32. Surah As-Sajda

السجدةThe Prostration · 30 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 32:1–2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 32:2 in the Quran reader

یہ کتاب اس کی طرف سے اتری ہے جو سارے جہان کا مالک ہے اس میں کوئی شک نہیں7

ف 7 یہ کسی انسان کی تصنیف کردہ کتاب نہیں ہے اور نہ یہ جادو کہانت یا پھچلے لوگوں کے من گھڑت افسانے میں جیسا کہ کفار مکہ قرآن کے بارے میں اس قسم کی اٹکل پچو باتیں کہا کرتے تھے۔ (شوکانی)
Ayah 32:3

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 32:3 in the Quran reader

کیا کہتے ہیں اس نے قرآن جھوٹ بنا لیا8 ہرگز نہیں وہ سچ ہے تیرے مالک کی طرف سے (اس لئے اترا ہے) کہ تو ان لوگوں کو ڈرائے جن کے پاس جتھ سے پہلے کوئی ڈرانیوالا (پیغمبر) نہیں آیا9 تاکہ وہ راہ پائیں (انکو ہدایت ہو)

ف 8 یعنی محمد ﷺ کی صداقت و اہانت کو پوری طرح جاننے کے باوجود یہ لوگ ایسی صریح غلط اور لغوبات کہہ رہے ہیں۔9 مراد عرب یا قریش کے لوگ ہیں جن کی طرف خود ان میں سے نبی ﷺ سے پہلے کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ حضرت اسماعیل کی بعثت پر (جو نبی ﷺ سے پہلے ان کے آخری پیغمبر تھے) تقریباً ڈھائی ہزار سال گذر چکے تھے۔
Ayah 32:4

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍ١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 32:4 in the Quran reader

اللہ ہی وہی ہے جس نے آسمان اور زمین اور جو ان کے بیچ میں ہے چھ دن میں بنائے10 پھر عرش پر جا بیٹھا1 اس کے سوا نہ کوئی تمہارا سرپرست ہے نہ سفارشی2 کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے

ف 10 ” چھ دنوں “ سے مراد دنیا کے چھ دن نہیں بلکہ چھ ادوار ہیں یا آخرت کے چھ دن (دیکھیے سورة احراف آیت 74) 1 یعنی ساری مخلوق سے الگ عرش پر ہے۔ بہت سی احادیث اور آثار و اقوال سے بھی اللہ تعالیٰ کا عرش پر ہونا ثابت ہے۔ حافظ ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ سلف کا اس پر اجماع ہے۔ حافظ ابن قیم اغاثہ میں لکھتے ہیں کہ ارسطو سے پہلے تمام فلاسفہ حدوث عالم کے قائل تھے اور یہ کہ صانع عالم موجود اور تمام مخلوق سے الگ ہے اور اپنی ذات سے آسمانوں اور تمام جہاں کے اوپر ہے۔ الغرض سارے اہل شریعت اور عقلا اسی عقیدہ پر متفق چلے آتے ہیں، صرف معتزلہ نے اس صف کی نفی کی ہے، پھر متاخرین اشاعرہ ان کے تابع ہوئے۔ از حاشیہ جامع البیان ( نیز دیکھئے سورة بقرہ آیت 29، سورة اعراف آیت 54 و طہٰ آیت 5) ۔2 یعنی اگر وہ تمہیں عذاب دینا چاہے تو کوئی نہیں جو تمہاری مدد کرکے تمہیں اس سے چھڑاسکے یا خود اس کے اذن کے بغیر اس سے تمہاری سفارش کرسکے۔
Ayah 32:5

یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 32:5 in the Quran reader

وہ آسمان سے لے کر زمین تک سب کام چلاتا ہے3 پھر یہسب کام اس دن میں جو تمہارے حساب سے ہزاربرس کا ہوگا اللہ تعالیٰ تک چڑھ جائیں گے4

ف 3 یعنی آسمان سے زمین تک تمام کام اسی کے قف اور قدر سے چل رہے ہیں۔ وہ آسمان کے بلند ترین حصہ سے زمین کے پست ترین حصہ تک اپنا حصہ نازل کرتا ہے جیسے فرمایا (یتنزل الا مر بینھن) ( طلاق : 12) کہ اس کا حکم ان زمین و آسمان کے درمیان اترتا ہے بعض علماء کا خیال ہے کہ عرش محل تدبر ہے۔ یعنی وہاں ہر چیز کی تدبیر ہوتی ہے اور مادون العرش یعنی آسمانوں میں اس کی تفصیلات طے کی جاتی ہیں۔ ( دیکھئے سورة رعد آیت 2) اور پھر ان تفصیلات کو آسمانوں سے نیچے اتار کر ان کی تعریف کی جاتی ہے۔ جیسے فرمایا ( ولقد صر فناہ بینھم لیذکروا) (قرطبی) ۔4 مراد قیامت کا دن ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کے حضور تمام انسانوں کی پیشی ہوگی۔ سورة معارج ( آیت 4) میں قیامت کے دن کی مقدار پچاس ہزار برس فرمائی ہے جس کے معنی یا تو یہ ہیں کہ شدت خوف سے کفار کو قیامت کا دن پچاس ہزار برس کا معلوم ہوگا۔ یا یہ کہ قیامت کے دن میں پچاس مرحلے ہوں گے جن میں سے ہر مرحلہ ہزار برس کا ہوگا۔ ابن جریر اور بعض دوسرے مفسرین (رح) نے اس آیت کا مطلب یہ لیا ہے کہ فرشتہ بندوں کے اعمال لے کر ایک دن میں اللہ تعالیٰ کے حضور ( یعنی اس جگہ کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے اعمال کے لیے مقرر کی ہے) صعود کرتا ہے۔ آنے اور جانے میں جتنی مسافت وہ طے کرتا ہے اسے اگر کوئی غیر فرشتہ طے کرے تو ہزار برس صرف ہوجائیں ؟ کیونکہ آسمان سے زمین تک پانچ سو برس کی مسافت ہے یا یہ کہ اوپر چڑھنے کی مسافت بھی ایک ہزار سال ہے اور نیچے اترنے کی مسافت بھی اس کے برابر ہے اس صورت میں سورة معارج کی آیت سے قیامت کا دن مراد ہوگا اور اس آیت سے وہ متعارض نہیں رہے گی۔ بعض علماء نے تفسیر نے یہ بھی بیان کیا ہے اللہ تعالیٰ ایک دن کے اندر ایک ہزار سال کے امور کی تدبیر کر کے فرشتوں کو القا کردیتا ہے اور فرشتے اسے سر انجام دیتے رہتے ہیں پھر اس کے بعد دوسرے ہزار سال کی تدبیر اتر آتی ہے، اسی طرح یہ سلسلہ تا قیامت جاری رہے گا۔ ( قرطبی، شوکانی) موضح میں ہے بڑے بڑے کام کا حکم عرش سے مقرر ہو کر نیچے اترتا ہے۔ سب اسباب اس کے آسمان اور زمین سے جمع ہو کر بن جاتا ہے پھر ایک مدت جاری رہتا ہے پھر اٹھ جاتا ہے اللہ کی طرف دوسرا رنگ اترتا ہے جیسے بڑے بڑے پیغمبر جن کا اثر قرنوں تک رہا، بڑی قوم میں سرداری جو عمروں چلے وہ ہزار برس اللہ کے ہاں ایک دن ہے۔
Ayahs 32:6–11

ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 32:6 in the Quran reader

یہی تو وہ خدا ہے جو چھپی اور کھلی (سبباتیں) جانتا ہے زبردست رحم والا

الَّذِیْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍۚ Open ayah 32:7 in the Quran reader

جس نے ہر چیز کو بہت خوبصورتی سے بنایا اور آدمی کی پیدائش گارے کیچڑ) سے شروع کی

ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۚ Open ayah 32:8 in the Quran reader

پھر اسکی نسل نچڑے بےحقیقت پانی سے قائم رکھی پھر

ثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 32:9 in the Quran reader

اس کو ٹھیک کیا پتلہ بنایا سب اعضا درست کئے اور ہمیں اپنی طرف سے جان پھونکی اور تم کو سننے کے لئے کان دے اور دیکھنے کے لئے آنکھیں اور سمجھنے کیلئے دل مگر اس پر بھی تم بہت کم شکر کرتے ہو

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 32:10 in the Quran reader

اور یہ کافر کہتے ہیں جب ہم زمین میں و خاک ہو کر غائب ہوجائیں گے تو کیا پھر ہم نئے سرے سے پیدا ہونگے بات یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے مالک سے ملنے کو نہیں مانتے

قُلْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 32:11 in the Quran reader

اے پیغمبر کہہ دے تمہارا دن تو خاک میں رہتا ہے مگر تمہاری جان موت کا وہ فرشتہ سمیٹ لیتا ہے جو تم پر تعینات ہے پھر تم کو اپنے مالک کے پاس جاتا ہے6

ف 5 یعنی تم اپنے آپ کو محض بدن اور دھڑ سمجھتے ہو کہ خاک میں رل مل کر برابر ہوگئے، ایسا نہیں بلکہ تم جان ہو جسے فرشتے لے جاتا ہے بالکل فنا نہیں ہوجاتے۔ (موضح) ۔ موت کے فرشتہ کا نام بعض آثار میں ” عزرائیل “ آیا ہے اور یہی مشہور ہے۔ حدیث میں ہے کہ ” ملک الموت “ کے بہت سے نائب اور مددگار ہیں جو تمام جسموں سے روحیڈ نکالتے ہیں اور جب وہ گلے تک پہنچتی ہیں تو موت کا فرشتہ انہیں لے لیتا ہے۔ ( ابن کثیر)6 تاکہ تمہارے اعمال کا جائزہ لیا جائے پھر اگر وہ اچھے ہوں تو تمہیں جزا دی جائے اور اگر برے ہوں تو سزا دی جائے
Ayah 32:12

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:12 in the Quran reader

اور اپنے پیغمبر کاش تو وہ سماں دیکھے تو وہ سماں دیکھے جب یہ گناہ گار اپنے مالک کے سامنے سر جھکائے (کھڑے ہوض ہوں گے اور کہہ رہے ہونگے بلکہ ہمارے اب ہم نے دیکھا اور سنا دی ہماری آنکھیں کھلیں تو ایک ابر اور ہم کو دنیا میں ثواب سے ہم اب کے اچھے کام کرینگے اور اب ہم کو آخرت کا پورا یقین ہوا

ف 7 مگر اس سوقت یقین ہوجانے کا کیا فائدہ ؟ جو وقت یقین کے فائدہ دینے کا تھا ( یعنی دنیا میں) وہ تو انہوں نے گنوا دیا۔
Ayah 32:13

وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 32:13 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت کرتے مگر روز ازل جو قول ہم نے فرمایا تھا وہ ضرور پورا ہوگا میں دوزخ کو جنوں اور آدمیوں سے بھر دوں گا1 پھر ان سے کہا جائے گا جیسیدنیا میں تم اس دن کے آنے کو بھول گئے تھے2

ف 1 یعنی یہ کیا بات ہوئی کہ اب تم حقیقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ایمان لے آئو اور ہم تمہاری سزا موقوف کردیں یا تمہیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیں، اس طرح کی جبری ہدایت تو تمہیں پہلے ہی دے سکتے تھے مگر اس سے قیامت یک دن کی جزا سزا بےنتیجہ ہو کر رہ جاتی اور امتحان کا مقصد ہی فوت ہوجاتا۔ اب تو ضروری ہے کہ میرا وہ قول پورا جو میں نے تخلیق آدم کے وقت ابلیس کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا یعنی ( فالحق والحق اقول لا ملان جھنم منک وممن تبعک منعم اجمعین) (ھی : 85) پس حق یہ ہے کہ میں حق بات ہی کہتا ہوں کہ میں جہنم کو تجھ سے اور تیری پیروی کرنے والوں سب سے بھروں گا ( قرطبی، ابن کثیر)2 یعنی دنیا کے عیش و آرام میں پھنس کر اس دن کے آنے کا خیال تک تمہار ذہنوں میں نہ آتا تھا۔
Ayahs 32:14–15

فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ۚ اِنَّا نَسِیْنٰكُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:14 in the Quran reader

اب عذا کا مزہ چکھو ہم بھی تم کو چھوڑ بھیٹیں گے عذاب میں پڑارہنا دینگے اور جیسے برے کام تم دنیا کرتے تھے اس کے بدلے ہمیشہ کی تکلیف اٹھائو

اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩ Open ayah 32:15 in the Quran reader

ہماری آیتوں پر تو وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب انکو وہ آیتیں سمجھائی جاتی ہیں یا یاد دلائی جاتی ہیں3 تو سجدے میں گرپڑتے ہیں اور اپنے مالک کی تعریف کے ساتھ خوبی بیان کرتے ہیں اور غرور نہیں کرتے4

ف 3 یعنی انہیں سنا کر نصیحت کی جاتی ہے۔4 یعنی خوف و خشیت اور خشوع و خضوع سے سجدہ میں گرپڑتے ہیں۔ زبان سے ( سبحان اللہ وبحمدہ یا سبحان ربی الا علی) کہتے ہیں اور دل میں کبر و غرور اور بڑائی کی بات نہیں رکھتے کہ نصیحت قبول کرنے سے مانع ہو۔ اس مقام پر پڑھنے والے اور سننے والے دونوں کے لیے سجدہ کرنا مسنون ہے۔ ( قرطبی) ۔
Ayah 32:16

تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١٘ وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 32:16 in the Quran reader

(رات کو) ان کی کروٹیں بچھونوں سے الگ رہتی ہے5 اپنے ملک کو اس کے عذاب سے ڈر کر اور اس کی رحمت کی امید رکھ کر پکارتے ہیں اور ہمارا دیا کچھ خرچ کرتے ہیں

ف 5 یعنی رات کو بیدار ہو کر یا رہ کر وہ اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں۔ جمہور مفسرین (رح) نے اس سے رات کا قیام مراد لیا ہے اور علمائے تفسیر (رح) نے اس سے نماز عشاء اور تہجد بھی مراد لی ہے۔ حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ یہ آیت نماز عشاء کے بارے میں نازل ہوئی اور ہم عشاء کی نماز سے پہلے لیٹنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ میں نے آنحضرت ﷺ کو کبھی عشاء سے پہلے لیٹے اور عشاء کے بعد باتیں کرتے نہیں دیکھا اور ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے آدھی رات کے قیام کو خیر کا دروازہ قرار دیا ہے۔ ( ابن کثیر، شوکانی) ۔
Ayah 32:17

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:17 in the Quran reader

تو کسی کو معلوم نہیں کہ ان کے اچھے کاموں کے بدلے جو آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لیے چھپا کر آخرت میں رکھی گئی6

ف 6 آنکھوں کی ٹھنڈک سے مراد وہ نعمتیں ہیں جنہیں پا کر وہ بےحد خوش ہوں گے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے متعدد اسانید کے ساتھ صحیحین اور سنن کی کتابوں میں مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا :” اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ کچھ فراہم کر رکھا ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال تک گزرا۔ اس مضمون کی احادیث دوسرے متعدد صحابہ ؓ سے بھی مروی ہے۔ ( شوکانی) ۔
Ayah 32:18

اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا١ؔؕ لَا یَسْتَوٗنَؐ Open ayah 32:18 in the Quran reader

تو کسی کو ایمان دار گناہگار کی طرح ہوجائے (یہ دونو) برابر نہیں ہوسکتے7

ف 7 یعنی قیامت کے روز دونوں کا انجام یکساں نہیں ہوسکتا۔ ( نیز دیکھئے حاشیہ 21، حشر : 20) اور یہ آخرت کے ثواب و عقاب کی نہایت عمدہ دلیل ہے کیونکہ اگر اس دنیا کے بعد کوئی دوسری زندگی نہ ہو تو نیک اور بد سب یکساں ہوجائیں اور نیک و بد کا یکساں ہوجانا پروردگار عالم کی شان کے بالکل خلاف ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ یہ آیت حضرت علی ؓ اور ولید بن عتبہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے (قرطبی)
Ayah 32:19

اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى١٘ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:19 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کئے ان کو آخرت میں رہنے کے باغ میں گے یہ مہمان داری ان کے اچھے کاموں کے بدلے ہوگی8

ف 8 یعنی اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ان کے اچھے کام آخرت میں اس مہمانی کا سبب بن جائیں گے۔
Ayah 32:20

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِیْدُوْا فِیْهَا وَ قِیْلَ لَهُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 32:20 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے نافرمانی کی گناہگار رہے ان کا ٹشھکانا دوزخ ہے ہر بار جب وہاں سے نکل جانا چاہیں گے پھر اسی میں ڈال دیئے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ دوزخ کے عذاب کا مزہ چکھو جس کو تم (دنیا میں) جھٹلاتے تھے۔9

ف 9 دوزخ سے نکلنا ممکن نہ ہوگا، شاید کبھی آگ کے شعبے دوزخیوں کو اوپر اٹھائیں یادروازہ کی طرف پھینکیں تو ان کے دل میں نکلنے کا خیال پیدا ہو لیکن فرشتے انہیں پھر اندر دھکیل دیں گے کہ جاتے کدھر ہو، جس چیز کو جھٹلایا کرتے تھے، اس کا مزا چکھو۔
Ayah 32:21

وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 32:21 in the Quran reader

وہم ان فاسقوں کو بڑے فلاپ آخرت کے (عذاب) سے ادھر ہی ایک چھوٹے عذاب کا مزہ چکھائیں گے تاکہ یہ اپنے گناہوں میں سے پھریں1

ف 1” اور توبہ کریں “۔ چھوٹے عذاب سے مراد دنیا کا عذاب ( قتل و غارت) ، قید و ہند، قحط اور دوسرے مصائب و آلام بھی ہوسکتا ہے اور وہ عذاب بھی جو کافروں اور نافرمانوں کو قبر ( یعنی بزرخی زندگی) میں دیا جائے۔ مگر یہ آخری جملہ عذاب قبر مراد لینے کی تصنیف کر رہا ہے (شوکانی) ہاں قبر کے عذاب کا ثبوت بعض دوسری آیتوں سے ملتا ہے۔ دیکھئے سورة غافر آیت 46، سورة انعام آیت 93، 94 اور صحیح احادیث میں تو اسے پوری صراحت و تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
Ayah 32:22

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا١ؕ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۠ Open ayah 32:22 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جس کو اس کے مالک کی آیتیں سنائی جائیں پھر وہ ان پر خیال نہ کرے بیشک ہم گناہگاروں سے (اپنی نافرمانی کا) بدلہ لیں گے2

ف 2 یعنی عام مجرموں سے بھی بدلہ لیں گے تو اللہ تعالیٰ کی آیات سے اعراض کرنے والا اس میں بالا ولی داخل ہے۔ ابن جریر (رح) اور طربانی (رح) وغیرہ نے حضرت معاذ بن جبل سے یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، تین کاموں کا کرنے والا مجرم ( گناہ گار) ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم مجرموں سے بدلہ لیں گے۔ ایک وہ جو ناحق اپنی سرداری اور حکمرانی کا جھنڈا اٹھائے۔ دوسرا وہ جو اپنے ماں باپ کی نافرمانی کرے اور تیسرا وہ جو ظالم کے ساتھ ہو کر اس کی مدد کرے۔ ( ابن کثیر)
Ayah 32:23

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآئِهٖ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 32:23 in the Quran reader

اور ہم موسیٰ کو کتاب (توریت شریف) دے چکے ہیں تو (اے پیمبر) تو اس کے لئے ملنے میں شک نہ کر2 اور ہمنے توریت کو بنی اسرائیل کے لئے ہدایت کیا4

ف 3” اس کے طعنے میں شک نہ کرے “ کے مفسرین (رح) نے کئی مطالب بیان کئے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ ﷺ موسیٰ ( علیہ السلام) سے ملاقات ہونے میں شک نہ کریں۔ چناچہ معراج کے موقع پر آسمان پر بھی اور بیت المقدس میں بھی نبی ﷺ کی ان سے ملاقات ہوئی اور قیامت کے روز بھی ہوگی۔ تیسرایہ کہ جس طرح موسیٰ ( علیہ السلام) کو کتاب ملنے میں شک نہ کریں۔ تیسرایہ کہ جس طرح موسیٰ ( علیہ السلام) کو کتاب ( توراۃ) دی گئی اسی طرح آپ ﷺ کو یہ کتاب ( قرآن) دی گئی ہے اس کے ہماری طرف سے ہونے میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے وغیرہ ( شوکانی)4” وجعلناہ “ میں ” ہ “ کی ضمیر کتاب کے لیے ہے۔ پہلے اسی مضمون کی آیت سورة اسراء میں گزر چکی ہے ( دیکھئے آیت 21) ۔
Ayah 32:24

وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا١ؕ۫ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:24 in the Quran reader

اور جب بنی اسرائیل کے لوگوں نے کافروں کی ایذا ہی پر صبر کیا تو ہم نے ان کو دین کا پیوشا بنایا اور وہ ہمارے حکم سے لوگوں کو ایمان کا رستہ بتلاتے تھے اور ہماری آیتوں کا یقین رمکھتے تھے

ف 5 یہ اس وقت کی بات ہے جب بنی اسرائیل نے کتاب الٰہی پر عمل کیا اور کافروں کی ایذا رسانی پر صبر کرتے رہے لیکن بعد میں جب انہوں نے تحریف کا راستہ اختیار کیا اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی من مانی تاویلیں کرنے لگے تو ان سے پیشوائی کا یہ پیغام چھین لیا گیا اور ان پر ذلت و رسوائی مسلط کردی گئی۔ (کما سبق مرادا) ۔ (ابن کثیر)
Ayah 32:25

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 32:25 in the Quran reader

بیشک تیرا مالک قیامت کے دن ان باتوں کا فیصلہ کر دیگا جن میں دنیا میں جھگڑے رہے6

ف 6 وہاں معلوم ہوجائے گا کہ کون ہدایت پر تھا اور کون اسرائیل بھی ہوسکتے ہیں جنہوں نے انبیاء ( علیہ السلام) اور ان کے معاصر اقوام اور مسلمان اور کافر بھی مراد ہوسکتے ہیں۔
Ayah 32:26

اَوَ لَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ١ؕ اَفَلَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 32:26 in the Quran reader

کیا ان مکہ کے کافروں پر اب تک یہ نہیں کھلا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قومیں تباہ کردیں یہ لوگ ابھی تک ان مکانوں میں جایا کرتے ہیں7 بیشک اس میں اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں کیا ان لوگوں کو کا نہیں (نصیحت کی بات نہیں سنتے )

ف 7 یعنی اپنے سفروں میں آتے جاتے ان کی اجڑی ہوئی بستیاں اور ان میں پائے جانے والے عذاب دیکھتے ہو مگر ان سے کوئی عبرت حاصل نہیں کرتے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ’ یمشون “ میں ھم کی ضمیر ہلاک ہونے والوں کے لیے ہو یعنی ان کو ہلاک کیا اس حال میں کہ وہ اپنے گھروں میں چل پھر رہے تھے۔ ( شوکانی) ۔
Ayahs 32:27–28

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْ١ؕ اَفَلَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 32:27 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نی اس پر بھی نظر نہیں کہ ہم پانی کے ابر) کو اجاڑ چٹیل زمین کی طرف ہانک لے جاتے ہیں پھر اس میں سے کھیتی نکالتے ہیں جس میں سے ان کے جانور اور وہ خود بھی کھاتے ہیں کیا ان لوگوں کو آنکھ نہیں اللہ کی قدرت نہیں دیکھتے )

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 32:28 in the Quran reader

اور کہتے ہیں بھلا یہ فیصلہ کا دن کب ہوگا اگر تم سچے ہو8

ف 8 یعنی یہ جو کہتے ہو کہ ایک دن آئے گا جب اللہ ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گا، تو بتاو یہ فیصلہ کا دن کب آئے گا ؟ یہ بات کافر مسلمانوں سے کہا کرتے۔ فیصلہ کے دن سے مراد قیامت کا دن ہے۔ (شوکانی)
Ayah 32:29

قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِیْمَانُهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 32:29 in the Quran reader

اے پیغمبر کہہ دے فیصلہ کے دن کا وعدہ نہیں ایمان لانا انکو فائدہ نہ دیگا اور نہ ان کو مہلت ملے گی (یعنی قیامت کے دن)9

ف 9 یعنی جب وہ دن آئے گا اس وقت اگر تم اسے آنکھوں دیکھی حقیقت پاکر ایمان لے آئو تو تمہارا ایمان معتبر نہ ہوگا اور نہ تمہیں ایمان لانے کے لیے کوئی مہلت دی جائے گی۔
Ayah 32:30

فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ انْتَظِرْ اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ۠ Open ayah 32:30 in the Quran reader

تو اے پیغمبر ان کافروں کا کچھ خیال نہ کر ان کی باتوں کی پرواہ نہ کر دیکھتا رہ (اللہ کی مدد کا منتظر) وہ بھی راہ دیکھ رہے ہیں۔