45. Surah Al-Jaathiya

الجاثيةCrouching · 37 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 45:1–2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 45:2 in the Quran reader

اس کتاب (قرآن) کا اتار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جو زبردست ہے حکمت والا ہے9

ف 9 زبردست ہے یعنی کوئی اس کے حکم سے سرتابی نہیں کرسکتا اور اگر کرتا تو اس کی سزا سے بچ کر کہیں نہیں جاسکتا۔ حکمت والا ہے یعنی اس کا ہر حکم اور ہر کام حکمت سے لبریز ہے۔
Ayah 45:3

اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 45:3 in the Quran reader

بیشک آسمانوں میں اور زمین میں ایمانداروں کے لئے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں10

ف 10 یعنی جو لوگ ماننے اور ایمان لانے کے لئے تیار ہوں وہ اگر اس کائنات کے نظام پر غور کریں تو انہیں صاف پتا چل سکتا ہے کہ نہ ان کی پیدائش خود بخود ہوگئی ہے اور نہ ان کا نظام از خود چل رہا ہے بلکہ ایک زبرسدت حکمت والا خدا ہے جس نے انہیں اپنی قدرت سے پیدا کیا اور جو اس نظام کو اپنی حکمت کے مطابق چلا رہا ہے۔
Ayah 45:4

وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَۙ Open ayah 45:4 in the Quran reader

اور تمہاری پیدائش میں اور جو جانور وہ زمین میں پھیلاتا ہے ان کی پیدائش میں لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو (قیامت) یا اللہ تعالیٰ پر) یقین رکھتے ہیں11

ف 11 رہے وہ لوگ جو شک میں پڑے ہوئے ہیں انہیں کسی چیز میں کوئی نشانی نظر نہیں آتی۔
Ayah 45:5

وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 45:5 in the Quran reader

اور رات دن کے آگے پیچھے آنے میں12 اور آسمان سے جو اللہ تعالیٰ نے پانی اتارا13 پھر زمین کو مرے پیچھے پاس اپنی سے جلایا اس میں اور ہوائوں کے رخ بدلنے میں14 میں عقلمند لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں15

ف 12 ” رات اور دن کے اختلاف ‘ سے مراد ان کا آگے پیچھے آنا بھی ہے اور کم و بیش ہونے میں مختلف ہونا بھی۔ 13 یہاں ” رزق ‘ سے مراد پانی ہے کیونکہ اس سے زمین میں رزق کے اسباب پیدا ہوتے ہیں۔ 14 ہوائوں کے رخ بدلنے سے مراد یہ ہے کہ وہ مختلف سمتوں سے چلتی رہتی ہیں اور پھر ان کے اثرات بھی مختلف ہوتے۔
Ayah 45:6

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 45:6 in the Quran reader

اے پیغمبر یہ اللہ تعالیٰ کی آیتیں جو ہم تجھ کو ٹھیک ٹھیک یا سچائی کے ساتھ) سناتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ اور اس کی آیتوں کے بعد اور کون سی بات پر ایمان لائیں گے1

ف 1 یعنی جب قرآن کی آیات سن کر بھی وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لا رہے تو اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر اور کون سی ہستی ہے جس کی بات پر یہ ایمان لائیں گے۔
Ayahs 45:7–8

وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 45:7 in the Quran reader

قیامت میں ہر جھوٹے بدکار کی خرابی ہوگی

یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 45:8 in the Quran reader

جس کو اللہ تعالیٰ2 کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں وہ سنتا تو ہے لیکن پھر غرور کے مارے ضد پر آجاتا ہے اپنے کفر کو نہیں چھوڑتا جیسے اس نے وہ آیتیں سنیں نہیں تو اے پیغمبر ایسے شخص کو تکلیف کے عذاب کی خوشخبری سنا

ف 2 ” خراب “ یہ ” ویل “ کا ترجمہ ہے اور ویل جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے دوزخ کی ایک وادی کا نام بھی ہے۔
Ayah 45:9

وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا اِ۟تَّخَذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ Open ayah 45:9 in the Quran reader

اور جب اس کو ہماری کوئی آیت معلوم ہوجاتی ہے سن پاتا ہے تو اس کو ٹھٹھا3 مقرر کرتا ہے ایسے لوگوں کو قیامت میں ذلت کا عذاب ہوگا

ف 3 یا یہ مطلب ہے کہ جب اسے ہماری آیتوں میں کوئی بات معلوم ہوجاتی ہے۔ (جسے وہ صحیح طور پر سمجھ نہیں پاتا) تو ساری آیات اور شریعت کا مذاق اڑانے لگتا ہے۔ یہ مطلب اس صورت میں ہے کہ اتخذھا میں ” ھا “ کی ضمیر آیات کے لئے قرار دی جائے اور اگر اسی ضمیر کو شیئاً کے لئے قرا دیا جائے تو پہلا مطلب صحیح ہوگا۔
Ayahs 45:10–12

مِنْ وَّرَآئِهِمْ جَهَنَّمُ١ۚ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَیْئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌؕ Open ayah 45:10 in the Quran reader

ان کے سامنے یا ان کے پیچھے دوزخ تیار اور دنیا میں جو کچھ انہوں نے کمایا وہ ان کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ وہ دیوتا جن کو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اپنا رفیق یا سرپرست یا کار ساز بنایا تھا انکے کچ کام آئیں گے اور ان کو بڑا عذاب ہوگا۔

هٰذَا هُدًى١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۠ Open ayah 45:11 in the Quran reader

یہ قرآن تو سچی راہ بتلاتا ہے اور جو لوگ اپنے مالک کی ایٓتوں کو نہیں مانتے ان کو بلا تکلیف کا عذاب ہونا ہے

اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ فِیْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ Open ayah 45:12 in the Quran reader

اللہ ہی تو ہے جس نے سمندر کو تمہارے بس میں کردیا اس لئے کہ اس کے حکم سے میں جہاز چلیں4 اور اس لئے کہ تم اس کا فضل ڈھونڈو (سوداگری کر کے روٹی کھائو) اور اس لئے تم اس کے حاسان کا شکرو

ف 4 یعنی پانی میں باوجود اس کے گہرا ہونے کے جہاز اور کشتیاں غرق نہیں ہوتیں اور یہ محض اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نظام تکوینی ایسا بنایا ہے کہ انسان برویجر میں نقل و حرکت کرسکے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا حکم ایسا نہ ہوتا تو سمندر میں جہازوں اور کشتیوں کے چلنے کا ہرگز امکان نہ ہوتا۔
Ayah 45:13

وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 45:13 in the Quran reader

اور جتنی چیزیں آسمان میں ہیں اور جتنی زمین میں ہیں ان سب کو اس نے اپنی طرف سے تمہارے کام میں لگا دیا ہے5 بیشک سوچنے والوں کے لیء تو اس میں اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں6

ف 5 یعنی ان چیزوں کو اس نے محض اپنے فضل و کرم سے تمہارے کام میں لگا دیا ہے ورنہ تمہارا اس پر کوئی زور نہ تھا۔ آج سمندروں اور دریائوں سے انسان جو فوائد حاصل کر رہا ہے یہ سب اللہ کا فضل و کرم ہی ہے۔ 6 یعنی جو بھی اپنے آپ کو ضد اور ہٹ دھرمی سے الگ کر کے غور و فکر سے کام لے گا۔ وہ اس نتیجہ پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ کائنات کے اس نظام کو بنانے اور چلانے والا ایک ایسا خدا ہے جو اپنی ذات وصفات میں اکیلا ہے اور ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔
Ayah 45:14

قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 45:14 in the Quran reader

اے پیغمبر مسلمانوں سے کہہ دے جو لوگ اللہ تعالیٰ کے دنوں کی امید نہیں رکھتے7 سے در گزر کریں8 تاکہ اللہ ہی ان لوگوں کو ان کے کاموں کا بدلہ دے9

ف 7 ” اللہ تعالیٰ کے دنوں ‘ سے مراد وہ دن ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کے دنوں “ سے مراد وہ دن ہیں جن میں اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں کو خاص سزا دیتا ہے یا اپنے فرمانبردار بندوں کو خاص انعام و اکرام سے نوازتا ہے۔ لہٰذا جو لوگ اللہ تعالیٰ کے دنوں کی امیدن ہیں رکھتے اس سے مراد کفار ہیں جو اس کی رحمت سے مایوس اور اس کی گرفت سے بےفکر ہیں۔ 8 یعنی ان کی زیادتیوں اور ایذا رسانیوں پر صبر و تحمل سے کام لیں اور ان کا معاوضہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیں … واضح رہے کہ مسلمانوں کو یہ حکم مکہ معظمہ میں دیا گیا جب انہیں کفار کے مقابل ہمیں تلوار اٹھانے کی اجازت نہ تھی۔ بعد میں مدینہ پہنچ کر جب جہاد بالسیف کا حکم نازل ہوا تو یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ (ابن کثیر) 9 ” قوما ‘(ان لوگوں کو) کا لفظ عام استعمال ہوا ہے۔ اس سے مراد مسلمان بھی ہوسکتے ہیں اور کافر بھی۔ مسلمان مراد ہوں تو مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ انہیں صبر و تحمل پر مناسب اجر عطا فرمائے گا اور اگر کافر مراد ہوں تو مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ان کی شرارتوں پر خود ہی کافی سزا دے گا۔
Ayahs 45:15–16

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١٘ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 45:15 in the Quran reader

جو کوئی اچھا کام کرتا ہے وہ اپنے ہی بھلے کے لئے کرتا ہے اور جو کوئی برا کام کرتا ہے اس کا وبال اسی پر پڑے گا پھر آخر تم کو اپنے مالک کے پاس لوٹ کر جانا ہے

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 45:16 in the Quran reader

اور ہم بنی اسرائیل کو کتاب توریت شریف اور حکمت یا حکومت اور نبوت دے چکے ہیں1 اور ہم نے انکو کھانے کو عمدہ عمدہ چیزیں دیں من اور سلویٰ وغیرہ اور اپنے پائے میں ان کو سارے جہان کے لوگوں پر بزرگی دی2

ف 1 حکمت سے مراد کتاب کا علم و فہم اور دین کی سمجھ ہے اور حکومت سے مراد لوگوں کے درمیان کتاب کے مطابق عدل و انصاف سے فیصلے کرنے کی صلاحیت …دینے سے مراد ان کے درمیان بہت سے پیغمبر بھیجتا۔ (فتح) 2 ” اپنے زمانے میں “ کی شرط اس لئے ضروری ہے کہ مطلق طور پر سب سے زیادہ فضیلت (بزرگی) والی امت امت مسلمہ ہے۔ جیسا کہ فرمایا :” کنتم خیر امۃ اخرجت للناس “ تم سب سے بہتر امت ہو جو لوگوں کی ہدایت کے لئے پیدا کی گئی ہو (آل عمران 110)
Ayah 45:17

وَ اٰتَیْنٰهُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ۙ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 45:17 in the Quran reader

اور دین کی باتیں کھول کر ان سے بیان کردیں انہوں نے حق بات کو جان بوجھ کر اس کے بعد آپس کی ضد سے اختلاف کیا بیشک اے پیغمبر تیرا مالک قیامت کے دن جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے ہیں3

ف 3 یعنی ان میں جو اختلاف رونما ہوا وہ جہالت اور ناواقفیت کی بنا پر نہ تھا بلکہ وہ انبیاء کے ذریعہ صحیح راہ کا علم آجانے کے بعد رونما ہوا اور اس کی بنیاد سراسر ضد اور خودپسندی پر تھی۔
Ayah 45:18

ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 45:18 in the Quran reader

ان کا فیصلہ کر دے گا پھر اے پیغمبر موسیٰ کے بعد ہم نے تجھ کو دین کے ایک رستے شریعت پر لگا دیا4 تو اسی پر چلتا اور نادانوں کی خواہشوں پر مت چل5

ف 4 یعنی …کو واضح کرنے کی جو خدمت موسیٰ (علیہ السلام) کے سپرد کی گئی تھی وہی اب آپ کے سپرد کی گی ہے۔ 5 یعنی انہیں اپنے قریب کرنے کے لئے دنی کے معاملے میں کسی قسم کی مدہنت سے کام نہ لیں۔ نادانوں سے مراد کفار قریش ہیں
Ayah 45:19

اِنَّهُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۚ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 45:19 in the Quran reader

یہ نادان لوگ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تیرے کچھ کام نہیں آئیں گے6 اور تجھ میں ان میں دوستی کیسے ہوسکتی یہ گنہگار گنہگاروں ہی کے دوست ہوتے ہیں اور پرہیز گاروں کا اللہ دوست ہے یا کام بنانے والا

ف 6 یعنی اگر آپ مداہنت سے کام لیں گے تو وہ آپ کو اللہ کی پکڑ سے نہ بچا سکیں گے۔
Ayah 45:20

هٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 45:20 in the Quran reader

یہ قرآن کیا ہے لوگوں کے لئے عقل کی باتیں ہیں اور جو لوگ قیامت پر یقین رکھتے ہیں ان کے لئے ہدایت اور رحمت ہے7

ف 7 کیونکہ اسی کی بدولت وہ دوزخ سے بچ کر جنت کے مستحق ہوسکتے ہیں، اسے چھوڑ کر نہ دنیا میں فلاح پاسکتے ہیں اور نہ آخرت میں
Ayah 45:21

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠ Open ayah 45:21 in the Quran reader

کیا جن لوگوں نے برے کام کئے وہ سمجھتے ہیں کہ ہم انک وان لوگوں کی طرح کردیں گے جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے دونوں کا جینا مرنا برابر8 کیا برا حکم لگاتے ہیں9

ف 8 یعنی دنیا میں ان کی زندگی اور آخرت میں ان کا انجام ایک جیسا ہو۔ 9 یعنی اگر وہ ایسا سمجھتے ہیں تو بالکل غلط سمجھتے ہیں اس سے تو نیکی اور بدی میں امتیاز ہی ختم ہوجاتا ہے۔ طبرانی میں روایت ہے کہ حضرت تمیم داری اس آیت کو رات بھر پڑھتے رہے اور روتے ہے یہاں تک کہ صبح ہوگی۔ (ابن کثیر)
Ayah 45:22

وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 45:22 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین حکمت سے بنائے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کو اس کے کئے کا بدلہ ملے اور ان پر ظلم نہ ہوگا10

ف 10 یعنی زمین و آسمان کا یہ نظام محض کھیل نہیں بنایا بلکہ یہ ایک بامقصد حکیمانہ نظام ہے جس میں ضروری ہے کہ ہر شخص کو اس کی نیکی اور بدی کا بدلہ دیا جائے اور دنیا و آخرت میں کسی پر ظلم نہ ہو۔
Ayah 45:23

اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً١ؕ فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 45:23 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا بنا لیا ہے1 اور اللہ نے جیسے اس کے علم میں تھا اس کو گمراہ کردیا ہے اس کے کان اور دل پر مہر کردی ہے اور اس کی آنکھ پر اندھیری ڈال دی2 ہے تو اللہ تعالیٰ نے جب اس کو گمراہ کیا اب کون اس کو راہ پر لاسکتا ہے کیا تم غور نہیں کرتے

ف 1 خواہش کو خدا بنا لینے سے مراد ہے کہ آدمی اپنی خواہش کا بندہ بن جائے۔ جو دل میں آئے کر گزرے خواہ خدا کے قانون میں وہ حرام ہو … علوم ہوا کہ شخص کسی نہ کسی خدا کو پوجتا ہے اگر مالک حقیقی کا بندہ نہیں بنتا تو اپنی خواہش کا بندہ بن کر اس کی پوجا کرتا رہتا ہے۔ 2 یعنی جو شخص اپنے نفس کو اپنا خدا بنا لے اور کسی طرح سیدھی راہ پر آنے کے لئے تیار نہ ہو تو اللہ تعالیٰ بھ اسے اس کی اختیار کردہ گمراہی میں بڑھتے رہنے کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔ ” جیسا کہ اس کے علم میں تھا۔ “ یعنی ازل سے خدا کے علم میں تھا کہ وہ راہ راست پر آنے والا نہیں ہے اور یہ بھی ترجمہ ہوسکتا ہے کہ ” علم ہوت یساقی اللہ نے اسے گمراہ کردیا۔ “ یعنی وہ باوجود اس بات کے جاننے کے کہ یہ پتھر بےجان ہیں اور یہ کہ خواہش نفس کی پیروی سراسر گمراہی ہے پھر بھی شرک سے باز نہیں آتا اور ان پتھروں اور مٹی کے ڈھیروں (قبروں) کی پوجا کرتا رہتا ہے۔ (ابن کثیر)
Ayah 45:24

وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ١ۚ وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۚ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 45:24 in the Quran reader

ور (کافر) کہتے ہیں ہماریتو یہی دنیا کی زندگی ہے (دنیا ہی میں مرتے ہیں اور یہیں جیتے رہتے ہیں اور زمانہ کی گردش ہم کو مار ڈالتی ہے3 اور ان کو اس کی تحقیق تو ہے نہیں وہ اٹکلیں دوڑاتے ہیں

ف 3 یعنی خدا کا حکم اور ملک الموت وغریہ کچھ نہیں ہے، بس زمانہ کی گردش ہے جس سے ہم بوڑھے ہوجاتے ہیں اور جب اتنے کمزور ہوجاتے ہیں کہ زندہ نہیں ہوسکتے تو مرجاتے ہیں۔
Ayah 45:25

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 45:25 in the Quran reader

اور کچھ نہیں4 اور جب ان کو ہماری کھلی کھلی صاف صاف مضمون کی آیتیں سنائی جاتی ہیں تو اور تو کچھ کہتے نہیں بنتا بس یہی کٹ جھتی کرتے ہیں اچھا اے مسلمانو اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا لائو جو مرچکے ہیں جلا کر سامنے لے آئو5

ف 4 یعنی ان کو اتنا شعور نہیں کہ جس چیز کو وہ زمانہ کہتے ہیں وہ خود کوئی چیز نہیں ورنہ بجائے خود اسے آدمی پر کوئی اختیار ہے۔ زندگی اور موت کے جو ظاہری اسباب وہ دیکھتے ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ ہی نے بنایا ہے اور وہ اسی کے حکم کے تحت کام کر رہے ہیں۔ اسی حقیقت کو آنحضرت نے ایک حدیث میں یوں بیان فرمایا ہے : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آدم کا بیٹا جب زمانہ کو برا بھلا کہتا ہے تو مجھے تکلیف دیتا ہے کیونکہ زمانہ خد کچھ نہیں میں ہی زمانہ نہ ہوں، میرے ہی ہاتھ میں معاملہ ہے اور میں ہی رات اور دن میں الٹ پھیر کرتا ہوں۔ (شوکانی بحوالہ صحیحین عن ابی ہریرہ) 5 یعنی اگر اپنے اس عقیدہ میں سچے ہو کر مرے کے بعد ہم پھر جی اٹھیں گے … یہ کفار کی سب سے وزنی دلیل تھی جو آخرت کی نفی کے لئے وہ پیغمبروں کے لئے سامنے پیش کرتے تھے حالانکہ قیامت سے پہلے فرداً فرداً اس دنیا میں زندہ ہو کر واپس آنے کو قرآن نے محال ور ناممکن بتایا ہے۔ قیامت کے دن دوبارہ زندگی کے مکاں پر عقلی دلائل قائم کئے ہیں جو اٹل اور ناقابل انکار ہیں، رہا آخرت پر ایمان تو اس کا انحصار سراسر انبیاء (علیہم السلام) کی تصدیق پر ہے۔
Ayah 45:26

قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 45:26 in the Quran reader

اے پیغمبر ان کافروں سے کہہ دے اللہ ہی تم کو جلاتا ہے6 پھر وہی تم کو مارے گا پھر وہی قیامت کے دن جس میں کوئی شبہ نہیں تم کو جلا کر اکٹھا کرے گا7 مگر اکثر لوگ یہ بات نہیں سمجھتے8

ف 6 یعنی جب تک چاہتا ہے دنیا میں زندہ رکھتا ہے۔ زمانہ بجائے خود کیا کرسکتا ہے ؟ 7 کیونکہ جس نے ایک مرتبہ زندگی دے کر واپس لے لی اس کے لئے سب کو دوبارہ زندہ کر کے ایک جگہ اکٹھا کرنا کیا مشکل ہے ؟ 8 یعنی یہ ہے وہ حقیقت جس پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔ مگر کفار مکہ پر تعجب ہے کہ نہ اسے سمجھ کر ایمان لاتے ہیں اور نہ کوئی معقول دلیل پیش کر کے اس کا رد کرتے ہیں۔
Ayah 45:27

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 45:27 in the Quran reader

اور آسمان زمین کی بادشاہت اللہ تعالیٰ ہی کی ہے اور جس دن قیامت برپا ہوگی اس دن جھوٹوں کی یا جھٹلانے والوں کی خرابی ہے9

ف 9 کیونکہ اس روز حقیقت ان کی آنکھوں کے سامنے آجائے گی اور وہ تلافی مافات کے لئے کچھ نہ کرسکیں گے۔
Ayah 45:28

وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:28 in the Quran reader

اور قیامت کے دن اے پیغمبر تو ہر ایک امت کو گھنٹوں کے بل بیٹھے ہوئے دیکھے گا10 ہر امت اپنا اعمال نامہ دیکھنے11 کے لئے بلائی جائے گی

ف 10 یہی خوف و دہشت سے حساب و کتاب کے انتظار میں جیسا کہ مجرم خوف زدہ ہو کر بیٹھتا ہوتا ہے … حضرت عبداللہ بن عمر فرمات یہیں کہ قیامت کے روز ہر امت اپنے نبی سمیت گھنٹوں کے بل بیٹھی ہوگی یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ ایک چبوترے پر ظاہر ہوں گے جو سب سے بلند ہوگا اور وہی مقام محمود ہوگا (شوکانی بحوالہ ابن مردویہ) 11 اس سے مراد ہر وہ کتاب بھی ہوسکتی ہے جو کسی نبی پر نازل کی گئی یعنی یہ دیکھنے کیلئے کہ کیا اس امت نے اپنے نبی کی کتاب پر عمل بھی کیا یا نہیں۔
Ayah 45:29

هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:29 in the Quran reader

اور اس سے کہہ دیا جائے گا آج تم جیسے کا مدنیا میں کرتے رہے ویسا بدلہ پائو گے یہ ہمارا دفتر جو ٹھیک ٹھیک تمہارے کام بتلا رہا ہے کیوں کہ تم جو دنیا میں کرتے تھے وہ ہم لکھواتے جاتے تھے1

ف 1 یعنی ہمارے حکم سے فرشتے لکھتے رہتے تھے تاکہ تم پر حجت قائم کی جاسکے، ورنہ ہمیں تو ہر چیز کا ازل سے علم ہے۔
Ayahs 45:30–32

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 45:30 in the Quran reader

پھر جو لوگ ایمان دار ہیں اور انہوں نے اچھے کام بھی کئے ان کو تو ان کا پروردگار اپنی رحمت میں لے لے گا جنت میں داخل کرے گا یہی تو کھلی کامیابی ہے

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١۫ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 45:31 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہیں (ان سے پروردگار فرمائے گا کیا دنیا میں تم کو میری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں پھر تم اینٹھتے رہے (غرور کرتے رہے) اور تم نافرمان لوگ تھے

وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ Open ayah 45:32 in the Quran reader

اور جب تم سے یہ کہہ جاتا تھا دیکھو اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں تو تم کہتے تھے ہم نہیں جانتے قیامت کیا چیز ہے ہاں کچھ تھوڑا سا گمان تو ہم کو بھی ہے کہ شاید قیامت آئے مگر ہم کو یقین نہیں2

ف 2 اس سے صاف نکلتا ہے کہ اگر کسی کو حشر نشر، حساب کتاب، فرشتوں، پیغمبروں اور دین کے دوسرے ضروری عقائد میں شک ہو تو (گو انکار نہ ہو) تو بھی) وہ کافر ہے اور کمال ایمان کے لئے پورا یقین ہونا شرط ہے (وحیدی )
Ayahs 45:33–35

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 45:33 in the Quran reader

اور جو جو کام انہوں نے دنیا میں کئے تھے ان کی برائیاں ان پر کھل جائیں گی اور جس عذاب کا وہ ٹھٹھا اڑاتے تھے وہی ان پر الٹ پڑے گا

وَ قِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا وَ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 45:34 in the Quran reader

اور ان سے کہہ دیا جائے گا آج ہم تم کو بھلا دیں گے تمہار اخیال چھوڑ دیں گے جیسے تم نے اپنے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے اور کوئی تمہاری مدد کرنے والا نہیں

ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّ غَرَّتْكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 45:35 in the Quran reader

یہ اس کی سزا ہے تو نے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو ہنسی ٹھٹھا بنایا تھا ان سے مخسرہ پن کرتے تھے اور دنیا کی زندگی نے تم کو فریب دے رکھا تھا تم اس کیدھوکے میں آگئے تھے تو آج یہ لوگ کبھی دوزخ سے نہ نکالے جائیں گے اور نہ ان کو منانے کا موقع دیا جائے گا3

ف 3 منانے کے موقع سے مراد توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کا موقع ہے۔
Ayahs 45:36–37

فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 45:36 in the Quran reader

تو اصل تعریف اللہ تعالیٰ ہی کو سزا وار ہے جو آسمان کا مالک اور زمین کا مالک سارے جہان کا مالک ہے

وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۪ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 45:37 in the Quran reader

اور آسمان اور زمین میں اسی کی بڑائی ہے4 اور وہی زبردست ہے حکمت والا

ف 4 یعنی کوئی اس کے برابر کا نہیں ہے وہ سب سے بڑا ہے۔ صحیح حدیث ہیں ہے کہ ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بزرگی میری ازار ہے اور بڑائی میری چادر جو شخص ان میں سے کوئی چیز مجھ سے چھیننا چاہے گا اسے میں دوزخ میں ٹھہرائوں گا۔ (بحوالہ صحیح مسلم)