38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 38:40–41

وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ۠ Open ayah 38:40 in the Quran reader

اور بیشک سلیمان کے لئے ہمارے پاس نزدیکی کا درجہ ہے اور اچھا ٹھکانا (یعنے بہشت )

وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ Open ayah 38:41 in the Quran reader

اور اے پیغمبر ہمارے بندے ایوب پیغمبر کو یاد کر جب اس نے اپنے مالک سے فریاد کی مجھ کو شیطان نے تھکا مارا اور عذاب میں ڈال دیا ہے7

ف 7 قرآن نے عموماً ایسے۔ امور کی نسبت شیطان کی طرف کی ہے جن میں شر یا ایذا کا کوئی پہلو پایا جاتا ہو۔ کیونکہ کسی نہ کسی قریب یا بعید وجہ میں ایسے امور کا تعلق شیطان ہی سے ہوتا ہے۔ اس معنی میں حضرت ایوب ( علیہ السلام) نے اپنی جسمانی بیماری یا مالی تکلیف کی نسبت شیطان کی طرف کردی ہے ورنہ انبیاء ( علیہ السلام) کے جسم و قلب پر شیطان کو تسلط نہیں ہوسکتا۔ جیسا کہ اس مقام پر تفسیروں میں اسرائیلی قصہ درج کیا گیا اور دعا ظ مبالغہ آمیزی کے ساتھ عوام کی دلچسپی کے لئے داستان گوئی کرتے رہتے ہیں۔ ( ابن حزم)
Ayah 38:42

اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ Open ayah 38:42 in the Quran reader

اپنا پائوں زمین پر مارا8 یہ ٹھنڈا پانی تیرے نہانے اور پینے کے لئے9

ف 8 یعنی ہم نے ان کی دعا قبول فرمائی اور حکم دیا کہ اپنا پائوں زمین پر مار۔9 یعنی زمین پر پائوں مارتے ہی ٹھنڈے پانی کا ایک چشمہ نمودار ہوا جس کا پانی پینا اور اس میں غسل کرنا حضرت ایوب ( علیہ السلام) کی بیماری کا علاج تھا چناچہ وہ اس سے پانی پینے اور غسل کرنے سے بالکل تندرست ہوگئے۔
Ayah 38:43

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 38:43 in the Quran reader

اور ہم نے اس کے گھر والے جتنے پہلے تھے اتنے10 اس کو لانے اور اتنے ہی اور یہ ہمدردی طرف سے (اس پر) مہربانی تھی اور نصیحت تھی عقلمندوں کے لئے11

ف 10 یعنی علاوہ پہلے اہل و عیال کے ہم نے انہیں مزید اولادعطا فرمائی۔11 کہ وہ بھی تکلیف و بیماری میں ان کی طرح صبر کریں اور ہماری رحمت و مہربانی کے متوقع رہیں۔
Ayah 38:44

وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:44 in the Quran reader

اور اپنے ہاتھ میں (سو) سنیکوں کا ایک مٹھالے پھر (اپنی جو رو کو اس سے مار دے اور قسم جھوٹی نہ کر1 بیشک ہم نے اس کو صبر کرنے والا پایا اچھا بندہ تھا وہ (خدا کی طرف) بہت رجوع رہنے والا تھا

ف 1 اس آیت کی تاویل میں مفسرین (رح) کہتے ہیں کہ حضرت ایوب ( علیہ السلام) نے ہماری کی حالت میں کسی وجہ سے اپنی بیوی پر ناراض ہو کر یہ قسم کھالی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا دی تو میں اسے سو کوڑے لگائوں گا۔ اب جو اللہ تعالیٰ نے انہیں صحت یاب کیا اور بیماری کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو انہیں پریشانی لا حق ہوئی کہ قسم کیسے پوری ہو ؟ چناچہ اس مشکل سے اللہ تعالیٰ انہیں طرح نکالا کہ ” سو تنکوں کی ایک جھاڑو لو اور اس سے اپنی بیوی پر ایک ہی ضرب لگا دو “۔ اس طرح قسم پوری ہوجائے گی اور بیوی بھی ناروا تکلف سے بچ جائے گی۔ اس رعایت کو حضرت ابن عباس ؓ اور بعض ائمہ (رح) ( جیسے امام مالک (رح) حضرت ایوب ( علیہ السلام) کے لئے خاص قرار دیا ہے اور بعض ائمہ ( جیسے امام ابوحنیفہ (رح) اور امام شافعی (رح) کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص قسم کھالے کہ فلاں شخص کو سو کوڑے یا چھڑیاں ماروں گا اور یہ نہ کہے کہ سخت ماروں گا یا دل سے اس کا ارادہ نہ کرے تو اس کے لئے اس رعایت سے فائدہ اٹھاناجائز ہے۔ ( شوکانی) بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض بوڑھے اور کمزور مجرموں پر حد جاری کرنے میں نبی ﷺ نے خود اسی طریقہ پر عمل فرمایا ہے۔ بعض لوگوں نے اس آیت سے حیلہ شرعی کے جواز پر استدلال کیا ہے۔ اگر یہ استدلال درست بھی ہو تب بھی اس سے وہ حیلہ جائز قرار نہیں پاتا جو کسی حرم کو حلال یا حلال کو حرام کرنے یا کسی شرعی فریضہ سے بچنے کے لئے کیا جائے۔ اگر کسی حیلہ کا جواز نکلتا ہے تو صرف اس اس کا جسے کسی گناہ یا ظلم سے بچنے کے لئے اختیار کیا جائے۔ ( روح المعانی)
Ayah 38:45

وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ Open ayah 38:45 in the Quran reader

اور اے پیغمبر ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کو یاد کر جو ہاتھ اور آنکھیں دونوں رکھتے تھے2

ف 2 ید ( جمع ایدی) کا لفظ عربی زبان میں نعمت اور طاقت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے ان انبیاء ( علیہ السلام) کے ہاتھوں والے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ عبادت کی بڑی طاقت رکھتے تھے یا ان پر اللہ تعالیٰ کے بہت سے انعامات تھے جن کے ذریعے وہ لوگوں پر احسان کیا کرتے تھے۔” آنکھوں “ کی تفسیر میں تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ ان سے مراد دینی بصیرت اور معرفت الٰہی ہے۔ ( شوکانی)
Ayah 38:46

اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ Open ayah 38:46 in the Quran reader

ہم نے ان کو خالص آخرت کی یاد کے لئے چن لیا تھا3

ف 3 یعنی وہ ہر معاملہ میں اپنے پیش نظر صرف آخرت رکھتے تھے۔ دنیا طلبی اور دنیا پرستی کا ان میں شائبہ تک نہ تھا۔
Ayahs 38:47–48

وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:47 in the Quran reader

اور وہ ہمارے پاس چنے ہوئے نیک بندوں میں سے تھے

وَ اذْكُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ وَ كُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:48 in the Quran reader

اور اے پیغمبر اسمعیل اور الیسع اور ذوالکفل (پیغمبروں کو) یاد کر اور یہ سب اچھے لوگوں میں سے تھے4

ف 4 حضرت بسع ( علیہ السلام) کا ذکر سورة ٔ انعام ( آیت 86) میں اور حضرت ذوالکفل ( علیہ السلام) کا ذکر سورة انبیاء ( آیت 85) میں گزر چکا ہے۔
Ayahs 38:49–50

هٰذَا ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:49 in the Quran reader

یہ تو دنیا میں ان کا ذکر خیر ہے اور پرہیز گاروں کیلئے آخرت میں بھی اچھا ٹھکانا ہے

جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ Open ayah 38:50 in the Quran reader

ہمیشہ رہنے کے5 باغ جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہیں

ف 5” عدن “ کے معنی رہنے کے بھی ہیں اور یہ جنت میں ایک محل کا نام بھی ہے اس لئے جنات عدن کا مطلب ہمیشہ رہنے کے باغ بھی ہوسکتا ہے اور عدن کے باغ بھی۔ ( شوکانی)
Ayah 38:51

مُتَّكِئِیْنَ فِیْهَا یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍ وَّ شَرَابٍ Open ayah 38:51 in the Quran reader

ان میں تکیے6 لگائے (بیٹھے ہوں گے وہاں کھانے کے لئے) بہت سے میوے منگوائیں گے اور (پینے کے لئے) شراب رمزے سے کھائیں پئیں گے

ف 6 یعنی ان کے پہنچتے ہی جنت کے دروازے ان کے لئے کھول دیئے جائیں گے۔ دیکھئے سورة ٔ زمر ( آیت 73)
Ayah 38:52

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ Open ayah 38:52 in the Quran reader

اور ان کے پاس نیچے نگاہ والی شرمگیں عورتیں7 ہوں گی ایک ہی عمر کی8

ف 7 یعنی اپنے شوہروں کے علاوہ کسی دوسرے مرد کی طرف نگاہ نہ اٹھائیں گی۔8 یعنی آپس میں ایک دوسرے کی ہم عمر یا اپنے شوہروں کی ہم عمر۔
Ayahs 38:53–59

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:53 in the Quran reader

یہ وہ نعمتیں ہیں جن کا تم سے قیامت کے دن وعدہ کیا جاتا ہے

اِنَّ هٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍۚۖ Open ayah 38:54 in the Quran reader

بیشک یہ ہماری دی ہوئی روزی ہوگی جو کھبی ختم ہوگی

هٰذَا١ؕ وَ اِنَّ لِلطّٰغِیْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:55 in the Quran reader

یہ تو (اچھوں کا حال ہوا) اور شریروں کے لئے برا ٹھکانا ہے

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 38:56 in the Quran reader

دوزخ اس میں جا پڑیں گے وہ برا بچھونا ہے (یا بری جگہ ہے)

هٰذَا١ۙ فَلْیَذُوْقُوْهُ حَمِیْمٌ وَّ غَسَّاقٌۙ Open ayah 38:57 in the Quran reader

یہ گرم کھولتا پانی اور پیپ اور اسی صورت کی

وَّ اٰخَرُ مِنْ شَكْلِهٖۤ اَزْوَاجٌؕ Open ayah 38:58 in the Quran reader

(یا اسی قسم کی) دوسری چیزیں (تیار ہیں) اس کو چکھیں

هٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ١ۚ لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ١ؕ اِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ Open ayah 38:59 in the Quran reader

یہ ایک فوج ہے جو تمہارے ساتھ (دوزخ میں) دھنسنے والی ہے9 دو رہوں (کمبخت ہاں سچ کہا) بیشک یہ بھی دوزخ میں جانیوالے ہیں

ف 9 یہ فرشتوں کا کلام ہے جو وہ دوزخیوں کے سرداروں سے اس وقت کہیں گے جب وہ دوزخ میں داخل ہو رہے ہوں گے اور باہران کے تابعدار کھڑے ہوں گے۔ 10 یہ دوزخیوں کے سرداروں کا کلام ہے جو وہ اپنے تابعداروں کے متعلق کہیں گے۔
Ayah 38:60

قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ١۫ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ١ؕ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْهُ لَنَا١ۚ فَبِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 38:60 in the Quran reader

(تابعدار لوگ) کہیں گے واہ تم دور ہو (کمبخت) تم ہی تو یہ بلا ہمارے سامنے لائے11 اب دونوں کیلئے برا ٹھکانا ہے (دوزخ)

ف 11 یعنی تم ہی نے تو ہمیں دنیا میں بہکا یا ورنہ ہم اس آفت میں نہ پھنستے۔
Ayah 38:61

قَالُوْا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِی النَّارِ Open ayah 38:61 in the Quran reader

دعا کریں گے مالک ہمارے جو شخص ہمارے آگے یہ بلا لایا اس کو دوزخ میں ہم سے زیادہ دو نا عذاب کرف 1

ف 1 ایک خود گمراہ ہونے کا اور دوسرا ہمیں گمراہ کرنے کا
Ayahs 38:62–63

وَ قَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِؕ Open ayah 38:62 in the Quran reader

اور دوزخی آپس میں کہیں گے کیا بات ہے وہ لوگ جن کو ہم دنیا میں بروں میں شمار کرتے تھے

اَتَّخَذْنٰهُمْ سِخْرِیًّا اَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْاَبْصَارُ Open ayah 38:63 in the Quran reader

یہاں دوزخ میں ہم کو نظر نہیں پڑتے کیا ہمارا ہنسنا ان کو (ناحق مسخرہ بنانا تھا یا ہماری آنکھیں ان سے چوک گئیں3

ف 2 مراد ہیں وہ اہل ایمان جنہیں کافر و مشرک لوگ دنیا میں حقیر و ذلیل سمجھ کر ان کا مذاق اڑا کرتے تھے۔3 یعنی کیا وہ واقعی سچے تھے اور ہم نے ان کا مذاق ناحق اڑایا اور آج وہ اپنی حق پرستی کی بدولت جنت میں داخل ہوگئے ہیں یا وہ یہیں کہیں دوزخ میں ہیں اور ہمیں نظر نہیں آرہے ؟
Ayahs 38:64–65

اِنَّ ذٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِ۠ Open ayah 38:64 in the Quran reader

یہ دوزخیوں کا آپس میں جھگڑنا (بالکل سچ ہے (جو ایک دن ضرور ہوگا

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنْذِرٌ١ۖۗ وَّ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُۚ Open ayah 38:65 in the Quran reader

( اے پیغمبر) کہہ دے میں تو اور کچھ نہیں اللہ کے عذاب سے تم کو ڈرانیوالا ہوں اور ایک خدا کے سوا جو سبر دبائو رکھنے والا ہے کوئی سچا خدا نہیں

ف 4 اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت قہاری بھی ہے اور غفاری بھی۔ وہ مومنوں کے لئے غفار، کافروں کے لئے قہار اور گناہ گاروں کیلئے ستار ہے۔ سبحان اللہ عزشانہ
Ayahs 38:66–67

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 38:66 in the Quran reader

وہ آسمان اور زمین کا مالک ہے اور جو ان دونوں کے بیچ میں ہے اس کا بھی زبردست ہے بہت بخشنے والا

قُلْ هُوَ نَبَؤٌا عَظِیْمٌۙ Open ayah 38:67 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کردے یہ ایک بڑی ہولناک خبر ہے

ف 5 یعنی یہ خبر جو میں تمہیں آخرت کے عذاب کی دے رہا ہوں بڑی ہولناک خبر ہے یا یہ قرآن کا اترنا ایک عظیم الشان واقعہ ہے۔ واضح رہے کہ ” نبا “ کے معنی کسی اہم خبر یا واقعہ کے ہیں۔
Ayah 38:68

اَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُوْنَ Open ayah 38:68 in the Quran reader

تم اس کا خیال نہیں کرتے6

( فتح)6” بلکہ غفلت میں پڑے ہوئے ہو “۔
Ayah 38:69

مَا كَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍۭ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰۤى اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 38:69 in the Quran reader

بھلا اوپر والے لوگ (فرشتے) جب جھگڑنے لگے تو مجھ تو کچھ بھی معلوم نہ تھا7

ف 7 یعنی اگر وحی نہ ہوتی تو مجھے کچھ بھی پتہ نہ چلتا کہ ” ملاء اعلی “ کیا تدبیریں کرتے ہیں۔ یہاں اختصام سے مراد وہ اختصام ہے جو آدم (علیہ السلام) کی فضلیت اور ابلیس کے سجدہ نہ کرنے کے بارے میں فرشتوں کے درمیان ہوا۔ ( ابن کثیر) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں اس مجلس میں جھگڑا نہیں مگر ہر کوئی اپنے کام کے تکرار کرتا ہے۔ ( موضح)
Ayah 38:70

اِنْ یُّوْحٰۤى اِلَیَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 38:70 in the Quran reader

مجھ کو تو یہی وحی کی جای ہے اور کچھ نہیں میں کھلا ڈرنے والا پیغمبر ہوں8

ف 8 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” مجھے تو محض اس لئے وحی کی جاتی ہے کہ میں کھلا ڈرانے والا پیغمبر ہوں اس کے سوا کچھ نہیں۔ آگے فرشتوں کا اختصام بیان فرمایا۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ایک یہ بھی فرشتوں کے تکرار تھے جو بیان فرمایا۔ ( موضح)
Ayahs 38:71–72

اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ Open ayah 38:71 in the Quran reader

جب تیرے مالک نے فرشتوں سے فرمایا میں کیچڑ سے ایک انسان بنانا چاہتا ہوں

فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ Open ayah 38:72 in the Quran reader

پھ رجب میں اس کو تیار کرلوں اور اس میں اپنی پیدا کی ہوئی جان پھونک9 دوں تو تم اس کے سامنے سجدے میں گرپڑتا

ف 9 شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : یعنی آب و خاک کی نہیں بنی غیب سے آئی۔ ( موضح)
Ayah 38:73

فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ Open ayah 38:73 in the Quran reader

تو سارے فرشتوں نے (سب نے) سجدہ کیا10

ف 10 یہ سجدہ جس کا فرشتوں کو حکم دیا گیا اور جس کی انہوں نے تعمیل کی، سلام و تعظیم کا سجدہ تھا نہ کہ عبادت کا۔ ( دیکھئے سورة بقرہ آیت 24)
Ayah 38:74

اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اِسْتَكْبَرَ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 38:74 in the Quran reader

مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا وہ شیخی میں آگیا اور منکر ہو بیٹھا11

ف 11 یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے کافر ہوگیا۔ یا کافروں ہی میں سے تھا۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ” یہ جن تھا وہ اکثر خدا کے حکم کے منکر تھے لیکن اب رہنے لگا تھا فرشتوں میں۔ ( موضح)
Ayah 38:75

قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ١ؕ اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ Open ayah 38:75 in the Quran reader

پروردگار نے فرمایا ابلیس تو نے اس کو کیوں سجدہ نہیں کیا جو میں نے اپنے (خاص) دونوں ہاتھ سے بنایا12 کیا تو شیخی میں آگیا یا حقیقت میں تیرا درجہ بنلد ہے13

ف 12 یعنی بلا واسطہ خود بنایا۔ یہاں اللہ تعالیٰ کے ” دونوں ہاتھوں “ کی تاویل بعض لوگوں نے قدرت سے کی ہے مگر صفات الٰہی میں تاویل جائز نہیں اور سلف (رح) کے مسلک کے خلاف ہے۔13 یعنی کیا اس مرتبہ کو پہنچ گیا ہے کہ میرا حکم نہ مانے
Ayah 38:76

قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ؕ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ Open ayah 38:76 in the Quran reader

ابلیس نے کہا (ایسے کیوں کر سجدہ کروں) میں تو اس سے بہتر ہوں مجھ کو تو نے آگ سے بنایا اور اس کو تو نے کیچڑ سے بنایا14

ف 14 اور ’ ’ آگ مٹی سے بہتر ہے “ یہ ابلیس کا استدلال تھا حالانکہ بدبخت یہ نہ جانتا تھا کہ مٹی آگ سے بہتر ہے کیونکہ مٹی کیلئے آگ کی حیثیت محض خادم کی ہے، اگر ضرورت ہو تو کام لیا جاتا ہے ورنہ بجھا دی جاتی ہے اور یوں بھی آگ پر مٹی ڈال دی جائے تو وہ اسے بجھا دیتی ہے۔ ( شوکانی)
Ayah 38:77

قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۚۖ Open ayah 38:77 in the Quran reader

پروردگار نے فرمایا پھر تو تو وہاں سے نکل جا15 کیوں کہ تو مردود ہوا

ف 15 یعنی جنت سے یا آسمان سے، یا ہماری درگاہ سے، یا فرشتوں کی جماعت سے نکل جا۔
Ayah 38:78

وَّ اِنَّ عَلَیْكَ لَعْنَتِیْۤ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ Open ayah 38:78 in the Quran reader

اور قیامت تک جھ پر میری پھٹکار برستی رہے گی1

ف 1 اور پھر قیامت کے بعد اپنے ان کرتوتوں کی سزا بھی بھگتے گا جو آدم ( علیہ السلام) کی پیدائش سے قیامت تک تجھ سے سر زد ہوں گے۔