36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 36:1
ف 5 یٰسین حروف مقلعات میں سے ہے جن کی تشریح سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور بعض تابعین ؓ نے اس کے معنی اے مرد یا اے انسان اور بعض نے یا سید البشر ﷺ ( اے انسانوں کے سردار) بیان کئے ہیں۔ اس لحاظ سے اس کے مخاطب آنحضرت ﷺ ہیں۔ امام مالک فرماتے ہیں : یہ اسمائے حسنیٰ میں سے ہے۔ واللہ اعلم (شوکانی)
Ayah 36:2

وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 36:2 in the Quran reader

قسم ہے حکمت والے قرآن کی6

ف 6 یعنی اس قرنٓن کی جو حکمت اور دانئی کی باتوں سے لبریز ہے یا جو اس قدر محکم ( پختہ) ہے کہ اس میں کوئی اختلاف اور تناقض نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بعد میں جو بات بیان کی جا رہی ہے اس کی صحبت پر قرآن حکیم شاہد ہے اور فی الواقع یہ قرآن معجزہ ہے جو آنحضرت ﷺ کو دیا گیا ہے۔
Ayah 36:3

اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:3 in the Quran reader

بیشک تو پیغمبروں میں سے (ایک پیغمبر) ہے7

ف 7 اس کا یہ مطلب نہیں کہ معاذ اللہ نبی ﷺ کو اپنے پیغمبر ہونے میں کوئی شک تھا، بلکہ اس سے مقصود ان کفار قریش کی تردید ہے جو آنحضرت ﷺ سے کہا کرتے تھے ( لست مرسلا) تم اللہ کے بھیجے ہوئے نہیں ہو۔
Ayah 36:4

عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍؕ Open ayah 36:4 in the Quran reader

سیدھے رستے پر8

ف 8 یعنی دین توحید پر جو سیدھا اللہ تک پہنچاتا ہے اور اس میں نہ افراط ہے اور نہ تفریط۔
Ayahs 36:5–6

تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 36:5 in the Quran reader

(یہ قرآن) زبردست رحم والے (خدا) کا اتارا ہوا ہے

لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 36:6 in the Quran reader

اس لئے کہ تو عرب کے ان لوگوں کو ڈرائے جن کے باپ دادے نہیں ڈرائے گئے کوئی پیغمبر ان کے پاس نہیں آیا9 اور وہ دین کی باتوں سے غافل ہیں

ف 9 باپ دادا سے مراد قریب کے باپ دادا ہیں کیونکہ عربوں میں نبی ﷺ سے پہلے حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) کے بعد کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ یہ ترجمہ اس صورت میں ہے جب ماانذر میں ما کو نافیہ قرار دیا جائے اور اگر اسے موصولہ بمعنی جو مان لیا جائے تو ترجمہ یہ ہوگا اس لئے کہ تو عرب کے ان لوگوں کو ڈرائے جن کے باپ دادا ڈرائے گئے تھے کیونکہ وہ دین کی باتوں سے غافل ہوچکے تھے۔ اس صورت میں آباء سے مراد قدیم آباء ہونگے جن کی طرف حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) کی بعثت ہوئی۔ ( تنبیہ) قرآن کی دوسری آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کی بعثت سب کے لئے عام تھی اور صحیح احادیث میں بھی آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ میری نبوت عام ہے۔ پس یہاں لتنذر قوما کی تخصیص محض قریش کے جواب میں ہے۔ ( ابن کثیر)
Ayah 36:7

لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰۤى اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:7 in the Quran reader

ان میں سے اکثر لوگوں پر تو اللہ کا فرمان اپورا ہوچکا ہے10 تو وہ ایمان نہ لائیں گے

ف 10 یعنی اللہ تعالیٰ کا وہ قول جو اس نے روز اول میں فرمایا تھا کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سے بھروں گا۔
Ayah 36:8

اِنَّا جَعَلْنَا فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِیَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ Open ayah 36:8 in the Quran reader

ہم نے ان کی گردنوں میں (بھاری بھاری) طوق ڈال دیئے ہیں وہ ٹھڈیوں تک (پھنسے ہوئے ہیں) تو وہ اپنے سر اٹھائے ہوئے ہیں11

ف 11 مطلب یہ ہے کہ طوقوں کی وجہ سے وہ نہ سر جھکا سکتے ہیں، اور نہ ادھر ادھر دیکھ سکتے ہیں۔ اس لئے وہ اپنے سر اٹھائے کھڑے ہیں۔ یہاں طوق کا لفظ ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہدایت سے محروم ہونے کیلئے بطور مثال ذکر کیا گیا ہے۔ ( ابن کثیر) ۔
Ayah 36:9

وَ جَعَلْنَا مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰهُمْ فَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:9 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے سامنے آڑ کردی ہے اور ان کے پیچھے آڑ (کر دی ہے) اور اوپر سے ان کو ڈھانک دیا ہے تو وہ دیکھ ہی نہیں سکتے12

ف 12 یعنی جب وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی میں دن بدن پختہ ہی ہوتے چلے گئے تو اس کا نتیجہ یہ نکالا ہم نے انہیں یہ سزا دی کہ انکے آگے پیچھے ایسے اسباب۔ نسلی تعصبات، باپ دادا کی اندھی تقلید اور قومی رسوم و عادات کی بےجا پابندی وغیرہ۔ پیدا کردیئے جو انکے لانے کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور انکی آنکھوں پر غلط فہمیوں کی پٹی باندھ دی جسکی وجہ سے انہیں حق بات سوجھ ہی نہیں سکتی۔ اب انکے سامنے کوئی کھلی سے کھلی دلیل بھی آجائے تو وہ اسکی طرف توجہ نہیں دے سکتے۔
Ayah 36:10

وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:10 in the Quran reader

اور اے پیغمبر ان کافروں کو تو اللہ سے ڈرائے یا نہ ڈرائے دونوں ان کو برابر ہیں وہ (کبھی) ماننے والے نہیں13

ف 13 اسکے یہ معنی نہیں ہیں کہ انہیں سمجھانا اور تبلیغ کرنا چھوڑ دیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب آپ ﷺ عام لوگوں کو سمجھائیں گے اور عام تبلیغ کرینگے تو آپ ﷺ کو دو قسم کے لوگوں سے سابقہ پیش آئیگا۔ ایک وہ لوگ جن پر آپ ﷺ کی تبلیغ کوئی اثر نہ کریگی اور وہ اپنے کفر و شرک پر بضد رہیں گے۔ اس آیت میں انہیں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ( بقرہ : 6)
Ayah 36:11

اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ١ۚ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ اَجْرٍ كَرِیْمٍ Open ayah 36:11 in the Quran reader

تو تو اسی شخص کو ڈرا سکتا ہے14 جو قرآن کی پیروی کرے یا نصیحت پر چلے) اور بن دیکھے خدا سے ڈرے اس کو گناہوں کی) بخشش اور اچھے ثواب کی خوشخبری سنا

ف 14 یعنی آپ ﷺ کی تبلیغ سے وہی شخص فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
Ayah 36:12

اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْ١ۣؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 36:12 in the Quran reader

بیشک ہم (قیامت میں) مردوں کو لجائیں گے اور (نیک) کام وہ آگے بھیج چکے اور نشانیاں1(جو وہ پیچھے چھوڑ گئے) ہم انکو لکھ لیتے ہیں اور ہم نے ہر چیز ایک روشن کتاب لوح محفوظ میں جوڑ لی ہے کوئی چیز نہیں چھوڑی)

ف 1 یعنی از اعمال خیر و شر ( فتح الرحمن) پیچھے چھوڑے جانیوالے نشانیوں سے مراد وہ نیکیاں یا برائیاں ہیں جن کے ثواب، گناہ کا سلسلہ آدمی کے مرنے کے بعد بھیزجاری رہے جیسے کوئی شخص ایسا نیک یا بد طریقہ جاری کرے جس پر لوگ اس کے بعد بھی عمل کریں اور ان کے ساتھ ساتھ اسے بھی اس کا ثواب یا گناہ ملتا رہے۔ بعض صحابہ ؓ وتابعین ؓ نے آثار سے مراد پائوں کے نشان لئے ہیں۔ جیسا کہ ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ قبیلہ بنو سلمہ نے جو مدینہ کے ایک گوشہ میں رہتا تھا، یہ چاہا کہ اپنے پرانے گھروں کو چھوڑ کر مسجد نبوی ﷺ کے قریب آ کر آباد ہوجائے۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی، چناچہ آنحضرت ﷺ نے انہیں بلایا اور فرمایا ( یا بنی سلمۃ دیار کم تکتب آثار کم) اے بنی سلمہ ! اپنے موجودہ گھروں میں ٹکے رہو۔ تمہارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں۔ یہ بھی اپنی جگہ صحیح ہے مگر آیت کو عموم پر محمول کرنا زیادہ بہتر ہے یعنی یہ آثار سے مراد پائوں کے نشان بھی ہیں اور خیر و شر کے پیچھے چھوڑے ہوئے نشان بھی ( شوکانی)
Ayah 36:13

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ Open ayah 36:13 in the Quran reader

اور اے پیغمبر ان لوگوں سے گائوں والوں کا قصہ بیان کر جب ان کے پاس اللہ تعالیٰ کے پیغمبر آئے2

ف 2 اس بستی سے مراد کونسی بستی ہے اور وہ پیغمبر کون تھے جو اس بستی کی طرف بھیجے گئے تھے ؟ اس کی قرآن یا کسی صحیح حدیث میں تصریح نہیں ہے۔ ابن اسحاق کی روایت کے مطابق گر قدیم مفسرین (رح) بالعموم اس طرف گئے ہیں کہ اس بستی سے مراد شام کا شہرانطاکیہ ہے اور جن پیغمبروں کا ذکر کیا گیا ہے حضرت عیسیٰ کے حواری تھے جنہیں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے تبلیغ کے لئے وہاں بھیجا تھا۔ شاہ صاحب (رح) نے بھی اپنی توضیح میں یہی لکھا ہے مگر یہ توضیح بچندوجوہ صحیح معلوم نہیں ہوتی۔ اول یہ ہے کہ قرآن نے ان پیغمبروں کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے کی تصریح کی ہے اور پھر اگر وہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے حواری ہوتے تو بستی والے ان پر یہ اعتراض نہ کرتے کہ تم ہماری طرح کے بشر ہو اور اللہ تعالیٰ نے کوئی کتاب نہیں اتاری بلکہ ان کے مابین سوال و جواب کا طریقہ کوئی اور ہوتا جس سے پتہ چلتا کہ وہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی طرف سے بھیجے ہوئے حواری تھے۔ دوسرے یہ بات تاریخی طور پر ثابت ہے کہ انطاکیہ اور اسکندریہ ان شہروں میں ہیں جن کے تمام باشندے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) پر سب سے پہلے ایمان لائے اس لئے انطاکیہ عیسائیوں کے چار بڑے مراکز میں سے ایک مرکز رہا ہے۔ تیسرے جیسا کہ آگے آرہا ہے قرآن کی تصریح کے مطابق یہ بستی تباہ کردی گئی حالانکہ انطاکیہ والوں کے ساتھ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے حواریوں کا قصہ توراۃ کے نازل ہونے کے بعد پیش آیا اور حضرت ابو سعید خدری ؓ اور دیگر صحابہ کہتے ہیں کہ توراۃ نازل ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے کسی بستی کو عام عذاب بھیج کر تباہ نہیں کیا۔ مستدرک حاکم کی ایک مرفوع روایت سے بھی ثابت ہے جسے حاکم نے صحیح کہا ہے ( دیکھئے سورة قصص 43) اور یہ جو آیا ہے کہ حضرت علی ؓ کا اس امت میں وہی مرتبہ ہے جو حضرت مسیح ( علیہ السلام) کی امت میں اس شخص کا ہے جس کا ذکر سورة یٰسین میں ہے تو یہ روایت ضعیف ہے اور اس کی سند میں حسین بن حسن الاشقرراوی ہے جو غالی شیعہ ہے۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ قرآن نے جس بستی کا ذکر کیا ہے اس سے مراد انطاکیہ نہیں بلکہ اور کوئی بستی ہے جو تباہ کردی گئی اور یہ واقعہ نزول توراۃ سے قبل کا ہے ممکن ہے اس نام کی اس سے پہلے بھی کوئی بستی ہو۔ ( احسن الفوائد بن کثیر وغیرہ)
Ayahs 36:14–18

اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ Open ayah 36:14 in the Quran reader

جب ہم نے ان کی طرف دو پیغمبر بھیجے انہوں نے دونوں کو جھٹلایا تو ہم نے تیسرے پیغمبر کو مدد کے لئے بھیجا ان تنیوں نے مل کر) یہ کہا ہم تمہایر پاس خدا کی طرف سے) بھیجے گئے ہیں

قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۙ وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ Open ayah 36:15 in the Quran reader

وہ کہنے لگے تم تو ہماری طرح ایک آدمی ہو اور اللہ تعالیٰ نے کوئی کتاب نہیں اتاری تم تو بس نرے جھوٹے ہو

قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:16 in the Quran reader

پیغمبروں نے کہا ہمارا مالک جانتا ہے (خدا گواہ ہے) کہ ہم بیشک تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں

وَ مَا عَلَیْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 36:17 in the Quran reader

اور ہمارا کام اور کچھ نہیں صرفکھول کر تم کو سنا دینا ہے (خدا کا حکم پہنچا دینا)

قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 36:18 in the Quran reader

وہ کہنے لگے تمہارا آنا تو ہم پر منحوس ہوا3 دیکھو تم اپنی باتوں سے اگر باز نہ آئو گے تو ہم تم کو پتھروں سے مار ڈالیں گے اور ہماری طرف سے تم کو سخت تکلیف پہنچے گی

ف 3 یہ بھی اسی قسم کی بات ہے جو کفار مکہ نے آنحضرت ﷺ سے کہی ( سورة نساء : 77) اور جو قوم ثمود نے حضرت صالح ( علیہ السلام) سے کہی ( نمل : 47) اور جو فرعون کی قوم والے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کے بارے میں کہا کرتے تھے۔ (اعراف : 3)
Ayah 36:19

قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 36:19 in the Quran reader

پیغمبروں نے کہا یہ تو خود تمہاری نحوست ہے جو تمہارے ساتھ ہے تم کو جو اچھے کام کرنے کی صبحت کی گئی تو لگے نصیحت کرنیوالے ہی کو منحوس کہین4 بات یہ ہے کہ تم لوگ بیوقوفی میں حد سے بڑھ گئے ہو

ف 4 اس لئے اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ برے کام خود کرتے ہو اور منحوس ان لوگوں کو بتاتے ہو جو تمہیں برائی سے منع کرتے ہیں۔ یا ” تم لوگ ( کفر و سرکشی میں) حد سے بڑھ گئے ہو “۔ اس لئے ہماری دعوت کو قبول کرنے کی بجائے اسے اوہام و خرافات سے رد کرنا چاہتے ہو۔
Ayahs 36:20–22

وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:20 in the Quran reader

اور شہر کے پرلے سرے سے ایک مرد دوڑتا ہوا آیا کہنے لگا بھائیو پیغمبر کا کہنا مان و

اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْئَلُكُمْ اَجْرًا وَّ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 36:21 in the Quran reader

ان لوگوں کا کہنا مان لو جو تم سے کچھ نیگ نہیں مانگتے اور وہ ٹھیک رستے پر ہیں

وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 36:22 in the Quran reader

اور مجھے کیا کچھ جنونض ہوا ہے اس خدا) کو نہ پوجوں جس نے مجھ کو پیدا کیا1 اور اسی کے پاس تم سب کو لوٹ کر جانا ہے2

ف 1 مقصود قوم کو توجہ دلانا ہے کہ جس طرح میرے لئے یہ صحیح نہیں ہے کہ اپنے پیدا کرنے والے کی عبادت نہ کروں اسی طرح تمہارے لئے بھی صحیح نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے سے باز رہو، کیونکہ میں ہوں یا تم سب کا پیدا کرنے والاوہی اللہ ہے۔2” اور اپنے اعمال کا بدلہ پانا چاہیے “
Ayah 36:23

ءَاَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنْ یُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا یُنْقِذُوْنِۚ Open ayah 36:23 in the Quran reader

کیا میں اس کے سوا دوسروں کو بھی خدا بنا لوں اور ان کا حال تو یہ ہے کہ) اگر خدا مجھ کو کوئی دکھ تکلیف دینا چاہے تو ان کی سفارش بھی میرے کچھ کام نہ آئے اور نہ وہ خود مجھ کو اس دکھ سے چھڑا سکیں3

ف 3 اس سے مقصود بھی دراصل قوم ہی کی توجہ دلانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جن جھوٹے معبودوں بتوں یا زندہ و مردہ ہستیوں کی تم بندگی کر رہ ہو ان کو یہ قدرت نہیں ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کی پاداش میں تمہیں پکڑنا اور سزا دینا چاہیے تو وہ تمہیں اپنے زور سے سفارش کرکے اس کی گرفت سے چھڑا سکیں۔ اس سے اس سفارش کی نفی نہیں ہوتی جو قیامت کے دن انبیاء ( علیہ السلام) فرشتے یا اللہ کے نیک بندے کریں گے کیونکہ وہ سفارش زور کی نہیں ہوگی بلکہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بعد اسکے حضور میں التجا ہوگی۔
Ayah 36:24

اِنِّیْۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:24 in the Quran reader

اگر میں ایسا کروں تو بیشک صریح نادان ہوں4

ف 4 یعنی یہ سب کچھ جاننے کے باوجود اگر میں انہیں اپنا مبعود بنا لوں۔
Ayah 36:25

اِنِّیْۤ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِؕ Open ayah 36:25 in the Quran reader

میں تو تمہارے مالک پر ایمان لایا ہوں تم سن رکھو5

ف 5 یعنی میں جس خدا پر ایمان لایا ہوں وہ میرا ہی نہیں تمہارا بھی پروردگار ہے لہٰذا تمہیں میری بات سننی چاہیے اور صرف ایک خدا پر ایمان لانا چاہیے۔ یہ اس شخص کا اپنی قوم سے خطاب ہے۔ بعض مفسرین (رح) نے اس جملہ کا مخاطب انبیاء ( علیہ السلام) کو قرار دیتے ہوئے یہ مطلب بیان کیا ہے ” اپے جس رب اللہ تعالیٰ کی طرف تم دعوت دے رہے ہوئیں اس پر ایمان لے آیا، تم میرے مومن ہونے کے گواہ رہو “۔ یہ تاویل حضرت عبد اللہ بن ؓ مسعود سے منقول ہے جو ابن جریر (رح) اور قرطبی (رح) نے ذکر کی ہے اور حافظ ابن کثیر (رح) نے اسے اظہر قرار دیا ہے۔ بہر حال اس بات کے کہنے پر اس کی قوم کے لوگ اس پر پل پڑے اور اسے شہید کردیا۔ (ابن کثیر وغیرہ)
Ayah 36:26

قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ١ؕ قَالَ یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 36:26 in the Quran reader

اس سے کہا گیا (حق تعالیٰ نے فرمایا مزے سے (بہشت میں داخل ہو6 وہ اس وقت بھی) کہنے لگا کاش میری قوم کو یہ معلوم ہوجاتا

ف 6 یعنی شہادت واقع ہوتے ہی اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت میں داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے کہ شہدا کی روحیں سبز پرندوں کی شکل میں جنت کے اندر جہاں اور جیسے چاہتی ہیں اڑتی پھرتی ہیں۔ ( دیکھئے بقرہ ( آیت 154)
Ayah 36:27

بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُكْرَمِیْنَ Open ayah 36:27 in the Quran reader

کہ میرے مالک نے مجھ کو بخش7 دیا اور عزت داروں میں مجھ کو شریک کیا (بہشت8 سرفراز فرمائیض

ف 7 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” کاش ! میری قوم کو معلوم ہوجاتا ہے کہ کس چیز کی بدولت میرے مالک نے مجھے بخش دیا پہلا ترجمہ ” بما “ کے ” ما “ کا مصدر یہ ہونے کے لحاظ سے ہے اور دوسرا ” ما ‘ کے استفہامیہ ہونے کے لحاظ سے ( شوکانی)8 تاکہ وہ بھی میری طرح کفر سے توبہ کرتے اور رسولوں پر ایمان لاتے اور جنت میں داخل ہوتے یا میرا حسن انجام ان کو معلوم ہوتا۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ” قوم نے اس سے دشمنی کی کہ مار ڈالا اس کو بہشت میں بھی قوم کی خیر خواہی رہی۔ اگر معلوم کریں میرا حال تو سب ایمان لاویں۔ ( کذافی القرطبی)
Ayah 36:28

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى قَوْمِهٖ مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ مَا كُنَّا مُنْزِلِیْنَ Open ayah 36:28 in the Quran reader

اور اس کے مرے بعد ہم نے اس کی قوم پر آسمان سے (فرشتوں کی) کوئی فوج نہیں اتاری اور نہ ہم کو ان کے تباہ کرنے کے لئے فوج اتارنے کی ضرورت تھی9

ف 9 چناچہ ان کے کفر و ظلم اور تکذیب انبیاء ( علیہ السلام) کی پاداش میں جب ہم نے انہیں ہلاک کرنے کا فیصلہ کیا تو یہ اہتمام نہیں کیا اور نہ اس اہتمام کی ضرورت تھی کہ آسمان سے فرشتوں کی فوج اتارتے جو انہیں ہلاک کرتی۔ جنگ بدر میں فرشتوں کی فوج کا نزول صرف آنحضرت ﷺ کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے تھا ورنہ کفار قریش کو ہلاک کرنے کیلئے تو فرشتے کے ایک بازو کی حرکت ہی کافی تھی اور پیغمبر ﷺ جن کا ذکر ہورہا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے مرتبہ کے نہ تھے کہ ان کی تعظیم کیلئے فرشتوں کی فوج اتارنے کی ضرورت پیش آتی۔ ( کبیر، شوکانی) ۔
Ayah 36:29

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ خٰمِدُوْنَ Open ayah 36:29 in the Quran reader

بس ایک چنگھاڑ کیدیر تھی وہ اس دم بچھ کر مر کر رہ گئے10

ف 10 تفاسیر میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل ( علیہ السلام) کو بھیجا، انہوں نے شہر کے دروازے پر کھڑے ہو کر ایک آواز بلند کی جس سے شہر میں ایک شخص بھی زندہ نہ رہا اور سب کے سب مرگئے۔ ( شوکانی)
Ayahs 36:30–31

یٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ١ۣۚ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 36:30 in the Quran reader

ہائے افسوس ہے بندوں پر جب ان کے پاس (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) کوئی پیغمبر آیا تو اس سے ٹھٹھا کرنے لگے

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّهُمْ اِلَیْهِمْ لَا یَرْجِعُوْنَؕ Open ayah 36:31 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے اس پر نظر نہیں الی کہ ہم نے ان سے آگے کتنی قوموں کو تباہ کردیا وہ اب ان کے پاس لوٹ کر آنے والے نہیں11

ف 11 یعنی ایسے ختم ہوگئے کہ ان کا نام و نشان تک باقی نہ رہا اور نہ ان کا کوئی نام لیوا رہا۔ یہاں ” لا یرجعوان “ کے لفظ میں ان لوگوں کا رد ہے جو بعض شخصیتوں کے موت کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر دنیا میں آنے کے قائل ہیں۔ (قرطبی)
Ayahs 36:32–33

وَ اِنْ كُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ۠ Open ayah 36:32 in the Quran reader

البتہ یہ سب لوگ (قیامت کے دن) ہمارے پاس حاضر ہوں گے

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَةُ١ۖۚ اَحْیَیْنٰهَا وَ اَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:33 in the Quran reader

اور ان کے لئے مردہ زمین (ہماری قدرت کی) نشانی ہے ہم نے پانی برسا کر) اس کو جلایا اور اس میں سے اناج نکالا یہ لوگ اسی میں سے کھاتے ہیں12

ف 12 جو خدا مردہ زمین میں جان ڈال سکتا ہے وہ اس چیز پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ انسانوں کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر کے اپنے حضور حاضر کرسکے۔
Ayahs 36:34–35

وَ جَعَلْنَا فِیْهَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ وَّ فَجَّرْنَا فِیْهَا مِنَ الْعُیُوْنِۙ Open ayah 36:34 in the Quran reader

اور زمین میں ہم نے کھجور اور انگور کے باغ لگائے اور اس میں (پانی کے) چشمے بہائے

لِیَاْكُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖ١ۙ وَ مَا عَمِلَتْهُ اَیْدِیْهِمْ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:35 in the Quran reader

اس لئے کہ یہ لوگ اس کا میوہ کھائیں اور میوہ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے نہیں بنا1 کیا یہ لوگ (ان نعمتوں کا) شکر نہیں کرتے

ف 1 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے ” اس لئے یہ لوگ اس کا میوہ اور وہ چیز کھائیں جسے یہ اپنے ہاتھوں سے بناتے “۔ یعنی مصنوعی غذا جسے قدرتی پیداوار تے تیار کرتے ہیں، مثلاً گنے سے شکر، انگور سے شیرہ، گندم سے روٹی اور سبزیوں سے سالن وغیرہ۔
Ayah 36:36

سُبْحٰنَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ وَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ مِمَّا لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 36:36 in the Quran reader

پاک ہے وہ خدا جس نے قسم قسم کی سب چیزیں بنائیں کچھ تو زمین سے اگتی ہیں اور کچھ خود ان میں سے پیدا ہوتی ہیں مرد اور عورت) کچھ ایسے ہیں جن کو وہ نہیں جانتے2

ف 2 مثلاً وہ مخلوقات جو سمندر، خشکی، زمین اور آسمان میں ہے۔
Ayah 36:37

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الَّیْلُ١ۖۚ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَاِذَا هُمْ مُّظْلِمُوْنَۙ Open ayah 36:37 in the Quran reader

اور رات بھی ان کے لئے ہماری قدرت کی نشانی ہے ہم دن کو اس میں سو سونت لیتے ہیں پھر وہ ایک ہی ایکا اندھیرے میں آجاتے ہیں3

ف 3 یہ اثبات حشر پر دوسری دلیل ہے یعنی جس ہستی کے قبضہ ٔ قدرت میں یہ انقلاب عظیم ہے وہ مردوں کو بھی دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے۔ ” سلخ “ کے اصل معنی جانور کی کھال کھینچنے کے ہیں یہاں رات کو دن سے ممیز کرنیکے لئے یہ لفظ بطور استعارہ استعمال ہوا ہے۔ دوسرے مقام پر اسی تبدیلی کو ” تکویر “ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ دیکھئے سورة زمر آیت 5( کبیر)
Ayah 36:38

وَ الشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِؕ Open ayah 36:38 in the Quran reader

اور سورج اپنے ٹھہرنے کے وقت تک چل رہا ہے4 یہ کارخان ہ اس زبردست اور ظلم والے خدا کا باندھا ہوا ہے

ف 4( لام بمعنی الیٰ ہے) یعنی قیامت تک چناچہ جب قیامت آجائے گی تو وہ ٹھہر جائے گا اور اس میں کوئی حرکت نہ رہے گی یا اس کے معنی ہیں۔” اپنے ٹھہرنے کے مقام تک “ اور اس کے ٹھہرنے کا قیام، جیسا کہ حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے ہے جیسا کہ ایک حدیث میں حضرت ابو ذر ؓ کے جواب میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا : (مستقفرھا تحت العرش) کہ اس کے ٹھہرنے کا مقام عرش کے نیچے ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ سورج ہر روز عرش کے نیچے اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہوتا ہے اور طلوع کے لئے اذن چاہتا ہے چناچہ اسے اذن دے دیا جاتا ہے حتیٰ کہ ایک وقت آئے گا کہ اسے حکم ہوگا ” ارجیع من حیث جنت “ کہ جدھر سے آئے ہو ادھر پلٹ جائو چناچہ وہ مغرب سے طلوع ہوگا۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی یہ دوسری تفسیر چونکہ صحیح حدیث سے ثابت ہے اس لئے اسی کو اختیار کرنا ضروری ہے کہ گو امام رازی (رح) نے مستقر کے متعدد معانی بیان کئے ہیں مثلاً یہ کہ سورج اپنے مقررہ راستہ پر چلا جا رہا ہے اور اس سے ادھر ادھر نہیں ہوتا وغیرہ۔ ( کبیر) ۔
Ayah 36:39

وَ الْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ Open ayah 36:39 in the Quran reader

اور چاند کو ہم نے اٹھائیس منزلیں مقرر کردی ہیں5 یہاں تک کہ اخیر منزل میں) پھر پرانی سوکھی ٹہنی کی طرح باریک رہ جاتا ہے

ف 5 اٹھائیں منزلیں ہیں اور ہر منزل میں ایک رات ٹھہرتا ہے اور پھر ایک دو رات مخفی رہنے کے بعد پھر ہلال بن کر نظر آتا ہے اور اس گردش کے حساب سے چل رہا ہے۔ ( شوکانی)
Ayah 36:40

لَا الشَّمْسُ یَنْۢبَغِیْ لَهَاۤ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَ لَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّهَارِ١ؕ وَ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 36:40 in the Quran reader

نہ تو سورج سے یہ ہوسکتا ہے کہ چاند کو پکڑ پائے دونوں ایک منزل میں آجائیں اور نہ رات دن سے آگے بڑھ سکتی ہے کہ وقت پر دن نہ نکلے رات ہی رہے اور سب کو ایک گھیرے میں تیر رہے ہیں

ف 6 یعنی کیا سورج، کیا چاند اور کیا ستارے ( جن میں زمین بھی شامل ہے) ہر ایک کا اپنا ایک فلک ( مدار) ہے جس میں وہ تیر رہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے کروڑوں ستاروں میں سے ہر ایک مدار دوسرے سے الگ بنایا ہے اور ایسا نظام قائم کیا ہے کہ کوئی ستارہ دوسرے کے مدار میں آ کر اس سے ٹکراتا نہیں اور باقاعدگی سے اپنے مدار میں گھوم رہا ہے اور یہ نظام قیامت تک چلتا رہے گا۔ یقینا یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بہت بڑی نشانی ہے۔