233) اور سورة لقمان کی آیت (14) میں دودھ پلانے کی پوری مدت دو سال بیان کی گئی ہے۔ (ابن کثیر) طبی تجربات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے اور حکما کے اقوال اس پر شاہد ہیں۔ اس لحاظ سے اگر کوئی عورت نکاح کے چھ ماہ بعد بچہ جنے تو وہ جائز تصور ہوگا اور اگر چھ ماہ سے کم مدت میں بچہ جنے (یعنی وہ اسقاط نہ ہو بلکہ صحیح سالم بچہ ہو) تو وہ حرایم ہوگا۔ اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اولاد پر ماں کا حق باپ کی نسبت زیادہ ہے اس لئے وہ اولاد کے لئے تکلیف اٹھاتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت سے سوال کیا کہ میری خدمت کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے۔ فرمایا :” تیری ماں “ اس نے دریافت کیا پھر کون ؟ فرمایا :” تیری ماں “ اس نے پھر دریافت کیا پھر کون ؟ فرمایا :” تیری ماں “ اس نے جب چوتھی بار دریافت کیا پھر کون ؟ تو آپ نے فرمایا :” تیرا باپ …(ریاض الصالحین) 2 اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص چالیس برس کی عمر کو پہنچ جائے اسے یہ دعا کثرت سے کرتے رہنا چاہیے بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر کے حق میں نازل ہوئی۔ چناچہ صحابہ میں حضرت ابوبکر کے سوا ایسا کوئی شخص نہ تھا جس کے والدین اور اولاد سب کی مسلمان ہو۔ (قرطبی)
Ayahs 46:16–17

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ نَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِهِمْ فِیْۤ اَصْحٰبِ الْجَنَّةِ١ؕ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ Open ayah 46:16 in the Quran reader

یہی لوگ تو وہ ہیں جن کے ہم اچھے کام قبول کرلیں گے اور ان کی برائیاں معاف کردیں گے بہشت والوں میں سچا وعدہ (پورا ہوگا) جو ان سے دنیا میں کیا جاتا تھا

وَ الَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِیْۤ اَنْ اُخْرَجَ وَ قَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْ١ۚ وَ هُمَا یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰهَ وَیْلَكَ اٰمِنْ١ۖۗ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۖۚ فَیَقُوْلُ مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 46:17 in the Quran reader

جس نے اپنے ماں باپ سے کہا تم پر افسوس کیا تم مجھ کو یہ بھر ادیتے ہو کہ میں قبر سے زندہ ہو کر پھر نکالا جائوں گا اور حشر ہوگا) اور مجھ سے پہلے تو ہزاروں قومیں دنیا میں گذر چکیں3 اور اس کے ماں باپ ہیں کہ خدا سے فریاد کر رہے ہیں4 ارے تیرا ستیاناس ہو مسلمان ہوجا اللہ کا وعدہ بیشک سچا ہے وہ پھر) یہی کہتا ہے تو اگلے لوگوں کے نر سے) ڈھکو پسلے ہیں5

ف 3 ان میں سے پھر کوئی بھی قبر سے اٹھ کر نہیں آیا۔ “ اس سے مقصد بعث “ دوبارہ زندگی کا انکار ہے یا یہ کہ صرف میں ہی قیامت کا منکر نہیں ہوں بلکہ مجھ سے پہلے بھی ایسی بہت سی قومیں گزر چکی ہیں جو قیامت کی منکر تھیں۔ اس صورت میں یہ جملہ گویا ” انکار بعث “ پر ایک طرح سے استدلا ہوگا۔ روح ) 4 یعنی خدا کی دہائی دیتے ہوئے اس سے کہتے ہیں۔ 5 جن کو کوئی حقیقت نہیں ہے “ اوپر کی آیت میں ایک مومن شخص کا کردار پیش کیا گیا ہے اور اس آیت میں ایک کافر شخص کا جسے اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں چونکہ اس سے کوئی آستین شخص مراد نہیں ہے اس لئے اگلی آیت میں اولئک واحد کی بجائے جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے بدوی ہے کہ جب حضرت معاویہ نے اپنے بعد یزید کو نامزد کیا تو مردان کو لکھا کہ مدینہ میں اس کا اظہار کرے چناچہ مروان نے خطبہ دیا اور حضرت معاویہ کی اس رائے کی تحسین کی۔ اس پر حضرت عبدالرحمٰن بن ابوبکر ؓ کو غصہ آیا اور کہا کہ یہ ہرا قلیت سے ہے مردان نے حضرت عبدالرحمٰن سے لوگوں کو متنفر کرنے کیلئے کہا : ” تم وہی تو ہو جس کے بارے میں آیت والذی قال لولالدبہ افء “ نازل ہوئی ہے۔ حضرت عائشہ نے مروان کی یہ گفتگو سنی تو انہوں نے تین مرتبہ مرد ہن کی تکذیب کرتے ہوئے کہا کہ یہ آیت ہرگز عبدالرحمان کے بارے میں نازل نہیں ہوئی اور مردان کو سخت سست بھی کہا۔ لہٰذا بعض علماء جیسا کہ سہیلی نے ” الاعلام میں نقل کیا ہے۔ کا یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ اس سے مراد حضرت عبدالرحمٰن ہیں کیونکہ یہاں جس شخص کا ذکر ہے اس کے حق میں قرآن نے الذی حق علیہ القول فرمایا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ وہ کافر مریگا۔ اس کے برعکس حضرت عبدالرحمٰن مسلمان بلکہ افاضل صحابہ میں سے تھے اور جنگ یمامہ میں ان کے کارنامے مشہور ہیں۔ (ابن کثیر قرطبی وغیرہ)
Ayah 46:18

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 46:18 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جن پر اگلے جنات اور آدمیوں کے ساتھ جو ان سے پہلے گذر چکے ہیں اللہ کا فرمودہ پورا ہوا کہ میں دوزخ کو آدمیوں اور جنوں سے بھر دوں گا بیشک وہ تباہ ہونیوالے ہی تھے6

ف 6 یہ ” امم ‘ کا بیان ہے۔ یہ مضمون سودا اعراف :18 اسوہ ہود :119 میں گزر چکا ہے۔
Ayah 46:19

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ۚ وَ لِیُوَفِّیَهُمْ اَعْمَالَهُمْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 46:19 in the Quran reader

اور ہر ایک کو اپنے اعمال کے موافق اچھے یا برے درجے ملیں گے اور یہ اس لئے ہوگا کہ ان کے اعمال کا پورا بدلہ ان کو ملے اور ان پر کسی طرح کا ظلم نہ ہوگا7

ف 7 اس سے پہلے مضمون کی تاکید مقصود یعنی ہر ایک کو مومن ہو یا کافر اس کے عملوں کے مطابق جزا سزا ملے گی یہ نہیں ہوگا بروں پر ایسے گناہ لادے جائیں جو انہوں نے نہ کئے ہوں یا نیکوں کو ان کی نیکی سے محروم کردیا جائے۔ واضح رہے کہ یہاں مومن کافر سب کے لئے درجات کا لفظ لفظاً استعمال ہوا ہے ورنہ اصل میں منازل جنت کو درجات اور منازل روح کو برکات کہا جاتا ہے۔
Ayah 46:20

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا١ۚ فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ۠ Open ayah 46:20 in the Quran reader

اور اے پیغمبر ان لوگوں کو وہ دن یاد دلا جس دن کا فردوزخ کے سامنے لائے جائیں گے ان سے کہا جائیگا) تم دنیا کی زندگی میں اپنے مزے اڑا چکے اور اس سے فائدہ لے چکے اب دنیا میں جو تم ناحق اکڑاتے پھرتے تھے اور نافرمانیاں کرتے تھے اس کے بدلے آج تم کو ذلت کا عذاب ہوگا1

ف 1 استکبار سے مراد ایمان سے انکار فسق سے دوسرے گناہ مراد ہیں مطلب یہ ہے کہ ذلت کے عذاب کے دو سبب ہونگے دنیا میں ناحق اکڑنا اور غرور گھمنڈ میں پھنس کر حق کے ماننے سے انکار اور دوسرا فسق یعنی معاصی اور یہ دونوں باتیں کفار کا شیوہ ہیں مسلمان کو اس سے پناہ مانگنی چاہیے۔ واضح رہے کہ بہت سی احادیث میں عیش کو شی اور تہمت پرستی کی مذمت کرے۔ اسی کے پیش نظر حضرت عمر زہد کی زندی بسر کرتے اور دوسروں کو بھی زاہد اختیار کرنے کی ترغیب دیتے اور اس اندیشہ کا اظہار کرتے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم بھی زندگی کی لذات میں مستغرق ہو کر اس آیت کے مصداق بن جائیں ورنہ جو مسلمان اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بن کر دنیا کا مصداق نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اس کے درجات میں کمی آسکتی ہے جیسا کہ بعض صوفیہ نے سمجھا ہے۔ اسی کے پیش نظر حضرت ابن عباس فرماتے ہیں۔ ھذا من باب الزھد “ یعنی حضرت کا لوگوں کو گوشت وغیرہ عمدہ کھانوں سے منع کرنا زاہد کے طور پر تھا اور نہ یہ آیت کفار قریش کے حق میں نازل ہوتی ہے۔ واللہ
Ayah 46:21

وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍ١ؕ اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بِالْاَحْقَافِ وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖۤ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 46:21 in the Quran reader

اور اے پیغمبر عاد کے بھائی ہود کو یاد کر جب اس نے اپنی قوم کو احقاف میں ڈرایا2 اور اس سے پہلے اور اس کے بعد کئی ڈرانے والے پیغمبر گذر چکے اس نے کہا اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہ پوجو میں ڈرتا ہوں تم کو کہیں بڑے دن عذاب نہ ہو3

ف 2 توحید و نبوت کے دلائل پیش کرنے کے قوم عاد کا قصہ بیان فرمایا کہ اہل مکہ اس سے عبرت حاصل کریں (رازی) احقاف، حقف کی جمع ہے۔ ریت کے بلند اور مستطیل ٹیلے کو حقف کہتے ہیں۔ یہاں ” احقاف “ سے مراد یمن کے مشرق میں حضرموت کا وہ علاقہ ہے جو عرب کے صحرائے اعظم (ربع خالی) کا حصہ ہے حضرت ہود کی قوم عاد اسی علاقہ میں آباد تھی۔ لیکن آج وہاں کوئی آبادی نہیں ہے۔ 3 یعنی قیامت کے دن کا … پس یہاں عظیم یوم کی صفت ہے اور اس دن کی ہولناکی اور سختی کے پیش نظر اس کو بڑا دن کہا ہے بعض نے لکھا ہے کہ یہاں عظیم اصل میں عذاب کی صفت ہے اور بس کا مجرور ہونا یوم کے متصل آنے یعنی جوار کی وجہ سے ہے۔ (روح)
Ayahs 46:22–23

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِكَنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 46:22 in the Quran reader

انہوں نے جواب میں کہا کیا تو اس لئے ہمارے پاس آیا ہے کہ ہم کو ہمارے دیوتائوں سے پھیر دے منحرف کر دے) اگر تو سچا ہے تو جس عذاب کا ہم سے وعدہ کرتا ہے وہ ہم پر لے آ

قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۖ٘ وَ اُبَلِّغُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 46:23 in the Quran reader

ہو و نے کہا (عذاب آنے کا) علم تو اللہ ہی کو ہے4 اور میں تو جو پیغام دے کر بھیجا گیا وہ تم کو پہونچائے دیتا ہوں مگر میں دیکھتا ہوں تم لوگ جہالت کر رہے ہو

ف 4 یعنی وہی جانتا ہے کہ تم پر کب عذاب آئیگا میرے اختایر میں نہیں ہے کہ جب چاہوں تم پر عذاب لے آئوں اور جب تک چاہوں اس کو تم سے ٹالتا رہوں۔
Ayah 46:24

فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِهِمْ١ۙ قَالُوْا هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا١ؕ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهٖ١ؕ رِیْحٌ فِیْهَا عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ Open ayah 46:24 in the Quran reader

آخر ان پر عذاب آپہنچا جب انہوں نے ایک ابر دیکھا جو ان کے میدانوں پر امنڈ آرہا تھا تو کہنے لگے یہ ابر ہم پر برستا معلوم ہوتا ہے5 بلکہ یہ وہ عذاب ہے جس کو تم جلدی مچا رہے تھے آندھی ہے جس میں تکلیف کا عذاب6 ہے

ف 5 یعنی بہت خوش ہوئے کہ بادل آیا جو ہمیں سیراب رے گا۔ ممکن ہے کہ انہیں یہ جواب حضرت ہود نے دیا ہو یا صورت حال انہیں پکار کر یہ کہہ دی ہو۔ 6 ممکن ہے کہ انہیں یہ جواب حضرت ہود نے دیا ہو یا صورت حال انہیں پکار کر یہ کہہ رہی ہو
Ayah 46:25

تُدَمِّرُ كُلَّ شَیْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 46:25 in the Quran reader

یہ آندھی اپنے مالک کے حکم سے ہر چیز کو برباد کر دیگی7 پھر ایسا ہی ہوا وہ لوگ ایسے تباہ ہوگئے کہ ان کے گھروں کے سوا اور کچھ نظر ہی نہیں آتا تھا8 ہم ہم گنہگاروں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں

ف 7 صحیحین میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ ابر نمودار ہوتا تو آنحضرت کے چہر مبارک پر فکر کے آثار نمودار ہوجاتے ہیں۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا بات ہے لوگ جب بادل دیکھت یہیں تو خوش ہوتے ہیں کہ بارش آئی اور آپ کے چہرہ مبارک سے تشویش ظاہر ہونے لگتی ہے ؟ فرمایا : عائشہ ! میرے پاس ضمانت نہیں کہ اس ابر میں عذاب نہیں ہوگا۔ ایک قوم پر اسی ابر سے عذاب آچکا ہے اور اسی عذاب کو دیکھ کر ایک قوم نے کہا۔ ” ھذا عارض ممطرنا “ اور حدیث میں ہے جب آندھی چلتی تو آپ دعا کرتے :” اے اللہ ! میں ت جھ سے اس ہوا کی جو چیز اس میں ہے اور جس چیز کے ساتھ اسے بھیجا گیا ہے اس کی خیر طلب کرتا ہوں اور اس کے شر سے پناہ مانگتا ہوں۔ (شوکانی) 8 یعنی گھر رہ گئے، گھر والے ختم ہوگئے۔9 اس کی تفصیل سورة ہود میں گزر چکی ہے۔
Ayah 46:26

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِیْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِیْهِ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْئِدَةً١ۖ٘ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَ لَاۤ اَفْئِدَتُهُمْ مِّنْ شَیْءٍ اِذْ كَانُوْا یَجْحَدُوْنَ١ۙ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 46:26 in the Quran reader

اور ہم نے عاد کے لوگوں کو وہ مقدور دیا تھا جو تم کو اے مکہ کے کافرو) نہیں دیا9 اور ہم نے ان کو کان اور آنکھیں اور دل سب دیئے تھے لیکن چونکہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے تو ان کے کان اور آنکھیں اور دل کچھ ان کے کام نہ آئے1 اور جس عذاب کا وہ ٹھٹھا اڑاتے تھے وہی ان پر الٹ پڑا

ف 1 یعنی مال و دولت، طاقت و اقتدار اور جسمانی صلاحیتوں، غرض ہر چیز میں وہ تم سے زیادہ تھے۔
Ayah 46:27

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَ صَرَّفْنَا الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 46:27 in the Quran reader

اور ہم تمہارے آس پاس کی کئی بستیاں تباہ کرچکے ہیں2 اور نشانیوں اور دلیلوں کو بار بار بیان کرچکے ہیں اس لئے کہ وہ شرارت اور کفر سے کس طرح تو باز آئیں

ف 2 جیسے قوم ثمود اور قوم لوط کی بستیاں۔
Ayah 46:28

فَلَوْ لَا نَصَرَهُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُرْبَانًا اٰلِهَةً١ؕ بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْ١ۚ وَ ذٰلِكَ اِفْكُهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 46:28 in the Quran reader

پھر جس دیوتاؤں کو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اس کی نزدیکی حاصل کرنے کے لئے خدا بنا رکھا تھا انہوں نے ان کی مدد کیوں نہ کی3 مدد کیا خاک کرتے وہ تو ان کی نظر سے غائب غلہ ہوگئے4 اور ان کے جھوٹ اور طوفان کا جو جوڑا کرتے تھے یہ حال ہوا

ف 3 یعنی وقت آن پڑنے پر وہ ان کے کام کیوں نہ آئے ؟… سورة زمر میں گزر چکا ہے کہ انہی کی طرح مشرکین مکہ بھی اپنے دیوتائوں کے بارے میں کہا کرتے تھے۔ ” ما نعبدھم الا لیقربونآء الی اللہ زلفی اور ہم ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں (آیت :3) اور سورة یونس آیت 18 میں ھولاء شفآء نا عند اللہ ” یہ اللہ کے حضور ہمارے سفارشی ہیں۔ 4 یعنی جب وہ وقت آیا جس کے لئے ان کی پوجا کی جاتی تھی اور ان کے سامنے نذرانے پیش کئے جاتے تھے تو یوں غائب ہوگئے کہ کہیں ان کا سراغ نہ ملا۔
Ayah 46:29

وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَیْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْا١ۚ فَلَمَّا قُضِیَ وَ لَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 46:29 in the Quran reader

اور اے پیغمبر وہ قصہ بھی یاد کر جب ہم کسی جنوں کو تیرے پاس پھیر کر لائے وہ قرآن سننے لگے جب اس کے پاس پہونچے5 تو (آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے چپ رہو پھر جب قرآن کا پڑھنا ختم ہوا تو اپنے بھائیوں دوسرے جنوں کے پاس لوٹ گئے ان کو (خدا کے عذاب سے) ڈرانے لگے6

ف 5 یعنی جہاں قرآن پڑھا جا رہا تھا۔ یہ بطن نخلہ کا واقعہ ہے۔ جب آنحضرت اپنے چند صحابہ کے ساتھ بغرض تبلیغ تشریف لے گئے۔ راستہ میں نخلہ کے مقام پر رات بسر کی اور صبح کی نماز میں قرآن پڑھ رہے تھے کہ جن نصیبن سے آٹھ افراد پر مشتمل ایک وفد وہاں پہنچا۔ 6 اس سے معلمو ہوتا ہے کہ وہ جن آنحضرت پر ایمان لے آئے تھے۔ بعد کی آیات بھی اس پر دلیل ہیں۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جن متعدد مرتبہ آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں اور ایک یا دو مرتبہ آپ ان کو تعلیم دینے کے لئے باہر بھی تشریف لے گئے۔ (قرطبی ابن کثیر)
Ayahs 46:30–31

قَالُوْا یٰقَوْمَنَاۤ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ یَهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ وَ اِلٰى طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 46:30 in the Quran reader

بھائیو ! ہم ایک کاتب سن کر آئے ہیں جو موسیٰ کے بعد اتری ہے وہ اگلی آسمانی کتابوں کو سچ بتاتی ہے اور سچا دین اور سیدھا رستہ دکھلاتی ہے

یٰقَوْمَنَاۤ اَجِیْبُوْا دَاعِیَ اللّٰهِ وَ اٰمِنُوْا بِهٖ یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 46:31 in the Quran reader

بھائیو اللہ کی طرف بلانے والے کا کہنا مانو اور اس پر ایمان لائو اللہ تمہارے گناہ یا کچھ گناہ بخش دے گا7 اور تم کو تکلیف کے عذاب سے آخرت کے عذاب سے8 بچا لے گا

ف 7 چناچہ ان کی قوم سے ستر آدمی آپ پر ایمان لے آئے اور انہوں نے آحضرت سے بطحا میں ملاقات کی آپ نے ان کو قرآن پڑھ کر سنایا اور اوامرو نواہی کی تلقین کی۔ 8 ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت کی رسالت عام تھی اور آپ جن و انس کی طرف مبعوث تھے جیسا کہ احادیث میں ہے۔ ” وبعثت الی الخلق کافۃ کہ میں تمام مخلوق (جن و انس) کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ نیز اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ جن بھی انسانوں کی طرف مکلف ہیں اور آخرت میں ثواب و عقاب کے مستحق ٹھہرینگے۔ جیسا کہ سورة انعام کی آیت 130 میں گزر چکا ہے۔ البتہ پیغمبر صرف انسانوں میں سے ہوئے ہیں (یوسف :109) مزیدت فصیل سورة الرحمٰن میں آرہی ہے۔
Ayah 46:32

وَ مَنْ لَّا یُجِبْ دَاعِیَ اللّٰهِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَیْسَ لَهٗ مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءُ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 46:32 in the Quran reader

اور جو کوئی اللہ کی طرف بلانے والے اس پیغمبر کا کہنا نہ مانے گا وہ اللہ تعالیٰ کو کہیں ساری زمین پر تھکا نہیں سکتا9 اور اللہ کے سوا کوئی اس کا حمایتی نہیں ہوسکتا ایسے ہی لوگ کھلی گمراہی میں ہیں10

ف 9 یعنی اس سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتا۔ 10 جنوں کے متعلق جس واقعہ کا ان آیات میں ذکر کیا گیا ہے۔ صحیحین وغیرہ کی متعدد روایات سے معلمو ہوتا ہے کہ وہ بطن نخلہ میں پیش آیا جو مکہ معظمہ اور طائف کے درمیان ایک وادی ہے۔ اس واقعہ کی تفصیل میں حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ آنحپرت کی بعث سے پہلے جنوں کو آسمان کی کچھ خبریں مل جایا کرتی تھیں مگر آنحضرت کی بعثت کے بعد یہ سلسلہ بند کردیا گیا اور جن خبریں حاصل کرنے کے لئے اوپر جاتے تو ان کو کثرت سے شہب کی مار پڑتی۔ اس پر انہیں خیال ہوا کہ زمین میں ضرور کوئی نیا واقعہ ہوا ہے جس کی وجہ سے آسمان پر سخت پہرے بٹھا دیئے گئے ہیں۔ اس جستجو میں جنوں کے مختلف گروہ مشرق و مغرب میں پھیل گئے۔ ادھر نبی ﷺ اپنے چند صحابہ کے ساتھ سوق عکاظ جاتے ہوئے بطن نخلہ میں ٹھہرے ہوئے تھے وہاں آپ اپنے صحابہ کے ساتھ فجر کی نماز پڑھ رہے تھے کہ جنوں کی ایک جماعت وہاں آپہنچی اس کے بعد وہ واقعہ پیش آیا جس کا ان آیات میں ت ذکرہ ہے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بعثت سے کچھ بغد کا واقعہ ہے۔ بعض اصحاب سیرت نے اسے ہجرت سے کچھ پہلے کا واقعہ قرار دیا ہے جب آنحضرت طائف سے زخمی ہو کر بطن نخلہ میں قیام فرما تھے۔ علمائے تفسیر نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ حج کے دنوں کا واقعہ ہے جبکہ آنحضرت مکہ سے باہر صحابہ کے ساتھ صبح کین ماز ادا کر رہے تھے۔ جنوں کی پہلی آمد کے موقع پر آنحضرت نے نہ ان کو دیکھا اور نہ ان کی آمد کا آنحضرت کو پتا چلا حتی کہ سورة جن کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں اور وحی کے ذریعہ آپ کو مفصل حال معلوم ہوا۔ اس اواقعہ کے بعد بہت بڑی تعداد میں جن آنحضرت سے ملاقات کر کے ہدایت یاب ہوئے اور آپ نے ان کو احکام بھی سنائے ایک ملاقات کے موقعہ پر حضرت عبداللہ بن مسعود بھی آنحضرت کے ساتھ گئے تھے۔ (ابن کثیر) قرآن و حدیث سے جنوں کا وجودثابت ہے سلف صالح اور خلف جنوں کے وجود کو بالا جماع مانتے ہیں اس کے باوجود جو شخص ان کے وجود کا منجکر ہے اس کے کفر میں شبہ نہیں ہے۔ (سلفیہ)
Ayahs 46:33–35

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ یَعْیَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى١ؕ بَلٰۤى اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 46:33 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے اتنا نہیں سمجھا کہ جس خدا نے آسمان اور زمین بنا دیئے اور ان کے بنائے میں وہ ذرا بھی نہیں تھکا وہ مردوں کو نہیں جلا سکتا بیشک جلا سکتا ہے وہ سب کھ کرسکتا

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 46:34 in the Quran reader

اور جس دن کافر دوزخ سے سامنے آجائیں گے ان سے پوچھا جائے گا کیا یہ دوزخ اب بھی سچ نہیں ہے وہ کہیں گے بیشک سچ ہے ہمارے مالک کی قسم مالک فرمائے گا اچھا اب اپنے کفر کی سزا میں عذاب کا مزا چکھو

فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوْعَدُوْنَ١ۙ لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَّهَارٍ١ؕ بَلٰغٌ١ۚ فَهَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ۠ Open ayah 46:35 in the Quran reader

تو اے پیغمبر جس طرح ہمت والے پیغمبروں نے کافروں کے ستانے پر صبر کیا تھا صبر کر1 اور ان کے عذاب کے لئے جلدی مت کر جس دن وہ اس عذاب کو دیکھیں گے جس کا اسے وعدہ ہے تو ان کو ایسا معلوم ہوگا جیسے دنیا میں رہے ہی نہیں مگر کھڑی بعد دن رہے2 رہے ہوں تو رہے ہوں یہ قرآن کیا ہے خدا کا حکم پہنچا دینا ہے۔ خدائے غضب سے وہی تباہ ہو نگے جو فرمان ہیں3

ف 1 اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے تمام پیغمبر ہی اولو العزم (ہمت والے) تھے لیکن علمائے سلف نے پانچ پیغمبروں حضرت نوح ابراہیم موسیٰ عیسیٰ اور محمد ﷺ کو خاص طور پر اولالعزم قرار دیا ہے۔ 2 یعنی قیامت کی ہولناکیوں کو دیکھ کر انہیں دنیا میں اپنے عیش و آرام کا زمانہ بہت ہی مختصر معلوم ہوگا۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں دستور ہے کہ گزاری مدت تھوڑی معلوم ہوتی ہے۔ 3 یعنی قرآن کے پہنچ جانے کے بعد حجت تمام ہوگئی اب بھی جو شخص نافرمانی میں پڑا رہے گا وہ اپنی شامت خود بلائے گا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی کو بےقصور نہیں پکڑا جاتا۔