44. Surah Ad-Dukhaan

الدخانThe Smoke · 59 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 44:1–3

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 44:2 in the Quran reader

قسم ہے اس کتاب قرآن کی جو کھول کر بیان کرنے والی ہے

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِیْنَ Open ayah 44:3 in the Quran reader

ہم نے اس کو برکت کی رات9 میں اتارا ہم کو یہ منظور تھا کہ لوگوں کو اپنے عذاب سے ڈرائیں

ف 9 برکت والی رات سے مراد لیلۃ القدر ہے جیسا کہ سورة قدر میں ہے اور سورة بقرہ میں ہے ( اشھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن) رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا۔ ( آیت 85) اس رات کو قرآن کے اترنے کا مطلب تو یہ ہے کہ اس میں اترنے کا سلسلہ شرع ہوا یا اس میں سارے کا سارا قرآن لوح محفوظ سے اتار کر پہلے آسمان میں بیت العزۃ میں رکھ دیا گیا اور پھر 23 برس تک تدریجا ً اترتا رہا۔ ( کذا فی ابن کثیر) ۔
Ayah 44:4

فِیْهَا یُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِیْمٍۙ Open ayah 44:4 in the Quran reader

اسی رات کو ہر ایک انتظامی کام کا فیصلہ ہوتا ہے10

ف 10 یعنی سال بھر میں جو بڑے بڑے کام سر انجام پانے ہوتے ہیں ان کا آخری فیصلہ کردیا جاتا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ نصف شعبان کی رات دوسرے شعبان تک لوگوں کی عمر کا فیصلہ کردیا جاتا ہے۔ اس کے پیش نظر بعض مفسرین (رح) نے اس سے شعبان کی پندرھویں رات مراد لی ہیں جو عمواماً شب برأت کے نام سے مشہور ہے مگر یہ روایت مرسل ہے۔ ( ابن کثیر) قاضی ابوبکر ابن العربی لکھتے ہیں کہ شعبان کی پندرہویں رات سے متعلق کوئی رعایت قابل اعتماد نہیں ہے نہ اس کی فضلیت کے بارے میں اور نہ اس بارے میں کہ اس رات قسمتوں کے فیصلے ہوتے ہیں۔ ( احکام القرآن)
Ayah 44:5

اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَۚ Open ayah 44:5 in the Quran reader

ہمارے پاس سے حکم لے11 کر بیشک ہم پیغمبروں کو بھیجتے ہیں

ف 11 یعنی جبریل ( علیہ السلام) اللہ کے اذن سے ہر حکم لے کر اترتے ہیں۔
Ayah 44:6

رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 44:6 in the Quran reader

یہ تیرے مالک کی مہربانی ہے12 وہ سب کچھ سنا جانتا ہے

ف 12 یعنی پیغمبروں ﷺ کو خصوصاً حضرت محمد ﷺ کو لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرانے کے لئے بھیجنا اللہ تعالیٰ کی بڑی رحمت ہے۔
Ayah 44:7

رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۘ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 44:7 in the Quran reader

آسمان اور زمین کا اور جو ان کے بیچ میں ہے اس کا مالک اگر تم اس بات کا یقین کردو12

ف 13 کفار مکہ یہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی ان کا اور اس ساری کائنات کا مالک ہے۔ اس لئے ان سے فرمایا جا رہا ہے اگر تم یہ اقرار دلی یقین سے کرتے ہو تو تمہیں تسلیم کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی تمام پیغمبروں ﷺ کو بھیجا ہے اور کتابیں اتاری ہیں کیونکہ ایسا کرنا اس کی رحمت کا عین تقاضا ہے۔
Ayahs 44:8–9

لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 44:8 in the Quran reader

اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں وہی جلاتا ہے اور وہی مارتا ہے تمہارا مالک اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا مالک

بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ یَّلْعَبُوْنَ Open ayah 44:9 in the Quran reader

میں بات یہ ہے کہ یہ لوگ شک میں پڑے کھیل کر رہے ہیں1

ف 1 یعنی یہ جو زبان سے خدا کے خالق ومالک ہونے کا اقرار کرتے ہیں۔ یہ محض کھیل کود کے طور پر ایسا کرتے ہیں۔ انہیں دل سے توحید اور قیامت کا یقین نہیں ہے۔
Ayahs 44:10–11

فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 44:10 in the Quran reader

تو اے پیغمبر اس دن کا انتظار کر جب آسمان سے ایک کھلا دھواں اٹھے گا

یَّغْشَى النَّاسَ١ؕ هٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 44:11 in the Quran reader

لوگوں پر چھا جائے گا (کہیں گے یہ تو تکلیف کا عذاب ہے2

ف 2 حضرت حذیفہ ؓ کی روایت میں قیامت کی دس نشانیوں میں سے ایک نشانی دھواں بتائی گئی ہے اور حضرت ابن عباس ؓ نے یہی دھواں مراد لیا ہے جو قیامت کے قریب ظاہر ہوگا بہت سے صحابہ ؓ وتابعین کا بھی یہی قول ہے اور حافظ ابن کثیر ؓ نے اسی کو راجح قرار دیا ہے۔ ( ایضا جامع) لیکن صحیح یہ ہے کہ اس سے مراد اس قحط کا دھواں ہے جو آنحضرت ﷺ کی بد دعا سے قریش پر آیا تھا کیونکہ وہی اس آیت کی شان نزول ہے جیسا کہ صحیحین میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ جب قریش کی سرکشی حد سے بڑھ گئی تو آنحضرت ﷺ نے دعا فرمائی :” اے اللہ ! ان کے مقابلہ میں میری مدد فرما اور ان پر سات برس کا قحط نازل کر جیسا کہ قحط تو نے یوسف ( علیہ السلام) کے زمانہ میں بھجیا تھا “۔ چناچہ ایسا سخت قحط آیا کہ قریش ہڈیاں تک چوسنے لگے، آدمی آسمان کی طرف دیکھتا تو بھوک کے مارے اسے زمین اور آسمان کے درمیان دھواں سا معلوم ہوتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ پھر قریش نے آنحضرت ﷺ سے بارش کی دعا کے لئے درخواست کی تو بارش ہوئی اس پر اگلی آیت ( انا کاشفوا العذب۔۔۔۔ ) نازل ہوگی مگر قریش اپنے کفر پر قائم رہے۔ اس پر اگلی آیت ( یوم نبطش۔۔۔ نازل ہوئی اور بدر کے روز اللہ تعالیٰ نے ان سے انتقام لیا۔ ( تنبیہ) لخان میں اختلاف کی طرف بطشۃ کبری میں بھی حضرت ابن عباس ؓ اور ابن مسعود ؓ کے مابین اختلاف ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بطشۃ کبری سے قیامت کے دن کا عذاب مراد لیا ہے اور حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ بدر کا دن مراد لیتے تھے۔ ( ابن کثیر، قرطبی) ۔
Ayahs 44:12–20

رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 44:12 in the Quran reader

مالک ہمارے یہ عذاب ہم پر سے ٹال دے ہم ایمان لائیں گے۔

اَنّٰى لَهُمُ الذِّكْرٰى وَ قَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 44:13 in the Quran reader

ان کو اس دھوئیں سے کہاں نصیحت ہوگی اور ان کا تو حال یہ ہے ان کے پاس ایک پیغمبر آچکا

ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌۘ Open ayah 44:14 in the Quran reader

جس نے کھول کر کچا چٹھا سنا دیا (سب باتیں بتادیں اس پر بھی انہوں نے اس کی طرف سے منہ پھیرلیا اور کہنے لگے یہ تو کسی کا سکھایا پڑھایا ہوا بائولا ہے

اِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیْلًا اِنَّكُمْ عَآئِدُوْنَۘ Open ayah 44:15 in the Quran reader

لوگو تمہاری دعا کی وجہ سے اہم چند روز کے لئے یہ عذاب ہٹا دیں گے مگر تم پھر روہی شرک اور کفر کرو گے

یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰى١ۚ اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ Open ayah 44:16 in the Quran reader

جس دن ہم ان کو بڑی سخت پکڑ پکڑیں گے ہم بدلہ لیں

وَ لَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ كَرِیْمٌۙ Open ayah 44:17 in the Quran reader

اور ان عرب کے کافروں سے پہلے ہم فرعون کی قوم والوں کو جانچ چکے ہیں اور ان کے پاس عزت والا پیغمبر موسیٰ آچکا ہے

اَنْ اَدُّوْۤا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 44:18 in the Quran reader

اس نے کہا اللہ کے بندوں بنی اسرائیل کو میرے حوالہ کردو قید سے آزاد کرو میں خدا کا بھیجا ہوا اعتباری تمہارے پاس آیا ہوں

وَّ اَنْ لَّا تَعْلُوْا عَلَى اللّٰهِ١ۚ اِنِّیْۤ اٰتِیْكُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 44:19 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ سے میانٹھو شرارت نہ کرو میں تم کو ایک کھلی دلیل بتلاتا ہوں

وَ اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ٘ Open ayah 44:20 in the Quran reader

اور تم مجھ پر پتھرائو کرو اس سے میں اپنے مالک اور تمہارے مالک کی پناہ مانگتا ہوں3

ف 3 یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آچکا ہوں جو میرا ہی نہیں تمہارا بھی مالک ہے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں۔ شاید وہ ڈراتے ہونگے اس سے ( موضح)
Ayah 44:21

وَ اِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِیْ فَاعْتَزِلُوْنِ Open ayah 44:21 in the Quran reader

اور اگر تم میرا کہنا نہیں مانتے تو خیر مجھ سے الگ تو رہو4

ف 4 یعنی مجھ پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش نہ کرو ورنہ تبا ہوجائو گے کیونکہ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آچکا ہوں۔
Ayahs 44:22–24

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ Open ayah 44:22 in the Quran reader

آخر ہم نے مجبور ہو کر اپنے مالک سے دعا کی پروردگار یہ لوگ بڑے شریر لوگ ہیں ان پر اپنا عذاب اتار

فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلًا اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَۙ Open ayah 44:23 in the Quran reader

ہم نے موسیٰ سے کہہ دیا تو راتوں رات میرے بندوں بنی اسرائیل کو لے کر چل دے کیونکہ فرعون کے لوگ تمہارا پیچھا کریں گے

وَ اتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا١ؕ اِنَّهُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 44:24 in the Quran reader

تو تم آگے بڑھ جائو اور سمندر کو تھما ہوا چھوڑ دے5 کیونکہ یہ فرعون کا لشکر ڈبایا جائے گا6

ف 5 حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے سمندر عبور کرنے کے بعد چاہا کہ سمندر پر عصا ماردیں تاکہ وہ مل جائے اور فرعون کا لشکر اس میں داخل نہ ہو سکے۔ حکم ہوا کہ ایسا نہ کرو بلکہ سمندر کو اپنے موجودہ حال چھوڑ کر آگے بڑھ جائو تاکہ فرعون کا لشکر اس میں داخل ہوجائے۔ 6 چناچہ ایسا ہی ہوا۔ فرعون نے جب سمندرکو پھٹاپایا تو لشکر سمیت اس میں داخل ہوگیا اور سب غرق ہوگئے۔
Ayahs 44:25–28

كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 44:25 in the Quran reader

یہ فرعون کے لوگ کتنے ہی باغ اور چشمے چھوڑ مرے

وَّ زُرُوْعٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 44:26 in the Quran reader

اور کھیت اور عمدہ مکانات

وَّ نَعْمَةٍ كَانُوْا فِیْهَا فٰكِهِیْنَۙ Open ayah 44:27 in the Quran reader

اور آرام کے سامان جن میں مزے اڑاتے تھے بادل لگیاں کرتے تھے

كَذٰلِكَ١۫ وَ اَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 44:28 in the Quran reader

اس طرح ہم نے ان کو نکالا اور دسرے لوگوں بنی اسرائیل کو اس سب سامان کا وارث کردیا7

ف 7 دوسرے لوگوں کا لفظ اگرچہ عام ہے اور اسی لئے بعض مفسرین (رح) نے ان سے مصر کے دوسرے لوگ مراد لئے ہیں، لیکن صحیح یہ ہے کہ ان سے ماراد بنی اسرائیل ہی ہیں جیسا کہ سورة شعراء میں ہے ( کذلک و اور ثنا ھا بنی اسرائیل) اسی طرح اور ہم نے بنی اسرائیل کو اس کا وارث بنادیا) آیت 59) نیز دیکھئے سورة اعراف ( آیت 138) شاہ صاحب (رح) بھی لکھتے ہیں، بعض بنی اسرائیل کو جیسے سورة شعراء سے معلوم ہوتا ہے فرعون کے غرق ہوئے پیچھے بنی اسرائیل کا دخل ہوا مصر میں۔ ( موضح) ایک مطلب یہ بھی ممکن ہے کہ فراعنہ کی شان و شوکت کا وارث بنی اسرائیل کو بنایا، واللہ اعلم۔
Ayah 44:29

فَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِیْنَ۠ Open ayah 44:29 in the Quran reader

اور ان پر نہ آسمان رویا نہ زمین روئی1 اور نہ ان کو ذرا بھی مہلت ملی2

ف 1 یعنی غرق ہونے کے بعد آسمان و زمین کے رہنے والوں میں سے کسی نے ان کی تباہی پر دو آنسو نہ بہائے۔ یہی حشر ہر ظالم حکمران ٹولے کا ہوتا ہے۔ 2 ” کہ توبہ کرلیتے بلکہ ان کی آن میں ڈبو دیئے گئے۔ “
Ayah 44:30

وَ لَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِیْنِۙ Open ayah 44:30 in the Quran reader

اور ہم بنی اسرائیل کو فرعون نے ذلت دینے والے عذاب سے نجات دے چکے ہیں3

ف 3 ذلت کے عذاب سے مراد غلامی کی کیفیت ہے اور یہ کہ فرعون ان کے لڑکوں کو مار ڈالتا اور لڑکیوں کو لونڈیاں بنانے کے لئے زندہ رکھتا… آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے ” اور ہم بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب، فرعوکن سے نجات دے چکے ہیں۔ “ گویا فرعون خود ان کے لئے ذلت کا عذاب تھا کیونکہ وہی اس عذاب کا سرچشمہ تھا۔
Ayahs 44:31–32

مِنْ فِرْعَوْنَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَالِیًا مِّنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 44:31 in the Quran reader

بیشک وہ اینٹھو (مغرور) حد سے بڑھا ہوا تھا

وَ لَقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ عَلٰى عِلْمٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 44:32 in the Quran reader

اور ہم نے اسرائیل کو ان کے زمانے میں جان بوجھ کر سارے جہان کے لوگوں پر بزرگی دی تھی4

ف 4 ان کے زمانے میں “ کی شرط اس لئے ضروری ہے کہ معلق طور پر سب سے بہتر امت مسلمہ ہے (دیکھیے آل عمران) جان بوجھ کر “ کہنے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس فضیلت کے لائق ہیں۔ (جامع)
Ayah 44:33

وَ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنَ الْاٰیٰتِ مَا فِیْهِ بَلٰٓؤٌا مُّبِیْنٌ Open ayah 44:33 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو ایسی نشانیاں دی تھیں جن میں کھلا ہوا احسان تھا5

ف 5 یا ” کھلی ہوئی آزمائش تھی
Ayahs 44:34–35

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 44:34 in the Quran reader

یہ لوگ اندر کے کافر کہتے ہیں

اِنْ هِیَ اِلَّا مَوْتَتُنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُنْشَرِیْنَ Open ayah 44:35 in the Quran reader

ہم کو تم بس ایک ہی ڈر مرنا ہے6 اور ہم قیامت میں زندہ ہو کر نہیں اٹھائے جائیں گے

ف 6 یعنی ایک دفعہ مرنے کے بعد پس فنا ہوجاتا ہے۔
Ayah 44:36

فَاْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 44:36 in the Quran reader

اگر تم سچے ہو کہ قیامت ایک دن ضرور آئے گی تو ہمارے باپ دادوں7 کو جلا کرلے آؤ

ف 7 تاکہ ہم آنکھوں سے دیکھ لیں کہ واقعی آدمی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوسکتا ہے۔
Ayah 44:37

اَهُمْ خَیْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ١ۙ وَّ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ اَهْلَكْنٰهُمْ١٘ اِنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 44:37 in the Quran reader

ذر کوئی ان سے پوچھے یہ قریش کے کافر اہل بوتے ہیں اچھے میں یا تبع کی قوم والے8 اور جو لوگ ان سے پہلے گزر چکے9 ہم نے ان سب کو تباہ کردیا کیونکہ وہ قصور وار تھے10

ف 8 تبع کو قوم سے مراد یمن کی قوم سبا ہے جس کی تباہی کا حال سورة سبا میں گزر چکا ہے۔ تبع دراصل اس قوم کے قبیلہ حمیر کے بادشاہوں کا لقب تھا جیسے کنری ایران کے بادشاہوں کا اور قیصر روم کے بادشاہوں کا فرعون مصر کے بادشاہوں اور نجاشی حبشہ کے بادشاہوں کا لقب ہوتا تھا۔ عموماً مورخین نے ان کا زمانہ حضرت عیسیٰ سے پہلے بتایا ہے۔ ان میں سے ایک بادشاہ نے دنیا میں بڑی فتوحات حاصل کی تھیں اور اسی نے شہر سمر قند بسایا تھا۔ اس نے خانہ کعبہ کا طواف بھی کیا اور واپس یمن پہنچ کر یہودی مذہب کی تبلیغ کی۔ چناچہ یمنی عوام نے یہ دین اختیار کرلیا اس کی وفات کے بعد پھر کافر ہوگئے۔ اسی بادشاہ کے متعلق امام احمد اور طبرانی وغیرہ نے حضرت ابوہریرہ سے روایت نقل کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :” تبع کو گالی نہ دو اس لئے کہ وہ مسلمان ہوگیا تھا۔ “ (ابن کثیر مختصراً ) 9 جیسے عاد اور ثمود اور فرعون کی قوم 10 مطلب یہ ہے کہ جب ہم نے ان قوموں کو ان کی سرکشی کی وجہ سے تباہ کردیا حالانکہ وہ خوشحالی اور شان و شوکت میں تم سے کہیں بڑھ چڑھ کے تھے تو تمہیں تباہ کرنا ہمارے لئے کیا مشکل ہے۔
Ayah 44:38

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ Open ayah 44:38 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو ان کے بیچ میں ہے کھیل نہیں بنایا11

ف 11 بلکہ اپنی حکمت کاملہ اور صحیح مقصد کے تحت پیدا کئے ہیں۔ دیکھیے سورة انبیاء آیت 16
Ayahs 44:39–40

مَا خَلَقْنٰهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 44:39 in the Quran reader

ہم نے ان کو حکمت ہی کے لئے پیدا کیا ہے (بڑی مصلحت کے لئے) لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے

اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ مِیْقَاتُهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 44:40 in the Quran reader

بیشک فیصلے کا دن ان کا وعدہ ہے سب کا12

ف 12 یعنی قیامت ہی کے دن سب کو زندہ کر کے فیصلہ کے لئے جمع کیا جائے گا۔ اس سے پہلے کسی کو زندہ کر کے سامنے لانا اللہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف ہے۔