33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 33:41–42

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِیْرًاۙ Open ayah 33:41 in the Quran reader

مسلمانو اللہ تعالیٰ کی یاد بہت کرو

وَّ سَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 33:42 in the Quran reader

اور صبح و شام اس کی پاکی بیان کرتے رہو3

ف 3 یعنی اس کی تسبیح وتحمید اور تکبیر و تحلیل کرتے رہو۔ اللہ کے ذکر خصوصاً سبحان اللہ و بحمدہٖ کہنے کی فضلیت ہیں متعد احادیث ثابت ہیں۔ صحیحین میں ہے کہ جس نے سو مرتبہ ” سبحان اللہ و بحمدہٖ “ کہا اس کے تمام گناہ ساقط کردیئے گئے چاہے وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔ ( شوکانی)
Ayahs 33:43–44

هُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ وَ مَلٰٓئِكَتُهٗ لِیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا Open ayah 33:43 in the Quran reader

وہی خدا ہے جو تم پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کی فرشتے تمہارے لئے دعا کرتے ہیں اس لئے کہ تم کو کفر کی تاریکیوں سے نکال کر اسلام کی روشنی میں لائے اور وہ ایمان داروں پر مہربان ہے

تَحِیَّتُهُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ١ۚۖ وَ اَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِیْمًا Open ayah 33:44 in the Quran reader

جس دن وہ اللہ سے ملیں گے4 اس دن ان کا تحفہ سلام ہوگا5 اور ان کے واسطے اچھا نیک تیار ہے

ف 4 مراد ہے موت کا دن یا قبروں سے اٹھنے کا دن یا جنت میں داخل ہونے کا دن (قرطبی)5 یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر سلام بھیجا جائے گا۔ ( دیکھئے یٰسین آیت 58) یا فرشتے ان کو سلام کریں گے۔ ( سورة نحل آیت 32) یا جنتی ایک دوسرے کو سلام کرینگے (یونس آیت : 10)
Ayah 33:45

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 33:45 in the Quran reader

اے پیغمبر ہم نے تجھ کو گواہ بنا کر بھیجا گواہ6 اور مسلمانوں کو جنت کی خوشخبری دینے والا کافروں کو خدا کے عذاب سے ڈرانیوالا

ف 6 کہ آپ ﷺ اپنے قول و عمل سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی گواہی دیں اور قیامت کے دن اپنی امت کے گواہ ہوں کہ آپ ﷺ نے ان کو اللہ کا پیغام بےکم وکاست پہنچا دیا تھا، بلکہ دوسری امتوں کو بھی گواہی دیں گے کہ ان کے انبیاء ( علیہ السلام) نے ان تک اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا۔ ( دیکھئے سورة بقرہ آیت 143)
Ayah 33:46

وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا Open ayah 33:46 in the Quran reader

اور اللہ کے حکم سے لوگوں کو اللہ کی طرف بلانیوالا اور روشن کرنیوالا چراغ7

ف 7 جس سے کفر و ضلالت کی تاریکیوں میں واضح ہدایت ملتی ہے ” نور “ سے مراد وہ روشنی جو شریعت اسلامیہ سے حاصل ہوتی ہے۔ ( قرطبی) ۔
Ayah 33:47

وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَضْلًا كَبِیْرًا Open ayah 33:47 in the Quran reader

اور ایمان والوں کو یہ خوشخبری سنا ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑا فضل ہوگا8

ف 8 بقیہ امتوں سے ان کے درجات بلند ہوں گے اور انہیں جنت نصیب ہوگی جیسا کہ شوریٰ ( آیت : 22) میں اس ” فضل کبیر “ کی تفسیر وارد ہے۔ ( قرطبی)
Ayah 33:48

وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ دَعْ اَذٰىهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:48 in the Quran reader

اور اے پیغمبر کافروں اور منافقوں کا کہنا نہ مان اور وہ جو تجھ کو ستاتے ہیں اس کا خیال چھوڑ دے9 اور اللہ پر بھروسا رکھ اور اللہ بس ہے کام بنانے والا

ف 9 یعنی اس کی کوئی پرواہ نہ کرو اور اس سے در گزر فرما۔ (قرطبی)
Ayah 33:49

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَیْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا١ۚ فَمَتِّعُوْهُنَّ وَ سَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:49 in the Quran reader

مسلمانو ! جب تم مسلمان عورتوں سے نکاح کرو پھر صحبت سے پہلے ان کو طلاق دے ”10 تو تمہاری کوئی عدت ان کو کرنا ضرور نہیں جس کا تمشمار کرو1 بلکہ ان کو کچھ دے دو اور اچھی طرح رخصت کردو2

ف 10 اس سے معلوم ہوا کہ اصل میں لفظ ” نکاح ‘ بمعنی عقد ہے اور جماع کے معنی میں بطور استعارہ آتا ہے۔ ( مفرادت) اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نکاح سے قبل کی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ مثلاً ایک شخص کہہ دیتا ہے کہ اگر میں فلاں عورت سے نکاح کروں تو اسے طلاق ہے پھر اس کے بعد نکاح کرے تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔ یہی مسلک جمہور اہل علم ہے۔ ( ابن کثیر) ۔ 1 لہٰذا وہ طلاق کے فوراً بعد کسی مرد سے نکاح کرسکتی ہے۔ اس پر جمیع صحابہ ؓ اور بعد کے اہل علم کا اجماع ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص فوت ہوجائے اور اس نے تا حال اپنی عورت سے صحبت نہ کی ہو تو عورت پورے مہر کی بھی حقدارہو گی اور اسے چار ماہ دس دن کی عدت بھی پوری کرنی ہوگی۔ یہ بھی اجماعی مسئلہ ہے۔ بعض اہل علم نے خلوت صحیحہ کو بھی بمنزلہ صحبت کے شمار کیا ہے اور کہا ہے کہ خلوت صحیحہ کے بعد طلاق دینے سے مہر اور عدت لازم ہوگی۔ مگر یہ مسئلہ بظاہر اس آیت کے خلاف ہے۔ ( ابن کثیر، قرطبی)2 یعنی اگر مہر کا تعین نہ ہوا ہو تو اپنی مالی حیثیت کے مطابق کچھ دے کر اسے بہتر طریقہ سے رخصت کرو۔ (بقرہ : 236) لیکن اگر مہر کا تعین ہوچکا ہو تو پھر قبل از سیس طلاق کی صورت میں نصف مہر دینا لازم ہوگا۔ ( بقرہ : 237) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” یہ مسئلہ ذکر فرمایا ازواج کے ذکر میں شاید اس واسطے کہ حضرت ﷺ نے ایک عورت کی تھی۔ جب اس کے نزدیک گئے کہنے لگی ” اللہ تجھ سے پناہ دے “۔ حضرت ﷺ نے اسکو جواب دیا۔” تو نے بڑے کی پناہ پکڑی “۔ اس پر یہ حکم صادر فرمایا اور خطاب فرمایا ایمان والوں کو معلوم ہو کہ پیغمبر ﷺ کا یہ حکم خاص نہیں سب مسلمانوں پر یہی حکم ہے “۔ روایات میں ہے کہ وہ بدبخت ساری عمر ندامت اور حسرت کرتی رہی۔
Ayah 33:50

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِیْۤ اٰتَیْتَ اُجُوْرَهُنَّ وَ مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَیْكَ وَ بَنٰتِ عَمِّكَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِكَ وَ بَنٰتِ خَالِكَ وَ بَنٰتِ خٰلٰتِكَ الّٰتِیْ هَاجَرْنَ مَعَكَ١٘ وَ امْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْكِحَهَا١ۗ خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْهِمْ فِیْۤ اَزْوَاجِهِمْ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ لِكَیْلَا یَكُوْنَ عَلَیْكَ حَرَجٌ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:50 in the Quran reader

اے پیغمبر ہم نے تیرے لئے وہ بی بیاں حلال کردیں جن کا مہر تو نے ادا کردیا3 اور جن لونڈیوں کا تو مالک ہوا جو خدا نے تجھ کو4 اور لڑائی میں دلوائیں5 اور تیرے چچا کی بیٹیاں اور تیری پھوپھی کی بٹیاں اور تیرے ماموں کی بیٹیاں اور تیری خالائوں کی بیٹیاں جنہوں نے تیرے ساتھ مدینہ میں ہجرت کی6 اور کوئی سی مسلمان عورت اگر وہ اپنے تئیں تجھ کو دے ڈالے مفت بےمہر کے) بشرطیکہ پیغمبر اس سے نکاح کرنا چاہیے یہ کم خاص تیرے لئے ہے مسلمانوں کے لئے نہیں7 ہم کو معلوم ہے جو ہم نے مسلمانوں پر انکی بی بیوں اور لونڈیوں کے باب میں ٹھیرا دیا8 غرض یہ ہے کہ تجھ کو کوئی تکلیف نہ ہو (اس وجہ سے تیرے لئے ایک خاص حکم رکھا) اللہ بخشنے والا مہربان ہے

ف 3 مراد آنحضرت ﷺ کی بیویاں ہیں جو آیت کے نزول کے وقت آپ ﷺ کے نکاح میں تھیں۔4 اس اجازت کے تحت آپ ﷺ نے صفیہ ؓ ، جویرہ ؓ اور ماریہ قبطیہ ؓ اور ریحانہ ؓ کو اپنے لئے مخصوص کرلیا تھا۔ صفیہ ؓ اور جویرہ ؓ سے نکاح کرلیا اور باقی دو سے (ایک روایت کے مطابق) محض ملک یمین کی بناء پر تمتع فرماتے رہے۔ ( فائدہ) وفت کے وقت آنحضرت ﷺ کی نو بیویاں تھیں۔ عائشہ ؓ ، حفصہ ؓ ، سودہ ؓ ، ام سلمہ ؓ ، زینب ؓ ، ام حبیبہ ؓ ، جویرہ ؓ ، صفیہ ؓ اور میمونہ ؓ ۔ ان میں سے پچھلی تین قریشی نہیں۔ (موضح) ۔5 اس کے یہ معنی نہیں کہ جو لونڈیاں لڑائی میں گرفتار ہو کر نہ آئیں وہ آپ ﷺ کے لئے مباح نہیں ہیں بلکہ ” سراری “ کی تو آپ ﷺ کے لئے اور آپ ﷺ کی امت کے لئے عام اجازت ہے۔ ( قرطبی) ۔6 یہاں آپ ﷺ کے ساتھ ہجرت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کی طرح وہ بھی ہجرت کرچکی ہوں۔ ( قرطبی) یاد رہے کہ رشتوں کی حرمت کے بارے میں شریعت اسلامیہ نے اعتدال کی راہ اختیار کی ہے۔ عیسائیوں کے ہاں افراط ہے اور کسی ایسی عورت سے نکاح جائز نہیں جس سے سات پشتوں تک مرد کا نسب ملتا ہو اور یہود کے ہاں تفریط ہے اور سگی بھانجی اور بھتیجی سے بھی نکاح جائز سمجھتے ہیں۔ ( ابن کثیر) ۔7 یعنی یہ اجازت صرف آپ ﷺ کے ساتھ خاص ہے اور مسلمانوں کے لئے وہی حکم ہے :” ان تبتغوا باموالکم “ بن مہر نکاح نہیں۔ ( موضح) ۔8 یعنی عام مسلمانوں کو نکاح کے لئے جن شرائط کا پابند کیا گیا ہے ان کا پابند رہنا ضروری ہے اور وہ یہ کہ مہر ولی اور گواہوں کے بغیر نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔ نیز ایک وقت میں چار سے زیادہ عورتیں نکاح میں نہیں رکھ سکتے۔ یہ مسائل سورة نساء آیت 3، 4 نیز 24، 25 میں گزر چکے ہیں۔ ( ابن کثیر)
Ayah 33:51

تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَ تُئْوِیْۤ اِلَیْكَ مَنْ تَشَآءُ١ؕ وَ مَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكَ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُهُنَّ وَ لَا یَحْزَنَّ وَ یَرْضَیْنَ بِمَاۤ اٰتَیْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا Open ayah 33:51 in the Quran reader

(تجھے یہ بھی اختیا رہے) تو ان عورتوں میں9 سے جس کو چاہے پیچھے رکھ دے اس کی اپنی نال دے وہ جس کو چاہے اپنے پاس جگہ دے (گو اس کی باری نہ ہو) اور جن عورتوں کو تو پیچھے ڈال دے اگر ان میں سے پھر کسی کو اپنے پاس بلا لے تو تجھ پر کوئی گناہ نہیں یہ جو اختیار تجھ کو دیا گیا ہے اس سے زیاہ امید ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی اور ان کو رنج نہ ہوگا10 اور جو تو ان کو دے گا اس سے وہ سب راضی رہیں گی11 اور اللہ جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے اور اللہ تعالیٰ علم والا ہے تحمل والاف 12

ف 9 لیکن اس کے باوجود آنحضرت ﷺ اپنی بیویوں کے درمیان باری اور تقسیم میں مساوات قائم رکھتے۔ بعض نے اس سے خاص کردہ عورتیں مراد لی ہیں جو اپنے تئیں آپ ﷺ کو ہبہ کریں مگر جمہور علمائے تفسیر (رح) کے نزدیک یہ آیت آپ ﷺ کی دوسری ازواج ؓ کو بھی شامل ہے اور ان کو بھی جو اپنے تئیں ہبہ کریں۔ ان سب کے بارے میں اختیار دیا گیا ہے کہ انکے درمیان باری مقرر فرمائیں یا نہ فرمائیں۔ آپ ﷺ پر واجب نہیں ہے، ابن جریر ؓ نے اسی کو اختیار کرلیا ہے اور اس سے مختلف احادیث کے درمیان تطبیق بھی ہوجاتی ہے۔ ( ابن کثیر، شوکانی)10 کیونکہ یہ جان لیں گی کہ آپ ﷺ اپنی طرف سے ایسا نہیں کرتے بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس کا اختیار دیا ہے ( شوکانی)11 یعنی جب پر آپ ﷺ کوئی عنایت فرمائیں گے وہ شکر گزار ہوگی کیونکہ اسے معلوم ہوگا یہ مہربانی کسی وجوب کی بناء پر نہیں ہے بلکہ اپنی مرضی اور اختیار سے کر رہے ہیں۔ ( قرطبی)12 یعنی بیویوں سے بعض کی طرف تمارے دلی میلان کا اللہ تعالیٰ کو علم ہے اور چونکہ تمہیں اس پر اختیار نہیں ہے اس لئے اللہ تعالیٰ تحمل برتنے والا ہے۔ حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نان و نفقہ اور دیگر ظاہری امور میں اپنی سب بیویوں کے درمیان یکساں تقسیم قائم رکھتے اور چونکہ دل سب کی طرف یکساں مائل نہیں ہوسکتا اس لئے دعا فرماتے کہ اے اللہ جو میرے اختیار میں نہیں ہے اس پر مجھے ملامت نہ فرما۔ ( ابن کثیر)
Ayah 33:52

لَا یَحِلُّ لَكَ النِّسَآءُ مِنْۢ بَعْدُ وَ لَاۤ اَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ اِلَّا مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ رَّقِیْبًا۠ Open ayah 33:52 in the Quran reader

(اے پیغمبر) اب سے تجھ کو اور عورتیں درست نہیں اور نہ یہ ہوسکتا ہے کہ ان کے بدل دوسری بی بیاں کرلے گو ان کی صورت تجھ کو بھلی لگے1 البتہ لونڈیاں جن کا تو مالک ہو رکھ سکتا ہے2 اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر نگاہرکھتا ہے

ف 1 مفسرین کا بیان ہے کہ جب ” ازواج مطہرات “ نے دنیا کے مقابلے میں آخرت کو اختیار کرلیا کما مترفی آیۃ التخیر تو اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ بدلہ دیا کہ آنحضرت ﷺ کے لئے ان کے ماسوا اور عورتوں سے نکاح کرنا حرام فرما دیا اور یہ بھی منع کردیا کہ ان میں سے کسی ایک کو طلاق دے کر اس کی بجائے کسی دوسرے عورت سے نکاح کیا جائے۔ یہ آیت حضرت حفصہ ؓ کی طلاق کے واقعہ کے بعد نازل ہوئی ہے۔ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں : اس آیت میں نفس طلاق سے منع نہیں فرمایا، بلکہ ممانعت اس کی ہے کہ طلاق اس مقصد سے ہو کہ اس کی بجائے کسی دوسری عورت سے نکاح کیا جائے۔ (ابن کثیر) مگر یہ حرمت اوپر کی آیت ” انا حللنا لک الخ “ سے منسوخ ہوگئی اور آپ ﷺ کو دوسری عورتوں سے نکاح کی اجازت دے دی گئی۔ ( قرطبی) ابن جریر طبری نے اس آیت کی دوسری تفسیر اختیار کی ہے اور وہ یہ کہ آیت انا حللنا الخ میں جن عورتوں کی حلت مذکور ہوتی ہے ان کے علاوہ کسی اور عورت سے نکاح جائز نہیں ہے۔ یہ معنی اقرب معلوم ہوتے ہیں۔ ( ابن کثیر) ۔2 ان سے تمتع کی آپ ﷺ کو اجازت ہے۔ سراری میں سے آنحضرت ﷺ کے حرم میں دو لونڈیاں مشہور تھیں۔ ایک ماریہ قبطیہ ؓ اور دوسری ریحانہ ؓ ۔
Ayah 33:53

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُ١ۙ وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ١٘ وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ١ؕ وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ١ؕ ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَ قُلُوْبِهِنَّ١ؕ وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا Open ayah 33:53 in the Quran reader

مسلمانو جب تم کو کھانے کے لئے بلایا جائے تو پیغمبر کے گھروں میں بےاذن لئے مت گھر اجازت لے کر اندر جائو وہ بھی ایسے وقت میں کہ اس کے پکنے کا انتظار نہ کرنا پڑے بلکہ جب بلائے جائو اس وقت جائو پھر کھانا کھا چکتے ہی وہاں سے چل دو اور باتوں میں نہ لگ جائو کیونکہ ایسا کرنے سے پیغمبر کو تکلیف ہوتی ہے وہ تم سے شرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو تو سچ بات کہنے میں کوئی شرم نہیں3 اور جب پیغمبر کی بی بیوں سے کوئی سامان مانگو تو پردے کے باہر سے مانگو4 اس سے تمہارے دل اور ان کے دل شیطان کے وسوسوں سے خوب پاک رہیں گے اور تمہارے لئے یہ زیبا نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر کو تکلیف پہنچائو اور نہ یہ کہ اس کے پیچھے اس کی عورتوں سے کبھی نکاح کرو خدا تعالیٰ کے نزدیک یہ بڑا گناہ ہے5

ف 3 حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت زینب ؓ کے ولیمہ پر لوگوں کو دعوت دی۔ جب کھانا کھاچکے تو بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ آنحضرت ﷺ اٹھنے کے لیے تیار ہوئے مگر کچھ لوگ پھر بھی بیٹھے رہے۔ حتیٰ کہ آپ ﷺ اٹھ کر چلے گئے۔ آنحضرت ﷺ واپس تشریف لائے تو دیکھا کہ تین شخص ابھی تک بیٹھے باتوں میں مشغول ہیں۔ یہ دیکھ کر آپ ﷺ واپس تشریف لے گئے۔ آخر جب وہ لوگ چلے گئے تو میں نے آپ ﷺ کو اطلاع دی اور آپ ﷺ حضرت زینب ؓ کے ہاں تشریف لائے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ( شوکانی) ۔4 اس آیت کو آیت حجاب ( پردہ کی آیت) کہا جاتا ہے۔ یہ پردہ کا مسئلہ اس آیت میں دوسرا مسئلہ ہے۔ روایات صحیحہ میں ہے کہ آیت حجاب کا نزول بھی منجملہ ان باتوں کے ہے جن میں حضرت عمر ؓ نے اپنے رب کی موافقت پائی ہے۔ صحیحین میں مروی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے آنحضرت ﷺ سے عرض کی کہ۔۔۔۔ بہتر ہے کہ آپ ﷺ انہیں ازواج ﷺ کو) پردہ کا حکم فرمائیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور یہ ذوالقعدہ 5 ھ کو حضرت زینب ؓ کی شب زفاف کی صبح کو نازل ہوئی لہٰذا اصل سبب نزول حضرت زینب ؓ کا واقعہ ہے۔ حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ اس حکم کے نازل ہونے کے بعد آنحضرت کی ازواج ؓ کے گھر پر پردے لٹکا دیئے گئے۔ (ابن کثیر) مطلب یہ کہ حضرت کے ازواج کسی مرد کے سامنے نہ جاویں سب مسلمانوں کی عورتوں پر یہ حکم واجب نہیں اگر عورت کسی مرد کے سامنے ہو اور اس کا پورا جسم مستورہو تو گناہ نہیں، لیکن بہتریہ ہے کہ اس حالت میں بھی سامنے نہ ہو۔ ( موضح) ۔5 کیونکہ ودنیا و آخرت میں آنحضرت ﷺ کی بیویاں اور تمہاری مائیں ہیں جیسا کہ آغاز سورة میں گزر چکا ہے، مگر یہ حکم ان ازواج کا ہے جن کو آپ ﷺ نے طلاق دے کر الگ نہیں کیا تھا اور آپ ﷺ کی زندگی تک آپ ﷺ کے حرم میں رہیں۔ یہ آپ ﷺ کی وفات کے بعد بھی آپ ﷺ کی حرم ہیں جن سے نکاح حرام قرار دیا گیا ہے۔ (قرطبی) ۔
Ayah 33:54

اِنْ تُبْدُوْا شَیْئًا اَوْ تُخْفُوْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 33:54 in the Quran reader

اگر تم کسی چیز کو کھول کر کہو یا اول میں اس کو چھپائو تو اللہ تو ہر چیز کو جانتا ہے6

ف 6 اس آیت میں ان لوگوں کے لئے وعید ہے جن کی طرف آیت ” ذلکم اطھر لقلوبکم “ اور ” ماکان لکم ان تو ذوارسول اللہ “ میں ارشاد فرمایا ہے۔ یعنی اگر تم آنحضرت ﷺ یا آپ کی ازواج ؓ مطہرات کے متعلق دل میں کوئی بڑا خیال رکھو گے تو اللہ تعالیٰ سے چھپا نہ رہے گا اور تمہیں اس کی ضرور سزا ملے گی۔ ( فھذہ الایۃ منحطفۃ علی ما قبلھا) (قرطبی)
Ayah 33:55

لَا جُنَاحَ عَلَیْهِنَّ فِیْۤ اٰبَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَ لَا نِسَآئِهِنَّ وَ لَا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ١ۚ وَ اتَّقِیْنَ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا Open ayah 33:55 in the Quran reader

پیغمبر کی بی بیوں کو7 اپنے بایوں کے سامنے آنے میں ان سے پردہ نہ کرنے میں کوئی گناہ نہیں اور نہ اپنے بیٹوں کے اور نہ اپنے بھائیوں کے اور نہ اپنے بھتیجوں کے8 اور نہ اپنے بھائیوں کے اور نہ مسلمان عورتوں کے اور نہ اپنے غلام لونڈیوں کے سامنے جو نے میں کوئی گناہ ہے اور اے پیغمبر کی بی بیوں اللہ سے ڈرتی رہو بیشک ہر چیز اللہ تعالیٰ کے سامنے ہے وہ دیکھ رہا ہے

ف 7 اور ان کی اقتدا میں تمام مسلمان عورتوں کو۔8 ان کے حکم میں تمام وہ رشتہ دار آجاتے ہیں جو عورت کے محارم میں سے ہیں۔ تشریح کیلئے دیکھئے۔ ( سورة نور : 31) اس فہرست میں چچا اور ماموں کا ذکر اس لئے نہیں کیا گیا کہ وہ بمنزلہ والدین کے ہیں۔ (شوکانی) ۔ ہاں چچا و ماموں، خالہ اور پھوپھی سے پردہ ضروری ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنی کسی بیوی کے چچا زاد بھائی گو اسکے پاس آنے سے منع فرما دیا تھا۔ ) ابن جریر) ۔
Ayah 33:56

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓئِكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 33:56 in the Quran reader

اللہ پیغمبر پر اپنی رحمت اتارتا ہے اور فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں مسلمانو1 تم بھی پیغمبر پر درود بھیجو اور سلام بھیجو سلام2

ف 1 اللہ تعالیٰ کی طرف سے ” صلوٰۃ علی النبی ﷺ “ کے معنی آپ ﷺ پر اپنی رحمتوں کی بارش فرماتے آپ ﷺ کا نام بلند کرنے والا ملاء اعلیٰ میں مقربین کے سامنے آپ کی تعریف کرنے کے ہیں اور فرشتوں کی صلوٰۃ ان کی دعا اور استغفار ہے اور مومنوں کی صلاۃ اظہار تعظیم اور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کے دین کے بلند کرے اور آپ کو مقام محمود تک پہنچائے۔ ( ابن کثیر، قرطبی)2 متواتر صحیح احادیث میں بھی آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کو اپنے اوپر صلاۃ پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ احادیث میں ہے کہ صحابہ کرام نے عرض کیا۔” اے اللہ کے رسول ! ہم نے یہ تو جان لیا کہ آپ پر سلام کیسے بھیجیں۔ ( اشارہ ہے تشہد میں السلام علی النبی ورحمۃ اللہ و برکاتہٗ ) کی طرف اب آپ ﷺ فرمائیں کہ آپ پر صلوٰۃ کیسے پڑھا کریں۔ فرمایا تم یہ پڑھا کرو ( اللھم صلی علی محمد و علیٰ ال محمد کما صلیت علی ابراہیم) الخ واضح رہے کہ صلوٰۃ علی النبی کے الفاظ مختلف احادیث میں کم و پیش آئے ہیں اور کم سے کم الفاظ ﷺ منقول ہیں اور درود انہی الفاظ کے ساتھ پڑھنا چاہیے جو آنحضرت ﷺ یا صحابہ ؓ سے منقول ہوں۔ صحابہ کا کیف نصلی کہنا اور آنحضرت ﷺ کا قولو الخ فرمانا ہی اس کے ثبوت کے لئے کافی ہے۔ بعض ائمہ (رح) نے اس آیت اور حدیث سے نماز میں درود و کو واجب قرار دیا ہے جو بلحاظ دلیل اقرب ہے۔ نماز کے علاوہ درود شریف پڑھنے کی احادیث میں بہت فضلیت آئی ہے۔ حافظ ابن القیم (رح) اور دیگر ائمہ نے اس پر مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ اللہ سے رحمت مانگنی اپنے پیغمبر ﷺ پر اور ان کے ساتھ ان کے گھرانے پر بڑی قبولیت رکھتی ہے۔ ان پر ان کے لائق رحمت اترتی ہے اور دس رحمتیں اترتی ہیں مانگنے والے پر جتنا چاہے اتنا حاصل کرے۔ ( فائدہ) صلوٰۃ وسلام کے الفاظ آنحضرت ﷺ اور دوسرے انبیاء کے لئے شعار بن چکے ہیں لہٰذا کسی غیر نبی کو (علیہ السلام) یا (علیہ السلام) کہنا جائز نہیں ہے الا بالتبعیۃ اور امت مسلمہ کا اب تک قاعدہ رہا ہے کہ صحابہ کرام کے لئے ؓ اور بعد کے ائمہ و صلحا کے لئے ” (رح) “ وغیرہ الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ اور حدیث ” لقد تحجرت واسعا “ سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت کے لئے بھی دعائے رحمت جائز ہے۔ ( ابن کثیر شیوکانی)
Ayah 33:57

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 33:57 in the Quran reader

جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کوس اتتے ہیں ان پر اللہ تعالیٰ نے پٹھکار کی دنیا اور آخرت میں ان کے لئے ذلت کا عذاب تیار رکھا ہے3

ف 3 اللہ تعالیٰ کو ستانا کفر و شرک اور اس کی نافرمانی کرنا ہے اور رسول ﷺ کو ستانا یہ ہے کہ آپ ﷺ کو تکذیب و مخالفت کی جائے، ازواج ؓ و مطہرات پر طعن وتشنیع کیا جائے، صحابہ ؓ کے حق میں طعن کیا جائے۔ حدیث میں ہے :” من اذاھم فقد اذانی “ ( ابن کثیر)
Ayah 33:58

وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 33:58 in the Quran reader

اور جو لوگ مسلمان مرد اور مسلمان عورتوں کو ساتے ہیں بغیر کچھ کئے بےقصور تو انہوں نے اپنی گردن پر جھوٹ اور کھلم کھلے گناہ کا بوجھ لیاف 4

ف 4 جو عیب کسی شخص میں نہ ہو اسے اس کی طرف منسوب کرنا بہتان ہے ( کما درد فی الحدیث) اور حدیث میں ہے کہ کسی مسلمان کی عزت پر حملہ کرنا سب سے برا سود ہے۔ یہ وعید سب سے زیادہ گروہ رافضہ (شیعہ) پر صادق آتی ہے جو صحابہ کرام پر طعن کرتے اور ان سے جھوٹی باتیں منسوب کرتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف و ستائش کی ہے۔ ( ابن کثیر) ۔
Ayah 33:59

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:59 in the Quran reader

اے پیغمبر اپنی بی بیوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دے جب وہ رستہ میں نکلیں تو) اپنی چاروں کے گھونگٹ اپنے اوپر ڈال لیا کریں اس سے امید ہے کہ وہ پہچان لی جائیں گی اور ان کو کوئی نہ چھیڑے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے5

ف 5 یعنی راستہ والے سمجھ لیں کہ یہ شریف زادیاں ہیں۔ یہ جان کر کوئی انہیں چھیڑنے کی جرأت نہ کریگا۔ روایات میں ہے کہ مسلمان عورتیں رات کو ضروریات کے لئے کہیں باہر نکلتیں تو منافقین انہیں چھیڑنے کی جرأت کرتے۔ پھر جب ان سے پوچھا جاتات و کہتے ” ہم سمجھے تھے کہ لونڈیاں ہیں “ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ( شوکانی) چاروں کے گھونگھٹ اوپر سے ڈال لیا کریں یعنی سارا چہرہ چھپالیا کریں صرف ایک آنکھ رہنے دیں۔ ( ابن جریر، واحمدی)
Ayah 33:60

لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَةِ لَنُغْرِیَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَكَ فِیْهَاۤ اِلَّا قَلِیْلًا٤ۖۛۚ Open ayah 33:60 in the Quran reader

اگر یہ منافق اور جن کے دلوں میں کھوٹ ہے اور جھوٹی خبریں مدینے میں اڑانے6 والے (بدمعاش اپنی حرکتوں سے) باز نہ آئیں گے تو ہم تجھ کو اے پیغمبر ان کے پیچھے لگا دینگے پھر روہ مدینے میں تیرے پاس ٹھہرنے بھی نہ پائیں گے مگر چند روز7

ف 6 مراد منافیق یا یہود ہیں جو جھوٹی خبریں پھیلا کر مسلمانوں میں گھبراہٹ پیدا کرتے۔” کچھ بدنیت لوگ تھے مدینہ میں عورتوں کو چھیڑتے اور پاکدامن عورتوں کے متعلق طرح طرح کے افسانے گھڑ کر لوگوں میں پھیلاتے “۔7 یعنی آپ ﷺ کو انکے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دینگے۔ پھر ان میں بعض کو جلا وطن اور بعض کو قتل کر دینگے حتیٰ کہ مدینہ کی سرزمین سے ان کا صفایا ہوجائے۔
Ayahs 33:61–62

مَّلْعُوْنِیْنَ١ۛۚ اَیْنَمَا ثُقِفُوْۤا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا Open ayah 33:61 in the Quran reader

ہر طرف سے ان پر پھٹکار برسے گی جہاں ملیں گے پکڑ لئے جاویں گے اور مار کر ٹکڑے کردیئے جائیں

سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 33:62 in the Quran reader

جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان میں بھی خدا کی چال یہی رہی ہے اور خدا کی چال کو تو بدلتا ہوا نہ پائے گا1

ف 1 یعنی ہر زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی یہ سنت رہی ہے کہ اسلامی معاشرہ میں اوباش اور بد معاش قسم کے لوگوں کو پنپنے کا موقع نہیں دیا جاتا، بلکہ پہلے تو انہیں سنبھلنے اور اپنی روش بدلنے کے لئے تنبیہ کی جاتی ہے اور اگر وہ باز نہیں آتے تو ان کا طاقت کے ذریعے علاج کیا جاتا ہے۔ (ابن کثیر) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” اور توراۃ میں بھی یہ تقید ہے کہ مفسدوں کو اپنے بیچ سے باہر کردو “۔
Ayah 33:63

یَسْئَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا Open ayah 33:63 in the Quran reader

(اے پیغمبر) لوگ تجھ سے قیامت کو پوچھتے ہیں وہ کب ہوگی2 کہہ دے کہ قیامت کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے3 اور تجھے کیا معلوم شاید قیامت قریب ہو4

ف 2 مفسرین کہتے ہیں کہ یہ سوال کرنیوالے وہی منافق اور جھوٹی خبریں پھیلانے والے اور پیغمبر کو ایذا دینے والے لوگ تھے جب ان کو عذاب کی دھمکی دی گئی تو وہ بطور استہزاء اور تکذیب کے سوال کرنے لگے۔ ( قرطبی، شوکانی)3 یعنی اگر قیامت کا علم اللہ تعالیٰ نے مجھ سے مخفی رکھا ہے تو اس سے میری صداقت پر کچھ اثر نہیں پڑتا اور نہ نبی ہونے کی یہ شرط ہی ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے تعلیم کے بغیر غیب دان بھی ہو۔4 اس میں ان کے لیے وعید ہے کہ قیامت یقینا آئے گی اور اس کا وقت کچھ دور نہیں ہے۔ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی اٹھا کر فرمایا :” بعثت انا والساعۃ کھاتین “ کہ میری بعثت اور قیامت ان دو انگلیوں کے مثل ہے (قرطبی)
Ayahs 33:64–69

اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الْكٰفِرِیْنَ وَ اَعَدَّ لَهُمْ سَعِیْرًاۙ Open ayah 33:64 in the Quran reader

بیشک اللہ نے کافروں کو پھٹکار دیا ہے اور ان کے لئے جیسے دنیا میں ذات ہے ویسے ہی آخرت میں دہکتی ہوئی آگ تیار رکھی ہے

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ۚ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۚ Open ayah 33:65 in the Quran reader

وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے اور کوئی حمایتی اپنا نہ پائیں گے اور نہ مددگار

یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوْلَا Open ayah 33:66 in the Quran reader

جس دن ان کے منہ کباب کی طرح آگ میں پلٹائے جائیں یا اوندھے منہ آگ میں ڈالے جائیں اس وقت کہیں گیکاش ہم نے دنیا میں اللہ کا فرمانا سنا ہوتا اور رسول کا فرمانا مانا ہوتا

وَ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا Open ayah 33:67 in the Quran reader

اور وہاں کہیں گے مالک ہمارے ہم سے غلطی ہوئی ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کا کہنا مانا (ان کی تقلید کی) انہوں نے ہی ہم کو گمراہ کردیا

رَبَّنَاۤ اٰتِهِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَ الْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 33:68 in the Quran reader

مالک ہمارے ان سرداروں اور بڑوں کو دو عذاب دے اور ان پر بڑی پھٹکار کر

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا١ؕ وَ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِیْهًاؕ Open ayah 33:69 in the Quran reader

مسلمانو تم ان لوگوں کی طرح مت ہو جنہوں نے موسیٰ کو ستایا پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو اس (عیب) سے جو وہ کہتے تھے پاک کر دکھایا اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک موسیٰ عزت دارت ھا5

ف 5 اوپر بتایا کہ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دینے والے ملعون اور معذب ہونگے۔ اب یہاں مومنین کو تنبیہ کی وہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ ایسا رویہ اختیار نہ کریں جیسا رویہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے ساتھ اختیار کیا تھا۔ ” ستانے “ سے مراد زبان سے کوئی بد تمیزی کی بات کہنا بھی ہے اور ہاتھ سے تکلیف دینا بھی۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں میں کچھ مال غنیمت تقسیم فرمایا۔ ایک انصاری کہنے لگا ” یہ ایک ایسی تقسیم ہے جس میں خدا کی خوشنودی کا خیال نہیں رکھا گیا “۔ آنحضرت ﷺ کو جب اس کا علم ہوا تو آپ ﷺ کا چہرہ سرخ ہوگیا اور فرمایا :” موسیٰ ( علیہ السلام) پر اللہ کی رحمت ہو انہیں اس سے بھی زیادہ ستایا گیا مگر انہوں نے صبر کیا۔ “ ” ستانے “ سے مراد اس قسم کی تمام باتیں ہوسکتی ہیں ( ابن کثیر) حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو ستانے کے سلسلہ میں مختلف واقعات منقول ہیں۔ بخاری میں ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) بہت حیادار تھے اور اپنے بدن کو کبھی کھلا نہ رکھتے تھے۔ اس وجہ سے بعض لوگوں نے مشہور کردیا کہ ان کے بدن پر کوئی برص وغیرہ کا عیب ہے چناچہ اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طور پر ان کے بےعیب ہونے کو ظاہر کردیا۔ یعنی ایک دن ایسا ہو کہ وہ ایک پتھر پر اپنے کپڑے رکھ کر نہانے لگے غسل سے فارغ ہو کر کپڑے پہننے پتھر کی طرف چلے تو وہ پتھر کپڑوں سمیت بھاگنے لگا۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) بھی ” ثوبی حجر “ ( اور پتھر میرے کپڑے) کہتے ہوئے اس کے پیھے دوڑے حتیٰ کہ بنی اسرائیل کی ایک مجلس میں پہنچ گئے اور انہوں نے دیکھ لیا کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) میں کوئی جسمانی عیب نہیں ہے۔ ( کبیر)
Ayahs 33:70–71

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ Open ayah 33:70 in the Quran reader

مسلمانو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور سیدھی صحیح بات کہو

یُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 33:71 in the Quran reader

ایسا کرو گے تو اللہ تعالیٰ کام بنا دے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا6 اور جوئی کوئی اللہ اور اس کے رسول کے کہے پر چلے اس نے بڑی مراد پائی

ف 6 یعنی تقویٰ کی راہ اختیار کرنے سے تو تمہاری عملی زندگی درست ہوگی اور سیدھی بات کہنے سے گناہ معاف ہوں گے۔ ( کبیر) ۔
Ayah 33:72

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًاۙ Open ayah 33:72 in the Quran reader

ہم نے آسمان اور زمین اور پہاڑوں کو اپنی امانت دکھائی اور ان سے پوچھا کیا تم اس کو اٹھاتے ہو) انہوں نے اس کا اٹھانا قبول نہ کیا اور اس کے اٹھانے سے ڈر گئے اور آدمی نے صجھٹ) اس کو اٹھا لیا بیشک آدمی نے اپنے اوپر بڑا ظلم کیا نادانی کی2

ف 1 تمام مفسرین کے بقول اس جگہ امانت سے مراد اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے فرائض و احکام کا ہار ہے جن کے بجا لانے پر ثواب اور خلاف ورزی کرنے پر عذاب مترتب ہوتا ہے۔ بعض مفسرین نے جو اس یک اور مطالب بیان کئے ہیں وہ دراصل اسی کی تفصیلات ہیں۔ ( شوکانی) زمین و آسمان اور پہاڑوں کو بار امانت پیش کرنا لغوی اور حقیقی معنی کے اعتبار سے بھی ہوسکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس بار عظیم کی اہمیت ظاہر کرنے کے لئے محض تمثیلی انداز میں یہ بات فرمائی گئی ہو۔ واللہ علم۔2 جو اس نے اس بار عظیم کی ذمہ داری تو لے لی مگر اسے نبھایا نہیں۔ یہ بات نوع انسانی کے اکثر افراد کے لحاظ سے فرمائی گئی ہے جنہوں نے اپنی فطرت سلیمہ یا ذمہ داری قبول کرنے کے تقاضے پر عمل نہیں کیا۔ ( روح المعانی) شاہ صاحب (رح) نے ” ظلوماً جھولا “ کا ترجمہ بےترس نادان کیا ہے اور پھر لکھتے ہیں یعنی اپنی جان پر ترس نہ کھایا۔ امانت کیا ؟ پرائی چیزرکھنی اپنی خواہش کو روک کر، زمین و آسمان میں اپنی خواہش کچھ نہیں دیا ہے تو وہی ہے جس پر قائم ہیں۔ انسان میں خواہش اور ہے اور حکم خلاف اس کے اس پر پرائی چیز کو بر خلاف اپنے جی کے تھامنا بڑا زور چاہتا ہے۔ ( موضح)
Ayah 33:73

لِّیُعَذِّبَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ وَ یَتُوْبَ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 33:73 in the Quran reader

(ادٓمی نے یہ امانت) اس لئے اٹھائی کہ اللہ آدمیوں میں سے جو منفاق مرد اور منفاق عورتیں اور مشرک مرد اور مشرک عورتیں نکلیں ان کو عذاب اور مسلمان مرد اور عورتوں پر مہربانی کرے (یا ان کے قصور معاف کرے) اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان بخشنے والا مہربان ہے3

ف 3 یعنی انسان کے ظلموں کو بخشنے والا اور اس کی جہالت پر رحم کھانے والا ہے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں اس ( یعنی امانت کے قبول کرنے) کا انجام یہ کہ منکروں کو قصور پر پکڑنا اور ماننے والوں کا قصور معاف کرنا، اب بھی یہی حکم ہے۔ کسی کی امانت کوئی جان بوجھ کر ضائع کرے تو بدلہ ہے اور بےاختیار ضائع ہو تو بدلہ نہیں ہے۔ ( موضح) ۔