33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 33:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 33:1 in the Quran reader

اے پیغمبر اللہ سے ڈرتا رہ اور کافروں اور منافقوں کا کہنا مت مان بیشک اللہ (سب کچھ) جانتا ہے حکمت والاف 2

ف 2 اس آیت میں اعلیٰ سے ادنیٰ پر تنبیہ فرمائی ہے یعنی جب پیغمبر ﷺ کو اللہ سے ڈرتے رہنے اور کافروں اور منافقوں کی بات ماننے کی تاکید کی ہے تو دوسرے لوگوں کو بطریق اولیٰ یہ حکم ہے۔ ( ابن کثیر) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں ” کافر چاہتے اپنی طرف نرم کرنا اور منافق چاہتے تھے اپنی چال سکھانی اور پیغمبر ﷺ کو اللہ پر بھروسہ ہے اس سے دانا کون ہے “ ؟ ( موضح)
Ayahs 33:2–4

وَّ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًاۙ Open ayah 33:2 in the Quran reader

اور جو تریے مالک کی طرف سے تجھ پر وحی اترتی ہے اس پر چلتا رہ بیشک اللہ کو تمہارے سب کاموں کی خبر ہے

وَّ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:3 in the Quran reader

اور اللہ پر بھروسا رکھ اور وہ بس ہے کام بنانے والا

مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِهٖ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ الّٰٓئِیْ تُظٰهِرُوْنَ مِنْهُنَّ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَ هُوَ یَهْدِی السَّبِیْلَ Open ayah 33:4 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے کسی آدمی کے سینے میں دو دل نہیں رکھے3 اور نہ تمہاری ان بی بیوں کو جن سے تم ظہار کرتے ہو تمہاری ماں بنایا اور نہ تمہارے لے پالکوں کو تمہارا بیٹا بنایا4 یہ باتیں تم اپنے منہ بکتے ہو5 اور عذاب نزدیک سے سوائے عذاب بڑے کے تو کہ وہ پھر آویں اور سچ فرماتا ہے اور (لوگوں کو) سیدھی راہ بتلاتا ہے

ف 3 کہ ” ایک دل میں ایمان و اخلاص ہو اور دوسرے میں کفر و نقاق “ کفر و اسلام اور ایمان و نفاق بیک وقت ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتے۔ صاحب ” و جیز “ لکھتے ہیں ” جب اللہ تعالیٰ نے حضرت کو توجہ الی اللہ اور توکل کا حکم دیا اور کافروں اور منافقوں کی اطاعت سے منع کیا تو آگاہ فرمایا کہ آدمی کے دو دل نہیں جو ایک اللہ کی طرف متوجہ کرے اور ایک غیر کی طرف، بلکہ دل ایک ہے سو اللہ تعالیٰ کی طرف لگانا چاہیے۔ ( حاشیہ جامع البیان) ۔4 یعنی جس طرح ایک سینہ میں دو دل نہیں ہوسکتے اور نہ بیوی ” ظہار “ کرنے یعنی ” انت علی کظھر امی “ کہہ دینے سے اس کی حقیقی ماں بن جاتی ہے، اسی طرح کسی کو منہ بولا بیٹا بنانے سے وہ حقیقی بیٹا نہیں بن جاتا کیونکہ کسی آدمی کے دو باپ نہیں ہوسکتے (ظہار کے لیے دیکھئے سورة مجادلہ آیت 2) زمانہ جاہلیت میں اگر ایک شخص کسی دوسرے کے لڑکے کو منہ بولا بیٹا بنا لیا تو وراثت و حرمت وغیرہ احکام میں وہ حقیقی بیٹا ہوتا۔ آنحضرت ﷺ نے بھی قبل از نبوت عام عادت کے مطابق اپنے آزاد کردہ غلام زید ؓ بن حارثہ کو اپنا بیٹا بنایا تھا اور لوگ اسے زید ؓ بن محمد (ﷺ) کہہ کر پکارتے تھے۔ آگے آرہا ہے کہ جب انہوں نے اپنی بیوی حضرت زینب کو طلاق دی اور نبی ﷺ نے ان سے نکاح کرلیا تو منافقوں نے بڑا شورمچایا کہ محمد ﷺ نے اپنی بہو سے نکاح کرلیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور متبنی بنانے کی رسم کو لغو قرار دے دیا۔ (ابن کثیر)5 یعنی ایسی کہنے کی باتیں بہتیری ہیں ان پر عمل نہیں ہوسکتا، مطلب یہ ہے کہ ان باتوں کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔
Ayah 33:5

اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآئِهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ مَوَالِیْكُمْ١ؕ وَ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ فِیْمَاۤ اَخْطَاْتُمْ بِهٖ١ۙ وَ لٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:5 in the Quran reader

لے پالکوں کو ان کے (اصلی) باپوں کے نام سے پکارو اللہ کے نزدیک یہ بات زیادہ انصاف کی6 ہے پھر اگر تم کو ان کے اصلی بابوں کے نامع معلوم نہ ہوں تو وہ تمہارے دینی بھائی اور رفیق ہیں7 اور بھول چوک اگر تم سے ہوجائے تو تم پر کچھ گناہ نہیں8 البتہ اگر قصداً ایسا کرو تو گناہگار ہو گے) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے

ف 6 چناچہ اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے زید ؓ سے فرمایا ” انت زید بن حلدثہ بن شراجیل “ کہ تم حارثہ کے بیٹے زید ؓ ہو۔ حدیث میں ہے کہ جس نے اپنے کو کسی دوسرے کی طرف بیٹا ہونے کی حیثیت سے منسوب کیا اس نے کفر کا ارتکاب کیا۔ ہاں تگریم و محبت کے طور پر کسی کو بیٹا کہہ کر پکارا جاسکتا ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت انس ؓ کو یابنی کہہ کر پکارا (ابن کثیر)7 یعنی انہیں بھائی یا دوست کہہ کر پکادو، چناچہ آنحضرت ﷺ نے ایک موقع پر حضرت زید ؓ سے فرمایا : انت اخونا و مولانا ( ابن کثیر)8 یعنی غلطی سے کسی دوسرے کا بیٹا کہہ کر پکار لیا تو کچھ ہرج نہیں۔
Ayah 33:6

اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَفْعَلُوْۤا اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِكُمْ مَّعْرُوْفًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 33:6 in the Quran reader

پیغمبر تو مسلمانوں پر خود ان سے زیادہ مہربان ہے9 اور پیغمبر کی بی بیاں مسلمانوں کی مائیں ہیں10 اور ناطے رشتے والے اللہ کی کتاب کے رو سے مسلمان اور مہاجروں سے ترکہ پانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں1 ہاں یہ اور بات ہے کہ تم اپنے دوستوں سے کوئی سلوک کرو یہی حکم اللہ کی کتاب دبوچ محفوظ یا قرآن یا توریت میں لکھا ہوا ہے

ف 9 کیونکہ آنحضرت ﷺ روحانی زندگی بخشتے ہیں۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں، اجنبی نائب ہے اللہ کا اپنی جان مال میں اپنا تصرف نہیں چلتا جتنا نبی ﷺ کا اپنی جان دہکتی آگ میں ڈالنی روا نہیں اور نبی ﷺ کا حکم کرے تو فرض ہے “۔ اسی لیے آنحضرت ﷺ نے فرمایا : کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کے دل میں میری محبت، اس کے باپ اور اطاد کی محبت سے حتیٰ کہ خود اس کی اپنی ذات کی محبت سے بڑھ کر نہ ہوجائے۔ (شوکانی)10 یعنی تعظیم و تکریم اور حرمت نکاح کے اعتبار سے باقی رہے۔ دوسرے احکام ( مثلاً پردہ، ان کی اولاد سے شادی) سو ان میں ماں کی طرح نہیں ہیں۔ (شوکانی) ۔ 1 ہجرت کے بعد آنحضرت ﷺ نے مہاجرین ؓ اور انصار ؓ مدینہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کردیا تھا جس کی بناء پر وہ ایک دوسرے کے وارث بھی ہوتے تھے۔ سورة احزاب کی اس آیت سے یہ وارثت منسوخ کردی اور رشتہ داروں کو وارث قرار دیا گیا۔ دیکھئے سورة انفال، 27، 48( ابن کثیر )
Ayah 33:7

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَهُمْ وَ مِنْكَ وَ مِنْ نُّوْحٍ وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١۪ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًاۙ Open ayah 33:7 in the Quran reader

اور اے پیغمبر وقت یاد کر جب ہم نے پیغمبروں سے ان کا اقرار لیا اور خاص تجھ سے بھی اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ مریم کے بیٹے سے بھی اور ہم نے ان سے پکا اقرار لیا2

ف 2 یہ اقرار کہ دین کو قائم کریں گے اور اس میں کوئی تفرقہ نہیں ڈالیں گے۔ ( دیکھئے شوریٰ آیت 13) یہ عہد گو تمام انبیاء سے لیا گیا مگر اس آیت میں اور ” شوریٰ “ کی آیت 13 میں خاص طور پر پانچ اولوالعزم پیغمبروں ﷺ کے نام ذکر کئے جس سے مقصد دوسرے انبیا ﷺ پر ان کی عظمت و فضلیت ظاہر کرنا ہے اور آنحضرت ﷺ کو باوجود متأخر زماں ہونے کے یہاں مقدم ذکر کیا کیونکہ آپ سب سے افضل ہیں۔ ( ابن کثیر) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ” اوپر پیغمبر ﷺ کو فرمایا کہ وہ سب لوگوں پر تصرف رکھتا ہے ان کی جان سے بھی زیادہ، یہاں فرمایا کہ یہ درجہ نبیوں ﷺ کو ملا کہ ان پر محنت بھی زیادہ ہے، ساری خلق سے مقابل ہونا اور کسی سے خوف و جا نہ رکھنا “۔ اوپر تو کل اور تقویٰ حکم دیا اب آگے غزوہ احزاب کا ذکر فرما کر تقویٰ اور توکل کے ثمرات ظاہر فرما دیئے۔ (کبیر)
Ayah 33:8

لِّیَسْئَلَ الصّٰدِقِیْنَ عَنْ صِدْقِهِمْ١ۚ وَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 33:8 in the Quran reader

اس سے یہ مطلب تھا کہ قیامت کے دن سچوں (پیغمبروں) سے ان کے سچ کا حال پوچھے3 اور کافروں کے لئے تکلیف کا عذاب تیار رکھے

ف 3 کہ اس اقرار کی کہاں تک پابندی کی گئی اور لوگوں نے ان کی باتوں کو سن کر کیا جواب دیا ؟
Ayah 33:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَآءَتْكُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا وَّ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًاۚ Open ayah 33:9 in the Quran reader

مسلمانو اللہ نے جو تم پر احسان کیا اس کو یاد کرو جب چار طرف سے کافروں کے) لشکر تم پر ٹوٹ پڑے پھر ہم نے ان پر آندھی بھیجی4 اور وہ فرشتوں کے لشکر بھیجے جن کو تم نے نہیں دیکھا اور اللہ تمہارے کاموں کو دیکھ رہا تھا5

ف 4 جس نے ان کے خیمے اکھاڑ پھینکے، ہانڈیا الٹ دیں اور انہیں اس قدر بےبس کردیا کہ وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔ مجاہد (رح) سے منقول ہے کہ وہ رنج ” صبا “ تھی۔ اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں ” نصرت بالصبا “ کے الفاظ ہیں یعنی شرقی ہوا کے ذریعے میری مدد کی گئی۔ ( ابن کثیر) ۔5 یہ غزوہ خندق جسے غزوہ احزاب بھی کہا جاتا ہے کا ذکر ہے جو صحیح اور مشہور روایات کے مطابق شوال 5 ھ میں واقع ہوا۔ اس کی مختصر روادیہ ہے کہ 4 ھ میں نبی ﷺ نے مدینہ کے یہودی قبیلہ بنو نضیر کو مدینہ کی سر زمین سے جلا وطن کردیا تھا اس کے کچھ اشراف ( سر کردہ لوگ) مکہ گئے اور سرداران قریش سے ملاقات کر کے انہیں نبی ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف بھڑکاتے رہے اور ان سے وعدہ کیا کہ اگر تم مدینہ پر حملہ کرو تو ہم تمہارا ساتھ دیں گے اور ہر طریقہ سے تمہاری مدد کریں گے جب قریش نے آمادگی کا اظہار کیا تو وہ نجد کے قبائل غطغان اور ہذیل وغیرہ کی طرف گئے اور انہیں بھی مدینہ پر حملے کے لئے اکسایا اور ہر ممکن طریقہ سے امداد کرنے کا وعدہ کیا یہاں تک کہ وہ بھی آمادہ ہوگئے۔ چناچہ 5 ھ میں ایک طرف ابو سفیان کی سر کردگی میں قریش اور ان کے حلیف قبائل کا لشکر اور دوسری غطفان، ہذیل اور ان کے حلیف قبائل کا لشکر عینیہ بن حص کی سر کردگی میں مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے پہنچ گئے اور جنوب اور مشرق سے مدینہ کا محاصرہ کرلیا۔ شمال کی طرف سے بنو نضیر اور بنو قینقاع کے وہ یہودی آئے جو مدینہ سے جلا وطن ہونے کے بعد خیبر اور وادی القریٰ میں آباد ہوگئے تھے۔ مجموعی طور پر ان سب کی تعداد دس ہزار تھی۔ آنحضرت ﷺ نے حالات کا اندازہ کر کے حضرت سلمان ؓ فارسی کے مشورہ سے مدینہ کی اس سمتوں میں خندق کھدوائی اور عام مسلمانوں کے ساتھ خود بھی زمین کھودنے اور مٹی اٹھانے کا کام کرتے رہے۔ پیچھے یعنی مغرب کی سمت قبیلہ بنو قریظہ کے یہودی آباد تھے۔ ان سے مسلمانوں کا خلیفانہ معاہدہ تھا اس لئے مسلمان ان کی طرف سے بےفکر تھے بلکہ انہوں نے اپنے بال بچے ان گڑھیوں میں بھیج دیئے تھے جو ان کی جانب تھیں لیکن بنی نضیر کا سردار میتی بن اخطب ان کے پاس پہنچا اور انہیں حالات کی سازگاری کا واسطہ دے کر مسلمانوں سے بد عہدی پر آمادہ کرلیا۔ اس طرح گویا مدینہ منورہ ہر طرف سے مشرکوں اور یہودیوں کے نرغہ میں آگیا۔ ان آیات میں انہی نازک حالات کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر اپنا احسان و انعام بیان کیا ہے۔ ( ابن کثیر) ۔
Ayah 33:10

اِذْ جَآءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا Open ayah 33:10 in the Quran reader

جب یہ کافر تمہارے اوپر کی طرف اور تمہارے نیچے کی طرف سے آن پہنچے6 جب آنکھیں (ڈر کے مارے) پتھرا گئیں اور کلیجے حلق تک (بادل گلوں تک) آگئے اور عذاب نزدیک سے سوائے عذاب بڑے کے تو کہ وہ پھر آویں اور سے تم طرح طرح کی گمان کرنے لگے

ف 6 یعنی ہر سمت سے آپہنچے یا یہ کہ اوپر کی سمت سے نجدے کے مشرکین اور خیبر کے یہودی آئے اور نیچے کے سمت سے قریش اور ان کے حلیف ( شوکانی) 7 جن کا ایمان پختہ تھا۔ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد کی امید تھی اور جن کا ایمان کمزور تھا وہ سمجھنے لگے کہ اب بچنا مشکل ہے۔
Ayah 33:11

هُنَالِكَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا Open ayah 33:11 in the Quran reader

ہاں (اس موقع پر) مسلمان جانچے گئے اور زور سے جھڑجھڑائے گئے8

ف 8 یعنی ان کا خوب امتحان لیا گیا کہ ایسے سخت حالات میں کون ایمان پر جما رہتا ہے اور کس کے قدم ڈگمگا جاتے ہیں۔
Ayah 33:12

وَ اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 33:12 in the Quran reader

اور جب منافق اور جن لوگوں کے دلوں میں کفر اور رشک کا روگ تھا (یوں) کہنے لگے اللہ اور اس کے رسول نے جو ہم سے اسلام کے غلے کا وعدہ کیا تھا وہ تو نرا دھوکا ہی نکلا9

ف 9 کہتے ہیں کہ تقریباً ستر منافقین تھے جو اس قسم کی باتیں کرنے لگے۔ ( فتح القدیر) ۔
Ayah 33:13

وَ اِذْ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ یٰۤاَهْلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوْا١ۚ وَ یَسْتَاْذِنُ فَرِیْقٌ مِّنْهُمُ النَّبِیَّ یَقُوْلُوْنَ اِنَّ بُیُوْتَنَا عَوْرَةٌ١ۛؕ وَ مَا هِیَ بِعَوْرَةٍ١ۛۚ اِنْ یُّرِیْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 33:13 in the Quran reader

اور جب منافقوں کا ایک گروہ کہنے لگا مدینے والوں اب تم دشمنوں کے مقابل تھم نہیں سکتے تو بہتر یہ ہے کہ لوٹ چلو2 اور ان میں کا ایک گروہ بنو حارثہ اور بنو سلمہ) پیغمبر سے (گھر جانے کی) اجازت مانگنے لگا وہ کہنے لگے ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں3 حالانکہ ان کے گھر کھلے بےآڑ نہ تھے ان کی تو غرض یہ تھی بس کس طرح بھاگ جائیں

ف 1” یثرب “ مدینہ کی سر زمین کا قدیم نام تھا جیسا کہ ہجرت کی حدیث میں ہے جن روایات میں مدینہ کو یثرب میں ہے جن روایات میں مدینہ کو یثرب کہہ کر پکارنے کی ممانعت مذکور ہے وہ ضعیف ہیں۔ ( ابن کثیر) ۔ 2 یعنی مقابلے کا خیال چھوڑ کر مدینہ میں اپنے گھروں کی طرف لوٹ جائو یا اسلام سے پھر جائو اور از سر نو کفر و شرک اختیار کر۔ ( قرطبی) ۔3 یعنی ہمارے بال بچے گھروں میں تنہاء ہیں اور ہمیں پیچھے سے حملہ کا خطرہ ہے۔ 4 کیونکہ ان کی حفاظت کا انتظام کرلیا گیا تھا۔
Ayah 33:14

وَ لَوْ دُخِلَتْ عَلَیْهِمْ مِّنْ اَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَةَ لَاٰتَوْهَا وَ مَا تَلَبَّثُوْا بِهَاۤ اِلَّا یَسِیْرًا Open ayah 33:14 in the Quran reader

اور اگر کافروں کی فوجیں شہر کے کناروں سے ان پر گھس پڑیں اور وہ ان سے فساد کرنے کو کہیں5 تو مزدور ان کے شریک ہوجائیں اور پانے گھروں میں نہ ٹھہریں مگر تھوڑی دیر (ٹھیریں تو ٹھیریں)6

ف 5 یعنی یہ کہیں کہ آئو ہمارے ساتھ مل کر مسلمانوں کا خاتمہ کردو۔6 اس وقت یہ ہرگز عذر پیش نہ کریں کہ ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں حالانکہ ان کے گھر اس وقت کھلے پڑے ہوں گے کیونکہ لڑائی خود شہر میں ہو رہی ہوگی۔
Ayah 33:15

وَ لَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ لَا یُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ١ؕ وَ كَانَ عَهْدُ اللّٰهِ مَسْئُوْلًا Open ayah 33:15 in the Quran reader

اور یہ منافق اس سے پہلے اللہ سے عہد کرچکے تھے کہ ہم کافروں کے مقابلہ سے پیٹھ نہیں موڑنے کے7 اور اللہ سے جو عہد انہوں نے کیا تھا اس کی پوچھ ان سے ہوگی8

ف 7 قتادہ (رح) کہتے ہیں یہ لوگ غزوہ بدر میں شریک نہ ہوئے تھے لیکن جب بدر میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی تو انہوں نے عہد کیا کہ اب اگر آزمائش کا موقع آیا تو ہم ضرور مسلمانوں کے ساتھ مل کر جنگ کریں گے۔ ( شوکانی) ۔8 یعنی قیامت کے دن ان سے ضرور باز پرس ہوگی کہ تم نے جو عہد کرلیا تھا اسے پورا کیوں نہ کیا ؟
Ayah 33:16

قُلْ لَّنْ یَّنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ اِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ اَوِ الْقَتْلِ وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 33:16 in the Quran reader

اے پیغمبر ان لوگوں سے کہہدے تم اگر مرنے یا مارے جانے سے بھاگو تو یہ بھاگنا کچھ تم کو فائدہ نہ دے گا اور (بالفرض بچ گئے تو) کچھ نہیں تھوڑا سا (دنیا کا) مزہ اور اٹھا لو گے9

ف 9 آخر کار مرنا ہے اور خدا کے حضور حاضر ہونا ہے تو کیوں نہ اللہ کی راہ میں لڑ کر عزت کی موت مرو اور شہادت کا مرتبہ پائو۔
Ayahs 33:17–18

قُلْ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَعْصِمُكُمْ مِّنَ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَ بِكُمْ سُوْٓءًا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً١ؕ وَ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 33:17 in the Quran reader

اے پیغمبر ان لوگوں سے) کہہ دے بھلا اگر خدا تمہارے ساتھ برائی کرنا چاہے تو تم کو اس کے ہاتھ سے کون بچا سکتا ہے یا اگر تم پر رحم کرنا چاہے تو تم کو کون برائی پہنچا سکتا ہے اور اللہ کے سوا نہ تو وہ کسی کو اپنا حمایتی پائیں گے نہ مددگار

قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِیْنَ مِنْكُمْ وَ الْقَآئِلِیْنَ لِاِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ اِلَیْنَا١ۚ وَ لَا یَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 33:18 in the Quran reader

مسلمانو تم میں سے جو منافق لوگوں کو جہاد میں شریک ہونے سے روکتے ہیں اللہ ان کو خوب جانتا ہے اور ان لوگوں کو بھی جو اپنے بھائی بندوں مدینے کے رہنے والوں سے کہتے ہیں مسلمانوں کا ساتھ چھوڑ کر ہمارے پاس چلے آئو اور لڑائی میں بھی شریک نہیں ہوتے مگر کم (تھوڑی دیر کیلئے یا کم پڑتے ہیں

ف 10 ان سے مرد یہود ہیں جو مدینہ کے منافقین سے کہتے تھے کہ محمد ﷺ کا ساتھ چھوڑ کر ہمارے ہاں چلے آئو، محفوظ ہو گے، یا ان سے مراد بھی کچھ دوسری قسم کے منافقین ہیں جو مسلمانوں کے حوصلے پست کرتے اور ان سے کہتے تھے کہ کس چکر میں پڑے ہو بھلا ابو سفیان اور غطفان کے لشکر سے بچ سکو گے ؟ آئو ہمارے ساتھ مل جائو اور ہماری عافیت کوشی کی پالیسی اختیار کرلو۔
Ayah 33:19

اَشِحَّةً عَلَیْكُمْ١ۖۚ فَاِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَاَیْتَهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ تَدُوْرُ اَعْیُنُهُمْ كَالَّذِیْ یُغْشٰى عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ۚ فَاِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْكُمْ بِاَلْسِنَةٍ حِدَادٍ اَشِحَّةً عَلَى الْخَیْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَمْ یُؤْمِنُوْا فَاَحْبَطَ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:19 in the Quran reader

تمہاری مدد میں بخیلی کرتے ہیں11 پھر جب ڈرک اوقت آتا ہے تو تو دیکھتا ہے وہ تجھ کو اس طرح تکتے ہیں انکی آنکھیں (چاروں طرف) گھوم رہی ہیں جیسے اس شخص کی آنکھیں گھومتی ہیں جس پر موت کی بیہوشی آ لگے پھر جب ڈر جاتا ہے1 تو بڑی لمبی تیز زبانوں سے تمہارا مقابلہ کرتے ہیں2 لوٹ کے مال پر مرے جاتے ہیں ان لوگوں میں ایمان نہیں تو اللہ نے ان کے نیک کام (اگر کچھ ہوں بھی اکارت کرے دیئے3 اور اللہ پر یہ ان کے نیک کاموں کا اکارت کردینا آسان ہے

ف 11 یعنی اپنی جانیں تو کیا پیش کریں گے تم سے اپنے مال، اوقات، محنتیں غرض ہر چیز بچا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ 1 یعنی خطرہ کا وقت گزر جاتا ہے اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوتی ہے اور مال غنیمت ہاتھ آتا ہے۔2 یعنی بہادری کے بلند بانگ دعوے کرنے لگتے ہیں اور چوب زبانی سے تمہارا منہ بند کرنا چاہتے ہیں کہ تم ان کی اس روش پر اعتراض نہ کرسکو جو خطرہ کے وقت انہوں نے اختیار کی تھی۔ ( ابن کثیر وغیرہ) 3 یا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ نے ان کے اعمال کے باطل ( کالعدم) ہونے کو ظاہر کردیا کیونکہ ان کے اعمال نیک تھے ہی نہیں کہ انہیں باطل کیا جاتا ہے۔ ( شوکانی) 4 یا انکے اعمال کے باطل ہونے کو ظاہر کرنا آسان ہے۔
Ayah 33:20

یَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ یَذْهَبُوْا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِ الْاَحْزَابُ یَوَدُّوْا لَوْ اَنَّهُمْ بَادُوْنَ فِی الْاَعْرَابِ یَسْاَلُوْنَ عَنْ اَنْۢبَآئِكُمْ١ؕ وَ لَوْ كَانُوْا فِیْكُمْ مَّا قٰتَلُوْۤا اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 33:20 in the Quran reader

یہ ابھی تک یوں سمجھ رہے ہیں کہ کافروں کے لشکر بھائیوں اور اگر وہ پھر آموجود ہوں تو یہ آرزو کریں گے کاش وہ گائوں میں گنواروں کے ساتھ ہوتے اور وہیں رہ کر تمہارا حال پوچھتے رہتے کہ مسلمان پر کیا گزری اور جو تمہاریی ساتھ بھی رہیں اور بھاگیں نہیں تب بھی لڑیں گے نہیں مگر تھوڑا5

ف 5 محض شرما شرمی سے تاکہ اپنے اوپر سے چھد اتارا جائے۔
Ayah 33:21

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 33:21 in the Quran reader

(مسلمانوں) تم کو اللہ تعالیٰ کے رسول کی پیروی کرنا تھی جو ان لوگوں کے لئے اچھی ہے جو اللہ تعالیٰ اور پچھلے دن قیامت سے ڈرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بہت یاد کرتے ہیں6

ف 6 اس میں لڑائی میں پیچھے رہنے والوں پر عتاب ہے۔ (قرطبی) یعنی تمہارا فرض تھا کہ جس طرح اللہ کے رسول ﷺ اس موقع پر جان لڑا رہے تھے اور تمام تکلیفوں اور مشقتوں کا مروانہ وار مقابلہ کر رہے تھے تم بھی جان لڑاتے اور تکلیفیں اور مشقتیں برداشت کرتے، ایسا تو نہیں تھا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے تمہیں تو خطرہ میں جھونک دیا ہو اور خود کسی پناہ کی جگہ آرام کرنے بیٹھ گئے ہوں۔ اگر وہ ایسا کرتے تب تو تمہارے لیے وجہ جواز ہوسکتی تھی۔ مگر وہ تو خود ہر کام میں پیش پیش تھے، پھر تمہارا بزدلی دکھانا اور کسی کام سے بچنے کی فکر کرنا کسی لحاظ سے معقول نہیں قرار دیا جاسکتا۔ یہ آیت گو جہاد کے باب میں نازل ہوئی لیکن یہ ہر موقع اور عمل کے لئے عام ہے اور مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ اپنی انفرادی یا اجتماعی زندگی کے کسی معاملہ میں اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کی پیروی سے مستثنیٰ سمجھیں۔ ( شوکانی) ۔
Ayah 33:22

وَ لَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ١ۙ قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١٘ وَ مَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِیْمَانًا وَّ تَسْلِیْمًاؕ Open ayah 33:22 in the Quran reader

اور جب سچے اور پکے مسلمانوں نے (کافروں کی) فوجوں کو دیکھا (ہر طرف سے امڈی آرہی ہے) وہ گھبرائیتو نہیں (بلکہ یوں) کہنے لگے یہ تو وہی ہے جس کا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا7 اور اللہ اور اس کا رسول سچا ہے اور اس واقعہ نے ان کے ایمان اور تابعداری کو اور بڑھا دیا8

ف 7 کہ اللہ تمہیں آزمائے گا اور پھر جب تم ثابت قدمی دکھائے گے تو تمہاری مدد گا۔ ( ابن کثیر) ۔ یہ وعدہ قرآن کی متعدد آیات میں مذکور ہے۔ ( دیکھئے سورة بقرہ آیت 214 و سورة عنکبوت آیت 2، 3) مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے وحی کے ذریعہ مسلمانوں کو خوشخبری دی کہ عنقریب اللہ تعالیٰ ان پر رسیح یعنی آندھی بھیجے گا اور یہ مرعوب ہو کر بھاگ جائیں گے چناچہ مسلمانوں نے سن کر یہ کہا ( ھذا ما وعدنا اللہ۔۔۔۔ ) (قرطبی)8 وہ پہلے سے زیادہ ایمان میں پختہ اور آنحضرت ﷺ کے عاشق زاد و اطاعت گزار ہوگئے۔ اس آیت میں اس چیز کی دلیل ہے کہ ایمان کم اور زیادہ ہوتا ہے اور یہی اہلحدیث کا مذہب ہے۔ ( وحیدی) ۔
Ayah 33:23

مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ١ۖ٘ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاۙ Open ayah 33:23 in the Quran reader

انہی مسلمانوں میں کچھ مرد تو ایسے ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے جو اقرار کیا تھا اس میں سچے اترے9 ان میں سے بعضے تو اپنا کام پورا کرچکے یا اپنی منت پوری کرچکے10 اور بعضے ابھی راہ دیکھ رہے ہیں11 اور ان لوگوں نے اپنے اقرار کو ذرا نہیں بدلا12

ف 9 اس اقرار سے مراد وہ اقرار ہے جو مدینہ منورہ کے انصار ؓ سے ” لیلہ عقبہ “ میں آنحضرت ﷺ سے کیا تھا اور وہ یہ تھا کہ آخر دم تک آپ ﷺ کا ساتھ دیں گے اور آپ ﷺ کی حفاظت و مدافعت ہیں اپنی جانیں تک قربان کردیں گے یا اس سے مراد بعض ان لوگوں کا عہد ہے جو کسی وجہ سے غزوہ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے اور انہوں نے عہد کیا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے انہیں آزمائش کا موقع دیا تو وہ ثابت قدم رہیں گے اور پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔ حضرت انس ؓ بن مالک بیان کرتے ہیں کہ میرے چچا انس ؓ بن نضر غزوہ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے اس کا انہیں بڑا رنج ہوا اور کہنے لگے کہ اب اگر کوئی جنگ ہوئی تو اللہ دیکھے گا کہ میں کیا کرتا ہوں۔ چناچہ غزوہ احد میں شریک ہوئے اور پھر لڑتے شہید ہوگئے ان کے بدن پر تلوار، تیر اور نیزے کے اس سے زیادہ زخم پائے گئے۔ ان کی بہن ربیع بنت نضر کہتی ہیں کہ میں اپنے بھائی کو صرف ان کی انگلیوں کے پوروں سے پہچان سکی۔ یہ آیت ان کے اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ ( ابن کثیر) ۔10 یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جانوں کی قربانی پیش کرچکے ہیں جیسے حضرت حمزہ ؓ اور انس ؓ بن نضر وغیرہ جو جنگ احد میں شہید ہوچکے تھے۔ ( ابن کثیر)11 کہ کب کوئی موقع ملتا ہے جس میں وہ اپنی جان کی قربانی پیش کر کے اللہ تعالیٰ سے اپنا کیا ہوا عہد پورا کریں۔12 جیسا کہ منافقین نے اپنا عہد بدل ڈالا، بلکہ اس پر پوری طرح ثابت قدم رہے حتیٰ کہ شہید ہوگئے یا اس دارفانی سے کوچ کرگئے۔
Ayah 33:24

لِّیَجْزِیَ اللّٰهُ الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِهِمْ وَ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآءَ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 33:24 in the Quran reader

کہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے13 اور منافقوں کو چاہے سزا دے چاہے (جب وہ توبہ کریں) ان کو معاف کر دے بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

ف 13 یعنی غزوہ احزاب کے موقع پر کفار کی اتنی بی جمعیت مدینہ پر اس لئے حملہ آور ہوئی کہ اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ مسلمانوں کا امتحان لے اور جو لوگ اپنے امتحان میں پہنچے اور پکے ثابت ہوں انہیں ان کی سچائی کا بدلہ دے اور۔۔۔۔ ( قرطبی وغیرہ) ۔
Ayah 33:25

وَ رَدَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِغَیْظِهِمْ لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًا١ؕ وَ كَفَى اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ قَوِیًّا عَزِیْزًاۚ Open ayah 33:25 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ کی قدرت دیکھو اللہ نے ادھر تو کافروں کو غصے میں بھرے ہوئے (خالی) پھیر دیا ان کو کچھ فائدہ نہ ملا1 اور ادھر اللہ نے مسلمانوں کو لڑائی کی نوبت نہ آنے دی2 اور اللہ زور والا زبردست ہے

ف 1 یعنی اسلام کو مٹانے اور مسلمانوں کو طاقت کو کچلنے کے جس ارادہ سے آئے تھے اس میں انہیں کوئی کامیابی حاصل نہ ہوسکی بلکہ نا کام و بےمراد ہو کر واپس ہونا پڑا۔2 یعنی ایک طرف تو نعیم ؓ بن مسعود کی تدبیر سے کفار کے تین گروہوں ( قریش، غطفان اور بنو قریظہ) میں پھوٹ پڑگئی اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے سخت آندھی اور فرشتے بھیج کر ان کے دلوں پر رعب طاری کردیا۔ بالآخر ایک ماہ محاصرہ جاری رکھنے کے بعد بد حواس ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ مفصل واقعہ ابن ہشام (ج 2، ص 229) میں دیکھ لیا جائے۔
Ayah 33:26

وَ اَنْزَلَ الَّذِیْنَ ظَاهَرُوْهُمْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ صَیَاصِیْهِمْ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ وَ تَاْسِرُوْنَ فَرِیْقًاۚ Open ayah 33:26 in the Quran reader

اور اہل کتاب بنیقریظہ کے یہودیوں کو جنہوں نے (عہد شکنی کر کے) مشرکوں کی مدد کی تھی ان کے قلعوں سے اتار لایا اور ان کے دلوں میں (تمہاری) دھاک بٹھا دی تم ان میں سے بعضوں کو جوانمردوں کو قتل کرنے لگے اور بعضوں کو دعوتوں اور بچوں کو3) قید

ف 3 یہ غزوہ بنی قریظہ کا ذکر ہے۔ ہوا یہ کہ قریش اور غطفان تو واپس چلے گئے اور بنو قریظہ اپنے قلعوں میں محصور ہوگئے۔ نبی ﷺ خندق سے پلٹ کر گھر پہنچ گئے آپ ﷺ غسل فرما رہے تھے کہ حضرت جبرئیل آئے اور کہنے لگے :” آپ ﷺ نے ہتھیار رکھ دیئے مگر فرشتوں نے تا حال ہتھیار نہیں رکھے، بنی قریظہ کی طرف چلئے ان پر حملہ کیجئے “۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے کوچ کا حکم دے دیا اور بنو قریظہ کا محاصرہ کرلیا گیا۔ یہ محاصرہ پچیس روز تک جاری رہا آخر بنو قریظہ تنگ آگئے اور انہوں نے مصالحت کی گفتگو شروع کی۔ آخر کار انہوں نے حضرت سعد ؓ بن معاذکو حکم تسلیم کرلیا جو قبل از اسلام ان کے حلیف رہ چکے تھے۔ چناچہ حضرت سعد ؓ کو لایا گیا اور آنحضرت ﷺ نے ان سے فرمایا : بنو قریظہ کے بارے میں اپنا فیصلہ دیجئے۔ سعد ؓ نے کہا میرا فیصلہ یہ ہے کہ ان کے مقابلہ لڑائی کرنے والے قتل کردیئے جائیں اور عورتیں اور بچے قیدی بنا لئے جائیں اور ان کے اموال تقسیم کردیئے جائیں، چناچہ ایسا ہی کیا گیا۔ قتل ہونے والوں کی تعداد چھ سو سے نو سو تک بیان کی گئی ہے اور تقریباً یہی اندازہ قیدیوں کے متعلق مذکور ہے (شوکانی) ۔
Ayah 33:27

وَ اَوْرَثَكُمْ اَرْضَهُمْ وَ دِیَارَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ وَ اَرْضًا لَّمْ تَطَئُوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا۠ Open ayah 33:27 in the Quran reader

اور اللہ نے تم کو ان کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے مالوں کا وارث کردیا اور اس ملک کا جہاں تم نے ابھی تک قدم نہیں رکھا4 اور اللہ تعالیٰ سب کچھ کرسکتا ہے

ف 4 یعنی مفسرین نے لکھا ہے کہ اس سے ارض خیبر کی طرف اشارہ ہے۔ جس پر مسلمانوں نے 7 ھ میں فتح پائی۔ اور بعض نے مکہ اور بعض نے فارس اور روم کے علاقے مراد لیے ہیں۔ عکرمہ (رح) کہتے ہیں کہ اس سے ہر وہ زمین مراد ہے جسے قیامت تک مسلمان فتح کریں۔ ( شوکانی) ۔
Ayah 33:28

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَ اُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:28 in the Quran reader

اے پیغمبر اپنی بی بیوں سے کہہ دے اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی رونق چاہتی ہو تو آئو میں تمہیں کچھ دے دوں اور اچھی طرح تم کو رخصت کر دوں5

ف 5 یعنی طلاق دے دوں حضرت ﷺ کی ازواج نے دیکھا کہ لوگ آسودہ ہوئے چاہا کہ ہم بھی آسودہ ہوں۔ بعض نے آنحضرت ﷺ سے زیادہ نفقہ اور متاع کا مطالبہ کیا، اس پر آنحضرت ﷺ کو ملال ہوا اور ایک ماہ تک کے لئے ایلا کرلیا یعنی قسم کھالی کہ تم سے مقاربت نہیں کروں گا۔ چناچہ آپ ﷺ نے ایک بالا خانہ میں تنہائی اختیار فرما لی کا ایک ماہ کے بعد یہ اور اگلی آیت نازل ہوئی۔ ( شوکانی و موضح)
Ayah 33:29

وَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:29 in the Quran reader

اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو دو ہاں کیبھلائی چاہتی ہو تو جو تم میں نیک بی بیان ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے بڑا ثواب تیار رکھا ہے6

ف 6 حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ جب آیت تخبیر ( یعنی یہ آیت) نازل ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے سب سے پہلے مجھ سے گفتگو کی اور مجھے یہ دونوں آیتیں پڑھ کر سنائیں۔ میں نے جواب دیا کہ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو پسند کرتی ہوں اسی طرح سب بیویوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو پسند کیا اور یہ جو فرمایا کہ جو نیک ہیں ان کو بڑا نیگ ( اجر) ہے۔ آنحضرت ﷺ کی ازواج ؓ سب نیک ہی رہیں۔” الطیبات للطیبین “ مگر اللہ تعالیٰ صاف خوشخبری کسی کو نہیں دیتا مانڈر نہ ہوجاوے، خاتمے کا ڈر لگا ہے۔ ( موضح) کوئی شخص اپنی بیوی کو ” خیار “ دے دے اور عورت خاوند کو پسند کرلے تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔ ہاں اگر عورت علیحدگی پسند کرلے تو ایک رجعی طلاق واقع ہوجائے گی جب کہ خاوند نے مطلق طلاق کی نیت کی ہو۔ ( مختصر من الشوکانی)
Ayah 33:30

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ یُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:30 in the Quran reader

پیغمبر کی بی بیو تم میں سے جو کوئی کھلی بےحیائی کا کام کرے اس کو (قیامت میں بہ نسبت دوسری عورتوں کے دوہری سزا دی جاوے گی7 اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بات تم کو دونا عذاب کرنا) آسان ہے8

ف 7 کیونکہ جس کا جتنا مقام بلند ہوتا ہے نافرمانی کی صورت میں اسے سزا بھی اتنی ہی سخت ملتی ہے۔ پیغمبر ﷺ سے فرمایا ” لا دذقناک ضعف الحیاۃ “ ( کذافی الموضح) اس کا یہ مطلب نہیں کہ ” ازواج ؓ مطہرات “ سے نعوذ باللہ برائی کے ارتکاب کا اندیشہ تھا۔ یہ جملہ شرطیہ ہے جس کا تحقیق ضروری نہیں، جیسے فرمایا ( لئن اشرکت لیحبطن عملک) (زمر : 65) حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ کسی نبی کی بیوی نے زنا کا ارتکاب نہیں کیا، ہاں ایمان و اطاعت میں خیانت کی ہے۔ ( دیکھئے تحریم : 10) بعض نے کہا کہ یہاں ” فاحشۃ سے مراد نشوز اور بد سلوکی ہے۔ دراصل اس سے لزواج ؓ مطہرات کو متنبہ کرنا مقصود ہے کہ تمہارا مقام بہت بلند ہے اور دوسری عورتوں کی نیست تمہاری ذمہ داری بھی بہت بڑھ گئی ہے لہٰذا تمہارا اخلاقی رویہ پاکیزہ ہونا چاہیے کہ دوسروں کیلئے اسوہ بنے۔ (قرطبی)8 یعنی تمہیں غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ تم نبی کی بیویاں ؓ ہو اور تم پر کوئی گرفت نہ ہوگی۔
Ayah 33:31

وَ مَنْ یَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَاۤ اَجْرَهَا مَرَّتَیْنِ١ۙ وَ اَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِیْمًا Open ayah 33:31 in the Quran reader

اور تم میں سے جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے اور اچھے کام کرے اس کو ہم دونا ثواب دیں گیف 1 اور ہم نے آخرت میں اس کے لئے عزت کی روزی تیار رکھی ہے2

ف 1 یعنی جس طرح تمہارے مقام کے بلند ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ نافرمانی کی صورت میں دگنا عذاب ہوا اسی طرح اس کا یہ بھی تقاضا ہے کہ نیکی اور تابعداری کی صورت میں دگنا اجر ملے۔2 اور اس سے بڑی نعمت اور کیا ہوگی کہ جنت کے اعلیٰ مقام ( وسیلہ) میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ رہینگی۔ ( ابن کثیر)
Ayah 33:32

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاۚ Open ayah 33:32 in the Quran reader

بہشت کی نعمتیں پیغمبر کی بی بیو تم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو تو اگر تم خدا سے ڈرتی ہو تو غیر مردوں سے دبی زبان باریک آواز سے بات نہ کرو4 ایسا کرو گے تو جس کے دل میں کھوٹ ہے بدکاری فسق فجور بد نظری اس کو لالچ پیدا ہوگی5 کھری کھری صاف بات کیا کرو

ف 3 بلکہ آنحضرت ﷺ کی ازواج ؓ ہونے کی وجہ سے تمہارا درجہ اور مرتبہ سب سے بلند ہے اور بقیہ عورتوں کیلئے تمہاری حیثیت ایک نمونہ کی ہے۔ اس آیت سے بعض علمائے تفسیر (رح) نے استدلال کیا ہے کہ ” ازواج مطہرات “ سب عورتوں سے افضل ہیں۔ حتیٰ کہ آسیہ ( علیہ السلام) اور مریم ( علیہ السلام) پر بھی ان کو فضلیت حاصل ہے۔ ( دیکھئے سورة آل عمران 42) (قرطبی) ۔4 یعنی لہجہ میں کوئی لوچ اور دانستہ طور پر اختیار کی ہوئی شیرینی نہ ہو بلکہ غیر معمولی درشتی اور خشونت ہونی چاہیے اور آواز بھی ضرورت سے زیادہ بلند نہ ہو۔ ( قرطبی)5 کہ یہ عورت میری طرف مائل و متوجہ ہوسکتی ہے۔
Ayah 33:33

وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتِیْنَ الزَّكٰوةَ وَ اَطِعْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ Open ayah 33:33 in the Quran reader

اور اپنے گھروں میں جمی رہو6 اور اگلی جاہلیت کے زمانہ کی طرح بنائو سنگار (مردوں کو) دکھاتی نہ7 پھرو اور نماز کو درستی کے ساتھ ادا کرتی رہو اور زکوۃ دیتی رہو اور اللہ اور اس کے رسول کا فرمانا مانتی رہو (پیغمبر کے) گھر والو اللہ تعالیٰ اور کچھ نہیں یہ چاہتا ہے تم سے ہر طرح کی گندگی ناپاکی دور کرے اور تم کو خوب ستھرا پاک صاف بنا دے8

ف 6” قرن “ کا لفظ ” قرار “ سے مآخوذ ہے اور بعض نے اسے ” وقار “ سے مانا ہے مطلب ہے یہ کہ عزت و وقار کے ساتھ اپنے گھروں میں بیٹھی رہو اور بازاری عورتوں کی طرح گھومتی نہ پھرو۔ یہ حکم امہات المومنین ؓ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ تمام عورتوں کو شامل ہے اور عورتوں کے اپنے گھروں میں رہنے اور بلا ضرورت باہر نہ نکلنے کے متعلق بہت سی احادیث مروی ہیں۔ (قرطبی) ۔7 یہاں اولیٰ کا لفظ احتراز کے لئے نہیں ہے بلکہ جاہلیت جہلا کی طرح یا تو ایک محاورہ ہے یا اسلام سے پہلے کی حالت کے اعتبار سے اولیٰ فرما دیا ہے۔ حدیث میں ہے کہ جو عورت بنائو سنگار کر کے بےپردہ باہر نکلتی ہے اس کے ساتھ شیطان ہوتا ہے اور ایک دوسری حدیث میں ہے کہ عورت چھپی رہنے کے قابل چیز ہے جب باہر نکلتی ہے تو اسے شیطان تاکتا ہے۔ جاہلیت میں رواج تھا کہ عورتیں بنائو سنگھار کر کے بر پردہ باہر نکلا کرتی تھیں۔ اب یہی رواج ثقافت اور دوسرے خوشنما ناموں سے ہمارے زمانہ میں عود کر آیا ہے۔ فواسفا۔ اسلام نے صرف واقعی ضرورت کے پیش نظر پردے کے حدود کی پابندی کے ساتھ باہر نکلنے کی اجازت دی ہے حتیٰ کہ مسجد میں نماز با جماعت ادا کرنے کے لئے اگر جانا چاہیں تو حکم ہے کہ عام اور سادہ لباس میں ہوں اور خوشبو لگائے ہوئے نہ ہوں۔ ( ابن کثیر) ۔8 آیت کا سیاق وسباق صاف بتارہا ہے کہ یہاں اہل بیت سے مراد نبی ﷺ کی ارفیع ؓ ہیں۔ جیسا کہ ” یا نساء النبی “ اور اگلے خطاب سے معلوم ہوتا ہے اور قرآن میں ’ ’ اہل البیت “ کا لفظ صرف بیوی کے لئے بھی استعمال ہوا ہے۔ ( دیکھئے سورة ہود : 73) بعض روایات میں ہے کہ جب آیت نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے حضرت فاطمہ ؓ ، علی ؓ ، حسن ؓ اور حسین ؓ کو بلایا اور ان پر اپنا کمبل ڈال کر دعا فرمائی۔ ( اللھم ھولاء اھل بینی فاذھب عنھم الرجس وطھرھم الطھیرا) اے اللہ ! میرے اہل بیت ہیں ان سے نا پاکی دور فرمایا اور انہیں صاف ستھرا بنا دے “۔ اس حدیث کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ازواج مطہرات ؓ اہل البیت میں سے نہیں ہیں بلکہ اصل میں آیت تو ” ازواج مطہرات “ ہی کے متعلق نازل ہوئی ہے اور ان کو تطہیر کی خوشخبری دی گئی ہے پھر آنحضرت ﷺ کی دعا سے حضرت فاطمہ ؓ ، علی ؓ ، حسن ؓ ، حسین ؓ بھی اس میں شامل ہوگئے۔ اسکی دلیل یہ بھی ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے ان پر کمبل ڈالا اور نہ دعا کی تو حضرت ام سلمہ ؓ نے بھی اپنا سر اس کپڑے کے اندر کرلیا اور عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول ﷺ میں بھی تو آپ ﷺ کے ساتھ ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا ( انک الی خیبر مرتین) تو تم اس خیر میں دوہری شامل ہو یعنی اس آیت کے اعتبار سے بھی اور میری اس دعا کے تحت بھی ( قرطبی) ۔
Ayahs 33:34–35

وَ اذْكُرْنَ مَا یُتْلٰى فِیْ بُیُوْتِكُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ وَ الْحِكْمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا۠ Open ayah 33:34 in the Quran reader

اور تمہارے گھروں میں جو اللہ کی آیتیں اور حکمت کی باتیں یعنی حدیثیں پڑھی جاتی ہیں ان کو یاد کرتی رہو یا ان کا شکر کرتی رہو بیشک اللہ مہربان یا باریک بین خبر دار ہے

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآئِمِیْنَ وَ الصّٰٓئِمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ١ۙ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:35 in the Quran reader

بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان دار مرد اور ایمان دار عورتیں اور فرمانبردار یا بندگی کرنیوالے مرد اور فرمانبردار پابندی کرنیوالی عورتیں اور سچ بولنے والے مرد اور سچ بولنے والی عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنیوالی عورتیں اللہ سے ڈرنیوالے عاجزی کرنیوالے مرد اور ڈرنیوالی عورتیں اور خیرات کرنیوالے مرد اور خیرات کرنیوالی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرمگاہ کو (گناہ سے) بچانیوالے مرد اور بچانے والی عورتیں اور اللہ تعالیٰ کو یاد کرنیوالے مرد اور یاد کرنیوالی عورتیں ان سب کے لئے اللہ تعالیٰ نے گناہوں کی بخشش اور بڑا ثواب تیار رکھا ہے1

ف 1 حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا ” اے اللہ کے رسول ﷺ ! قرآن ! میں جس طرح مردوں کا ذکر ہوتا ہے ہم عورتوں کا نہیں ہوتا۔ یکایک ایک روز میرے کان میں نبی ﷺ کی آواز آئی اور میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ منبر پر کھڑے لوگوں کو یہ آیت سنا رہے ہیں۔ دوسری آیت میں ہے کہ نبی ﷺ سے یہ سوال حضرت ام عمارہ ؓ نے کیا اور اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ( ابن کثیر) ۔
Ayah 33:36

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًاؕ Open ayah 33:36 in the Quran reader

اور کسی مسلمان مرد یا مسلمان عورت کے لئے یہ نہیں ہوسکتا کہ جب اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول کسی بات کا حکم کردیں تو پھر ان کو اس بات میں کوئی اختیار رہے2 اور جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا فرمانا نہ مانے اور دوسروں کی رائے پر چلے تو وہ کھلا گمراہ ہوچکا3

ف 2 کہ چاہے اس پر عمل کرے اور چاہے نہ کرے بلکہ ہرحال میں عمل کرنا ضروری ہے۔ ( دیکھئے قصص : 68)3 ابن جریر (رح) وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کی شان نزول میں نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے زید ؓ بن حارثہ کے لئے حضرت زینب ؓ بن حجش کو پیغام نکاح دیا۔ مگر حضرت زینب ؓ نے اپنی شان کے خلاف سمجھ کر اس نکاح سے انکار کردیا۔ آپ ﷺ نے حضرت زینب ؓ سے فرمایا :” بلی فانکحیہ “ ( کیوں نہیں، تم ان سے ضرور نکاح کرو) اس پر حضرت زینب ؓ نے کہا : ” اچھا میں اس پر غور کروں گی “ یہ گفتگو جاری تھی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور حضرت زینب ؓ نے عرض کیا۔ ” اے اللہ کے رسول ﷺ ! مجھے یہ فیصلہ منظور ہے۔ آیت کی شان نزول گو خاص ہے مگر اس کا حکم عام ہے اور متعدد آیات و احادیث میں اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے خلاف چلنے پر وعید آئی ہے ایک حدیث میں ہے کہ کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا تاوقتیکہ اس کی خواہش میرے لائے ہوئے پیغام کے تابع نہ ہوجائے ( ابن کثیر) اس سے معلوم ہوا کہ کسی آیت یا حدیث کے مقابلے میں کسی مجتہد کی رائے پر عمل کرنا نہیں چاہیے بلکہ جونہی آیت یا حدیث ملے کسی مجتہد کی رائے پر عمل نہیں کرنا چاہیے۔ (فتح البیان) ۔
Ayah 33:37

وَ اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِ اَمْسِكْ عَلَیْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللّٰهَ وَ تُخْفِیْ فِیْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِیْهِ وَ تَخْشَى النَّاسَ١ۚ وَ اللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰىهُ١ؕ فَلَمَّا قَضٰى زَیْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا لِكَیْ لَا یَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْۤ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآئِهِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 33:37 in the Quran reader

اور اے پیغمبر وہ وقت یاد کر جب تو اس شخص سے کہتا تھا جس پر اللہ تعالیٰ نے احسان کیا اس کو اسلام کی توفیق دی4 اور تو نے بھی اس پر احسان کیا اپنی جورو (زینب) کو اپنے پاس رہنے دے اور اللہ سے ڈر5 اور تو اپنے دل میں ایک بات چھپاتا تھا جس کو اللہ کھولنے والا تھا اور تو لوگوں سے اس بات کے کھلنے میں ڈرتا تھا حالانکہ تجھ کو اللہ سے زیادہ ڈرنا چاہیے تھا6 پھر جب زید اپنی خواہش اس عورت سے پوری کرچکا تو ہم نے اس کا ناکح تیرے ساتھ کردیا8 اس سے یہ مطلب تھا کہ مسلمانوں کو اپنے لے پاک لڑکوں کی بی بیوں سے نکاح کرلینے میں جب وہ اپنی خواہش ان سے پوری کر چکیں کوئی تنگی نہ رہے اور اللہ تعالیٰ کا حکم پورا ہو کر رہے گا

ف 4 زید ؓ بن حارثہ پر آنحضرت ﷺ نے بڑا احسان یہ کیا کہ ان کو آزاد کر کے اپنا متنبی ٰ بنا لیا اور پھر اپنی پھوپھی زاد بہن سے ان کا نکاح کردیا۔ واضح رہے کہ یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں جب یہ نکاح ہوچکا تھا لیکن میاں بیوی کے درمیان تعلقات نے ناخوشگوار صورت اختیار کرلی تھی۔ حتیٰ کہ زید ؓ نے طلاق دینے کا تہیہ کرلیا تھا۔5 یعنی اسے طلاق دینے میں جلدی نہ کرو اور اس کے معاملے میں اللہ سے ڈر۔6 یہ بات کیا تھی ؟ تفاسیر میں اس باب میں متعدد اقوال مذکور ہیں۔ بعض اقوال ایسے بھی ہیں جو شان نبوت کے سراسر منافی ہیں، اس لئے حافظ فتح الباری میں لکھتے ہیں :” کہ ان کا بیان مناسب نہیں ہے “۔ اور حافظ ابن کثیر (رح) نے بھی ان کے بیان سے پہلو تہی کی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو بذریعہ وحی پہلے سے خبردار کردیا گیا تھا کہ زینب ؓ آپ ﷺ کی بیوی ہونے والی ہے۔ مگر آپ ﷺ اس بات کے اظہار سے شرماتے کہ مخالفین الزام لگائیں گے کہ دیکھئے اپنی بہو سے نکاح کرلیا۔ اس لئے جب زید ؓ نے آ کر شکایت کی تو آپ ﷺ نے فرمایا، ” امسک علیک زوجک واتق اللہ “ اس پر اللہ تعالیٰ نے عتاب آمیز لہجہ میں فرمایا کہ جب میں نے آپ ﷺ کو پہلے بتادیا ہے کہ زینب ؓ کا نکاح آپ ﷺ سے ہونے والا ہے تو آپ ﷺ زید ؓ سے یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں یعنی آپ ﷺ کی شان کے لائق نہیں بلکہ بہتر یہ تھا کہ آپ ﷺ خاموش رہتے یا زید ؓ سے کہہ دیتے کہ تم جو کچھ کرنا چاہتے ہو کرلو۔ علامہ آلوسی لکھتے ہیں کہ یہ عتاب ترک اولیٰ پر ہے۔ (روح) حضرت عائشہ ؓ بیان فرماتی ہیں کہ اگر آنحضرت ﷺ اللہ کی کتاب میں سے کوئی بات چھپانے والے ہوتے تو آپ ﷺ اس آیت کو چھپاتے۔ ( ابن کثیر) ۔7 یعنی جب زید ؓ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ اور عدت ختم ہوگئی۔8 یہ نکاح خود اللہ نے پڑھایا، اس معنی میں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر وحی فرمائی کہ آپ ﷺ بغیر ایجاب و قبول اور مہر وغیرہ کے اسے اپنی زوجیت میں لے لیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت زینب ؓ دوسری ازواج و مطہرات ؓ پر فخر کیا کرتی تھیں کہ تمہارا نکاح تمہارے گھر والوں نے پڑھایا اور میرا نکاح سات آسمانوں کے اوپر خود اللہ تعالیٰ نے پڑھایا۔ ( ابن کثیر) ۔
Ayahs 33:38–40

مَا كَانَ عَلَى النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ١ؕ سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا٘ۙ Open ayah 33:38 in the Quran reader

پیغمبر کو اس کام کے کرنے میں جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے ٹھہرا دیا کچھ مضائقہ نہیں اللہ تعالیٰ کی یہی عادت رہی ان پیغمبروں میں جو پہلے گزر چکے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا جو کام ہیوہروز اول میں) ٹھہر چکا ہے مقرر ہوچکا ہے

اِ۟لَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَ یَخْشَوْنَهٗ وَ لَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 33:39 in the Quran reader

جو اللہ تعالیٰ کے پغیام لوگوں کو پہنچاتے رہے اور اللہ تعالیٰ ہی سے ڈرتے رہے اس کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تھے اور اللہ بس ہے حساب لینے والا

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 33:40 in the Quran reader

محمد تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں ہے1 البتہ وہ اللہ تعالیٰ کا پیغمبر ہے اور پیغمبروں کا ختم کرنے والاف 2 اور اللہ تعالیٰ سب کو جانتا ہے

ف 1 یعنی جس شخص زید ؓ بن حارثہ کی مطلقہ بیوی سے انہوں نے نکاح کیا ہے وہ ان کو بیٹا ہے کب کہ کوئی یہ اعتراض کرسکے کہ انہوں نے اپنی بہو سے نکاح کرلیا۔ واضح رہے کہ آنحضرت ﷺ کے جتنے بیٹے ہوئے ؟ بچپن ہی میں گزر گئے اور کوئی بھی اس عمر کو نہیں پہنچا کہ مرد کہلا سکے۔ صرف لڑکیاں تھیں اور ان میں بھی صرف حضرت فاطمہ ؓ کی اولاد باقی رہی۔2 لفظی ترجمہ یہ ہے۔” البتہ وہ اللہ کا رسول ﷺ ہے اور نبیوں ﷺ کا ختم کرنے والا “۔ اس سے قطعی طور پر معلوم ہوا کہ محمد ﷺ رہتی دنیا تک اللہ کے نبی ﷺ ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے اور پھر احادیث صحیحہ میں اس خاتم النبین ہونے کی تشریح کردی گئی ہے جس کے بعد کسی التباس کی گنجائش باقی نہیں رہتی اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا نزول ختم نبوت کے منافی نہیں ہے کیونکہ وہ آپ ﷺ ہی کی شریعت پر چلیں گے۔ آج تک پوری امت کا یہ متفق علیہ عقیدہ چلا آیا ہے۔ پس ختم نبوت کا منکر قطعی کافر اور ملت اسلام سے خارج ہے۔