42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 42:1–5

كَذٰلِكَ یُوْحِیْۤ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۙ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 42:3 in the Quran reader

ایسے ہی جیسا مضمون اس سورت میں ہے اللہ زبرسدت حکمت والا تجھ پر اور تجھ سے پہلے پیغمبروں پر وحی بھیجتا ہے6

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 42:4 in the Quran reader

اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور وہی ہے سب سے اونچا بڑا قریب ہے

تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 42:5 in the Quran reader

کہ آسمان اس کی بیبت اور جلال کی وجہ سے اوپر سے پھٹ پڑیں اور7 اور فرشتے اس حالت میں ہیں کہ اپنے مالک کی تعریف کے ساتھ پاکی بیان کر رہے ہیں اور زمین والوں کے لئے جو ایماندار ہیں بخشش کی دعا کر رہے ہیں8 سن بیشک اللہ ہی بخشنے والا مہربان ہے

ف 7 یعنی اللہ تعالیٰ کی عظمت کے زور سے یا فرشتوں کے ذکر کی کثرت سے تاثیر ہو اور وہ پھٹ پڑیں۔ حضرت ( علیہ السلام) نے فرمایا : آسمانوں میں چار انگشت جگہ نہیں جہاں کوئی فرشتہ سر نہیں رکھ رہا سجدے میں “۔ ( موضح) 8 جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا :” ویستغفرون للذین امنوا “ کہ حاملین عرش اور جو فرشتے اس کے ارد گرد ہیں وہ مومنین کے لئے استغفار کرتے ہیں۔ ( مومن 7) بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ فرشتوں کے استغفار سے مراد یہ ہے کہ وہ ایسے اسباب پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں جن سے بندوں کی بخشش ہو اور ان سے عذاب ٹلے تاکہ کافر ایمان لائے اور فاسق توبہ کرے۔” استغفار “ کے یہ معنی لئے جائیں تو مومنوں کے ساتھ استغفار کی تخصیص کی کوئی وجہ نہیں رہتی بلکہ اس معنی میں استغفار زمین کے تمام رہنے والوں کیلئے عام ہوجاتا ہے۔ چاہیے وہ مومن ہو یا کافر اور یوں خود اس آیت میں بھی کوئی ایسا لفظ نہیں ہے جو اسے صرف اہل ایمان کے لئے مخصوص کرتا ہو بلکہ قرطبی نے انہی دوسرے معنی کو راحج قرار دیا ہے۔ ( شوکانی)
Ayah 42:6

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ اللّٰهُ حَفِیْظٌ عَلَیْهِمْ١ۖ٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 42:6 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو اپنا سرپرست بنا رکھا ہے9 وہ سب اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہیں10 (عنقریب ان کو بدلہ دیگا) اور اے (پیغمبر) تو ان کا ذمہ دار نہیں11

ف 9 ” اولیاء “ ( سرپرستوں) سے مراد وہ بت اور دیوتا ہیں جن کی مشرکین پوجا کرتے تھے۔ 10 ” حفیظ “ کے معنی حفاظت کرنے والا اور اعمال کا حساب رکھنے والا دونوں ہیں یہاں چونکہ ان کے ساتھ علیھم ( ان پر) کا لفظ استعمال ہوا اس لئے اس کے دوسرے ہی معنی مراد لئے جاسکتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ان کے تمام اعمال حساب کی فرض سے محفوظ ہیں وہ عنقریب انہیں بدلہ دے گا۔11 کہ وہ اگر راہ راست پر نہ آئیں تو آپ ﷺ پر گرفت ہو۔ آپ ﷺ کے ذمہ صرف ہمارا پیغام پہنچا دینا ہے۔ اس سے مقصود آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ ان کافروں کے ایمان نہ لانے پر کبیدہ خاطر نہ ہو۔
Ayah 42:7

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا وَ تُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّةِ وَ فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ Open ayah 42:7 in the Quran reader

اور ہم نے اسی طرح جیسے یہ وحی بھیجی تجھ پر اے پیغمبر عربی زبان کا قرآن بھیجا اس لئے کہ تو مکہ والوں کو اور جو ان کے گرد رہتے ہیں ڈرائے12 اور اس دن کی خبر سنئاے جس دن لوگ اکٹھا ہوں گے قیامت کے دن جس میں کوئی شک نہیں اس دن ایک گروہ بہشت میں ہوگا اور ایک گروہ دوزخ میں13

ف 12 ام القری کے لفظی معنی ہیں بستیوں کی ماں یا جڑ اور گرد سے مراد ساری دنیا ہے۔ مکہ کو ام القری اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ روئے زمین کے تمام شہروں ( قریٰ ) سے افضل و اشرف ہے۔ جیسے آنحضرت ﷺ نے مکہ کے بازار میں کھڑے ہو کر فرمایا : واللہ انک لخیر ارض اللہ واحب ارض اللہ الی کہ اللہ کی قسم ! تو اللہ کی سب سے بہتر اور میری سب سے محبوب زمین ہے۔ ( ابن کثیر) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں ” بڑا گائوں پر فرمایا مکہ کو کہ سارے عرب کا مجمع وہاں ہوتا ہے اور ساری دنیا میں گھر انند کا وہاں ہے آس پاس اسکے اول عرب پھر ساری دنیا۔ 13 یعنی قیامت کے دن ( یوم الجمع) نتائج اعمال کے اعتبار سے ایک گروہ جنتی ہوگا اور دوسرا دوزخی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں جنتی اور دوزخی لکھے جا چکے ہیں۔ ( ابن کثیر) ۔
Ayah 42:8

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:8 in the Quran reader

اور اگر اللہ تعالیٰ تو سب لوگوں کا ایک ہی دین کو دیتا لیکن وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے اور گنہگاروں (نافرمانوں) کا تو اس دن کوئی حمایتی نہ ہوگا اور نہ مددگار1

ف 1 یعنی اللہ تعالیٰ کو یہ قدرت تو تھی کہ دوسری مخلوقات کی طرح انسانوں کو بھی بےاختیار پیدا کرتا۔ اگر وہ ایسا کرتا تو تمام انسان ایک ہی دین ( دین حق) پر ہوتے اور ان میں اختلاف نہ ہوتا، مگر اس نے انسان کو اختیار و ارادہ میں آزادی دیکر پیدا کیا تاکہ امتحان ہو۔
Ayah 42:9

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۚ فَاللّٰهُ هُوَ الْوَلِیُّ وَ هُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰى١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:9 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا (دوسروں کو) سرپرست بنایا تو سرپرست یا کار ساز اللہ ہی ہے اور وہی مردوں کو جلائے گا اور و ہسب کچھ کرسکتا ہے2

ف 2 یعنی دوسروں کو اپنا سرپرست اور مددگار بنانے سے کیا فائدہ ؟ مددگار بنائے جانے کا حق صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔
Ayah 42:10

وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْهِ مِنْ شَیْءٍ فَحُكْمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّیْ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۖۗ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 42:10 in the Quran reader

اور جس بات میں تم اختلاف کرو تو اس کا (خیر) فیصلہ اللہ تعالیٰ کے حوالے ہے3 (لوگو) یہی تو اللہ ہے میرا مالک4 اسی پر میرا بھروسا ہے اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں5

ف 3 یعنی وہی قیامت کے روز فیصلہ فرمائے گا کہ تم میں سے کون حق پر تھا اور کون باطل پر ؟ یا مطلب یہ ہے کہ اگر اہل کتاب اور مشرکین دین کے معاملہ میں تم سے بحث و اختلاف کریں تو کہہ دو کہ اس کے حق و ناحق ہونے کا فیصلہ اللہ کے حکم پر ہے اور نہ کہ تمہاری رائے اور قیاس و اجتہاد پر۔ ای امور الشرائع تتلقی من بیان اللہ جیسا کہ فرمایا ( وانا تنازعتم فی شی فردوہ الی اللہ والرسول) یعنی اگر کسی معاملہ میں اختلاف کرو تو اس کا فیصلہ اللہ و رسول کی طرف پھیر دو ۔ ( نساء 59) آج بھی امت مسلمہ کے ما بین تمام اختلافات کا تصفیہ اس اصل پر ہوسکتا ہے۔ ( منہ) 4 یعنی جو ہر اختلاف کا فیصلہ کرنے والا اصل حاکم ہے۔ 5 یعنی ہر مصیبت اور مشکل کے موقع پر میں اسی کی طرف دیکھتا ہوں اور اسی سے مدد کی درخواست کرتا ہوں اسی کی پناہ ڈھونڈتا ہوں، اسی کی حفاظت پر بھروسہ کرتا ہوں اور اسی کی تعلیم و ہدایت میں اپنے لئے راہ نجات تلاش کرتا ہوں۔
Ayah 42:11

فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ مِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا١ۚ یَذْرَؤُكُمْ فِیْهِ١ؕ لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 42:11 in the Quran reader

آسمان اور زمین کا پیدا کرنے والا اسی نے تمہاری ہی جنس کے تمہارے لئے جوڑے بنائے (یعنی عورتیں جو آدمی ہیں اور چوپایوں میں بھی (انہی کے جنس سے) جوڑے بنائے وہ تم کو زمین میں (چاروں طرف) بکھیرتا ہے6 اس کی سی دنیا میں کوئی چیز نہیں7 اور وہ سنتا جانتا ہے8

ف 6 یعنی تمہاری نسل کو زمین کے ہر حصہ میں پھیلاتا ہے۔ 7 یعنی کوئی چیز نہ ذات میں اس جیسی ہے اور نہ صفات میں، کیونکہ ہر چیز مخلوق ہے اور وہ خالق اور ظاہر ہے کہ کسی مخلوق کو اپنے خالق سے مشابہت نہیں ہوسکتی۔ اس میں لفظ ” مثل “ پر کاف ( حرف تشبیہ) یا تو زائد ہے اور مطلب یہی ہے کہ اس کی مثال کوئی چیز نہیں ہے۔ یا اس میں ” مثل “ کا لفظ مبالغہ کے لئے استعمال کیا گیا ہے اور مقصد یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا کوئی مثل ہوتا بھی تو اس جیسی بھی کوئی چیز نہ ہوتی کجا کہ وہ خود اللہ تعالیٰ جیسی ہو۔ ( شوکانی) ۔ 8 اس سے معلوم ہوا کہ سننا اور دیکھنا اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے اور اس کی نفی یا تاویل نہیں کی جاسکتی۔ جیسا کہ سلف کا مسلک ہے مگر لیس کمثلہ شی سے معلوم ہوا کہ اس کا سننا اور دیکھنا مخلوق کی طرح کا نہیں ہے وہ تو بیک وقت ساری کائنات میں ہر چیز کو دیکھ رہا ہے اور ہر ایک کی آواز سن رہا ہے مگر کسی مخلوق کو یہ قدرت حاصل نہیں ہے۔
Ayah 42:12

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 42:12 in the Quran reader

آسمان اور زمین کے خزانے (یا انکی کنجیاں) اسی کے پاس ہیں وہ جس کو چاہتا ہے فراغت کے ساتھ روزی دیتا ہے اور (جس کو چاہتا ہے اس کی روزی تنگ کرتا ہے بیشک وہ سب کچھ جانتا ہے9

ف 9 یعنی وہی جانتا ہے کہ کس کے حق میں زیادہ روزی دینا بہتر ہے اور کس کے حق میں کم روزی دینا۔
Ayah 42:13

شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰۤى اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِ١ؕ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِیْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَیْهِ١ؕ اَللّٰهُ یَجْتَبِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 42:13 in the Quran reader

لوگو اس خدا نے تمہارے لئے وہ دین ٹھہرایا جس دین پر نوح پیغمبر کو چلنے کا حکم دیا اور جس دین کا حکم ہم نے تجھ کو اے محمد دیا اور جس دین کا ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ پیغمبروں کو حکم دیا10 سب سے یہی کہا تھا دین کو قائم رکھو11 اور اس میں پھوٹ نہ ڈالا12 اے پیغمبر جس (دین) کی تو مشرکوں کو بلاتا ہے وہ ان پر بھاری ہے ان کو بہت شاق گزرتا ہے اللہ جس بندے کو چاہتا ہے پیغمبری کے لئے اپنی طرف کھینچ لیتا ہے13 ٓیا جن لیتا ہے اور جو کوئی اللہ کی طرف رجوع ہوتا ہے اس کو اللہ رستہ دکھلاتا ہے14

ف 10 یعنی دین ” اسلام “ یا ” توحید “ جس کی طرف آنحضرت ﷺ دعوت دے رے ہیں، کوئی نیادین نہیں ہے بلکہ یہ وہی دین ہے جس کا حکم نوح ( علیہ السلام) ، ابراہیم ( علیہ السلام) ، موسیٰ ( علیہ السلام) ، عیسیٰ ( علیہ السلام) اور پچھلے تمام پیغمبروں ( علیہ السلام) کو دیا گیا تھا۔ یہ تمام پیغمبر ( علیہ السلام) اصول عقائد میں متفق تھے اور لوگوں کو انہی چیزوں پر ایمان لانے کی دعوت دیتے تھے جن پر ایمان لانے کی دعوت آج محمد ﷺ دے رہے ہیں۔ ( قرطبی وغیرہ) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ” اصل دین ہمیشہ سے ایک ہی ہے اس کے قائم کرنے کے طریق ہر وقت ( یعنی زمانہ) میں جدا ٹھہر دیئے ہیں اللہ نے اور انہی طرق کو شرائع کیا جاتا ہے۔ 11 یا دین کو قائم کرو لفظ اقیمو الدین کے یہ دونوں معنی ہوسکتے ہیں اور انبیاء (علیہم السلام) دین کو قائم کرنے اور قائم رکھنے دونوں پر مامور ہوتے ہیں۔ 12 دین میں پھوٹ ڈالنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ و رسول ﷺ کی بعض باتوں کو ماننے سے انکار کیا جائے یا ان کی من مانی تاویل کی جائے۔ 13 یا توحید اور اپنے دین میں داخلہ کیلئے چن لیتا ہے۔ 14 یعنی اسے اپنے قرب اور نیک عمل کی توفیق دیتا ہے۔ معلوم ہوا کہ اللہ کی توفیق و ہدایت پانے کیلئے اس کی طرف دل سے رجوع ہونا ضروری ہے۔
Ayah 42:14

وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 42:14 in the Quran reader

اور پیغمبروں کا ایک ہی دین تھا اب لوگ جو اختلاف کرنے لگے تو سمجھ آجانے کے بعد ہے15 آپس کی ضد اور نفسانیت) سے اور اے پیغمبر اگر تیرا مالک ایک بات نہ فرما چکا ہوتا (کہ ان کو ایک ٹھیرے ہوئے وعدے تک مہلت ہے یعنی قیامت تک) تو کب کا) ان کا جھگڑا چک جاتا (ابتک کب کے بلاک ہو چکتے) اور جو لوگ ان (اگلے کافروں) کے بعد اللہ کی کتاب کے وارث ہوئے1 وہ بھی قرآن کی طرف سے یا تیری طرف سے اشک دستک میں2 پڑے ہوئے ہیں

ف 15 یعنی یہ فرقہ بندی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے علم یعنی واضح ہدایت آجانے کے بعد کی یا اس کا علم ہوجانے کے باوجود کہ فرقہ بندی گمراہی ہے انہوں نے دین میں تفرقہ پیدا کیا۔ ( فتح) 1 یعنی آپ ﷺ کے زمانہ کے یہود و نصاریٰ ۔ 2 اور اسی لئے وہ آپ ﷺ پر ایمان نہیں لا رہے۔
Ayah 42:15

فَلِذٰلِكَ فَادْعُ١ۚ وَ اسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ١ۚ وَ قُلْ اٰمَنْتُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ١ۚ وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ؕ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ؕ لَا حُجَّةَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُؕ Open ayah 42:15 in the Quran reader

تو اے پیغمبر اسی وجہ سے یا اسی طرف تو لوگوں کو بلاتا ہے اور تو خود بھی جس طرح تجھ کو حکم ہوا اللہ کی عبادت پر تمہارا اور ان یہود و نصاری کی خواہشوں پر مت چل3 اور کہہ دے میں تو اللہ نے جتنی کتابیں اتاریں سب پر ایمان لایا اور مجھے یہ علم ہے کہ تمہارے آپ کے جھگڑوں میں انصاف کرو4 اللہ بھی تمہارا مالک ہے ہمارا کیا ہمارے لئے اور تمہارا کیا تمہارے لئے ہم میں اور تم میں کوئی جھگڑا نہیں5 ایک دن اللہ ہم کو تم کو دونوں کو اکٹھا کریگا یعنی قیامت کے دن اور اسی کی طرف آخر سب کو لوٹنا ہے6

ف 3 یعنی انہیں خوش کرنے کے لئے دین میں کسی قسم کی مداہنت نہ کیجئے۔ 4 یعنی تمہارے ہر نبی اور ہر کتاب کو مانوں، یا تمہارے مقدمات میں انصاف سے فیصلہ کروں یا تم سب کو ایک نظر سے دیکھوں۔ صحیح کو صحیح اور غلط اور غلط قرار دوں، خواہ کہنے والا کوئی ہو۔ 5 یعنی جھگڑا کرنے کی ضرورت نہیں۔ جو بات حق تھی وہ ہم نے واضح کردی اور تم سے سن لی۔ اب ماننا یا نہ ماننا تمہارا کام ہے۔ 6 وہاں پورا انصاف ہوجائے گا۔
Ayah 42:16

وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:16 in the Quran reader

اور جب خدا کو اس کے بندے بیان کرچکے اس کے بعد جو لوگ خدا کے دین میں جھگڑے نکالتے ہیں ان کی دلیل ان کے پروردگار کے نزدیک پھس پھسی وہی اور لغو ہے اور ان پر اللہ کا غصہ ہے اور ان کو سخت عذاب ہوگا7

ف 7 اور جب خدا کو اس کے بندے مان چکے یعنی جب کہ اللہ کے دین اور اس کی کتاب کی صداقت واضح ہوچکی ہے حتیٰ کہ بہت سے تجربہ کار اور سمجھ دار لوگ اسے قبول کرچکے ہیں تو اس کے باوجود جو لوگ ایمان لانے والوں سے الجھتے جھگڑتے اور اس کو اللہ کے دین سے وکتے رہتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے غضب اور سخت عذاب کے مستحق ہیں۔ ان کے سب جھگڑے باطل اور تمام بحثیں واہی و لغو ہیں۔ ان جھگڑنے والوں سے مراد یا تو وہ مشرکین ہیں جو اسلام کا روز افزوں غلبہ دیکھنے کے باوجود یہ خیال کرتے تھ کہ شاید جاہلیت کا دور پھر پلٹ آئے۔ اور یا ان سے یہود و نصاری ہیں جو مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ ہمارا نبی مہراے نبی سے پہلے ہے اور اپنے آپ کو انبیاء کی اولاد ہونے کی وجہ سے سارے جہاں سے افضل بتایا کرتے تھے۔ ( ابن کثیر وغیرہ)
Ayah 42:17

اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیْزَانَ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ Open ayah 42:17 in the Quran reader

اللہ تو وہ ہے جس نے سچائی کے ساتھ کتاب اتاری (یعنی قرآن یا ہر ایک الٰہی کتاب) اور انصاف کے ترازو8 اور (اے پیغمبر تو کیا جانے شاید قیامت قریب ہی آ لگی ہو9

ف 8 المیزان ترازو سے مراد اکثر فمسرین نے عدل و انصاف لیا ہے۔ یعنی کتابیں نازل کرنے کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے عدل و انصاف کا حکم دیا ہے۔ بعض نے اس سے مراد دین حق اور بعض نے جزاو سزا کا قانون لیا ہے مگر یہ سب اقوال با اعتبار مآل ایک ہی ہیں۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ ترازو فرمایا دین کو جس میں بات پوری ہے نہ کم نہ زیادہ (موضح) 9 اس لئے عدل و انصاف کا شیوہ مت چھوڑو۔ حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے سوال کیا کہ قیامت کب ہوگی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” افسوس ہے تجھ پر، تم بتائو کہ اس کے لئے تیاری کیا کی ہے ؟
Ayah 42:18

یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَا١ۚ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا١ۙ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 42:18 in the Quran reader

جن لوگوں کو قیامت کا یقین نہیں وہ اس کی جلدی مچاتے ہیں10 اور جو لوگ ایماندار ہیں وہ قیامت سے ڈرتے رہتے ہیں1 ۃ اور جانتے ہیں کہ اس کا آنا برحق ہے سن لے جو لوگ قیامت میں شک کرتے ہیں وہ پرے سرے کے گمراہ ہیں12

ف 10 اس لئے کہ وہ اس کے آنے کو محال سمجھتے ہیں اور بطور استہزاء کہتے ہیں کہ اگر وہ واقعی آنے والی ہے تو جلد کیوں نہیں آجاتی۔ روایات میں ہے کہ ایک مجلس میں آنحضرت ﷺ نے قیامت کا ذکر فرمایا، کچھ مشرکین بھی وہاں موجود تھے۔ وہ ازراہ تکذیب کہنے لگے ’ ’ قیامت کب آئیگی “ ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں ( شوکانی) 11 اس لئے کہ انہیں اس میں محاسبہ کا ڈر ہے۔ 12 وہ چونکہ ایمان لانے اور نیک اعمال اختیار کرنے کو بیکار سمجھتے ہیں۔ اس لئے نڈر ہو کر گناہ کرتے ہیں اور جس ٹیڑھی راہ پر چاہتے ہیں اندھا دھند چلتے رہتے ہیں۔
Ayah 42:19

اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ۠ Open ayah 42:19 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے13 جس کو جتنی چاہتا ہے اتنی روزی دیتا ہے (کسی کو بہت سی کم) اور وہ زور والا ہے زبردست1

ف 13 اس لئے ان میں سے بہت سوں کی تکذیب و استہزاء کے باوجود انہیں بھوکا نہیں مارتا بلکہ ان کی تمام ضرورتوں کو اپنے لط و کرم سے پورا کرتا ہے۔ 1 یعنی روزی کے سلسلہ میں کسی کا اس پر زور نہیں ہے کہ وہ دینا چاہیے تو اسے روک سکے اور نہ دینا چاہے تو اس سے لے سکے۔
Ayah 42:20

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ Open ayah 42:20 in the Quran reader

جو کوئی (نیک عمل کر کے) آخرت (وہاں کا ثواب) چ ہے ہم اس کی کھیی اور بڑھائیں گے2 اور جو کوئی دنیا کی کھیتی چاہے (یہاں کا فائدہ مال متاع ہم کو اس کو وہی دیں گے اور آخرت میں کچھ حصہ اس کا نہ رہے گا3

ف 2 یعنی دنیا میں نیک کاموں کی زیادہ توفیق دیتے ہیں اور آخرت میں دس سے سات سو گنا تک اس کا اجر بڑھائیں گے۔ 3 کیونکہ اس نے جو اعمال کئے ان سے ان کی نیت یہ تھی ہی نہیں کہ آخرت کا ثواب حاصل کیا جائے۔ ایک حدیث میں بھی ہے کہ جو شخص آخرت کا عمل کر کے دنیا چاہے گا اس کے لئے آخرت میں کچھ حصہ نہ ہوگا۔ دیکھئے اسرائیل آیت 18) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” دنیا کے واسطے جو محنت کرے موافق قسمت کے ملے، یہ اس محنت کا فائدہ، آخرت میں نہیں “۔
Ayah 42:21

اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:21 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے خدا کے شریک بنا رکھے ہیں جو ان کو دین کا وہ رستہ بتلاتے ہیں جس کا خدا نے حکم نہیں دیا4 اور اگر چکی ہوئی بات نہ ہوتی تو اب تک کب کا ان کا فیصلہ ہوچکا ہوتا5 اور گناہگاروں نافرمانوں کو بیشک تکلیف کا عذاب ایک دن ضرور ہونا ہے

ف 4” جیسے شرک اور گناہ کا کام “۔ 5 یعنی شرک جس کا یہ ارتکاب کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں اتنی بڑی جسارت ہے کہ اگر اللہ نے یہ طے نہ کردیا ہوتا کہ ان کا فیصلہ قیامت کے روز کیا جائے تو کبیھ کا دنیا ہی میں ان عذاب آچکا ہوتا اور یہ سب لوگ تباہ ہوچکے ہوتے۔
Ayah 42:22

تَرَى الظّٰلِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا كَسَبُوْا وَ هُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ١ۚ لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُ Open ayah 42:22 in the Quran reader

اے پیغمبر سدن تو ان گناہگاروں کو دیکھے گا اپنے کئے ہوئے برے کاموں پر ڈر رہے ہوں گے اور ان کا کاموں کا وبال تو ان پر پڑ کر رہے گا اور جو لوگ (دنیا میں) ایماندار تھے اور انہوں نے اچھے کام لئے تھے وہ بہشت کے باغوں میں (چین کرتے ہوں گے وہ چاہیں گے ان کے مالک کے پاس ان کو ملے گا یہی تو خدا کا بڑا فضل ہے6

ف 6 دنیا کے عیش و آرام کی اس کے سامنے کوئی حقیقت نہیں۔
Ayah 42:23

ذٰلِكَ الَّذِیْ یُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰى١ؕ وَ مَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِیْهَا حُسْنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 42:23 in the Quran reader

یہی تو وہ نعمت ہے جس کی خدا اپنے ان بندوں کو جو ایماندار ہیں اور اچھے کام کرتے ہیں خوشخبری سناتا ہے اے پیغمبر کہہ دے لوگو میں تم سے خدا کا پیام پہنچانے پر کوئی نیک نہیں مانگتا مگر ناطے کی محبت تو رکھو7 اور جو کوئی نیک کمائے تو ہم اس کی خوبی اور پڑھا دیں گے بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا (نیکیوں کی) قدر کرنے والا ہے

ف 7 یعنی اس تبلیغ رسالت پر میں تم سے کسی دنیوی مفاد کا طالب نہیں ہوں مگر اتنا تو کرو کہ قرابت کا پاس رکھو اور مجھے ناحق نہ ستائو۔ آیت کے یہ معنی صحیحین اور حدیث کی دوسری کتابوں میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقول ہیں اور یہی راحج ہیں۔ شاہ صاحب (رح) نے بھی اپنی توضیح اسی کو اختیار کیا ہے۔ بعض نے قربی سے اطاعت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا تقریب مراد لیا ہے اور یہ معنی سورة فرقان کی آیت 57 کے مطابق ہیں۔ بعض مفسرین نے ” المودۃ فی القربی “ کے یہ معنی کئے ہیں کہ ماسواء اس کے کہ ” میرے اہل بیت سے محبت کرو “ بلا شبہ اہل بیت کی محبت و تعظیم اپنی جگہ پر ہے اور ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ مگر آیت کے یہ معنی کسی اعتبار سے بھی صحیح نہیں ہیں خصوصاً جبکہ یہ آیت مکی ہے اور جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت علی ؓ اور فاطمہ ؓ کا نکاح تک نہیں ہوتا تھا کجا کہ ان کے ہاں اولاد ہوتی۔ دوسرا یہ کہ آنحضرت ﷺ کا اپنے ” اہل بیت “ سے محبت کا مطالبہ کفار قریش سے کرنا آنحضرت ﷺ کی شان رفیع کے بھی مناسب نہیں ہے۔ ( ابن کثیر وغیرہ)
Ayah 42:24

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ۚ فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ١ؕ وَ یَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 42:24 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھ لیا8 اللہ تعالیٰ تو اگر چاہے (تو ایسی قدر رکھتا ہے) تیرے دل پر مہر لکھا دے9 اور اللہ تو جھوٹ کو میٹ دیتا ہے اور پانی کلام (یعنی قرآن) سے حق بات کو جماتا ہے10 (یعنی اسلام کو) بیشک وہ تو دلوں پر کی بات جانتا ہے11

ف 8 یعنی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کردیا اور قرآن خود تصنیف کر کے خدا کی طرف منسوب کردیا۔ 9 یعنی آپ ﷺ کے قلب کو مائوف کر دے اور اب تک اتارا ہوا سارا قرآن سلب کرلے، مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ پر یہ الزام قطعی غلط ہے۔ اگر آپ ﷺ خدا پر ادنیٰ سا بہتان بھی باندھتے تو وہ آپ ﷺ کو ہرگز پنپنے نہ دیتا اور آپ ﷺ سے پوری طرح انتقام لیتا۔ ( نیز دیکھئے الحاقہ : 44، 47) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” یعنی اللہ اپنے اوپر کیوں جھوٹ بولنے دے۔ دل کو بند کر دے مضمون نہ آوے “۔ 10 یعنی اللہ تعالیٰ کا قاعدہ ہے کہ وہ باطل کو پائیداری نہیں بخشتا اور آخر کار اپنے کلام ہی کے ذریعہ ( یعنی قرآن اتار کر) حق ہی کو غالب کر کے چھوڑے گا، اس لئے آپ ﷺ ان کافروں کے جھوٹے الزامات کی ہرگز پروا نہ کریں اور اپنی دعوت کا کام جاری رکھیں۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” اور چاہے تو کفر کو مٹا دے بن پیغام بھیجے۔ مگر وہ اپنی باتوں سے دین ثابت کرتا ہے اس اسطے نبی پر کلام بھیجتا ہے “ اس صورت میں ( ویمح اللہ الباطل) کا عطف یختم پر ہوگا اور پہلی صور میں (قلبک) پر کلام تمام ہوگا اور ( ویمح الباطل) جملہ مستانفہ ( کذافی القرطبی) 11 یعنی وہ جانتا ہے کہ جو لوگ آپ ﷺ پر یہ الزام لگا رہے ہیں وہ کن فاسد ارادوں سے آپ ﷺ پر یہ الزام لگا رہے ہیں ان کی سزا یقینا انہیں مل کر رہے گی۔
Ayah 42:25

وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 42:25 in the Quran reader

اور وہی خدا تو ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کی برائیاں معاف کردیا ت ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتا ہے1

ف 1 یعنی بندوں کے تمام اعمال کا علم رکھنے کے باوجود وہ ان کی توبہ قبول کرتا اور ان کی برائیاں معاف فرماتا ہے بشرطیکہ وہ صدق دل سے اس کی طرف رجوع کریں۔ اس آیت میں توبہ کی ترغیب ہے اور ایک حدیث میں بھی ہے۔ جب بندہ اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کی بنسبت کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جس کا اونٹ کسی جنگل بیابان میں گم ہوگیا۔ اس اونٹ کی پیٹھ پر اسکا کھانے پینے کا سامان بھی تھا، جب وہ مایوس ہو کر مرنے کو ایک درخت کے نیچے لیٹ گیا تو یکایک کیا دیکھتا ہے کہ اس کی سواری اس کے سامنے کھڑی ہے وہ فرط مسرت سے اللہ تعالیٰ کو یوں خطاب کرتا ہے، اے اللہ تو میرا بندہ اور میں تیرا رب ہوں۔ ( ابن کثیر) ۔
Ayahs 42:26–27

وَ یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:26 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کئے ان کی دعا قبول کرتا ہے اور وہ (جو مانگتے ہیں اس سے) زیادہ ان کو اپنے فضل سے دیتا ہے اور کافروں کے لئے سخت عذاب ہونا ہے

وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 42:27 in the Quran reader

اور اگر اللہ تعالیٰ اپنے سب بندوں کو فراغت سے روزی دے تو ملک میں فساد مچا دیں2 لیکن کوہ انداز سے جتنی چاہتا ہے اتنی روزی اتارتا ہے3 بیشک وہ اپنے بندوں کی خبر رکھتا ہے ان کو دیکھ رہا ہے

ف 2 کیونکہ اس وقت کوئی کسی کا محتاج نہ ہوتا۔ اس لئے من مانی کا رروائی کرتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے کہ اس نے دنیا میں بندے کو دوسرے کا محتاج بنایا اور لوگ ایک دوسرے کے ساتھ باہم تعاون سے زندگی بسر کرتے ہیں۔ یا ” لبغوافی الارض “ کا مطلب یہ ہے کہ انسان مزید کی حرص کرتا اور بےصبری سے مال جمع کرتا ” لو کان لا بن ادم وادیان من ذھب لا تبغی ثالثا “ گو کسی کے پاس مال کی دو وادیاں بھری ہوں تو وہ تیسری کا خواہش مندہو۔ ( قرطبی) 3 اس لئے ہر شخص اپنی حد میں رہنے پر مجبور ہے۔ اب جو بعض بندے اپنی ضروریات سے زیادہ روزی پا کر زمین میں فساد برپا کرتے ہیں تو ان کا یہ فساد استثنائی قسم کا ہے عام فساد نہیں ہے۔
Ayah 42:28

وَ هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ١ؕ وَ هُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 42:28 in the Quran reader

اور وہی خدا ہے کہ بندے جب بارش سے ناامید جاتے ہیں اس وقت مینہ برساتا ہے اور اپنی رحمت زمین سے پھسلا دیتا ہے4 اور وہی کام بنانے والا تعریف کے لائق ہے

ف 4 یعنی مینہ برستا ہے اور زمین آباد ہوجاتی ہے۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ لوگ سمجھ لیں کہ مینہ برسانا بھی صرف اللہ کے اختیار میں ہے اور پھر مایوسی کے بعد بارش کی خوشی بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ گویا بندوں کو شکر کی دعوت ہے۔
Ayah 42:29

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَثَّ فِیْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ اِذَا یَشَآءُ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:29 in the Quran reader

اور اسی کی قدرت کی نشانیوں میں سے آسمان اور زمین کی پیدائش ہے اور ان دونوں میں جو جاندار پیدا کئے ہیں5 اور وہ جب چاہے گا یعنی قیامت کے دن ان کو اکٹھا کرسکتا ہے

ف 5 مراد تمام فرشتے، انسانوں، جن اور حیوانات ہیں جو زمین کے علاوہ آسمانوں کے بھی مختلف طبقات میں پھیلے ہوئے ہیں اور سب کی زبانیں شکلیں، رنگ اور جنسیں مختلف ہیں۔ یا دابہ سے مراد وہ جانور ہیں جو زمین پر رہتے ہیں مگر ” فیھما “ لفظ تثنیہ سے تعبیر فرمادیا ہے جیسا کہ آیت ” یخرج منھما لولو المرجان “ میں منھما فرمایا ہے حالانکہ موتی صرف کھاری سمندر سے نکلتے ہیں۔
Ayah 42:30

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ Open ayah 42:30 in the Quran reader

اور لوگو تم پر جو مصیبت آتی ہے تو تمہارے ہاتھوں نے جو کیا اس کی سزا میں6 اور بہت سے قصور معاف کردیا ت ہے7

ف 6 یعنی تمہارے اپنے برے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے۔ 7 یہ اس کی رحیمی اور کریمی ہے۔ اگر وہ ہر قصور پر گرفت کرتا تو زمین پر کوئی جاندار باقی نہ رہتا۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : یہ خطاب عاقل بالغ لوگوں کو ہے گنار گاہ ہوں یا نیک، مگر بنی ( اس میں) نہیں داخل اور لڑکے ان کے واسطے اور کچھ ہوگا اور سختی دنیا کی بھی آگئی اور قبر کی اور آخرت کی “۔ بھی ( موضح) حضرت ابو موسیٰ ( علیہ السلام) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” بندے کو کوئی چھوٹی یا بڑی مصیبت نہیں پہنچتی مگر وہ اس کے گناہ کی بدولت ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے جو درگزر فرماتا ہے وہ اس سے زیادہ ہوتا ہے “۔ اور پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (شوکانی بحوالہ ترمذی)
Ayah 42:31

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۖۚ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:31 in the Quran reader

اور لوگو تم زمین میں خدا کو تھکا نہیں سکتے8 اور اللہ تعالیٰ کے سوا تمہارا کوئی کام بنانے والا نہیں ہے نہ کوئی مددگار

ف 8 یعنی وہ گرفت کرنا چاہیے تو اس سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتے۔
Ayahs 42:32–33

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِؕ Open ayah 42:32 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے جہاز ہیں سمندر میں پہاڑوں کی طرح دکھلائی دیتے ہیں

اِنْ یَّشَاْ یُسْكِنِ الرِّیْحَ فَیَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلٰى ظَهْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍۙ Open ayah 42:33 in the Quran reader

اگر وہ چاہے تو ہوا کو تھما دے پھر یہ باری جہاز سمندر کی پیٹھ پر کھڑے رہ جائیں نہ ادھر چلیں نہ ادھر بیشک ان جہازوں میں ہر صبر اور شکر نیوالے بندے کے لئے اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں9

ف 9 یعنی جسے اگر مصیبت اور بدحالی پہنچی ہے تو صبر کرتا ہے اور اگر نعمت و خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو شکر کرتا ہے، کسی حال میں اللہ تعالیٰ سے غافل نہیں ہوتا اور اپنی بندگی کی حد سے نہیں نکلتا۔
Ayahs 42:34–35

اَوْ یُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا وَ یَعْفُ عَنْ كَثِیْرٍ٘ Open ayah 42:34 in the Quran reader

یا (اگر وہ چاہے) تو جہاز والوں کے اعمال کی سزا میں زور کی آندھی چلائے ان کو تباہ کر دے اور بہتوں کو معاف کر دے

وَّ یَعْلَمَ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 42:35 in the Quran reader

بیچارے اور اس لئے کہ اس وقت وہ لوگ جو ہماری قدرت کی نشانیوں میں جھگڑتے ہیں یہ جان لیں کہ اب بھاگنے کا ان کو کوئی رستہ نہیں1

ف 1 شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ” جو لوگ ہر چیز اپنی تدبیر سے سمجھتے ہیں اس وقت ( سمندر میں ڈوبتے وقت) عاجز رہ جائیں گے۔ (موضح)
Ayah 42:36

فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚ Open ayah 42:36 in the Quran reader

تو اے لوگو جو کچھ تم کو ملا ہے وہ دنیا کی چند روزہ زندگانی کا سامان2 ہے اور اللہ تعالیٰ کے پاس جو ثواب ان لوگوں کے لئے جو ایماندار ہیں اور اپنے مالک پر بھروسہ رکھتے ہیں

ف 2 یعنی یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے پاکر انسان اخروی زندگی سے بےپروا ہوجائے۔
Ayah 42:37

وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَۚ Open ayah 42:37 in the Quran reader

وہ کہیں اس سے بہتر اور اس سے زیادہ پائیدار رہے اور یہ تو اب ان لوگوں کے لئے ہے جو بڑے بڑے گناہوں سے اور بےحیائی کے کاموں سے جیسے زنا الوالت وغیرہ) بچے رہتے ہیں4 اور جب ان کو غصہ آجاتا ہے تو اس کو بی جا کر لوگوں کے خطا (معا کردیتے ہیں5

ف 3 یعنی وہ اعلیٰ درجہ کا بھی ہے اور ہمیشہ رہنے والا بھی جبکہ دنیا کا مال و متاع اس کے مقابلے میں معمولی نوعیت کا بھی ہے اور عارضی بھی۔ 4 بڑے گناہوں کی تشریح کے لئے ( دیکھئے سورة نساء آیت 31) 5 غصہ کو پی کر لوگوں کی خطا معاف کردینا انسان کے بہترین اوصاف میں سے ہے۔ ( دیکھئے آل عمران :130، 133) صحیحین میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے کبھی اپنی ذات کیلئے انتقام نہیں لیا البتہ جب اللہ کی قائم کردہ حرمتوں میں سے کسی حرمت کو توڑا جاتا تو آپ ﷺ انتقام لیتے تھے۔ ( ابن کثیر) اور در گزر کا وصف آنحضرت ﷺ کے بعد خلفائے راشدین ؓ میں بدرجہ اتم پایا جاتا تھا۔ ( قرطبی)
Ayah 42:38

وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١۪ وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ١۪ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ Open ayah 42:38 in the Quran reader

اور جو اپنے مالک کا حکم مانتے ہیں جو پیغمبر کے ذریعہ سے ان کو دیا جاتا ہے اور نماز کو درستی کے ساتھ (ٹھیک وقت پر جماعت سے) ادا کرتے ہیں اور ان کا کام آپس کی صلاح اور مشورے) سے چلتا ہے6 اور جو مال متاع ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں7

ف 6 یعنی وہ اپنے تمام اجتماعی، سیاسی مسائل آپس کے صلاح و مشورہ سے طے کرتے ہیں اور اس چیز کو اسلامی نظام اجتماعی کی ہم امتیازی خصوصیت کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ سورة آل عمران ( آیت 159) میں آنحضرت ﷺ احکام منصوصہ کے سوا ہر قسم کے مصالح ملکی کے بارے میں صحابہ ؓ سے مشورہ کرتے اور ان کے مشورے قبول فرمایا کرتے تھے اور بعد میں خلافت راشدہ کی بنیاد ہی شوری پر رکھی گئی اور حضرت ابوبکر ؓ کا انتخاب بھی اسی اصل کے تحت ہوا۔ موجود دور کی جمہوریت اور اسلامی شورائی نظام میں اہم بنیادی فرق یہ ہے کہ جدید جمہوریت میں نمائندگان جمہور قانون سازی کے غیر محدود اختیارات رکھتے ہیں، لیکن اسلام میں کتاب و سنت کے نصوص کی موجودگی میں خلیفہ کو مشاورت کی ضرورت نہیں ہے بلکہ جب کسی امر کے متعلق کتاب و سنت کا فیصلہ نہ ملتا ہو تو پھر پیش آمدہ اجتماعی امور میں ” مجلس مشاورت “ مجاز ہے کہ کوئی فیصلہ کرے۔ 7 یعنی فرض زکوٰۃ اور نفلی صدقات ادا کرتے ہیں۔
Ayah 42:39

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُوْنَ Open ayah 42:39 in the Quran reader

اور وہ لوگ جن پر کوئی ظلم کرتا ہے تو وہ ظالم سے بدلہ لیتے ہیں8

ف 8 یعنی وہ ظالم کے مقابلہ میں ڈٹ جانے والے اور ظالم سے اس کے کئے کا پورا بدلہ لینے والے ہیں۔ ہاں جس حد تک ذاتی غصے کا تعلق ہے اس میں عضو سے کام لینا افضل ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے۔
Ayah 42:40

وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا١ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 42:40 in the Quran reader

اور برائی کا بدلہ اتنی ہی برائی ہے9 اس پر بھی جو کوئی معاف کر دے اور مل جائے (صلح کرلے) تو اس کا ثواب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے10 بیشک اللہ تعالیٰ نے ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا11

ف 9 یعنی بدلہ لینے میں اس قاعدہ کو ملحوظ رکھنا چاہیے کہ جس قدر زبانی ہوئی ہے اس سے بڑھ کر بدلہ نہ لے۔ 10 یعنی اللہ تعالیٰ اسے اجر عطا فرمائے گا۔ حدیث میں ہے کہ قیامت کے روز منادی ہوگی کہ وہ لوگ کھڑے ہوجائیں جن کا ثواب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ پھر وہی لوگ کھڑے ہونگے جنہوں نے دنیا میں لوگوں کے قصور معاف کئے تھے۔ ( شوکانی) 11 ظالم وہ ہے جو برائی کی ابتداء کرے یا برائی کا بدلہ لینے میں اس سے زیادہ برائی کا ارتکاب کرے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : جو دو شخص اہم گالم گلوچ کریں تو اس کا سارا وبال پہل کرنے والے پر ہے جب تک کہ دوسرا بدلہ لینے میں حد سے تجاوز نہ کرے۔