31. Surah Luqman

لقمانLuqman · 34 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 31:1–3

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 31:2 in the Quran reader

یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں

هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 31:3 in the Quran reader

اس میں نیکوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے13

ف 13 یعنی یہ کتاب اگرچہ فی نفسہ ہایت و رحمت ہے لیکن اس سے فائدہ ہی لوگ اٹھاتے ہیں جو نیک ہیں ” نیکوں “ کے لئے اصل میں لفظ ” محسنین “ استعمال ہوا ہے جس کا لفظی ترجمہ ہے ” احسان کرنے والے “ اور نہایت خلوص اور حضور قلب سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کو احسان کہا جاتا ہے۔ روایات آثار میں ” احسان “ کی ترغیب آئی ہے۔
Ayahs 31:4–6

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 31:4 in the Quran reader

جو نماز کو دوستی سے ادا کرتے اور زکوۃ دیتے ہیں اور آخرت کا وہ یقین رکھتے ہیں

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 31:5 in the Quran reader

یہی لوگ اپنے مالک کی سیدھی راہ پر ہیں اور یہی مراد پائیں گی

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۖۗ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 31:6 in the Quran reader

اور لوگوں میں کچھ ایسے ھی ہیں جو واہی لغو بیکار خدا کو بھلان یوالی باتیں مول لیتے ہیں اس لئے کہ بن سمجھے بوجھے اللہ تعالیٰ کی راہ سے لوگوں کو بہکا دیں اور اللہ کی راہ کو ہنسی ٹھٹھا بنائیں ان لوگوں کو قیامت کے دن تکلیف کا عذاب ہوگا1

ف 1 حسن بصری فرماتے ہیں لھو الحدیث (واہی باتوں) سے مراد وہ تمام فضول اور بےہودہ باتیں ہیں جو آدمی کو اپنے میں مشغول کر کے نیکی اور بھلائی کے راستہ سے روک دیں جیسے جھوٹے افسانے ناول قصے کہانیاں ہنسی مذاق گانا بجانا اور اسی طرح کی دوسری چیزیں فالاضافۃ بمعنی من البیانیۃ او التبعیضیۃ بنائو علی مذھب اب کیسان بمعنی الام علی مذھب اکثر الماخرین وھو الاصح (کذافی لووح) اکثر صحابہ وتابعین نے اس کی تفسیر خاص طور پر ” گانا بجانا “ سے کی ہے۔ (قرطبی) حضرت عبداللہ بن معسود سے پوچھا گیا کہ اس آیت میں ” لہو الحدیث “ سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے تین مرتبہ زور دے کر فرمایا :” الغنآء واللہ الذی لا الہ الا ھو “ اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں اس سے مراد گانا ہے۔ امام حسن بصری فرماتے ہیں کہ یہ آیت گانے اور اس کے سازوں کی مذمت میں نازل ہوئی ہے۔ (ابن کثیر) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی جو عجمیوں (یارانیوں) کے قصے کہانیاں خرید کر لایا تھا (شوکانی) واحدی نے کلبی اور مجاہد سے بھی اس آیت کی شان نزول یہی نقل کی ہے حضرت ابن عباس سے ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ نضربن حارث نے گانے بجانے والی دو لونڈیاں بھی خرید کر رکھی تھیں جس کو دیکھتا کہ وہ اسلام کی طرف مائل ہو رہا ہے اس پر اپنی کوئی لونڈی مسلط کردیتا۔ وہ اسے اپنے گانے بجانے سے خوب مست رکھتی اور پھر وہ اس شخص سے کہتا کہ جس نماز روزہ کی طرف محمد (ﷺ) دعوت دیتے ہیں وہ بہتر ہے یا یہ گانا بجانا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ علما نے لکھا ہے، ہوسکتا ہے کہ ان سب کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ہو قال الالوسی وارمحسن تفسیرہ بمایعم ذالک او حضرت ابن عباس کی روایت سے اس کی تائید ہوتی ہے جو کہ الادب المفرد بخاری اور سنن بہیقی میں ہے۔ وہ فرماتے ہیں ” ھو العاء واشباھہ یعنی ” لھو الحدیث سے موسیقی اور اس قسم کی دوسری چیزیں مراد ہیں اور یہاں اشترا خریدنے سے مراد قرآن کی بجائے اس سے لذت و سرور حاصل کرنا ہے۔ الغرض متعدد آثار و اقوال سلف میں گانے کی مذمت مذکور ہے۔ ایک حدیث میں آنحضرت نے گانے گانے والے اور اس کے سننے والے پر لعنت فرمائی ہے اور آپ نے فرمایا ہے گانا انسان کے دل میں اس طرح نفاق پیدا کرتا ہے جیسے پانی سے گھاس پات اگتا ہے۔ ” تاتار خانیہ “ میں مذکور ہے کہ ’ دگانا تمام مذاہب میں حرام ہے۔ “ امام مالک سے سماع کے متعلق سوال ہوا تو انہوں نے فرمایا : یہ تو ہمارے دور کے فاسق وفاجر لوگوں کا کام ہے اور ابن الصلاح نے تو مسماع کی حرمت پر اجماع نقل کیا ہے خصوصاً وہ سماع جو فی زمائنا صوفیہ کرام نے ایجاد کر رکھا ہے اور اسے اذکار و عبادات میں داخل کرلیا ہے۔ اس کے حرام ہونے کے میں کچھ بھی شک و شبہ نہیں ہے۔ سلف ہمیشہ ان باتوں سے دور رہے ہیں۔ (تفصیل کے لئے دیکھیے روحی المعانی) دور میں جس چیز کو ہم نے فنون لطیفہ کے نام سے اسلامی تمدن کا جز قرار دے رکھا ہے اسی کے متعلق قرآن نے ’ دضلالت عن سبیل اللہ ہونے کا اعلان کیا تھا فوا اسفا علی مافرطنا 12
Ayahs 31:7–10

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِیْۤ اُذُنَیْهِ وَقْرًا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 31:7 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں میں سے کسی کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو وہ اکڑتا ہوا پیٹھ موڑ کر چل دیتا ہے گویا اس نے ان کو سنا ہی نہیں گویا اس کے دونوں کا نوں میں بوجھ ہے بہرا پن تو (اے پیغمبر) ایسے شخص کو قیامت کے دن تکلیف کے عذاب کی خوشخبری سن ا

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِۙ Open ayah 31:8 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لانے اور اچھے کام کئے ان کے لئے بڑے لطف کے مزے کے باغ ہیں

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 31:9 in the Quran reader

وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے چین اڑائیں گے یہ اللہ تعالیٰ کا پکا وعدہ ہے اور وہ زبردست ہے حکمت والا

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١ؕ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 31:10 in the Quran reader

اسی اللہ نے آسمانوں کو بنایا جیسے تم دیکھتے ہو بن ستون کے (ان کو کھڑا کیا2 اور اسی نے زمین میں بھاری بھرکم پہاڑ رکھے ایسا نہ ہو وہ چلنے میں ادھر ادھر جھکے ہچکولے کھائے اور ہر قسم کے جانور اس میں پھیلائے اور ہم نے آسمان سے پانی برسایا پھ راس پانی سے زمین میں ہر قسم کی عمدہ چیزیں اگائیں

ف 2 یہ ترجمہ اس صورت میں ہے جب ” ترونھا من ” ھا “ کی ضمیر آسمانوں کے لئے قرار دی جائے اور اگر یہ ستونوں کے لئے سمجھی جائے تو ترجمہ یوں ہوگا۔” اور اس نے آسمانوں کو ایسے ستونوں کے بغیر بنایا جنہیں تم دیکھ سکتے ہو۔ “ گویا آسمانوں کے ستون ہیں مگر وہ تمہیں نظر نہیں آتے واللہ اعلم (نیز دیکھیے سورة رعد آیت 2)
Ayah 31:11

هٰذَا خَلْقُ اللّٰهِ فَاَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 31:11 in the Quran reader

اے پیغمبر ان کافروں سے کہہ اللہ تعالیٰ کی تو پیدا کی ہوئی یہ چیزیں ہیں اب اس کے سوا دوسرے لوگوں نے کیا پیدا کیا ہے مجھ کو دکھلائو3 بات یہ ہے کہ یہ ظالم (کافر) کھلی گمراہی میں ہیں

ف 3 یعنی ان لوگوں نے جنہیں تم اپنا معبود بنائے بیٹھے ہو اور انہیں اپنی قسمت کا مالک سمجھتے ہو
Ayah 31:12

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّشْكُرْ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 31:12 in the Quran reader

اور ہم (تجھ سے پہلے) لقمان کو حکمت دے چکے ہیں4 اور (ہم نے اس سے فرمایا) اللہ کا شکر کر1 اور جو کوئی شکر کرے گا وہ اپنے ہی بھلے کے لئے شکر کریگا اس کو اللہ اور زیادہ نعمتیں دیگا اور جو کوئی ناشکری کرے تو اللہ بےپرواہ ہے خوبیوں والاف 2

ف 4 حضرت لقمان کے بارے میں کرمہ کے سوا باقی تمام مفسرین کا خیال ہے کہ وہ نبی نہ تھے بلکہ ایک نیک و دانا شخص تھے جو سوڈانی (حبشی) نسل سے تھے۔ ایک مرفوع روایت میں بھی ان کے حبشی ہونے کا ذکر ہے مقاتل نے کہا ہے کہ وہ حضرت ایوب کے بھانجے تھے ایک ہزار سال کی عمر پائی حضرت دائود کے زمانہ میں یہ بنی اسرائیل کے قاضی تھے لیکن ان کے بعد عہدہ قضا سے الگ ہوگئے (ابن کثیر) اکثر مفسرین کا خیال ہے کہ وہ آزاد نہیں بلکہ غلام تھے۔ (روح المعانی) ہی ﷺ کی بعثت سے پیشتر بھی ان کی حکمت اور دانئیا کے واقعات عرب میں مشہور تھے اور جاہلی شعرا کو ادبا اپنے کلام میں ان کا ذکر کرتے تھے جیسا کہ ابن ہشام نے اپنی سیرت میں نقل کیا ہے۔ (دیکھیے ج 71 ص 247) 1 یہ فرمانا بذریعہ الہام تھا یا خود حکمت دیئے جانے کا لازمی نتیجہ تھا۔2 وہ بذات خود محمود ہے اس کو نہ کسی کے شکر کی پرواہ ہے ورنہ کسی کی ناشکری کی۔
Ayah 31:13

وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ یَعِظُهٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ١ؔؕ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ Open ayah 31:13 in the Quran reader

اور اے پیغمبر وہ وقت یاد کی جب لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا بیٹا اللہ کا شریک کسی کو مت بنانا کیوں کہ مر کر بڑا (سخت) گناہ ہے3

ف 3 ظلم کے اصل معنی بےانصافی یعنی کسی کا حق مارنا ہیں۔ شرک اس لئے ظلم ہے کہ اس میں آدمی اپنے اصل مالک کے حقوق و اختیارات دوسروں کو دیتا اور انہیں اس مقابلے میں لاکھڑا کرتا ہے۔
Ayah 31:14

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ١ۚ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَ١ؕ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ Open ayah 31:14 in the Quran reader

اور ہم نے آدمی کو اپنے ماں باپ کے لئے اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا4 ماں نے تو اس کو تھک تھک کر اپنے لیٹ میں) اٹھایا اور دو برس میں کہیں اس کا دودھ چھوٹا5 ہم نے آدمی کو یہ حکم دیا کہ میرا شکر کرتا رہ اور اپنے ماں باپ کا اور آخر تجھ کو مرے بعد میرے پاس لوٹ کر آن اہ ی

ف 4 اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کے ساتھ والدین کی شکر گزاری کا حکم دینا ان کے حق کے بڑا ہونے کی دلیل ہے۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں :” یہ کلام بیچ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ لقمان نے بیٹے کو ماں باپ کا حق نہ کہا تھا کہ اپنی غرض معلوم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شرک سے پیچھے اور نصیحتوں سے پہلے ماں باپ کا حق نہ کہا تھا کہ اپنی فرض معلوم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شرک سے پیچھے اور نصیحتوں سے پہلے ماں باپ کا حق فرما دیا کہ اللہ کے حق کے بعد ماں باپ کا حق ہے اور رسول اور مشرد کا حق اللہ ہی کی طرف سے ہے کہ اس کے نائب ہیں۔ (نیز دیکھیے سورة اسرائیل آیت 24 ۔ 23 و عنکبوت آیت 8)5 اس لئے معلوم ہوا کہ بچے کی مدت رضاعت دو سال ہے اور اس کو سورة بقر میں رضاعت کی زیادہ سے زیادہ مدت قرار دیا گیا ہے۔ دیکھیے آیت 233) سورة لقمان کی اس آیت سے حضرت ابن عباس اور دوسرے اہل نے یہ استنباط بھی کیا ہے کہ حمل کی کم سے کم مدت چھ ماہ ہے۔ جیسا کہ سورة احقاف کی آیت وحملہ و فصالہ ثلاثون شھراً سے معلوم ہوتا ہے۔ (ابن کثیر) 6 تاکہ تیرے اعمال کا حساب لیا جائے۔ اگر شکر کرے گا تو اس کی جزا اور ناشکری کرے گا تو اس کی سزا پائے گا۔ “
Ayah 31:15

وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ۙ فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا١٘ وَّ اتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 31:15 in the Quran reader

اور اگر تیرے ماں باپ زور زبردستی سے یہ کہیں کہ اللہ کے ساتھ انکو شریک کر جن کے شریک ہونے کی تیرے پاس کوئی سند7 نہیں تو ان کا کہنا مت مان8 اور دنیا میں ان کے ساتھ دستور کے موافق رہ9 اور دین میں اس کی راہ پر چل جو میری طرف رجوع ہے10 پھر میرے ہی پاس تم کو لوٹ کر آنا ہے میں تم کو جتال دوں گا جو تم دنیا میں کرتے رہے (اس کا بدلہ دے کر)

ف 7 اور ظاہر ہے کہ خدا کے ساتھ کسی کے شریک ہونے کی سند نہیں ہوسکتی۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں :” شریک نہ مان جو تجھے معلوم نہیں یعنی شبہ میں بھی نہ مان اور یقین سمجھ کر تو کیا مانے۔ “8 کیونکہ خالق کی معصیت میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں۔ (دیکھیے عنکبوت آیت 8)9 یعنی ان کے مشرک ہونے کے باوجود دنیا کے عام معاملات میں ان سے شفقت، محبت اخلاق اور تواضح کا برتائو کر۔10 یعنی میری توحید کا قائل ہے اور پورے اخلاص سے میری اطاعت و بندگی کر رہا ہے۔ دین کے معاملہ میں ماں باپ کی تقلید جائز نہیں ہے۔
Ayah 31:16

یٰبُنَیَّ اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِیْ صَخْرَةٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِهَا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ Open ayah 31:16 in the Quran reader

بیٹا اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر ہو پھر (فرض کرو کہ) وہ ساتوں زمینوں کے تلے) ایک پتھر پر ہو یا آسمان اور زمین میں (کہیں) ہو تو اللہ تعالیٰ قیامت کی دن اس کو حساب لینے کے لئے حاضر کریگا بیشک اللہ بڑی باریک نظر والا خبر دار ہے11

ف 11 اس سے کوئی عمل پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔
Ayah 31:17

یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِۚ Open ayah 31:17 in the Quran reader

بیٹا نماز کو درستی سے ادا کرتا رہ اور اچھی بات کرنے کا حکم کرتا رہ اور بری بات سے منع کرتا رہ اور جو آفت تجھ پر آن پڑے اس پر صبر کر12 بیشک یہ کام13 بڑے ضروری کام ہیں14

ف 12 یعنی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں تجھے جو مصیبتیں پیش آئیں انہیں صبر و ہمت سے برداشت کر اس لئے کہ یہ فریضہ جس نے جب بھی انجام دیا اس پر لازماً مصیبتوں کی پہاڑ ٹوٹے اور دنیا والے اس کے دشمن ہوگئے۔13 یعنی نماز قائم کرنا نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا14 یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی تاکید فرمائی ہے اور انہیں اپنے بندوں پر فرض قرار دیا ہے۔ عزم الامور کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نیکی کا حکم دینے اور برائی سیر وکنے کا یہ کام بڑے عزم و ہمت کا کام ہے۔ کم ہمت لوگوں کے بس میں نہیں ہے کہ اس کی سختیاں جھیل سکیں، اس لئے اپنے عزم و ہمت پیدا کر اور اس کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ مکارم اخلاق میں سے ہے۔
Ayah 31:18

وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ Open ayah 31:18 in the Quran reader

اور لوگوں سے اپنے گال نہ پھلا15 اور زمین میں اترانا (اکڑتا) ہوا چل کیوں کہ اللہ تعالیٰ کسی اترانے (اکڑنے) والے شیخی خورے کو پسند نہیں کرتا1

ف 15 یا لوگوں سے اپنا منہ پھیر کر بات نہ کر۔ یعنی غرور نہ کر بلکہ تواضح اور عاجزی کے ساتھ ہر ایک کی بات سن۔ 1 بلکہ اللہ تعالیٰ کو عاجزی پسند ہے واضح رہے کہ اکڑنا اور شیخی بگھارنا اور چیز ہے اور شکر کے جذبہ سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر کرنا دوسری چیز، یہ ناصرف جائز بلکہ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔” واما بنعمت ربک فحدث (ضحیٰ 11)
Ayah 31:19

وَ اقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ١ؕ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۠ Open ayah 31:19 in the Quran reader

اور بیچ کی چال چلا کر2 اور اپنی آواز آہستہ رکھ3 کیونکہ گدھوں کی آواز سب آواوں میں بری ہے4

ف 2 یعنی شریف لوگوں کی طرح وقار اور سکون سے چلا کر جیسا کہ دوسری آیت میں اہل ایمان کی یہ صفت بیان کی گئی ہے۔ کہ یمشون علی الارض ہونا کہ وہ زمین پر وقار و سکون سے چلتے ہیں۔ (فرقان 63) تیز چلنا جبکہ اس کی ضرورت ہو اور اس میں اعتدال پایا جائے۔ ” وقار “ کے خلاف نہیں ہے۔ آنحضرت جب چلتے تو تیز چلتے اور آگے کو زور دیتے ہوئے چلتے گویا آپ ڈھلان سے اتر رہے ہیں۔ (شوکانی)3 یعنی شریف لوگوں کی طرح پرسکون اور دھیمے لہجہ میں بات کر، نہ کہ گدھے کی طرح چلا کر، اس لئے کہ چلا کر بولنے سے سننے والے کو تکلیف ہوتی ہے۔ (شوکانی)4 کیونکہ وہ چلا کر ہوتی ہے۔ یہاں پر حضرت لقمان کے نصائح ختم ہوئے آگے پھر توحید کے دلائل اور مشرکین کی توبیخ و تبکیت کی طرف رجوع کیا جس کے ساتھ سورة کی ابتدا ہوئی تھی (شوکانی)
Ayah 31:20

اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةً١ؕ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍ Open ayah 31:20 in the Quran reader

کیا تم لوگوں نے اس پر نظر نہیں ڈالی کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے سب کو تمہارے کام میں لگایا5 اور تم پر اپنی کھلی اور چھپی نعمتیں پوری کردیں6 اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو (خواہ مخواہ) اللہ تعالیٰ کے مقدمے میں جھگڑتے ہیں اور نہ ان کو سمجھ ہے نہ سوجھ نہ کوئی روشن کتاب انکے پاس ہے8

ف 5 بعض چہروں کو ایسے ضابطہ کا پابند بنایا کہ وہ خود ہی تمہارے مفاد اور خدمت کے کام کر رہی ہیں، جیسے سورج، چاند، ساترے بلکہ فرشتے بھی جو تمہارے حفاظت کرتے ہیں اور بعض کو تمہارے اختیار میں دے دیا کہ ان میں سے جس سے چاہو اور جیسے چاہو فائدہ اٹھائو جیسے جانور زمین اور اس کی تمام چیزیں بہرحال تسخیر کے معنی یہ ہیں کہ تم ان سے مستفید و متمتع ہو رہے ہو۔ ان چیزوں کا انسان کے زیر تصرف ہونا ضروری نہیں ہے کیونکہ یہ تسخیر کے مفہوم سے خارج ہے۔ (شوکانی)6 کھلی نعمتوں سے مراد وہ نعمتیں ہیں جنہیں آدمی اپنی عقل یا جو اس سے جانتا اور محسوس کرتا ہے اور چھپی نعمتوں سے مراد وہ نعمتیں ہیں جو انسان کے علم و احساس سے بالا ہیں مگر وہ اس کے جسم میں اور باہر کی دنیا میں اس کے مفاد، خدمت اور حفظ و بقا کے لئے کام کر رہی ہیں۔ (شوکانی و کبیر)7 یعنی خلق و تسخیر اور انعام و احسان وغیرہ دلائل سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ثابت ہو چکنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی توحید وصفات میں جھگڑتے اور بحثیں کرتے ہیں کہ خدا ہے بھی کہ نہیں ؟ اور ہے تو ایک ہے یا اس کے ساتھ دوسرے بھی خدائی میں شریک ہیں ؟ اس کی صفات کیا ہیں وغیرہ وغیرہ۔8 یعنی نہ ان کے پاس خود کوئی علم ہے جس کی بنا پر وہ خدا کی حقیقت اور اس کی صفات کو سمجھ سکتے ہیں اور نہ ان کے پاس خود خدا کی بھیجی ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جس سے انہوں نے یہ عقیدہ اخذ کیا ہو بلکہ محض ضد وعناد سے یا تو سرے سے خدا ہی کے منکر ہو رہے ہیں یا پھر خدا کی صفات کی من مانی عقلی تاویلیں کر رہے ہیں۔
Ayah 31:21

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 31:21 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے اللہ تعالیٰ نے جو قرآن اتارا اس پر چلو تو کہتے ہیں ہم تو اس پر چلیں گیجس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا بھلا اگر شیطان ان کے باپ دادوں کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا رہا ہو9

ف 9 تب بھی یہ ان کے ساتھ دوزخ کی آگ میں جا کو دیں گے ؟” یعنی کتاب اللہ اور پیغمبر کی ہدایت کے مقابل ہمیں اپنے جاہل اسلاف کے عمل کو پیش کرتے ہیں پھر اس سے بڑھا کر گمراہی اور کیا ہوسکتی ہے ؟ (دیکھیے بقرہ آیت 87 مائدہ آیت 104)
Ayah 31:22

وَ مَنْ یُّسْلِمْ وَجْهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 31:22 in the Quran reader

اور جو شخص خدا کے سامنے اپنا منہ جھکائے اور اس کی اطاعت کرے اور وہ نیکی پر ہو10 تو اس نے مضبوط کنڈہ تھام لیا11 اور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سب کاموں کا انجام ہے12

ف 10 یعنی ایمان اور عمل صالح اختیار کرے عمل میں احسان یہ ہے کہ عمل خلاص اللہ تعالیٰ کے لئے ہو یعنی ریا کاری سے پاک ہو اور پھر شریعت کی ہدایت کے مطابق ہو۔ (دیکھیے سورة بقرہ 112)11 جس کے بعد اسے بھٹکنے اور انجام بد سے دوچار ہونے کا کوء خطرہ نہیں۔12 ووہی ان کا بدلہ دے گا۔
Ayahs 31:23–25

وَ مَنْ كَفَرَ فَلَا یَحْزُنْكَ كُفْرُهٗ١ؕ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 31:23 in the Quran reader

اور جو شخص کفر کرے تو (اے پیغمبر) تو اس کے کفر سے رنجیدہ نہ ہو ان کو ہماریپ اس لوٹکرآنا ہے ہم ان کے کام ان کو سزا دے کر بتلا دیں گے بیشک اللہ دلوں کی بات جانتا ہے

نُمَتِّعُهُمْ قَلِیْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 31:24 in the Quran reader

ہم ان کو تھوڑا سا دنیا کا مزہ اٹھانے دینگے یا چند روز پھر ان کو سخت عذاب میں پکڑے جائیں گے

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 31:25 in the Quran reader

اور اے پیغمبر) اگر تو ان (کافروں) سے پوچھے آسمان اور زمین نے بنائے ہیں تو ضروری یہی کہیں گے اللہ تعالیٰ نے بنائے ہیں اور کس نے کہہ دے شکر خدا کا1 بات یہ ہے کہ ان کافروں میں اکثر بےعلم جاہل لٹھ ہیں2

ف 1” کہ میری صداقت اور تمہارا ہونا ثابت ہوگیا اور تم نے خود ہی اعتراف کرلیا۔ “ (ابن کثیر، کبیر) یا مس موقع پر ’ دشکر خدا کا “ کہنے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب تم مانتے ہو کہ زمین و آسمان کو دا ہی نے بنایا ہے۔ تو شکر بھی اسی کا بجا لائو، دوسروں کے سامنے ماتھے کیوں رگڑتے پھرتے ہو۔2 یعنی یہ نہیں سمجھتے کہ جب خدا کو زمین و آسمان کا خلاق مان لیا تو ضروری ہے کہ بندگی بھی صرف اسی کی کی جائے۔ (شوکانی )
Ayah 31:26

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 31:26 in the Quran reader

اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے (سب اسی کی ملک ہے)3 بیشک اللہ ہی بےنیاز اور تعریف کا سزا وار ہے4

ف 3 یعنی نہ صرف خلاق ہے بلکہ مالک بھی ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ تعریف بھی اسی کی ہے۔ (رازی)4 سب اس کے محتاج اور بےبس بندے ہیں۔ کوئی اس کی تعریف کرے یا نہ کرے۔ وہ بذات خود تعریف کا سزا وار ہے۔ (نیز دیکھیے آیت 12)
Ayah 31:27

وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 31:27 in the Quran reader

اور اگر زمین میں ہر درخت کے قلم بنائے جائیں اور سمندر سیاہی ہو اس کے بعد سات اور (ایسے) سمندر سیاہی بنیں جب بھی اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں6 بیشک اللہ زبردست ہے حکمت والا

ف 5 یعنی اس کی صفات و معلومات یا اس کی عظمت اور قدرت و حکمت کے کرشمے۔6 یعنی وہ ضبط تحریر میں نہ لائی جاسکیں۔ (نیز دیکھیے کہف :109) حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ یہ آیت یہودی علما کے جواب میں نازل ہوئی انہوں نے ایک مرتبہ آنحضرت سے دریافت کیا کہ آیت وما اوتیتم من العلم الاقلیلاً اور تمہیں تھوڑا سا علم دیا گیا ہے۔ ) سے مراد ہم میں یا آپ کی قوم (عرب) آپ نے فرمایا :” تم بھی اور وہ بھی “ انہوں نے کہا ” توراۃ میں ہر چیز کا علم موجود ہے۔ “ فرمایا ” اللہ کے علم کے مقابلے میں بہت تھوڑا ہے۔ “ اس سے معلوم ہوا کہ یہ آیت مدنی ہے۔ (ابن کثیر)
Ayah 31:28

مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 31:28 in the Quran reader

سہارا (شروع میں) پیدا کرنا اور (مار کر پھر) جلا اٹھانا اس کے نازیک ایسا (آسان) ہے جیسے ایک جان7 کا پہلا کرنا اور جلا اٹھانا بیشک اللہ سب کچھ سنتا اور8 سب کچھ دیکھتا ہے

ف 7 اللہ تعالیٰ کے علم وقدرت کا کمال بیان کرنے کے بعد اب حشر کے استبعاد کو باطل فرمایا (کبیر) یعنی اللہ تعالیٰ تمام چیزوں کو کلمہ کن سے موجود کردیتا ہے۔ پھر تمہارا اعادہ اس کے لئے کیا مشکل ہے۔ (دیکھیے یسین :82)8 یعنی جب وہ اپنے سمع، بصر سے تمہارے تمام اقوال و افعال کا احاطہ کئے ہوئے ہے تو دوبارہ زندہ کرنا، اس کے لئے کیا مشکل ہے۔
Ayah 31:29

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١٘ كُلٌّ یَّجْرِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 31:29 in the Quran reader

کیا تو نہیں دیکھتا کہ اللہ رات کے ایک حصے کو دن میں شریک کردیتا ہے (جب دن بڑھ جاتا ہے) اور دن کے ایک حصے کو رات میں شریک کردیتا ہے (جب رات بڑھ جاتی ہے اور اس نے سورج اور چاند کو کام میں لگا دیا ہے9 ہر ایک ٹھیری ہوئی مدت تک چلتے رہیں گے یعنی قیامت تک اور اللہ تعالیٰ کو تمہارے کاموں کی سب خیر ہے

ف 9 اور جب قیامت آئے گی تو سب فنا ہوجائیں گے ان میں کوئی چیز ازلی اور ابدی نہیں ہے۔ ” ٹھہری ہوئی مدت “ سے مراد ان کے طلوع و غروب کا وقت بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ حضرت ابوذر کی روایت میں ہے کہ سورج جا کر اللہ کی عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے اور پھر اسے اجازت دی جاتی ہے کہ جہاں سے آئے ہو وہیں پلٹ جائو اجل مسمی کے یہ دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔ (ابن کثیر)
Ayah 31:30

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ۠ Open ayah 31:30 in the Quran reader

جس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ وہی سچا خدا ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا جن کو یہ مشرک) پکارتے ہیں اوہ (سب) جھوٹے (معبود) ہیں10 اور دوسرے یہ کہ اللہ ہی سب سے بلند والا سب سے بڑا ہے

ف 10 یعنی انہوں نے اپنی خام خیالی اور وہم پرستی سے انہیں معبود بنا لیا ہے حالانکہ وہ معبود نہیں ہیں۔ 11 سب اس کے مقابلے میں پست و حقیر اور اس کے تابع فرمان ہیں۔
Ayah 31:31

اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ لِیُرِیَكُمْ مِّنْ اٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 31:31 in the Quran reader

دیکھنے والے کیا تو نہیں دیکھتا کہ سمندر میں اللہ کے فضل سے جہاز چلتے ہیں اس سے مطلب یہ ہے کہ تم کو اپنی قدرت کی نشانیاں دکھلائے12 بیشک ہمیں ہر صبر اور شکرنیوالے کے لئے نشانیاں ہیں13

ف 12 یعنی تم دو دراز سمندروں میں سامان تجارت لے کر سفر کرتے ہو۔ اگر جہاز رانی کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ اسباب و وسائل پیدا نہ کئے ہوتے تو یہ بحری سفر ممکن نہ ہوتے۔13 یعنی مومن کے لئے جو مصیبت و تنگدستی میں صبر اور فراخی و خوشحالی میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر کرتا ہے مشرک کی حالت اس کے برعکس ہے کہ برا وقت پڑے تو وہ اللہ کے سامنے گڑ گڑانے لگتا ہے اور اچھا وقت آئے تو سب کچھ بھول جاتا ہے۔
Ayah 31:32

وَ اِذَا غَشِیَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ Open ayah 31:32 in the Quran reader

اور جب سمندر میں سائبانوں کی طرح ان کو اپنی کی موج ڈھانک لیتی ہے اور ڈوبنے کا ڈر ہوتا ہے تو اس وقت سچے دل سے اللہ ہی کی بندگی کر کے اسی کو پکارتے ہیں پھر جب وہ ان کو بچا کر خشکی میں لے آتا ہے تو کوئی تو انصاف پر قائم رہتا ہے14 اور ہماری قدرت کی نشانیوں کا وہی انکار کرتے ہیں جو دغا باز نا شکرے ہیں1

ف 14 یعنی سمندر میں مصیبت پڑنے کے وقت اللہ تعالیٰ کی بندگی کا جو اقرار اس نے کیا تھا اس پر قائم رہت ا ہے۔ اصل میں ” اقتصاد “ کے معنی راست روی اور میانہ روی کے ہیں اور یہ لفظ ظالم کے مقابل ہمیں بھی اسعتمال ہوا ہے۔ (دیکھیے سورة فاطر (آیت 32) بعض مفسرین نے اس کے معنی ” کافر “ کئے ہیں کیونکہ سورة عنکبوت (آیت 65) میں ہے۔ ” فلما نجاھم الی البر اذا ھم یشرکون “ ” تو جب اس نے انہیں نجات دی تو اچانک وہ شرک پر اتر آئے۔ “ مگر یہ استدلال صحیح نہیں ہے۔ (ابن کثیر) 1 یعنی جو مصیبت کا وقت ٹل جانے پر سب کچھ بھول جاتے ہیں اور اپنے قول وقرار کا بھی کوئی پاس نہیں کرتے۔ اس سے بھی معلوم ہوا کہ پہلے جملہ میں ’ دمقتصد “ کے معنی راست روی اختیار کرنے والے ہی کے ہیں۔ (شوکانی)
Ayah 31:33

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ١٘ وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَیْئًا١ؕ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 31:33 in the Quran reader

لوگو اپنے مالک سے ڈرو اور اس دن کا خوف رکھو جس دن باب اپنی اولاد کے کام نہ آئے اور نہ کوئی اولاد اپنے باپ کے کچھ کام آئے گی2 بیشک اللہ کا وعدہ قیامت کا دن برحق ہے تو ایسان ہہو دنیا کی زندگی تم کو دھوکا دے اور شیطان تمہیں اللہ سے غافل کر دے3

ف 2 اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے دلائل ذکر کرنے کے بعد اب تقویٰ کا حکم دیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی نافرماین سے بچا جائے۔ (کبیر) مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن تو قریب ترین تعلقات بھی ختم ہوجائیں گے، نہ باپ اپنے بیٹے کے آلام و مصائب کو دور کرسکے گا اور نہ بیٹا باپ کو کسی قسم کی اہانت و روسائی سے محفوظ رکھ سکے گا۔ لکل امرء منھم یومئذ شان یغنیہ دیکھیے سورة عبس آیت 37)3 لفظی ترجمہ یہ ہے ” اور نہ دھوکہ دینے والا شیطان) تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکے میں ڈال دے۔ “ اللہ کے بارے میں شیطان کا یہ دھوکہ کئی طرح سے ہوتا ہے کسی کو دھوکا دیتا ہے کہ خدا ہی نہیں ہے۔ کسی کو دھوکا دیتا ہے کہ خدا بڑا غفور رحیم ہے۔ مزے سے گناہ کئے جاو وہ سب معاف کر دے گا۔ کسی سے کہتا ہے کہ فلاں بزرگ یا پیر صاحب کا اس پر بڑا زور ہے وہ سفارش کر کے تمہیں اس کی پکڑ سے بچا لیں گے۔ الغرض مختلف طریقوں سے انسان کو دنیا کی طرف مائل کر کے خدا سے غافل بنا دیتا ہے۔ وغیرہ (وحیدی وغیرہ)
Ayah 31:34

اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ١ۚ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 31:34 in the Quran reader

اللہ ہی کو معلوم ہوے قیامت کب آئیگی اور وہ (جب چاہتا ہے کسی کو معلوم ہے پانی برساتا ہے اور ہی جانتا ہے ماں کے پٹ میں کیا ہے (لڑکا یا لڑکی) اور کسی کو معلوم نہیں کل وہ کیا کریگا اچھے کام یا برے کام اور کوئی نہیں جانتا اللہ کے سوا وہ کس ملک (کس سر زمین میں مرے گا) بیشک وہ یہ باتیں اللہ ہی جانتا ہے اسی کو خیر ہے5

ف 4 اور یہ کہ نیک یا بد ؟5 اوپر قیامت کے دن سے ڈرایا ہے۔ اب یہاں فرمایا کہ اس کے وقوع کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں ہے۔ (کبیر) بخاری و مسلم اور مسند احمد کی متعدد روایات ہیں آنحضرت نے ان باتوں کو ” غیب کی کنجیاں “ قرار دے کر ان کے متعلق فرمایا ہے کہ انہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ خود نبی ﷺ کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا کہ آپ کو ان باتوں کا یا ان میں سے کسی بات کا علم تھا سراسر باطل ہے اور قیامت کے متعلق تو حضرت جبرئیل والی روایت میں ہے کہ آنحضرت نے ان کے جواب میں فرمایا :” ما المسئول عنھا باعلم من السائل یعنی جس سے سوال کیا جا رہا ہے اس کو سائل سے زیادہ علم نہیں ہے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں۔ من زعم انہ ﷺ یعلم مایکون فی غد فقد اعظم علی اللہ الفریۃ جس نے دعویٰ کیا کہ نبی ﷺ جانتے ہیں کہ کل کیا ہونے والا ہے اس نے اللہ پر بہت بڑا بہتان باندھا ہے۔ (شوکانی 4)