43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 43:1–2

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 43:2 in the Quran reader

قسم ہے اس کتاب قرآن کی جو کھول کر بیان کرنے والی ہے10

ف 10 یعنی اپنے مدعا کو صاف صاف بیان کرنے والی ہے۔
Ayah 43:3

اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 43:3 in the Quran reader

ہم نے اس کتاب کو جو عربی زبان کا قرآن ہے (لوح محفوظ میں) لکھا ( یا اتاراض اس لئے عرب کے لوگو تم سمجھو11

ف 11 کیونکہ عربی تمہاری مادری زبان ہے۔ پھر دوسری قومیں تمہارے ذریعہ میں قرآن کو سمجھیں۔
Ayah 43:4

وَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌؕ Open ayah 43:4 in the Quran reader

یہ قرآن بڑی کتاب میں (لوح محفوظ میں لکھا ہوا) ہے ہمارے نزدیک تو بلند درجے والا حکمت سے بھرا ہوا ہے12

ف 12 گو تم اس کی قدر و منزلت نہ کرو غظ حکیم کے دوسرے معنی محکم بھی ہوسکتے ہیں۔ یعنی اس کے دلائل نہیں مضبوط اور احکام غیر منسوخ ہیں اور اس کے مضامین میں کسی قسم کا تضاد یا اختلاف بیان نہیں پایا جاتا۔
Ayah 43:5

اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ Open ayah 43:5 in the Quran reader

کیا تم لوگ جو (شرارت میں) حد سے بڑھ گئے ہو اس وجہ سے ہم تم کو نصیحت کرنا بالکل چھوڑ دیں1

ف 1” اور قرآن اتارنا موفوف کردیں “ ؟ ایسا خیال مت کرو کیونکہ تمہاری شرارت اور گمراہی تو قرآن کے اتارے جانے کا اصل سبب ہے تم اگر نہیں مانو گے تو تمہاری نسلوں میں ایسے نیک بخت لوگ پیدا ہوں گے جو اس پر ایمان لائیں گے اور دنیا کے ہادی و رہنما بنیں گے۔ بعض علماء علمائے تفسیر (رح) نے اس کا یہ مفہوم بیان کیا ہے ” کیا تمہارا گمان ہے کہ تم سے در گزر کریں گے اور عذاب نہیں دینگے اور حال یہ ہے کہ تم حد سے گزرے ہوئے لوگ ہو اور ہمارے حکم کے مطابق نہیں چلتے ہو، اس صورت میں ” الذکر “ بمعنی عذاب ہوگا۔ ابن جریر (رح) نے انہی معنی کو ترجیح دی ہے ( ابن کثیر) ۔
Ayahs 43:6–8

وَ كَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:6 in the Quran reader

اور ہم نے اگلے لوگوں میں بہت سے پیغمبر بھیجے

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 43:7 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس کوئی پیغمبر آتا تو (وہ تیری قوم کی طرح) اس کا ٹھٹھا اڑاتے

فَاَهْلَكْنَاۤ اَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَّ مَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:8 in the Quran reader

پھر ہم نے ان (مکہ کے کافروں) سے کہیں زیادہ زور دار لوگوں کو تباہ کردیا اور ان اگلے لوگوں کا حال (قرآن میں) بیان ہوچکا ہے2

ف 2 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” پہلے لوگوں کی مثال چلی آئی “۔ یعنی ان کا قصہ زبان زد خلائق ہوگیا اور لوگ عبرت کے لئے اسے بیان کرتے ہیں۔
Ayah 43:9

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 43:9 in the Quran reader

اور اگر تو ان سے پوچھے آسمان اور زمین کس نے بنائے تو ضرور یہی جواب دیں گے اس زبردست علم والے (خدا) نے بنائے3

ف 3 یعنی زبان سے اللہ تعالیٰ کے خالق ہونے کا اقرار کرتے ہیں اور اسے زبردست علم والا بھی مانتے ہیں لیکن عبادت دوسروں کی کرتے ہیں۔ یہ ان کے انتہائی بدبخت اور مستحق عذاب ہونے کی دلیل ہے۔
Ayahs 43:10–11

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۚ Open ayah 43:10 in the Quran reader

جس نے زمین کو تمہارا بچھونا بنایا اور اس میں تمہارے (چلنے پھرنے کیض لئے رستے نکالے اس لئے کہ تم جہاں جانا چاہو وہاں پہنچ جائو

وَ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ١ۚ فَاَنْشَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ۚ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ Open ayah 43:11 in the Quran reader

اور جس نے اندازے سے آسمان سے پانی برسایا4 پھر مرے ہوئے شہر کو ہم نے اس پانی سے جلا اٹھایا اور اسی طرح سے گم بھی قبروں سے نکالے جائو گے زندہ ہو کر اٹھائے جائو گے

ف 4 یعنی تمہاری ضرورت اور مصلحت کے مطابق آسمان سے بارش کا انتظام فرمایا تاکہ تمہاری اور تمہارے جانوروں کی معیشت کا سامان مہیا ہو۔ اگر بےاندازہ مینہ برساتا تو کھیتیاں تباہ ہوجاتیں اور مکانات ڈھے جاتے اور اگر اندازہ سے کم برساتا تو تمہاری ضرورت پوری نہ ہوتی اور قحط پڑجاتا۔ (کذا قال ابن عباس ؓ
Ayah 43:12

وَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَۙ Open ayah 43:12 in the Quran reader

اور جس نے ہر قسم کے جوڑے پیدا کئے5 اور تمہارے لئے کشتیاں اور چوپائے جانور بنائے جن پر تم چڑھے پھرتے ہو

ف 5” ازواج ‘ کے معنی جوڑے بھی ہوسکتے ہیں۔ جیسے آدمی اور جانوروں اور درختوں کے جوڑے یعنی نر اور مادہ اور صنفیں بھی جیسے رات اور دن سردی اور گرمی آسمان اور زمین جنت اور دوزخ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے انسان کے عمومی احوال مراد ہوں جیسے خیر و شر، ایمان و کفر نفع و نقصان فقر و غنی اور صحت و سقم وغیرہ
Ayah 43:13

لِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْهِ وَ تَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَۙ Open ayah 43:13 in the Quran reader

اس لئے کہ تم اس کی پیٹھ پر سواری کرو پھر جب6 جم کر بیٹھ جائو تو اپنے مالک کا احسان یاد کرو اور کہو کیا پاک ذات ہے وہ خدا تعالیٰ جس نے ان چیزوں کو ہمارے بس میں کردیا اور اگر وہ ہمارے بس میں نہ کرتا تو) ہم میں اتنی طاقت نہ تھی کہ ان کو اپنے قابو میں لاتے

۔6” ہ “ کی ضمیر ” ما ترکبون “ کے لئے ہے یا مراد ہر صنف کی پیٹھ ہے اس لئے ” ظہور کا لفظ جمع ہونے کے باوجود اس کے ساتھ ” ہ “ کی ضمیر استعمال کی گئی ہے جو واحد ہے۔ (قرطبی وغیرہ)
Ayah 43:14

وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ Open ayah 43:14 in the Quran reader

اور ہم تو بیشک ایک دن) اپنے مالک کے پاس لوٹ جانے والے ہیں7

ف 7 حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ جب سفر کے لئے اونٹ پر سوار ہوتے تو تین مرتبہ ” اللہ اکبر “ کہہ کر (سبحان الذی سخر لنا ھذا) سے ( لمنقلبون) تک یہ دعا پڑھتے اور پھر فرماتے ( اللھم انی اسئلک فی سفری ھذا البروالتقوی ومن العمل ما ترضی اللھم ھون علینا السفروا طولنا البعد اللھم انت الصاحب فی السفر و الخلیفۃ فی الاھل اللھم اصحبنا فی سفرنا واخلقنا فی اھلنا اور جب سفر سے واپس آتے تو فرماتے ( ائبون تائبون انشاء اللہ عابد ون لربنا حامدون) (ابن کثیر) ۔
Ayah 43:15

وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِیْنٌؕ۠ Open ayah 43:15 in the Quran reader

ولی اور ان کافروں نے خدا کے بندوں کا اس کی اولاد بنایا8 بیشک آدمی بڑا ظالم کھلا ناشکرا ہے1

ف 8 جزء سے شریک یا اولاد میں سے خا ص طور پر بیٹیاں مراد ہیں اور محاورہ میں ( اجزات المراہ) کے معنی ہیں عورت نے مادین اولاد کو جنم دیا۔ ( قرطبی) 1 جو اپنے مالک کی شان اور عظمت کو نہیں سمجھتا۔
Ayah 43:16

اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصْفٰىكُمْ بِالْبَنِیْنَ Open ayah 43:16 in the Quran reader

کیا خدا نے آپ جو پیدا کیا اس میں سے بیٹیاں (اپنے لئے) لے لیں اور تم کو چن کر بیٹے دیئے2

ف 2 یعنی یہ انتہائی تعجب کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عمدہ چیز بیٹے تو تم کو دے دی اور نکمی چیز بیٹیاں اپنے لئے رکھ لی۔ مطلب یہ ہے کہ تم اپنے لئے بیٹے پسند کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ کے لئے بیٹیاں ” تلک اذا اقسمد ضمیری) (النجم :22)
Ayah 43:17

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 43:17 in the Quran reader

اور ان کافروں میں سے جب کسی کو اس چیز کے (پیدا) ہونے کی خبر دی جائے جس کو وہ خدا کے لئے بیان کرتا ہے (یعنی بیٹی پیدا ہونے کی) تو اس کا منہ کالا پڑجاتا ہے اور3 اندر ہی اندر وہ غصہ سے گھٹتا رہتا ہے

ف 3 یعنی بیٹی کو اس قدر برا سمجھتا ہے لیکن تعجب ہے کہ اسے اس خدا کے لئے تجویز کرتا ہے جسے ہر طرح کی قدرت حاصل ہے۔
Ayah 43:18

اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ وَ هُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ Open ayah 43:18 in the Quran reader

کیا جو گہنے پاتے ہیں پلتی ہے اور لڑائی جھگڑے میں وہ بربار بات نہیں کرسکتی4

ف 4 یعنی کیا ایسی نازک اور کمزور اولاد تم خدا کے لئے تجویز کرتے ہو، کیا اس تجویز پر تمہیں شرم نہیں آتی ؟
Ayah 43:19

وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓئِكَةَ الَّذِیْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا١ؕ اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ١ؕ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:19 in the Quran reader

اور ان کافروں نے فرشتوں جو اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں عورت ذات ٹھہرایا (کوئی ان سے پوچھے) کیا جس وقت فرشتے پیدا ہوئے اس وقت یہ لوگ موجود تھے5 فیر ان کو جو بکنے میں بکنے دے) ان کی بات لکھ لی جائے گی اور قیامت کے دن) ان سے پرسش ہوگی6

ف 5 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” کیا “ انہوں نے ان کے جسم کی ساخت کو دیکھا ہے “۔ 6 یعنی یہ جو فرشتوں کے عورت ذات ہونے کا جھوٹا دعویٰ پیش کر رہے ہیں اسے ان کے نامہ اعمال میں لکھ لیا جائے گا اور قیامت کے دن انہیں اپنے اس جھوٹے دعویٰ پر جواب دہی کرنا پڑے گی۔ (قرطبی)
Ayah 43:20

وَ قَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْ١ؕ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۗ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَؕ Open ayah 43:20 in the Quran reader

اور یہ کافر کہتے ہیں اگر خدا چاہتا تو ہم فرشتوں کا پوجا نہ کرتے7 ان کو اس بات کا کوئی علم نہیں ہے8 وہ اور کچھ نہیں اٹکلیں دوڑاتے ہیں9

ف 7 یہ اپنی گمراہی اور مشرکانہ گستاخی پر کفار مکہ کا ایک اور استدلال تھا یعنی وہ اپنے آپ کو مجرم سمجھنے کے بجائے سارا الزام تقدیر الٰہی پر دھرتے تھے کہ خدا ہی کی یہ مشیت تھی اور اسی نے ہماری قسمت میں یہ لکھ دیا تھا کہ ہم فرشتوں کو دیویاں سمجھ کر ان کی پرستش کریں، تقدیر الٰہی سے اس قسم کا غلط استدلال باطل پر شتوں کا ہمیشہ شیوہ رہا ہے اور آج بھی ہے حالانکہ خدا کی مشیت اور چیز ہے اور اس کی پسند دوسری چیز ہے۔ اگر ایسا ہی ہوتاجی سے یہ مشرک کہتے تھے تو اللہ تعالیٰ کو پیغمبر ﷺ بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر شرک سے روکنے کی کیا ضرورت تھی۔ ( ابن کثیر) 8 یعنی وہ تقدیر کی حقیقت کو نہیں سمجھتے اور خدا کی مشیت کو غلط معنی پہناتے ہیں۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں ” یعنی یہ تو سچ ہے کہ بن چاہے خدا کے کوئی چیز نہیں پر اس کا بہتر ہونا نہیں نکلتا۔ اسی نے قوت بھی پیدا کیا اور زہر بھی پر زہرکون کھاتا ہے۔ ) (موضح) 9 یعنی جہالت کی بناء پر ایسی باتیں بناتے ہیں جن کا کوئی سر پر نہیں ہے۔
Ayah 43:21

اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ فَهُمْ بِهٖ مُسْتَمْسِكُوْنَ Open ayah 43:21 in the Quran reader

یا ہم نے ان کافروں کو قرآن سے پہلے کوئی کتاب دی تھی یہ اس کو تھامے ہوئے ہیں10

ف 10 یعنی بہتر ہونا اس طرح ثابت ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا اس کتاب سے اپنے پاس کوئی سند رکھتے ہیں کہ فرشتے ہماری بیٹیاں ہیں، اور ہم نے ان کی پرستش کی اجازت دی ہے۔
Ayah 43:22

بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:22 in the Quran reader

نہیں بلکہ یہ کہتے ہیں ہعم نے اپنے باپ دادوں کو ایک دین پر پایا اور ہم انہی کے قدم بہ قدم ٹھیک رستے پر چل رہے ہیں11

ف 11 مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس اپنی گمراہی کے لئے اگر کوئی سند ہے تو بس یہ کہ باپ دادا سے یونہی ہوتا چلا آیا ہے اور انہی نقش قدم پر چلتے ہوئے ہم فرشتوں کی پوجا کر رہے ہیں اسی کا نام اندھی تقلید ہے اور اسی کو بزرگ پرستی کہتے ہیں اور یہی ہر عاجز و درماندہ کی بےبنیاد دلیل ہے۔
Ayah 43:23

وَ كَذٰلِكَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ Open ayah 43:23 in the Quran reader

اور اے پیغمبر اسی طرح ہم نے تجھ سے پہلے جب کسی بستی میں کوئی ڈرانیوالا (پیغمبر) بھیجا تو وہاں کے مالدار لوگ یہی کہنے لگے ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم تو انہی کے قدم بہ قدم چلیں گے12

ف 12 باطل اور ناحق باتوں ( رسوم و بدعات) میں بڑوں اور بزرگوں کی اقتدار کو دلیل بنانا وہ گمراہی ہے جو قدیم زمانے سے چلی آتی ہے اور کفار کا شیوہ رہا ہے کہ وہ انبیا ( علیہ السلام) کے مقابلہ میں اس کو بطور دلیل پیش کرتے چلے آئے ہیں۔ قرآن نے متعدد آیات میں اس کی مذمت کی ہے۔ معلوم ہوا کہ جس بات میں اللہ و رسول ﷺ سے کوئی سند نہ ہو اس میں باپ دادا یا کسی بزرگ کی تقلید کرنا اور یہ کہنا کہ ہمارے بزرگ چونکہ ایسا کرتے ہی چلے آئے ہیں ہم بھی اسی راہ پر چلیں گے، سراسر باطل ہے۔ (فتح)
Ayah 43:24

قٰلَ اَوَ لَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰى مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْهِ اٰبَآءَكُمْ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:24 in the Quran reader

پیغمبر نے (ان کے جواب میں) کہا کیا اگر میں تم کو اس سے بڑھ کر ٹھیک رستہ بتائوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا13 انہوں نے کہا (کچھ بھی ہو) ہم تو جو تم دے کر بھیجے ہوئے ہو (یعنی اللہ کا پیغام سچا دین) اس کو نہیں مانتے14

ف 13 پھر بھی تم میری بات نہ مانو گے اور اپنی ڈگر پر چلتے رہو گے ؟ 14 یعنی اپنے بزرگوں کی تقلید میں پیغمبروں ﷺ کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔
Ayahs 43:25–26

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ۠ Open ayah 43:25 in the Quran reader

آخر ہم نے ان سے بدلہ لیا (سب کو تباہ کردیا) تو اے پیغمبر دیکھ تو سہی پیغمبروں کو جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖۤ اِنَّنِیْ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 43:26 in the Quran reader

اور اے پیغمبر وہ وقت یاد کر1 جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم والوں سے کہا میں تو جن کو تم پوجتے ہو ان سے بیزار (یا الگ ہوں

ف 1 شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” یہاں یہ قصہ اس پر کہا کہ تمہارے پیشوا نے باپ کی راہ غلط دیکھ کر چھوڑ دی تو تم بھی وہی کرو۔ “ (موضح)
Ayah 43:27

اِلَّا الَّذِیْ فَطَرَنِیْ فَاِنَّهٗ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 43:27 in the Quran reader

مگر اس خدا سے جس نے مجھ کو پیدا کیا وہ مجھ کو ٹھیک رستہ بتلائے گا2

ف 2 یعنی میرا تعلق صرف اسی سے ہے کیونکہ اسی نے مجھے پیدا کیا اور وہی میری دستگیری و رہنمائی کرسکتا ہے اور کرے گا۔
Ayah 43:28

وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِیَةً فِیْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:28 in the Quran reader

اور ابراہیم نے (یا اللہ نے اس توحید کے کلمہ کو ابراہیم کی اولاد میں باقی رکھا تھا کہ وہ اللہ کی طرف رجوع رہیں3

ف 3 یا رجوع کریں یعنی ان میں سے اگر کچھ لوگ گمراہ ہو کر شرک کرنے لگیں تو توحید پرستوں کی دعوت پر اللہ کی طرف پلٹ آئیں۔ اس میں مکہ والوں کو تنبیہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی دعوت قبول کرلو اور یہ کہ اگر تقلید کرنی ہے تو اپنے دادا ابراہیم ( علیہ السلام) کی تقلید کیوں نہیں کرتے جنہوں نے اپنے آبادی دین میں برأت کا اظہار کر کے خالص توحید کی طرف رجوع کیا اور ان کی اولاد میں بھی توحید کی طرف دعوت دینے والے پیدا ہوتے رہے ہیں۔
Ayah 43:29

بَلْ مَتَّعْتُ هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى جَآءَهُمُ الْحَقُّ وَ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:29 in the Quran reader

لیکن ہوا یہ کہ میں نے ان مکہ کے کافروں اور ان کے باپ دادا کو دنیا میں بسنے اور چین کرنے دیا4 یہاں تک کہ ان کے پاس سچا قرآن یا سچا دین اور کھول کر بیان کرنے والا پیغمبر آپہنچا

ف 4 اس میں پڑ کر وہ بد مست ہوگئے اور ابراہیم ( علیہ السلام) کے طریق کو بھول گئے۔
Ayahs 43:30–31

وَ لَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ وَّ اِنَّا بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:30 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس سچا قرآن پہنچا تو کہنے لگے یہ جادو ہے اور ہم اس کو نہیں مانتے

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ Open ayah 43:31 in the Quran reader

اور کہنے لگے اگر یہ قرآن سچ اللہ کا کلام ہے تو دونوں بستیوں مکہ اور طائف کے کسی بڑے امیر آدمی پر کیوں نہیں اترا5

ف 5 یعنی مکہ اور طائف کے کسی سردار پر۔ جس کی شخصیت اس کے شایان شان ہوتی۔ ایک ایسے شخص پر اس کا اترنا باور نہیں کیا جاسکتا جو ریاست و دولت کے اعتبار سے کسی امتیازی شان کا مالک نہیں ہے۔ گویا انہوں نے شرافت کا معیار مال و دولت کو ٹھہرایا۔ ( فتح)
Ayah 43:32

اَهُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَهُمْ مَّعِیْشَتَهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا١ؕ وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 43:32 in the Quran reader

اللہ جس پر چاہتا ہے اپنا کام کرتا ہے وہ کون) کیا تیرے مالک کی رحمت کا بانٹنا ان کا کام ہے (نبوت بھی اللہ کی ایک رحمت ہے) ہم نے دنیا کی زندگی میں ان کی روزی بانٹ دی ہے اور ان میں ایک کو دوسرے سے کئی درجہ بڑھا کر رکھا ہے6 اس سے یہ غرض ہے کہ ان میں ایک دوسرے سے تابعداری کرائے7 اور جو (مال متاع) یہ لوگ (دنیا میں) اکٹھا کرتے ہیں تیرے مالک کی مہربانی اس سے کہیں بہت رہے8

ف 6 یعنی مال و دولت، جسمانی اور عقلی صلاحیتوں کے اعتبار سے لوگوں کے مختلف درجوں میں ان چیزوں میں سے بعض کو کم اور بعض کو وافر حصہ ملا ہے۔ 7 یعنی خدمت لے اور اس طرح کوئی شخص کلی طور پر بےنیاز نہ ہو بلکہ کسی نہ کسی پہلو سے دوسرے کا محتاج رہے۔ یہ درجات کا تفاوت عین فطرت کے مطابق ہے اور دنیا میں رہتے ہوئے اس سے سفر ناممکن ہے۔ 8 اس لحاظ سے جسے یہ رحمت ملی وہ تمہارے ان مالداروں سے بہتر ہوا۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں ” اللہ نے روزی دینا کی تو ان کی تجویز پر نہیں بانٹی، پیغمبری کیونکر دے ان کی تجویز پر (موضح) ۔
Ayahs 43:33–35

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیْهَا یَظْهَرُوْنَۙ Open ayah 43:33 in the Quran reader

اور اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ لوگ سب ایک طریق پر کفر پر ہوجائیں گیتو ہم تو جو کوئی اللہ تعالیٰ کو نہیں مانتے ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کردیتے اور (چاندی کی سیڑھیاں بھی جن پر چڑھتے اترتے رہتے

وَ لِبُیُوْتِهِمْ اَبْوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیْهَا یَتَّكِئُوْنَۙ Open ayah 43:34 in the Quran reader

اور ان کے گھروں کے دروازے بھی چاندی کے کردیتے اور چاندی ہی کے) تخت (ان کو دیتے) جن پر تکیہ لگاتے

وَ زُخْرُفًا١ؕ وَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 43:35 in the Quran reader

اور چاندی نہیں بلکہ ہونے کے9 اور یہ سب سامان کچھ نہیں مگر دنیا کی (چند روزہ) زندگانی کا مزہ ہے اور اے پیغمبر آخرت کی بھلائی تو تیرے مالک کے پاس پرہیز گاروں ہی کے لئے ہے

ف 9 یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں اس دنیوی مال و دولت کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے بلکہ یہ اس کی نظر میں اس قدر حقیر چیز ہے کہ اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ دنیا میں تمام لوگ کفر کی راہ اختیار کرلیں گے تو ہر کافر کا گھر سونے چاندی کا بنادیا جاتا اور اسے ہر قسم کا عیش و آرام فراہم کردیا جاتا۔ نہایت احمق ہے وہ شخص جو اس دنیوی مال و دولت کو عزت و شرافت کا معیار سمجھتا ہے۔ حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اگر اللہ کے نزدیک دنیا کی قدر ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو وہ کافر کو ایک گھونٹ پانی نہ دیتا۔ ( شوکانی بحوالہ ترمذی، ابن ماجہ)
Ayah 43:36

وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِیْنٌ Open ayah 43:36 in the Quran reader

اور جو کوئی خدا کی یاد سے آنکھ چرائے1 غضبت کرے) ہم اس پر ایک شیطان تعینات کردیتے ہیں وہ ہر وقت اس کے ساتھ رہتا ہے2

ف 1 (ذکر الرحمن) سے مراد اللہ تعالیٰ کی یاد بھی ہے اور قرآن بھی جو نصیحت و حکمت سے لبریز ہے۔ 2 صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ ہر شخص کے لئے ایک جن ہے جو اس کے ساتھ لگا رہتا ہے۔ ( شوکانی)
Ayah 43:37

وَ اِنَّهُمْ لَیَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:37 in the Quran reader

اور یہ شیطان ان کافروں کو خدا کی) راہ سے روکتے ہیں اور کافر سمجھتے ہیں کہ وہ ٹھیک رستے پر ہیں3

ف 3 یعنی ان کی آنکھوں پر ایسا پردہ ڈال دیتے ہیں کہ وہ بری راہ کو اچھی راہ سمجھتے ہیں۔ یا کافر گمان کرتے ہیں کہ شیطان سیدھی راہ پر ہیں۔
Ayah 43:38

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیْتَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ Open ayah 43:38 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب یہ کافر قیامت کے دن ہمارے پاس آئے گا تو اپنے ساتھی شیطان کو دیکھ کر کہے گا کاش ! مجھ میں تجھ میں یا رب پیچھے کا فاصلہ ہوتا تو کیا برا ساتھی ہے4

ف 4 جس نے دوست بن کر مجھے خراب و برباد کیا اور ہمیشہ کے عذاب میں پھنسا دیا۔
Ayah 43:39

وَ لَنْ یَّنْفَعَكُمُ الْیَوْمَ اِذْ ظَّلَمْتُمْ اَنَّكُمْ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 43:39 in the Quran reader

(تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا یا فرشتے کہیں گے جب تم نے دنیا میں شرک کی تو آج تم کو اس سے کوئی فائدہ نہ ہوگا تم سب عذاب میں شریک ہو5

ف 5 عموماً دیکھا جاتا ہے کہ مصیبت عام ہو تو وہ کچھ ہلکی محسوس ہونے لگتی ہے۔ مقولہ مشہور ہے مرگ انبوہ جشنے دارد لیکن دوزخ کا عذاب اس قدر شدید ہوگا کہ تمام جن اور انسان اور شیطان کا اس میں شریک ہونا کسی کے لئے بھی باعث تشفی نہ ہوگا۔ ( قرطبی) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” یعنی کافر کہیں گے خوب ہوا کہ انہوں نے ہمیں عذاب میں ڈلوا دیا یہ بھی نہ بچے، لیکن اس کو کیا فائدہ اگر دوسرا بھی پکڑا گیا۔ ( موضح)
Ayah 43:40

اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ اَوْ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ مَنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 43:40 in the Quran reader

تو اے پیغمبر کیا تو بہرے کو سنا سکتا ہے یا اندھے کو اور جو شخص کھلی گمراہی میں ہے اس کو رستہ پر لاسکتا ہے6

ف 6 اس سے مقصود نبی ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ ان کافروں کے ایمان نہ لانے پر آپ ﷺ غمزدہ نہ ہوں کیونکہ ایسے لوگوں کو راہ راست پر لے آنا آپ ﷺ کے بس میں نہیں ہے۔ آپ ﷺ ان تک اللہ کا پیغام پہنچاتے رہیں اور ہدایت کا معاملہ خود اللہ پر چھوڑدیں۔ (ابن کثیر)