30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 30:41

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 30:41 in the Quran reader

لوگ جو (برے) کام کر رہے ہیں شرک اور کفر اور گناہ ان کی وجہ سے خشکی اور تری میں خرابی پھیل گئی ہے2 اللہ تعالیٰ کا مطلب یہ ہے کہ ان کے کچھ کاموں کی سزا ان کو دنیا ہی میں) چکھائے تاکہ وہ ان برے کاموں سے باز آئیں3

ف 2 خشکی سے مراد زمین، تری سے مراد سمندر اور فساد (خرابی) سے مراد ہر آفت اور صمیبت ہے چاہے وہ جنگ وجدال اور قتل و غارت کی صورت میں نازل ہو یا قحط بیماری فصلوں کی تباہی تنگ حالی سیلاب اور زلزلہ وغیرہ کی صورت میں آیت کا مطلب یہ ہے کہ برو بحر (عالم ہیں جو فتنہ و فساد بپا ہے اور آسمان کے نیچے جو ظلم و ستم ڈھائے جا رہے ہیں یہ سب شرک کی وجہ سے ہیں جب سے لوگوں نے توحید (دین فطرت) کو چھوڑ کر شرک کی راہیں اختیار کی ہیں اس وقت سے یہ ظلم و فساد بھی بڑھ گیا ہے اور شرک جیسے قولی اور اقتصادی ہوتا ہے اسی طرح شرک عملی بھی ہے جو فسق فجور اور معاصی کا روپ دھار لیتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ شرک اعتقادی اور قول تو جہنم میں خلوہ کا موجب ہوگا مگر شرک عملی فسق و معصیت) موجب خلود نہیں بنے گا۔ (کبیر ۔ رازی)3 پوری سزا تو آخرت میں ملے گی مگر یہ تھوڑے سے عذاب کا نمونہ ہے۔ ممکن ہے کہ لوگ شرک و معصیت چھوڑ کر توحید اور اطاعت کی راہ اختیار کریں۔
Ayah 30:42

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّشْرِكِیْنَ Open ayah 30:42 in the Quran reader

اے پیغمبر ان لوگوں سے کہہ دے ذرا ملکوں کی سیر تو کرو اور دیکھو اگلے لوگوں کا انجام کیا ہوا ان میں اکثر مشرک تھے4

ف 4 یعنی پچھلی جن قوموں پر تباہی آئی۔ اسی شرک کی بدولت آئی جس سے باز رہنے کی آج تمہیں تلقین کی جا رہی ہے۔
Ayahs 30:43–44

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ یَوْمَئِذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ Open ayah 30:43 in the Quran reader

تو (اے پیغمبر) اس دن کے آنے سے پہلے جو خدا کی طرف سے ٹل نہیں سکتا یعنی قیامت کا دن اپنا منہ (سچے اور) ٹھیک دن پر قائم رکھ اسلام پر مبطو رہ اس دن سب لوگ الگ الگ ہوجائیں گے

مَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِمْ یَمْهَدُوْنَۙ Open ayah 30:44 in the Quran reader

مومن جدا کا فرجا جو شخص کفر کرے تو اپنے کفر کی سزا ہی پائیگلا اور جو لوگ نیک کام کریں وہ اپنے لئے آپ آخرت کی بھلائی کا سامان کرینگے5

ف 5 یا (جنت یا قبر میں) اپنے لئے آرام کی جگہ بنائیں گے۔ یہ ” لانفسھم یمھدون “ کا لفظی ترجمہ ہے اور یہ آیت ’ دیصرعون “ کی تفسیر ہے۔ یعنی آخرت میں کافر اور مومن الگ الگ ہوجائیں گے۔
Ayahs 30:45–46

لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 30:45 in the Quran reader

اس لئے اللہ تعالیٰ ایمانداروں نیک کام کرنے والوں کو اپنے فضل سے (اچھا) بدلہ دے گا بیشک وہ کافروں کو پسند نہیں کرتا

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّ لِیُذِیْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 30:46 in the Quran reader

اور اس کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے یہ ہے کہ (بارش کی) خوشخبری دینے والی ہوائیں بارش سے پہلے بھیجتا ہے اور اس سے مطلب یہ ہے کہ اپنی مہربانی کا مزہ تم کو چکھانے6 اور اس کے حکم سے دریائوں میں جہاز چلیں ( جو ہوا کے زور سے چلتے ہیں اور اس لئے دریا کا سفر کر کے تم اس کا فضل ڈھونڈو (روپیہ کمائو) اور اس لئے کہ تم اس کے احسانوں کا) شکر کرو

ف 6 یعنی بارش سے غلے اور میوے پیدا ہوں اور تم کھائو اور جانور موٹے تازے ہوں۔ تم ان کا گوشت کھائو اور دودھ پیو یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی رحمت ہے۔ جس سے سب لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔
Ayah 30:47

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا١ؕ وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 30:47 in the Quran reader

اور اے پیغمبر ہم تجھ سے پہلے کئی پیغمبر ان کی قوم کی طرف بھیج چکے ہیں وہ نشانیاں (معجزے) لے کر ان کے پاس آئے مگر انہوں نے نہ مانا آخر گناہگاروں نافرمانوں سے ہم نے بدلہ لیا اور ایمان والوں کی مدد ہم کو ضرور تھی1

ف 1 اور مبداو معاد کو براہین و دلائل سے ثابت کرنے کے بعد اب اس آیت میں اصل ثالث یعنی نبوت کو ثابت کیا ہے یعنی آپ بھی گزشتہ پیغمبروں کی طرح اللہ کے پیغمبر ہیں، جیسے ان کے مخالفین سے انتقام لیا گیا۔ اسی طرح آپ کے مخالفین سے بھی بدلہ لیا جائے گا۔ نیز اس آیت میں آنحضرت کو تسلی دی ہے اور اہل ایمان کے لئے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کا مددگار ہے اور وہ ہمیشہ مغلوب نہیں رہیں گے بلکہ ایک نہ ایک دن کو غلبہ نصیب ہوگا۔ یہاں حقاً خبر مقدم اور نصر المومنین اسم کان ہے اور المومنین میں پیغمبر، ان کے صحابہ اور ان کے بعد امت کے تمام مونین شامل ہیں۔ بعض نے حقا پر وقف تام کیا ہے اور کان میں ضمیر کا مرجع انتقام قرار دیا ہے اور علینا نصر المومنین کو جملہ مستانفہ مانا ہے۔ واللہ اعلم
Ayah 30:48

اَللّٰهُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُهٗ فِی السَّمَآءِ كَیْفَ یَشَآءُ وَ یَجْعَلُهٗ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ فَاِذَاۤ اَصَابَ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَۚ Open ayah 30:48 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ ہی ہوائوں کو بھیجتا ہے وہ بادل کو ابھاتری ہیں پھر اللہ تعالیٰ اس بادل کو (سارے) آسمان میں پھیلا دیتا ہے جس طرح سے چاہتا ہے (کبھی ہلکا اور کبھی گہرا) اور (کبھی) اس کو ٹکڑے ٹکڑے کردیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے اس میں سے مینہ چھن کر نکلتا ہے جب اپنے بندوں میں سے جن پر وہ چاہتا ہے یہ مینہ برساتا ہے تو وہ اسی وقت خوش ہوجاتے ہیں2

ف 2 اور کہتے ہیں کہ اب غلہ اگے گا پھل پیدا ہوں گے جانور سیراب ہوں گے اور ارزانی بڑھے گی وغیرہ 3 اور ملول و مفہوم تھے لیکن بارش ہوتے ہی خوشیاں منانے لگے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت معلوم ہوتی ہے کہ لمحہ بھر میں دنیا کی حالت بدل جاتی ہے یا تو سب کے چہرے اترے ہوئے تھے اور یا اب ہر طرف رنگ رلیاں ہو رہی ہیں اور خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔
Ayah 30:49

وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْهِمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمُبْلِسِیْنَ Open ayah 30:49 in the Quran reader

حالانکہ برسات پڑنے سے پہلے اس سے ذرا اول ہی یہ لوگ برسات سے ناامید ہوچکے تھے4

ف 4 اوپر رسولوں کے بھیجنے کا ذکر کیا یا تھا اور یہاں بارش بھیجنے کا اس میں اشارہ ہے کہ رسول کی آمد بھی انسان کی اخلاقی اور روحانی زندگی کے لئے ویسی ہی رحمت ہے جیسی اس کی مادی و معاشی زندگی کے لئے بارش کی آمد، بارش سے اگر زمین زندہ ہوتی ہے اہر طرف کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں نوروں کی آمد سے انسان کے دلوں کی کھیتیاں سرسبز ہوتی ہیں اور اس میں نبوت کی ضرورت پر دلیل بھی ہے کہ جس نے اس زمین کی اصلاح کا بندوبست کیا ہے وہ تمہارے دلوں اور روحوں کی زمین کو زندہ اور سرسبز کرنے کا انتظام کیوں نہ کرے گا۔ آیت کریمہ میں انظر کا کلمہ اللہ تعالیٰ کی قدرت عظیمہ پر تنبیہ کے لئے ہے۔ (کبیر روح)
Ayahs 30:50–51

فَانْظُرْ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ كَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 30:50 in the Quran reader

تو اے دیکھنے والے اللہ تعالیٰ کی رحمت کے اثر دیکھ زمین کو مرے بعد پھر کیوں کر جلاتا ہے بیشک یہی خدا جو زمین کو مرے پیچھے جلاتا ہے قیامت کے دن مردوں کو بھی جلائے گا اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے

وَ لَئِنْ اَرْسَلْنَا رِیْحًا فَرَاَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 30:51 in the Quran reader

اور اگر ہم آندھی پچھائو بھیجیں پھ رلوگ کھیت کو دیکھیں پیلا پڑگیا ہے تو اس کے بعد ناشکری کرنے لگیں گے5

ف 5 یعنی جب بارش کی وجہ سے کھیتیاں سرسبز ہو کر لہلہانے لگتی ہیں اس وقت اگر ہم کوئی ایسی ہوا بھیج دیں جو ان ہری بھری کھیتوں کو جلا کر زرد یعنی خشک کر دے تو یہ لوگ پھر ناشکری پر اتر آئیں اور رونا پیٹنا شروع کردیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ (کافر) نہایت ہی کمزور اور کم حوصلہ واقع ہوئے ہیں۔ دم بھر میں خوشیاں منانے لگتے ہیں اور دم بھر میں رونے پیٹنے بیٹھ جاتے ہیں۔ (شوکانی)
Ayah 30:52

فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 30:52 in the Quran reader

تو اے پیغمبر تو مردوں کو اپنی آواز نہیں سنا سکتا اور نہ بہروں کو سنا سکتا ہے جب وہ پیٹھ موڑ کر چل دیں6

ف 6 یعنی ان لوگوں کے ضمیر مردہ ہوچکے ہیں اور ان میں حقائق کو سمجھنے اور خیر و صواب کو پہچاننے کی صلاحیت باقی نہیں رہی۔ گویا یہ بالکل مردے اور بہرے ہیں اور بہرے بھی ایسے جو حق بات کو محسوس کرتے ہی بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ لہٰذا انہیں کوئی بات سنائی نہیں جاسکتی۔ (تنبیہ) ” سمال موتی “ کے مسئلہ میں گو علماء نے طویل بحثیں کی ہیں لیکن مردوں کا عدم سماع ایک عام حقیقت ہے جس سے صرف وہ صورتیں مستثنیٰ ہیں جو دلیل کتاب و سنت سے ثابت ہیں مثلاً غزوہ بدر میں جو کافر مارے کئے تھے انہیں نبی ﷺ نے خطاب فرمایا : آپ سے عرض کیا گیا ” اے اللہ کے رسول آپ ایسے جمسوں سے کلام فرما رہے ہیں جن میں روحیں نہیں ہیں “ فرمایا ! وہ میری بات کو تم لوگوں سے زیادہ سن رہے ہیں۔ صرف یہ فرق ہے کہ وہ کوئی جواب نہیں دے سکتے اور جیسا کہ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جب لوگ مردہ کو دفن کر کے پلٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی چاپ سنتا ہے۔ دیکھئے نمل آیت 8)
Ayah 30:53

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِ الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ Open ayah 30:53 in the Quran reader

اور نہ تو اندھوں کو ان کی گمراہی سے نجات دے کر راہ سوجھا سکتا7 ہے تو تو انہی لوگوں کو سنا سمجھا راہ پر لاسکتا ہے جو ہماری آیتوں کا یقین رکھتے ہیں8 اور تیری بات مان لیتے ہیں9

ف 7 یعنی انکے دل اندھے ہیں جنہیں گمراہی سے نکال کر نجات کی راہ پر لے آنا آپ کے بس میں نہیں ہے اور نہ ایسا کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔8 کیونکہ انہی میں یہ صلاحیت ہے کہ کسی بات کو سن کر اس پر غور و فکر کرسکیں۔9 یعنی حق کے سامنے سر تسلیم خم کرتے اور اس کی راہ پر چلتے ہیں۔ (دیکھیے سورة نمل آیت 81)
Ayah 30:54

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَیْبَةً١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْقَدِیْرُ Open ayah 30:54 in the Quran reader

اللہ ہی نے تم کو کمزوری میں بنایا (یعنے بچنے میں) پھر کمزوری کے بعد جوانی کا زور دیا پھر زور کے بعد کمزوری دی اور بوڑھا کردیا بال سفید ہوگئے وہ جو چاہتا ہے بناتا ہے1 اور وہ آدمی کی تمام مصلحتیں جانتا ہے قدرت والا ہے

ف 1 یعنی انسان پر قوت و ضعف کے یہ ادوار واطوار طبعی نہیں ہیں بلکہ یہ سب حالتیں اللہ علیم و قدیر کی پیدا کی ہوئی ہیں اور انسان پر ان حالتوں کا وار ہونا بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اوپر دلائل آفاق کا ذکر تھا۔ اب یہاں دلائل انفس کی طرف اشارہ فرما دیا۔ (کبیر)
Ayah 30:55

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ١ۙ۬ مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَةٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَانُوْا یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 30:55 in the Quran reader

اور جس دن قیامت قائم ہوگئی گنہگار لوگ قسمیں کھائیں گے وہ دنیا میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ٹھہرے (جھوٹ بولیں گے2) ایسے ہی دنیا میں بھی وہ گمراہ رہے3

ف 2 یا اپنی برزخی زندگی میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ٹھہرے۔ قیامت کے دن کی ہولناکیوں اور عذاب جہنم کے سامنے دیکھ کر یہ احساس پیدا ہوگا ہوسکتا ہے کہ قیامت سے پہلے کچھ وقفہ ہوجی اٹھنے کے بعد ایک ساعت محسوس ہو۔3 یعنی وہاں بھی یہ اسی طرح کے غلط اندازے لگایا کرتے تھے چناچہ جھوٹی قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ مرنے کے بعد بس فنا ہوجانا ہے کوئی آخرت و آخرت آنے والی نہیں ہے جس کے لئے کوئی تیاری کی جائے۔
Ayah 30:56

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَ الْاِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ اِلٰى یَوْمِ الْبَعْثِ١٘ فَهٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَ لٰكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:56 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو علم اور ایمان دیا گیا ہے وہ کہیں گے4 تم تو جیسے لوح محفوظ میں لکھا ہے قیامت تک ٹھہرے5 تو یہی دن قیامت کا دن ہے6 مگر تم کو تو اس کا یقین ہی نہ تھا7

ف 4 یعنی ابنیا فرشتے اور تمام امتوں کے اہل علم و ایمان (قرطبی)5 یعنی جیسے دنیا میں علما ان پر حجت قائم کیا کرتے تھے اس دن بھی ان کا رد کریں گے اور کریں گے اور کہیں گے تم جھوٹ بکتے ہو جو یہ کہتے ہیں کہ دنیا یا عالم برزخ میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ٹھہرے تم ٹھیک کتاب اللہ (یعنی اللہ کے علم یا لوح محفوظ کے نوشتہ) کے مطابق قیامت کے دن تک ٹھہرے رہے ہو بعض مفسرین نے اس آیت میں ’ دفی کتاب اللہ “ کو ” اوتوا “ سے متعلق قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ تقدیر کلام یوں ہے اوتوالعلم فی الکتاب والایمان سا صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ” جن لوگوں کو کتاب اللہ کا علم اور ایمان دیا گیا وہ کہیں گے …“ (قرطبی ابن کثیر)6 جو ٹھیک وعدے کے مطابق آپہنچا ہعے۔7 چناچہ تم اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور رسولوں سے کہا کرتے تھے کرلے آئو قیامت جس کی تم دھمکی دیتے ہو۔
Ayah 30:57

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 30:57 in the Quran reader

تو اس دن گنہگاروں کا کوئی عذر کام نہ آئے گا اور نہ ان کو توبہ کرنے کا (اور پروردگار کو راضی کرنے کا موقع دیا جائے گا8

ف 8 یعنی آخرت میں توبہ کرنے اور پروردگار کی خوشنودی حاصل کرنے کا انہیں کوئی موقع نہ دیا جائے گا۔
Ayah 30:58

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ لَئِنْ جِئْتَهُمْ بِاٰیَةٍ لَّیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ Open ayah 30:58 in the Quran reader

اور ہم نے تو اس قرآن میں (لوگوں کے سمجھانے کے لئے ہر طرح کی مثالیں بیان کردی ہیں9 اور اے پیغمبر اگر تو ان کافروں کو کوئی معجزہ دکھلائے تو یہ کافر تجھ کو اور تیرے ساتھ والے ایمانداروں کو کہیں گے تم تو مکار وفریبی ہو10

ف 9 جن سے انہیں ایک طرف اللہ کی توحید اور رسولوں کی صداقت کا علم ہوسکتا ہے اور دوسری طرف کفر و شرک نفا اور بدعت کے باطل ہونے کا پتہ چل سکتا ہے۔ 10 یعنی ڈھونگ بنا کر اور شعبدے دکھا کر لوگوں کو اپنے دین میں پھانسنے کی کوشش کرتے ہو۔
Ayah 30:59

كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:59 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ جاہلوں کے دلوں پر اسی طرح مہر لگا دیتا ہے11

ف 11 یعنی جن کے دل صحیح علم سے کورے ہوتے ہیں اور وہ ہٹ دھرمی سے ہر بات سے انکار ہی کرتے چلے جاتے ہیں بالآخر اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان میں قبول حق کی صلاحیت ہی باقی نہیں رہتی۔
Ayah 30:60

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لَا یَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 30:60 in the Quran reader

تو اے پیغمبر صبر کیجیے وہ اللہ کا وعدہ سچا ہے ایک روز تو ضرور غالب ہوگا اور کہیں ایسا نہ ہو یہ بےایمان لوگ تجھ کو بےصبر اپنا لیں تو وہ جلد باز ہوجائے۔