40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 40:1–3

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِۙ Open ayah 40:2 in the Quran reader

اس کتاب قرآن کا اوتارا اللہ کی طرف سے ہے جو زبردست ہے علم

غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ١ۙ ذِی الطَّوْلِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 40:3 in the Quran reader

والا گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے سخت سزا دینے والا بڑا فضل کرنے والا اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے10 اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے11

ف 10 یعنی اللہ تعالیٰ کی مذکورہ صفات کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے سوا کسی مردہ یا زندہ ہستی کے عبادت نہ کی جائے۔11 نہ کسی اور کی طرف۔
Ayah 40:4

مَا یُجَادِلُ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَلَا یَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِی الْبِلَادِ Open ayah 40:4 in the Quran reader

خدا کی آیتوں میں اور کوئی نہیں وہی لوگ جھگڑتے ہیں جو کافر ہیں12 تو اے پیغمبر ان کافروں کا (سوداگری کے لئے) ایک شہر سے دوسرے شہر پڑے پھرنا تجھ کو دھوکے میں نہ ڈالے13

ف 12 اس مقام پر اللہ کی آیتوں میں جھگڑا کرنے سے مراد کج بحثیاں کر کے انہیں جھٹلانا اور رد کرنا ہے۔ یہ کام کافروں کا ہے مسلمان ایسا نہیں کرتے۔ ابو دائود میں جو حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ” قرآن میں جھگڑا کرنا کفر ہے “۔ اس کے بھی یہی معنی ہیں ورنہ قرآن کے ناسخ و منسوخ، راجح و مرجوح اور محکم و متشابہ کو پہچاننے کے لئے بحث کرنا ممدوح اور اہل علم کا مشغلہ چلا آیا ہے جس سے مقصود قرآن فہمی اور اس کے احکام کا علم حاصل کرنا ہے۔13 یعنی ان کی خوشحالی اور چلن دیکھ کر کوئی شخص اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو کہ یہ اللہ کے پسندیدہ لوگ ہیں۔ دراصل یہ ان کے لئے مہلت ہے اور اللہ کے ہاں مہلت و امہال تو ہے۔ اہمال ( سزا دیئے بغیر چھوڑ دینا) نہیں ہے۔
Ayah 40:5

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١۪ وَ هَمَّتْ كُلُّ اُمَّةٍۭ بِرَسُوْلِهِمْ لِیَاْخُذُوْهُ وَ جٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 40:5 in the Quran reader

ان (مکہ کے) کافروں سے پہلے نوح کی قوم نے اور ان کے بعد اور قوموں نے بھی (اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا (جیسے عاد اور ثمود وغیرہ نے) اور ہر ایک قوم نے اپنے پیغمبر کو پکڑ لینا مار ڈالنا باقید کرنا) چاہا اور سچے دین کو میٹنے کیلئے جھوٹے جھگڑے نکالے1 آخر میں نے ان کو دھر پکڑا تو میری سزا تو نے دیکھی کیسی سخت ہوئیف 2

ف 1 یعنی دین حق کو مٹانے کے لئے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کئے اور غلط باتوں کو دلیل بنا کر اہل حق سے کج بحثیاں کرتے رہے۔2 کہ ” آج دنیا میں ان کا نام و نشان تک باقی نہیں رہا “۔
Ayah 40:6

وَ كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ النَّارِۘؔ Open ayah 40:6 in the Quran reader

اور اسی طرح ان مکہ کے کافروں پر بھی تیرے مالک کی بات پوری ہوئی ان پر بھی عذا آئے گا کیونکہ یہ دوزخی ہیں3

ف 3 دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” اس طرح ان کافروں یعنی نوح ( علیہ السلام) کی قوم اور اس کے بعد کی کافرامتوں پر آپ ﷺ کے رب کا ارشاد پورا ہو کر رہا کہ وہ دوزخی ہیں “۔ اب آگے ان کے مقابلے میں مومنین کا حال بیان فرمایا جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اس پر ایمان لاتے ہیں اور کج بخشی سے محتنب رہتے ہیں۔
Ayah 40:7

اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اتَّبَعُوْا سَبِیْلَكَ وَ قِهِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 40:7 in the Quran reader

جو فرشتے عرش کو اوٹھا رہے ہیں اور جو (فرشتے) تلاش کر کے گرد ہیں وہ سب اپنے مالک کی پاکی تعریف کے ساتھ بیان کرتے ہیں4 اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لئے بخششیں مانگتے ہیں5 کہتے ہیں مالک ہماری تیری رحمت اور تیرے علم نے ہر چیز کو گھیر لیا ہے تو جو لوگ توبہ کرتے ہیں اور تیری بنائی ہوئی راہ پر سچی دین پر چلتے ہیں ان کو بخش دے اور دوزخ کے عذاب سے بچا دے

ف 4 یعنی ” سبحان اللہ وبحمدہ “ کہتے رہتے ہیں۔5 اس آیت سے مقصود نبی ﷺ اور مسلمانوں کی حوصلہ افزائی ہے اور ہر زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی تائید اور اس کے مقرب فرشتوں کی غائبانہ دعائے مغفرت مومنوں کے شامل حال رہی ہے۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ ” جب کوئی مسلمان اپنے بھائی مسلمان کے لئے اسکی عدم موجودگی میں دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے۔ (امین ولک مثلہ) آمین اور ایسا ہی تیرے لئے ہو۔ ( ابن کثیر) ۔
Ayah 40:8

رَبَّنَا وَ اَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدْتَّهُمْ وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 40:8 in the Quran reader

مالک ہمارے اور ایسا کر) کہ ان کو اور ان کے باپ دادوں اور بی بیوں اور ان کی اولاد میں سے جو نیک ہوں ان کو ہمیشہ رہنے کے باغوں میے لے جا جن کے دینے کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے بیشک تو وہی زبردست ہے حکمت والاف 6

ف 6 شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” اگرچہ بہشت ہر کسی کو ملتی ہے۔ اپنے عمل سے جو رو، بیٹا اور ماں باپ کام نہیں آتا لیکن تیری حکمتیں ایسی بھی ہیں کہ ایک کے سبب سے کتنوں کو درجہ پر پہنچا دے۔ اپنے عمل سے زیادہ اور شاید بدلہ ہو اپنے ہی عمل کا وہ عمل یہ کہ آرزو رکھتے ہوں کہ ہم بھی اس کی چال چلیں۔ یہ نیت قبول پڑجاوے۔ ( موضح) سعید بن جبیر (رح) کہتے ہیں کہ اہل جنت جب جنت میں چلے جائیں گے تو اپنے عزیزوں کو یاد کرینگے۔ ان سے کہا جائے گا کہ ان کے اعمال تمہاری طرح کے نہ تھے ( اس لئے انہیں کم درجہ میں رکھا گیا ہے۔ ) وہ کہیں گے کہ ہم نے اپنے لئے اور ان کے لئے عمل کئے تھے تب انکے عزیزوں کو بھی انکے ساتھ کردیا جائے گا۔ ( ابن کثیر) مگر اس کی شرط یہ ہے کہ وہ عزیز ایمان اور عمل صالح کی صفات سے متصف ہوں۔ جیسا کہ آیت ” واتبعتھم ذریتھم بایمان الحقنا بھم ذریتھم وما التنا ھم من عملھم من شی) سے واضح ہوتا ہے ( دیکھئے سورة طور آیت 21)
Ayahs 40:9–10

وَ قِهِمُ السَّیِّاٰتِ١ؕ وَ مَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 40:9 in the Quran reader

اور قیامت کے دن ان کو تمام برئایوں تکلیفوں سے بچا دے اور جس کو تو نے اس دن برائیوں سے بچا دیا اس پر تو نے بڑا رحم کیا اور یہی تو بڑی کامیابی ہے بڑی مراد پانی ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰهِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِیْمَانِ فَتَكْفُرُوْنَ Open ayah 40:10 in the Quran reader

جو لوگ کافر میں ان سے قیامت کے دن پکار کر کہہ دیا جائیگا تم آج جتنا اپنی جان سے بیزار ہو اس سے زیادہ دنیا میں اللہ تم سے بیزار ہوتا تھا7 جب تم کو ایمان کی طرف بلاتے تھے تم نہیں مانتے تھے

ف 7 یعنی آج اپنے اعمال نامہ اور سزا کو دیکھ کر تمہیں اپنے آپ پر جتنا غصہ آرہا ہے اس سے زیادہ غصہ اللہ تعالیٰ کو تم پر دنیا میں اس وقت آتا تھا جب۔۔۔۔۔
Ayah 40:11

قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَ اَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ Open ayah 40:11 in the Quran reader

وہ کہیں گے مالک ہماریتو نے دو بار ہم کو مارا اور دو بار ہم کو جلایا8 اب تو ہم اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہیں9 تو یہاں سے نکلنے کا بھی کوئی رستہ ہے10

ف 8 دو بار مارنے اور دو بار جلانے سے مراد یہ ہے کہ وہ پہلے بےجان نطفے تھے پھر اللہ نے انہیں زندگی بخشی، پھر موت دی اور پھر دوبارہ ز ندہ کیا۔ ( راجع سورة بقرہ آیت 28)9 یعنی ہم اقرار کرتے ہیں کہ اس دوسری زندگی سے انکار کر کے ہم نے سخت غلطی کی اور اسی وجہ سے اپنی پہلی زندگی میں گناہ کرتے رہے۔10 یعنی کیا اس چیز کا امکان ہے کہ اب جب کہ ہم نے اپنے گناہوں کا اقرار کرلیا ہے ہمارا عذر قبول کرلیا جائے اور ہمیں دوبارہ عمل کرنے کے لئے پہلی زندگی کی طرف لوٹا دیا جائے ؟
Ayah 40:12

ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِیَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ كَفَرْتُمْ١ۚ وَ اِنْ یُّشْرَكْ بِهٖ تُؤْمِنُوْا١ؕ فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِیِّ الْكَبِیْرِ Open ayah 40:12 in the Quran reader

اس لئے11(دنیا میں تمہا ا یہ حالت ھا) جب اکیلیء خدا کو پکارا جاتا تھا تو تم اس کی توحید انکار کرتے تھے اور جب اس کے ساتھ شرک کی جاتی تو جھٹ سے مان لیتے تھے1 آج تو اسی خدا کی بادشاہت (حکومت) ہے جو سب سے بلند (سب سے) بڑا ہے2

ف 11 یعنی انہیں جواب ملے گا کہ تم آج جس حال میں مبتلا ہو، وہ اس لئے ہے کہ۔۔۔۔۔ 1 یعنی تمہیں انکار تھا تو اس چیز سے کہ اللہ ہی ایک خدا ہے نہ کہ اس چیز سے کہ اللہ بھی خدا ہے اور اس کے ساتھ بہت سے اور بھی ہیں۔2 یعنی آج بلا لو اپنے ان دیویوں اور پیروں فقیروں کو جن کو تم خدا سمجھ کر پکارا کرتے تھے۔ اگر وہ واقعی خدا تھے تو تمہاری مدد کو کیوں نہیں پہنچتے ؟
Ayah 40:13

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا١ؕ وَ مَا یَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 40:13 in the Quran reader

وہی خطا ہے جو تم کو اپنی قدرت کی نشانیاں دکھلاتا ہے اور آسمان سے تمہارے لئے روزی اتارتا ہے3 و اور نصیحت وہی مانتا ہے جو خدا کی طرف) رجوع ہوتا ہے4

ف 3 یعنی مینہ برساتا ہے جس سے تمہاری روزی پیدا ہوتی ہے۔4 اور جو خدا سے پھرا ہوا ہو اور کسی طرح اسے ماننے کو تیار نہ ہو وہ بڑی سے بڑی نشانی دیکھ کر بھی کوئی نصیحت حاصل نہیں کرسکتا کیونکہ اس کی عقل پر تعصب کا پردہ پڑا ہوتا ہے۔
Ayah 40:14

فَادْعُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 40:14 in the Quran reader

تو مسلمانو خالص خدا ہی کی بندگی کرکے اس کو پکارو اگرچہ کافر (اس خلوص پر) برا مانیں5

ف 5 یعنی توحید پر قائم رہو۔ یہ چیز اگر کافروں کو ناگوار ہو تو ہوا کرے، تم اس کی ہرگز پروا نہ کرو، اللہ تمہارا حامی و مددگار ہے۔
Ayah 40:15

رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ١ۚ یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِۙ Open ayah 40:15 in the Quran reader

اور وہی خدا ہے جو بلند درجے والا ہے6 ہے عرش کا مالک7 وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے اختیار سے وحی بھیجتا ہے8 اس لئے کہ وہ بندہ یا خدا لوگوں کو ملاقات کے دن سے ڈرائے9

ف 6 دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” وہ اپنے فرشتوں، پیغمبروں ﷺ اور مومن بندوں کے درجات بلند کرنے والا ہے “۔7 عین ساری کائنات کا بادشاہ و فرمانبروا۔8 اصل لفظ ” روح “ استعمال ہوا ہے عین مراد وحی ہے۔ کیونکہ وحی وہ چیز ہے جس سے لوگ کفر کی موت سے نکل کر ایمان کی زندگی کی طرف آتے ہیں۔9 یعنی قیامت کے دن سے جس میں آسمانوں اور زمین کے رہنے والے تمام اول و آخر، جن و انس اللہ تعالیٰ کے حضور جمع ہو کر ایک دوسرے سے ملیں گے۔
Ayah 40:16

یَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ١ۚ۬ لَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ شَیْءٌ١ؕ لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَ١ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 40:16 in the Quran reader

جس دن یہ لوگ قبروں سے نکل کر سامنے آئینگے یا ننگے کھلے ہونگے اللہ سے ان کی کوئی بات چھپی نہ رہیں گی آج کے دن کس کا راج ہے10 اکیلے خدا کا جو زبردست ہے ا

ف 10 یہ سوال ہے جو اللہ تعالیٰ قیامت کے روز علانیہ فرمائے گا جب کہ تمام اول و آخر جن و انس جمع ہوں گے۔ لیکن جب کوئی جواب دینے والا نہ ہوگا۔ تو خود ہی فرمائے گا۔۔۔۔۔ یا سب لوگ چاہے وہ مومن ہوں یا کافر، پکار اٹھیں گے۔۔۔۔
Ayah 40:17

اَلْیَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ؕ لَا ظُلْمَ الْیَوْمَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 40:17 in the Quran reader

آج ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائیگا آج ظلم نہ ہوگا11 بیشک اللہ تعالیٰ جلد حساب کرنیوالا ہے12

ف 11 یعنی کسی کا ثواب کم نہ کیا جائے گا اور نہ کسی کے عذاب میں، جس کا وہ واقعی مستحق ہے، اضافہ کیا جائے گا ۔12 یعنی اللہ تعالیٰ کو حساب لیتے دیر نہیں لگتی کیونکہ اسے ہر چیز کا علم ہے۔
Ayah 40:18

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِیْنَ١ؕ۬ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُؕ Open ayah 40:18 in the Quran reader

اور اے پیغمبر ان لوگوں کو اس دن (کی تکلف) سے ڈرا جو نزدیک آ لگا ہے یعنے قیامت کے دن سے) جب مارے ڈر کے) دل گھٹ کر گلوں کے پاس آجائینگے13 اس دن نافرمانوں کا کوئی دلسوز دوست نہ ہوگا نہ کوئی سفارشی جس کی سفارش مانی جائے14

ف 13 یہ محاوہ ہے جسے ہم اردو میں کلیجہ منہ کو آنا سے تعبیر کرتے ہیں۔14 یعنی اس دن جو سفارش کرنے کی اجازت نہ دی جائے گی وہ انبیاء فرشتوں اور نیک بندوں کو دی جائے گی اور وہ بھی صرف اہل ایمان کے لئے، رہے کافر اور مشرک ہو ان کا اس روز کوئی سفارش نہیں ہوگا۔
Ayah 40:19

یَعْلَمُ خَآئِنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ Open ayah 40:19 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ تو آنکھوں کی چوری تک جانتا ہے15 اور جو (بات) دل چھپاتے ہیں16

ف 15 آنکھ کے اشارے میں جو غلط جذبات مستور ہوتے ہیں۔ مثلاً کچھ لوگ بیٹھے ہوئے اتنے میں کسی اجنبی عورت کا وہاں سے گزرہو، کوئی آدمی جب لوگوں کا دھیان نیچی رکھے اور جب ان کا دھیان نہ ہو تو نظر بچا کر اس کی طرف دیکھ لے۔ ( ابن کثیر)16 یعنی دلوں کے راز اور وسوسوں تک سے واقف ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ وہ اپنے فضل و کرم سے ان پر مواخذہ نہیں کرتا جب تک ان پر عمل نہیں کیا جاتا۔
Ayah 40:20

وَ اللّٰهُ یَقْضِیْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَقْضُوْنَ بِشَیْءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۠ Open ayah 40:20 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ سچا فیصلہ کرتا ہے17 اور جن دیوتائوں کی یہ کافر اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ کچھ بھی فیصلہ نہیں کرسکتے ان میں جان ہی کہاں ہے18) بیشک اللہ ہی ہے جو (سب) سنات ہے دیکھتا ہے

ف 17 یعنی قیامت کے دن اس کے فیصلہ میں کوئی بےانصافی نہیں ہوگی۔18 لہٰذا ان کے متعلق یہ سمجھنا کہ قیامت کے روز فیصلہ کرنے میں ان کا بھی کوئی دخل ہوگا قطعی جہالت اور بےوقوفی ہے۔
Ayahs 40:21–22

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْا هُمْ اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 40:21 in the Quran reader

کیا ان (مکہ کے) کافروں نے ملک کی سیر کی سیر کرتے) تو (اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے ان سے پہلے جو (کافرض ہرگز رہے ہیں ان کا انجام کیسا ہوا وہ بل بوتے (زور قوت میں) اور جو نشان (عمارتیں قل ہے) زمین پر چھوٹے گئے ان میں بھی ان سے کہیں بڑھ کر تھے پھ ران کے گناہوں کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے ان کو دھر پکڑا اور اللہ کے غضب سے کوئی ان کو نہ بچا سکا

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَكَفَرُوْا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 40:22 in the Quran reader

اس کی وجہ یہ ہوئی کہ ان کے پیغمبر ان کو معجزے دکھاتے رہے جب بھی انہوں نے نہ مانا1 آخر اللہ تعالیٰ نے ان کو دھر پکڑا بیشک وہ زور دار سخت عذاب والا ہے

ف 1” بنیات “ کا لفظ عام ہے۔ اس سے مراد معجزے بھی ہوسکتے ہیں، روشن دلیلیں بھی اور واضح ہدایات وتعلیمات بھی
Ayah 40:23

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 40:23 in the Quran reader

اور ہم تو موسیٰ کو اپنی نشانیاں اور2 اور کھلی دلیل (تورات شریف) دے کر بھیج چکے ہیں

۔2 نشانیوں سے مراد حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے نو معجزے ہیں جن کا ذکر سورة اعراف اور دوسری کئی سورتوں میں گزر چکا ہے۔
Ayah 40:24

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ قَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:24 in the Quran reader

فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف ، انہوں نے موسیٰ کو جھوٹا جادوگر بتلایا3

ف 3 ہامان، فرعون کا وزیر تھا اور قارون سرمایہ دار منافق تھا جو اسرائیل ہونے کے باوجود فرعون کا ساتھی بن گیا تھا۔ اس لئے اس کا ذکر بھی حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی کھلی کھلی تکذیب کرنے والوں کے ساتھ کیا گیا۔
Ayah 40:25

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْۤا اَبْنَآءَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ وَ اسْتَحْیُوْا نِسَآءَهُمْ١ؕ وَ مَا كَیْدُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 40:25 in the Quran reader

جب موسیٰ ہمارے یہاں سے سچا دین یل کر ان کے پاس پہنچا4 تو وہ کہعین لگے جو لوگ بنی اسرائیل کے موسیٰ کے ساتھ ایمان لائے ہیں (ایسا کرو) ان کے بیٹوں کو تو (جو پیدا ہوں) مار ڈالو اور جو5 عورت ذات ہوں ان کو جینا چھوڑ دو اور یہ نہ سمجھے کہ کافروں کا کوئی دائوں ہو (چلنے والا نہیں اللہ کے مقابلہ میں مزدور پٹ پڑیگا غلط ہوگا

ف 4 حق ( سچے دین) سے مراد وہ معجزے ہیں جنہیں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) لے کر آئے تھے اور جو انکی نبوت کے ناقابل تردید ثبوت تھے۔5 بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرنے کا یہ دوسری مرتبہ حکم تھا تاکہ ان کی اکثریت نہ ہو اور ذلیل و خوار رہیں اور اس لئے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کو شوم سمجھ کر اس سے بددل ہوجائیں۔ اس آیت کے خاتمہ ” وما کیدا الکفرین الا فی ضلال “ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مہم میں وہ دوبارہ کامیاب نہیں ہو سکے۔ ( ابن کثیر وغیرہ)
Ayah 40:26

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَ لْیَدْعُ رَبَّهٗ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِیْنَكُمْ اَوْ اَنْ یُّظْهِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ Open ayah 40:26 in the Quran reader

اور جب6 فرعون کی ایک نہ چلی ہر بات7 میں ہارا تو اپنے دربارویں سے کہنے لگا مجھے چھوڑو موسیٰ کو قتل کروں8 اور (بھلا دیکھیں) موسیٰ اپنے مالک کو پکارے مجھ کو اندیشہ ہے کہ کہیں موسیٰ9 تمہارے دین اور اعتقاد کو بدل دے یا ملک میں کوئی فساد کھڑا کر دے

ف 6 گویا اب تک جو وہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو قتل کرنے سے رکا ہوا تھا وہ محض اس لئے کہ درباری اسے منع کر رہے تھے یہ بات اس نے محض رعب گانٹھنے کے لئے کہی یا اپنے آپ کو ہمت دلانے کے لئے، حالانکہ اندر سے خدائی طاقت تھی جو اسے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) پر ہاتھ ڈالنے سے روکے ہوئے تھی۔ ( فتح القدیر) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ” فرعون نے کہا مجھ کو چھوڑو، شاید اس کے ارکان مشورہ نہ دیتے ہونگے مارنے کا اس سے کہ معجزہ دیکھ کر ڈر گئے تھے کہیں اس کا رب بدلہ نہ لے۔ (موضح)7 جس نے اسے اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے دیکھیں وہ مییر ہاتھ سے اسے کیونکر بچاتا ہے ؟8 یعنی تمہیں اس دین اور اعتقاد کا منکر کر دے جس کے تحت تم مجھے اپنا رب سمجھ کر میری محکمومی و تابعداری پر مطمئن ہو۔9 یعنی اگر وہ تمام اہل مصر کو آبائی دین کا منکر نہ کرسکے تو کم از کم یہ خطرہ تو ضرور ہے کہ ان میں سے بعض لوگوں کو توحید کا قائل کرلے اور بعض میری حاکمیت کے قائل رہیں اور پھر آئے دن ملک میں خانہ جنگی کا بازار گرم رہے۔ یہ وہی انداز ہے جسے ہر اقتدار پسند طبقہ یا حکومت پر قابض بادشاہ یا ڈکٹیٹر اہل ملک کے سامنے اندرونی یا بیرونی خطرہ کا ہوا کھڑا کر کے اپنا الو سیدھا رکھنے کے لئے اختیار کرتا ہے۔
Ayahs 40:27–28

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ۠ Open ayah 40:27 in the Quran reader

اور مسیٰ نے جب فرعون کی یہ دھمکی سنی تو کہا میں تو ہر مغرور سے جس کو حسبا کے دن کا یقین نہیں

وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ١ۖۗ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَكْتُمُ اِیْمَانَهٗۤ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّكُ كَاذِبًا فَعَلَیْهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَ اِنْ یَّكُ صَادِقًا یُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:28 in the Quran reader

اپنے مالک اور متہارے10 سچے مالک کی پناہ لیتا ہوں اور فرعون کے رشتہ داروں میں ایک مرد و دل میں ایماندار تھا لیکن ظاہر میں فرعون سے اپنا ایمان چھپاتا یوں کہنے لگا بھلا یہ کونسا انصاف ہی تم ایک شخص کو بےگناہ صرف اتنی بات پر قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے یہ مالک خدا ہے حالانکہ وہ تمہایر مالک کی طرف11 سے تمہارے پاس نشانیاں بھی لے کر آیا اور اگر بالفرض وہ جھوٹا ہو تو اس کے جھوٹ کا وبال اسی پر پڑیگا تم کو کوئی نقصان نہیں اور اگر کہیں وہ سچا ہوا تو پھر تو وہ جس عذاب کا تم سے وعدہ کرتا ہے اسمیں سے کچھ نہ کچھ تو تم پر مزدور آن پڑیگا بیشک جو بےلحاظ1 (حد سے بڑھ جانے والا جھوٹا ہے اللہ اس کو کبھی راہ پر نہیں لاتا

ف 10 یعنی میں ہر اس شخص کے مقابلے میں جسے آخرت اور اس کے حساب کتاب کا ڈر نہیں ہے اور اس بناء پر وہ شتر بےمہار بن کر جو دل میں آتا ہے کر گزرتا ہے، اس خدائے بزرگ و برتر کی پناہ میں ہوں جو میرا نہیں تمہارا بھی رب ہے اور جس کے سامنے تمہاری اور تمہارے بنائے ہوئے اس رب فرعون کی کوئی حیثیت نہیں ہے وہ جب چاہے تمہیں آن کی آن میں فنا کرسکتا ہے، پھر میں تمہاری اس دھمکی سے مرعوب کیوں ہوں ؟ میرے قتل کی سکیم جو تم اپنے پیش نظر رکھتے ہو، اسے ضرور عملی جامہ پہنا کر دم لو۔11 یعنی تمہیں ایسے ناقابل انکار معجزے دکھا چکا ہے جن سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوگئی ہے کہ اس کا دعویٰ بےدلیل نہیں ہے اور وہ واقعی تمہارے رب۔ اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہے۔ یہی بات یعنی ( اتقتلون رجلال ان۔۔۔۔ ) حضرت ابوبکر ؓ صدیق نے مشرکین مکہ سے اس وقت کہی جب وہ نبی ﷺ کے درپے آزاد تھے۔ چناچہ صحیح بخاری (رح) میں حضرت عبد اللہ ؓ بن عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کعبہ کے صحن میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اور اس نے آپ ﷺ کا مونڈھا پکڑلیا اور آپ ﷺ کی گردن میں کپڑا ڈال کر پورے زور سے آپ ﷺ کا گلا گھونٹا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ آئے اور عقبہ کو دور دھکیلتے ہوئے فرمایا ( اتقتلون رجلا ان۔۔۔ ) ابو نعیم (رح) اور بزاز (رح) نے فضائل صحابہ ؓ کے سلسلہ میں یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے لوگوں سے پوچھا، بتائو سب سے بہادر کون ہے۔۔۔۔۔ آخر حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ سب سے بہادر حضرت ابو بکرصدیق ؓ ہیں جنہوں نے آنحضرت ﷺ کو کفار کے نرغہ سے ایسے وقت میں بچایا جب کسی کو آگے بڑھنے کی ہمت نہ تھی اور فرمایا کہ اللہ کی قسم ! حضرت ابوبکر ؓ کی ایک گھڑی آل فرعون کے مومن کی ساری زندگی سے بہتر تھی وہ اپنا ایمان چھپاتا تھا اور ابوبکر ؓ نے اپنے ایمان کا اعلان رکھا تھا۔ ( شوکانی) جو لوگ نعوذ باللہ حضرت صدیق ؓ پر نفاق کی تہمت لگاتے ہیں اور پھر تقیہ کو جزو ایمان سمجھتے ہیں ان کے لئے اس واقعہ میں درس عبرت ہے۔ ( منہ) 1 اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں اور ممکن ہے کہ آل فرعون کے مومن نے دونوں مراد لئے ہوں کیونکہ ایسی بات وہ بھی نہیں کرنا چاہتا تھا جس سے ان کا مومن ہونا صاف طور پر معلوم ہوجاتا۔ ایک یہ کہ اگر واقعی موسیٰ ( علیہ السلام) جھوٹا ہے تو اللہ تعالیٰ انہیں اتنے معجزے کیوں دیتا دوسرے یہ کہ اگر وہ سچا ہے اور تم اتنے جھوٹے الزام لگا رہے ہو تو تمہاری خیر نہیں ہے اور وہ تمہیں ہرگز کامیابی کی راہ نہ دکھائے گا۔ ( جامع البیان) ۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : یعنی اگر جھوٹا ہے تو جس پر جھوٹ بولتا ہے وہی سزا دیگا اور شاید سچا ہو تو اپنا فکر کرو۔ ( موضح)
Ayah 40:29

یٰقَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْیَوْمَ ظٰهِرِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ فَمَنْ یَّنْصُرُنَا مِنْۢ بَاْسِ اللّٰهِ اِنْ جَآءَنَا١ؕ قَالَ فِرْعَوْنُ مَاۤ اُرِیْكُمْ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَ مَاۤ اَهْدِیْكُمْ اِلَّا سَبِیْلَ الرَّشَادِ Open ayah 40:29 in the Quran reader

بھائیو آج تو تمہارا راج ہے اور ملک میں تم غالب ہو تمہارا ہی بول بالا ہے لیکن کل کو اگر اللہ کا عذاب ہم پر ان موجود2 ہوا تو ہماری کون مدد کریگا فرعون کہنے لگا دیکھو میں تو تم کو وہی بات سمجھات اہوں جو میں مناسب سمجھتا ہوں موسیٰ کو قتل کرو اور میں تم کو وہی راہ بتلاتا ہوں جس میں تمہاری بہتری ہے3

ف 2 یعنی کیوں اس نعمت اقتداء کی ناشکری کرتے ہو اور کیوں موسیٰ ( علیہ السلام) کو قتل کر کے اپنے آپ کو خدا کے عذاب کا مستحق بناتے ہو ؟۔3 کیونکہ اگر تم اسے قتل نہ کرو گے تو اپنا نقصان آپ کرو گے “۔
Ayahs 40:30–31

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ مِّثْلَ یَوْمِ الْاَحْزَابِۙ Open ayah 40:30 in the Quran reader

اور وہ شخص جو دل میں ایمان لا چکا تھا پھر بولا بھائیو ڈرتا ہوں کہیں تم کو اگلی امتوں کا سارا برا دن نصیب نہ ہو

مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ Open ayah 40:31 in the Quran reader

جیسے نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور ان کے بعد والوں کا حال ہوا4 اور اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتاف 5

ف 4 جنہوں نے اللہ کے رسولوں ( علیہ السلام) کو جھٹلایا اور اس کی پاداش میں تباہ کردیئے گئے۔ “5 یعنی اللہ کو اپنے بندوں سے دشمنی نہیں ہے کہ وہ قصور کریں یا نہ کریں انہیں ضرور تباہ کر دے۔
Ayahs 40:32–34

وَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ یَوْمَ التَّنَادِۙ Open ayah 40:32 in the Quran reader

اور بھائیو میں ڈرتا ہوں ہانک پکار قیامت کے دن تمہارا کیا حال ہوگا

یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَ١ۚ مَا لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 40:33 in the Quran reader

جس دن تم پیٹھ موڑ کر حشر کے میدان سے بھاگو گے اس دن اللہ کے عذاب سے کوئی تمہارا بچانے والا نہ ہوگا اور جس کو اللہ پھٹکار دے اس کو کوئی راہ پر نہیں لاسکتا

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُمْ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُۚۖ Open ayah 40:34 in the Quran reader

اور تمہارے پاس موسیٰ سے پہلے یوسف پیغمبر نشانیاں لے کر آچکا ہے6 پھر وہ جو تمہارے پاس لے کر آیا تھا دین کی باتیں اس میں تم شک ہی کرتے رہے7 جب وہ مرگیا تو تم کہنے لگے یوسف کا جھگڑا تو مٹ گیا اب جس کے بعد اللہ تعالیٰ کوئی پیغمبر ہرگز نہیں بھیجنے کا8 جو لوگ حد سے بڑھ گئے ہیں اور شک میں پڑے ہیں انکو اللہ اسی طرح بھٹکا دیتا ہے جیسے تم کو بھٹکا دیا

ف 6 یعنی ایسے معجزے جن سے ان کا نبی ہونا قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے۔ جیسے بادشاہ کے خواب کی تعبیر جس کی بدولت نہ صرف مصر بلکہ ارد گرد کے تمام علاقوں کو انتہائی خوفناک قحط سے نجات نصیب ہوئی تھی۔7 یعنی گو تمہارے بادشاہ نے انہیں اپنا ویزر بنا کر عملاً تمام اختیارات ان کے سپرد کردیئے تھے اور تم ان کے اخلاق اور ملکی انتظام میں مہارت کے بھی قائل ہوئے مگر تم نے جیتے جی ان کی نبوت کا اقرار نہ کیا بلکہ شک ہی میں پڑے رہے۔8 یعنی ان کی وفات کے بعد جب سلطنت کا بندوست بگڑا گیا تو تم ان کی عقیدت کا اظہار کرنے لگے کہ ان کا قدم مصر کے حق میں بڑا مبارک تھا لیکن عقیدت کے اس اظہار میں تم اس قدر بڑھے کہ کہنے لگے کہ بس وہ اللہ کے آخری رسول تھے۔ ان کے بعد کوئی شخص اللہ کی طرف سے رسول بن کر نہیں آسکتا۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” یا وہ انکار یا یہ اقرار یہی اسراف اور یا وہ کوئی ہے “۔ ( موضح)
Ayah 40:35

اِ۟لَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ؕ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ Open ayah 40:35 in the Quran reader

ان کے پاس کوئی سند تو نہیں آتی اور خدا کی آیتوں میں جھگڑے نکالتے ہیں9 اللہ تعالیٰ کے نزدیک اور ایمان والوں کے نزدیک ان کے یہ جھگڑے بہت برے ہیں جو کوئی غرور والا اینٹھو ہے اللہ تعالیٰ اس کے دل پر اسی طرح مہر لگا دیتا ہے1

ف 9 یعنی اللہ تعالیٰ گمراہی میں انہی لوگوں کو مبتلا کرتا ہے جن میں تین صفات پائی جاتی ہے۔ ایک ’ ’ مسرف “ یعنی جو اپنی بد اعمالی یا کسی شخص کی عقیدت میں حد سے بڑھنے والے ہوں۔ دوسرے ” مرتاب “ یعنی اللہ کی آیات اور اس کے رسولوں کی کہی ہوئی باتوں میں شک کرنے والے ہوں اور تیسرے ” لجدال بالباطل “ یعنی قرآن و حدیث پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کی بجائے ان میں کج بحثیاں کرتے ہوں اور تکبر سے کام لیتے ہوں۔ 1 یعنی جب کوئی شخص تکبر و تجبر ( غرور اور اینٹھوپن) میں حد سے گزر جاتا ہے اور کوئی صحیح بات ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتا تو اس کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے۔ پھر اسراف و ارتیاب کے کام اس سے صادر ہوتے رہتے ہیں اور کوئی صحیح بات اور نصیحت اس پر اثر نہیں کرتی۔
Ayahs 40:36–37

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰهَامٰنُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَۙ Open ayah 40:36 in the Quran reader

اور فرعون نے اپنے وزیر ہامان سے کہا ہامان تو میرے لئے ایک اونچا محل بنا شاید میں ان رستوں تک جا پہنچو

اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ صُدَّ عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا كَیْدُ فِرْعَوْنَ اِلَّا فِیْ تَبَابٍ۠ Open ayah 40:37 in the Quran reader

جو آسمان کے رستے ہیں پھر موسیٰ کے خدا کو جھانک کر دیکھوں اور میں تو اس کو جھوٹا سمجھتا ہوں2 اور اسی طرح فرعون کو اس کے برے کام بھلے کر دکھائے گئے تھے3 اور سیدھی راہ (توحید) سے وہ روک دیا گیا تھا اور فرعون کا دائوں خراب ہونے ہی والا تھا4

ف 2 یعنی موسیٰ جو دعویٰ کرتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں یا یہ کہ میرا خدا آسمانوں کے اوپر عرش پر ہے تو میرے گمان میں وہ جھوٹا ہے۔ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں سے اوپر عرش پر ہے اس پر سب انبیاء ( علیہ السلام) و رسل ( علیہ السلام) اور صحابہ ؓ وتابعین (رح) اور ائمہ دین (رح) کا اتفاق ہے۔ ” غنیہ “ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کا آسمان پر ہونا ہر آسمانی کتاب میں مذکورہ ہے جو کسی پیغمبر ﷺ پر نازل کی گئی۔ نیز دیکھئے قصص 38 ( وجیز و حاشیہ جامع وغیرہ)3 برے کاموں سے مراد کفرو شرک کے کام ہیں۔ بھلے کر دکھانے کا مطلب یہ ہے کہ شیطان نے اس کی عقل مار دی، یہاں تک کہ وہ ان کاموں کو اچھا سمجھتے ہوئے ان پر چلتا رہا۔4 یعنی اس نے جتنی چالیں چلیں سب اس کی تباہی کا سبب بنتی چلی گئیں۔ یہی حال ہر جھوٹے اور مکار آدمی کا ہوتا ہے۔
Ayahs 40:38–40

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوْنِ اَهْدِكُمْ سَبِیْلَ الرَّشَادِۚ Open ayah 40:38 in the Quran reader

اور وہ شخص جو (دل میں) ایماندار تھا کہنے لگا بھائیو میرے کہنے پر چلو میں تم کو ٹھیک رستہ بتلائوں گا

یٰقَوْمِ اِنَّمَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا مَتَاعٌ١٘ وَّ اِنَّ الْاٰخِرَةَ هِیَ دَارُ الْقَرَارِ Open ayah 40:39 in the Quran reader

بھائیو یہ دنیا کی زندگی چند روز کا مزہ ہے اور ہمیش ہر ہنے کا گھر تو آخرت ہی ہے

مَنْ عَمِلَ سَیِّئَةً فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ یُرْزَقُوْنَ فِیْهَا بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 40:40 in the Quran reader

جو کوئی برا کام کرے گا اس کو ویسا ہی بدلہ ملے گا5 اور جوئی کوئی مرد یا عورت اچھا کام کرے ایمان کے ساتھ تو ایسے ہی لوگ بہشت میں جائیں گے وہاں بےحساب روزی پائیں گے

ف 5 یعنی اسے اسی کے بقدر سزا ملے گی۔