38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 38:1

صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ Open ayah 38:1 in the Quran reader

قمس ہے قرآن کی جس میں نصیحت ہے3

ف 3 یا ” جو شرف و عظمت والا ہے “ اس قسم کا جواب مخدوف ہے جیسے لتجثمن یا ان ربک الحق وغیرہ۔
Ayah 38:2

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ عِزَّةٍ وَّ شِقَاقٍ Open ayah 38:2 in the Quran reader

مگر اس کا کیا علاج ) کہ کافر گھمنڈ اور ضد میں پڑگئے ہیں4

ف 4 یعنی یہ جو قرآن کو حق تسلیم نہیں کررہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ سخت تکبر اور ضد میں مبتلا ہیں ورنہ اگر ذرا انصاف سے کام لیں تو قرآن کو سراسر ہایت کا سر چشمہ پائیں گے اوصاف معلوم کرلیں گے یہ خدائی کلام ہے۔
Ayahs 38:3–4

كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّ لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ Open ayah 38:3 in the Quran reader

ان کافروں سے پہلے ہم نے کتنی قومیں تباہ کردیں (جب عذاب آ پنہنچا) اس وقت چلا اٹھے (دعا کرنے لگے) اور وہ چھٹکارے کا وقت نہ تھا

وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ١٘ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌۖۚ Open ayah 38:4 in the Quran reader

کیا ان کو اس بات پر تعجب آیا کہ انہی میں سے ایک شخص ڈرانے والا ان کے پاس آیا5 اور کافر کہنے لگے یہ تو جادو گر جھوٹا (لپاٹیا) ہے

ف 5 حالانکہ عجیب بات تو اس وقت ہوتی جب کوئی فرشتہ یا عجمی ان میں نبی بنا کر بھیجا جاتا اور پھر یہ اعتراض بھی کرسکتے تھے۔
Ayah 38:5

اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ Open ayah 38:5 in the Quran reader

اس نے کئی خدائوں کو ایک خدا کردیا یہ تو بڑی انوکھی (تعجب کی) بات ہے6

ف 6 یعنی ان لوگوں کو عقیدہ توحید عجیب معلوم ہوتا ہے۔ حالانکہ تعجب کی چیز شرک ہے جس پر کوئی بھی عقلی دلیل قائم نہیں ہوسکتی۔
Ayah 38:6

وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ Open ayah 38:6 in the Quran reader

اور ان کافروں کے سردار یہ کہہ کر اٹھ گئے چلو جی ( اس کی بات نہ مانو) اور اپنے دیوتائوں (کے پوجے) پر گے رہو بیشک ہو تو (اس شخص کی) خواہش ہے7

ف 7 یعنی یہ ہمارے سامنے کلمہ ” لا الہ الا اللہ “ پیش کر رہا ہے اس سے اس کا مقصد کچھ ذاتی فائدہ معلوم ہوتا ہے اور شاید اس نے یہ سارا ڈھونگ اس لئے رچایا ہے کہ ہم اسے اپنا سردار مان لیں اور یہ ہم پر حکمرانی کر کے داد عیش دے۔
Ayah 38:7

مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِی الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ١ۖۚ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌۖۚ Open ayah 38:7 in the Quran reader

ہم نے تو یہ بات پچھلے دین (نصاریٰ کے دین) میں بھی نہیں سنی ہو نہ ہو یہ مذہب (اس شخص کا) گھڑا ہوا ہے

ف 8 یعنی دین نصاریٰ میں کہ ان کے ہاں بھی اس طرح کی توحید نہیں ہے جیسی یہ شخص محمد ﷺ پیش کررہا ہے وہ بھی تین خدائوں کے قائل ہیں۔ ( کذاقال اکثر السلف) (قرطبی) یا قریب کہہ دین سے مراد خود قریش کے بزرگوں کا دین ہے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں ” یعنی آگے تو سنے ہیں کہ اگلے ایسی باتیں کہتے تھے پر ہمارے بزرگ تو یوں نہیں کہہ گئے۔ ( موضح) یا ہم نے اہل کتاب سے یہ بات نہیں سنی کہ آخر زمانے میں محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ﷺ ہونگے۔ (قرطبی)
Ayah 38:8

ءَاُنْزِلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَیْنِنَا١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِیْ١ۚ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِؕ Open ayah 38:8 in the Quran reader

کیا ہم سب میں اسی شخص پر قرآن اترا9 بات یہ ہے کہ ان کو تو (سرے سے) میرے کلام ہی میں شک ہے10 بات یہ ہے کہ انہوں نے ابھی تک میرا اعلان نہیں چکھا یا11

ف 9 یعنی ہم میں بڑے بڑے رئیس اور شریف موجود ہیں، اگر خدا کو اپنا کلام اتارنا ہی تھا تو ان میں سے کسی پر اتررتا۔10 یعنی قطع نظر اس سے کہ کون پیغمبر ہوتا اور کون نہ ہوتایہ تو سرے سے نبوت و رسالت کے ہی قائم نہیں ہیں۔11 ” اس لئے اکڑنوں دکھا رہے ہیں، اگر عذاب کا مزہ چکھ لیتے تو دماغ درست ہوجاتا۔
Ayah 38:9

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِیْزِ الْوَهَّابِۚ Open ayah 38:9 in the Quran reader

اے پیغمبر تیرے زبردست بخشنے والے مالک کی مہربانی کے خزانے ان کے پاس ہیں12

ف 12 کہ جس کو جو نعمت چاہیں دیں اور جسے چاہیں نہ دیں ؟ ہرگز نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں کے خزانوں کا خود مالک ہے تو وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے محروم رکھتا ہے۔ اب اگر اس نے اپنی نعمت و رسالت سے آپ ﷺ کو سرفراز فرمایا ہے تو یہ کیوں حسد کرتے ہیں۔
Ayah 38:10

اَمْ لَهُمْ مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١۫ فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ Open ayah 38:10 in the Quran reader

یا آسمان اور زمین اور جو ان کے بیچ میں ہے اس کی حکومت ان کو مل گئی ہے (ایسا ہے) تو رسیاں لگا کر آسمان پر چڑھ جائیں1

ف 1” تاکہ فرشتوں کو آنحضرت ﷺ پر وحی لانے سے منع کردیں “۔ تاکہ جسے یہ اپنی رحمت کا مستحق سمجھیں، اسے دیں اور جسے ہم سمجھتے ہیں محروم کردیں اور زمین و آسمان کا نظام اپنی مرضی کے مطابق چلائیں۔
Ayah 38:11

جُنْدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ Open ayah 38:11 in the Quran reader

اور جتھوں میں سے یہ بھی ایک تھوڑا سا جتھا ہے2 جو یہیں شکست پائیگا

ف 2 یعنی قریش کے یہ کفار آخر ہیں کیا ؟ جس کسی نے پیغمبروں ﷺ کی مخالفت کی منہ کی کھائی۔ ایک وقت آئے گا کہ مکہ کی سر زمین میں انہیں شکست ہوگی اور آنحضرت ﷺ کے سامنے اطاعت سے سر جھکائیں گے۔
Ayah 38:12

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِۙ Open ayah 38:12 in the Quran reader

ان کافروں سے پہلے نوح کی قوم والوں نے اور عاد نے اور فرعون نے جو میخوں والا تھا3

ف 3 فرعون کو میخوں والا کہنے کا مطلب یا تو یہ ہے کہ وہ جس سے ناراض ہوتا تھا اس کے ہاتھ پائوں میں میخیں ٹھکوا کر سزا دیا کرتا تھا یا یہ کہ اس کی سلطنت ایسی مضبوط تھی گویا زمین میں میخ ٹھکی ہوئی ہے۔ یا اس کا لشکر کثیر تھا اور جہاں ٹھہرتے ہر طرف میخیں ہی میخیں نظر آتیں۔ واللہ اعلم ( شوکانی)
Ayah 38:13

وَ ثَمُوْدُ وَ قَوْمُ لُوْطٍ وَّ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الْاَحْزَابُ Open ayah 38:13 in the Quran reader

اور ثمود نے اور لوط کی قوم والوں نے اور ان کے رہنے والوں نے پیغمبروں4 کو جھٹلایا یہی وہ جتھے ہیں (جنہوں نے شکست پائی)

ف 4 بن والوں سے مراد حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی قوم ہے۔
Ayahs 38:14–15

اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ۠ Open ayah 38:14 in the Quran reader

ان سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا آخر ان پر میرا عذاب اترنا ضرور ہوگیا

وَ مَا یَنْظُرُ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ Open ayah 38:15 in the Quran reader

اور مکہ کے کافر صور کی ایک چنگھاڑ کے منتظر ہیں جو شروع ہونے کے بعد پھر بیچ میں دم نہ لیگی5

ف 5” جب تک ان کو فنا کے گھاٹ نہ اتار دے “ یا ” جس کے بعد کوئی دوسری چنگھاڑ نہ ہوگی (قرطبی) ” فواق “ اصل میں اس وقفہ کو کہتے ہیں جو اونٹنی کا دودھ دوہتے وقت ایک دفعہ کے بعد دوسری دفعہ کے درمیات ہوتا ہے۔ تو مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نہ ذرہ بھر پہلے آئے گی اور نہ بعد میں۔
Ayah 38:16

وَ قَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:16 in the Quran reader

اور یہ کافر ٹھٹھے سے کہتے ہیں مالک ہمارے جو ہمارا حصہ ہے وہ حساب کے دن سے پہلے ہی ہم کو جلدی سے دے ڈالا6

ف 6 یعنی ہمارا معاملہ قیامت تک کیوں ٹالتا ہے جو سزا ہمیں اس وقت ملنے والی ہے وہ اسی دنیا میں دے ڈال۔ ( ابن کثیر)
Ayah 38:17

اِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ١ۚ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:17 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ان کی باتوں پر صبر کئے رہ اور ہمارے بندے دائود (پیغمبر) کو یاد کر7 جو زور والاف 8 تھا کیونہ وہ اللہ کی طرف بہت رجوع رہتا تھا9

ف 7” اس جگہ ان کو یاد دلوایا کہ انہوں نے بھی طالوت کی حکومت میں بہت صبر کیا آخر حکومت ان کو ملی اور مخالفوں کو جہاد سے زیر کیا۔ یہی نقشہ ہوا ہمارے پیغمبر کا۔ ( کذافی المواضح)8 جسمانی قوت کے علاوہ علم و فضل و عبادت میں بھی بڑی طاقت تھی۔ ایک روایت میں ہے۔ (کان اعبدالبشر) کہ حضرت دائود بہت زیادہ عبادت گزار تھے۔ ایک صحیح حدیث میں حضرت دائود ( علیہ السلام) کی نماز اور روزے کو اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب قرار دیا گیا ہے۔ ( روح)9 یعنی وہ اپنے ہر معاملہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اور کوئی قدم اپنی خواہش کی بناء پر نہیں اٹھاتے تھے۔ ( ابن کثیر)
Ayah 38:18

اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِشْرَاقِۙ Open ayah 38:18 in the Quran reader

ہم نے پہاڑوں کو اس کا تابعدار بنادیا تھا وہ سورج ڈھلے اور سورج نکلے اس کے ساتھ ساتھ تسبیح کرتے10

ف 10 زوال شمس اور غروب کے درمیان کے وقت کو ” العشی “ کہتے ہیں اور ” اشراق “ اس وقت کو کہتے ہیں جب سورج طلوع ہونے کے بعد خوب چمکنے لگتا ہے۔ اس وقت میں نفلی نماز کی فضلیت آئی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ اس وقت دو رکعت نماز تمام اعضاء کی طرف سے صدقہ بن جاتی ہے۔ ( ابن کثیر)
Ayah 38:19

وَ الطَّیْرَ مَحْشُوْرَةً١ؕ كُلٌّ لَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:19 in the Quran reader

اور پرندوں کو بھیجو اسکاتا بعدار کردیا تھا) وہ جمع ہو کر سب اس کی طرف رجوع رہے11

ف 11 یعنی ان کے ساتھ تسبیح پڑھتے جیسا کہ سورة انبیاء کی آیت 79 میں گزر چکا ہے اگر ” لہ “ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کے لئے قرار دی جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔ ( قرطبی)
Ayah 38:20

وَ شَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَ فَصْلَ الْخِطَابِ Open ayah 38:20 in the Quran reader

اور اس کی سلطنت کو ہم نے مضبوط کردیا تھا اور ہم نے اس کو تدبیر دی تھی اور جھگڑا چکا نے والی بات 12

ف 12 ” حکمت “ کے مفہوم میں نبوت، کتاب اللہ کا علم اور معاملات کی فہم و فراست سب چیزیں شامل ہیں۔ اور ” فصل الخطاب “ سے مراد ہے مقدمہ سن کر فیصلہ سنانے کا طریقہ یا لمبی بات کو مختصر الفاظ میں ایسے طریقہ سے بیان کرنا کہ ہر ایک کی پوری طرح سمجھ میں آجائے۔ اس سے گویا حضرت دائود ( علیہ السلام) کی فصاحت و بلاغت کی طرف اشارہ ہے۔ ایک روایت میں ہے حضرت دائود ( علیہ السلام) پہلے شخص ہیں جنہوں نے خطبہ میں ” اما بعد “ کا لفظ استعمال کیا۔ ( شوکانی)
Ayah 38:21

وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ١ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ Open ayah 38:21 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) کیا ان جھگڑنے والوں کی بھی خبر تجھ کو پہنچی ہے جو دیوار پھاند کر دائود کی عبادت خانہ میں آگے13

ف 13 اکثر علمائے تاویل کا قول ہے کہ یہ جھگڑنے والے دو فرشتے تھے جو آدمی کی شکل میں آئے تاکہ حضرت دائود ( علیہ السلام) کو ان کی غلطی پر متنبہ کریں اور ان کا یہ مقدمہ بطور فرض تھا نہ کہ حقیقتاً ۔ پس ان فرشتوں کا جھوٹ بولنا لازم نہیں آتا جیسا کہ امام رازی (رح) نے اس لزوم کی بناء پر اس تاویل کی تردید کی ہے۔ ( قرطبی)
Ayah 38:22

اِذْ دَخَلُوْا عَلٰى دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ۚ خَصْمٰنِ بَغٰى بَعْضُنَا عَلٰى بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَ لَا تُشْطِطْ وَ اهْدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ Open ayah 38:22 in the Quran reader

جب (بےوقت بےاجازت) وہ دائود کے پاس گھس آئے وہ الٹا کو دیکھ کر گھبرا گیا14 اور انہوں نے کہا مت ڈر ہم دونوں میں جھگڑا ہے ہم میں سے ایک نے دوسرے پر ظلم کیا ہی تو انصاف سے ہمارا فیصلہ کر دے اور بےانصافی نہ کر اور ہم کو سیدھی راہ بتلا دے

ف 14 گھبرانے کی وجہ یہ تھی کہ وہ بلا اجازت اور بےوقت دیوار پھاند کر یکایک اندر عبادت خانہ میں پہنچ گئے تھے (قرطبی)
Ayah 38:23

اِنَّ هٰذَاۤ اَخِیْ١۫ لَهٗ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوْنَ نَعْجَةً وَّلِیَ نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ١۫ فَقَالَ اَكْفِلْنِیْهَا وَ عَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ Open ayah 38:23 in the Quran reader

یہ دوسرا فریق میرا بھائی ہے15 ہے اس کے پاس ننانویں دنبیا میں ایک کم سو اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے اب وہ کہتا ہے تو اپنی وہ ایک دنبی بھی میرے حوالے کر دے اور بات چیت کرنے میں وہ مجھ کو دبا بیٹھا ہے1

ف 15 یعنی دینی بھائی یا ساتھ رہنے والا بھائی۔ 1 یعنی وہ مجھ سے زیادہ چرب زبان ہے اس لئے لوگ اس کی طرف داری کرتے ہیں اور میری کوئی نہیں سنتا۔ (قرطبی)
Ayah 38:24

قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْخُلَطَآءِ لَیَبْغِیْ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ قَلِیْلٌ مَّا هُمْ١ؕ وَ ظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٗ وَ خَرَّ رَاكِعًا وَّ اَنَابَ۩ Open ayah 38:24 in the Quran reader

دائود نے کہا بیشک یہ تجھ پر ظلم کرتا ہے جو تیری ایک دنبی مانگ کر اپنی ننانوے دنبیوں میں ملانا چاہتا ہے2 اور اکثر ساجھی ایک دوسرے پر زیادتی کرتے رہتے ہیں اپنے ساجھی کا حق دبانا چاہتے ہیں مگر وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کرتے ہیں وہ ایسا کام نہیں کرتے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں اور اتنا جھگڑا ہون یکے بعد دائود کو خیال آیاد کہ یہ مقدمہ نہ تھا بلکہ ہم نے اس کو آزمایا تھا اسی وقت اس نے اپنے مالک سے معافی مانگی اور سجدے میں گرپڑا اور خدا کی طرف رجوع ہوگیا3

ف 2 ممکن ہے کہ حضرت دائود ( علیہ السلام) نے یہ فیصلہ دوسرے فریق کا بیان سنے بغیر صادر کردیاہو اور یہ حضرت دائود ( علیہ السلام) کا قصور تھا جسے اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا۔3 اس مقام پر سجدہ کرنا پڑھنے اور سننے والے دونوں کے لئے مستحب ہے۔ ابن عباس ؓ سے ایک روایت میں ہے کہ سورة ص کا سجدہ با عزیمت سجدوں یعنی ان سجدوں میں سے نہیں ہے جن کی تاکید آئی ہے۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ص میں سجدہ کیا اور فرمایا :” دائود ( علیہ السلام) نے توبہ کے طور پر سجدہ کیا اور ہم شکر کے طور پر سجدہ کرتے ہیں۔ (ابن کثیر)
Ayah 38:25

فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَ١ؕ وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ Open ayah 38:25 in the Quran reader

آخر ہم نے اس کا یہ قصور معاف کردیا اور بیشک دائود کے لئے ہمارے پاس نزدیکی کا درجہ ہے اور اچھا ٹھکانا4

ف 4 ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت دائود ( علیہ السلام) سے کوئی قصور سر زد ہوگیا تھا جس پر متنبہ کرنے کے لئے دو فرشتے مقدمہ لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ یہ قصور کیا تھا ؟ مفسرین نے اس بارے میں متعدد اقوال نقل کئے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں ” اور یا “ نامی ایک شخص تھا جس کی بیوی سے نکاح کرنے کے لئے حضرت دائود ( علیہ السلام) نے اسے جنگ کے محاذ پر بھیج دیا۔ چنناچہ وہ قتل ہوگیا تو نکاح کرلیا مگر یہ روایت بجیع الصور اسرائیلیات سے مآخوذ ہے اور اس لئے بھی ناقابل اعتبار ہے کہ اس سے ایک نبی کی عصمت پر دھبہ آتا ہے۔ قرآن کے اسلوب بیان سے جو اصل بات معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت دائود ( علیہ السلام) نے اس عورت سے نکاح کرنے کیلئے اس کے خاوند سے طلاق کا مطالبہ کیا ہوگا جو اگرچہ گناہ نہیں ( بشرطیکہ جبر نہ ہو) مگر ایک نبی کی شان کے منافی ہے، اس لئے قرآن نے اسے قصور قرار دیکر حضرت دائود کے لئے معافی کا اعلان کردیا۔ مقدمہ کی روداد میں ” و عزنی فی الخطاب “ اور ” لقد ظلمک بسوال “ کے الفاظ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ حضرت دائود ( علیہ السلام) کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے دوسرے فریق کے بیانات سنے بغیر ہی فیصلہ کردیا تھا۔ کماھر بہر صورت حضرت دائود ( علیہ السلام) سے کوئی ایسا جرم سر زد نہیں ہوا تھا جو انبیاء ( علیہ السلام) کی عصمت کے منافی ہو۔ واللہ اعلم ( ابن کثیر وغیرہ)
Ayahs 38:26–27

یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَیُضِلَّكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ۠ Open ayah 38:26 in the Quran reader

ہم نے دائود سے یہ بھی فرمایا دائود ہم نے تجھ کو زمین کا حاکم بنایا ہے تو لوگوں کا فیصلہ انصاف سے کیا کر اور نفس کی خواہش پر مت چل ایسا نہ ہو وہ تجھ کو خدا کے ٹھیک رستے سے بہکا دے بیشک جو لوگ اللہ کی راہ سے (حق اور انصاف سے) بہک جاتے ہیں انکو سخت سزا ملے گی اس وجہ سے کہ وہ حساب کا دن بھول گئے

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ Open ayah 38:27 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو ان دونوں کے بیچ میں ہے اس کو بےکار (بےفائدہ) نہیں بنایا5 یہ کافروں کا خیال ہے تو کافروں کی دوزخ سے خرابی ہونے والی ہے

ف 5 عینی محض کھیل تماشہ کے طور پر انہیں نہیں بنایا کہ اس میں نہ کوئی حکمت ہو، نہ اس کا کوئی مقصدہو اور نہ اس میں کئے جانے والے اچھے یا برے اعمال کا کوئی نتیجہ نکلنے والاہو۔
Ayah 38:28

اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ Open ayah 38:28 in the Quran reader

(بھلا یہ کیوں کر ہوسکتا ہے ض کیا جو لوگ ایمانلائے اور انہوں نے (محنت مشقت اٹھا کر) اچھے کام کئے ان کو ہم ان لوگوں کی طرح کردیں گے جنہوں نے ملک میں دھندہ6 مچایا کیا ہم پرہیز گاروں کو بدکاروں کی طرح کر دینگے7

ف 6 یعنی کفر و شرک کی راہ پر چلتے رہے۔7 اس سوال سے مقصود آخرت اور اس میں ہونے والے حساب و کتاب کی دلیل پیش کرنا ہے۔ یعنی اگر آخرت اور اس میں اعمال کا محاسبہ نہ ہو تو اس سے اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کے عدل و انصاف کی نفی ہوتی ہے اور اس سے کائنات کا پورا نظام محض ایک بےمقصد کھیل تماشہ ہو کر رہ جاتا ہے۔
Ayahs 38:29–31

كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 38:29 in the Quran reader

(اے پیغمبر) یہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس کو ہم نے تجھ پر اتارا بڑی برکت والی اس لئے کہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور عقل والے اس سے نصیحت لیں

وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ Open ayah 38:30 in the Quran reader

اور ہم نے دائود کو سلیمان بیٹا عنایت کیا اچھا بندہ وہ خدا کی طرف بہت رجوع رہنے والا تھا

اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ Open ayah 38:31 in the Quran reader

جب سورج ڈھلے پر اصیل عمدہ گھوڑے اس کے سامنے لائے گئے

ف 1 سلف (رح) اور اکثر مفسرین (رح) کہتے ہیں کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے یہ بات افسوس کے انداز میں اس وقت فرمائی جب وہ گھوڑوں کو دیکھنے میں مصروف رہے اور نسیان و غفلت کے سبب عصر کی نماز ( یا وظیفہ) کا وقت ختم ہوگیا جیسا کہ آنحضرت ﷺ سے بھی غزوہ خندق کے موقع پر کفار کی طرف سے شدید حملہ کے باعث عصر کی نماز رہ گئی تھی ( ابن کثیر) آیت کا یہ مطلب اس صورت میں ہے جب ” احببت “ کا ترجمہ آثرت (ترجیح دی) کیا جائے اور تورات ( چھپ گیا) کا فاعل محذوف مانا جائے یعنی الشمس ( سورج) ۔ بعض مفسرین نے ” عن “ کا ترجمہ کی وجہ سے کیا ہے یعنی ” میں نے مال گھوڑوں سے محبت اپنے رب کے ذکر کی وجہ سے کی یہاں تک کہ وہ گھوڑے نگاہ سے اوجھل ہوگئے۔ گویا اس آیت عن ذکر ربی میں حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے گھوڑوں سے محبت کی وجہ بیان کی ہے۔
Ayahs 38:32–33

فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ Open ayah 38:32 in the Quran reader

تو کہنے لگا میں نے مال کی گھوڑوں کی محبت اللہ کی یاد سے زیادہ چاہی یہاں تک کہ سورج پردے میں چھپ گیا ڈوب گیا

رُدُّوْهَا عَلَیَّ١ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ Open ayah 38:33 in the Quran reader

ان گھوڑوں کو پھر میرے سامنے لائو وہ لانے گئے تو ان کی ٹانگیں اور گردنیں تلوا رسے کاٹنا شروع کیں2

ف 2 لفظی ترجمہ یہ ہے کہ ” وہ ان کی ٹانگوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرے لگا “۔ اس کا اکثر مفسرین (رح) نے وہی مطلب بیان کیا ہے جو متن میں درج ہے۔ دوسرے مفسرین نے اس کا یہ مطلبی بیان کیا ہے کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) گھوڑوں کی ٹانگوں اور گردنوں سے غبار جھاڑنے لگے۔ ابن جریر (رح) نے اسی کو اختیار کیا ہے مگر حافظ ابن کثیر (رح) لکھتے ہیں کہ پہلا مطلب زیادہ صحیح ہے اور اسی پر ” فسخرنا لہ الریح۔۔۔ “ کا صلہ مل رہا ہے ( ابن کثیر) شاہ صاحب (رح) بھی لکھتے ہیں۔ پھر غصے ہوئے، ان گھوڑوں کو منگا کر کاٹ ڈالا یہ اللہ کی محبت کا جوش تھا ان کی تعریف فرمائی۔ ( موضح) ۔
Ayahs 38:34–35

وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ Open ayah 38:34 in the Quran reader

اور ہم نے سلمیان کو ایک بلا میں پھانسا اور اس کی سلطنت کی کرسی پر ایک دوسرا دھڑ ڈال دیا

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 38:35 in the Quran reader

پھر وہ خدا کی طرف رجوع ہوا کہنے لگا مالک میرے مجھ کو بخش دے اور ایسی بادشاہت دے جو میرے بعد کسی کو حاصل نہ ہو3 بیشک تو وہی بڑا دینے والا ہے4

ف 3 اس واقعہ کی تفصیل میں بہت سے علما نے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ کچھ عرصہ کیلئے اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے تخت پر صخر نامی ایک جن کو قابض کردیا تھا۔ اس کے مختلف اسباب میں سے ایک سبب یہ تھا کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کی ایک بیوی بت پرست تھی۔ اس کی یہ سزا ملی کہ جتنی مدت اس بیوی نے بت پرستی کی تھی اتنی مدت کیلئے حضرت سلیمان ( علیہ السلام) تخت سلطنت سے محروم کردیئے گئے اور ان کی انگوٹھی جس میں اسم اعظم تھا ایک لونڈی کے واسطہ سے صخر کے ہاتھ پڑگئی۔ اس کے ہاتھ سے وہ انگوٹھی دریا میں گرگئی اور ایک مچھلی نے اسے نگل لیا، پھر وہ مچھلی شکار ہو کر حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے پاس آئی اور اس طرح انہوں نے اس کے پیٹ سے انگوٹھی کو نکال کر پھر اپنا تخت واپس لے لیا، مگر یہ سارا قصہ اہل کتاب سے مآخوذ ہے اور اہل کتاب میں سے اکثر وہ ہیں جو حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کو اللہ کا نبی نہیں مانتے، ان کا مقصد انہیں زیادہ سے زیادہ بد نام کرنا ہے۔ ( ابن کثیر) بعض مفسرین (رح) نے اس آیت کی تفسیر صحیح بخاری کی ایک روایت سے کی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے فرمایا کہ آج میں اپنی ستر بیویوں سے ہم بستری کروں گا اور ان میں سے ہر ایک بیوی ایک شہسوار بچے کو جنم دے گی مگر انشاء اللہ کہنا بھول گئے نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں سے صرف ایک بیوی حاملہ ہوئی اور اس نے ایک ناقص بچے کو جنم دیا جو حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے تخت پر لا کر لٹایا گیا “۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے فرمایا : ” اگر وہ انشاء اللہ کہہ دیتے تو ہر بیوی سے مجاہد پیدا ہوتا۔ یہ واقعہ بیشک صحیح ہے مگر اسے زیر بحث آیت کی تفسیر میں قرار دینا تفسیر باالرائی ہے۔ جس حد تک ” فتنہ “ یعنی آزمائش کا تعلق ہے اسے تو قرآن نے بیان کیا ہے اور یہ کہ اس آزمائش سے متنبہ ہو کر حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے دعا کی جس کے آگے ذکر آرہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبولیت بخشی اور ان کی عظمت شان کو سراہا مگر اس آزمائش کی تعیین میں قرآن و حدیث سے کوئی تصریح نہیں ملتی اس لئے اسے مجمل ہی رہنے دیا۔ حافظ ابن کثیر (رح) اور ابن حزم (رح) اور بعض دوسرے جلیل القدر محدثین و مفسرین (رح) نے یہی راہ اختیار کی ہے۔ ( منہ)4 حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے رات کو نماز میں ایک شریر جن کو پکڑ لیا اور ارادہ کیا کہ اسے ستون سے باندھ دیا جائے تاکہ سب اسے دیکھیں مگر حضرت ﷺ کو سلیمان کی یہ دعا یاد آگئی اور اسے چھوڑ دیا۔ ( ابن کثیر)
Ayahs 38:36–38

فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَۙ Open ayah 38:36 in the Quran reader

تو ہم نے اس کی دعا قبول کی ہوا کو اس کے اختیار میں کردیا جہاں وہ پہنچنا چاہتا اس کے حکم سے دھیمی دھیمی اسی طرف چلتی

وَ الشَّیٰطِیْنَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَّ غَوَّاصٍۙ Open ayah 38:37 in the Quran reader

اور شیطانوں کو بھی جتنے ان میں معمار اور غوطہ خورت ہے (سب اس کے اختیار میں کردئے ض

وَّ اٰخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ Open ayah 38:38 in the Quran reader

اور دوسرے شیطانوں کو بھی جو طوقزنجیروں میں جکڑے رہتے5

ف 5 ان سے مراد وہ خدمت گار جن میں جنہیں ثمرات کی پاداش میں قید کیا جاتا تھا۔
Ayah 38:39

هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 38:39 in the Quran reader

اور ہم نے سلیمان سے کہا، یہ ہماری بےحساب دین ہے تو لوگوں کو اس میں سے دے یا رکھ چھوڑ6

ف 6 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ ہماری دین ہے۔۔۔۔۔ ( لوگوں کو اس میں سے دینے یا نہ دینے میں) تجھ پر کوئی محاسبہ نہیں ہے۔ “۔