34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 34:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 34:1 in the Quran reader

ف 4 اصل تعریف اللہ ہی کو سزا وار ہے اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں اور آخرت میں (بھی دنیا کی طرح) اسی کی تعریف5 ہوگی وہی حکمت والا خبردار ہے6

ف 4 مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی البتہ اس کی آیت ( ویری الذین اوتو العلم) کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض اسے مکی قرار دیتے ہیں اور بعض مدنی۔ ( شوکانی) ۔5 یعنی جس طرح دنیا کی ہر نعمت اسی کی عطا کردہ ہے اسی طرح آخرت میں نیک بندوں کو بھی نعمت حاصل ہوگی وہ اسی کی عطا کردہ ہوگی۔ یہاں بھی ہر تعریف و ستائش کا مستحق وہی ہے اور وہاں بھی وہی ہوگا چناچہ نیک بندے جب جنت میں داخل ہونگے تو کہیں گے ( الحمد للہ الذی صدقنا وعدہ) شکر ہے اس خدا کا جس نے ہم سے اپنا وعدہ پورا فرمایا۔ ( زمر : 74) نیز دیکھئے۔ ( اعراف : 43، فاطر : 35)6 یعنی اس کا ہر غایت درجہ حکمت پر مبنی ہے اور اسے اپنی ہر مخلوق کے متعلق پوری خبر ہے۔
Ayah 34:2

یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ الرَّحِیْمُ الْغَفُوْرُ Open ayah 34:2 in the Quran reader

وہ جانتا ہے جو زمین کے اندر رہتا ہے مثلاً بیج خزانہ وغیرہ اور جو زمین سے نکلتا ہے (مثلاً درخت جانور وغیرہ) اور جو آسمان سے اترتا ہے (مثلاً پانی اور رزق اور فرشتہ وغیرہ) اور جو آسمان7 میں چڑھ جاتا ہے اور وہی مہربان8 ہے بخشنے والا

ف 7 جیسے فرشتے یا بندوں کے اعمال وغیرہ اور فیہا سے اشارہ ہے کہ وہ اعمال آسمانوں میں نفوذ کر کے باری تعالیٰ کے ہاں مرتبہ قبولیت حاصل کرلیتے ہیں۔ جیسے فرمایا :” الیہ یحمد الکلم الطیب “۔8 یعنی وہ اپنے بندوں کی بد اعمالیوں سے باخبر ہے لیکن چونکہ وہ رحیم و غفو رہے اس لئے وہ ان کی فوری گرفت نہیں کرتا بلکہ توبہ کی مہلت دیتا ہے اور جو توبہ کرلیتا ہے اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ امام رازی (رح) لکھتے ہیں یعنی وہ جو کچھ رزق وغیرہ اتارتا ہے اپنی رحمت سے اتارتا ہے اور جو اعمال وارواح اس کی طرف عروج کر کے پہنچتے ہیں ان پر مغفرت فرماتا ہے۔
Ayah 34:3

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِیْنَا السَّاعَةُ١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتَاْتِیَنَّكُمْ١ۙ عٰلِمِ الْغَیْبِ١ۚ لَا یَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ لَاۤ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرُ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍۗۙ Open ayah 34:3 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں قیامت تو ہم پر آنے والی نہیں9 (اے پیغمبر) کہہ دے کیوں نہیں قسم میرے مالک کی جو غیب کی باتیں جانتا ہے10 اس سے ذرہ برابر کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں نہ آسمان میں اور نہ زمین میں اور نہ ذرے سے چھوٹی اور نہ بڑی خود وہ کھلی کتاب (لوح محفوظ) میں لکھی ہوئی ہے

ف 9 یعنی اخروی نعمتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ حمد و ستائش کے مستحق ہیں مگر کچھ لوگ کہ اخروی نعمت کے منکر ہیں اور قیامت جس کے بعد آخرت میں نعمتیں حاصل ہونگی اس کا انکار کر رہے ہیں۔ ( کبیر) ۔10 یہ آیت ان تینوں آیتوں میں سے ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو قیامت کے آنے پر قسم کھانے کا حکم دیا ہے۔ دوسری آیت سورة یونس میں ہے ” ولستبلوانک احق ھو “ الایۃ۔ اور تیسری آیت سورة تغابن میں ہے۔” رعم الدین کفروا “ (الایۃ)
Ayah 34:4

لِّیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 34:4 in the Quran reader

قیامت1 جو تم پر ضرور ایک نہ ایک دن آئیگی اس لئے کہ جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کئے اللہ ان کے نیک کاموں کا ان کو بدلہ دے انہی لوگوں کے لئے آخرت میں گناہوں کی بخشش اور عزت کی روزی ہے یا عمدہ روزی ہے

ف 1 یہ قیامت کے وقوع پر دلیل ہے یعنی اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے۔ اس کے علم سے کوئی ذرہ بھر چیز بھی پوشیدہ نہیں ہے اس لئے وہ تمہارے منتشر اجزاء کو جمع کر کے دوبارہ زندہ کرسکتا ہے اور الصادق الامین نے اس کی خبر دی ہے۔ لہٰذا اس کے وقوع میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا۔ ( کبیر) ۔
Ayah 34:5

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ Open ayah 34:5 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کے بگاڑنے میں کوشش کی یہ سمجھ کر کہ وہ ہمارے قابو سے نکل جائیں گے ان کو بڑا سخت تکلیف کا عذاب ہوگا2

ف 2 یعنی قیامت کا آنا اس لئے ضروری ہے کہ نیک و بد اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے، کیونکہ اس دنیا میں تو ہم دیکھتے ہیں بعض نیک آدمی عمر بھر تکالیف میں مبتلا رہتے ہیں اور بعض بد کردار لذت و عیش میں بسر کرتے ہیں، اور یہاں ان کے اعمال کے نتائج کا ظہور نہیں ہوتا، لہٰذا جزاء، سزا کے لئے کسی دن کا ہونا ضروری ہے ورنہ اس زندگی کی حیثیت کھلونے سے زیادہ نہ رہے گی اور یہ اللہ تعالیٰ کے حکیم و خیبر ہونے کے منافی ہے۔ ( کبیر) ۔
Ayah 34:6

وَ یَرَى الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ هُوَ الْحَقَّ١ۙ وَ یَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ Open ayah 34:6 in the Quran reader

اور اے پیغمبر جن لوگوں کو اگلی کتابوں کا علم دیا گیا ہے وہ تو3 تجھ پر تیرے مالک کی طرف سے جا اترا ہے۔ (یعنی قرآن) اس کو برحق اور زبردست خوبیوں والے خدا کا رستہ دکھانے والا سمجھتے ہیں

ف 3 مراد صحابہ کرام ہیں یا تمام مسلمان اور با اعتبار عموم یہ دوسرا احتمال زیادہ صحیح ہے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ ان سے مراد اہل کتاب ہیں اور غالباً ترجمہ کا بریکٹ ( اگلی کتابوں کا) اسی قول کے پیش نظر ہے مگر یہ قول بوجہ ضعیف ہے۔ ( قرطبی) بعض نے (ویری الذین الایۃ) کو ولیجوی پر معطوف مانا ہے اور یہ مطلب لیا ہے یعنی اس واسطے قیامت آنی ہے کہ جن کو یقین تھا وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ قرآن برحق تھا۔۔۔۔ ( وحیدی)
Ayahs 34:7–9

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ یُّنَبِّئُكُمْ اِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ۙ اِنَّكُمْ لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 34:7 in the Quran reader

اور کافر ہنسی سے ایک دوسرے سے کہتے ہیں جی ہم تم کو ایک آدمی بتائیں جو تم کو یہ خبر دیتا ہے کہ جب تم مر کر ریزہ ریزہ ہوجائو گے تو پھر تم نئے سرے سے پیدا ہو گے

اَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَمْ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلِ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ فِی الْعَذَابِ وَ الضَّلٰلِ الْبَعِیْدِ Open ayah 34:8 in the Quran reader

عجیب آدمی ہے کیا اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا لیا ہے یا وہ سودائی ہے پاگل یہ کوئی بات نہیں جو لوگ آخرت کا یقین نہیں رکھتے وہ خود احمق ہیں آخرت میں عذاب پائیں گے اور دنیا میں پولے سرے کے گمراہ ہیں

اَفَلَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَیْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ۠ Open ayah 34:9 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے جو ان کے سامنے اور پیچھے آسمان ور زمین ہے اس کو نہیں دیکھا4 اگر ہم چاہیں تو دم بھر میں ان کو زمین میں دھنسا دیں یا آسمان کا ایک ٹکڑا ان پر گرا دیں ایک ڈھیارہ کچل کر رہ جائیں5 جس بندے کو خدا کا خیال ہے اس کو تو اس میں ضرور (خدا کی قدرت کا) پتہ ملتا ہے6

ف 4 یعنی آسمان و زمین کی تخلیق، اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت کی نشانی اور اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔ ( کبیر) ۔5 اس میں تہدید ہے کہ یہی چیزیں جن کو تم نفع بخش اور زندگی کا سبب سمجھتے ہو اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو انہی چیزوں کو تمہاری ہلاکت کا جواب بنا سکتا ہے۔ ( کبیر) ۔6 کہ جس نے اتنا بڑا پر از حکمت نظام بنایا ہے وہ دوبارہ زندہ بھی کرسکتا ہے۔ ( کبیر) یا مطلب یہ ہے کہ اس کی عنایت و فضل سے ہم بچے ہوئے ہیں ورنہ وہ ایک دم میں ہمیں ہلاک کرسکتا ہے۔ یہ زمین بھی اسی کی ہے اور آسمان بھی اسی کے ہیں، بھاگ کر کہاں جام سکتے ہیں۔ ( وحیدی) اس کے بعد رجوع کرنے والے بندوں میں سے بعض کے قصے بیان فرمائے۔ ( کبیر) ۔
Ayah 34:10

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا١ؕ یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَهٗ وَ الطَّیْرَ١ۚ وَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَۙ Open ayah 34:10 in the Quran reader

اور ہم اگلے زمانہ میں دائود پیغمبر کو بزرگی دے چکے ہیں1 پہاڑو تم دائود کے ساتھ تسبیح کیا کرو اور پوندو (تم بھی ایسا ہی کرو2) اور ہم نے لوہا اس کے لئے نرم کردیا تھا3

ف 1 یہ ان کی ” انابت “ کا صلہ تھا۔ ( کبیر) یعنی ان کو علم و نبوت سے سرفراز فرمایا۔ ان پر زبور نازل کی، بادشاہی عنایت کی لوہے کو موم کی طرح نرم کردیا اور بندوں پر پہاڑوں کو تابع کردیا وغیرہ۔ یہ سب چیزیں فضل بزرگی میں داخل ہیں جیسا کہ آگے بیان فرمایا ہے۔2 اس کا عطف جبال مناویٰ کے محل پر ہے۔ پہاڑوں اور پرندوں کو خاص طور پر ” تادیب “ کا حکم دینے سے اس ام کا اظہار مقصود ہے کہ جب پہاڑ باوجود اپنی سختی کے اور پرندے باوجود انسان سے نفرت کے حضرت دائود ( علیہ السلام) کے ساتھ تسبیح پڑھنے میں شریک ہوجایا کرتے تھے تو وہ دوسری چیزیں بالا ولی ان کے ساتھ تسبیح پڑھتی تھیں اور یہ بات حضرت دائود ( علیہ السلام) پر خصوصی فضل کے طور پر بیان فرمائی ورنہ پہاڑوں کی تسبیح سے ان کی گونج مراد ہو تو بزرگی کا ذکر بےمعنی ہو کر رہ جائیگا۔ ( انبیاء : 79) ۔3 علمائے تفسیر کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود ( علیہ السلام) کیلئے لوہے کو اس قدر نرم کردیا تھا کہ انہیں اسے آگ میں ڈالنے اور ہتھوڑے سے کوٹنے کی ضرورت نہ پڑتی تھی بلکہ وہ ہاتھ سے دھاگے کی طرح اس جیسے چاہتے بل دے دیتے۔ ( ابن کثیر)
Ayah 34:11

اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرْ فِی السَّرْدِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 34:11 in the Quran reader

اس کو یہ حکم دیا تھا کہ پورے بدن کی زر میں بنا اور کڑیاں انداز سے جوڑ (بڑی چھوٹی نہ ہوں4) اور دائود اور اس کے لوگوں سے یہ کہا نیک کام کرتے رہو کیونکہ میں تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہوں

ف 4 یا ” السر د “ کے معنی زدہ زبانی کی صنعت اور کام کے ہیں اور قدر سے مراد یہ ہے کہ بقدر ضرورت یہ کام کرو اور بقیہ اوقات عبادت الٰہی میں صرف کرو، جیسا کہ بعد میں ” وعملوا صالحا ًسے معلوم ہوتا ہے۔ ( کبیر) ۔
Ayah 34:12

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَّ رَوَاحُهَا شَهْرٌ١ۚ وَ اَسَلْنَا لَهٗ عَیْنَ الْقِطْرِ١ؕ وَ مِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْهِ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 34:12 in the Quran reader

اور سلیمان پیغمبر کے لئے ہم5 نے ہوا کو تابعدار کردیا تھا وہ صبح کو ایک مہینہ کی راہ6 لے جاتی اور شام کو ایک مہینہ کی راہ لے جاتی اور ہم نے اس کے لئے تانبے کا ایک چشمہ7 بہا دیا تھا (وہ کان سے پانی کی طرح نکلتا اور جنوں میں سے بھی کسی مجن اس کے سامنے کام کرتے تھے اس کے مالک کے حکم ہے اور ہم نے کہہ دیا تھا جو کوئی جن ہمارے حکم سے پھریگا سلیمان کی اطاعت نہ کریگا ہم اس کو دوزخ کے عذاب کا مزہ چکھائیں گے8

ف 5 یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی ” انابت “ کی وجہ سے ان پر انعامات فرمائے۔ ( کبیر)6 اسی طرح وہ ایک دن میں دو ماہ کی مسافت طے کرتی۔7 مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ چشمہ یمن میں کسی مقام پر جاری ہوا تھا۔ ( ابن کثیر) بعض لوگوں نے لکھا ہے کہ تانبے کا چشمہ بہادیا “ سے مراد یہ ہے کہ حضرت سلیمان کے زمانہ میں تانبے کو پگھلانے اور اس سے طرح طرح کی چیزیں بنانے کا کام بڑے وسیع پیمانے پر ہوتا تھا، گویاں وہاں تانبے کے چشمے بہہ رہے تھے مگر یہ آیت کی من مانی تاویل ہے۔8 یہ جن جو حضرت سلیمان کے سامنے کام کرتے تھے، ان کو شیاطین بھی فرمایا گیا ہے۔ (الانبیاء : 82)
Ayah 34:13

یَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا یَشَآءُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَ تَمَاثِیْلَ وَ جِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَ قُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ١ؕ اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا١ؕ وَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ Open ayah 34:13 in the Quran reader

یہ جنات اس کے لئے عالیشان عمارتیں بناتے تھے یا مسجدیں یا قلعے اور موتریں9 اور حوض کی طرح بڑے بڑے پیالے اور جمی ہوئی دیگیں10 (اور ہم نے یہ حکم دیا) اے دائود کی اولاد اللہ کا شکر مان کر نیک عمل کرتے رہو اور میرے بندوں میں شکر کرنے والے کم ہیں11

ف 9 یہ تصویریں بےجان چیزوں کی تھیں اور اگر جاندار چیزوں (انسانوں اور حیوانوں کی ہوں یا ا انبیاء صلحا کی تصویریں ہوں جیسا کہ بعض مفسرین (رح) نے بیان کیا ہے تو کہا جائیگا کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کی شریعت میں جاندار چیزوں کی تصویریں بنانا جائز تھا لیکن شریعت محمدیہ میں حرام قرار دے دیا گیا ہے جیسا کہ بہت سی احادیث میں مصورین کے لیے وعید مذکور ہے اور تصویر بنانیوالوں کو شرار الخلق “ (بدترین مخلوق) قرار دیا ہے۔ ( شوکانی) واضح رہے کہ فوٹو بھی تصویر کے حکم میں ہے اور فوٹو اتارنا اور اتروانا بھی حرام ہے۔ 10 یعنی ایسی دیگیں جو بھاری ہونے کی وجہ سے ایک ہی جگہ رکھی رہتی تھیں۔11 شکر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کو اس کی رضا مندی میں صرف کرے۔ احادیث میں حضرت دائود ( علیہ السلام) کی نماز اور روزے کی تعریف آئی ہے۔ حضرت دائود ( علیہ السلام) پہلی آدھی رات تک سوتے پھر تہائی راست عبادت کرتے، پھر رات کا باقی چھٹا حصہ سو کر گزارتے اور روزہ ایک دن رکھتے اور ایک دن نہ رکھتے اور فرمایا سب سے محبوب روز و حضرت دائود ( علیہ السلام) کا روزہ ہے اور سب سے محبوب نماز حضرت دائود ( علیہ السلام) کی نماز ہے۔ ( ابن کثیر) ۔
Ayah 34:14

فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلٰى مَوْتِهٖۤ اِلَّا دَآبَّةُ الْاَرْضِ تَاْكُلُ مِنْسَاَتَهٗ١ۚ فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا فِی الْعَذَابِ الْمُهِیْنِؕ Open ayah 34:14 in the Quran reader

پھر جب سلیمان پر ہم نے موت کا حکم دیا اس کی موت جنوں کو کسی نے نہیں بتلائی مگر زمین کے کیڑے (دیمک) نے وہ اس کی لکڑی کھا رہا تھا جب (لکڑی کھوکھلی ہوگئی اور) سلیمان گرپڑا اس وقت جنوں کو معلوم ہوا12 اگر وہ غیب کی بات جانتے ہوتے تو ایک مدت تک ذلت کی محنت میں نہ پڑے رہتے13

ف 12 یا ( لوگوں پر) جنوں کا حال کھل گیا۔ ممکن ہے یہ جن اپنے آپ کو غیب دان سمجھتے ہوں یا لوگوں کا ان کے بارے میں عقیدہ ہو کہ وہ غیب کا علم رکھتے ہیں۔ یہ دونوں احتمال صحت کے ساتھ ثابت ہیں۔ ( قرطبی) ۔13 کہتے ہیں کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) پر موت ایسی حالت میں طاری ہوئی جب وہ ایک لاٹھی کے سہارے کھڑے تھے۔ ایک لمبی مدت گزرنے کے بعد اس لاٹھی کو گھن لگ گیا اور وہ اندر سے کھوکھلی ہو کر ٹوٹ گئی تو ان کا جسم زمین پر آرہا، اس وقت جنوں کو معلوم ہوا کہ ان کا انتقال ہوگیا ہے۔ آیت کا یہی مطلب حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے مفسرین (رح) نے بیان کیا ہے۔ اس بارے میں ایک مرفوع بھی آئی ہے مگر اس کی سند صحیح نہیں ہے۔ ( ابن کثیر)
Ayah 34:15

لَقَدْ كَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْكَنِهِمْ اٰیَةٌ١ۚ جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّ شِمَالٍ١ؕ۬ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ بَلْدَةٌ طَیِّبَةٌ وَّ رَبٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 34:15 in the Quran reader

بیشک سباوالوں کے لئے اپنی ہی بستی میں اللہ کی قدرت کی نشانی موجود تھی بستی کے دونوں طرف داہنے اور بائیں دو باغ تھے وہاں نہ مکھی تھی نہ مچھر ہم نے سبا والوں سے کہلا بھیجا اپنے مالک کی دی ہوئی روزی کھائو اور اس کا شکر بچا ہوا (سبحان اللہ کیا کہنا) ایسا پاکیزہ خوش آب و ہوا) شہر اور مالک (مہربان) بخشنے والا

ف 14 اب ایک قوم کا نام تھا جو یمن میں آباد تھی۔ تبابعہ ( ملوک یمن) اور بلقیس بھی اسی قوم سے تھا جس جگہ یہ قبیلہ آباد تھا اس کا موجود نام مآدب ( سد باب) ہے وہ یمن کے دارالحکومت صنعا سے تین مراحل تقریباً 60 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ بعض روایات میں ہے جسے ترمذی (رح) نے حسن غریب کہا ہے۔ کہ ” سبا ( جس پر اس قبیلے کا نام سبا مشہورہوا) کے دس لڑکے تھے یعنی اسکی نسل کے دس آدمی ایسے تھے جن کے نام پر یمن کے دس مشہور قبیلے ہوئے۔ جن میں سے سدباب کی تباہی کے بعد) چھ یمن میں آباد ہوئے اور چار شام میں “ تفاسیر میں انکے نام بھی مذکور ہیں۔ اور ان میں سے ایک قبیلہ اغیان ہے جن میں سے انصار ؓ ( اوس اور خزرج) یثرب میں آ کر آباد ہوگئے۔ ( ابن کثیر، قرطبی) 15 یعنی اگر توحید پر قائم رہو گے تو اس خوشحالی کے علاوہ وہ اپنے رب کو بھی اپنے لئے مہربان پائو گے۔ گویا تمہاری دنیا اور آخرت دونوں بن جائیں گی۔ 1 یعنی بندگی و شکر گزاری کی بجائے کفر و نا شکری کی روش اختیار کرلی۔
Ayah 34:16

فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ وَ بَدَّلْنٰهُمْ بِجَنَّتَیْهِمْ جَنَّتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُكُلٍ خَمْطٍ وَّ اَثْلٍ وَّ شَیْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ Open ayah 34:16 in the Quran reader

انہوں نے ہمارا نہ سنا ہم نے (باندھ اور کٹاتوڑ کر، زور کا نالہ ان پر چھوڑ دیا اور ان دو (عمدہ) باغوں کو بدل کردو باغ ایسے کر درجنوں بدمزہ میوے (یا کسیلے میوے) اور جھائو کا درخت اور تھوڑے سے بیری کے درخت رہ گئے3

ف 2 یعنی بلند وادیوں سے آنے والے پانی کو روک کر مآرب کے پہاڑوں کے درمیان جو بند انہوں نے باندھا تھا اور جس سے وہ اپنے باغوں کو سال بھر سیراب کرتے تھے اسے توڑ کر ہم نے زور کا سیلاب بھیجا جس نے ان کے باغ اور مکان سیلاب بھیجا جس نے ان کے باغ اور مکان سب تباہ کر ڈالے۔ مؤرخین نے لکھا ہے کہ یہ ” سدمآب “ بلق کے پہاڑوں کے درمیان تقریباً 800 ق م باندھا گیا تھا جو ایک سو پچاس فٹ لمبی اور پچاس فٹ چوڑی دیوار ہے تقریباً پانچویں صدی عیسوی کے وسط میں یہ بند ٹوٹ گیا جس سے ملک کا تمام نظام آبپاشی تباہ و برباد ہوگیا۔ اس بند کی دیوار کا کچھ حصہ تا حال باقی ہے۔ پوری تفصیلات ” ارض القرآن “ میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ 3 یعنی یا تو ان کے دائیں بائیں ایسے باغ تھے جن میں طرح طرح کے عمدہ اور مزید ار پھل پیدا ہوتے تھے یا جب سیلاب آیا اور اس نے پہلے باغ تباہ کردیئے تو انہوں نے نئے باغ لگائے مگر ان میں کوئی مزیدار پھیل پیدا نہہوا۔ کچھ خراب قسم کے پھل اور کچھ جھاڑی بوٹی کے بیر رہ گئے۔
Ayah 34:17

ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِمَا كَفَرُوْا١ؕ وَ هَلْ نُجٰزِیْۤ اِلَّا الْكَفُوْرَ Open ayah 34:17 in the Quran reader

ان کی ناشکری پر ہم نے ان کو یہ سزا دی اور ہم انہی کو سزا دیتے ہیں جو ناشکرے ہیں4

ف 4 یعنی اسی سخت سزا صرف انہی لوگوں کو دی جاتی ہے جو ناشکری پر اترآتے ہیں اور سڑک سے بڑھ کرنا شکری کیا ہوسکتی ہے۔ سورة نمل میں گزر چکا ہے کہ یہ لوگ سورج کی پوجا کرتے تھے۔ ( ابن کثیر)
Ayah 34:18

وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ الْقُرَى الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّ قَدَّرْنَا فِیْهَا السَّیْرَ١ؕ سِیْرُوْا فِیْهَا لَیَالِیَ وَ اَیَّامًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 34:18 in the Quran reader

اور ان کے تباہ ہونے سے پہلے ہم نے ان میں اور ان بستیوں کے بیچ میں جہاں ہم نے برکت رکھی تھی (یعنی شام کی بستیوں میں) کی کھلے نمایاں یعنی قریب قریب گائوں آباد کر رکھے تھے5 اور ان میں منزلیں مقرر کردی تھیں سفر کرنے کو اور ان گائوں میں بےکھٹکے بات دن چلتے رہو

ف 5 یعنی جب یہ لوگ تجارت کی غرض سے اپنے وطن یمن سے ملک شام کا سفر کرتے تھے تو بےخوف و خطر اور آرام و سکون سے کرتے۔ ہر تھوڑے تھوڑے فاصلے پر گائوں آباد تھے اس لئے زاد راہ اور پانی کا ذخیرہ رکھنے کی بھی ضرورت نہ پڑتی۔ رات کو یا دن کو جس گائوں میں بھی پہنچ جاتے وہاں کھانے پینے کے لئے سب کچھ مل جاتا۔
Ayah 34:19

فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا وَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ وَ مَزَّقْنٰهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 34:19 in the Quran reader

ان کی شامت جو آئی تو کہنے لگے مالک ہمارے دور دور6 ہمارے سفر کر دے اور اپنی جانوں پر ظلم کرنے لگے آخر ہم نے انکو میٹ کر کہانیاں7 افسانے قصے بنادیا اور بالکل چیر پھاڑ ڈالا ان کی دھجیاں اڑا دیں جو شخص صبر اور شکر کرتا ہے اس کو البتہ اس قصے میں اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں8

ف 6 یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی نا شکری کر کے گویا زبان حال سے یہ کہنے لگے ( کذافی الفتح) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ” آرام میں مستی آئی لگے تکلیف مانگنے کہ جیسے اور ملکوں کی خبر سنتے ہیں سفروں میں پانی نہیں ملتا آبادی نہیں ملتی ویسا ہم کو بھی ہو۔ ( کذا فی ابن الکثیر)7 یعنی انہیں مختلف علاقوں میں اس طرح بکھیر دیا کہ ان کی پراگندگی ضرب المثل بن گئی۔ آج بھی اگر اہل عرب کسی قبیلے کی پراگندگی کا ذکر کرتے ہیں تو کہتے ہیں ” تفرقو ایدی سبا “ وہ اس طرح بکھر گئے جیسے سبا کا قبیلہ “۔ ( شوکانی)8 کہ جب ایک آباد و شاداب بستی خدا کی نافرمانی پر اتر آتی ہے تو اسے کیونکر تباہ و برباد کردیا جاتا ہے۔
Ayah 34:20

وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْهِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:20 in the Quran reader

اور شیطان نے اپنا گمان ان سبا والوں پر سچ کر دکھایا وہ اس کے کہنے میں آگئے9 مگر ایک گروہ ایمان والوں کا شیطان کے شر سے بچ رہا

ف 9 یعنی ابلیس نے آدم ( علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت یہ جو گمان کیا تھا کہ ان کی اولاد میں سے اکثر لوگ نا شکرے ہونگے۔ سبا والوں کے معاملے میں اس کا گمان سچ ثابت ہوا۔
Ayah 34:21

وَ مَا كَانَ لَهٗ عَلَیْهِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِیْ شَكٍّ١ؕ وَ رَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ۠ Open ayah 34:21 in the Quran reader

اور شیطان کا کچھ زور تو ان پر نہ تھا مگر ہم کو (خود) یہ دکھانا منظور تھا کہ کون آخرت پر ایمان لاتا ہے اور کون اس میں شک کرتا رہے10 اور (اے پیغمبر) تیرا مالک ہر چیز پر نگہبان ہے

ف 10 معلوم ہوا کہ آخرت میں شک کرنا کفر ہے اور سباوالوں کی نا شکری اور سرکشی کا سبب یہ تھا کہ انہیں آخرت پر یقین نہ تھا۔ قرآن نے متعدد مقامات پر اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ عقیدہ آخرت ہی ایسی چیز ہے جو دنیا میں انسان کو راہ راست کا پابند رکھ سکتی ہے۔
Ayah 34:22

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۚ لَا یَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا لَهُمْ فِیْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِیْرٍ Open ayah 34:22 in the Quran reader

(اے پیغمبر ان لوگوں سے) کہہ دے تم جن کو خدا کے سوا (معبود) سمجھتے ہو بھلا ان کو پکارو تو سہی (وہ قحط میں کچھ کام آتے ہیں) ان کو تو ایک ذرے برابر بھی اختیار نہیں نہ آسمان میں نہ زمین میں (کہیں ان کی کچھ نہیں چلتی) اور نہ آسمان اور زمین کے بنانے میں ان کا کوئی غصہ ہے اور نہ ان میں سے کوئی خدا کا مددگار ہے1

ف 1 اگر وہ مدد نہ کرتا تو خدا یہ آسمان اور زمین نہ بنا سکتا اور نہ ان کا انتظام کرسکتا۔ ( العیاذ باللہ)
Ayah 34:23

وَ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَا ذَا١ۙ قَالَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوا الْحَقَّ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 34:23 in the Quran reader

اور خدا کے پاس سفارش کام نہیں آتی مگر جس کو وہ حکم دے2 جب ان کے دل سے گھبراہٹ جاتی رہتی ہے تو آپس میں کہتے ہیں تمہارے مالک نے کیا حکم دیا دوسرے کہتے ہیں جو حق تھا (واجبی وہی حکم دیا) اور وہ اونچا ہے بڑا3

ف 2 یعنی اللہ تعالیٰ کے حضور وہی سفارش فائدہ دے سکتی ہے جو کسی ایسے نبی ﷺ یا فرشتے یا نیک بندے کی طرف سے ہو جسے اللہ تعالیٰ اجازت دے اور وہ کسی ایسے شخص کے حق میں ہو جس کے لئے سفارش کرنے کی اجازت اللہ تعالیٰ دے ( بقرہ : 255، النجم : 261) اور یہ ظاہر ہے کہ کوئی نبی ﷺ ہو یا فرشتہ وہ اہل ایمان کے حق میں سفارش کرے گا اور کرسکے گا، نہ کہ کافروں اور مشرکوں کے حق میں صحیحین میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ تمام مخلوق کے حق میں شفاعت کرنے کے لئے مقام محمود پر کھڑے ہونگے تو آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہونگے کچھ دیر اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو سجدہ میں پڑا رہنے دیگا آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کی تعریف و ستائش کرتے رہیں گے پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔”(اے محمد ﷺ) اپنا سر اٹھایئے اور جو کچھ عرض کرنا چاہیں کیجئے آپ ﷺ کی بات سنی جائیگی آپ ﷺ کی درخواست پوری کی جائے گی اور آپ ﷺ کی شفاعت قبول ہوگی۔۔۔۔ “ (الحدیث ( ابن کثیر) ۔3 اس آیت میں سفارش کرنے والے فرشتوں کا حال بیان ہوا ہے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں سفارش عوام چاہتے ہیں اولیا سے، وہ انبیاء سے، وہ فرشتوں سے ( حالانکہ) فرشتوں کا حال یہ ہے جو ( اس آیت میں) فرمایا کہ جب اوپر سے اللہ کا حکم اترتا ہے تو آواز آتی ہے جیسے پتھر پر زنجیر، فرشتے ڈر سے تھر تھراتے ہیں۔ جب تسکین آئی اور کلام ( ترچہ) تو ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ کیا حکم ہوا ؟ اوپر والے بتاتے ہیں نیچے کھڑوں کو جو اللہ کی حکمت کے موافق ہے اور انگے سے قاعدہ معلوم ہے، وہی حکم ہوا ؟ (موضح) آیت کی یہ تفسیر صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ ؓ اور دوسری متعدد صحیح روایات کے مطابق ہے اس لئے حافظ ابن کثیر (رح) نے اسی کو آیت کی صحیح تفسیر قرار دیا ہے۔
Ayah 34:24

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّاۤ اَوْ اِیَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 34:24 in the Quran reader

اے پیغمبر) کہہ دے تم کو آسمان اور زمین میں سے کون روزی دیتا ہے (وہ کیا جواب دیں گے) تو ہی کہہ دے اللہ تعالیٰ اور کون) بیشک ہم یا تم دونوں میں سے ایک ضرور ہدایت پر ہوگا اور دوسرا کھلی گمراہی پر4

ف 4 ہر عقلمند آدمی سمجھ سکتا ہے کہ ہدایت پر وہی ہوگا جو اللہ تعالیٰ کو زمین و آسمان کا خالق ماننے کے بعد اس کی عبادت بھی کرتا ہے۔ اور وہ شخص یقیناکھلی گمراہی میں ہوگا جو اللہ تعالیٰ کو زمین و آسمان کا خالق تو مانتا ہے مگر عبادت دوسروں کی کرتا ہے۔ اسی چیز کو آیت میں صراحتاً کہنے کی بجائے کنایۃً بیان کیا گیا ہے کیونکہ یہ انداز کلام مخاطب کو زیادہ اپیل کرنیوالا ہے۔ ( کبیر) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” اس میں ان کا جواب ہے جو اس زمانے میں بعض لوگ کہتے ہیں دونوں فرقے ہمیشہ سے چلے آئے ہیں کیا ضرور ہے جھگڑنا ( موضح)
Ayah 34:25

قُلْ لَّا تُسْئَلُوْنَ عَمَّاۤ اَجْرَمْنَا وَ لَا نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:25 in the Quran reader

کہہ دے ہمارے قصور تم سے نہ پوچھیں گے اور تمہارے کاموں کہ ہم سے پوچھیں گے5

ف 5 یہ بھی بحث و مناظرہ ہیں حکمت اور شائستگی برتنے کی تعلیم ہے یعنی باوجودیکہ مسلمان حق پر ہیں اور ان کے اعمال نیک ہیں لیکن انہیں چاہیے کہ مخاطب کو یوں کہہ کر غور و فکر کی دعوت کریں مطلب یہ ہے کہ اگر توحید کی دعوت قبول نہ کرو گے تو ہم سے تمہارا کوئی تعلق نہیں۔ دیکھئے سورة یونس : 41(ابن کثیر کبیر)
Ayah 34:26

قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ هُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ Open ayah 34:26 in the Quran reader

کہہ دے ہمارا مالک قیامت کے دن ہم دونوں کو اکٹھا کرے گا پھر ہم دونوں فرقوں میں سچا فیصلہ کر دے گا6 اور وہ ٹھک فیصلہ کرنے والا سب جانتا ہے7

ف 6 یعنی ظاہر کر دے گا کہ ہم دونوں میں کون ہدایت پر تھا اور کون کھلی گمراہی میں مبتلا تھا۔7 لہٰذا اسی کا فیصلہ مبنی بر علم و حکمت اور خواہش سے خال ہوسکتا ہے۔ ( کبیر)
Ayah 34:27

قُلْ اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِهٖ شُرَكَآءَ كَلَّا١ؕ بَلْ هُوَ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 34:27 in the Quran reader

کہہ دے جن لوگوں کو تم نے خدا کا ساجھی بنا کر اس سے ملا دیا ہے8 ان کو ذرا مجھے تو دکھائو بس کرو ایسی لغوباتوں سے بازآئو بات یہ ہے کہ وہی اللہ اکیلا خدا ہے زبردست حکمت والا

ف 8 یعنی قبل اس کے آخرت میں پہنچ کر ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ ہو تم مجھے یہیں بتائو کہ تمہارے ان معبودوں میں کونسی ایسی بات ہے جس کی وجہ سے تم انہیں خدا کا ند اور شریک سمجھ رہے ہو یا تم انہیں اپنا معبود سمجھ رہے ہو اور ان کی حمایت کر کے خدا کے عذاب سے بےخوف ہو رہے ہو۔
Ayah 34:28

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 34:28 in the Quran reader

اور اے پیغمبر ہم نے تو تجھ کو ساری دنیا کے لوگوں کو خوشخبری سنانے اور (عذاب سے) ڈرانے کے لئے بھیجا ہے پر اکثر لوگ نادان ہیں9

ف 9 یعنی آپ ﷺ کی قدر و منزلت نہیں جانتے اور انہیں احساس نہیں کہ کیسی عظیم الشان ہستی کی بعثت سے انہیں نوازا گیا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی بعثت کا عالمگیر اور تا قیامت ہونا متعدد آیات سے ثابت ہے۔ ( سورة اعراف، 58 1، فرقان : 1) ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ ” پہلے ہر نبی خاص اپنے لوگوں کی طرف مبعوث ہوتا تھا اور مجھے تمام انسانوں کے لئے مبعوث کیا گیا ہے۔ ( بخاری، مسلم)
Ayahs 34:29–30

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 34:29 in the Quran reader

اور (یہ جو قیامت کے منکر ہیں) کہتے ہیں بھلا اگر تم سچے ہو تو بتلائو یہ وعدہ کب پورا ہوگا

قُلْ لَّكُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْهُ سَاعَةً وَّ لَا تَسْتَقْدِمُوْنَ۠ Open ayah 34:30 in the Quran reader

(اے پیغمبر ان لوگوں سے کہہ دے) جس دن کا تم سے وعدہ ہے اس میں نہ ایک گھڑی کی دیر کرسکو گے نہ (گھڑی بھر) آگے بڑھ سکو گے10

ف 10 توحید و رسالت کے بعد حشر کا بیان فرمایا اور کفار کے اس استہزا کا جواب دیا کہ قیامت کب آئیگی ؟ مطلب یہ ہے کہ اس میں نہ دیر ہوسکتی ہے نہ سویر وہ اپنے وقت پر آئیگی اور ضرور آئیگی۔ ای لا ستجال فیہ ولا امھال) (رازی)
Ayah 34:31

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ لَا بِالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۖۚ یَرْجِعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِ اِ۟لْقَوْلَ١ۚ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لَوْ لَاۤ اَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:31 in the Quran reader

اور (مکہ کے) کافر کہتے ہیں ہم تو اس قرآن کو کبھی نہیں ماننے کے اور نہ ان کاتبوں کو جو قرآن سے پہلے ہیں (توریت اور انجیل اور زبور وغیرہ) اور اے پیغمبر) کاش تو وہ سماں) دیکھیے جب یہ ظالم قیامت کے دن اپنے مالک کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے ایک کی بات ایک کاٹ رہا ہوگا1 کمزور لوگ زور والوں سے سرداروں سے) کہیں گے تم اگر دنیا میں نہ ہوتے تو ضرور ہم ایماندار ہوتے

ف 1 یعنی ان میں سے ہر ایک اپنی گمراہی کا الزام دوسروں پر دھر رہا ہوگا جیسا کہ عموماً ناکامی کی صورت میں ہوتا ہے۔ ( ابن کثیر)
Ayah 34:32

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْۤا اَنَحْنُ صَدَدْنٰكُمْ عَنِ الْهُدٰى بَعْدَ اِذْ جَآءَكُمْ بَلْ كُنْتُمْ مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 34:32 in the Quran reader

زور والے بڑے آدمی سردار لوگ کمزوروں کو جواب دیں گے اور یہ اچھا ٹھیرا کیا ہم نے تم کو ہدایت کی بات آئے پیچھے (زبردستی) اس سے روکا (بات یہ ہے) تم خود (خود) قصور وار تھے2

ف 2 جو عقل اور سمجھ رکھنے کے باوجود محض دنیا کے لالچ میں ہمارے پیچھے پیچھے ہوئے اور راہ ہدایت سے منہ پھیرلیا
Ayah 34:33

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا بَلْ مَكْرُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ اِذْ تَاْمُرُوْنَنَاۤ اَنْ نَّكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ نَجْعَلَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ؕ وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِیْۤ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:33 in the Quran reader

اور کمزور لوگ زور والوں سے کہیں گے (تم نے زبردستی تو نہیں کی) مگر رات دن فریب کرتے رہتے تھے تم ہی تو ہم سے کہتے تھے خدا کو نہ مانو اور اس کے ساجھی ٹھیرات یرہو اور جب یہ کمزور اور زور آور دونوں فرقے) عذاب کو دیکھ لیں گے تو دل ہی دل میں یا کھم کھلا شرمندہ ہونگے اور کافروں کی گردنوں میں ہم طوق پہنائیں گے جیسا (دنیا میں) کرتے رہے ویسا ہی ان کو بدلہ ملے گا

۔3 یعنی اپنی شرمندگی دوسروں سے چھپائیں گے اور بظاہر بڑے حوصلہ مند بننے کی کوشش کریں گے۔
Ayah 34:34

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 34:34 in the Quran reader

اور ہم نے جب کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا (پیغمبر) تو وہاں کے آسودہ لوگ پیغمبر سے) یہی کہتے رہے تم جو دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے4

ف 4 یعنی ہم تمہاری دعوت قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اس میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی ہے کہ آپ ﷺ ان کی مخالفت پر معموم نہ ہوں کیونکہ سب سے پہلے ہر نبی ﷺ کی دعوت کا مقابلہ اور مخالفت اہل ثروت و سیاست نے کی اور ابتداء میں ہر نبی ﷺ کے تابع غریب اور کمزور قسم کے لوگ ہوئے ہیں۔ قرآن نے اس حقیقت کو بار بار دہرایا ہے اور یہی بات ہرقل نے ابو سفیان ؓ اور ان کے ساتھیوں سے اس وقت کہی جب اس کے دریافت کرنے پر ابو سفیان نے بتایا کہ آپ ﷺ کی پیروی کرنے والے غریب اور معمولی قسم کے لوگ ہیں۔ مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں دو شخص تھے، ان میں سے ایک مکہ سے باہر ساحل کی طرف چلا گیا اور دوسرا مکہ میں رہ گیا۔ آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد اس ساحلی دوست نے اپنے ساتھی کو لکھا کہ آنحضرت ﷺ کے کچھ حالات لکھ کر بھیجے، اس نے لکھا کہ مکہ کے سردار تو آپ ﷺ کی مخالفت کر رہے ہیں اور صرف غریب اور مسکین قسم کے لوگ آپ ﷺ کی پیروی کر رہے ہیں وہ مکہ آیا اور مسلمان ہوگیا۔ آنحضرت ﷺ نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کیسے معلوم ہوگیا کہ میں واقعی اللہ کا رسول ﷺ ہوں ؟ وہ بولا ” جب بھی کوئی رسول ﷺ دنیا میں آیا تو سب سے پہلے غریب اور مسکین لوگ ہی اس کے ساتھ ہوئے “۔ اس کے جب یہ آیت اتری تو آپ ﷺ نے اس شخص کو بلا بھیجا اور فرمایا کہ ” اللہ تعالیٰ نے تمہاری بات کی تصدیق فرما دی “۔ ( ابن کثیر)
Ayah 34:35

وَ قَالُوْا نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ۙ وَّ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 34:35 in the Quran reader

اور یہ (مکہ کے) کافر کہتے ہیں ہم مال اور اولاد (اے مسلمانو) تم سے زیادہ رکھتے ہیں اور جب دنیا میں ہم تم سے اچھے ہیں تو آخرت میں بھی ہم کو عذاب ہونیوالا نہیں5

ف 5 یعنی ہم اللہ تعالیٰ کے پیارے اور پسندیدہ ہیں تبھی تو اس نے میں دنیا میں دولت و عزت سے نوازا ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ آخرت میں بھی، اگر وہ آئی جیسا کہ تم کہتے ہو، ہمیں اپنی نعمتوں سے یونہی نوازیگا اور کوئی سزا نہ دے گا۔ ( ھیھات لم ذالک) یا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں ہم پر عذاب نہیں آئے گا جیسا کہ تم دھمکی دے رہے ہو۔ قرآن نے متعدد مقامات پر اس نظریہ کی تردید کی ہے اور بتایا ہے کہ دنیا میں مال و اولاد سے بہرہ ور ہونا اللہ تعالیٰ کے قرب کی علامت نہیں ہے اور سورة کہف میں دو باغوں والے کا قصہ اس حقیقت کی وضاحت کر رہا ہے۔ ( ابن کثیر)
Ayah 34:36

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 34:36 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کہہ دے میرا مالک جس کو چاہتا ہے فراغت کے ساتھ روزی دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے تنگی کے ساتھ دیتا ہے لیکن اکثر لوگ اس مصلحت کو6 کو نہیں جانتے

ف 6 یعنی دنیا کی آسودگی اور خوش حالی اللہ تعالیٰ کے خوش ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ اس میں جو حکمت اور مصلحت ہے وہ اسی کو معلوم ہے لیکن عوام یہ سمجھتے ہیں کہ مال و اولاد کا حاصل ہونا خوش قسمی کی علامت ہے اور یہ نہیں سوچتے کہ بعض اوقات سرکش اور نافرمان لوگوں کو اس لئے بھی ہر قسم کی نعمتیں ملتی رہتی ہیں کہ وہ اپنی سرکشی میں خوب بڑھ جائیں۔ اسی مضمون کو آنحضرت ﷺ نے اپنی ایک حدیث میں یوں بیان فرمایا ہے۔ (ان اللہ لا ینظر الی صور کم واموالکم وانما ینظر الی قلوبکم واعمالکم) کہ اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور عملوں کو دیکھتا ہے۔ ( ابن کثیر) ۔
Ayah 34:37

وَ مَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰۤى اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١٘ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَ هُمْ فِی الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ Open ayah 34:37 in the Quran reader

اور لوگوں) تمہارے مال اور اولاد کے (زیادہ ہونے) سے تم کو ہماری نزدیکی کا درجہ نہیں مل سکتا البتہ جو کوئی ایمان لائے اور اچھے کام کرے1 تو ایسے لوگوں کو ان کے کاموں کا دوہرا ثواب ملے گا2 اور وہ (دہشت کے) جھروکوں میں امن سے رہیں گے (کوئی فکر نہ ہوگی)3

ف 1 مطلب یہ ہے کہ محض کسی شخص کا صاحب مال و اولاد ہونا اللہ تعالیٰ کے ہاں مقرب اور پسندیدہ ہونے کی علامت نہیں ہوسکتا۔ ہاں اگر مال و اولاد کو عمل صالح کا ذریعہ بنایا جائے تو بیشک یہ چیزیں قرب الٰہی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔2 یعنی دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ دیکھئے سورة بقرہ آیت 261( ابن کثیر)3 یہاں ” عرفات “ سے مراد منازل و درجات ہیں اور ” کوئی فکر نہ ہوگی “ کیونکہ جنت کی نعمتیں ابدی اور دائمی ہوں گی۔ ( ابن کثیر)
Ayah 34:38

وَ الَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 34:38 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیتوں (کے بگاڑنے) میں کوشش کر رہے ہیں2 یہ سمجھ کر کہ وہ ہمارے قابو میں نہ آئیں گے وہ عذاب میں گرفتار ہوں گے

ف 4 یعنی کبھی طعن کرتے ہیں اور کبھی ان میں عیب نکالتے ہیں۔
Ayah 34:39

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 34:39 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کہہ دے میرا مالک جس کو چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے فراغت کے ساتھ روزی دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اس کے لئے روزی تنگ کردیتا ہے5 اور تم لوگ اللہ کی راہ میں جو کچھ خرچ کرو اور اس کا بدلہ دیگا6 اور وہ سب روزی دینے والوں میں اچھا روزی دینے والا ہے

ف 5 یعنی رزق کی تنگی اور فراخی، عزت اور بےعزتی کا معیار نہیں ہے بلکہ اس کا معیار ایمان اور عمل صالح ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ کامیابی یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کا مطیع اور فرمانبردار ہو اور اسے دنیا میں قناعت اور بقدر کفایت رزق حاصل ہو۔ ( ابن کثیر)6 خرچ سے مراد ایسا خرچ ہے جس میں نہ اسراف ہو اور نہ بخل۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ (انفق یا ابن ادم انفق علیک) بندے خرچ کر، ہیں تجھ پر خرچ کرونگا۔ دوسری حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہر روز صبح کے وقت دو فرشتے اترتے ہیں ان میں سے ایک کہتا ہے۔ (اللھم اطفسکا تلفا) اور دوسرا کہتا ہے ( اللھم اعط منفقا خلفا) کہ اے اللہ بخل کرنے والے کے مال کو ہلاک کر اور خرچ کرنے والے کو اسکا بدل عطا فرما۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا (انفق بلا لا ولا تخش من ذی العرش اقلالا ) (ابن کثیر)
Ayah 34:40

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ یَقُوْلُ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اَهٰۤؤُلَآءِ اِیَّاكُمْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 34:40 in the Quran reader

کاش تو وہ دن دیکھے جس دن اللہ سب مشرکوں کو اکٹھا کریگا پھر فرشتوں سے فرمائیگا کیا یہی لوگ تم کو پوجتے تھے7

ف 7 یعنی کیا تم نے ان لوگوں سے کہا تھا کہ ہم تمہارے معبود ہیں، تم ہماری عبادی کیا کرو ؟ اور کیا تم اس سے خوش تھے کہ وہ تمہاری پوجا کریں ؟ قیامت کے روز یہ سوال فرشتوں ہی سے نہیں ہوگا بلکہ ان تمام ہستیوں سے کیا جائے گا جن کی دنیا میں عبادت ہوتی تھی۔ سورة فرقان میں ہے ( ویوم یحشر ھم وما یعبدون من دون اللہ فیقول انتم اضللتھم عبادی ام ھم ضلوا السبیل) جس روز انہیں اور ان کے باطل معبودوں کو جمع کرے گا اور ان سے فرمائے گا کہ کیا تم نے ان لوگوں کو گمراہ کیا یا وہ خود گمراہ ہوئے۔ ( آیت 17) اور سورة مائدہ میں ہے ( واذا قال اللہ یعیسی ابن مریم انت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ) اور جب اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے عیسیٰ ( علیہ السلام) بن مریم ( علیہ السلام) ! کیا تو نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ اللہ کے سوا مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو ؟ (آیت 116) ۔