30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 30:1–4

غُلِبَتِ الرُّوْمُۙ Open ayah 30:2 in the Quran reader

نصاری دب گئے (پارسیوں نے دبا دیا)

فِیْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُوْنَۙ Open ayah 30:3 in the Quran reader

عرب کے قریب (یعنی شام یا اردن میں) اور وہ بےپیچھے غالب ہوں گے۔

فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ١ؕ۬ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُ١ؕ وَ یَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 30:4 in the Quran reader

اب چند سال میں۔ اللہ تعالیٰ ہی کا اختیار تھا پہلے بھی4 جب وہ مغلوب ہوئے) اور بعد بھی اور اس دن (جبرومی غالب ہونگے5) مسلمان خوش ہوجائینگے (جیسے آج مشرک خوش ہیں)

4 ۔ کئی برس سے ایران اور روم کے درمیان جنگوں کا سلسلہ جاری تھا۔ روم کے اہل کتاب ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کی ہمدردیاں ان کے ساتھ تھیں اور ان کی فتح سے خوش تھے اور ایرانی آتش پرست تھے اس لئے مشرک ان کے غلبہ اور فتح سے خوش ہوتے۔ آخر کار آنحضرت ﷺ کی بعثت کے تقریباً پانچ سال بعد، ایران اور روم کے درمیان ایک زبردست معرکہ ہوا جس میں ایرانی غالب رہے، جس پر مشرکین مکہ نے خوشیاں منائیں اور مسلمانوں سے ازراہ فخر و غرور کہنے لگے کہ دیکھا غیر کتاب والے (ایرانی) کتاب والوں یعنی رومیوں پر غالب آگئے۔ اسی طرح ہم بھی تم پر غالب رہیں گے۔ ان باتوں سے مسلمانوں کو سخت صدمہ ہوتا۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور قرآن نے ایک نہیں بلکہ دو پیش گوئیاں ایسے حالات میں کردیں جبکہ ظاہری اسباب بالکل ان کے خلاف تھے۔ یعنی یہ کہ ” لضع سنین “ میں نہ صرف رومیوں کو ایرانیوں پر غلبہ حاصل ہوجائے گا بلکہ اس روز مسلمان بھی ایک فتح کی خوشی منائیں گے۔ قرآن کی اس پیش گوئی کے پیش نظر حضرت ابوبکر ؓ نے ایک مشرک سے سو اونٹ کی شرط بھی کرلی (جو اس وقت حرام نہ تھی) ابتدا میں ان کے درمیان تھوڑی مدت (تقریباً پانچ سال) مقرر ہوئی مگر بعد میں آنحضرت ﷺ کے اشارے سے یہ مدت نو سال تک بڑھا دی گئی جو کہ ” بضع سنین “ کا صحیح مفہوم تھا چناچہ ہجرت کے دوسرے سا جنگ بدر کے موقع پر یعنی نو سال کی مدت کے اندر ہی رومی ایرانیوں پر غالب آگئے اور انہوں نے اپنا کھویا ہوا اقتدار واپس لے لیا اور مدائن تک کا علاقہ فتح کرلیا۔ اس پیش گوئی کا مقررہ مدت کے اندر پورا ہونا قرآن کی صداقت کی بہت بڑی دلیل ہے۔ چناچہ اس موقع پر بہت سے لوگ مسلمان ہوگئے۔ یہاں ” ادنی الارض “ سے مراد جزیرہ عرب کے قریب اذرعات اور بصریٰ کے درمیان کی سرزمین ہے جو ” ادنیٰ شام “ کہلاتی ہے۔ بعض نے فلسطین کا نام بھی ذکر کیا ہے اور یہ سب مواضع دوسرے علاقوں کی بنسبت بلاد عرب سے قریب تر ہیں۔ (ابن کثیر۔ شوکانی) 5 ۔ یعنی بعد میں بھی جب وہ غالب ہوں گے۔ اسی کا اختیار ہوگا فتح و شکست اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے وہ جس قوم کو جب چاہتا ہے غالب کرتا ہے اور جب چاہتا ہے مغلوب کرتا ہے۔ (شوکانی) نہ غالب ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہے اور نہ مغلوب ہونا اللہ کے ناخوش ہونے کی۔ (ازموضح بتغییر)
Ayah 30:5

بِنَصْرِ اللّٰهِ١ؕ یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 30:5 in the Quran reader

اللہ کی مدد پر۔ وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے6 اور وہ زبردست ہے رحم والا

6 ۔ حضرت ابن عباس ؓ ، ابو سعید خدری ؓ ، سفیان ثوری ؓ اور بہت سے دیگر اہل علم حضرات کا بیان ہے کہ رومیوں کو ایرانیوں پر یہ غلبہ اسی روز حاصل ہوا جس روز مسلمان بدر میں مشرین مکہ پر فتح یاب ہوئے۔ اسی لئے مسلمانوں کو دوہری خوشی ہوئی اور مشرکوں کو دوہرا غم ہوا۔ (ابن کثیر) بعض تابعین (رح) کا خیال ہے کہ رومیوں کو ایرانیوں پر صلح حدیبیہ کے سال فتح ہوئی۔ ان کا استدلال اس واقعہ سے ہے کہ قیصر روم نے منت مانی تھی کہ جب وہ فتح یاب ہوگا تو حمص سے پیدل چل کر ایلیا (بیت المقدس) کا حج کرے گا۔ چناچہ جب وہ ایلیا آیا تو ابھی واپس نہ ہوا تھا کہ اسے حضرت وحیہ ؓ بن خلیفہ کے ذریعہ رسول اللہ ﷺ کا وہ خط ملا جو آپ ﷺ نے اس کے نام صلح حدیبیہ کے بعد لکھا تھا۔ اس کے بعد اس نے حضرت ابو سفیان کو بلایا (جو ابھی مسلمان نہ ہوئے تھے اور شام میں بغرض تجارت آئے ہوئے تھے) اور ان سے نبی ﷺ کے بارے میں مختلف سوالات کئے جیسا کہ صحیح بخاری میں بالتفصیل مذکور ہے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رومیوں کو ایرانیوں پر فتح بھی اسی سال ہوئی۔ لیکن اس کا جواب دیا جاسکتا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ رومیوں کو پہلی فتح تو بدر کے سال ہوئی ہو مگر دشمن کی فوجوں کا مکمل انخلا اور منت کے پورا کرنے کی نوبت چار سال بعد صلح حدیبیہ ہی کے سال آئی ہو۔ واللہ اعلم۔ (ابن کثیر)
Ayahs 30:6–7

وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:6 in the Quran reader

یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ خلاف نہیں کرتا مگر اکثر لوگ یہ بات نہیں جانتے

یَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۖۚ وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 30:7 in the Quran reader

وہ دنیا کی زندگی کے ظاہر سامان جانتے ہیں زراعت حرفت تجارت نوکری اور آخرت سے بیخبر ہیں7

7 ۔ یعنی محض دنیا کی ظاہری آرائش اور ساز و سامان کی فکر میں لگے رہتے ہیں اور آخرت کی کوئی فکر نہیں کرتے۔ یا دوسرا مطلب یہ ہوگا کہ ” وہ تو دنیوی زندگی کے صرف ظاہری پہلو کو جانتے ہیں اور انجام سے بیخبر ہیں “۔ یہ سمجھتے ہیں کہ فتح و شکست کا مدار ظاہری اسباب پر ہے مگر ان کو انجام کی خبر نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ (کذا فی الوحیدی) یا دنیا کے کاموں میں تو خوب ماہر اور زیرک ہیں مگر امور آخرۃ سے بالکل بیخبر اور جاہل۔ امام حسن بصری (رح) فرماتے ہیں : ” ذرا ہم کو تو ناخن پر رکھ کر ہی پرکھ لیتے ہیں مگر نماز پڑھنی نہیں آتی “۔ (ابن کثیر)
Ayah 30:8

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۫ مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ Open ayah 30:8 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے اپنے دلوں میں سوچا نہیں8 اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین اور جو ان کے بیچ میں ہے حکمت ہی کے ساتھ اور ایک ٹھیری ہوئی مدت کے لئے بنائے ہیں9 اور بہت سے آدمی تو اپنے مالک سے ملنے کو ہی نہیں مانتے1

8 ۔” یا کیا انہوں نے اپنے بارے میں نہیں سوچا “ کہ وہ کیا تھے ؟ کس نے انہیں پیدا کیا اور کیا ان کا انجام ہوگا ؟ بایں صورت یہ تفکر کا مفعول ہوگا۔ (شوکانی) 9 ۔ یعنی یہ نظام کائنات کھیل تماشہ نہیں بنا کہ اس کے پیدا کرنے میں کوئی مقصد کارفرما نہ ہو بلکہ خاص مقصد کے تحت بنایا گیا ہے اور ایک مقررہ وقت تک کے لئے بنایا گیا ہے۔ سورة ملک میں آسمان و زمین کے خلق کو غرض بیان کرتے ہوئے فرمایا : لیبلوکم ایکم احسن عملا۔ یعنی یہ نظام کائنات محض تمہاری آزمائش کے لئے بنایا ہے کہ تم میں سے کس کا عمل دوسرے کے عمل سے اچھا ہے اور پھر ایک دن یقیناً یہ نظام نا ہوجائے گا اور اس کی جگہ دوسرا نظام جنم لے گا جس میں لوگوں کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ فوائد صحفہ ہذا۔ 1 ۔ یعنی اس بات کے منکر ہیں کہ انہیں مرنے کے بعد اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔ (شوکانی)
Ayah 30:9

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اَثَارُوا الْاَرْضَ وَ عَمَرُوْهَاۤ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَؕ Open ayah 30:9 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے ملکوں کی سیر نہیں کی (اگر کرتے) تو (اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے اگلے لوگوں کا کیا انجام ہوا جو زور میں ان سے کہیں زیادہ تھے انہوں نے زمین کو جوتا2 اور جتنا انہوں نے آباد کیا ہے اس سے زیادہ آباد کیا اور ان کے پیغمبر ان کے پاس نشانیاں لیکر آئے معجزے پر انہوں نے نہ مانا آخر اپنے کئے کی سزا پائی تو اللہ ایسا نہیں جو ان پر ظلم کرتا لیکن وہ خود اپنی جانوں پر شرک اور کفر اور گناہ کر کے) ظلم کرتے تھے

2 ۔ یعنی اس میں کھیتی باڑی کی اور باغ لگائے اور زمین کو خوب آباد کیا۔ (شوکانی)
Ayahs 30:10–11

ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓاٰۤى اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا بِهَا یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 30:10 in the Quran reader

پھر جن لوگوں نے برا کیا ان کا انجام بھی برا ہوا کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو جھٹلایا اور ان پر ٹھٹھے مارتے تھے

اَللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 30:11 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ ہی شروع میں پیدا کرتا ہے پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا3 پھر تم سب اس کے پاس لوٹ جائو گے

3 ۔ کیونکہ جس کے لئے پہلی بار پیدا کرنا ممکن ہے اس کے لئے دوبارہ پیدا کرنا بدرجہ اولیٰ ممکن ہے۔
Ayah 30:12

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 30:12 in the Quran reader

اور جس دن قیامت برپاہو گی گنہگار اپنی بھائی سے ناامید ہوجائیں گے4

4 ۔ کیونکہ ان سے اپنے آپ کو بےقصور ثابت کرنے کے لئے کوئی جواب نہ بن پڑے گا۔
Ayah 30:13

وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ مِّنْ شُرَكَآئِهِمْ شُفَعٰٓؤُا وَ كَانُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 30:13 in the Quran reader

اور جن کو یہ خدا کا شریک ٹھیرات یہیں ان میں سے کوئی ان کی سفارش نہ کریں گے5 اور اس وقت یہ لوگ بھی اپنے شریکوں سے پھر بیٹھیں گے6

5 ۔ کیونکہ اس روز کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر کسی دوسرے کی سفارش نہ کرسکے گا اور پھ سفارش کی بھی اسی کی کرسکے گا جس کی سفارش کی اجازت ملے گی۔ 6 ۔ کیونکہ اس وقت انہیں اپنے ان شریکوں کی حقیقت معلوم ہوجائے گی کہ یہ نہ کسی کو نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اگر نفع پہنچا سکتے تو اس موقع پر ان کے ضرور کام آتے۔
Ayah 30:14

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ Open ayah 30:14 in the Quran reader

اور جس دن قیامت برپا ہوگی اس دن لوگوں کے الگ الگ فرقے ہوجائیں گے7

7 ۔ فرقے یعنی گروہ، چناچہ ایک گروہ مومنوں کا ہوگا جو جنت میں جائے گا اور دوسرا کافروں، منافقوں اور مشرکوں کا جو ابدا ً جہنم میں جائے گا۔ فریق فی الجنۃ و فریق فی السعیر (شوریٰ :7) یہ حساب و کتاب مکمل ہوجانے کے بعد کی کیفیت ہے۔ چناچہ قتادہ (رح) کہتے ہیں کہ اس کے بعد یہ دونوں گروہ آپس میں کبھی نہ ملیں گے، چناچہ آگے اسی کی تفصیل آرہی ہے۔ (ابن کثیر، شوکانی)
Ayah 30:15

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَهُمْ فِیْ رَوْضَةٍ یُّحْبَرُوْنَ Open ayah 30:15 in the Quran reader

پھر جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کئے ایک باغ میں ان کی آئو بھگت ہوگی8

8 ۔ یعنی ان کی خوب خاطرداری اور مہمان نوازی ہوگی اور ہر لمحہ تازہ سرور حاصل ہوتا رہے گا۔ بعض نے لکھا ہے کہ ” یحبون “ کے معنی ہیں ” ان کو گیت اور نغموں سے لذت اندوز کیا جائے گا۔ بہرحال ” یحبون “ کا لفظ ہر قسم کی خوشی اور انعام و اکرام کو شامل ہے۔ (قرطبی۔ کبیر)
Ayahs 30:16–18

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآئِ الْاٰخِرَةِ فَاُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 30:16 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں اور قیامت کے ملنے کو جھٹلایا وہ عذاب میں گٹھے رہیں گے سدا اس میں پڑے رہیں گی

فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ Open ayah 30:17 in the Quran reader

تو اللہ کی پاکی بیان کرتے رہو شام اور صبح اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتے رہو

وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَ Open ayah 30:18 in the Quran reader

اور روہی تعریف کے لائق ہے آسمان اور زمین1 اور اس کی پاکی بیان کرو تیسرے پہر اور دوپہر کو2

1 ۔ یعنی زمین و آسمان والوں کو اس کی تسبیح وتحمید کرتے رہنا چاہیے۔ 2 ۔ پہلے مبدا و معاد میں اپنی عظمت کا ذکر فرمایا۔ اب ان اوقات میں اپنی تنزیہہ وتحمید کا حکم دیا کیونکہ ان اوقات میں اللہ تعالیٰ کی قدر و عظمت کا کامل ظہور ہوتا ہے اور تسبیح قلب و لسان اور جوارح تینوں سے ہوتی ہے اور نماز بھی تینوں قسم کی تسبیح پر مشتمل ہے۔ اس لئے علمائے تفسیر نے لکھا ہے کہ یہاں تسبیح سے مراد نماز پڑھنا ہے اور اس آیت میں پانچوں نمازوں کا ذکر آگیا ہے۔ صبح سے فجر کی نماز مراد ہے اور شام (مساء) سے مغرب و عشا کی اور عشیا (سہ پہر) سے عصر اور دوپہر سے ظہر کی۔ (رازی، ابن کثیر) ان اوقات خمسہ میں عبادت و نماز کے اسرار و حکم علما نے اپنے ذوق علمی کے مطابق بیان فرمائے ہیں۔ حجۃ اللہ اور احیا غزالی میں ب ھی کچھ بیان موجود ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 30:19

یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 30:19 in the Quran reader

وہ زندے کو مردی سے آدمی اور جانور کو نطفے اور انڈے سے) نکالتا ہے اور مردے کو زندے سے جیسے نطفہ اور انڈا آدمی اور جانور سے) اور زمین کو مرے پیچھے (پانی برسا کر) زندہ کرتا ہے اور اسی طرح3 تم بھی مرے پیچھے قبر سے) نکالے جائو گے4

3 ۔ یعنی جیسے مردہ زندہ سے اور زندہ مردہ سے نکلتا ہے، اسی طرح… (دیکھئے آل عمران آیت 97، انعام آیت :95) 4 ۔ مطلب یہ ہے کہ تم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو کہ کائنات کا یہ کارخانہ اسی طرح جاری ہے۔ مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ نکلتا ہے۔ زمین مردہ پڑی ہوتی ہے۔ اس میں سبزی اور تروتازگی کا نام و نشان تک نہیں ہوتا، لیکن پانی برستے ہی طرح طرح کی سبزیاں آگ آتی ہیں اور ہزاروں قسم کے جانور پیدا ہوجاتے ہیں۔ ایسے قادر مطلق کے لئے جس کی قدرت سے یہ سب کچھ ہوا۔ تمہارے مرجانے کے بعد تمہیں دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے۔
Ayah 30:20

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ Open ayah 30:20 in the Quran reader

اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ تم کو تمہارے باپ آدم کو ہٹی سے5 پیدا کیا پھر اب تم کئی حالتیں بدلنے کے بعد آدمی ہو کر ساری زمین میں پھیل پڑے ہو

5 ۔ کئی حالتوں سے مراد انسان کے مختلف اطوار ہیں جن سے گزر کر آخرپورا آدمی بن کر وجود میں آجاتا ہے۔ (دیکھئے سورة مومنون آیت 12، 14)
Ayah 30:21

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 30:21 in the Quran reader

اور اس کی قدرت کی6 نشانیو میں سے یہ ہے کہ تمہارے بیبیاں تم ہی سے7 (یعنی آدمیوں میں سے) بنائیں اس لئے کہ تم ان کے پاس چین کرو اور تم (میاں بی بی) میں ال فت اور محبت رکھی بیشک ان باتوں میں ان لوگوں کے لئے جو سوچتے8 ہیں خدا کی قدرت کی) نشانیاں ہیں

6 ۔ یعنی تمہاری جنس سے۔ 7 ۔ یعنی مرد اپنی فطرت کے تقاضے عورت کے پاس اور عورت اپنی فطرت کے تقاضے مرد کے پاس پائے اور اس طرح دونوں مل کر سکون و اطمینان حاصل کریں۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ” کسی جانور کا جوڑا مقرر نہیں کیا صرف انسان کا جوڑا مقرر ٹھہرایا اس میں نسل کے سوا نسیت اور چین ہے اور پیار و محبت تا جہاں کی بستی ہو۔ جو کوئی جوڑا مقرر نہ کرے یعنی زنا کرے، نکاح نہ کرے وہ انسان سے حیوان ہوا۔ “ (موضح) 8 ۔ حالانکہ بسا اوقات نکاح سے پہلے میاں بیوی میں شناسائی تک نہیں ہوتی مگر رشتہ نکاح میں منسلک ہوجانے کے بعد یہ حالت ہوجاتی ہے کہ ایک دوسرے پر جان چھڑکنے کو تیار ہوتے ہیں۔
Ayah 30:22

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ Open ayah 30:22 in the Quran reader

اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے آسمان اور زمین کا بنانا ہے اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا الگ الگ ہونا9 بیشک ان باتوں میں علم والوں کے لئے اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں

9 ۔ حالانکہ تم سب ایک باپ اور ایک ماں کی اولاد ہو اور تمہارے قوائے کی ساخت بھی ایک جیسی ہے مگر زبانیں اور رنگ اس قدر مختلف ہیں کہ بعض اقات ایک ملک میں سینکڑوں زبانیں اور ان کے ہزاروں لہجے ہوتے ہیں۔ اگر یہ زبانوں اور رنگوں کا اختلاف نہ ہوتا تو بڑی مشکل پیش آتی اور ایک کو دوسرے سے پہچاننے میں دشواریاں ہوتیں۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل ہیں۔
Ayah 30:23

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 30:23 in the Quran reader

اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے یہ ہے جو رات اور دن کو تم سو جاتے ہو10 اور جاگ کر اس کا فضل تلاش کرتے ہو (روٹی رزق) بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے جو دل لگا کر سنتے ہیں

10 ۔ سونے سے تمہاری تھکاوٹ دور ہوجاتی ہے۔
Ayah 30:24

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَیُحْیٖ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:24 in the Quran reader

اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے یہ ہے وہ تم کو ڈرانے اور بارش کی امید دلانے کے لئے بجلی چمک دکھلاتا ہے اور آسمان سے پانی برساتا ہے پھر اس پانی سے زمین کو مرے پیچھے زندہ کرتا ہے13 بیشک ان باتوں میں ان لوگوں کے لئے جو عقل رکھتے ہیں اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں

11 ۔ اس آیت میں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر استدلال کیا گیا ہے اور وہ اس طرح کہ نیند موت ہے اور جاگ کر روزی کے لئے دوڑ دھوپ کرنا زندگی کے بعد موت سے مشابہ ہے۔ 12 ۔ یعنی بجلی کی گرج اور چمک سے ایک امیدبندھتی ہے کہ بارش ہوگی اور فصلیں تیار ہوں گی اور دوسری طرف ڈر بھی لگتا ہے کہ کہیں بجلی نہ گرپڑے یا اتنی زیادہ بارش نہ ہوجائے کہ مکانوں اور فصلوں کو تباہ کر دے اور سب کچھ بہا لے جائے۔ 13 ۔ اس میں بحث بعد الموت پر بھی استدلال ہے اور اس پر بھی کہ بارش صرف اللہ کی قدرت اور اس کے حکم سے ہوتی ہے نہ کہ محض مادہ کی ترکیب سے۔
Ayah 30:25

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ١ؕ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً١ۖۗ مِّنَ الْاَرْضِ١ۖۗ اِذَاۤ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ Open ayah 30:25 in the Quran reader

اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے بےستون تھمے ہوئے ہیں1 پھر جب قیامت کے دن وہ تم کو ایک بارگی زمین سے پکارے گا تم سب اسی وقت نکل پڑو گے2

ف 1 اس نے ایسی کشش رکھی ہے کہ ہر چیز اپنے مرکز ثقل پر قائم ہے اور ایک جسم دوسرے جسم کو اس طرح کھینچے ہوئے ہے کہ وہ جسم آپس میں ٹکراتے نہیں۔ اگر اس کا حکم نہ ہو تو سب جسم ایک دوسرے سے ٹکرا جائیں اور یہ نظام درہم برہم ہوجائے۔ 2 یعنی جس قادر مطلق نے یہ محیر العقول نظام قائم کیا ہے اس کے لئے یہ ہرگز مشکل نہیں ہے کہ وہ تمہیں یک بارگی پکارے اور تم اس کی آواز سن کر فوراً کھڑے نہ ہوجائو۔ یہاں پکارنے سے مراد ” نغمہ ثانیہ “ یعنی نغمہ بعث ہے۔ جیسے فرمایا : ثم نفخ فیہ اخری فاذا ھم قیام ینظرون (قرطبی)
Ayah 30:26

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 30:26 in the Quran reader

اور جتنے لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں سب اس کے حکم میں ہیں3

ف 3 یعنی تکوینی طور پر سب اس کے مطیع و متضاد ہیں کوئی چیز بھی اس کے امر تکوینی سے سر مو انحراف نہیں کہ سکتی۔ یا ” ہر چیز زبان حال یا قال سے اس کی عبویدت کا اعتراف کر رہی ہے۔ (قرطبی)
Ayah 30:27

وَ هُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَیْهِ١ؕ وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 30:27 in the Quran reader

اور وہی خدا ہے جو شروع میں پیدا کرتا ہے پھر دوبارہ پیدا کرے گا اور دوبارہ بنانا اس پر پہلی بار بنانے سے) زیادہ آسان ہے4 اور جو بات آسمان اور زمین میں سب سے بڑھ چڑھ5 کر ہے وہ اس میں موجود ہے اور زبردست ہے حکمت والا

ف 4 ’ د یعنی تمہارے کہنے اور کرنے کے لحاظ سے “ مطلب یہ یہ کہ تم اس چیز کو تو مانتے ہو کہ تمام مخلوقات کو پہلی بار اسی نے پیدا کیا ہے اور یہ بھی سمجھتے ہو کہ جس نے ایک دفعہ کسی چیز کو بنایا ہو اس کے لئے اسی چیز کو دوبارہ بنانا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کے لئے جس نے پہلی بار تمام مخلوقات بنائی ہے دوسری مرتبہ اسے پیدا کرنا آسان تر ہونا چاہیے۔ (قرطبی ۔ شوکانی)5 کیونکہ کوئی اس کے جوڑ کا نہیں۔ تمام عمدہ صفات اس میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔ دوسری کسی مخلوق میں یہ بات نہیں۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں :” آسمان کے فرشتے نہ کھائیں نہ پئیں نہ حاجت بشری رکھیں، سوائے بندگی کے کچھ کام نہیں اور زمین کے لوگ سب چیز میں آلودہ، پر اللہ کی صفت نہ ان سے ملے نہ ان سے وہ پاک ذات ہے۔ “ (موضح)
Ayah 30:28

ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ١ؕ هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَآءَ فِیْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ تَخَافُوْنَهُمْ كَخِیْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:28 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ تمہارے سمجھانے کے لئے خود تمہاری ایک مثال بیان فرماتا ہے وہ یہ ہے تمہارے جو غلام لونڈی ہیں کیا وہ اس مالت دولت میں تمہارے شریک ہیں جو ہم نے تم کو دیا ہے تم اور وہ اس میں برابر ہو تم ان سے اپنے برابر والے لوگوں کی طرح ڈرتے ہو جو لوگ عقل رکھتے ہیں ہم ان کے سمجھنے کے لئے اپنی آیتیں یوں کھول کر بیان کرتے ہیں

ف 6 یعنی جب تم اپنے لونڈی غلاموں کو، جو تمہاری ہی طرح آدم کی اولاد اور اللہ کی مخلوق ہیں، اپنے برابر کا اور مال و دولت میں شریک بنانا گوارا نہیں کرتے تو پھر اللہ کی مخلوق میں بعضوں کو اس کا شریک کیوں گردانتے ہو ؟ کیا جن لوگوں کو تم نے اپنا معبود بنا رکھا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ اور غلام نہیں ہیں۔ دیکھیے سورة نحل آیت 71 (شوکانی)
Ayah 30:29

بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ فَمَنْ یَّهْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 30:29 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ ان ظالموں (مشرکوں) نے بن سمجھے بوجھے اپنی خواہشوں کی پیروی کی ہے (جس کو چاہا دیوتا بنا لیا) تو جس کو اللہ تعالیٰ بہکا دے اس کو کون راہ پر لاسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے مقبالے میں کوئی ان کی مدد نہیں کرسکتا

ف 7 اللہ تعالیٰ کی طر گمراہی کی نسبت اس اعتبار سے ہے کہ وہ ہر چیز کا خلاق ہے ورنہ انسان کی گمراہی کا سبب خود اس کی ہٹ دھرمی ہے۔
Ayah 30:30

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ؕ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙۗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۗۙ Open ayah 30:30 in the Quran reader

تو اے پیغمبر ایک طرف کا ہو کر اپنا منہ دین پر قائم رکھ اس دین پر جس اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے8 اللہ تعالیٰ کی بناوٹ بدل نہیں سکتی9 یہی سچا ٹھیک دین ہے جو فطرت کے موافق10 ہے) مگر اکثر لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے11

ف 8 فطرۃ کے معنی تو پیدا کرنا ہوتے ہیں مگر یہاں فطرۃ اللہ سے مراد دین اسلام یا توحید ہے جو خلقی اور جبلی طور پر ہر انسان ان کے قلب میں ودیعت کی گی ہے اور اگر انسان کو اس کی طبعی حالت پر چھوڑ دیا جائے اور بیرونی اثرات اور دبائو سے اس کے دل و دماغ کو محفوظ رکھا جائے تو وہ توحید اور دنی فطرت ہی اختیار کرے گا۔ ایک حدیث میں بھی آنحضرت نے فرمایا : مامن مولود الایولد علی الفطرۃ کہ ہر بچہ فطرت پیدا ہوتا ہے اور ’ دزرکول “ کے وقت اخذ عہد والی آیت سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے (دیکھیے اعراف آیت 172) ایک حدیث قدسی میں ہے کہ (دیکھیے اطراف آیت 172) ایک حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” میں نے اپنے تمام بندوں کو حنیف پیدا کیا تھا پھر شیاطین نے آ کر انہیں ان کے دین سے برگشتہ کردیا ” اور خلقت ھولاء للنار اور اس مضمون کی دوسری روایات اس کے خلاف نہیں ہیں کیونکہ ان روایات کو عملا نے خاتمہ اور مآل پر محمول کیا ہے۔ واللہ اعلم (قرطبی ابن کثیر)9 یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے اس قانون میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ یا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جانوروں کی جو صورتیں بنائی ہیں ان میں تبدیلی نہ کرو۔ گویا جاہلیت میں جو جانوروں کے کان کاٹنے اور بلا ضرورت فول کو خصی کرنے کا رواج تھا اس کی ممانعت فرمائی ہے (قرطبی)10 شاہ صاحب آیت کی توضیح میں لکھتے ہیں :” یعنی اللہ سب کا حاکم ومالک، سب سے نرالا کوئی اس کے برابر کا نہیں یہ باتیں سب جانتے ہیں اس پر چلنا چاہیے ایسے ہی کسی کے جان مال کو ستانا ناموس میں عیب لگانا ہر کوئی برا جانتا ہے۔ ایسے ہی اللہ کو یاد کرنا، غریب پر ترس کھانا، حق پورا دینا، دغا نہ کرنا ہر کوئی اچھا جانتا ہے اس پر چلنا وہی دین سچا ہے۔ ان چیزوں کا بندوبست پیغمبروں کی زبان سے اللہ نے سکھایا۔ (موضح)11 اس لئے فطرۃ کے خلاف شرک و بدعت کی جو باتیں انہوں نے اپنے باپ دادا یا دوسروں سے سیکھ لی لی ہیں انہی پر اندھا دھند چلے جاتے ہیں۔
Ayahs 30:31–32

مُنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 30:31 in the Quran reader

اسی ایک خدا کی طرف رجوع رہو اور اس سے ڈرتے رہو اور نماز کو درستی سے ادا کرتے رہو اور شرک کرنے والوں میں شریک نہ ہو

مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 30:32 in the Quran reader

ان لوگوں میں جنہوں نے اپنے دین میں پھوٹ ڈالی1 اور کئی گروہ ہوگئے اور پھر ہر گروہ اپنے جھوٹے اعتقاد پر پھولا ہوا ہے

ف 1 یعنی توحید کے اصلی اور فطری دین میں باگڑ پیدا کر کے اپنے الگ الگ دین بنا لئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں کفر و شرک کے جتنے دین پائے جاتے ہیں وہ سب اصل دین فطرۃ …توحید/ میں بگاڑ سے پیدا ہوئے ہیں (دیکھیے سورة یونس آی 19
Ayah 30:33

وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 30:33 in the Quran reader

اور لوگوں کا یہ حال ہے ان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے مالک کی طرفرجوع ہو کر اس کو پکارتے ہیں2 پھر جب وہ اپنی مہربانی کا مزہ ان کو چکھاتا ہے تو ایک گروہ ان میں کا اسی وقت شرک کرنے لگتا ہے3

ف 2 معلوم ہوا کہ توحید کی شہادت ہر انسان کے دل کی گہرائیوں میں موجود ہے، چاہے وہ زبان سے اس کا اقرار نہ کرے مگر واقعات سے اس کی شہادت ملتی ہے شاہ صاحب فرماتے ہیں ” جیسے بھلے برے کام ہر انسان کی جبلت پہنچاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونا بھی ہر ایک کی جبلت جانتی ہے ڈر کے وقت کھل جاتی ہے۔ “3 چناچہ وہ دوسروں معبودوں کی نذریں ماننے اور چڑھاوے چڑھانے لگتا ہے اور کہنا شروع کردیتا ہے کہ ہم سے یہ مصیبت فلاں بزرگ یا فلاں آستانہ کے صدقے میں ٹلی ہے۔
Ayah 30:34

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:34 in the Quran reader

ان کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے جو نعمت ان کو دی شرک کر کے اس کی ناشکری کریں خیر چند روزہ دنیا کا مزہ اٹھا لو4 آگے چل کر تم کو معلوم ہوجائیگا

ف 4 کہ شرک اور ناشکری کی تمہیں کیا سزا ملتی ہے۔
Ayahs 30:35–36

اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ یَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ یُشْرِكُوْنَ Open ayah 30:35 in the Quran reader

کیا ہم نے ان پر کوئی سند اتاری ہے وہ ان کو شرک کرنا بتلا رہی ہے

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ اِذَا هُمْ یَقْنَطُوْنَ Open ayah 30:36 in the Quran reader

اور لوگوں کا یہ حال ہے5 ان کو جب ہم اپنی مہربانی کا مزہ چکھاتے ہیں تو خوشی میں مست ہوجاتے ہیں خدا کو بھول جاتے ہیں اور اگر ان کے اعمال کی سزا میں ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو اسی وقت اللہ کی رحمت سے بنا امید ہوجاتے ہیں6

ف 5 یعنی آخر شرک کی دلیل کیا ہے ؟ کیا انکی عقل یہی کہتی ہے یا ہماری کسی کتاب میں یہ لکھا ہے کہ تمہارے فلاں بزرگ کو ہم نے اپنے اختیارات میں شریک کرلیا ہے لہٰذا تم انہیں بھی اپنی حاجت روائی کے لئے پکار سکتے ہو ؟6 یعنی ہم ہار بیٹھتے ہیں کہ اب کوئی نہیں جو ہماری مصیبت ٹال سکے۔ یہ کافر کی حالت ہے کہ سختی کے وقت مایوس ہوجاتا ہے اور عیش و آرام کے وقت تکبر و غرور کرنے لگتا ہے بہت سے کمزور ایمان ولاوں کا بھی یہی حال ہے مگر مومن کا حال اس کے برعکس ہے۔ اسے جب عیش و آرام میسر ہوتا ہے تو اللہ کا شکر بجا لاتا ہے اور جب مصیبت یا تنگی پہنچی ہے تو صبر و تحمل سے کام لیتا ہے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : مومن کی ہر حالت پر تعجب ہے اس کے حق میں اللہ تعالیٰ کا ہر فیصلہ خیر کا موجب ہے جب اے عیش و آرام نصیب ہوتا ہے تو شکر کرت ا ہے۔ یہ بھی اس کے حق میں خیر ہے۔ اگر رنج و تکلیف پہنچتی تو صبر کرتا ہے اس میں بھی اس کے لئے بہتری اور ثواب ہے۔ (ابن کثیر قرطی)
Ayah 30:37

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 30:37 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے اس پر نظر نہیں کہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے فراغت کے ساتھ روزی دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے تنگی سے دیتا ہے بیشک جو لوگ ایماندار ہیں ان کے لئے اس معاملہ میں خدا کی قدرت کی نشانیاں ہیں7

ف 7 یعنی روزی کا معاملہ اللہ تعالیٰ نے خالصتاً اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ بعض اوقات ان پڑھوں اور بیوقوفوں کو ایسی روزی دیتا ہے کہ پڑھے لکھے اور دانا حیران ہوتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت نہیں تو کیا ہے ؟ اسی کو اپنی حکمت عملوم ہے کوئی دم نہیں مار سکتا۔ (وحیدی)
Ayah 30:38

فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 30:38 in the Quran reader

تو اے پیغمبر ناطے والے کو اس کا حق دے اور محتاج اور مسافر کو ان کا حق8 جو لوگ خدا کا منہ دیکھتا یعنے اس کا دیدار آخرت میں) چاہتے ہیں ان کے لئے یہ بہتر ہے اور وہی مراد پائیں گے

ف 8 یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو مال دیا ہے وہ صرف اس لئے نہیں ہے کہ تم اسے صرف اپنی ذات پر خرچ کرو بلکہ اس کی شکر گزاری یہ ہے کہ اس میں سے رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں پر بھی خرچ کیا کرو اور یہ سمجھ کر خرچ کرو کہ تمہارا ان پر احسان نہیں ہے بلکہ یہ ان کا تمہارا اوپر حق ہے۔
Ayah 30:39

وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ Open ayah 30:39 in the Quran reader

اور جو تم سو دیتے ہو کہ لوگوں کا مال بڑھ جائے9 تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہیں بڑھتا10 اور جو تم زکواۃ دو گے اللہ تعالیٰ کا منہ دیکھنا چاہو گے تو ایسے ہی لوگ دونا (نگنا) ثواب پانیوالے ہیں11

ف 9 یعنی ان کے مال و دولت میں شامل ہو کر بیٹھ جائے۔10 یعنی اللہ تعالیٰ اس میں کوئی برکت نہیں دیتا بلکہ وہ آدمی کے لئے دنیا و آخرت دونوں میں وبال اور لعنت کا سبب بنتا ہے۔ بعض مفسرین (جیسے قتادہ ضحاک اور عکرمہ وغیرہ) کیا خیال ہے کہ اس آیت میں ربا سے مراد و سود نہیں جو شرعاً حرام کیا گیا ہے بلکہ اس سے وہ عطیہ یا تحفہ مراد ہے جو آدمی دوسرے کو اس نیت سے دے کہ وہ بعد میں اس سے زیادہ واپس کرے گا۔ ایسا عطیہ دینا حرام نہیں ہے لیکن اس کا کوئی ثواب بھی نہیں ملتا۔ ان کے خیال میں فلا ربوا عند اللہ “ (وہ اللہ کے ہاں نہیں بڑھتا) کا یہی مطلب ہے۔ واللہ اعلم (قرطبی)11 دس گنے سے سات سو گنے تک دراصل اس بڑھوتری کا انحصار انسان کی نیت اور جذبہ پر ہے۔
Ayah 30:40

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 30:40 in the Quran reader

(لوگو) اللہ ہی نے تم کو پیدا کیا ہے پھر تم کو روزی دی پھر تم کو مارے گا پھر تم کو جلائے گا کیا جن کو تم نے (خدا کا) شریک سمجھا ہے وہ ان کاموں میں کچھ بھی کرسکتے ہیں یہ لوگ جو شرک کرتے ہیں1 اللہ تعالیٰ ان سے کہیں پاک اور برتر ہے

ف 1 اور ظاہر ہے کہ نہیں کرسکتے تو پھر انہیں پوجنے اور ان کے آستانوں پر نذریں ماننے اور چڑھاوے چڑھانے کا کیا فائدہ ؟