37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 37:1–3

وَ الصّٰٓفّٰتِ صَفًّاۙ Open ayah 37:1 in the Quran reader

تم ان فرشتوں کی جو آسمان میں) قطار لگا کر صف باندھتے ہیں

فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًاۙ Open ayah 37:2 in the Quran reader

پھر ان فرشتوں کی جو ابر کو جھڑک کر ڈانٹتے ہیں

فَالتّٰلِیٰتِ ذِكْرًاۙ Open ayah 37:3 in the Quran reader

پھر ان فرشتوں کی جو قرآن کی تلاوت کرتے ہیں9

ف 9” صافات سے مراد وہ فرشتے ہیں جو آسمان میں ادائے عبادت یا فضا میں اللہ تعالیٰ کے نزول حکم کے انتظار میں صف بستہ کھڑے رہتے ہیں۔ فرشتوں کی صف بندی شرف و فضلیت میں درجات کے تفاوت کے اعتبار سے ہے۔ یعنی ہر ایک کے لئے جود رجہ مقرر ہے اسی پر قائم رہتا ہے اور اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی۔ ( دیکھئے سورة نباء : 38 و سورة فجر : 22) آنحضرت ﷺ نے نماز میں فر شتوں کی سی صف بندی کا حکم دیا ہے یعنی پہلی صف پوری ہونے کے بعد دوسری صف باندھی جائے اور صف میں مل کر کھڑا ہوجائے اور حدیث میں ہے کہ نماز میں فرشتوں کی طرف صف بندی کرنا اس امت کا خاصہ ہے۔ (وجعلت صفوفنا کصفوف الملائکہ) (مسلم، ابو دائود) اور زجر اسے مرادیہ ہے کہ وہ بادل کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیں یا لوگوں کو گناہوں سے بار رکھتے اور شیاطین کو استراق سمع سے ڈانٹتے ہیں۔ حاصل یہ کہ ” زاجوات “ سے مراد بھی فرشتے ہیں مگر بعض نے وہ نمازی مراد لئے ہیں جو میدان جنگ میں گھوڑوں کو ڈانٹ کر کافروں پر حملہ کرتے ہیں اور ذکرا سے مراد اکثر مفسرین (رح) نے قرآن لیا ہے اور تلاوت کرنے والوں سے فرشتے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : فرشتے کھڑے ہوتے ہی قطار ہو کر سننے کو اللہ کا حکم پھر جھڑکتے ہیں شیطانوں کو جو سننے کو جا لگتے ہیں پھر جب اتر چکا اس کو پڑھتے ہیں ایک دوسرے کو بتانے کو۔ ( موضح) ۔
Ayahs 37:4–5

اِنَّ اِلٰهَكُمْ لَوَاحِدٌؕ Open ayah 37:4 in the Quran reader

بیشک تم سب کا خدا ایک ہے

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ رَبُّ الْمَشَارِقِؕ Open ayah 37:5 in the Quran reader

جو آسمانوں اور زمین کا اور جو ان کے بیچ میں ہے ان کا مالک اور سورج جہاں جہاں سے نکلات ہے ان کا مالک1

ف 1 سورج سال بھر تک روزانہ ایک نئے مقام سے طلوع ہوتا رہتا ہے اور پھر ساری زمین پر وہ بیک وقت طلوع نہیں ہوتا بلکہ زمین کے مختلف حصوں میں وہ مختلف اوقات میں طلوع ہوتا ہے اس لئے آیت میں المشارق ( جمع) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور اس کے قرین ” ورب المغارف “ کو عربی محاورہ کے اعتبار سے حذف کردیا گیا ہے جیسے ” تقیکم الحر “ میں ہے نیز دیکھئے ( معارج 4) مقصد یہ ہے کہ کائنات کے اس نظام پر غور کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ الٰہ ( معبود) ایک ہی ہے جیسے فرمایا ( لو کان فیھما الھۃ الا اللہ لفسدنا) (کبیر) ۔
Ayahs 37:6–7

اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِزِیْنَةِ اِ۟لْكَوَاكِبِۙ Open ayah 37:6 in the Quran reader

ہم نے نزدیک والے (پہلے) آسمان کو آراستہ کیا تاروں سے جو بن دی

وَ حِفْظًا مِّنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِدٍۚ Open ayah 37:7 in the Quran reader

اور ہر ایک شیطان پاجی سے اس کو محفوظ کیا2

ف 2 یا مطلب یہ ہے کہ ہم نے تاروں کو زینت کے علاوہ اس لئے بنایا ہے کہ ہر پاجی شیطان سے آسمان کی حفاظت کی جائے۔ ( دیکھئے سورة ملک : 5)
Ayahs 37:8–10

لَا یَسَّمَّعُوْنَ اِلَى الْمَلَاِ الْاَعْلٰى وَ یُقْذَفُوْنَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍۗۖ Open ayah 37:8 in the Quran reader

وہ فرشتوں (کی باتوں) تک کان نہیں لگا سکتے اور ہر طرف آگ کے کوڑے مار کر ہانک دیئے جاتے ہیں

دُحُوْرًا وَّ لَهُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌۙ Open ayah 37:9 in the Quran reader

اور آخرت میں ہمیشہ کا عذاب ہوگا دیا سخت عذاب ہوگا ہں

اِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ ثَاقِبٌ Open ayah 37:10 in the Quran reader

مگر کوئی کوئی شیطان کبھی موقع پا کر کوئی بات اچک لے جاتا ہے پھر ایک چمکتا انگارا اس کے پیچھے پڑتا ہے3

ف 3 چناچہ کبھی تو وہ انگارہ نیچے کے شیطان تک اس بات کو پہنچانے سے پہلے ہی لگ کر اسے ہلاک کر ڈالتا ہے اور کبھی پہنچانے کے بعد پھر جب کلمہ کاہن تک پہنچ جاتا ہے تو کاہن اس میں سو طرح کے جھوٹ ملا کر لوگوں کے درمیان پھیلا دیتا ہے۔ ( کما ورد فی الحدیث) یہ بحث حکما اور علماء کے مابین مختلف فیہ چلی آئی ہے کہ آیا یہی تارے شہاب ثاقب کا بھی کام دیتے ہیں یا وہ شہاب ان کے علاوہ ہیں یا ان تاروں کی گرمی سے آگ پیدا ہو کر ہی انگارہ بن جاتا ہے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ” انہی تاروں کی روشنی سے آگ نکلتی ہے جس سے شیطانوں کو مار پڑتی ہے جیسے سورج اور آتشی شیشے سے ( حجر : 16، 18)
Ayah 37:11

فَاسْتَفْتِهِمْ اَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّنْ طِیْنٍ لَّازِبٍ Open ayah 37:11 in the Quran reader

اے پیغمبر اب ان کافروں سے پوچھ ان کا دوبارہ پیدا کرنا مشکل ہے یا جو ہم پیدا کرچکے ہیں ہم نے4 شروع میں ان آدمیوں کو لیسدار کیچڑ سے بنایا

ف 4 اور ظاہر ہے کہ جو خدا اتنی عظیم الشان اور لا تعداد مخلوقات کو وجود میں لاسکتا ہے اس کے لئے انسانوں کو دوبارہ زندگی بخشتا کچھ مشکل نہیں ہوسکتا۔
Ayah 37:12

بَلْ عَجِبْتَ وَ یَسْخَرُوْنَ۪ Open ayah 37:12 in the Quran reader

(اے پیغمبر بات یہ ہے کہ تو تو تعجب کرتا ہے5 اور وہ (تجھ سے یا تیرے تعجب پر) ٹھٹھا کرتے ہیں

ف 5 تعجب کرنے سے مراد آپ ﷺ کا اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے کرشموں پر تعجب کرنا ہے۔
Ayahs 37:13–18

وَ اِذَا ذُكِّرُوْا لَا یَذْكُرُوْنَ۪ Open ayah 37:13 in the Quran reader

اور جب ان کو نصیحت کی جاتی ہے تو سمجھتے نہیں

وَ اِذَا رَاَوْا اٰیَةً یَّسْتَسْخِرُوْنَ۪ Open ayah 37:14 in the Quran reader

اور جب کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو ہنسی اڑاتے ہیں

وَ قَالُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 37:15 in the Quran reader

اور کہتے ہیں یہ تو کچھ نہیں کھلا جادو ہے

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 37:16 in the Quran reader

کیا جب ہم مرجائیں گے اور گل سڑک کر خاک اور ہڈیاں رہ جائیں گی تو ہم دوبارہ زندہ ہو کر اٹھائے جائینگے

اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَؕ Open ayah 37:17 in the Quran reader

اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی اٹھائے جائیں گے

قُلْ نَعَمْ وَ اَنْتُمْ دَاخِرُوْنَۚ Open ayah 37:18 in the Quran reader

اے پیغمبران سے کہہ دے ہاں ضرور تم اٹھائے6 جائو گے اور ذلیل بھی ہو گے

ف 6 یا ” ًتم اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مقابلہ میں) بےبس اور حقیر ہو۔ جیسے فرمایا : ( وکل اتوہ واخرین) اور سب اس کے حضور بےبس ہو کر حاضر ہوں گے۔ ( نمل : 87)
Ayah 37:19

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ فَاِذَا هُمْ یَنْظُرُوْنَ Open ayah 37:19 in the Quran reader

قیامت کیا ہے بس ایک ڈانٹ (جھڑکی)7 ایک ہی ایکا (سب زندہ ہو کر دیکھنے لگیں گے

ف 7 یعنی نفخہ صور اوپر بعث و قیامت کے امکان پر دلائل قائم فرمائے۔ اب اس کے وقوع کا بیان ہے۔ ( کبیر)
Ayahs 37:20–22

وَ قَالُوْا یٰوَیْلَنَا هٰذَا یَوْمُ الدِّیْنِ Open ayah 37:20 in the Quran reader

اور کافر کہنے لگیں گے ہائے ہماری خرابی یہ تو بدلے کا دن معلوم ہوتا ہے

هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ۠ Open ayah 37:21 in the Quran reader

(فرشتے کہیں گے) یہی تو فیصلے کا وہ دن ہے جس کو تم (دنیا میں) جھٹلاتے تھے

اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَ اَزْوَاجَهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 37:22 in the Quran reader

گنہگاروں کو اور ان کے جوڑ والوں کو اور جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا یہ پوجتے تھے8

ف 8 جوڑ والوں سے مراد ان کے وہ ساتھی اور رفیق ہیں جو انہی کی طرح شرک و کفر میں مبتلا تھے۔ یا ان سے مرادان کی وہ بیویواں ہیں جو سرکشی و بغاوت پر ان کے موافقت کیا کرتی تھیں اور ان کی روش سے خوش تھیں۔ حضرت عمر ؓ نے ان سے گناہ گاروں کی الگ الگ ٹولیاں مراد لی ہیں۔ یعنی سود خوروں کا الگ جتھا ہوگا اور زنا کرنے والوں کا الگ اور شراب نوشوں کا الگ۔ (شوکانی)
Ayah 37:23

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَاهْدُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:23 in the Quran reader

بت اور شیطان وغیرہ سب کو اکٹھا کرو پھر ان کو دوزخ کا رستہ بتلائو1

ف 1 یعنی انہیں دوزخ کی طرف ہانک لے جائو۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ فرشتے دوزخ کے پہرہ داروں سے کہیں گے۔ ( کذافی الوحیدی)
Ayah 37:24

وَ قِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْئُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:24 in the Quran reader

اور ذرا ان کو ٹھیرائو تو ان سے کچھ پوچھنا ہے2

ف 2 علماء نے لکھا ہے کہ پہلے حکم ہوگا کہ ان کو صراط جہنم کی طرف لے جائو، پھر صراط پر روک لیا جائے اور ان سے تفریح و توبیخ کے طور پر کہا جائے گا جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ جس نے کسی چیز کی طرف دعوت دی وہ اس کے ساتھ کھڑا کیا جائے گا اور اس سے جدا نہیں ہو سکے گا اور جس نے کسی شخص کو دعوت دی ( وہ بھی اس کے ساتھ کھڑا کیا جائے گا) پھر یہ آیت تلاوت کی۔ (شوکانی)
Ayah 37:25

مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ Open ayah 37:25 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوا ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے3

ف 3 جس طرح دنیا میں کیا کرتے تھے بلکہ تم تو کہا کرتے تھے ” نحن جمیع منتصر “ یا جیسا کہ تمہارا دعویٰ تھا کہ قیامت کے روز ہمارے معبود ہمیں بچا لیں گے۔ ( ابن کثیر)
Ayah 37:26

بَلْ هُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ Open ayah 37:26 in the Quran reader

وہ کچھ جو اب نہ دینگے ض بلکہ آج گردن جھکائے کھڑے ہیں4

ف 4 یعنی ان کی تمام اکڑ نون جاتی رہی۔ اب وہ عاجزو فرمانبردار بنے کھڑے ہیں اور کسی طرح اللہ تعالیٰ کے حکم سے گریز نہیں کرسکتے۔ ( ابن کثیر)
Ayahs 37:27–28

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:27 in the Quran reader

اور ایک دوسرے کی طرف منہ کر کے پوچھ باچھ کرینگے کافر شیطانوں سے پوچھیں گے)

قَالُوْۤا اِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ Open ayah 37:28 in the Quran reader

کہیں گے تم ہی تو ہم پر بہکانے کے لئے پلے آتے تھے5

ف 5 اور زور و قوت دکھلا کر ہمیں مرعوب کرتے اور بہکانے کیلئے ہم پر چڑھ چڑھ کر آیا کرتے تھے۔ اس صورت میں یمین ( داہنا ہاتھ) سے مراد قوت ہوگی۔ اکثر مفسرین (رح) نے اس کے معنی دائیں جانب کیے ہیں اور ” دائیں جانب “ سے مراد خیر خواہی نیکی اور دین حق کی جانب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم آ کر ہمیں خیر خواہی، نیکی اور دین حق کی راہ سے بہکاتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ جس چیز کا ہم تمہیں حکم دیتے ہیں نیکی اور حق وہی ہے اور اگر عن الیمین کے معنی قسم کے لئے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ تم ہی قسمیں کھا کھا کر اپنے اپنے آپ کو ہمارا خیر خواہ ظاہر کرتے تھے۔ بہر حال یہ بات کافر شیاطین سے کہیں گے یا تابعدار اپنے رئیسوں سے۔ ( ابن کثیر، قرطبی)
Ayah 37:29

قَالُوْا بَلْ لَّمْ تَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 37:29 in the Quran reader

وہ کہیں گے (واہ) تم خود ایمان دار نہ تھے6

ف 6 کہ ہم تمہیں ایمان سے کفر کی طرف پھیرتے بلکہ تم اصل میں کافر تھے اور پھر اسی پر قائم رہے۔
Ayah 37:30

وَ مَا كَانَ لَنَا عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ١ۚ بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِیْنَ Open ayah 37:30 in the Quran reader

اور ہمارا کچھ زور تو تم پر تھا ہی نہیں بلکہ تم خود شریر لوگ تھے7

ف 7 یعنی خود تمہارے خمیر میں طغیان و سرکشی بھری تھی اس لئے تم نے حق کو چھوڑ کر ہماری اتباع کی تھی اور انبیاء کی مخالفت پر کمر باندھ لی تھی۔ ( ابن کثیر)
Ayah 37:31

فَحَقَّ عَلَیْنَا قَوْلُ رَبِّنَاۤ١ۖۗ اِنَّا لَذَآئِقُوْنَ Open ayah 37:31 in the Quran reader

خیر اب تو ہمارے مالک کا فرمودہ ہم پر پورا ہوا ہم سب کو عذاب کا مزہ چکھنا ہوگا8

ف 8 مالک کے فرمودہ سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ قول ہے جو اس نے حضرت آدم ( علیہ السلام) کی پیدائش کے بعد شیطان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا : (لا ملان جھنم منک و ممن تبعک منھم اجمعین ) (کذافی الموضح)
Ayah 37:32

فَاَغْوَیْنٰكُمْ اِنَّا كُنَّا غٰوِیْنَ Open ayah 37:32 in the Quran reader

ہم خود گمراہ تھے اس لئے تم کو بھی گمراہ کیا9

ف 9 کیونکہ جو گمراہ ہوتا ہے وہ لازماً یہ چاہتا ہے کہ دوسرے بھی اس جیسے ہوجائیں تاکہ کوئی کسی کو ملامت کرنے والا نہ رہے۔ یہ پانچ باتیں شیطان یارئیس اپنے تابعداروں سے کہیں گے۔ ( فتح البیان)
Ayah 37:33

فَاِنَّهُمْ یَوْمَئِذٍ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 37:33 in the Quran reader

(ض اس دن یہ ہوگا وہ سب عذاب میں شریک ہوں گے10

ف 10 یعنی پیروی کرنے والے بھی اور پیشوا بھی گمراہ ہونے والے بھی اور گمراہ کرنے والے بھی سب ہی اپنی اپنی گمراہی کے مطابق عذاب میں شریک ہوں گے جیسے گمراہی میں شریک تھے۔ کسی کا کوئی عذر قبول کر کے اسے معافی نہیں دی جائیگی۔
Ayahs 37:34–35

اِنَّا كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 37:34 in the Quran reader

ہم گنہگاروں (مشرکوں) کے ساتھ ایسا ہی برتائو کرت ہیں

اِنَّهُمْ كَانُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ١ۙ یَسْتَكْبِرُوْنَۙ Open ayah 37:35 in the Quran reader

ان کو ایی ہی سزا دیتے ہیں ان لوگوں سے جب کہا جاتا تھا لا الہ الا اللہ (کہو) تو اکڑ بیٹھتے تھے11

ف 11 یعنی کلمہ توحید کو قبول کرنا اپنی کسر شان سمجھتے تھے۔
Ayahs 37:36–37

وَ یَقُوْلُوْنَ اَئِنَّا لَتَارِكُوْۤا اٰلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍؕ Open ayah 37:36 in the Quran reader

اور کہتے تھے کیا ہم ایک بائولے شاعر کے کہنے سے اپنے دیوتائوں کو چھوڑ دیں

بَلْ جَآءَ بِالْحَقِّ وَ صَدَّقَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 37:37 in the Quran reader

پیغمبر تو نہ بائولا ہے12 نہ شاعر بلکہ سچا کلام (قرآن یا سچا دین) لے کر آیا ہے اور (اگلے) پیغمبروں کو سچا بتاتا ہے13

ف 12 یہ بدبخت آنحضرت ﷺ کو جو تمام جہان کے لوگوں سے علم و عقل زیادہ رکھتے تھے بائو لا شاعرکہتے 13 یعنی وہی دعوت پیش کرتا ہے جسے پچھلے تمام انبیاء پیش کرتے رہے ہیں یا اس تصدیق سے مراد یہ ہے کہ گزشتہ انبیاء ( علیہ السلام) نے نبی آخر الزمان ﷺ کی جو صفات بیان کی تھیں وہ سب کی سب اس نبی ﷺ میں موجود ہیں۔ ( ابن کثیر)
Ayah 37:38

اِنَّكُمْ لَذَآئِقُوا الْعَذَابِ الْاَلِیْمِۚ Open ayah 37:38 in the Quran reader

تم کو ضرور تکلیف کا عذاب ہونے والا ہے14

ف 14 یعنی کفر و شرک کی جو روش تم نے اختیار کی اور رسولوں کی جو تکذیب تم کرتے رہے اس کی سزا تمہیں مل کر رہے گی۔