36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 36:41

وَ اٰیَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَهُمْ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 36:41 in the Quran reader

اور ایک نشانی (ہماری قدرت کی) ان کے لئے یہ ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی7 کشتی میں لادا

ف 7” بھری ہوئی کشتی “ سے مراد حضرت نوح ( علیہ السلام) کی کشتی ہے اور اس میں انسانی نسل کے لانے کا مطلب یہ ہے کہ کا اس میں حضرت نوح ( علیہ السلام) اور جو ان کے ساتھی سوار تھے۔ انہی سے بعد میں نسل انسانی چلی ہے گویا اس میں قیامت تک آنے والی تمام انسانی نسل سولر تھی۔ ( کبیر) ۔
Ayah 36:42

وَ خَلَقْنَا لَهُمْ مِّنْ مِّثْلِهٖ مَا یَرْكَبُوْنَ Open ayah 36:42 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے لئے کشتی کی طرح ایک اور چیز بنائی ہے جسپر وہ سوار ہوتے ہیں8

ف 8 اس سے مراد وہ بحری جہاز ہیں جو حضرت نوح ( علیہ السلام) کے جہاز کے بعد بنائے گئے یا جہاز کے علاوہ دوسری سواری کی چیزیں مراد ہیں جیسے اونٹ، ریل گاڑی وغیرہ۔
Ayahs 36:43–44

وَ اِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِیْخَ لَهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْقَذُوْنَۙ Open ayah 36:43 in the Quran reader

اور ہم چاہیں تو جب وہ کشتی میں سوار ہوں ان کو ڈبو دیں تو کوئی ان کی فریاد سننے والا نہیں اور نہ ان کو بچانیوالا

اِلَّا رَحْمَةً مِّنَّا وَ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 36:44 in the Quran reader

مگر ہماری ہی مہربانی ہو ایکوقت تک ہم انکو دنیا کے مزے اٹھانے دیں9

ف 9” ایک وقت “ سے مراد موت کا وقت ہے یا قیامت
Ayah 36:45

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّقُوْا مَا بَیْنَ اَیْدِیْكُمْ وَ مَا خَلْفَكُمْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 36:45 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے تمہارے سامنے اور تمہارے پیچھے جو (عذاب لگا ہوا ہے) اس سے ڈرو10 تاکہ تم پر گم ہو (تو وہ کچھ پرواہ نہیں کرتے)

ف 10 یعنی اگلے اور پچھلے گناہوں کے انجام سے بچنے کی فکر کرو یا سامنے سے مراد دینا ہے اور پیچھے سے مراد آخرت کا عذاب ہے۔ ( جامع) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں سامنے آتا ہے جزا کا دن، پیچھے چھوڑے اپنے اعمال ( موضح)
Ayah 36:46

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 36:46 in the Quran reader

اور ان کے پاس ان کے مال کی نشانیوں میں سے جب کوئی نشانی آتی ہے تو اس پر دھیان ہی نہیں کرتے11

ف 11 آیات سے مراد قرآن حکیم کی آیات بھی ہوسکتی ہے اور وہ عام نشانات قدرت بھی جو لوگوں کے اپنے اندر اور باہر دوسری کائنات میں پائے جاتے ہیں۔
Ayah 36:47

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗۤ١ۖۗ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:47 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے اللہ نے جو تم کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرو (غریبوں کو کھلائو) تو کافر لوگ ایمان داروں کو (ان کی بات کا) یہ جواب دیتے ہیں کیا ہم اس شخص کو کھلائیں جس کو اگر اللہ کھلانا چاہتا تو (بہت) کھلا سکتا تھا تم تو صاف بہکے گئے ہو1

ف 1 یعنی یہ کافربجائے اس کے کہ کسی نصیحت کرنے والے کی نصیحت قبول کریں کٹ حجتیاں کرتے ہیں۔ چناچہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ غریبوں اور مسکینوں کے جو حقوق تمہارے سوال پر عائد ہوتے ہیں ان کو ادا کرو تو وہ تقدیر کا سہارا لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے باوجود قدرت کے روزی نہیں دی ہم بھی اس کو نہیں دیں گے کیونکہ ہم اللہ تعالیٰ کی مشیت کے خلاف نہیں کرسکتے۔ ( جامع البیان)
Ayahs 36:48–49

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 36:48 in the Quran reader

اور کہتے ہیں (اچھا بتلائو اگر تم سچے ہو تو یہ قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا

مَا یَنْظُرُوْنَ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً تَاْخُذُهُمْ وَ هُمْ یَخِصِّمُوْنَ Open ayah 36:49 in the Quran reader

یہ لوگ یہی انتظار کر رہے ہیں کہ وہ آپس میں جھگڑ رہے ہوں اور ایک چنگھاڑ2 (صور کی آواز) ان کو ایک دم سے )

ف 2 مراد نضخہ فزع یعنی نضخہ اولیٰ ہے واللہ اعلم۔ (ابن کثیر) 3 یعنی قیامت نا گہاں آئے گا اور وہ اپنے معاملات میں مشغول ہوں گے۔ ( موضح)
Ayah 36:50

فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ تَوْصِیَةً وَّ لَاۤ اِلٰۤى اَهْلِهِمْ یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:50 in the Quran reader

آدبوچے پھر نہ تو وہ کچھ وصیت کرسکیں اور نہ اپنے گھر والوں تک لوٹ کر جاسکیں گے4

ف 4 بلکہ بازاروں اور راستوں میں جہاں ہونگے صور کی آواز سن کر فوراً ختم ہوجائیں گے۔ حدیث میں ہے کہ ” قیامت اس طرح ( یکایک) آئے گی کہ کہیں دو آدمیوں نے ( خریدو فروخت کیلئے) کپڑا پھیلا رکھا ہوگا مگر وہ اس کی خریدو فروخت نہ کر پائیں گے حتیٰ کہ ایک شخص نے لقمہ اٹھا رکھا ہوگا مگر اسے منہ میں رکھنے نہ پائے گا۔ (فتح البیان) ۔
Ayah 36:51

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰى رَبِّهِمْ یَنْسِلُوْنَ Open ayah 36:51 in the Quran reader

اور (پھر دوبارہ صور پھونکا جایئگا تو وہ ایک دم اپنی قبروں سے نکل کر اپنے مالک کی طرف دوڑ پڑیں گے5

ف 5 ابن کثیر میں ہے کہ اس سے مراد نفخہ ثالثہ یعنی نفخہ بعث ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ دونوں صو وں کے درمیان چالیس برس کا فاصلہ ہوگا۔ ( وحیدی)
Ayahs 36:52–53

قَالُوْا یٰوَیْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا١ؐٚۘ هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:52 in the Quran reader

کہیں گے ہائے ہماری خرابی ( ہم تو آرام سے پڑے سو رہے تھے اس نے ہم کو ہماری سونے کی جگہ سے اٹھا دیا (فرشتے جواب دیں گے) یہی تو وہ قیامت ہے جس کا پروردگار نے وعدہ کیا تھا اور پیغمبروں نے سچ کہا تھا

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ Open ayah 36:53 in the Quran reader

تم سے کہ قیامت آنیوالی ہے قیامت کیا ہے بس ایک چنگھاڑ صور کی آواز ہے ایک دم سے سب6 جما رہے پاس آن موجود ہونگے

ف 6 یعنی لمحہ بھر میں دیکھئے ( نحل : 77، 14)
Ayah 36:54

فَالْیَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَّ لَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 36:54 in the Quran reader

تو آج کے دن کسی شخص پر کچھ بھی ظلم نہیں ہوگا اور تم لوگوں کو ویسا ہی بدلہ ملے گا جیسا دنیا میں کرتے رہے7

ف 7 یعنی نہ ان کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی اور نہ ان پر کوئی ناکردہ گناہ لا دا جائے گا۔ اس میں مومن کے لئے خوش خبری اور کافر کے لیے وعید ہے۔ ( کبیر)
Ayah 36:55

اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَۚ Open ayah 36:55 in the Quran reader

بیشک بہشتی لوگ آج ایک دھندے میں جی بہلا رہے ہیں8

ف 8 شغل دھندے سے مراد وہ لذتیں ہیں جن میں اہل جنت اپنے جی بہلا رہے ہونگے اور ان میں ایسے مگن ہوں گے کہ ” ماسوا “ کا خیال تک نہیں آئے گا۔ حدیث میں ہے ” جنت میں تو وہ وہ نعمتیں حاصل ہوں گی جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی کے دل میں ان کا خیال گزارا ہوگا۔ ( ابن کثیر)
Ayahs 36:56–59

هُمْ وَ اَزْوَاجُهُمْ فِیْ ظِلٰلٍ عَلَى الْاَرَآئِكِ مُتَّكِئُوْنَ Open ayah 36:56 in the Quran reader

وہ اور انکی بی بیاں چھائوں میں تخمتوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے

لَهُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ وَّ لَهُمْ مَّا یَدَّعُوْنَۚۖ Open ayah 36:57 in the Quran reader

ان کو وہاں میوہ ملے گا اور جو خواہش کرینگے وہ حاضر ہوگا )

سَلٰمٌ١۫ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ Open ayah 36:58 in the Quran reader

(سب سے بڑھ کر یہ ہوگا کہ مالک مہربان کی طرف سے ان کو سلام کہا جائیگا

وَ امْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 36:59 in the Quran reader

اور ہم کافروں کو حکم دینگے اے کافرو آج تم (بہشت والوں سے) الگ ہوجائو9

ف 9 یعنی ان سے ہٹ کر کھڑے ہو تمہارا ان سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ یا ( آپس میں ایک دوسرے سے) الگ ہوجائو “۔ چناچہ یہود و نصاریٰ ، مجوس اور مشرک سب ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں گے۔ ( دیکھئے روم : 14، یونس 28)
Ayah 36:60

اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَیْكُمْ یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:60 in the Quran reader

سے آدم کی اولاد کیا میں نے تم سے پیغمبروں کے ذریعہ سے) نہیں کہہ دیا تھا کہ شیطان کو نہ پوجنا10 وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

ف 10 یعنی اس کے بتائے ہوئے راستے کو اختیار نہ کرنا۔ یہ ان سے بطور سرزنش کہا جائے گا۔ (ابن کثیر) ۔
Ayahs 36:61–62

وَّ اَنِ اعْبُدُوْنِیْ١ؔؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 36:61 in the Quran reader

اور مجھ ہی کو پوجتے رہنا یہی (توحید کا رستہ) سیدھا رستہ ہے

وَ لَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِیْرًا١ؕ اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:62 in the Quran reader

اور یہ کہہ دنیے پر بھی شیطان نے تم میں سے بہت سی خلقت کو گمراہ کردیا کیا تم کو عقل نہیں تھی1

ف 1 یعنی کیا تم اتنی عقل نہ رکھتے تھے کہ جب شیطان تمہارا دشمن تھا تو تم اس کے بتائے ہوئے راستے پر نہ چلتے۔
Ayahs 36:63–65

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 36:63 in the Quran reader

اب یہ دوزخ وہی ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا

اِصْلَوْهَا الْیَوْمَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 36:64 in the Quran reader

آج کے دن اپنے کفر کے بدلے اس میں پڑو ا

اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 36:65 in the Quran reader

ٓج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دینگے اور جو برے کام وہ دنیا میں کیا کرتے تھے ان کے ہاتھ ہم کو بتلا دینگے اور ان کے پائوں (ہمارے سامنے) گواہی دیں گے2

ف 2 یہ صورت حال ان کفار اور منافقین کو پیش آئے گی جو اپنے جرائم کا اقبال کرنے سے انکار کریں گے۔ فرشتوں کی گواہی اور نامہ اعمال کی صحت کو جھٹلائیں گے تو ان کے ہاتھ پائوں ان کے خلاف شہادت دیں گے۔ دوسری آیات میں آنکھ، کان، زبان اور چمڑوں کی شہادت کا بھی ذکر ہے۔ ( دیکھئے سورة نور 24، حم السجدہ آیت 20) حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ بندہ قیامت کے دن اپنے برے اعمال سے انکار کرے گا اور عرض کردے گا کہ ” اے اللہ ! میں تو اپنے خلاف صرف اسی کی گواہی قبول کروں گا جو میرا اپنا ہو “۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ تیرے خلاف خود تیری اور تجھ پر مقررفرشتوں کی گواہی کافی ہے “۔ پھر اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے ہاتھ پائوں کو حکم ہوگا کہ گواہی پیش کرو۔ چناچہ وہ اس کے کرتوتوں کی ساری روداد پیش کریں گے، تب بندہ ان سے کہے گا ” جائو مجھ سے دور ہوجائو میں تو جو کچھ کرتا تھا تمہارے ہی بچانے کے لئے کرتا تھا ‘۔ ( شوکانی، ابن کثیر) تنبیہ۔ منہ پر مہر کردینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے اختیار سے کلام نہیں کرسکیں گے۔
Ayahs 36:66–67

وَ لَوْ نَشَآءُ لَطَمَسْنَا عَلٰۤى اَعْیُنِهِمْ فَاسْتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰى یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:66 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھیں میٹ دیں (اندھی کردیں) پھر وہ رستے پر دوڑیں جلدی سے چلے جانے کو تو دیکھیں گے کہاں سے آنکھ تو ہے نہیں

وَ لَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنٰهُمْ عَلٰى مَكَانَتِهِمْ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِیًّا وَّ لَا یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:67 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو جہاں میں وہیں ان کی صورت بدل دیں تو نہ آگے بڑھ سکیں اور نہ لوٹتے ہی جن پڑے3

ف 3 ان کی صورت بدل دیں یعنی بندر، سور، پتھر یا لولے لنگڑے اور اپاہج بنادیں اور اپنی جگہ سے پل نہ سکیں مگر ہم نے انہیں مہلت دی ہے لہٰذا ان کو چاہیے کہ ہماری اور قدرت اور اپنی بےبسی کے بارے میں کسی غلط فہمی کا شکارنہ ہوں۔ (وحیدی)
Ayah 36:68

وَ مَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِی الْخَلْقِ١ؕ اَفَلَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:68 in the Quran reader

اور ہماری قدرت دیکھو جسے ہم زیادہ عمر دیتے ہیں اس کی بناوٹ الٹ دیتے ہیں4 کیا انکو عقل نہیں ہے5

ف 4 یعنی اعضا اور دماغ میں ضعف کی وجہ سے پھر سے بچنے کی حالت پلٹ آتی ہے۔ ( ابن کثیر)5 زندگی کے ان انقلابات کو دیکھ کر ہر شخص بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ دنیا کی یہ زندگی پائیدار اور دائمی نہیں ہوسکتی بلکہ اس کا ختم ہونا اور اس کے بعد دوسری زندگی کا آنا نا گزیر ہے جو دائمی اور لا فانی ہوگی۔ ( ابن کثیر) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” یعنی جیسا لڑکا سست تھا بوڑھا بھی ویسا ہی ہوا، یہ بھی نشان ہے پھر پیدا ہونے کا) ( موضح)
Ayah 36:69

وَ مَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهٗ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ وَّ قُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:69 in the Quran reader

اور ہم نے جیسا قریش کے کافر کہتے ہیں) اس پیغمبر حضرت محمد کو شاعری نہیں سکھلائی اور نہ شاعری اس کے لائق ہے6 (قرآن شعر نہیں ہے) وہ تو نصیحت اور صاف صاف پھڑنے کے لائق ایک کتاب ہے

ف 6 کفار قریش کو آپ ﷺ کی دعوت رد کرنے کے لئے کوئی اور بہانہ نہ ملتا تو آپ ﷺ کی باتوں کو شاعرانہ تخیلات قرار دے کر بےوقعت ٹھہرانے کی کوشش کرتے۔ ان کے جواب میں فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نبوت و رسالت کے جس منصب پر فائز ہیں شاعری کو اس سے کوئی مناسبت نہیں۔ شاعری کا حسن اور کمال تو جھوٹ، مبالغہ آرائی، خیال بلند پروازی اور فرضی نکتہ آفرینی ہے اور نبی ﷺ کی شان ان چیزوں سے بلند وبالا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی طبیعت ایسی رکھی کہ باوجود خاندان عبد المطلب سے ہونے کے جس کا ہر فرد فطرۃً شاعر ہوتا، پوری عمر میں کوئی شعر نہیں کہا۔ یوں رجز وغیرہ کے موقع پر زبان مبارک سے کبھی کوئی مقضیٰ عبارت ایسی نکل گئی جو شعر کا ساوزن رکھتی تھی تو وہ الگ بات ہے اسے شعر یا شاعری نہیں کہا جاسکتا۔ آپ ﷺ خود تو کیا شعر کہتے کوئی دوسرے شاعر کا کوئی شعر یا مصرع تک اس کے ٹھیک وزن پر ادا نہ کر پاتے تھے۔ کئی موقعوں پر ایسا ہوا کہ آپ ﷺ نے کسی شاعر کا شعر یا مصرع اس کا وزن توڑ کر پڑھا اور حضرت ابوبکر ؓ حضرت عمر ؓ نے توجہ دلانے کے لئے اس کا وزن درست کرتے ہوئے پڑھا تو آپ ﷺ نے فرمایا ( انی واللہ ما انا یشاعر وما ینبغی لی) اللہ کی قسم میں شاعر نہیں ہوں اور نہ شاعری میرے شایان شان ہے۔ ( ابن کثیر وغیرہ) ۔
Ayah 36:70

لِّیُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَیًّا وَّ یَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 36:70 in the Quran reader

وہ اسلئے اترا ہے کہ جو زندہ دل ہو7 اس کو خدا کے عذاب سے ڈرائے8 اور منکروں پر اللہ تعالیٰ کا فرمانا پورا ہو

ف 7 یعنی جس نے اپنے سوچنے سمجھنے کی قوتوں کو معطل نہ کر رکھا ہو اور اس کی حالت چکنے کھڑے کی سی نہ ہوگئی ہو کہ آپ ﷺ اسے چاہے کتنی ہی پند و نصیحت فرمائیں اس پر رتی بھر اثر نہ ہو۔8 یعنی ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتمام حجت ہوجائے اور ان کے پاس کوئی ایساعذر باقی نہ رہے جس کی بناء پر وہ قیامت کے دن اپنے آپ کو بےقصور اور مظلوم تصور کرسکیں۔
Ayah 36:71

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَیْدِیْنَاۤ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ Open ayah 36:71 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنا کر ان کے لئے چوپائے جانور پیدا کردیئے اب وہ ان کے مالک بن بیٹھے ہیں9

ف 9 یعنی یہ جانور جن کے یہ مالک بنے ہوئے سب ہم نے پیدا کئے ہیں اور ” اپنے ہاتھوں سے بنانے “ کا مطلب یہ ہے کہ ان کے پیدا کرنے میں کسی دوسرے کا ذرہ بھر دخل نہیں ہے اگر ہم چاہتے تو ان جانوروں کو اس طور سے پیدا کردیتے کہ وہ ان کے قابو میں نہ آتے کجا کہ یہ ان کے مالک بنتے۔
Ayahs 36:72–73

وَ ذَلَّلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَ مِنْهَا یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:72 in the Quran reader

اور ہم نے ان جانوروں کو ان کے بس میں کردیا ہے بعضوں پر وہ سوار ہوتی ہیں اور بعضوں کو (کاٹ کرض کھاتے ہیں

وَ لَهُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ مَشَارِبُ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:73 in the Quran reader

اور ان جانوروں میں (کھانے اور سواری کے سوا) ان کو اور بھی فائدے ہیں10 اور پینی کی چیزیں11 کہا یہ لوگ (ان نعمتوں کا) شکر نہیں کرتے

ف 10 مثلاً ان کی کھال، چربی، سینگ، بال اور آنتوں وغیرہ سے سینکڑوں چیزیں بناتے ہیں۔11 یعنی دودھ اور وہ چیزیں جو دودھ سے بنتی ہیں۔
Ayahs 36:74–75

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمْ یُنْصَرُوْنَؕ Open ayah 36:74 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے اللہ کے سوا جو دوسروں کو معبود بنایا تو اس امید سے کہ مصیبت کے وقت ان کو مدد ملے

لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَهُمْ١ۙ وَ هُمْ لَهُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ Open ayah 36:75 in the Quran reader

وہ تو ان کی کچھ بھی) مدد نہیں کرسکتے بلکہ قیامت کے دن ان کی فوج بن کر پکڑے آئیں گے1

ف 1 یعنی قیامت کے دن جب یہ مشرک اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کے لئے آئیں گے تو ان کے غم واندوہ میں اضافہ کرنے کے لئے ان کی فوج ( جتھے) میں ان کے جھوٹے معبودوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔ یہ مطلب اس صورت میں ہے جب ” ھم “ کی ضمیر جھوٹے معبودوں ” لھم “ کی ضمیر مشرکوں کے لئے قرار دی جائے اور اگر ان ضمیروں کو اس کے برعکس مانا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ ” یہ مشرک اپنے معبودوں کے لئے حاضر پاش لشکر بنے ہوئے ہیں “۔ یعنی ان کی جھوٹی خدائی اپنے بل بوتے پر قائم نہیں ہے بلکہ سراسر ان مشرکین کی خدمت گزاری نذرانوں اور گھڑ کی پھسلائی ہوئی کرامتوں کے سہارے قائم ہے گویا وہ ان کی مدد تو کیا کریں گے خود ان کی مدد کے محتاج ہیں۔ ( ابن کثیر وغیرہ) ۔
Ayah 36:76

فَلَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 36:76 in the Quran reader

تو اے پیغمبر تو ان کی باتوں سے رنج مت کر2 ہم جانتے ہیں جو وہ چھپاتے ہیں اور جو کھولتے ہیں3

ف 2 یعنی ان کی کفر و شرک کی باتوں سے یا ان کے آپ ﷺ کو جادوگر، شاعر اور دیوانہ وغیرہ کہنے سے۔3 یعنی ان کے ظاہر اور پوشیدہ تمام اقوال و افعال سے خوب واقف ہیں اور انہیں ان کی پوری پوری سزا دے کر رہیں گے ہم سے بھاگ کر یہ کہیں پناہ نہیں لے سکتے۔
Ayah 36:77

اَوَ لَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 36:77 in the Quran reader

کیا آدمی نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے اس کو نطفے سے بنایا (پانی کے چند قطروں سے) پھر (اتنا بڑا ہو کر) وہ (ہم ہی سے) کھلم کھلا جھگڑنے لگا4

ف 4 یعنی ہمارے مقابلہ پر اتر آیا اور ہمارے بارے میں جو بات دل میں آئی بےتکان اور بےخوف و خطر کہہ ڈالی
Ayah 36:78

وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِیَ خَلْقَهٗ١ؕ قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَ هِیَ رَمِیْمٌ Open ayah 36:78 in the Quran reader

اور ہم ہی سے باتیں بنانے لگا5 اور اپنیپیدائش بھول گیا کہتا کیا ہے بھلا ان گلی (کھوکھل) ہڈیوں کو کون جلا سکتا ہے

ف 5 شاہ عبد القادر (رح) نے یوں ترجمہ کیا ہے ” اور بٹھاتا ہے ہم پر کہاوت “ یعنی ہمیں بھی مخلوقات کی طرح عاجز اور درماندہ سمجھتا ہے۔
Ayahs 36:79–80

قُلْ یُحْیِیْهَا الَّذِیْۤ اَنْشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمُۙ Open ayah 36:79 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کہہ دے ان ہڈیوں کو وہی خدا جلائیگا جس نے پہلی بار ان کو پیدا کیا تھا اس وقت نطفے میں ہڈی کہاں تھی اور وہ ہر چیز کا پیدا کرنا خوب جانتا ہے

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا فَاِذَاۤ اَنْتُمْ مِّنْهُ تُوْقِدُوْنَ Open ayah 36:80 in the Quran reader

جس نے سبز کچے درخت سے تمہارے لئے آگ نکالی پھر تم اس سے سلگاتے ہو6

ف 6 یعنی اس نے پہلے تو پانی سے سرسبز شاداب درخت پیدا کیا پھر اسے سکھا کر ایندھن بنا دذیا جس سے اب تم آگ جلا رہے ہو۔ بعض علماء تفسیر نے ” سبز درخت “ سے مراد غفار اور مرخ نامی دو درخت لئے ہیں جن کی ہری بھری ٹہنیاں لے کر اہل عرب انہیں آپس میں ٹکراتے تو ان سے آگ پیدا ہوجاتی اور وہ انہی سے آگ حاصل کرتے تھے واللہ اعلم۔ ( کذا فی الوضح)