41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 41:1–3

حٰمٓۚ Open ayah 41:1 in the Quran reader

یہ بہت رحم والے مہربان (خدا) کی اتاری ہوئی کتاب ہے

تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۚ Open ayah 41:2 in the Quran reader

جس کی آیتیں جدا جدا ہیں عربی قرآن سمجھ دار لوگوں کے لئے

كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَۙ Open ayah 41:3 in the Quran reader

جس کی آیتیں جدا جدا ہیں9 عربی قرآن سمجھ دار لوگوں کے لئے10

ف 9 یعنی ان میں مختلف مضامین عقائد، حرام و حلال، گزشتہ اقوام کے واقعات اور مثالیں وغیرہ کھول کھول کر واضح انداز میں بیان کئے گئے ہیں۔10 یعنی اصحاب علم و عقل ہیں اور اس کے معانی سمجھتے ہیں۔
Ayahs 41:4–5

بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۚ فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 41:4 in the Quran reader

جو ماننے والوں کو) خوشخبری سناتا ہے اور کافروں کو) ڈراتا ہے لیکن اکثر لوگوں نے منہ موڑ لیا ہے تو وہ (اس قرآن کو دل لگا کر) سنتے ہی نہیں

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ وَ فِیْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّ مِنْۢ بَیْنِنَا وَ بَیْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 41:5 in the Quran reader

اور اے پیغمبر تجھ سے یہ کافر) کہتے ہیں جس بات کی طرف تو ہم کو بلاتا ہے اس کے ماننے سے تو ہمارے دلوں میں غلاف چڑھتے ہیں اور ہمارے کانوں میں ٹھینٹھ ہے (بوجھ ہے) ہم میں اور تجھ میں ایک اوٹ ہے1 تو تو اپنا کام کئے جائو توحید پر قائم رہ ہم اپنا جو کرنے کا ہے کر رہے ہیں2

ف 1 یعنی تمہاری کوئی بات ہم پر اثر انداز نہیں ہوسکتی۔ اور جو دعوت تم لے کر اٹھے ہو اس نے ہمارے اور تمہارے درمیان جدائی ڈالی دی ہے۔2 یعنی بتوں کی عبادت اور باپ دادا کی رسوم کی یا دین حق کو مٹانے کی کوشش۔
Ayah 41:6

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِیْمُوْۤا اِلَیْهِ وَ اسْتَغْفِرُوْهُ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 41:6 in the Quran reader

اے پیغمبر ان کافروں سے کہہ دے میں اور کچھ نہیں تمہاری طرح آدمی ہوں مجھ پر خدا کی طرف سے یہ حلم آتا ہے تمہارا تم سب کا خدا ایک ہی خدا ہے3 سیدھے اسی کی طرفمنہ کئے رہو4 اسی کی پوجا کرو اور اسی سے پانے گناہوں کی معافی چاہو اور مشرکوں کی ایک دن5 خرابی ہونیوالی ہی

ف 3 یعنی میں تمہارے ہی جیسا ایک انسان ہوں اور وحی کے ذریعہ تمہیں توحید کی طرف دعوت دیتا ہوں اور وہ کوئی ایسی چیز نہیں جسے عقل انسانی سمجھنے سے قاصر ہو۔ میری دعوت میں کوئی ایسی چیز ہے۔ تفرقہ ڈالتی ہو بلکہ یہ تو قومی یک جہتی ہو ہم رنگی پیدا کرنے کا موثر ذریعہ ہے۔4” لہٰذا اسی کو پکارو اور اسی سے حاجتیں طلب کرو “۔5” زکوٰۃ “ کے لفظی معنی ” پاکیزگی “ کے ہیں اور صدقہ کو زکوٰۃ اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس سے آدمی کا مال پاک ہوجاتا ہے۔ یہ آیت چونکہ مکی ہے اور زکوٰۃ کی فرضیت مدینہ میں ہوئی۔ اس لئے یہاں زکوٰۃ سے مراد صدقہ و خیرات بھی لیا گیا ہے اور اقرار توحید کے ذریعہ نفس کی پاکیزگی بھی۔ ( ابن کثیر)
Ayahs 41:7–8

الَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:7 in the Quran reader

جو زکوۃ نہیں دیتے اور آخرت کو بھی وہ نہیں مانتے

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 41:8 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کئے ان کو ایسا نیک ملے گا جس کی انتہا نہیں (بےحساب)6

ف 6 یا ’ جس کا ان پر احسان نہ جتایا جائے گا “ لفظ ” غیر ممنون “ کے لغوی طور پر یہ دونوں معنی ہوسکتے ہیں بعض علمائے تفسیر کا خیال ہے کہ یہ آیت بعض علمائے تفسیر کا خیال ہے کہ یہ آیت بیماروں اور کمزوروں کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ یعنی قوت اور تندرستی کی حالت میں جتنی عبادت وہ کرنے تھے۔ بیماری کی حالت میں اگر نہ بھی کرسکیں تو انہیں اس عبادت کا ثواب ملتا رہے گا (کدنی الشوکانی)
Ayah 41:9

قُلْ اَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ تَجْعَلُوْنَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 41:9 in the Quran reader

(اے پیغبر ان لوگوں سے) کہہ دیجیے کہ تم اس (خدا) کو نہیں مانتے جس نے دو دن میں زمین بنائی7 اور تم (دوسروں کو) اس کے برابر والے سمجھتے ہو (حالانکہ) وہ تو سارے جہان کا مالک ہے

ف 7 دو دنوں سے مراد دو عہد زمانے ہیں یا اتنی مقدار جو دو دن کے برابر ہو۔ کیونکہ زمین کی پیدائش سے پہلے موجود دن رات کا وجود نہ تھا بلکہ ان کا وجود زمین اور سورج کی پیدائش کے بعد نمل میں آیاد۔ ( شوکانی)
Ayah 41:10

وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بٰرَكَ فِیْهَا وَ قَدَّرَ فِیْهَاۤ اَقْوَاتَهَا فِیْۤ اَرْبَعَةِ اَیَّامٍ١ؕ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 41:10 in the Quran reader

اور اس میں بھاری بھرکم پہاڑ اوپر کو بنائے اور اس میں برکت رکھی (درخت اگائے)8 اور روہاں کے رہنے والوں کے لئے خوراکوں کا بندوبست کیا9 یہ سب چار دن میں ہوا10 ٹھیک (پورا دن میں) پوچھنے والوں کے لئے11

ف 8 زمین کی برکت سے مراد درخت اور پودے بھی ہیں پانی بھی اور وہ بےحد و حساب معدنیات بھی جو کھول برس سے اس کے بطن سے نکلتی چلی آرہی ہیں اور تا قیامت نکلتی رہیں گی۔9” جن سے وہ زندہ رہیں “ خوراک کے مفہوم میں انسانی زندگی کی ضروریات اور کسب معاش کے جملہ وسائل شامل ہیں۔10 وہ دن زمین کی پیدائش کے اور دو دن اس میں پہاڑوں اور اسباب زیست کی پیدائش کے۔11 یعنی یہ وضاحت ان لوگوں کے لئے ہے جو پیدائش کے متعلق سوال کرتے ہیں یا ” سائلین “ کے معنی ہیں ” مانگنے والوں کے لئے “ یعنی ضرورت مندوں کے لئے زمین میں خوراک کا سامان مہیا کردیا ہے۔
Ayah 41:11

ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَ هِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَیْنَا طَآئِعِیْنَ Open ayah 41:11 in the Quran reader

پھر پروردگار آسمان کی طرف چڑھا وہ ایک دھواں سا تھا12 اور آسمان اور زمین سے فرمایا خوشی سے خاہ زبردستی سے میرا حکم مانو13 دونوں نے عرض کیا ہم خوشی سے تریا حکم بجا لانے کو حاض رہیں

ف 12 دھوئیں سے مراد قدیم مفسرین نے پانی کے بخارات لئے ہیں۔ (شوکانی) انہی کو موجودہ سائنس دان ” سیدیم “ یا ” سحابیہ “ سے تعبیر کرتے ہیں۔ یعنی بادلوں کے منتشر اجزاء۔ واللہ اعلم۔13 ائتیا ( آجائو) یعنی میرے حکم کی اطاعت کرو۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا کہ پانی کے چشمے بہا، اپنے نباتات کے خزانے نکال اور آسمان کو حکم دیا کہ سورج، چاند اور ستارے نکالو وغیرہ ( شوکانی)
Ayah 41:12

فَقَضٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ اَوْحٰى فِیْ كُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا١ؕ وَ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ١ۖۗ وَ حِفْظًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 41:12 in the Quran reader

پھر دو دن سات آسمان بنائے14 اور ہر ایک آسمان میں جو کام کرنا تھا کیا15 اور ہم نے نزدیک والے پہلے آسمان کو چراغوں (تاروں) سے سجایا اور اس کی حفاظت1 یہ اتنظام اس خدا کا ہے جو زبردست ہے علم والا ہے

ف 14 اس طرح آسمانوں اور زمین کی پیدائش چھ دن میں مکمل ہوئی۔ ( دیکھئے سورة اعراف : 54)15 یعنی اس کا نظام جس طرح بنانا تھا بنادیا۔ 1 یعنی شیطانوں کی پہنچ سے اس کی حفاظت کی کہ وہ ملا اعلیٰ کی بات نہ سن سکیں۔
Ayahs 41:13–14

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَؕ Open ayah 41:13 in the Quran reader

پھر اگر اللہ تعالیٰ کی نشانیاں بتانے پر بھی وہ یعنے مکہ کے کافر دھیان نہ کریں اور پتا کہنا نہ سنیں تو ان سے کہہ دے میں تم کو اس کڑا کے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا کہ کڑاکا عاد اور ثمود پر آیا

اِذْ جَآءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ قَالُوْا لَوْ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً فَاِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:14 in the Quran reader

جب ان کے آگے اور ان کے پیچھے سے ان کے پاس پیغمبر آئے (اور ان کو سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو مت پوجو2 انہوں نے جواب دیا اگر ہمارا مالک (کسی کو اپنی طرف سے بھینچنا چاہتا تو فرشتوں کو اتارتا3 ہم کو تو جو تم دے کر بھیجے گئے ہو اس کو نہیں مانتے4

ف 2 یعنی ہر طرف سے ان کے پاس پیغمبر ﷺ آئے۔ ممکن ہے بہت سے پیغمبر ﷺ آئے ہوں۔ اگرچہ قرآن میں حضرت ہود ( علیہ السلام) اور صالح ( علیہ السلام) کا ذکر کیا گیا ہے۔ ( موضح) یا ان کے ارد گرد کی آبادیوں میں بہت سے اللہ کے پیغمبر ﷺ ہو گزرے ہیں جو انہیں اللہ وحدہٗ لا شریک کی عبادت کا حکم دیتے تھے اور یہ ان پیغمبروں ﷺ کی نافرمانی کرنے والوں کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ( ابن کثیر وغیرہ)3 نہ کہ تمہیں جو ہماری ہی طرح کے انسان ہو۔4 یعنی اس دین کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں جس کے متعلق تمہارا دعویٰ ہے کہ اللہ نے تمہیں دے کر بھیجا ہے۔ یہ وہ اعتراض ہے جو قریش آنحضرت ﷺ پر کیا کرتے تھے۔ قرآن میں متعدد مقامات پر اس کا جواب دیا گیا ہے۔
Ayahs 41:15–16

فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ قَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً١ؕ اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَهُمْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:15 in the Quran reader

تو حادنے تو یہ کیا کہ ناحق ملک میں لگی شیخی کرنے اور کہنے لگے بل بوتے میں ہم سے بڑھ کر کون ہے کوئی ہمار ابال بیکا نہیں کرسکتا کیا ان کو یہ نہ سوجھجا کہ جس اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا وہ بل بوتے میں ان سے کہیں بڑھ کر ہے اور وہ ہماری آیتو کا انکار کرتے ہیں

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْۤ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِیْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَ هُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 41:16 in the Quran reader

آخر ہم نے ان پر کئی منحوس دنوں میں زور کی آندھی چلائی5 اس لئے کہ ہم دنیا کی زندگی میں ان کو ذلت کا عذاب چکھائیں اور بیشک آخرت کا عذاب تو اس سے بھی زیادہ ذلت کا ہے اور وہاں ان کو مدد بھی نہیں ملنے کی

ف 5 کئی دنوں سے مراد مسلسل سات راتیں اور آٹھ دن ہیں۔ ( دیکھئے سورة الحاقہ آیت 6، 7) دنوں کے منحوس ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ ان کے کے حق میں منحوس رہے نہ یہ کہ وہ بجائے خود منحوت تھے۔
Ayah 41:17

وَ اَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَیْنٰهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰى عَلَى الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَۚ Open ayah 41:17 in the Quran reader

اور ثمود کے لوگوں کو ہم نے پیغمبر بھیج کر دین کی سچی راہ بتلائی لیکن انہوں نے سدیھا رستہ چھوڑ کر گمراہی پسند کی6 آخر ان کے برے کاموں کی وجہ سے ذلت ک کے مہلک عذاب نے ان کو پکڑ لیا

ف 6 یعنی کافر رہنے کو ایمان لانے پر ترجیح دی۔
Ayahs 41:18–19

وَ نَجَّیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 41:18 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان دار پرہیز گار تھے ان کو ہم نے بچا دیا

وَ یَوْمَ یُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 41:19 in the Quran reader

اور جس دن7 اللہ تعالیٰ کے دشمن (کافر اور مشرک) دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گے

ف 7 یعنی اے کفار قریش ! ذرا اس دن کا تصور کرو جب۔۔۔۔۔۔
Ayah 41:20

حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَیْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:20 in the Quran reader

پھر پچھلے لوگوں کے انتظار میں وہ جو آگے ہیں روکے جائیں گے1 یہاں تک کہ جب سب دوزخ پر آپہنچیں گے اس وقت جیسے جیسے کا میہ دنیا میں کرتے رہے ہانکے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے چمڑے ان پر گواہی دینگے2

ف 1 یا ان کی مثلیں لگائی جائیں گی۔ یعنی ان کی ہر قسم کو الگ الگ جمع کیا جائے گا۔ لفظ ” یوزعون “ کے ” ا گلوں کا روکے جانا “ اور ” مثلیں بنایا جانا “ دونوں معنی صحیح ہیں۔ ( دیکھئے سورة نمل 17)2 یہ صورت حال ان منافقین اور کفار کو پیش آئے گی جو اپنے گناہوں کا اقبال کرنے سے انکار کریں گے، فرشتوں کی گواہی کو جھٹلائیں گے اور اپنے نامہ اعمال کی صحت کو تسلیم نہ کریں گے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ حکم دے گا کہ اچھاتم اپنی بکواس بند کرو، دیکھو خود تمہارے ہاتھ پائوں اور دوسرے اعضاء تمہارے خلاف کیا گواہی پیش کرتے ہیں۔ حدیث میں ہے کہ ایک روز آنحضرت ﷺ صحابہ ؓ کی مجلس میں تشریف فرما تھے کہ اچانک مسکرائے اور پھر فرمایا ” کہ کیا تمہیں ہے کہ میں کیوں مسکرایا “ ؟ ہم نے عرض کیا ” نہیں، اے اللہ کے رسول ﷺ “ فرمایا میں اس گفتگو سے فرمایا جو قیامت کے روز بندہ اپنے رب سے کرے گا، وہ کہے گا ” یا اللہ ! کیا تو نے ظلم سے مجھے پناہ نہیں دی “۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ ” ہاں “ بندہ کہے گا ” تو نے اپنے خلاف صرف اس گواہ کی گواہی تسلیم کروں گا جو خود میرا ہو “۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” تیرے خلاف خود تیری اور تیرے فرشتوں کی گواہی کافی ہے۔ “۔ پھر اس کے منہ پر مہر کردی جائے گی اور اس کے ہاتھ پائوں کو حکم دیا جائے گا کہ گواہی پیش کرو۔ وہ اس کے کرتوتوں کی ساری روداد پیش کردیں گے۔ تب بندہ ان سے کہے گا ” جائو “ مجھ سے دور ہوجائو میں تو جو کرتا تھا تمہارے ہی بچانے کو کرتا تھا۔ ( ابن کثیر) ۔
Ayah 41:21

وَ قَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَیْنَا١ؕ قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَیْءٍ وَّ هُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 41:21 in the Quran reader

اور یہ لوگ اپنے چمڑوں سے کہیں گے (اسی طرح کان اور آنکھ سے) تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ جس نے ہر چیز کو بولنے کی طاقت دی ہم کو بھی بلایا3 اسی نے تم کو پہلی بار دنیا میں پیدا کیا تھا اور اسی کے پاس تم لوٹ کر آئے ہو4

ف 3 اور ہم نے تمہارے کرتوتوں کو بیان کردیا، اس میں تعجب کی کونسی بات ہے ؟۔4 یہ جملہ چمڑوں کی گفتگو کا تتمہ بھی ہوسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا کلام بھی جو وہ اس موقع پر فرمائے گا۔
Ayah 41:22

وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَّشْهَدَ عَلَیْكُمْ سَمْعُكُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُكُمْ وَ لَا جُلُوْدُكُمْ وَ لٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَعْلَمُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:22 in the Quran reader

اور جو تم دنیا میں چھپ کر گناہ کرتے تھے تو اس ڈر سے نہیں کہ تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہارے چمڑے تمہارے خلاف گواہی دیں گے5 بلکہ تم یہ سمجھتے تھے کہ تمہارے بہت سے کام خدا کو معلوم نہیں ہیں6

ف 5 یعنی دوسروں سے چھپتے تھے لیکن چونکہ انہیں یہ اندیشہ نہ تھا کہ خود ہمارے کان، آنکھیں اور چمڑے ہمارے خلاف گواہی دیں گے اس لئے ان سے چھپنے کی ضرورت نہ سمجھتے تھے۔6” اس لئے خوب بےباکی سے گناہ کرتے رہتے تھے “۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ میں غلاف کعبہ کے پیچھے چھپا ہوا تھا کہ ایک قریشی اور دو ثقفی یا ایک ثقفی اور دو قریشی آئے اور آپس میں گفتگو کرنے لگے جسے میں سمجھ نہ سکا۔ پھر ایک کہنے لگا ” کیا تم سمجھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ ہماری یہ گفتگو سن رہا ہے ؟ دوسرا بولا ” اگر ہم بلند آواز سے گفتگو کریں تب تو وہ سنتا ہے، لیکن اگر ہماری آواز دھیمی ہو تو وہ نہیں سنتا۔ اس پر دوسروں نے کہا : ” اگر وہ یہ سنتا ہے تو سب کچھ سنتا ہے۔ میں نے ان کی اس گفتگو کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ( وما کنتم تسترون) سے ( من الخاسرین) تک یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ ( شوکانی) ۔ حضرت معاویہ ؓ بن حیدہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تم اس حال میں اپنے رب کے حضور پیش کئے جائو گے کہ تمہارے منہ پر ڈاٹ لگی ہوگ اور تمہارے خلاف سشب سے پہلے تمہاری رانیں اور تمہاری ہتھیلیاں گواہی دیں گی “۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ( شوکانی)
Ayah 41:23

وَ ذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 41:23 in the Quran reader

اور اسی گمان نے جو تم نے اپنے مالک کے ساتھ گمان کیا تم کو تباہ کیا اور تم اسی بدگمانی کی بدلوت آج اس گھاٹے میں پڑگئے7

ف 7 حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” تم میں سے کسی شخص کا انتقال نہیں ہونا چاہیے مگر اس حال میں کہ اللہ سے اس کا گمان اچھا ہو، اس لئے کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جن کو اللہ سے ان کا برا گمان ہی لے ڈوبتا ہے، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ( شوکانی) حسن بصری نے یہ آیت تلاوت کی اور پھر فرمایا آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” انا عند من عبدی بی وانا معہ اذا دعانی “ ( میں اپنے بندے کے ساتھ ویسا ہی ہوں جیسا دوسرے ساتھ گمان کرے اور میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ مجھ سے دعا کرتا ہے۔ ) اس کے بعد امام حسن ؓ بصری کچھ دیرخاموش رہے اور پھر بولے ” ہر شخص کا عمل ویسا ہوتا ہے جیسا اس کا اپنے رب سے گمان ہوتا ہے۔ مومن کا اپنے رب سے گمان چونکہ اچھا ہوتا ہے۔ اس لئے اس کا عمل بھی اچھا ہوتا ہے اور کافروں اور منافقوں کا اپنے رب سے گمان چونکہ اچھا نہیں ہوتا اس لئے ان کا عمل بھی خراب ہوتا ہے۔ یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا ” وما کنتم۔۔۔۔ الی قولہ من الخاسرین) (ابن کثیر)
Ayah 41:24

فَاِنْ یَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّسْتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِیْنَ Open ayah 41:24 in the Quran reader

پھر اس وقت اگر یہ لوگ چپکے رہیں گے تو دوزخ ان کا ٹھکانا ہے پڑے چلتے رہیں اور اگر منانا چاہیں گے کہ کوئی ان کو راضی کرے کوئی نہیں منانے کا8

ف 8 مطلب یہ ہے کہ اگر وہ منت سماجت کریں گے تو بھی ان کی شنوائی نہ ہوگی۔ دوسرا مطلب امام ابن جریر (رح) نے یہ بیان کیا ہے کہ اگر وہ یہ چاہیں کہ انہیں دنیا کی طرف لوٹا دیا جائے تو انہیں لوٹا یا نہ جائے گا۔ ( ابن کثیر)
Ayah 41:25

وَ قَیَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۚ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 41:25 in the Quran reader

اور ہم نے ان قریش کافروں کے ساتھ ہمزادوں مجھولی شیطان لگا دیئے9 ہیں انہوں نے ان کے اگلے اور پچھلے (سب) کاموں کو ان کی نظر میں اچھا کر دکھایا اور جو قو میں جنات اور آدمیوں کی ان سے پہلے گزر چکیں ان کے ساتھ ان پر بھی عذاب کا قول پورا ہوا کیونکہ یہ تباہ ہونے والے ہی تھے

ف 9 یعنی انسانوں اور جنوں میں سے برے ساتھی 10 اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ اگر انسان برا ہو تو اسے ساتھی بھی برے میسر آتے ہیں جو اسے سبز باغ دکھاتے رہتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ انسان برائیوں میں مگن ہوجاتا ہے اور آخر کار خود کو اپنے ساتھیوں سمیت لے ڈوبتا ہے۔ ( دیکھئے زخرف : 36)
Ayah 41:26

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ Open ayah 41:26 in the Quran reader

اور یہ (قریش کے) کافر کہتے ہیں11 اس قرآن پر کان ہی نہ لگائو اور پڑھتے وقت خوب) بک بک کرو (فل مچائو) شاید اس تدبیر سے) تم ڈر رہو1

ف 11 یعنی جب قرآن پڑھا جاتا ہے تو آپس میں ایک دو سے سے کہتے ہیں۔ 1 یعنی قرآن پڑھنے والے کی آواز کو دبا لو اور وہ گھبرا کر قرآن پڑھنا بند کر دے۔
Ayah 41:27

فَلَنُذِیْقَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:27 in the Quran reader

تو ہم ان کافروں کو ضرور سخت سزا دیں گے اور برے سے برے کام کا ان کی ضرو ربدلہ دیں گے2

ف 2 اس سے برا کام اور کیا ہوگا کہ وہ نہ خود قرآن سنتے اور نہ دوسروں کو سننے دیتے بلکہ اس کے مقابلہ میں بد تمیزی کرتے۔
Ayahs 41:28–29

ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعْدَآءِ اللّٰهِ النَّارُ١ۚ لَهُمْ فِیْهَا دَارُ الْخُلْدِ١ؕ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:28 in the Quran reader

اللہ کے دشمنوں (کافروں) کا یہی بدلہ ہے دوزخ وہ جو ہماری ایٓتوں کا انکار کرتے تھے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِیَكُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 41:29 in the Quran reader

اس کی سزا میں ان کو ہمیشہ کا گھرو میں ملے گا (سدا دوزخ ہی میں رہیں گے) اور قیامت کے دن یہ کافر کہیں گے مالک ہمارے ایک نظر ہم کو ان شیطانوں اور آدمیوں کو دکھلا دے جنہوں نے ہم کو دنیا میں گمراہ کیا تھا ہم آج ان کو اپنے3 پائوں کے تلے ڈال دیں مسلیں یا کھند ملیں یا رگڑیں تاکہ وہ خوب ذلیل ہوں4

ف 3 یعنی جن کی ہم دنیا میں پیروی کر کے گمراہ ہوئے۔4 حضرت علی ؓ سے اس آیت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا ’ اس میں جن سے مراد ابلیس اور آدمی سے مراد آدم (علیہ السلام) کا بیٹا قابیل ہے۔ ( شوکانی)
Ayah 41:30

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 41:30 in the Quran reader

جن لوگوں نے یہ کہا کہ ہمارا اللہ ہے توحید کا اقرار کیا پھر اس پر جمے رہے5 مرتے وقت یا قبریں یا قبر سے اٹھتے وقت جن پر رحمت کے فرشتے اتریں گے اور کہتے تم ڈرو نہیں نہ رنج کرو6 اور جس بہشت کا تم سے وعدہ تھا اس کی خوشی منائو

ف 5 جمہور صحابہ ؓ وتابعین کے نزدیک ” سقامۃ “ سے مراد خلوص عمل اور عقیدہ توحید پر ثبات ہے۔6 یعنی موت یا قبر یا قیامت کی ہولناکیوں سے ڈرو نہیں اور نہ دنیا کے مال و متاع اور اولاد کے چھوٹ جانے پر افسوس کرو۔
Ayah 41:31

نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَؕ Open ayah 41:31 in the Quran reader

ہم دنیا کی زندگی میں بھی خدا کی طرف سے تمہارے نگہبان دیا رفیق اور مددگار تھے اور آخرت میں بھی7 اور بہشت میں بھی جو تمہارا جی چاہے وہ تمہارے لئے حاضر اور جو منگوائو

ف 7 دنیا میں نگہبانی یہ کہ تمہیں نیکی کا الہام کرتے رہے اور آخرت میں بھی تمہارے ساتھی اور مددگار رہیں گے اور تمہیں حفاظت سے جنت تک پہنچائیں گے فرشتے ہر مومن کو اس کی موت کے وقت یہ بشارت دیتے ہیں۔ ( ابن کثیر)
Ayahs 41:32–33

نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ۠ Open ayah 41:32 in the Quran reader

وہاں تمہارے لئے موجود بخشنے والے مہربان (خدا) کے مہمان ہو گے

وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 41:33 in the Quran reader

اور اس سے زیادہ اچھی بات کس کی ہوسکتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی تابعداری کی طرف لوگوں کو بلائے اور خود بھی اچھے کام کرے اور زبان سے کہے میں بھی خدا کا تابعدار ہوں8

ف 8” احسن قولا “ سے مراد قرآن اور داعی سے مراد رسول اللہ ﷺ ہیں اور پھر قیامت تک ہر وہ شخص اس کے تحت آجاتا ہے جو آنحضرت ﷺ کی دعوت لیکر اٹھے۔ یوں با اعتبار معنی اس میں مؤذنین ( آذان دینے والے) اس کے مصداق ہیں۔ جنہوں نے کفار کے نرغہ سے آنحضرت ﷺ کو بچایا اور کہا ( اتقتلون رجلا ان یقول ربی اللہ) ( قرطبی وغیرہ)
Ayah 41:34

وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُ١ؕ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ Open ayah 41:34 in the Quran reader

اور بھلائی اور برائی برابر نہیں ہوسکتی برائی کا بدلہ اچھے سے اچھا کر9 ایسا کرے گا تو دیکھ لے گا) جو تیرا دشمن تھا وہ ایک دم سے ایسا ہوجائے گا جیسے تیلا یکسوزدوست

ف 9 یعنی کوئی بد خلقی سے پیش آئے تو اس سے خوش اخلاقی سے پیش آئو، کوئی گالی دے تو اسے دعا دو ، کوئی غصہ اور خفگی کا اظہار کرے تو اس پر صبر کرو، کوئی ظلم کرے تو اس سے انصاف کرو، الغرض ہر برائی کا مقابلہ اچھائی سے کرو۔ ( نیز دیکھئے، القصص : 54، رعد : 22)
Ayah 41:35

وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا١ۚ وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 41:35 in the Quran reader

اور یہ بات برائی کے بدل بھلائی کرنا انہی کو حاصل ہوتی ہے جو صبر کرتے ہیں1 اور انہی کو اس کی توفیق ہوتی ہے جو نصیبے والے ہیں2

ف 1 یعنی جو اپنے اندر بڑا حوصلہ، عزم، قوت برداشت اور ضبط نفس رکھتے ہیں۔2 یعنی جو اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند مرتبہ اور اعلیٰ صفات کے مالک ہیں۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : حوصلہ کشادہ چاہیے کہ بری بات سہار کر سامنے سے بھلی بات کہیے، یہ اقبال مندوں کو ملتا ہے۔ (موضح)
Ayah 41:36

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 41:36 in the Quran reader

اور اے پیغمبر اگر شیطان کے گداگدانے سے تجھ کو گدگدی ہو3 تو اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگ (وہ تجھ کو بچا لیگا) بیشک وہ (سب) سنا جانتا ہے4

ف 3 یعنی شیطان دل میں وسوسہ ڈالے اور برائی پر اکسائے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” یعنی کبھی بےاختیار غصہ چڑھ آئے تو یہ شیطان کا دخل ہے۔ ( موضح)4 صحیحین میں حضرت سلمان ؓ بن صرو سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کی مجلس میں دو آدمی باہم گالم گلوچ کرنے لگے۔ ایک کا پارہ بہت چڑھا ہوا تھا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے جسے یہ شخص زبان سے ادا کرے تو اس کا غصہ فرد ہوجائے اور وہ ہے ” اعوذ باللہ من الشیطان الرحیم “ وہ شخص وبولا ” کیا آپ مجھے پاگل سمجھتے ہیں ؟ جواب میں آنحضرت ﷺ نے ( کچھ کہنے کی بجائے) یہ آیت تلاوت فرمائی ( شوکانی) اس کے متعلق کچھ تشریح سورة اعراف ( آیت 20) اور سورة مومنوں آیت (97، 98) میں بھی گزر چکی ہے۔
Ayah 41:37

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الَّیْلُ وَ النَّهَارُ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ١ؕ لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 41:37 in the Quran reader

اور واقعہ کی (بہت سی قدرت کی، نشانیوں میں سے رات اور دن اور سورج اور چاند ہیں5 سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو ( وہ تو تمہاری طرح ایک مخلوق میں) اور اگر تم خاص اللہ تعالیٰ کو پوجنا چاہتے ہو تو اس خدا کو سجدہ کرو جس نے ان کو پیدا کیا ہے6

ف 5 یعنی یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی بیشمار نشانیوں میں سے چند نشانیاں ہیں جنکی پیدائش اور نظام پر اگر تم غور کرو تو تمہیں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور عظمت کے دلائل مل سکتے ہیں۔ اس آیت سے مقصود ان مشرکین کا رد ہے جو ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کا مظہر سمجھتے ہوئے ان کی پرستش کرتے تھے جیسے صابی اور پارسی حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” سورج، چاند اور ہوائوں میں سے کسی کو گالی نہ دو ، اس لئے کہ ہوائیں وہ چیز ہیں جو بعض کے لئے رحمت اور بعض کے لئے عذاب بنا کر بھیج جاتی ہیں۔ ( ابن کثیر)6 یعنی اگر خدا کی عبادت کرنا چاہتے ہو تو براہ راست اسی کو سجدہ کرو جو ان سب کا خالق ہے۔ معلوم ہوا کہ مخلوق کو سجدہ کرنا حرام ہے اور جو لوگ اولیاء کی قبروں اور تعزیہ وغیرہ کو سجدہ کرتے ہیں سو یہ غلط ہے۔ (امام الہند)
Ayah 41:38

فَاِنِ اسْتَكْبَرُوْا فَالَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ یُسَبِّحُوْنَ لَهٗ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ هُمْ لَا یَسْئَمُوْنَ۩ Open ayah 41:38 in the Quran reader

پھر اگر یہ لوگ خدا کا پوجا کرنے میں غرور کریں تو خدا کے پاس جو فرشتے ہیں وہ تو رات دن اس کی پاکی بیان کرتے رہتے ہیں اور وہ کبھی) تھکتے ہی نہیں7

ف 7 یعنی اگر مشرکین اس قدر مغرور و سرکش ہوگئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنا اپنے شایان شان نہیں سمجھتے تو نہ سمجھیں، اللہ تعالیٰ ان کا محتاج نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت کا تو یہ عالم ہے کہ بیشمار مقرب تریں فرشتے جن کے ذریعہ پوری کائنات کا نظام چل رہا ہے دن رات اس کی عبادت اور تسبیح و تقدیس میں مشغول رہتے ہیں اور کبھی نہیں اکتاتے۔ یہ لوگ جھوٹے پندار میں مبتلا رہ کر کسی اور کا نہیں اپنا ہی نقصان کریں گے۔ اس مقام پر سجدہ ہونے میں تو کوئی اختلاف نہیں ہے۔ صرف محل سجدہ میں اختلاف ہے۔ بعض صحابہ ؓ ایاہ تعبدون اور بعض لا یسمون پر سجدہ کرتے تھے۔ ( قرطبی وغیرہ)
Ayah 41:39

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْۤ اَحْیَاهَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 41:39 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر اس کی قدرت کی) نشانیوں میں سے یہ ہے کہ تو زمین کو دیکھتا ہے دبی ہوئی (سوکھی)8 جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو لہلہانے لگتی ہے اور ابھر آتی ہے9 بیشک جس (خدا) نے اس زمین کو (جو مردہ پڑی تھی پانی برسا کر) جلایا وہی اور امردوں کو بھی جلائے گا بیشک وہ سب کچھ کرسکتا ہے

ف 8 یعنی اس میں کھیتی گھاس وغیرہ کچھ نہیں ہوتا۔ زمین کی اسی حالت کو دوسری آیات میں موت سے تعبیر کیا ہے۔9 یعنی اس میں کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں، گھاس اگتی ہے۔ الغرض زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔
Ayah 41:40

اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَا١ؕ اَفَمَنْ یُّلْقٰى فِی النَّارِ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ یَّاْتِیْۤ اٰمِنًا یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ١ۙ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 41:40 in the Quran reader

جو لوگ ہماری آیتوں کا (جان بوجھ کر) ٹیڑھا مطلب نکالتے ہیں10 وہ ہم پرچھپے ہوئے نہیں ہیں11 ان کا حال ہم کو معلوم ہے بھلا جو کوئی دوزخ میں ڈالا جائے وہ بہتر ہے یا جو قیامت کے دن بےکھٹکے (امن سے) آئے (لوگوتم دنیا میں جو چاہو سو کرلو وہ تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے

ف 10 لفظی ترجمہ یہ ہے ” جو لوگ ہماری آیات میں الحاد کرتے ہیں۔ الحاد کے معنی ہیں حق سے پھر کر ٹیڑھی راہ اختیار کرنا۔ اللہ تعالیٰ کی آیات میں الحادیہ ہے کہ ان کا سیدھا سادا اور واضح مطلب لینے کی بجائے غیر متعلق بحثیں کرے اور انہیں غلط مطلب پہنانے کی کوشش کرے۔ جو لوگ مسلمان ہو کر باطل نظریات انظار حدیث، اشراکیت، سرمایہ داری، بدعات وغیرہ کے حامی بن جاتے ہیں وہ یہی طرز اختیار کرتے ہیں، خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔11 اس میں سخت سرزنش ہے کہ یہ لوگ ہماری گرفت سے بچ کر کہیں نہیں جاسکتے۔