29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 29:1–2

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ Open ayah 29:2 in the Quran reader

کیا لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے زبان سے ہم کہہ دیں گے ایمان لائے تو چھوڑ دیئے جائیں گے اور ان کی جانچ نہ ہوگی6

6 ۔ یعنی ایسا نہیں ہوسکتا بلکہ آزمائش ضرور ہوگی تاکہ منافق کو مخلص سے اور سچے کو جھوٹے سے ممیزکر دیا جائے۔ متعدد روایات میں ہے کہ مکہ میں جب مسلمان سخت ابتلا میں تھے اور ان پر ظلم و ستم ڈھائے جا رہے تھے تو انہوں نے تنگ آ کر آنحضرت ﷺ سے درخواست کی کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں تمہیں جو تکلیفیں اذیتیں پہنچ رہی ہیں وہ بیشک سخت ہی مگر پہلے لوگوں کو تو یہاں تک تکالیف سے دوچار ہونا پڑا کہ ایک آدمی زمین میں گاڑ کر کھڑا کردیا جاتا اور پھر اس کے سر پر آرہ چلا کر چیر دیا جاتا مگر وہ اپنے دین سے نہ پھرتا۔ الخ نیز دیکھئے بقرہ :214 ۔ (قرطبی)
Ayah 29:3

وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 29:3 in the Quran reader

اور ہم ان سے پہلے اگلے ایماندار لوگوں کو آزما چکے ہیں7 تو اسی طرح اللہ تعالیٰ سچوں کو ضرور الگ کرے گا اور جھوٹوں کو الگ8

7 ۔ یعنی یہ کوئی نیا معاملہ نہیں ہے جو تمہارے ساتھ پیش آیا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی یہ مستقل سنت رہی ہے اور پہلے لوگوں کی بھی آزمائشیں ہوتی رہی ہیں۔ 8 ۔ لفظی ترجمہ یوں ہے کہ ” اللہ ضرور معلوم کرے گا کہ سچے کون ہیں اور جھوٹے کون ؟ لیکن مطلب یہ ہے کہ الگ الگ کر کے دکھلا دے گا کیونکہ اس کو تو سب حال پہلے سے معلوم ہے اور اس کا علم ازلی اور قدیم ہے۔
Ayah 29:4

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 29:4 in the Quran reader

کیا جو لوگ برے کام کر رہے ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہم سے بچ کر نکل جائیں گے ہمارے قابو سے باہر ہوجائیں گے9 ان کا برا خیال ہے

9 ۔ الفاظ گو عام ہیں مگر روئے سخن کفار مکہ اور ان کے سرداروں کی طرف ہے جو مسلمانوں کو اذیتیں پہنچا رہے تھے اور ان کو سخت تنبیہ کی ہے۔
Ayahs 29:5–6

مَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:5 in the Quran reader

جس کو اللہ تعالیٰ سے ملنے کی امید ہے اس کو چاہیے کہ طیاری کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو وقت عذاب ثواب کا مقرر کیا ہے وہ ضرور آنیوالا ہے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ سننا جانتا ہے

وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:6 in the Quran reader

اور جو کوئی نیک کاموں میں محنت اٹھاتا ہے10 وہ خود اپنے فائدے کے لئے اٹھاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ سارے جہان سے بےپروا ہے1

10 ۔ اس سے مراد ہے نیک کاموں میں مشقت اٹھاتا۔ کفار اور اپنے نفس سے مجاہدہ بھی اس میں شامل ہے۔ 1 ۔ اس کو نہ کسی کی عبادت سے کوئی فائدہ ہے اور نہ کسی کے گناہ سے کوئی نقصان۔ بلکہ اگر کسی کو توفیق ملی ہے تو اسے مزید اللہ تعالیٰ کا شکرگزار ہونا چاہیے۔ (دیکھئے سورة آل عمران 97 و سورة نمل 40)
Ayah 29:7

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:7 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کئے ان کی برائیاں ہم ضرور اتار دیں گے میٹ دیں گے اور ان کے اچھے کاموں کا بدلہ اچھے سے اچھا دیں گے2

2 ۔ حتیٰ کہ بعض کے نزدیک کفر کی حالت میں جو نیک عمل کئے تھے ان کی جزا بھی مل جائے گی اور پھر ایمان لانے کے بعد ایک نیکی کا دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ بدلہ ملے گا (قرطبی) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں : یعنی ایمان کی برکت سے نیکیاں ملیں گی اور برائیاں معاف ہوجائیں گی۔ (موضح)
Ayah 29:8

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًا١ؕ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا١ؕ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:8 in the Quran reader

اور ہم نے آدمی کو یہ حکم دیا ہے کہ اپنے ماں باپ سے اچھا برتائو کر3 اور یہ بھی کہہ دیا اگر وہ زبردستی یہ چاہیں کہ تو میرا شریک بنائے اس کو جس کو تو نہیں جانتا4 تو ان کا کہنا مت مان5 تم سب کو میرے پاس ایک دن لوٹ کر آنا ہے پھر جو کچھ تم دنیا میں کرتے رہے میں تم کو بتلا دوں گا6

3 ۔ یعنی ان کی خدمت کرے اور ان سے عاجزی سے پیش آئے۔ (دیکھئے سورة اسرا آیت 23 ۔ 24) 4 ۔” یعنی جس کے شریک ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ “ بھلا شرک پر دلیل کیسے ہوسکتی ہے۔ یہ تو وہم پرستی اور اندھی تقلید سے وجود میں آیا ہے۔ 5 ۔ اس لئے کہ خالق کی معصیت میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں ہے۔ ماں باپ ہوں یا کوئی اور سب کی اطاعت اس صورت میں ہے جب ان کا حکم اللہ و رسول ﷺ کے حکم کے مطابق ہو یا کم از کم اس کے خلاف نہ ہو۔ مروی ہے کہ یہ آیت حضرت سعد ؓ بن ابی وقاص کے بارے میں نازل ہوئی۔ جب وہ اسلام لائے تو ان کی والدہ نے کہا : ” کیا اللہ نے تمہیں ماں سے نیک سلوک کرنے کا حکم نہیں دیا ؟ اللہ کی قسم جب تک تم محمد (ﷺ) سے انکار نہ کرو گے میں نہ کچھ کھائوں گی اور نہ پیئوں گی یہاں تک کہ مر جائوں۔ “ چناچہ اس نے مرن برت رکھ لیا۔ اس کے رشتہ دار جب اسے کھلانا چاہتے تو اس کا منہ کھول کر زبردستی کھلاتے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (ابن کثیر) 6 ۔ یعنی بتلائوں گا کہ تمہارے اعمال کہاں تک نیک تھے اور کہاں تک برے ؟ پھر ہر ایک اعمال کی جزا اور بداعمال کی سزا دوں گا۔
Ayah 29:9

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:9 in the Quran reader

اور جو وگ ایمان لائے اور اچھے کام کئے ان کو ہم ضرور نیکوں میں شریک کریں گے7

7 ۔ یعنی ان کا حشر نیکوں کے ساتھ کرینگے یا انہیں نیکوں کی جگہ (جنت) میں داخل کریں گے اور پھر ایسی اولاد اپنے مشرک والدین کے ساتھ نہیں اٹھائی جائے گی گو دنیا میں ان کے ساتھ سب سے زیادہ قریبی رشتہ تھا کیونکہ قیامت کے دن حشر انہی کے ساتھ ہوگا جن سے محبت دینی تھی۔ (ابن کثیر)
Ayah 29:10

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوْذِیَ فِی اللّٰهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَئِنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ١ؕ اَوَ لَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:10 in the Quran reader

اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے پھر جب ان کو کافروں اور بد نیتوں کی طرف ہے) اللہ تعالیٰ کی راہ میں کچھتکلیف پہنچی ہے مال یا جسم یا عزت کی تو لوگوں کے ستانے کو اللہ کے عذاب8 کی طرح سمجھ لیتے ہیں اور اگر تیرے مالک کی طرف سے مسلمانوں کو کوئی مدد آن پہنچے تو ایسے لوگ ضرور یوں کہیں گے ہم تو تمہارے ساتھ تھے9 ہم کو بھی لوٹ میں شریک کرو بھلا یہ لوگ کیا سمجھے ہیں اللہ کو سارے جہان کے دلوں کا حال معلوم نہیں ہے

8 ۔ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈر کر کفر و معصیت سے باز آجانا چاہیے۔ یہ ان کافروں اور بدعتیوں کی پہنچائی ہوئی تکلیفوں سے ڈر کر ایمان اور حق بات کو چھوڑ بیٹھتے ہیں اور ایمان سے دست بردار ہوجاتے ہیں۔ یہ حال منافقین کا ہے۔ (دیکھئے سورة حج آیت 11) 9 ۔ حالانکہ جھوٹ بولتے ہیں۔ مزید وضاحت کے لئے دیکھئے۔ ( سورة نسا آیت :14) 10 ۔” جو ان کے دلوں کا حال اس پر پوشیدہ رہے “ ؟
Ayah 29:11

وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ Open ayah 29:11 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ تو ایمان والوں کو ضرور جدا کرے گا اور منافقوں کو جدا ہر ایک کا حال کھول دیگا11

11 ۔ یعنی ایسی آزمائشیں بھیج کر اور ایسے حالات پیدا کر کے جن میں یہ منافق اپنے دلوں کا حال چھپائے نہیں رہ سکیں گے۔
Ayahs 29:12–13

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَ لْنَحْمِلْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰهُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 29:12 in the Quran reader

اور کافر مسلمانوں سے کہتے ہیں ہماری راہ پر چلو کفر اختیار کرلو اور قیامت کا اگر تم کو ڈر ہے تو تمہارے گناہوں کے بوجھ ہم اس دن اٹھا لیں گے جھوٹ بکتے ہیں

وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ١٘ وَ لَیُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 29:13 in the Quran reader

وہ ذرا بھی ان کے گناہوں کا بوجھ اٹھانے والے نہیں اور وہ تو خود اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ دوسرے لوگوں کے بوجھ جن کو انہوں نے گمرا ہی کا ہے اور بیشک قیامت کے دن ان سے پوچھا جو وہ دنیا میں جھوٹ باندھتے رہے2

1 ۔ اسی کو نبی ﷺ نے ایک حدیث میں یوں بیان فرمایا ہے : من سن سنۃ سیئۃ فعلیہ وزرعا و وزرمن عمل بھا۔ (دیکھئے سورة محمد آیت :3) جس نے کوئی برا طریقہ جاری کیا تو اس پر اپنا وبال بھی ہے اور ان تمام لوگوں کا وبال بھی جنہوں نے اس برے طریقہ کی پیروی کی۔ (شوکانی بحوالہ صحیح مسلم عن ابی ہریرہ) نیز دیکھئے۔ (سورۃ نحل آیت 45) 2 ۔ یعنی اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھتے رہے۔ مقاتل (رح) کہتے ہیں کہ اس سے مراد ان کا یہ کہنا ہے کہ ہم تمہارے ذمہ دار ہیں جو وبال تم پر پڑے گا ہم اسے اپنے سر لے لیں گے۔ اس پر بھی ان سے سوال اور مواخذہ کیا جائے گا۔
Ayah 29:14

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا١ؕ فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 29:14 in the Quran reader

اور ہم نوح کو اس قوم کی طرف بھیج چکے ہیں3 وہ پچاس کم ہزار برس تک ان میں رہا (ان کو سمجھایا گیا لیکن انہوں نے مانا آخر طوفان نے ان کو آداب اور وہ خود قصور وار تھے4

3 ۔ سورة کے آغاز میں جو یہ فرمایا گیا تھا کہ ہم نے پہلے لوگوں کی بھی آزمائش کی ہے اسی کی تصدیق اور تفصیل کے لئے یہاں سے حضرت نوح ( علیہ السلام) اور دوسرے انبیا ( علیہ السلام) کے واقعات نقل کئے جا رہے ہیں اور اس سے آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا بھی مقصود ہے۔ (قرطبی۔ شوکانی) 4 ۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) کے اپنی قوم کو سمجھانے کی مدت ساڑھے نو سو سال تھی۔ ظاہر ہے کہ منصب نبوت پر سرفراز ہونے سے پہلے بھی انہوں نے عمر ایک حصہ گزارا ہوگا اور طوفان کے بعد بھی زندہ رہے ہوں گے۔ اس لئے مفسرین میں سے بعض ان کی کل عمر 1400 اور بعض 1700 سال بتاتے ہیں۔ بہرحال ان کی عمر کم سے کم ایک ہزار سال تو ہونی ہی چاہیے۔ (شوکانی) بائیبل نے ان کی کل عمر 950 سال بتائی ہے۔
Ayah 29:15

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَصْحٰبَ السَّفِیْنَةِ وَ جَعَلْنٰهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:15 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کو بچا دیا اور جو اس کے ساتھ کشتی میں سوار تھے ہم نے اس کشتی کو سارے جہان کے لئے خدا کی قدرت کی ایک5 ایکنشانی بنایا

5 ۔ وہ صدیوں تک جودی پہاڑ کی چوٹی پر موجود رہی اور بعد کی نسلوں کو خبر دیتی رہی کہ اس سرزمین میں کبھی ایسا طوفان آیا تھا۔ جس کی بدولت یہ اتنی بڑی کشتی پہاڑ کی چوٹی پر پہنچی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” وجعلناھا “ میں ” ھا “ کی ضمیر اس واقعہ یا عذاب کے لئے قرار دی جائے۔ (شوکانی)
Ayah 29:16

وَ اِبْرٰهِیْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:16 in the Quran reader

اور ابراہیم کو (بھی بھیجا) جب اس نے اپنی قوم سے کہا اللہ تعالیٰ کو پوجو اور اس سے ڈرو6 اگر تم سمجھو تو یہ ایمان لانا تمہارے لئے بہتر ہے دنیا اور آخرت میں7 تم کو

6 ۔ یعنی اس کے ساتھ شرک اور اس کی نافرمانی کرنے سے ڈرو۔ 7 ۔ اور شرک میں کسی طرح کی کوئی بہتری نہیں ہے یا ” اگر تمہیں کچھ بھی علم ہے “ جس سے تم خیر و شر میں تمیز کرسکو۔ (شوکانی)
Ayah 29:17

اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:17 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کے سوا بس بتوں کو پوجتے ہو اور آپ ہی ان کو تراش کر بنا لیتے ہو یا جھوٹی8 باتیں بناتے ہو) جن دیوتائوں کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو وہ تم کو روزی دینے کا کچھ اختیار نہیں رکھتے اگر تم کو روزی مانگنا ہے تو اللہ تعالیٰ سے روزی مانگو اور اسی کو پوجو اور اسی کا شکر کرو اور اسی کی طرف تم کو لوٹ جانا ہے9

8 ۔ جو ان بتوں کو خدا کا شریک قرار دیتے ہو۔ بلکہ تمہارا ان بتوں کو گھڑنا خود ایک جھوٹ گھڑنا ہے۔ 9 ۔ نہ کہ کسی اور کی طرف، لہٰذا تمہارا انجام اور تمہاری عاقبت سنوارنا بھی صرف اسی کے اختیار میں ہے۔
Ayah 29:18

وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 29:18 in the Quran reader

اور اگر تم مجھ کو جھٹلائو تو کوئی نئی بات نہیں) تم سے پہلی کئی امتیں (اپنے پیغمبروں کو) جھٹلا چکی ہیں اور پیغمبر کا کام اور کچھ نہیں کھول کر اللہ کا پیغام پہنچا دینا ہے11

10 ۔ جیسے حضرت نوح ( علیہ السلام) ، ہود اور صالح (علیہم السلام) کی قومیں۔ مگر دیکھ لو کہ ان قوموں نے پیغمبروں کو جھٹلا کر پیغمبروں کا کچھ بگاڑا یا اپنا انجام خود خراب کیا۔ یہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کا کلام ہے یا ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہو اور مخاطب کفار قریش ہوں۔ (شوکانی) 11 ۔ کسی کے ماننے یا نہ ماننے کی اس پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ (وحیدی)
Ayahs 29:19–20

اَوَ لَمْ یَرَوْا كَیْفَ یُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 29:19 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے یہ نہیں سمجھا کہ اللہ تعالیٰ شروع میں کیونکر پیدا کرتا ہے پھر جس نے شروع میں پیدا کیا وہی دوبارہ بھی پیدا کرے گا اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ دونوں اس ان ہیں

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ یُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۚ Open ayah 29:20 in the Quran reader

اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دے (ذرا) زمین میں تو پھر اور دیکھو اللہ تعالیٰ نے پیدائش کو ینکر شوع کی پھر وہی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن پچھلا اٹھان بھی اٹھائے گا آخری پیدائش بھی وہی کرے گا بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ کرسکتا ہے2

1 ۔ بلکہ دوبارہ پیدا کرنا ” نشات اولی “ سے زیادہ آسان ہے۔ جیسے فرمایا : وھو الذی یبداء الخلق ثم یعیدہ و ھو اھون علیہ۔ اور وہی ہے جو خلق کی ابتدا کرتا ہے اور پھر اس کا اعادہ کرتا ہے اور یہ اعادہ (دوبارہ پیدا کرنا) اس کے لئے آسان تر ہے۔ (روم :27) 2 ۔ مطلب یہ ہے کہ پہلی پیدائش کیا کم عجیب ہے جو باوجود اتنی کثرت کے اپنے رنگ و طبائع اور بولیوں کے اعتبار سے باہم مختلف ہے اور پھر آدمی کس طرح مختلف اطوار کے بعد پیدا ہوتا ہے تو جو پروردگار ایسے عجیب کام کرتا ہے۔ اس کے لئے کیا مشکل ہے کہ انسان کو دوبارہ پیدا کرسکے۔ (وحیدی بتصرف)
Ayahs 29:21–22

یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُقْلَبُوْنَ Open ayah 29:21 in the Quran reader

وہ دوبارہپیدا کرنے کے بعد جس کو چاہے گا عذاب کریگا اور جس پر چاہے گا رحم کرے گا اور اسی کی طرف لوٹائے جائو گے

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ١٘ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ۠ Open ayah 29:22 in the Quran reader

اور تم خدا تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے نہ زمین میں رہ کر نہ آسمان میں3 اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی تمہارا سرپرست حمایتی نہیں نہ مددگار4

3 ۔ یعنی تم اس کی گرفت سے بچ کر کہیں نہیں بھاگ سکتے۔ جہاں ہو گے یا جہاں جائو گے بہرحال اس کی گرفت میں ہو گے۔ (دیکھئے سورة الرحمن آیت 33) اور جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا : ولو کنتم فی بروج مشلۃ (قرطبی) 4 ۔ مطلب یہ ہے کہ نہ تم خود اتنے زور آور ہو کہ کہیں بھاگ کر خدا کی گرفت سے نکل سکو اور نہ تمہارے کوئی حمایتی و مددگار ہیں جو تمہیں خدا کی گرفت سے بچا سکیں۔
Ayah 29:23

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ لِقَآئِهٖۤ اُولٰٓئِكَ یَئِسُوْا مِنْ رَّحْمَتِیْ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 29:23 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی ایٓتوں اور اللہ تعالیٰ سے ملنیکو حشر نشر کو) نہ مانا وہ میری مہربانی سے ناامید ہوئے5 اور ان کو تکلیف کا عذاب ہوگا

5 ۔ یہی وجہ ہے کہ ان پر کوئی نصیحت اثر نہیں کرتی یا قیامت کے دن میری رحمت (جنت) سے مایوس ہوجائیں گے۔ یہ چند آیات کفار مکہ کی تذکیر وتحذیر کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور جملہ معترضہ ہیں۔ ان کے بعد پھر حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کا قصہ شروع ہو رہا ہے۔ (قرطبی)
Ayah 29:24

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 29:24 in the Quran reader

پھر ابراہیم کی قوم نے ان باتوں کا کچھ جواب تو نہ دیا یہی کہا اس کو مار ڈالو یا آگ میں جلا دو اور اس کو آگ میں ڈال دیا اللہ تعالیٰ نے اس کو آگ سے بچایا6 آگ ٹھنڈی ہوگئی بیشک اس میں ابراہیم کے آگ سے بچ جانے میں ایماندار لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بڑی نشانیاں ہیں7

6 ۔ ” ان کو آگ میں ڈال دیا “ کی اگرچہ آیت میں تصریح نہیں ہے لیکن بعد کے جملہ ” اللہ تعالیٰ نے اس کو آگ سے بچا دیا “ سے خود بخود نکلتی ہے۔ باقی رہا آگ کا ٹھنڈا ہونا تو اس کی تصریح سورة انبیا کی اس آیت میں کردی گئی ہے : قلنا یا نارکونی بردا و سلاما علی ابرایم۔ (آیت :69) ہم نے کہا اے آگ ابراہیم ( علیہ السلام) کے لئے ٹھنڈک اور راحت بن جا۔ “ ظاہر ہے کہ اگر حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا ہی نہ گیا ہو تو آگ کو یہ حکم دینے کے کوئی معنی ہی نہیں ہیں اور نہ یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں آگ سے بچا یا۔ 7 ۔ کہ کس طرح حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے اپنے خاندان اور اپنی قوم کی مخالفت مول لی اور بڑی سے بڑی آزمائش کا سامنا کیا حتی کہ آگ میں ڈال دیئے گئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ہر موقع پر ان کی مدد فرمائی اور آگ تک کو ان پر ٹھنڈک اور آرام بن جانے کا حکم دیا۔ (شوکانی وغیرہ)
Ayah 29:25

وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا١ۙ مَّوَدَّةَ بَیْنِكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّ یَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا١٘ وَّ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَۗۙ Open ayah 29:25 in the Quran reader

اور ابراہیم نے جب آگ سے باہر آیا کہا تم تو بس خدا کے سوا جو دیو تائوں کو مانتے ہو تو دنیا کی زندگی میں اپنی دوستی قائم رکھنے کو8 پھر قیامت کے دن تمہارا یہ حال ہونا ہے ایک کو ایک نہ مانے گا اور ایک پر ایک لعنت کرے گا9 اور آخر تمہارا ٹھکانا دوزخ ہوگا اور کوئی تمہاری مدد نہ کرے گا

8 ۔ یعنی اس لئے کہ تمہاری اجتماعیت کی عمارت استوار رہے اور گرنے نہ پائے۔ یعنی تم ڈرتے ہو کہ اگر تم نے ان معبودوں کی پرستش چھوڑ دی تو معاشرے کے لوگ ایک دوسرے سے پھٹ جائیں گے اور باہمی دوستی اور محبت کے علاقے کٹ جائیں گے۔ (شوکانی) 9 ۔ یعنی جب قیامت کے روز عذاب دیکھیں گے تو تمہاری دوستی و محبت کے تمام رشتے کٹ جائیں گے اور تم ایک دوسرے کو ملامت کرو گے، چیلے گروئوں پر لعنت بھیجیں گے۔ اور گرو چیلوں سے لاتعلقی کا اظہار کریں گے۔ تابع اور متبوع ایک دوسرے سے بیزار ہوں گے۔ (دیکھئے بقرہ :166)
Ayah 29:26

فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ١ۘ وَ قَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:26 in the Quran reader

تو لوط اس پر ایمان لایا1 اور ابراہیم نے کہا میں تو وطن چھوڑ کر اپنے مالک کی طرف (جہان اس کو منظور ہو نکل جائوں گا بیشک وہی زبردست ہے حکم والاف 2

1 ۔ یعنی حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کا یہ وعظ سن کر ان کا بھتیجا …الخ 2 ۔ یعنی وہ میری حمایت و حفاظت پر قادر ہے اور اس کے ہر کام میں حکمت ہے۔ قتادہ (رح) کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے ” کو تی “ سے جو کہ کوفہ کی بستیوں میں سے ایک بستی تھی احان کو ہجرت کی اور وہاں سے شام چلے گئے۔ اس سفر میں ان کے ساتھ ان کی بیوی سارہ اور ان کے بھتیجے حضرت لوط ( علیہ السلام) تھے۔ جب حضرت عثمان ؓ نے اپنی بیوی (حضرت رقیہ بنت رسول اللہ ﷺ) سمیت حبشہ کی طرف ہجرت کی تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا :” وہ سب سے پہلے شخص ہیں جنہوں نے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) اور حضرت لوط ( علیہ السلام) کے بعد اپنی بیوی کے ساتھ ہجرت کی۔ (فتح القدیر بحوالہ ابن عساکر وغیرہ)
Ayah 29:27

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:27 in the Quran reader

اور ہم نے (وسن چھوڑنے کے بعد) اس کو اسحاق بیٹا اور یقعوب دیوتا دیا اور اس کی اولاد میں پیغمبری اور اللہ تعالیٰ کی کتابیں3 اترنا قائم رکھا اور ہم نے اس کو دنیا میں بھی اس کی نیکیوں کا بدلہ دیا اور آخرت میں تو وہ نیک بندوں میں ہی ہے4

3 ۔ چناچہ ان کے بعد جتنے انبیا دنیا میں آئے سب انہی کی اولاد میں سے آئے اور یہاں ” الکتاب “ کا توراۃ انجیل اور الفرقان سب کو شامل ہے۔ (قرطبی) 4 ۔ دنیا میں یہ بدلہ دیا کہ انہیں نیک اولاد عطا فرمائی۔ سلسلہ ٔ نبوت کو ان ہی کے خاندان میں جاری کیا اور رہتی دنیا تک ان کا ذکر خیر باقی رکھا۔ چناچہ تمام امتیں چاہے وہ یہودی ہوں یا نصاریٰ یا مسلمان، انہیں اپنا پیشوا مانتی ہیں۔ مسلمان تو ان پر ہر نماز میں درود بھیجتے ہیں اور آخرت میں ان کے نیک بندوں میں سے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھرپور اجر اور علی مرتبہ کے مستحق ہیں۔ اس آیت میں دین حق کی خاطر صبر کرنے میں حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی قتا کی ترغیب پائی جاتی ہے۔ (قرطبی)
Ayahs 29:28–29

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ١٘ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:28 in the Quran reader

اور لوط کو بھی بھیجا جب اس نے اپنی قوم والوں سے کہا تم تو ایسی بےشرمی کا کام کرتے ہو جو تم سے پہلے سارے جہان میں کسی نے نہیں کیا (لواطت اور لونڈے بازی)

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ١ۙ۬ وَ تَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْكُمُ الْمُنْكَرَ١ؕ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 29:29 in the Quran reader

کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے صحبت کرتے ہو اور رستہ لوٹنے ہو مسافروں کو ساتتے ہو اور اپنی مجلس میں برا کام کرتے ہو5 پھر اس کی قوم نے ان باتوں کا، کوئی جواب نہیں دیا یہی کہنے لگے اگر تو سچا ہے تو اللہ تعالیٰ کا عذاب ہم پر لے آ6

5 ۔ یعنی فحش اور بدکاری کے کام چھپ کر ہیں بلکہ اپنی مجلسوں میں کھلم کھلا، ایک دوسرے کے سامنے، کرتے ہو۔ اسی کو سورة نمل میں یوں فرمایا : اتاتون الفاحشۃ وانتم تبصرون۔ کیا تم اسی طرح بدکاری کا ارتکاب کرتے ہو کہ آنکھوں سے (اسے ہوتا) دیکھ رہے ہوتے ہو “ ؟ (آیت 54) 6 ۔ سورة اعراف میں ہے : فما کان جواب قومہ الا ان قالوا اخرجوھم من قربتکم۔ پھر ان کی قوم والوں نے کوئی جواب (ان باتوں کا) نہ دیا۔ یہی کہنے لگے کہ انہیں اپنی بستی سے نکال دو ۔ (کذافی سورة نمل) اور یہاں ان کا جواب یہ نقل کیا گیا ہے کہ اگر تم سچے ہو تو عذاب لے آئو۔ ہوسکتا ہے کہ پہلے تو حضرت لوط ( علیہ السلام) کے سمجھانے پر انہوں نے بستی سے نکال دینے کی دھمکی دی ہو اور پھر تنگ آ کر عذاب کا مطالبہ کردیا ہو۔ یا ممکن ہے ترتیب اس کے برعکس ہو۔ واللہ اعلم۔ (شوکانی)
Ayahs 29:30–31

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 29:30 in the Quran reader

لوط نے (عاجز ہو کر) دعا کی یا میرے خدا ان فسادی لوگوں پر میری مدد کر (ان کو تباہ اور برباد کر یہ ماننے والے نہیں

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ١ۚ اِنَّ اَهْلَهَا كَانُوْا ظٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 29:31 in the Quran reader

اور ایسا ہوا کہ جب ہمارے فرشتے ابراہیم کو لڑکا پیدا ہونے کی خوشخبری دینے آئے تو انہوں نے ذکر کیا ہم خدا کے حکم سے اس بستی سدوم والوں کو تباہ کریں گے یہ بستی والے بڑے شر پر ہیں7

7 ۔ سورة ہود اور حجر میں اس کی تفصیل بیان کی گئی ہے کہ جو فرشتے قوم لوط کو تباہ کرنے بھیجے گئے۔ وہ پہلے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے ہاں حاضر ہوئے اور انہوں نے حضرت سارہ ( علیہ السلام) کو حضرت اسحاق ( علیہ السلام) اور ان کے بعد حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کی خوشخبری دی اور پھر حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے دریافت کرنے پر بتایا کہ ہمیں قوم لوط ( علیہ السلام) پر عذاب نازل کرنے بھیجا گیا ہے۔
Ayah 29:32

قَالَ اِنَّ فِیْهَا لُوْطًا١ؕ قَالُوْا نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْهَا١٘ٙ لَنُنَجِّیَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ۗ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:32 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا اس بستی میں تو لوط بھی رہتا ہے تم اس کو کیسے تباہ کرو گے انہوں نے کہا ہم کو خوب معلوم ہے جو لوگ اس بستی میں ہیں ہم لوط اور اس کے گھر والوں کو بچا دیں گے ایک اس کی جو رو البتہ رہنے والوں میں رہ جائے گی1

1 ۔ اور انہی کے ساتھ تباہ ہوگی۔
Ayah 29:33

وَ لَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالُوْا لَا تَخَفْ وَ لَا تَحْزَنْ١۫ اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَ اَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:33 in the Quran reader

اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس پہنچے تو وہ ان (کے آنے) سے ناخوش ہوا اور اس کا دل تنگ ہوگیا2 اور فرشتے کہنے لگے تو ڈر نہیں اور رنج نہ کر3 ہم تجھ کو اور تیرے گھر والوں کو (عذاب سے) بچا دیں گے البتہ تیری جو رو رہنے والوں میں شریک ہے (وہ عذاب میں مبتلا ہوگی)

2 ۔ کہ یہ فرشتے خوبصورت مردوں کی شکل میں آئے تھے اور حضرت لوط کو اپنی قوم کے اخلاق و عادات کا علم تھا۔ اس لئے وہ ان مہمانوں کو دیکھ کر سخت پریشان ہوئے کہ ان مہمانوں کو قوم کے غنڈوں سے کیونکر بچائوں گا۔ 3 ۔ یعنی اس بات سے نہ ڈرو کہ قوم کے غنڈے ہمارا کچھ بگاڑ سکیں گے اور نہ اس بات کا رنج (فکر) کرو کہ ہمیں ان کے قابو میں آنے سے کیونکر بچایا جائے کیونکہ ہم انسان نہیں، فرشتے ہیں جو اس قوم پر عذاب نازل کرنے بھیجے گئے ہیں۔ اتمام حجت کے لئے ہم ان شکلوں میں آئے ہیں۔ سورة ہود میں یہ تصریح ہے کہ فرشتوں نے یہ بات اس وقت کہی جب غنڈے حضرت لوط ( علیہ السلام) کے گھر آدھمکے اور مطالبہ کرنے لگے ان لڑکوں کو ہمارے حوالے کردیا جائے۔ اس وقت حضرت لوط ( علیہ السلام) پریشان ہو کر پکار اٹھے : لو ان لی بکم قوۃ اوا دی الی رکن شدید اس پر فرشتوں نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا : یا لوط انا رسل ربک لن یصلوا الیک۔ اے لوط ( علیہ السلام) ، ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں یہ لوگ تم تک ہرگز نہ پہنچ سکیں گے۔ (ابن کثیر وغیرہ)
Ayahs 29:34–35

اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 29:34 in the Quran reader

ہم ان بستی والوں پر انکے برے کاموں کی سزا میں آسمان سے عذا اتاریں گے (پتھر برسائیں گے)

وَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةًۢ بَیِّنَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 29:35 in the Quran reader

اور ہم نے عقلمند لوگوں کے لئے اس بستی میں سے ایک کھلا نشان چھوڑ دیا4

4 ۔ تاکہ اس سے عبرت حاصل کریں کھلی نشانی سے مراد وہ پتھر بھی ہیں جو آسمان سے برسے تھے اور اس سرزمین میں موجود ہوں گے اور بقول مجاہد (رح) وہ کالا پانی بھی جو اس سرزمین میں ایا جاتا ہے اور ان دنوں ” بحر لوط “ یا ” بحرمیت “ کے نام سے مشہور ہے۔ (شوکانی) اس کھلی نشانی کے متعلق سورة حجر میں ارشاد ہے وانھا لسبیل مقیم۔ اور یہ بستی تو سیدھے راستہ پر ہے۔ (آیت 76) اور سورة صافات میں ہے : ” وانکم لتمرون علیھم لمصبحین بالیل۔ اور ” تم صبح اور رات کے وقت ان کے پاس سے گزرتے ہو۔ “ (آیت 137)
Ayahs 29:36–37

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ۙ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 29:36 in the Quran reader

اور ہم نے مدین والوں کی طرف ان کے بھائی شعیب پیغمبر کو بھیجا اس نے کہا بھائیو اللہ کو پوجو اور آخرت کے دن کا خیال رکھو اور ملک میں اتنا بہت دھند اندھیر مت مچائو

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ٘ Open ayah 29:37 in the Quran reader

انہوں نے شعیب کو جھٹلایا آخر بھونچال نے ان کو آدبایا تو اپنے گھروں میں مر کر اوندھے رہ گئے5

5 ۔ تفصیل کے لئے دیکھئے سورة اعراف رکوع 11، سورة ہود رکوع 8 مع حواشی۔
Ayah 29:38

وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ قَدْ تَّبَیَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ١۫ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ كَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَۙ Open ayah 29:38 in the Quran reader

اور عاد اور ثمود کی قوموں کو بھی ہم نے تباہ کیا اور ان کے اجڑے گھر اب تک تم کو شام کے رستے میں دکھائی دیتے ہیں6 اور شیطان نے کیا کیا ان کے برے کاموں کو انہیں اچھا کر دکھایا اور اس فریب سے ان کو سچی راہ سے روک دیا توحید کی راہ سے اور وہ اچھے خاصے ہوشیار لوگ تھے7

6 ۔ شام کے راستے میں خیبر و تیما سے تبوک تک قوم ثمود کے آثار پائے جاتے ہیں اور قوم عاد کے آثار جزیرہ عرب کے جنوبی علاقہ میں، جو احقاف اور حضرموت کے نام سے مشہور ہے، پائے جاتے ہیں۔ اب اگر یہ آثار مٹ چکے ہوں تو نزول قرآن کے زمانہ میں تو ضرور پائے جاتے ہوں گے اور عرب کا بچہ بچہ ان سے واقف ہوگا۔ 7 ۔ یعنی جاہل اور بدھو قسم کے لوگ نہ تھے۔ بڑے ہنر مند اور ترقی یافتہ تھے اور اپنے دنیوی معاملات بڑی ہوشیاری اور زیرکی سے سرانجام دیتے تھے مگر شیطان نے ان کی عقلوں پر پردہ ڈال دیا تھا اس لئے وہ دین کی سچی راہ نہ پا سکے۔
Ayahs 29:39–40

وَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ١۫ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانُوْا سٰبِقِیْنَۚۖ Open ayah 29:39 in the Quran reader

اور قارون اور فرعون اور ہامان (کو بھی ہم نے برباد کیا۔ اور ان کے پاس موسیٰ کھلی نشانیاں لے کر آیا پر وہ ملک میں اکڑتے ہی رہے اللہ کو نہ مانا) اور ہم سے بچ کر آگے نہ جاسکے

فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِ حَاصِبًا١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّیْحَةُ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا١ۚ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 29:40 in the Quran reader

ہم نے ان کو پکڑ لیا اور مار ڈالا تو ہم نے ان لوگوں میں سے جن کا ذکر اوپر ہوا ہر ایک کو اس کے قصور کی سزا میں پکڑ لیا ان میں سے بعضوں پر تو ہم نے پتھرائو کیا (لوط کی قوم پر) اور بعضوں کو چنگاڑنے نے آدابا ثمود اور مدین والوں کو اور بعضوں کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا قارون اور اس کے ساتھیوں کو بعضوں کو ہم نے پانی میں ڈبو دیا1 اور بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر کیوں ظلم کرنے لگا تھا کہ ناحق ان کو برباد کرتا مگر وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے2

1 ۔ حضرت نوع ( علیہ السلام) کی قوم اور فرعون اور اس کے ساتھیوں کو جن میں ہامان بھی شامل تھا۔ 2 ۔ شرک اور مختلف انواع کے جرائم میں مبتلا تھے۔ اپنی فطرت کو بھی مسخ کرلیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف جو پیغمبر بھیجے ان کی بھی ایک نہ سنی۔