35. Surah Faatir

فاطرThe Originator · 45 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 35:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا اُولِیْۤ اَجْنِحَةٍ مَّثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ؕ یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 35:1 in the Quran reader

اصل تعریف اللہ ہی کو سزا وار ہے جس نے آسمان اور زمین نئے سرے سے بنائے6 فرشتوں کو پیغام پہنچانے کے لئے مقرر کیا جن کے دو دو اور تین تین اور چار چار بازو ہیں وہ جتنے چاہے (فرشتوں میں) اور (بازو) زیادہ پیدا کرسکتا ہے7 بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ کرسکتا ہے

ف 6 یعنی انہیں پیدا کیا حالانکہ اس سے پہلے ان کا سرے سے کوئی وجود نہ تھا۔7 جیسا کہ حدیث میں ہے کہ شب معراج میں نبی ﷺ نے حضرت جبریل ( علیہ السلام) کو دیکھا کہ ان کے چھ سو بازو تھے۔ ( ابن کثیر) ۔ (یریدون فی الخلق ما یشئا) کو عام بھی رکھا رکھتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں جو چاہے اضافہ کرسکتا ہے۔ ( شوکانی) معلوم ہوا کہ فرشتے جسم اور پر ( بازو) رکھتے ہیں اس پر ایمان لانا واجب ہے۔ باقی کیفیت ان کی اللہ کو معلوم ہے تاویلات فاسدہ کرنا گمراہی ہے۔ ( وجیز وغیرہ)
Ayah 35:2

مَا یَفْتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا١ۚ وَ مَا یُمْسِكْ١ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 35:2 in the Quran reader

اللہ اپنی رحمت جو لوگوں پر کھول دے تو اس کا کوئی روکنے والا نہیں اور جو روک رکھے تو اس کا کوئی کھولنے والا نہیں اور وہی زبردست ہے حکمت والاف 8

ف 8 رحمت سے مراد ہر وہ نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عنایت فرمائے چاہے وہ مادی ہو جیسے بارش اور روزی وغیرہ۔ یا روحانی جیسے بعث انبیاء، دعا کی قبولیت، توبہ ہدایت وغیرہ۔ مطلب یہ ہے کہ بندوں کو جو بھی نعمت حاصل ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرح سے ہے۔ وہ اپنی نعمت کسی کو دنیا چاہے تو کوئی اسے روکنے والا نہیں اور روکنا چاہے تو کوئی اسے دینے والا نہیں۔ حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔ ( اللھم لا مانج لما ما اعطیت ولا معطی لما صنعت ولا ینفع ذا الجدمشک الجد) اے اللہ ! جسے تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جس سے تو روکے اسے کوئی دینے والا نہیں۔ تیرے مقابلہ میں کسی بڑائی والے کی بڑائی اسے کوئی کام نہیں دے سکتی۔ ( ابن کثیر)
Ayah 35:3

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللّٰهِ یَرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۖ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 35:3 in the Quran reader

لوگو اللہ تعالیٰ کا جو احسان تم پر ہے اس کو یاد کرو9 بھلا اس کے سوا کوئی اور بھی پیدا کرنیوالا ہے جو آسمان اور زمین سے تم کو رزق دے10 اس کے سوا کوئی سچا خدا نہیں پھر تم کدھر الٹے جا رہے ہو11

ف 9 یعنی اس کے احسان فراموس اور نمک حرام نہ ہو کہ بندگی دوسروں کی بجالائو حالانکہ تمہیں جو بھی نعمت حاصل ہے وہ اسی کی دی گئی ہے۔10 آسمان سے بارش برسائے اور زمین سے غلے، سبزیاں اور دوسری چیزیں اگاتے۔11 یعنی تمہیں یہ دھوکا کہاں سے لگ گیا کہ خالق، رازق تو اللہ ہو مگہ بندگی اور تابعداری دوسروں کی کی جائے ؟ مثل مشہور ہے جس کا کھایئے اسی کا گائیے۔ ( ابن کثیر) ۔
Ayah 35:4

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 35:4 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) اگر یہ لوگ (عرب کے کافر) تجھ کو جھٹلائیں تو کچھ تعجب کی بات نہیں تجھ سے پہلے بہت پیغمبر جھٹلائے جا چکے ہیں اور اللہ ہی تک سب کاموں کو پہنچنا ہے (خیر انصاف وہیں ہوگا )

ف 1 یہ اس لئے فرمایا کہ نبی ﷺ پہلے انبیا ( علیہ السلام) کو اسوہ بنائیں اور اپنے زمانہ کے کافروں کی تکذیب سے کبیدہ خاطر نہ ہوں۔
Ayah 35:5

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 35:5 in the Quran reader

لوگو اللہ تعالیٰ کا وعدہ قیامت برحق ہے ایسا نہ ہو تم کو دنیا کی زندگی دھوکہ دے2 اور ایسا ہو کہ شیطان تم کو اللہ کے باب میں فریب دے3

ف 2 یعنی آخرت سے غافل کر دے یہاں تک کہ تم سمجھنے لگ کہ جو مزے ہیں وہ بس اسی دنیا میں ہیں۔ 3 اللہ کے باب میں شیطان کا فریب کئی طرح سے ہوتا ہے۔ کسی کو وہ یہ فریب دیتا ہے کہ خدا کا سرے سے وجود ہی نہیں۔ کسی کو اس غلط فہمی میں مبتلا کرتا ہے کہ خدا کے علاوہ دوسرے بھی معبود ہیں جن کی بندگی کی جانی چاہیے۔ سعید ؓ بن جبیر فرماتے ہیں اللہ کے باب میں دھوکہ کھانا یہ ہے کہ انسان جی بھر کر گناہ کرتا رہے اور سمجھے کہ اللہ غفور و رحیم ہے وہ سب گناہ معاف کر دے گا وغیرہ۔ ( قرطبی، فتح البیان )
Ayah 35:6

اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْهُ عَدُوًّا١ؕ اِنَّمَا یَدْعُوْا حِزْبَهٗ لِیَكُوْنُوْا مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِؕ Open ayah 35:6 in the Quran reader

بےشے شیطان تمہارا (جانی) دشمن ہے تم بھی اس کے جانی دشمن رہو4 وہ اپنے بار لوگوں کو اس لئے اپنی طرف بلاتا ہے کہ سب اس کے ساتھ مل کر دوزخی بنیں

ف 4 یعنی تمہاری دنیا و آخرت دونوں تباہ کرنا چاہتا ہے۔ تم اس کی چال میں نہ آئو، اس کی کوئی بات نہ مانو اور جو بات تمہارے دل میں ڈالے اسکی مخالفت کرو۔ ( ابن کثیر وغیرہ) 5 یعنی ان لوگوں کو جو اس کا کہا مانتے اور اس کے بتائے ہوئے رشتہ پر چلتے ہیں۔
Ayahs 35:7–8

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ۠ Open ayah 35:7 in the Quran reader

جو لوگ منکر ہوئے ان کو سخت عذاب ہوگا اور جو لوگ ایمان لائے اچھے کام کئے ان کے گناہوں کی بخشش ہوگی اور ان کو بڑا ثواب ملے گا6

اَفَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ فَرَاٰهُ حَسَنًا١ؕ فَاِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۖ٘ فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَیْهِمْ حَسَرٰتٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 35:8 in the Quran reader

کیا وہ شخص جس کو اس کا برا کلام بھلا سوجھایا گیا وہ اس کو بھلا سمجھنے لگا7 اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے سیدھے رستے پر لگاتا ہے8 (اے پیغمبر) تو لوگوں پر افسوس کر کر کے اپنی جان مت کھو9 اللہ تعالیٰ (خوب) جانتا ہے جو وہ کر رہے ہیں10

ف 7 وہ اس شخص جیسا ہوسکتا ہے کہ اگرچہ برا کام کرتا ہے لیکن اسے برا ہی سمجھتا ہے بھلا نہیں سمجھتا ؟ ظاہر ہے کہ یہ دونوں شخص برابر ہوسکتے، ایک شخص جو برا کام کرتا ہے لیکن اسے برا ہی سمجھتا ہے اس کے متعلق تو امید کی جاسکتی ہے کہ وہ کبھی نہ کبھی راہ راست پر آجائے گا لیکن جو شخص برا کام کرتا ہے مگر اسے اچھا سمجھ کر کرتا ہے، اس کے راہ راست پر آنے کی کبھی امید نہیں کی جاسکتی۔ اس لئے بعض سلف (رح) کا قول ہے کہ گناہ گاہ کے توبہ کرنے کی امید تو کی جاسکتی ہے لیکن بدعتی اپنی بدعت باز نہیں آسکتا کیونکہ وہ بدعت کو نیکی سمجھ کر کرتا ہے۔ یہاں سو عمل سے شرک، بدعت اور گمراہی سبھی مراد لئے جاسکتے ہیں۔ یہ آیت عاص بن وائل سہمی وغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ ( قرطبی)8 یعنی آپ ﷺ کا کام صرف تبلیغ کرنا ہے۔ رہی ہدایت اور گمراہی تو یہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں کیونکہ دنیا میں کوئی کام اس کی مشیت کے بغیر نہیں ہوسکتا لیکن یہ نتیجہ خود آدمی کے اپنے عمل کا ہوتا ہے۔9 کیونکہ ایسے لوگوں کو راہ راست پر لے آنا آپ ﷺ کے بس میں نہیں ہے۔10 لہٰذا یہ نہ سمجھئے کہ وہ اس کی پکڑ سے محفوظ رہیں گے۔
Ayah 35:9

وَ اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَسُقْنٰهُ اِلٰى بَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَحْیَیْنَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ كَذٰلِكَ النُّشُوْرُ Open ayah 35:9 in the Quran reader

اور اللہ ہی ہے جس نے ہوائیں چلائیں وہ ہوائیں بادل کو ابھارتی ہیں پھر اس بادل کو ہم مردہ شہر کی طرف ہانک لے جاتے ہیں11 پھر اس کی وجہ سے ہم زمین کو مرے بعد جلاتے ہیں12

ف 11 یعنی ایسے شہر کی طرف جس کی زمین مردہ پڑی ہے اور وہاں کوئی سزہ اور پیداوار نہیں ہوتی۔12 اس میں طرح طرح کی سبزیاں، غلے اور پھل پیدا ہوتے ہیں گویا اس میں جان پڑجاتی ہے۔
Ayah 35:10

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِیْعًا١ؕ اِلَیْهِ یَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُهٗ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَمْكُرُوْنَ السَّیِّاٰتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ مَكْرُ اُولٰٓئِكَ هُوَ یَبُوْرُ Open ayah 35:10 in the Quran reader

اسی طرح لوگوں کو بھی قیامت میں جی اٹھنا ہے13 جو شخص عزت چاہتا ہے تو عزی ساری اللہ ہی کی ہے14 پاکیزہ کلمہ (لا الہ الا اللہ) اس تک چڑھ جاتا ہے15 اور نیک کام اس کو چڑھاتا ہے16 اور جو لوگ (اے پیغمبر تیرے ستانے کو برے برے مکر کرتے ہیں ان کو سخت عذاب ہوگا اور ان کا مکر خود ہی تباہ ہوگا1

ف 13 پھر تم اس سے انکار کیونکر کرتے ہو حالانکہ مردہ زمین کو زندہ ہوتے اپنی آنکھوں سے ہمیشہ دیکھتے ہو ؟ ابوزین عقیلی ؓ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا :” اے اللہ کے رسول ﷺ ! اللہ تعالیٰ مردوں کو کیونکر زندہ کرے گا ؟ “ فرمایا :” کیا تم نے کوئی ایسی زمین نہیں دیکھی جس سے تم پہلی دفعہ گزرے تو وہ اجاڑ پڑی تھی اور دوبارہ گزرے تو وہ سبزہ سے لہلہا رہی تھی ؟ “ میں نے عرض کیا ” جی ہاں “ فرمایا ” اسی طرح اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا۔ ( قرطبی) ۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرنا چاہے گا تو عرش کے نیچے سے ایک خاص قسم کی بارش ہوگی جس کا پانی پڑتے ہی مردے اس طرح جی اٹھیں گے جیسے ظاہری بارش سے دانہ زمین سے اگ آتا ہے۔ ( ابن کثیر) ۔14 لہٰذا اسی سے عزت مانگنی چاہیے۔ کفار بتوں کی عبادت کرتے کہ ان کے لئے عزت کا باعث بنیں۔ ( سورة مریم، آیت 81) اور بعض ضعف الایمان اور منافق قسم کے مسلمان کفار سے دوستی کرتے کہ دنیا میں با عزت زندگی بسر کرسکیں۔ ( سورة نساء آیت 139) فرمایا کہ اگر عزت چاہتے ہو تو اسی کی اطاعت اور عبادت کر کے عزت طلب کرو، کیونکہ ہر قسم کی عزت اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ عزت ایسی ہے جس کی ساتھ ذلت نہیں ہے۔ ( ابن کثیر وغیرہ)15 یعنی اس کے ہاں قبول ہوتا ہے۔ ( فالصعود کنایۃ عن القبول) پاکیزہ کلمہ سے مراد کلمہ توحید ( لا الہ اللہ) بھی ہے اور ہر وہ بات جو پاکیزہ ہو جیسے سبحان اللہ، الحمد للہ، اللہ اکبر یعنی تسبیح وتحمید اور ذکر الٰہی ( قرطبی وغیرہ)16 یعنی کوئی کلمہ چاہے اپنی جگہ پاکیزہ ہو لیکن قبول اسی وقت ہوتا ہے جب اسکے ساتھ عمل بھی نیک ہو۔ مطلب یہ ہے کہ عمل کا نیک ہونا ” پاکیزہ کلمات “ کی قبولیت کیلئے شرط ہے جیسا کہ بعض آثار سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ اور نیک عمل سے مراد وہ عمل ہے جو کتاب و سنت کے مطابق ہو اور اس سے صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی چاہی گئی ہو نہ کہ کسی اور کی، بعض مفسرین (رح) نے ” برفعہ “ میں ” یرفع “ کی فعیر پاکیزہ کلموں کیلئے اور ” ہ “ کی ضمیر عمل صالح کیلئے قرار دیتے ہوئے یہ معنی کہے ہیں کہ ” پاکیزہ کلمہ نیک عمل کو بلند کرتا ہے “۔ گویا اللہ تعالیٰ کے ہاں درجہ قبولیت پانے کیلئے پاکیزہ کلمہ اور نیک عمل لازم و ملزم ہیں “۔ ( شوکانی) شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں !” یعنی عزت اللہ کے ہاتھ میں ہے تمہارے ذکر او بھلے کام چڑھتے جاتے ہیں جب اپنی حد کو پہنچیں گے تببری پر غلبہ حاصل کریں گے کفر دفع ہوگا ( اور) اسلام کو عزت نصیب ہوگی “۔ 1 چناچہ ایک مرتبہ ” دارالندوہ “ میں بیٹھ کر انہوں نے یہ خفیہ سکیم بنائی کہ ہر قبیلے کا ایک ایک آدمی اٹھے اور سب مل کر محمد ﷺ پر یک ہارگی حملہ کریں پھر انہوں نے اس کو عملی جامعہ پہنانے کی کوشش کی لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو بچا لیا اور سکیم بنانے والے خود ذلیل و خوار ہوئے اور ان کے بڑے بڑے سردار جنگ بدر میں مارے گئے۔ بعض نے اس سے ریا کار لوگ مراد لئے ہیں۔ ( قرطبی)
Ayah 35:11

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ اَزْوَاجًا١ؕ وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ مَا یُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ وَّ لَا یُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهٖۤ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 35:11 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ نے تم کو پہلے مٹی سے پیدا کیا پھر تمہاری نسل نطفے سے بھرکم کو جوڑا جوڑا بنایا ایک مرد ایک عورت اور کسی عورت کو پیٹ نہیں رہتا اور نہ وہ جنتی ہے مگر خدا کو معلوم ہے اور نہ کسی عمر والے کو زیادہ عمر ملتی ہے اور نہ کسی کی عمر کم کی جاتی ہے مگر یہ سب لوح محفوظ میں لکھا بوا ہے اپیل بیشک اللہ پر یہ عمر کا گھٹانا بڑھاتا آسان ہے

ف 2 یعنی ہر شخص کی عمر میں جو کمی یا زیادتی وہ اللہ تعالیٰ کے لکھے ہوئے فیصلہ کے مطابق ہوتی ہے۔ احادیث میں ہے کہ دعا صدقہ اور صلہ رحمی سے رزق اور عمر میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ پس ان روایات سے دوسری احادیث کی عموم میں تخصیص کی جائے گی جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رزق و عمر اور سعادت و شقاوت ماں کے رحم میں لکھے جاتے ہیں اور پھر ان میں کمی بیشی اور تغیر و تبدل نہیں ہوتا۔ ( قرطبی، شوکانی) ۔
Ayahs 35:12–13

وَ مَا یَسْتَوِی الْبَحْرٰنِ١ۖۗ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُهٗ وَ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ؕ وَ مِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ فِیْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 35:12 in the Quran reader

اور اس کی قدرت دیکھو دو دریا ملے ہوئے ہیں لیکن برابر نہیں ہیں ایک میٹھا خوب میٹھا اسکا پانی خوشگوار ہے اور دوسرا کھاری کڑوا اور ہر ایک میں سے تم مچھلی کا شکار کر کے تازہ گوشت کھاتے ہو اور زیور (موتی مونگا) نکال کر پہنتے ہو اور تو دیکھتا ہے جہاز ان میں چلتے ہیں پانی پھاڑتے ہوئے اس لئے کہ تم اس کا فضل تلاش کرو (سوداگری کر کے روٹی کمائو) اور اس لئے کہ تم اس کا شکر بجا لائو

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ۙ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ۖ٘ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا یَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍؕ Open ayah 35:13 in the Quran reader

وہ رات (کے ایک حصے) کو دن میں شریک کردیتا ہے اور دن کے ایک حصے کو رات میں شریک کردیتا ہے اور سورج اور چاند کو اسی نے کام میں لگا دیا ہے دونوں ایک مقرر وقت پر چل رہے ہیں3 یہی اللہ تعالیٰ مالک ہے اسی کی تمام عالم میں) بادشاہت ہے اور اے مشرکو) جن کو تم اس کے سوا پکارتے ہو ان کو گٹھلی کے چھلکے برابر بھی اختیار نہیں ہے4

ف 3 یعنی دن کی روشنی آہستہ آہستہ گھنٹی شروع ہوتی ہے اور رات کی تاریکی بڑھتے بڑھتے آخر کارپوری طرح چھا جاتی ہے۔ وبالعکس (دیکھئے آل عمران آیت 26) اشارہ ہے کہ رات دن کی طرح کبھی کفر غالب ہے کبھی اسلام اور سورج چاند کی طرح ہر چیز کی مدت بندھی ہے دیر سویر نہیں ہوتی۔ ( موضح)4 یعنی کوئی معمولی سے معمولی اختیار بھی نہیں رکھتے۔
Ayah 35:14

اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا یَسْمَعُوْا دُعَآءَكُمْ١ۚ وَ لَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ١ؕ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ١ؕ وَ لَا یُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِیْرٍ۠ Open ayah 35:14 in the Quran reader

اگر تم ان کو پکارو تو اول تو وہ تمہارا پکارنا سنیں گے نہیں اور جو بالفرض محسن بھی لیں تو تمہارا کام نہیں نکال سکتے5 اور قیامت کی دن وہ تمہارے شرک کو برا کہیں گے6 اور تجھ کو اللہ خبر رکھنے والے کے برابر کون بتاسکتا ہے1

ف 5 کیونکہ وہ تمہیں کسی قسم کا نفع یا نقصان پہنچانے سے قطعی عاجز ہیں۔6 یا ’ ’ تمہارے شرک سے انکار کریں گے “۔ یعنی یہ کہیں گے کہ ہم نے کبھی تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ ہم تمہارے معبود ہیں اس لئے ہماری بندگی کیا کرو ہم سے دعائیں مانگا کرو اور حاجتیں طلب کیا کرو، مطلب یہ ہے کہ تمہارے یہ معبود تو دنیا میں کچھ فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ آخرت میں، بلکہ قیامت کے دن یہ تمہارے خلاف شہادت دیں گے۔ ( کبیر) ۔ 1 یعنی جب اللہ تعالیٰ جو ہر چیز کی خبر رکھتا ہے، خود یہ بتارہا ہے کہ لکڑی اور پتھر کے مجسمے قیامت کے دن گویا ہوناگے اور اپنی عبادت کرنے والوں سے بیزاری کا اظہار کریں گے تو معلوم ہوا کہ اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور اس کے سوا کسی کی بندگی جائز نہیں ہے اور یہ بت اور دیوتا سب باطل ہیں۔ (کبیر وغیرہ)
Ayah 35:15

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 35:15 in the Quran reader

لوگو تم اللہ تعالیٰ کے محتاج ہو اور اللہ ہی بےپروا ہے خوبیوں والاف 2

ف 2 یعنی تم ہر لمحہ اور ہر آن اپنے وجود اور بقاء میں اسی کے محتاج ہو اور اس نے باوجود خود ” بےپروا “ ہونے کے تمہارے لئے زندگی کے اسباب فراہم کئے۔ پھر وہ حمید بھی ہے اگر تم ایمان لے آئو گے تو آخرت میں تمہیں اپنی نعمتوں سے نوازے گا۔ ( کبیر) ۔
Ayah 35:16

اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 35:16 in the Quran reader

اگر وہ چاہے تو تم کو ابھی بھی فنا کر دے اور تمہارے بدل نئی خلقت پیدا کرے3

ف 3 یعنی یہ مت خیال کرو کہ اگر تم فنا ہوگئے تو اللہ تعالیٰ کی سلطنت اور عظمت میں کوئی فرق آجائے گا، ہرگز نہیں۔ اگر وہ چاہے تو تمہیں فنا کر کے ایک نئی خلقت پیدا کرلے جو اس کی اطاعت کرے اور نافرمانی سے باز رہے۔ ( کبیر) ۔
Ayahs 35:17–18

وَ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 35:17 in the Quran reader

اور اللہ پر یہ بات کچھ مشکل نہیں

وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ اِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا یُحْمَلْ مِنْهُ شَیْءٌ وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ؕ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ مَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا یَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 35:18 in the Quran reader

اور قیامت کے دن کوئی بوجھ اٹھانیوالا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائیگا4 اور قیامت میں جو بوجھ سے لدا ہوگا اگر وہ کسی کو گو اس کا ناطے والا ہی ہو اپنا بوجھ اٹھانے کے لئے بلائے تو وہ اس کا ذرا بھی بوجھ اٹھانیوالا نہیں5 اے پیغمبر تو انہی ولگوں کو ڈرا سکتا ہے جو بن دیکھے خدا کے عذاب سے ڈرتے ہیں6 اور نماز درستی سے ادا کرتے ہیں اور جو شخص اپنے تئیں کفر اور شرک اور گناہوں کی نجات سے پاک رکھے وہ اپنی ہی فائدے کے لئے پاک رکھتا ہے اور آخر اللہ ہی کی طرف سب کی لوٹ کر جانا ہے7

ف 4 بوجھ سے مراد گناہوں کا بوجھ ہے۔ یہ آیت اس آیت کے منافی نہیں ہے جس میں ارشاد ہے۔ ( ولیحملن اتقالھم و اتقالا مع القالھم ) ( اور وہ ضرور اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ کچھ اور بوجھ) کیونکہ وہ جودو طرح کے بوجھ اٹھائیں گے وہ ان کے اپنے ہی ہوں گے، ایک ان کے خواہ گمراہ ہونے کا اور دوسرا اپنے علاوہ دوسروں کو گمراہ کرنے کا۔ جیسا کہ ایک حدیث میں ہے : (من سن سنۃ سیۃ فعلیہ وزرھا ووزرمن عمل بھا الی یوم القیامۃ) یعنی ” جس نے کوئی برا طریقہ جاری کیا اس پر اس کا اور ان تمام لوگوں کا بوجھ ہے جو قیامت تک اس پر عمل کریں “۔ (فتح البیان)5 حدیث میں ہے : باپ بیٹے کے گناہ میں نہ پکڑا جائے گا اور نہ بیٹا باپ کے گناہ میں مآخوذ ہوگا۔ (لا یجنی والد علی ولدہ ولا مولود علی والدہ) (شوکانی بحوالہ ترمذی، لسائی)6 یا تنہائی میں جہاں کوئی انہیں دیکھنے والا نہیں ہوتا وہ خدا سے ڈرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کے ڈرانے سے وہی لوگ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں جن کے دل میں خدا کا ڈر ہے اور پھر عمل صالح کے زیور سے بھی آراستہ ہیں۔ ( کبیر)7 یعنی محسن کو اس کی نیکی کا ثمرہ ملے گا اور اس کا ظہور گو اس دنیا میں نہیں ہوتا مگر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچ کر تو اپنی نیکیوں کا ثمرہ حاصل کر ہی لے گا جیسا کہ گناہ کی سزا اس دنیا میں پوری نہیں ملتی مگر قیامت کے دن اس کی پوری سزا مل کر رہے گی۔ ( کبیر)
Ayahs 35:19–22

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُۙ Open ayah 35:19 in the Quran reader

اور اندھا اور انکھیارا برابر نہیں ہوسکتا یعنے کافر اور مومن

وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوْرُۙ Open ayah 35:20 in the Quran reader

اور نہ اندھیرا اور اجالا یعنے کفر اور ایمان

وَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الْحَرُوْرُۚ Open ayah 35:21 in the Quran reader

اور نہ چھائوں اور دھوپ یعنے بہشت اور دوزخ یا ثواب اور عذاب

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 35:22 in the Quran reader

اور زندے اور مردے برابر نہیں ہیں (یعنے8 مومن اور کافر) بیشک اللہ جس کو چاہتا ہے اس کو حق بات سن لینے کی توفیق دیتا ہے اے پیغمبر تو ان لوگوں کو نہیں سنا سکتا جو قبروں میں ہیں9

ف 8 یعنی اسی طرح مومن اور کافر برابر نہیں ہوسکتے۔ مومن کا ٹھکانہ جنت اور کافر کا جہنم شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” یعنی سب خلق برابر نہیں جن کو ایمان دینا ہے انہیں کو ملے گا تو بتھری آرزوکرے تو کیا ہوتا ہے ؟ “ (موضح)9 یعنی مردوں کو مراد وہ کافر ہیں جن کے دل مردہ ہوچکے ہیں۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو لوگ قبروں میں مردہ میں انہیں کوئی بات نہیں سنائی جاسکتی۔ یہ ایک عام حقیقت ہے جس سے صرف وہ صورتیں مستثنیٰ ہیں جو دلیل ( کتاب و سنت) سے ثابت ہوں۔ (دیکھئے سورة نمل آیت 80) ۔
Ayah 35:23

اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِیْرٌ Open ayah 35:23 in the Quran reader

تو تو اور کچھ نہیں ایک ڈرانے والا ہے10

ف 10 یعنی لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے خبردار کرنے والا رہا ہدایت کرنا اور راہ راست پر لانا تو یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ آپ ﷺ پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔
Ayah 35:24

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ؕ وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِیْهَا نَذِیْرٌ Open ayah 35:24 in the Quran reader

ہم نے تجھ کو سچا خوش خبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا11 اور کو ئق وم ایسی نہیں ہوئی جس میں کوئی نہ کوئی ڈرانیوالا پیغمبر نہ گزرا ہو12

ف 11 یعنی اطاعت گزاروں کو جنت کی خوشخبری دینے والا اور نافرمانوں کو خدا کے عذاب سے ڈرانے والا۔12 درانے والا، خواہ نبی ہو، خواہ جو نبی کے راہ پر ہو۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ ہر قوم اور ہر ایک میں ڈر سنانیوالے ہر گزرے ہیں۔ ( دیکھئے سورة رعد آیت 7 سورة نحل : 36)
Ayah 35:25

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالزُّبُرِ وَ بِالْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 35:25 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) اگر یہ کافر تجھ کو جھٹلائیں تو کچھ رنج نہ کر) ان سے پہلے کافروں نے ان پیغمبروں کو جھٹلایا جو ان کیپاسکھلی نشانیاں (معجزے) اور صحیفے اور چمکتی کتاب لے کر آئے تھے13

ف 13 صحیفوں سے مراد غالباً وہ کتابیں ہیں جو زیادہ تر نصائح اور اخلاقی ہدایات پر مشتمل تھیں۔ جیسے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے صحیفے اور چمکتی کتاب سے مراد وہ کتاب ہے جس میں شرعی احکام کا ذکر تھا جیسے توراۃ۔ واللہ اعلم۔ ( شوکانی) مطلب یہ ہے کہ اگر تیری قوم تجھ کو جھٹلائے تو اس پر غمگین نہ ہو، اس لئے کہ یہ مصیبت کچھ خاص تجھی پر نہیں ہے تیرے ساتھیوں کے ساتھ بھی یہی کام ہوتا ہے حالانکہ ان میں سے کسی کو معجزات، کسی کو صحیفے اور کسی کو روشن کتاب دیکر بھیجا گیا تھا مگر وہ صبر کرتے رہے اور انجام کار جھٹلانے والے سخت عذاب میں پکڑے گئے اور تجھ کو یہ تمام چیزیں ایک ساتھ دیکر بھیجا گیا۔ ( فوائد سلیفہ تبصرف) ۔
Ayahs 35:26–28

ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 35:26 in the Quran reader

پھر (جب ان کافروں نے نہ سناتو میں نے ان کافروں کو (عذاب میں) گانٹھ لیا اور سک طرح ان کو تباہ کردیا

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهَا١ؕ وَ مِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِیْضٌ وَّ حُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَ غَرَابِیْبُ سُوْدٌ Open ayah 35:27 in the Quran reader

(اسے دیکھنے والے) کیا تو نے نہیں دیکھا اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا پھر ہم نے اس پانی سے کئی رنگ کے پھل اگائے اور (اسی طرح) پہاڑوں میں گھاٹیاں بنائیں (یاطبقے) کچھ تو ان میں سفید ہیں اور سرخ کئی رنگ کے اور کچھ کالے بھینگ

وَ مِنَ النَّاسِ وَ الدَّوَآبِّ وَ الْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ كَذٰلِكَ١ؕ اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ غَفُوْرٌ Open ayah 35:28 in the Quran reader

اور اسی طرح آدمیوں اور جانوروں اور چارپائوں میں بھی طرح طرح کے رنگ ہیں اللہ تعالیٰ سے تو اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو (خدا کی مخلوقات اور اس کی قدرتوں کا علم رکھتے ہیں1 بیشک اللہ زبردست ہے بخشنے والا

ف 1 علم سے مراد اللہ تعالیٰ کی صفات، افعال و احکام اور قدرتوں کا علم ہے نہ کہ صرف و نحو، فلسفہ تاریخ جغرافیہ اور سائنس وغیرہ رسی علوم اور حقیقت ہے کہ جس کسی شخص کو معرفت باللہ زیادہ حاصل ہوگی، اسی قدر وہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ ڈرنے والا ہوگا یعنی تقویٰ بقدر علم ہوتا ہے۔ انبیاء ( علیہ السلام) کو چونکہ حسب مراتب معرفت باللہ دوسرے لوگوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس لئے آنحضرت ﷺ نے فرمایا : (انا اخشاکم للہ واتقاکم لہ) میں تم سب کی بہ نسبت اللہ تعالیٰ سے زیادہ ڈرنے والا ہو۔ عالم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا ہے اور جو اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا وہ عالم نہیں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کا ڈر بڑا علم ہے اور اس سے بےخوفی بڑا جہالت ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں :” علم کثرت حدیث کا نام نہیں ہے بلکہ کثرت خشیت کا نام ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا ارشاد ہے : ” رحمان کا علم رکھنے والا وہ ہے جو شرک نہ کرے، اللہ کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھے، اس کی ہدایت پر کار بند رہے اور اسے یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو کر تمام اعمال کا حساب ہوگا۔ امام مالک (رح) فرماتے ہیں : ” علم کثرت روایت کا نام نہیں ہے۔ بلکہ وہ تو ایک نور ہے جو اللہ تعالیٰ کسی کے دل میں ڈال دیتا ہے۔ ( روح، ابن کثیر)
Ayah 35:29

اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ Open ayah 35:29 in the Quran reader

جو لوگ اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن پڑھتے رہتے ہیں اور نماز درستی سے ادا کرتے ہیں اور جو مال ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور کھلم کھلا خرچ کرتے رہتے ہیں ان کو ایسے بیوپار کی امید رکھنا چاہیے جس میں گھاٹا2

ف 2 یعنی جو علماء اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے ہیں، ان کی صفات یہ ہیں کہ وہ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ لسانی، بدنی اور مالی ہر قسم کی عبادات بجا لاتے ہیں اور انکے قلوب خشیت الٰہی سے معمو رہتے ہیں۔” سزا و علانیہ “ یعنی فرائض کی بجا نٓوری علانیہ کرتے ہیں اور نفلی عبادات سترا کرتے ہیں۔ ( رازی) اور تجارت سے مراد ثواب طاعت ہے۔ ( شوکانی)
Ayah 35:30

لِیُوَفِّیَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 35:30 in the Quran reader

ہرگز نہیں ہوسکتا اس لئے کہ اللہ تو ان کے ثواب ان کو پورے بھر دیگا اور اپنے فضل سے کچھ اور زیادہ (کھانے میں) لائیگا بیشک وہ بخشنے والا قدر کرنیوالا ہے3

ف 3 یعنی ان کے گناہوں کو بخشنے والا اور ان کی اطاعت کی قدر کرنے والا ہے۔ یہاں تک تو توحید کا بیان تھا اب آگے رسالت کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ ( کبیر)
Ayah 35:31

وَ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 35:31 in the Quran reader

اور صاے پیغمبر) یہ کتاب جو ہم نے تیری طرف بھیجی ہے (بالکل) سچی ہے اور اگلی کتابوں کو سچ بتاتی ہے4 بیشک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی خبر رکھتا ہے

ف 4( حال موکد لکونہ حقا) یعنی یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے بلکہ اس دعوت کو پیش کرتی ہے جو پچھلی کتابوں میں پیش کی گئی تھی۔ پچھلی کتابوں سے مراد توراۃ و انجیل وغیرہ کی وہ اصل عبارتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی گئی تھیں نہ کہ ان کی موجودہ تحری شدہ عبارتیں۔
Ayah 35:32

ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا١ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ۚ وَ مِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَیْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُؕ Open ayah 35:32 in the Quran reader

ان کو دیکھ رہا ہے پھر ہم نیتیرے بعد اس قرآن کا وارث اپنے ان بندوں کو کیا جن کو ہم نے چن لیا5 ان میں کچھ تو گناہ گار ہیں اور کچھ بیچ بیچ میں جلنے والے ہیں اور کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے نیکیوں میں آگے بڑھنے والے ہیں6 یہی تو خدا تعالیٰ کا بڑا فضل ہے

ف 5 یعنی پیغمبر ﷺ کے بعد کتاب کے وارث اپنے بر گزیدہ بندوں کو بنایا یعنی یہ امت جو امت وسط ہے اور اسے خیر الانبیا ( علیہ السلام) کی امت ہونے کا شرف حاصل ہے اور ” اور ثنا “ سے مراد یہ ہے کہ ہم نے مقرر کردیا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد اس کتاب کے وارث اس امت کے علماء کو بنا دینگے۔ ( فتح البیان)6 بعض علماء نے تفسیر (رح) نے سورة واقعہ میں جو اہل محشر کے تین گروہ مذکور ہیں۔ ان پر اس آیت کو بھی منطق کرنے کی کوشش کی ہے اور اپنی جان پر ظلم کرنے والوں سے کافر اور منافق مراد لئے ہیں مگر یہ تفسیر قرآن کے سیاق کے خلاف ہے کیونکہ یہاں تین قسم کے لوگوں کا ذکر فرما کر ان کا جتنی ہونا بیان کیا ہے اور اس کے بعد اہل دوزخ کا ذکر فرمایا ہے۔ لہٰذا ان سے کافر اور منافق مراد نہیں ہوسکتے۔ پس صحیح یہی ہے کہ اپنی جان پر ظلم کرنے والوں سے مراد گناہ گار مسلمان ہیں جو آخر جنت میں داخل ہونگے۔ جیسا کہ عبد اللہ بن عباس ؓ سے علی بن طلحہ ؓ کی روایت میں ہے اور حضرت ابو اللہ ؓ اسے مرفوعاً مروی ہے کہ ( ظالم لنفسہ) سے مراد وہ گناہ گار مسلمان ہیں جو اپنے گناہوں کے سبب میدان حشر میں دیر تک رہ کے جائیں گے پھر اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرما کر جنت میں داخل کرے گا۔ اس کی تائید متعدد روایات ( مرفوع و موقوف) سے بھی ہوتی ہے۔ لہٰذا جمہور مفسرین نے اسی تفسیر کو اختیار کیا ہے۔ ( احسن الفوائد) اور حدیث (شفاعتی لاھل الکبائر من امتی) سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ گناہ گار مسلمان آخر جنت میں داخل ہونگے اور مقتصد میں وہ لوگ آتے ہیں جو فرائض کے پابند اور محرمات سے مجتنب رہتے ہیں مگر بعض مستجاب کے تارک اور بعض مکروبات کے مرتکب ہوجاتے ہیں، اور تیسرے سابق بالخیرات یعنی وہ لوگ جو نہ صرف فرائض کو ادا کرتے اور محرمات سے مجتنسب رہتے ہیں بلکہ مستحبات پر بھی کار بند رہتے ہیں اور مکروہات سے بچتے رہتے ہیں۔ کذاروی عن اکثر السف۔ حضرت بن عباس ؓ فرماتے ہیں ( سابقون بالخیرات) تو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہونگے اور مقصد وہ جن کا حساب تو ہوگا مگر (حسابا بسیرا) کے بعد جنت میں چلے جائیں گے اور ظالم اور اعراف والے آنحضرت ﷺ کی شفاعت سے جنت میں داخل ہونگے۔ (ابن کثیر)
Ayah 35:33

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ۚ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 35:33 in the Quran reader

(ان لوگوں کے لئے) ہمیشہ رہین کے باغ ہیں ان میں داخل ہو7 ہوں گے وہاں ان کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور موتی اور ان کی پوشاک ریشمی ہوگی

ف 7 بعض مفسرین (رح) نے ان داخل ہونیوالوں سے صرف نیکیوں میں آگے بڑھنے والے لوگ مراد لئے ہیں لیکن صحیح یہ ہے کہ ان سے تمام مسلمان مراد ہیں چاہے وہ مذکور بالا تینوں قسموں میں سے کسی قسم میں داخل ہوں۔ ( شوکانی)
Ayahs 35:34–35

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ١ؕ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَكُوْرُۙ Open ayah 35:34 in the Quran reader

اور یہ لوگ بہشت میں داخل ہو کر کہیں گے شکر اللہ تعالیٰ کا جس نے ہم سے ہر طرح کا رنج دفع کردیا بیشک ہمارا مالک بڑا بخشنے والا قدر دان ہے

اِ۟لَّذِیْۤ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا نَصَبٌ وَّ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا لُغُوْبٌ Open ayah 35:35 in the Quran reader

جس نے اپنے فضل سے ہم کو ہمیشہ رہنے کے گھر جنت میں لا اتارا ہم کو اس گھر میں نہ کوئی تکلیف پہنچے گی نہ ہم کو اس میں کس طرح کی تھکن (ماندگی) ہوگی1

ف 1 یعنی ہماری تمام محنتوں اور تکلیفوں کا خاتمہ ہوگیا۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” رہنے کا گھر اس سے پہلے کوئی نہ تھا ہر جگہ چل چلائو اور روزی کا غم، دشمنوں کا ڈر اور رنج اور مشقت وہاں پہنچ کر سب گئے۔ (موضح)
Ayah 35:36

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ١ۚ لَا یُقْضٰى عَلَیْهِمْ فَیَمُوْتُوْا وَ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ كُلَّ كَفُوْرٍۚ Open ayah 35:36 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہیں ان کے لئے دوزخ کی آگ تیار ہے نہ تو ان کی قضا آئے گی کہ وہ مرجائیں اور عذاب سے کچھ میں) اور نہ دوزخ کا عذاب ان پر ہلکا ہوگا2 ہم ہر ناشکرے (کافر) کو ایسے ہی سزا دیتے ہیں

ف 2 ایک حدیث میں بھی ہے کہ دوزخی دوزخ میں رہیں گے سو وہاں نہ مرینگے اور نہ جئیں گے۔ الغرض دوزخ کا عذاب دائمی ہوگا۔ دیکھئے۔ ( نساء : 56، طہٰ : 74)
Ayah 35:37

وَ هُمْ یَصْطَرِخُوْنَ فِیْهَا١ۚ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ اَوَ لَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا یَتَذَكَّرُ فِیْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَ جَآءَكُمُ النَّذِیْرُ١ؕ فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ۠ Open ayah 35:37 in the Quran reader

اور وہ دوزخ میں چلاتے رہیں گے مالک ہمارے ہم کو یہاں سے نکال لے (اور دنیا میں دوبارہ بھیج دے) ہم سب کے اچھے کام کریں گے جیسے کام پہلے کرتے تھے ویسے نہیں کرینگے پروردگار فرمائیگا کیا ہم نے تم کو دنیا میں اتنی عمر نہیں دی تھی اگر کسی کو3 سونچنا منظو رہوتا وہ اس میں سونچ لیتا اور اس کے سوا تمہارے پاس ڈرانیوالا پیغمبر بھی پہنچا (جب بھی تم نے نہ ماناض اب تمہاری سزا یہی ہے کہ اپنے کیے کا بدلہ چکھتے رہو تو نافرمان لوگوں کا کوئی مددگار نہ ہوگا

ف 3” اتنی عمر “ سے مراد ساٹھ برس کی عمر ہے۔ یہی قول حضرت ابن عباس ؓ اور اکثر صحابہ ؓ سے منقول ہے۔ صحیح بخاری کتاب الرقاق میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک مرفوع حدیث میں ہے ( اعذر اللہ الی امری اخرعمرہ حتی بلغ ستین سنۃ) کہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کا عذرختم کردیا جسے اس نے ساٹھ برس کی عمر دے دی، پس یہی قول اصح ہے اور جن روایات و اقوال میں چھیالیس، ستر اور چالیس برس کی تحدید مذکور ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ ( ملخص از ابن کثیر وغیرہ) ۔
Ayah 35:38

اِنَّ اللّٰهَ عٰلِمُ غَیْبِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 35:38 in the Quran reader

بیشک اللہ آسانوں زمین کی پوشیدہ باتیں جانتا ہے وہ تو دلوں کی بات4 بات بھی جانتا ہے

ف 4 اس بناء پر اسے خوب معلوم ہے کہ اگر تمہیں دوبارہ بھی دنیا میں بھیج دیا جائے تو تم ہرگز نیک کام نہ کرو گے جیسا کہ دوسرے مقام ( انعام : 28) پر فرمایا ( ولو اردوا لعادوا المانھوا عنہ) اور اگر انہیں دنیا میں دوبارہ بھیج بھی دیا جائے تب بھی وہی کام کرینگے جن سے انہیں منع کیا گیا تھا۔ ( قرطبی)
Ayah 35:39

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَمَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ؕ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ اِلَّا مَقْتًا١ۚ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 35:39 in the Quran reader

وہی خدا ہے جس نے تم کو زمین میں اگلوں کا جانشین بنایا5 پھر جو کوئی کفر کرے اس کفر کا وبال کسی پر پڑے گا6 اور کافروں پر انکے کفر سے خدا کا غصہ اور زیادہ ہی گا اور کافروں کو کفر کی وجہ یس اور زیادہ ہی گھاٹا ہوگا

ف 5 یعنی پچھلی نسلیں ختم ہوگئیں تو تم نے ان کی جگہ لے لی اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ نے تمہیں زمین پر اپنا خلیفہ بنایا۔ چناچہ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” یعنی رسولوں کے پیچھے تمہیں ریاست دی یا اگلی امتوں کے پیچھے اب اس کا حق ادا کرو “۔6 یعنی جو اس نعمت ( خلافت) کی ناشکری کرے۔ نہ حق بندگی ادا کرے اور نہ گزشتہ قوموں کے انجام سے عبرت حاصل کرے تو اس کی ناشکری کا وبال اسی پر پڑے گا۔ کسی دوسرے کو وہ کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔
Ayah 35:40

قُلْ اَرَءَیْتُمْ شُرَكَآءَكُمُ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ۚ اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا فَهُمْ عَلٰى بَیِّنَتٍ مِّنْهُ١ۚ بَلْ اِنْ یَّعِدُ الظّٰلِمُوْنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 35:40 in the Quran reader

(اے پیغمبر ان کافروں سے کہہ بتلائو تو سہی تمہارے دیوتا جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو مجھ کو دکھائو انہوں نے زمین میں کونسی چیز بنائی ہے یا آسمانوں کے بنانے میں ان کا کچھ سا جھا ہے یا1 ہم نے کوئی کتاب ان کو دی ہے جس کی وہ سند رکھتے ہیں اس کتاب میں شرک کی تعلیم ہے یہ کوئی بات نہیں) بلکہ یہ ظالم اور کچھ نہیں ایک دوسرے کو فریب دے کر مٹھار لیتے ہیں ان کے2 وعدے وعید سب دھوکے کی ٹٹیاں ہیں)

ف 1 جس کی بناء پر تم یہ سمجھو کہ یہ خدا کی خدائی میں شریک قرار دیئے جاسکتے ہیں۔2 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں پر حجت قائم کی ہے کہ ان معبودوں کو نہ تو آسمان و زمین کو پیدا کرنے میں کچھ دخل ہے اور نہ کسی سماوی کتاب ہی میں ان کے شریک ہونے کی کوئی دلیل موجود ہے تو پھر تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کیوں کرتے ہو ؟ دراصل یہ اپنے پیشوائوں کے اس قول پر فریفتہ ہوگئے ہیں کہ جن کی ہم عبادت کرتے ہیں وہ اللہ سے ہماری کرینگے ( یا پیر، فقیر، عوام سے جو یہ کہتے ہیں کہ فلاں فلاں کا دامن تھام لو دنیا میں بھی سکھی رہو گے اور آخرت میں بھی وہ تمہیں خدا کے عذاب سے بچا لیں گے) سو یہ جھوٹ اور فریب ہے۔ ( سلفیہ باضافہ)