39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 39:1–2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 39:1 in the Quran reader

اس کتاب (یعنے قرآن) کا اتار اللہ کی طرف سے ہے جو زبردست ہے حکمت والا

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَؕ Open ayah 39:2 in the Quran reader

ہم نے یہ کتاب سچائی کے ساتھ تجھ پر اتاری9 تو اے پیغمبر اللہ کو پوجتا رہ خالص اس کی بندگی کر10

ف 9 یعنی اس میں جو کچھ بیان ہوا ہے وہ حق ( سچ) ہے اس میں باطل کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔10 لفظی ترجمہ یہ ہے ” تو عبادت کرتا رہ اللہ کی، خالص کرتے ہوئے اس کے لئے دین ( یعنی اطاعت و بندگی) کو معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اسی صورت میں قابل قبول ہے جب وہ خالص توحید کے ساتھ ہو اور اس سے مقصود صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہو۔
Ayah 39:3

اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ فِیْ مَا هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ١ؕ۬ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ Open ayah 39:3 in the Quran reader

سن لے خالص اللہ ہی کی بندگی کرنا چاہیے11 اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسروں کو (اپنا حمایتی بنایا ہے وہ کہتے ہیں ہم ان کو خدا سمجھ کر نہیں پوجتے ہم تو ان کو بس اسی لئے پوجتے ہیں کہ ہم کو خدا کے نزدیک کردیں گے12 بیشک یہ لوگ جن باتوں میں اختلاف کر رہے ہیں اللہ ! قیامت کے دن پر ان کا فیصلہ کر دیگا1 بیشک جو شخص جھوٹا ناشکرا ہے اللہ اس کو راہ پر نہیں لگاتاف 2

ف 11 یہاں بھی ” دین “ کا لفظ اطاعت و بندگی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ معلوم ہوا کہ خالص دین وہی ہے جس میں شرک کا شائبہ تک نہ پایا جائے۔ پھر تعجب ہے ان مسلمانوں پر جو ان آیات کی موجودگی میں دوسروں کو پکارتے ہیں اور ان کی قبروں پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں۔12 یعنی خالق ومالک تو ہم خدا ہی کو مانتے ہیں مگر دوسروں کی عبادت اس لئے کرتے ہیں کہ ان کے ذریعہ ہماری خدا تک رسائی ہوجائے اور وہ خدا سے ہماری سفارش کرسکیں۔ قدیم زمانہ سے مشرکین اسی عقیدہ پر چلے آئے ہیں اور یہی شبہ پیش کرتے رہے ہیں۔ ( ابن کثیر) ہمارے زمانہ میں بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنے آپ کو موحد مسلمان کہتے ہیں مگر اولیاء اللہ کو پکارتے ہیں۔ ان کو قبروں پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں اور ان کے نام کی نذر نیاز مانتے ہیں یا دعا میں ان کا بطور وسیلہ ذکر کرتے ہیں ان سب باتوں سے غرض ان کی یہ ہوتی ہے کہ ان بزرگوں کے ذریعہ انہیں خدا تک رسائی حاصل ہو اور وہ خدا سے ان کی سفارش کرسکیں۔ 1 یعنی انہیں بتادے گا کہ کونسا گروہ حق پر تھا۔ آیا وہ خالص اللہ کی عبادت کرتے ہیں یا وہ جو اس کی عبادت میں دوسروں کو شریک بناتے ہیں۔ 2 جھوٹا نا شکرا وہی ہے جو اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس کے دل میں کفر و شرک ہو اور اس کا مقصد ہی اللہ تعالیٰ پر بہتان رکھناہو وہ کبھی ہدایت یاب نہیں ہوسکتا۔ ( ابن کثیر)
Ayahs 39:4–5

لَوْ اَرَادَ اللّٰهُ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 39:4 in the Quran reader

اگر خدا کسی کو اولاد بنانا چاہتا تو اپنی مخلوق میں ہے جس کو چاہتا چن لیتا3 وہ بیٹا بیٹی جو رو سب سے پاک ہے وہ تو اکیلا خدا ہے سب برد بائو رکھنے والا

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ۚ یُكَوِّرُ الَّیْلَ عَلَى النَّهَارِ وَ یُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اَلَا هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 39:5 in the Quran reader

اسی نے آسمان اور زمین حکمت کے ساتھ بنانے4 رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا5 ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو کام پر لگا دیا ایک ٹھیری ہوئی مدت قیامت تک سب چل رہے ہیں سن لو وہی زبردست ہے بڑا بخشنے والاف 6

ف 4 یعنی انہیں کھیل تماشہ کے طور پر بےمقصد نہیں بنایا۔5 یعنی رات کو دن سے اور دن کو رات سے ڈھانپتا ہے اور اس طرح ان کا ایک دوسرے کے پیچھے آنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔6 یعنی زبردست ایسا ہے کہ اگر تمہیں پکڑنا چاہیے تو کوئی چیز اسے روک نہیں سکتی لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ درگزر کرنے والا بھی ہے۔ اس لئے تمہیں مہلت دیئے جا رہا ہے لہٰذا اس کی دی ہوئی مہلت سے کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو۔
Ayah 39:6

خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ؕ یَخْلُقُكُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 39:6 in the Quran reader

اس نے تم سب کو ایک شخص کی نسل سے بنایا یعنے آدمی کی نسل سے پھر اسی میں سے اس کا جوڑا نکالا7 اور تمہارے لئے آٹھ طرح کے چوپائے جانور اتارے8 وہی تم کو تمہاری مائوں کے پیٹ میں ایک طرح کے بعد دوسری طرح سے بناتا ہے9 تین تین اندھیروں میں10 یہی (پیدا کرنیوالا) اللہ تمہارا مالک ہے اسی کی (دو نوجہاں میں بادشاہت ہے (وہی حاکم ہے) اس کے سوا کوئی سچا خدا نہیں اس پر بھی تم کہاں (یا کیسے) پھرے جا رہے ہو11

ف 7 یعنی حضرت حوا ( علیہ السلام) اس آیت میں لفظ ” ثم “ پھر ترتیب بیانی کیلئے نہ کہ ترتیب زمانی کیلئے بعنی مطلب یہ ہے کہ اس نے تمہیں ایک ایسے شخص سے بنایا جس کو اس نے ایک پیدا کیا وہ پھر اس سے اس کا جوڑ انکالا ( دیکھئے سورة نساء آیت)8 جن کا ذکر سورة ٔ انعام میں گزر چکا ہے یعنی اونٹ، گائے، بکری اور بھیڑ ان کے چار نر اور چار مادہ مل کر آٹھ طرح کے جانور ہوجاتے ہیں اور نر اور مادہ میں ہر ایک دوسرے کا زوج ہے۔ (ابن کثیر)9 پہلے نطفہ، پھر خون کا لوتھڑا پھر گوشت کا ٹکڑا پھر ہڈی اور وہ شکل جس میں بچہ پیدا ہوتا ہے۔10 ایک پیٹ کا اندھیرا دوسرا رحم کا اندھیرا اور تیسرا مشیمہ یعنی اس جھلی کا اندھیر جس میں بچہ لپٹا رہتا ہے۔11 یعنی اسے چھوڑ کر یا اس کے ساتھ دوسروں کو اپنا معبود بنا رہے ہو جبکہ نہ تمہیں پیدا کرنے میں ان کا کوئی دخل ہے اور نہ زمین و آسمان کی بادشاہی میں ان کا کوئی حصہ ہے۔
Ayah 39:7

اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنْكُمْ١۫ وَ لَا یَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ١ۚ وَ اِنْ تَشْكُرُوْا یَرْضَهُ لَكُمْ١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 39:7 in the Quran reader

اگر تم ناشکری کرو تو اللہ کو تمہاری کچھ پرواہ نہیں12 اور وہ اپنے بندوں کے لئے ناشکری پسند نہیں کرتا اور جو تم (اس کا شکرو کروض تو وہ اس کو تمہارے لئے پسند کرتا ہے13 اور آخرت میں کوئی بوجھ اٹھانیوالا14 دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائیگا پھر تم (سب) کو اپنے مالک کے پاس لوٹ جانا ہے (وہاں) جو تم دنیا میں کرتے رہے ( اس کا بدلہ دے کر تم کو بتلا دیگا) بیشک وہ تو دلوں (تک) کی بات کو جانتا ہے15

ف 12 یعنی وہ تمہارا محتاج نہیں ہے کہ تم اس کی عبادت کرو تو اس کی خدائی قائم رہے اور اگر کفر کرو تو اس کی خدائی ختم ہوجائے۔ حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے میرے بندو ! اگر تم سب کے سب اگلے اور پچھلے انسان اور جن اپنے میں سے فاسق ترین آدمی کے دل کے مانند ہوجائو تو اس سے میری بادشاہی میں کوئی کمی نہ ہوجائے گی۔ ( ابن کثیر)13 یعنی وہ اپنے بندوں کی نا شکری کو پسند نہیں کرتا اور نہ اس کا حکم دیتا ہے بلکہ اس کی پسند یہی ہے کہ وہ شکر گزار ہوں اور اسی کی بندگی کرتے ہوئے اپنی زندگی بسر کریں۔ اس نے اپنے پیغمبروں ﷺ کے ذریعہ کتابیں نازل فرما کر اپنی پسند و ناپسند کو بیان کردیا ہے۔ اس کے بعد جو شخص نا شکری کرے گا اسے اس کی نا شکری کی سزا ملے گی۔14 یعنی ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہوگا۔15 یعنی وہ تو تمہارے دلوں کے خیالات تک سے واقف ہے پھر تمہارے اعمال اس سے کیوں کر پوشیدہ رہ سکتے ہیں ؟
Ayah 39:8

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِیْبًا اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِیَ مَا كَانَ یَدْعُوْۤا اِلَیْهِ مِنْ قَبْلُ وَ جَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِیْلًا١ۖۗ اِنَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ Open ayah 39:8 in the Quran reader

اور جب آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے دکھ ہماری مفلسی مصیبت تو دل سے اپنے مالک کی طرف رجوع ہو کر اس کو پکارتا ہے پھر جب وہ اپنی طرف سے اس کو کوئی نعمت دیتا ہے تو اس کو بھول جاتا ہے جس کو وہ اس نمت کے ملنے سے پہلے پکارتا تھا1 اور اللہ کی راہ سے بہکا دینے کو اس کا برابر والا دوسروں کو ٹھیراتا ہے2 (اے پیغمبر ایسے شخص سے) کہہ دے تو اپنی ناشکری میں چند روزے مزے کرلے آخرتو دوزخیوں میں ہوگا

ف 1 یعنی خدا کو بھول جاتا ہے۔ دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” وہ اس مصیبت کو بھول جاتا ہے جس کے دفع کرنے کے لئے وہ اس نعمت کے ملنے سے پہلے خدا کو پکارتا تھا “۔2 یعنی اللہ کی راہ ( اسلام و توحید) سے وہ نہ صرف خود گمراہ ہوتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس مقصد کیلئے وہ بہت سے جھوٹے معبودوں اور پیروں فقیروں کو خدا کے برابر قرار دے کر ان سے جھوٹی کرامتیں منسوب کرتا ہے اور لوگوں میں ان کا چرچا کرتا پھرتا ہے۔
Ayah 39:9

اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّ قَآئِمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ یَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:9 in the Quran reader

بھلا جو شخص رات کی گھڑیوں میں عبادت میں لگا ہے کبھی سجدہ کر رہا ہے کبھی نماز میں کھڑا ہے آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے مالک کی مہربانی کی امید بھی رکھتا ہے3 اے پیغمبر کہہ دے کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے (دونوں) برابر ہوسکتے ہیں4 نصیحت وہی مانتے ہیں جو عقل والے ہیں5

ف 3” اس کی روش بہتر ہے یا اس شخص کی جس کا ذکر بھی ہوا “۔ یہ عبارت محذوف ہے۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ ایک شخص کی عیادت کیلئے تشریف لے گئے اور حال دریافت فرمایا۔ وہ بولا ” مجھے اللہ کی رحمت کی امید ہے اور اپنے گناہوں کا ڈر ہے “۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ایسے وقت میں جس بندے میں یہ دونوں باتیں ہوں گی اس کو اللہ تعالیٰ وہی دیگا جس کی اسے امید ہے۔ ( شوکانی)4 یعنی کیا وہ لوگ جو اللہ و رسول ﷺ کی بتائی ہوئی باتوں کو سچ جانتے ہیں ان لوگوں کے برابر ہوسکتے ہیں جو ان باتوں کو سچ نہیں جانتے ؟ ظاہر ہے کہ دونوں یکساں نہیں ہوسکتے۔ نہ دنیا میں ان کی روش یکساں ہوسکتی ہے اور نہ آخرت میں ان کا انجام ایک سا ہوگا۔ 5 ان سے مراد اہل ایمان ہیں کیونکہ عقل وہی معتبر ہے جو اللہ و رسول ﷺ کے تابع ہو۔
Ayah 39:10

قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ١ؕ اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 39:10 in the Quran reader

اے پیغمبر کہہ دے میرے ایمان دار بندوں اپنے مالک سے ڈرتے رہو6 جو لوگ اس دنیا میں اچھا کام کرینگے ان کے لئے آخرت میں اچھا بدلہ ہے اور اللہ کی زمین کشادہ ہے7 جو لوگ (بلائوں پر) بر کرتے ہیں ان کو آخرت میں ان کا ثواب8 ب حساب دیا جائے گا

ف 6 یعنی صرف زبان سے توحید کا اقرار کانی نہیں ہے بلکہ تقویٰ کی راہ اختیار کرو۔ یعنی اس کے اوامرکو بجا لائو اور اس کے نواہی سے باز ہو۔7 یہ ہجرت کی طرف اشارہ ہے یعنی اگر کسی جگہ رہتے ہوئے آزادی سے اللہ تعالیٰ کی عبادت نہ کی جاسکتی ہو تو انہیں چاہیے کہ کسی دوسری جگہ چلے جائیں جہاں ان کے لئے یہ دشواریاں نہ ہوں۔ 8 یعنی خدا پرستی اور نیکی کی راہ میں جو بھی مصیبتیں اور تکلیفیں پیش آتی ہیں انہیں ہمت و جوانمردی سے برداشت کرتے ہیں مگر راہ حق سے نہیں ہٹتے۔
Ayahs 39:11–12

قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَۙ Open ayah 39:11 in the Quran reader

اے پیغمبر کہہ دے مجھے تو یہ حکم ہوا ہے کہ اللہ کو پوجوں خلاص اسی کی بندگی کروں

وَ اُمِرْتُ لِاَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 39:12 in the Quran reader

اور9 مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ سب سے پہلے اللہ کا تابعدار بنوں10

ف 9 یعنی اس طرح کہ میری بندگی میں شرک اور ریا کا کوئی شائبہ نہ ہو۔10 یعنی اللہ تعالیٰ کی جس توحید کی طرف لوگوں کو دعوت دوں، سب سے پہلے خود اس پر کار بند ہوں، چناچہ نبی ﷺ پہلے شخص تھے جنہوں نے اپنے باپ دادا کے دین سے انکار کیا اور لوگوں کو توحید کی دعوت دی۔
Ayah 39:13

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 39:13 in the Quran reader

اے پیغمبر کہہ دے میں تو بڑے دن قیامت کے عذاب سے ڈرتا ہوں اگر اپنے مالک کی نافرمانی کروں11

ف 11 یعنی اگر ان معبودوں کی بندگی کرنے لگے جس کی تم لوگ مجھے دعوت دے رہے ہو۔
Ayahs 39:14–15

قُلِ اللّٰهَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهٗ دِیْنِیْۙ Open ayah 39:14 in the Quran reader

اے پیغمبر کہہ دے میں تو اللہ کو پوجتا ہوں خلاص اسی کی بندگی کرتا ہوں

فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 39:15 in the Quran reader

تم کو (اختیار ہے) اس کے سوا جس کو چاہو پوجو12 (اے پیغمبر) کہہ دے (دنیا کا ٹوٹا کوئی چیز نہیں دراصل ٹوٹا اٹھانیوالا وہی لوگ ہیں جو قیامت کے دن اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو ہار بیٹھیں گے13 (دوزخ میں ڈلوائیں گے) سن لو یہی تو کھلا نقصان ہے14

ف 12 یعنی اگر میرے سمجھانے کے باوجود تم ان جھوٹے معبودوں کی بندگی کرتے رہنے پر مصرہوتو کرتے رہو لیکن بھگتنے کے لئے بھی تیار رہو۔ تمہارے انجام کی کوئی ذمہ داری مجھ پر نہیں ہے۔13 یعنی دوزخ میں گریں گے۔14 جس سے بڑھ کر کوئی خسارہ نہیں اس لئے کہ وہ ایسا خسارہ ہے جس کی تلافی کسی طرح ممکن نہ ہوگی۔
Ayah 39:16

لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَ مِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ١ؕ ذٰلِكَ یُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ یٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 39:16 in the Quran reader

ان کے اوپر دوزخ میں آگ کے چھتر ہوں گے اور ان کے نیچے بھی (آگ کے) چھتر15 یہی وہ عذاب ہے جس سے اللہ اپنے (مسلمان) بندوں کو ڈراتا ہے اے بندوں مجھ سے ڈرتے رہ1

ف 15 یعنی اوڑھنا اور بچھونا دونوں آگ کے ہوں گے۔” ظلل “ چھتر سے مراد آگ کے طبقے ہیں۔ 1 یعنی میرے غضب سے ڈر و اور ان گناہوں سے بچوجن کے نتیجے میں تمہیں اس ہولناک عذاب سے دو چار ہونا پڑے۔
Ayah 39:17

وَ الَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْهَا وَ اَنَابُوْۤا اِلَى اللّٰهِ لَهُمُ الْبُشْرٰى١ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِۙ Open ayah 39:17 in the Quran reader

اور جو لوگ شیطان کے پوجنے سے بچے رہے2 اور اللہ کی طرف رجوع ہوئے ان کے لئے جنت کی خوشخبری ہے تو اے پیغمبر میرے ان بندوں کو خوشخبری سنا

ف 2 اصل میں لفظ ” طاغوت “ ( بروزن فعلوت لا فاعول اصلہ طغیوت او طغو وت) طغیان سے مشتق ہے لہٰذا اس سے مراد شیطان بھی ہے اور بت بھی، کاہن اور پروہت بھی اور ہر وہ انسان بھی جو بندگی کی حد سے نکل کر اپنے آپ کو خدائی کے مقام پر رکھتا ہو۔ اس کی عبادت سے مراد محض اسے سجدہ کرنا نہیں بلکہ اسے مستقبل بالذات آمر ومطاع سمجھتے ہوئے اس کے احکام کی بجا آوری بھی ہے۔ علامہ جوہری لکھتے ہیں۔ ( الطاغوت الکاھن والشیطان وکل راس فی الضلال) کہ اس سے مراد شیطان، کاہن اور ہر وہ چیز ہے جو گمراہی کا منبع بنے۔ امام راغب لکھتے ہیں ( ھو عبارۃ عن کل معبود من دون اللہ) کہ یہ ہر اس چیز سے عبارت ہے جس کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جائے۔ (روح)
Ayah 39:18

الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 39:18 in the Quran reader

جو ہات کو کان لگا کر سنتے ہیں پھر جو اچھی بات ہوتی ہے سن پر چلتے ہیں3 یہی لوگ تو وہ ہیں جن کو اللہ نے (سیدھی) راہ بتلائی ہے اور یہی لوگ تو عقل والے ہیں4

ف 3” اور بری بات پر توجہ نہیں کرتے “ یا مطلب یہ ہے کہ وہ قرآن و سنت کو دل لگا کر سنتے ہیں اور پھر عمل کے لئے اس حکم کو اختیار کرتے ہیں جو افضل ہوتا ہے یعنی رخصت کی بجائے عزیمت کی راہ پر کار بند ہوتے ہیں واللہ اعلم۔4 جنہوں نے اپنی عقلوں کا صحیح استعمال کیا کیونکہ وہی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو فکر کرتے اور اصل حقیقت کو سمجھ لیتے ہیں۔
Ayah 39:19

اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ١ؕ اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِۚ Open ayah 39:19 in the Quran reader

(اے پیغمبر) بھلا جس شخص پر عذاب کا فرمودہ پورا ہوا5 تو کیا ایسے شخص کو دوزخ سے نکال باہر کرسکتا ہے6

ف 5 یعنی جس نے مسلسل ہٹ دھرمی اور بد عملی سے اپنے آپ کو عذاب کا مستحق بنا لیا ہو۔ عذاب کے کلمہ سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ قول ہے جو اس نے تخلیق آدم ( علیہ السلام) کے وقت شیطان سے خطاب کر کے فرمایا تھا۔ یعنی (لا ملان جھنم منک وممن تبعک منھم اجمعین) دیکھئے سورة ص آیت 856” یعنی کیا آپ ﷺ اسے ایمان کی راہ پر لاسکتے ہیں ؟ “ ظاہر ہے کہ اس سوال کا جواب نفی میں ہے اور اس سے مقصود آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا ہے جو اپنی قوم قریش کے ایمان لانے کے سخت خواہش مند رہتے تھے۔
Ayahs 39:20–21

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِیَّةٌ١ۙ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ۬ وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ الْمِیْعَادَ Open ayah 39:20 in the Quran reader

البتہ جو لوگ اپنے مالک سے ڈرتے رہے ان کے رہنے کے لئے دہشت میں بالا خانے ماڑیاں جھروکے ہیں ان کے اوپر بالا خانے درجہ بدرجہ کئی منزلہ جن کے نیچے ندیاں پڑی بہہ رہی ہیں یہ اللہ کا وعدہ ہے اللہ اپنا وعدہ خلاف نہیں کرتا

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهٗ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ یُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَجْعَلُهٗ حُطَامًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:21 in the Quran reader

اے دیکھنے والے) کیا تو نہیں دیکھتا اللہ نے آسمان سے پانی برسایا پھ رزمین میں اس کے چشمے چلا دیئے وہ پانی ایک جگہ سے بہتا ہوا دوسری جگہ گیا پھ راس پانی سے رنگ برنگ کی کھیتی نکالتا ہے پھر جب وہ پک جاتی ہے تو اس کو دیکھتا ہے زرد ہوگئی پھر اللہ تعالیٰ اس کو سکھا کر چورہ چورہ کردیا ت ہے ان باتوں میں عقلمندوں کے لئے (بڑی) نصیحت ہے7

ف 7 کیونکہ یہی حال انسان کا ہے۔ پہلے بچہ ہوتا ہے، پھر جوان ہوتا ہے پھر پختہ ہو کر بوڑھا ہوجاتا ہے اور آخر کار دنیا سے سدھار جاتا ہے اور یہی حال دنیا کا ہے۔ اس کی سب زمینیں عارضی اور چند روزہ ہیں اور آخر کار اس کی ہر چیز کو فنا ہونا ہے۔ اس کے ہر کمال کو انحطاط اور ہر عروج کو زوال ہے۔
Ayah 39:22

اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 39:22 in the Quran reader

کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام (قبول کرنے) کے لئے کھول دیا وہ اپنے مالک کی طرف سے ایمان کی روشنی رکھتا ہے8 تو ان لوگوں کی خربای ہے جن کے دل اللہ کی یاد سے غافل ہو کر سخت ہوگئے ہیں یہی لوگ جن کے دل سخت ہیں کھلی گمراہی ہیں9

ف 8 وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس کا دل اللہ کی یاد سے غافل ہو کر سخت ہوگیا ؟ “۔ ( افمن کان) کا یہ جواب محذوف ہے اور اگلے جملہ یعنی ( فویل للقاسیۃ قلوبھم من ذکر اللہ) سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ان لوگوں کا ان سے مقابلہ کیا جا رہا ہے جن کے دل اللہ کی یاد سے غافل ہونے کی وجہ سے سخت ہوگئے ہوں۔ ایک حدیث میں ہے کہ جب نور ایمان سینہ میں داخل ہوجاتا ہے تو وہ کھل کر کشادہ ہوجاتا ہے اور فرمایا اس کی علامت ہے ” آخرت کی طرف دھیان اور دنیا سے بیزاری “ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اس سے ( یعنی جس کا سینہ کھول دیا گیا) خاص کر حضرت ابوبکر ؓ صدیق مراد ہیں۔ ( شوکانی)9 دلوں کے سخت ہوجانے کا مطلب یہ ہے کہ ان پر کوئی نصیحت اثر نہیں کرتی اور نہ وہ حق کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔
Ayah 39:23

اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِیَ١ۖۗ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ١ۚ ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 39:23 in the Quran reader

اللہ نے بہت اچھی بات کتاب اتاری10 یعنی قرآن جس کی آیتیں ملی جلی ہیں11 دوہرائی گئی12 جو لوگ اپنے مالک سے ڈرتے ہیں ان کی کھال کی روئیں اس کو پڑھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں1 پھر اللہ کی یاد کی طرف ان کے بدن کے پوست اور دل نرم ہوجاتے ہیں2 یہ کتاب اللہ کی ہدایت ہے جس کو چاہتا یہ اس کے ذریعے سے رستہ دکھلاتا ہے جس کو اللہ بھٹکا دے اس کا کوئی راہ پر لانے والے نہیں

ف 10 یہاں قرآن کو ” حدیث “ کہنا یا تو تازہ بتا زہ نزول کے اعتبار سے ہے اور یا آنحضرت ﷺ کے بیان کرنے کے اعتبار سے ورنہ قرآن اللہ کا کلام اور قدیم ہے۔11 یعنی مضامین کے اعتبار سے اس کی آیات ایک دوسری سے ملتی جلتی ہیں اور ان میں اختلاف نہیں ہے۔12 یعنی ان میں واقعات، مواعظ اور احکام کو بار باردہرا کر پیش کیا گیا ہے۔ 1 یعنی آخرت کے عذاب کی آیات پڑھ کر یا سن کر ان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔2 یعنی جن آیات میں اللہ کی رحمت کا ذکر ہے ان کو پڑھ کر یا سن کر وہ پوری رغبت سے اللہ تعالیٰ کی عبادت بجا لاتے ہیں۔
Ayah 39:24

اَفَمَنْ یَّتَّقِیْ بِوَجْهِهٖ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ قِیْلَ لِلظّٰلِمِیْنَ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:24 in the Quran reader

کیا جو شخص قیاتم کے دن برے عذاب کو اپنے منہ پر و کے گا3 اور اس دن نافرمانوں کافروں سے کہہ دیا جائے گا تم دنیا میں جیسے کام کیا کرتے تھے اب ان کا مزہ چکھو

ف 3” وہ اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے جو بےفکری سے عیش کر رہا ہوگا “۔ افمن۔۔۔۔۔۔ کا یہ جواب محذوف ہے۔ قیامت کے روز چونکہ دوزخیوں کے ہاتھ گردنوں سے بندھے ہوں گے اس لئے وہ عذاب کو روکنے کیلئے چار و نا چار چہروں ہی کو سیر بنائیں گے۔
Ayahs 39:25–26

كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 39:25 in the Quran reader

ان سے پہلے جو لوگ ہوگئے ہیں انہوں نے بھی پیغمبروں کو اور اللہ کی کلام کو جھٹلایا آخر جدھر سے ان کو گمان بھی نہ تھا

فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ الْخِزْیَ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:26 in the Quran reader

ادھر سے اللہ کا عذاب ان پر آن پہنچا پھر اللہ نے ان کو دنیا ہی کی زندگی میں رسوائی ذلت کا مزہ چکھا دیا5 اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہے اگر ان کو معلوم ہوتا6

ف 4 یعنی اللہ کے عذاب سے بچائو کی کوئی تدبیر کام نہ آسکی۔5 خزی سے مراد اللہ کے عذاب ہیں جو مختلف صورتوں میں قوموں پر نازل ہوئے۔6 یا ” کاش ان کو معلوم ہوتا “
Ayah 39:27

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 39:27 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے سمجھانے کے لئے دین کی ہر ایک مثال بیان کردی ہے7 کسی طرح ان کو نصیحت تو ہو

ف 7 یعنی ہر قسم کے اولہ و امثلہ سے سمجھایا گیا ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں جو مثال بیان ہو رہی ہے یہ اس کے لئے تمہید ہے۔
Ayah 39:28

قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 39:28 in the Quran reader

یہ قرآن عربی زبان میں ہے8 اس میں کوئی ہیچ بیچ نہیں9 اس لئے کہ لوگ اس کو سمجھیں اور کفر اور شرک اور گناہ سے بچے رہیں

ف 8 جو مکہ اور تمام جزیزہ عرب کی اپنی زبان ہے وہ لوگ ہیں جو قرآن کے اولین محاطب ہیں۔9 کہ عرب کا عامی بھی اس کو سمجھ سکتا ہے۔
Ayah 39:29

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیْهِ شُرَكَآءُ مُتَشٰكِسُوْنَ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ۚ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:29 in the Quran reader

اللہ ایک مثال بیان کرتا ہے ایک شخص غلام ہے اس میں کئی جھگڑالو ساجھی ہیں اور ایک10 دوسرا شخص (غلام) ہے جو پورا ایک ہی شخص کا (غلام) ہے11 کیا یہ دونوں غلاموں کا حال برابر ہوسکتا ہے شکر خدا کا مگر ان میں اکثر لوگ نادان ہیں12

ف 10 یعنی وہ بیک وقت کئی جھگڑالو آقائوں کا غلام ہے جن میں سے ہر آقا اسے اپنی طرف کھینچتا ہے۔11 اسے صرف اسی کو راضی رکھنا ہے اور اسی کے حکموں پر چلنا ہے۔ دوسروں سے کوئی غرض نہیں۔12 یعنی ایسی واضح مثال ان کی سمجھ میں نہیں آتی، اس سے بڑی نادانی اور کیا ہوگی ؟
Ayah 39:30

اِنَّكَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّهُمْ مَّیِّتُوْنَ٘ Open ayah 39:30 in the Quran reader

اے پیغمبر بیشک ایک دن تو مرنے والا ہے اور وہ بھی ایک بیشک مر جائینگے13

ف 13 یعنی اگر یہ نہیں مانتے تو نہ مانیں۔ ہمیشہ نہ آپ ﷺ کو رہنا ہے اور نہ ان کو، دونوں کو ایک نہ ایک دن مرنا ہے۔ یہ آیت منجملہ ان آیات کے جن سے حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے نبی ﷺ کی وفات کے بعد آپ ﷺ کے رحلت فرما ہوجانے پر استدلال کیا جبکہ بہت سے صحابہ ؓ جن میں سر فہرست حضرت عمر ؓ تھے۔ اسے تسلیم کرنے کو تیار نہ تھے۔ ( ابن کثیر)
Ayah 39:31

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ۠ Open ayah 39:31 in the Quran reader

پھر قیامت کے دن تم سب اپنے مالک کے سامنے جھگڑو گے14

ف 14 یعنی آپ ﷺ ان کافروں سے جھگڑیں گے کہ آپ ﷺ نے ان تک ہمارا پیغام پہنچا دیا تھا اور یہ آپ ﷺ سے جھگڑا کریں گے۔ اسی طرح مومن کافر سے۔ پھر اللہ تعالیٰ سب کے درمیان حق و انصاف سے فیصلہ فرمائے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے :” کافر منکر ہونگے کہ ہم کو کسی نے حکم نہیں پہنچایا، پھر فرشتوں کی گواہی سے اور آسمان و زمین کی اور ہاتھ پائوں کی گواہی سے ثابت ہوگا “۔ (موضح)
Ayah 39:32

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ وَ كَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:32 in the Quran reader

پھر اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا1 اور سچی بات قرآن کو جب وہ اس کے پاس پہنچ گئی جھٹلایا گیا2 ایسے کافروں کا ٹھکانا دوزخ میں نہیں ہے ضرور ہیں ان کا ٹھکانا ہے3

ف 1 یعنی کسی کو اس کا شریک یا بیٹا یا بیوی قرار دیا۔ (تعالیٰ عن ذلک عملوا کبیرا) یہ خطاب مشرکین سے ہے۔2 الصدق ( سچی بات) سے مراد وہ سچائی ہے جو اللہ تعالیٰ کے سچے پیغمبر ﷺ خصوصاً آخر الزمان ﷺ لے کر آئے اور لوگوں کو اس پر عمل کرنے کی دعوت دی۔ ( ابن کثیر)3 اس آیت کے تحت شاہ صاحب (رح) اپنی توضیح میں لکھتے ہیں :” یعنی اگر نبی ﷺ نے جھوٹ خدا کا نام لیا تو اسے سے برا کون اور اگر وہ سچا تھا اور تم نے جھٹلایا تو تم سے برا کون ؟ ) (موضح)
Ayah 39:33

وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 39:33 in the Quran reader

اور جو شخص سچی بات لے کر آیا4 اور جس نے اس کو سچا جانا5 ایسے ہی لوگ پرہیز گار ہیں6

ف 4 مراد نبی ﷺ ہیں اور ہر وہ شخص جو آپ ﷺ کی دعوت لے کر کھڑا ہوا۔5 مراد تمام مومن ہیں۔6 یعنی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں عذاب سے محفوظ رہیں گے۔
Ayahs 39:34–35

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الْمُحْسِنِیْنَۚۖ Open ayah 39:34 in the Quran reader

وہ جو خواہش کریں گے ان کے مالک کے پاس ان کو ملے گا نیکوں کا یہی بدلہ ہے

لِیُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 39:35 in the Quran reader

نیک وہ اس لئے ہوئے کہ انہوں نے برے سے برا جو کام کیا اللہ اس کو ان پر سے اتار دے گا7 اور ان کے اچھے سے اچھے کام نیگ دن کو بدلہ میں دے گا8

ف 7 یعنی اسے معاف فرما دے گا، جب برے سے برا عمل معاف ہوگیا تو ظاہر ہے کہ اس سے کم تر درجہ کے عمل تو بدرجہ ولی معاف ہوجائیں گے۔8 یعنی انہیں بدلہ ان کے اعمال کے لحاظ سے دیا جائے گا جو ان کے نامہ اعمال میں بہترین ہوں گے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے کم تر درجہ کے اعمال بھی بہترین بھنا دیئے جائیں گے۔
Ayah 39:36

اَلَیْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ١ؕ وَ یُخَوِّفُوْنَكَ بِالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍۚ Open ayah 39:36 in the Quran reader

کیا اللہ اپنے بندے (محمد) کے لئے کافی نہیں ہے9 اور (اے پیغمبر) یہ لوگ تجھ کو اللہ کے سوا دوسروں کا ڈر بتلاتے ہیں10 بات یہ یہ کہ یہ لوگ گمراہ ہیں اور جس کو اللہ گمراہ کر دے اس کو کوئی راہ پر نہیں لگا سکتا

ف 9 یعنی اگر اسے اللہ تعالیٰ کی حمایت حاصل ہے۔ ( اور ظاہر ہے کہ حاصل ہے) تو کوئی اس کا کیا بگاڑ سکتا ہے۔10 کفار مکہ نبی ﷺ سے کہا کرتے کہ ہمارے معبودوں کی شان میں گستاخی نہ کیا کرو اور ان کے خلاف زبان نہ کھولا کرو اور نہ یہ ناراض ہو کر تم پر کوئی آفت نازل کردیں گے۔ اس کے جواب میں فرمایا :” الیس اللہ بکاف عندہ “۔
Ayah 39:37

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّضِلٍّ١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِعَزِیْزٍ ذِی انْتِقَامٍ Open ayah 39:37 in the Quran reader

اور جس کو اللہ راہ پر لگائے اس کو کوئی گمراہ نہیں کرسکات کیا اللہ زبردست بدلہ لینے والا نہیں ہے11

ف 11 یعنی یہ کفار جو گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں اور آپ ﷺ کو اپنے معبودوں کا خوف دلاتے ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے یہ جھوٹے معبود کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ اصل طاقت اللہ تعالیٰ کی ہے وہ اپنے دشمنوں سے جب چاہے اور جس طرح چاہے انتقام لے سکتا ہے۔ (قرطبی) اس زمانہ کے مشرک اور قبروں کے گدی نشین مج اور بھی جو بزرگوں ولیوں کو پکارتے ہیں۔ لوگوں کو ڈراتے ہیں کہ اگر بزرگوں کا انکار کرو گے تو وہ تمہیں تباہ و برباد کردیں گے اور ایسی باتوں سے احمق نادان ڈر جاتے ہیں اور ان کی پوجا کرنے لگتے ہیں۔ سو یہ سب بزرگوں پر افتراء ہے اور یہ لوگ گمراہ ہیں۔ (حلیفہ)
Ayah 39:38

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَنِیَ اللّٰهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّهٖۤ اَوْ اَرَادَنِیْ بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكٰتُ رَحْمَتِهٖ١ؕ قُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ١ؕ عَلَیْهِ یَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 39:38 in the Quran reader

اور اے پیغمبر اگر تو ان کافروں سے پوچھے آسمان اور زمین کو کس نے بنایا تو بیشک یہی کہیں گے اللہ نے بنایا اب ان سے کہہ بھلا بتلائو تو سہیا گر اللہ مجھ کو کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ اس کی بھیجی ہوئی تکلیف دور کرسکتے ہیں یا اللہ اگر مجھ پر فضل کرنا چاہے تو یہ جھوٹے دیوتا اس کے فضل کو روک سنتے ہیں ہرگز نہیں اے پیغمبر کہہ دے اللہ مجھ کو بس کرتا ہے12 اسی پر بھروسا کرنے والے بھروسا کرتے ہیں13

ف 12 مقاتل کہتے ہیں کہ یہ جملہ یعنی ” حسبی اللہ “ اس وقت نازل ہوا جب نبی ﷺ نے کفار مکہ سے مذکورہ دونوں سوال کئے اور وہ جواب میں خاموش رہے۔ ( شوکانی)13 حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص یہ چاہے کہ سب لوگوں سے زیادہ طاقتور ہوجائے اسے چاہیے کہ اللہ پر بھروسہ کرے اور جو شخص یہ چاہے کہ سب لوگوں سے زیادہ غنی ہوجائے اسے چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم پر زیادہ تکیہ کرلے اس مال و دولت جو اس کے پاس موجود ہے اور جو شخص یہ چاہے کہ وہ سب لوگوں سے زیادہ عزت والا ہو، اسے چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار نہ کرے۔ (ابن کثیر) ۔
Ayahs 39:39–40

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 39:39 in the Quran reader

اے پیغمبر کہہ دے بھائیو تم اپنی جگہ (جو کرتے ہو وہ ض کئے جائو میں ( جو کرتا ہوں وہ) کئے جائوں گا تم آگے چل کر ضرور جان لو گے

مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 39:40 in the Quran reader

(دنیا میں) رسوا کرنے والی آفت کس پر آتی ہے1 اور ہمیشہ کا عذاب آخرت میں کس پر اترتا ہے2

ف 1 یعنی قتل و قید اور غلامی و محکمومی کی ذلت سے کون دو چار ہوتے ہیں۔2 شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ” یہ ( یعنی رسوائی) دنیا میں اور وہ ( یعنی دائمی عذاب) آخرت میں۔ ( موضح)