28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 28:1–2

طٰسٓمّٓ Open ayah 28:1 in the Quran reader

9 ۔ یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی۔ بعض کہتے ہیں کہ اس کی آیت : ” ان الذی فرض علیک القران لراوک الی معاد “ ہجرت کے بعد جحفہ میں اتری۔ بعض کہتے ہیں کہ اس میں ” الذی اتیناھم الکتاب “ سے ” لانیتغی الجاھلین “ کا حصہ مدنی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے دوسری روایت یہ بھی ہے کہ یہ سورة اور حدید کا آخری حصہ اصحاب نجاشی کے متعلق نازل ہوا جو جنگ احد کے موقع پر مدینہ آئے۔

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 28:2 in the Quran reader

یہ سورت آیتیں میں کھل کتاب کی1

1 ۔ یعنی جو حق کو باطل سے واضح کرنے والی ہے یا جو اپنا مدعا بیان کرنے میں واضح ہے۔
Ayah 28:3

نَتْلُوْا عَلَیْكَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰى وَ فِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:3 in the Quran reader

اے پیغمبر ہم ایماندروں کے فائدے کے لئے تجھ کو موسیٰ اور فرعن کا سچا قصہ سناتے ہیں2

2 ۔ ” یعنی مسلمان اپنا حال قیاس کرلیں ظالموں کے مقابلہ میں۔ “ مطلب یہ ہے کہ اس قصہ میں مسلمانوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے ذریعہ بنی اسرائیل کو کمزور ہونے کے باوجود فرعون کے مقابلہ میں کامیاب کیا اسی طرح اب جو مسلمان مکہ میں کمزور اور مغلوب ہیں انہیں بھی ان کے دشمنوں کے مقابلہ میں کامیاب کرے گا۔ اس کے بعد ” ان فرعون “ سے اسی قصہ کی تفصیل شروع ہو رہی ہے۔ (روح)
Ayah 28:4

اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَهْلَهَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَآئِفَةً مِّنْهُمْ یُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَ یَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:4 in the Quran reader

فرعون جو مصر کا بادشاہ تھا ملک میں بڑھ چڑھ رہا تھا (بڑا مغور ہوگیا تھا اس نے وہاں کے لوگوں کے الگ الگ جتھے کردیئے تھے ان میں سے ایک جتھے بنی اسرائیل کو کمزور سمجھ کر یہ ظلم3 پر توڑ تاکہ) ان کے بیٹوں کو کاٹ ڈالتا اور یٹیوں کو زندہ چھوڑ دیتا4 بیشک وہ بڑا فسادی تھا

3 ۔ مصر میں ” قبطی “ بھی آباد تھے، جو فرعون کی اپنی قوم تھی اور ” بنی اسرائیل “ بھی۔ فرعون نے اپنی پالیسی یہ رکھی کہ قبطی آقا بن کر رہیں اور بنی اسرائیل غلام اور خدمتگار بن کر۔ 4 ۔ کیونکہ اس نے خواب دیکھا تھا جس کی تعبیر میں وقت کے نجومیوں نے انہیں بتایا کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو تیری بادشاہی چھین لے گا۔ (دیکھئے سورة بقرہ :49)
Ayah 28:5

وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَئِمَّةً وَّ نَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِیْنَۙ Open ayah 28:5 in the Quran reader

فرعن کا تو یہ خیال تھا اور ہم یہ چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور ہیں بنی اسرائیل ان پر احسان کریں اور ان کو سردار بنائیں سرفرازی کریں اور انہی کو بادشاہت کا وارث ٹھہرائیں5

5 ۔ یعنی فرعون اور اس کی قوم کو جو غلبہ و اقتدار حاصل ہے وہ آئندہ انہیں حاصل ہو اور فرعون کی سلطنت کے وارث بنیں۔ (اعراف :137)
Ayah 28:6

وَ نُمَكِّنَ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ نُرِیَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَحْذَرُوْنَ Open ayah 28:6 in the Quran reader

اور انہی کو ملک میں جمائیں اور فرعون اور اس کے وزیر ہامان اور ان کی فوجوں کو بنی اسرائیل کے ہاتھوں سے وہ بات دکھلائیں جس کا ان کو ڈر تھا6

6 ۔ اور وہ یہ کہ کہیں نجومیوں کا کہنا سچ نہ نکلے اور بنی اسرائیل ہمارے ملک و مال کے وارث نہ ہوجائیں۔ (قرطبی)
Ayah 28:7

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى اَنْ اَرْضِعِیْهِ١ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَیْهِ فَاَلْقِیْهِ فِی الْیَمِّ وَ لَا تَخَافِیْ وَ لَا تَحْزَنِیْ١ۚ اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَیْكِ وَ جَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:7 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کی ماں یو خاند) کو وحی بھیجی کہ تو اس کو7 چار مہینے باتیں مہینے یا (مہینے تک دودھ پلاتی رہ جب تجھ کو اس پر ڈر پیدا ہو کہ فرعون کو خبر ہوجائے گی تو ایک صندوق بند کر کے اس کو دریا میں ڈال دے نیل میں اور ڈر نہیں نہ رنج کر ہم (عنقریب) اکو پتھر تریے پاس لے آئیں گے اور اس کو پیغمبر بنائیں گے

7 ۔ یعنی انہیں الہام کیا، یا ان کے دل میں ڈالا، یا، انہیں خواب دکھایا۔ بہرحال ان کی طرف یہ وحی اعلام تھی وحی نبوت نہ تھی کیونکہ اس پر تمام علما کا اجماع ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کی والدہ نبی تہ نہ تھیں۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی والدہ کے پاس فرشتہ آیا۔ اس صورت میں بھی یہی کہا جائے گا کہ فرشتے تو غیر انبیا کے پاس بھی آجاتے ہیں۔ چناچہ صحیحین میں گنجے، کوڑھی اور نابینا کا قصہ مذکور ہے کہ ان کے پاس فرشتہ آیا اور ان سے ہمکلام ہوا۔ صحیح حدیث میں یہ بھی ہے کہ فرشتوں نے حضرت عمران ؓ بن حصین کو سلام کیا لیکن اس سے وہ نبی نہیں بن گئے۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی والدہ کا نام بعض نے ایارفت ار بعض نے لوحا لکھا ہے۔ (قرطبی، شوکانی)
Ayah 28:8

فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا١ؕ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِئِیْنَ Open ayah 28:8 in the Quran reader

موسیٰ کی ماں نے ان کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا تو فرعون کے گھر والوں نے یا فرعون کے لوگوں نے اس کو اٹھا لیا ان کو خبر نہ تھی کہ وہ8 آگے جل کر انکار دشمن اور رنج دینے والا ہوگا کیونکہ فرعون اور ہامان اور ان کے سپاہی (لشکر والے) قصور وار تھے

8 ۔ لفظی ترجمہ یوں ہے :” تاکہ وہ ان کا دشمن اور ان کے لئے باعث رنج بنے۔ “ لیکن مطلب وہ ہے جو متن میں بیان کیا گیا ہے۔ یا یہ کہ ان کے اٹھانے کا نتیجہ یہ ہونا تھا کہ وہ (حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) ان کے لئے دشمن اور باعث رنج ہوں۔ اس لام کو عربی زبان میں لام عاقبت کہا جاتا ہے۔ (قرطبی)
Ayah 28:9

وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَ لَكَ١ؕ لَا تَقْتُلُوْهُ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 28:9 in the Quran reader

اور فرعون کی جو رو اسیریت مزاحم اپنے خاوند سے اکسنے لگی یہ میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈ ہے پیارا بچہ ہے اس کو مت مارو شاید بڑا ہو کر ہمارے کام آئے ہمارے لئے مبارک ہو یا ہم اس کو بیٹا بنالیں اور ان لوگوں کو انجام کی خبر نہ تھی1

1 ۔ یعنی انہیں خبر نہ تھی کہ بڑا ہو کر کیا کریگا۔ انہوں نے خیال کیا کہ بنی اسرائیل میں سے کسی نے ڈر کے مارے اسے دریا میں ڈال دیا ہوگا ایک لڑکا نہ مارا تو کیا ہوا۔ “
Ayah 28:10

وَ اَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا١ؕ اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِیْ بِهٖ لَوْ لَاۤ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰى قَلْبِهَا لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:10 in the Quran reader

اور موسیٰ کی ماں کا دل (صبر سے) خالی ہوگیا2 وہ تو قریب تھی موسیٰ کا حال کھول دے اگر وہ میرا بیٹا ہے اگر ہم نے اس کے دل پر اس کا ایمان قائم رکھنے کے لئے گرہ نہ باندھ دی ہوتی3

2 ۔ یعنی بیٹے کی جدائی میں ایسی بےقرار ہوئیں کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کے سوا کسی اور چیز کا خیال دل میں نہ رہا، یا وہ اللہ کی وحی کے سبب مطمئن تھیں۔ (شوکانی) 3 ۔ یعنی ہم نے جو اس سے وعدہ کیا تھا کہ ” انا رادوہ الیک “ اس کو عنقریب تیرے پاس لے آئیں گے۔ “ اس پر اس کا ایمان پختہ رکھنے کے لئے اگر ہم نے ان کی ڈھارس نہ بندھائی ہوتی تو وہ لوگوں پر اپنا راز فاش کر بیٹھتیں۔ (شوکانی)
Ayah 28:11

وَ قَالَتْ لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ١٘ فَبَصُرَتْ بِهٖ عَنْ جُنُبٍ وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 28:11 in the Quran reader

اور صندوق کو دریا میں ڈالتے وقت موسیٰ کی ماں نے موسیٰ کی بہن (مریم یا کا تمہ یا کلثوم) سے کہا اس کے پیچھے پیچھے جا (دیکھ وہ بہہ کر کہاں جاتا ہے وہ اجنبی کو ری ابن کر اس کو دیکھتی رہی یا دور سے دیکھتی رہی اور فرعون کے لوگوں کو یہ خبر نہ تھی

4 ۔ کہ وہ بچے کی بہن ہے اور یہ معلوم کرنے کے لئے ساتھ ساتھ چلی آرہی ہے کہ اسے کون اٹھاتا ہے اور کدھر لے جاتا ہے ؟
Ayah 28:12

وَ حَرَّمْنَا عَلَیْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰۤى اَهْلِ بَیْتٍ یَّكْفُلُوْنَهٗ لَكُمْ وَ هُمْ لَهٗ نٰصِحُوْنَ Open ayah 28:12 in the Quran reader

اور ہم نے تو پہلے یہ تدبیر کر رکھی تھی کہ موسیٰ پر سوار اپنی ماں کے دوسرے گویا حرام کردیئے5 موسیٰ کی بہن یہ حال دیکھ کر کہنے لگی میں تم کو ایک گھر والے بتائوں جو اس بچے کو اچھی طرح تمہارے لئے پالیں گے وہ بچہ کی بھلائی چاہیں گے

5 ۔ یعنی فرعون کے گھر والے جس انا کو بھی دودھ پلانے کے لئے بلاتے بچہ اس کی چھاتی کو منہ تک نہ لگاتا۔
Ayah 28:13

فَرَدَدْنٰهُ اِلٰۤى اُمِّهٖ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ وَ لِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 28:13 in the Quran reader

پھر ہم نے مٹی کو اس کی ماں کے پاس پہنچا دیا6 اس لئے کہ اس کی آنکھ اپنے بیٹے کو دیکھ کر ٹھنڈی ہو اور اس کو اپنے بچے کی جدائی کا رنج نہ رہے اور وہ سمجھ لے کر اللہ تعالیٰ کا8 وعدہ سچا ہے مگر دنیا میں اکثر لوگ یہ نہیں جانتے

6 ۔ بیچ میں ذکر چھوڑ دیا گیا کہ اس کے بعد فرعون کے گھر والوں نے حضرت موسیٰ کی بہن سے پچھا کہ ” وہ کون گھر والے ہیں ؟ “ اس نے جواب دیا ” میری ماں “” انہوں نے کہا :” اس کے دودھ کہاں سے آیا ؟ وہ بولی ” میرے بھائی ہارون کا دودھ ہے “ آخر اس کی والدہ کو بلایا گیا اور جونہی انہوں نے بچہ کے منہ سے اپنی چھاتی لگائی بچہ خوش ہو کر دودھ پینے لگا۔ پھر وہ بچے کو اپنے گھر لے آئیں اور وہیں رہ کر ان کی پرورش کرنے لگیں۔ اس طرح حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اپنی ماں کے پاس واپس پہنچ گئے۔ (قرطبی) 7 ۔ جو اس نے فرمایا تھا کہ ہم موسیٰ ( علیہ السلام) اور واپس تیرے پاس بھجوا دینگے۔ حدیث میں ہے :” جو شخص اپنی روزی کمانے کے لئے کام کرے اور اس کام میں اس کے پیش نظر اللہ کی خوشنودی ہو اس کی مثال حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی والدہ کی ہے جو اپنے بیٹے کو دودھ بھی پلاتی تھیں اور اجرت بھی پاتی تھیں۔ (ابن کثیر) 8 ۔ یعنی تقدیر الٰہی کی حکمتوں کو نہیں سمجھتے۔ چناچہ اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہجونہی کسی کام میں کوئی پیچ پڑجاتا ہے اللہ تعالیٰ سے بدظ ہوجاتے ہیں اور انہیں اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر یقین نہیں رہتا۔ حالانکہ اس کا وعدہ خلاف نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ اسباب کو کچھ اس طرح پھیر کر لاتا ہے جو انسانی سمجھ سے باہر ہے اور جس چیز کا گمان بھی نہیں ہوتا اسے ظاہر کرتا ہے۔ (وحیدی)
Ayah 28:14

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ اسْتَوٰۤى اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 28:14 in the Quran reader

اور جب9 موسیٰ اپنی جوانی پر آیا ہوش سنبھالا چالیں برس کا ہوا تو ہم نے اس کو حکمت اور سمجھ عنایت فرمائی پیغمبر اور دین کا علم اور نیکیوں کو ہم ان کی نیکی کا ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں

9 ۔ عموماً جوانی کی کم سے کم عمر 18 سال، اور زیادہ سے زیادہ 34 سال شمار ہوتی ہے۔ (شوکانی) مگر قرآن میں چالیس برس مذکور ہیں۔ دیکھئے احقاف :15 ۔
Ayah 28:15

وَ دَخَلَ الْمَدِیْنَةَ عَلٰى حِیْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا فَوَجَدَ فِیْهَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلٰنِ١٘ۗ هٰذَا مِنْ شِیْعَتِهٖ وَ هٰذَا مِنْ عَدُوِّهٖ١ۚ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِیْ مِنْ شِیْعَتِهٖ عَلَى الَّذِیْ مِنْ عَدُوِّهٖ١ۙ فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَیْهِ١٘ۗ قَالَ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:15 in the Quran reader

اور ایسا10 ہوا کہ ایک دن موسیٰ جب شہر والے بیخبر تھے شہر میں گیا11 دیکھا تو وہاں دو آدمی لڑ رہے ہیں ایک تو اس کی قوم بنی اسرائیل کا تھا اور دوسرا اس کے دشمن گروہ کا قبطی پھر جو موسیٰ کا ہوم قوم تھا اس نے اس شخص کے مقابلے پر جو موسیٰ کے دشمن گروہ میں تھا موسیٰ سے مدد چاہی موسیٰ نے اس کو قبطی کو ایک مکا مارا گھونسا لگایا اور اس کا کام تمام کردیا کہنے لگا یہ تو شیطانی حرکت ہوئی بیشک شیطانی آدمی کا کھلم کھلا بہکانے والا دشمن ہے1

10 ۔ جیسا حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی والدہ کو ان کے صبر اور نیکی پر دیا۔ 11 ۔ یعنی شہر میں سناٹا تھا۔ ہوسکتا ہے کہ صبح کا وقت ہو یا گرمیوں کی دوپہر یا سردیوں کی رات کا۔ عموماً مفسرین (رح) نے دوپہر کا وقت لکھا ہے۔ بعض نے لکھا ہے کہ لوگوں سے چھپ کر اور ان کی لاعلمی میں۔ “ کیونکہ اس وقت حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرعون کی مخالفت شروع کر رکھی تھی اور فرعون کو بھی پتا چل گیا تھا اس لئے شہر میں چھپ کر آئے۔ (قرطبی) 1 ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا ارادہ قتل کا نہ تھا نہ قتل کے لئے گھونسا مارا جاتا ہے اور نہ کوئی شخص محض گھونسے سے مرتا ہے۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے اسے صرف تادیب اور گوشمالی کے لئے گھونسا مارا تھا مگر وہ اتنا کمزور اور بزدل نکلا کہ محض ایک گھونسے سے دم توڑ گیا۔ اس پر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نادم ہوئے اور اپنی حرکت کو شیطانی حرکت قرار دیا۔
Ayah 28:16

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 28:16 in the Quran reader

موسیٰ نے دعا کی مالک میہ سے میں نے اپنی جان پر ستم کیا مجھ سے نادانستہ ایک خون ہوگیا تو میرا قصور معاف کر دے مالک نے اس کا قصور معاف کردیا بیشک وہ بخشنے والاف 2 مہربان ہے

2 ۔ گو عام لوگوں کے حق میں یہ (یعنی نادانستہ قتل) کوئی گناہ نہ تھا مگر پیغمبروں کی شان بڑی ہے۔ ان کی شان کے لحاظ سے یہ بےاحتیاطی بھی مناسب نہ تھی اس لئے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے اسے گناہ سمجھا اور اس پر اللہ تعالیٰ کے حضور معافی کے خواستگار ہوئے۔ چناچہ انہیں معافی دے دی گئی مگر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اس کے بعد بھی نادم ہے اور قیامت کے دن اپنی ندامت کا اظہار ان الفاظ میں کریں گے : انی قتلت نفسا لم اومر بقتلھا کہ میرے ہاتھ سے ایک ایسا شخص قتل ہوگیا تھا جس کو قتل کرنے کا مجھے حکم نہیں دیا گیا تھا۔ (شوکانی)
Ayah 28:17

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 28:17 in the Quran reader

موسیٰ نے عرض کیا مالک میرے نے جو مجھ پر احسان کیا کہ میرا قصور معاف کردیا تو آئندہ میں کبھی مجرموں کی مدد نہ کروں گا3

3 ۔ ممکن ہے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی مراد اس اسرائیلی ہی سے ہو اور اسی کو آپ نے مجرم قرار دیا ہو جس کی آپ نے مدد کی تھی کیونکہ وہ جرم کا سبب بنا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے ” مجرمین “ سے فرعون اور اس کی قوم کے لوگ مراد لئے ہوں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نافرمان اور مجرم تھے اور ان کے اللہ تعالیٰ کے حضور عہد کرنے کا مطلب یہ ہو کہ تو نے مجھے جو نعمت عزت اور راحت و قوت عطا فرمائی ہے اسی کا شکریہ ہے کہ اسے ان لوگوں کی حمایت و اعانت میں صرف نہ کروں۔ ان سے اپنا تعلق منقطع کرلوں اور اس ظالم حکومت کا کل پرزہ نہ بنوں۔ ابن جریر (رح) اور بہت سے دوسرے مفسرین (رح) نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) ۔ اس عہد کا یہی مطلب لیا ہے اور حافظ ابن کثیر (رح) نے بھی اسی کے مطابق تفسیر کی ہے۔ (شوکانی)
Ayah 28:18

فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَةِ خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِی اسْتَنْصَرَهٗ بِالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُهٗ١ؕ قَالَ لَهٗ مُوْسٰۤى اِنَّكَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:18 in the Quran reader

صبح کو ڈرتے ڈرتے انتظار کی حالت میں شہر میں گیا4 دیکھ تو وہی شخص جس نے کل موسیٰ سے مدد مانگی تھی پھر اس کی دہائی دے رہا ہے5 موسیٰ نے اس سے کہا تو کھلا بدمعاش ہے6

4 ۔ یعنی ذہن میں یہ خیال رکھتے ہوئے کہ دیکھو کیا ہوتا ہے اور کہاں پکڑ لیا جاتا ہوں ؟ 5 ۔ یعنی اب ایک اور قبطی سے لڑ رہا ہے۔ اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی مدد چاہتا ہے۔ (قرطبی) 6 ۔ جو ہر روز کسی نہ کسی سے لڑتا جھگڑتا رہتا ہے کل ایک شخص سے لڑ رہا تھا اور آج دوسرے سے جھگڑا ہوں لئے کھڑا ہے۔ مطلب یہ تھا کہ کل تیرے سبب سے میں ایک جان کو قتل کرچکا ہوں۔ (قرطبی)
Ayah 28:19

فَلَمَّاۤ اَنْ اَرَادَ اَنْ یَّبْطِشَ بِالَّذِیْ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا١ۙ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِالْاَمْسِ١ۖۗ اِنْ تُرِیْدُ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ جَبَّارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَا تُرِیْدُ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 28:19 in the Quran reader

جب موسیٰ نے اس پر ہاتھ ڈالنا چاہا جو ان دونوں کا یعنی موسیٰ کا اور بنی اسرائیل کے اس شخص کا دشمن تھا یعنی اس دوسرے قطبی پر تو بنی اسرائیل کا شخص کہنے لگا اے موسیٰ کیا تو نے کل جیسے ایک شخص کو مار ڈالا مجھ کو بھی چاہتا ہے مار ڈالے7 (معلوم ہوتا ہے بس تو یہی چاہتا ہے کہ ملک بھر میں زور زبردستی مار دھاڑ کرتا پھرے اور تو بھلا آدمی بن کر رہنا نہیں چاہتا8

7 ۔ ” تو وہ کہنے لگا “ میں ” وہ “ سے مراد جمہور مفسرین (رح) نے اسرائیلی لیا ہے کیونکہ جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے قبطی کو پکڑنے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو وہ سمجھا کہ شاید مجھ ہی کو پکڑ کر مارنا چاہتے ہیں۔ اس پر اس نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے یہ الفاظ کہے۔ جن مفسرین (رح) نے یہ مطلب لیا ہے اہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس وقت تک اس اسرائیلی اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے سوا کسی شخص کو معلوم نہ تھا کہ کل جو قبطی قتل ہوا ہے اس کا قاتل کون ہے اور قاتل کی تلاش ہو رہی تھی۔ اب جب کہ اس دوسرے قبطی نے اسرائیلی کی زبان سے یہ الفاظ سنے تو اس نے جا کر فرعون کو اطلاع کردی مگر سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ ” وہ “ سے مراد قبطی ہے اور ممکن ہے اس قبطی کو اس اسرائیلی کے ذریعہ معلوم ہوگیا ہو۔ یا وہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے اس اسرائیلی کو ” غوی مبین “ کہنے سے سمجھ گیا ہو کہ کل جو شخص قتل ہوا تھا اس کے قاتل حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) تھے۔ (شوکانی) 8 ۔ ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے یہ بات بھی قبطی ہی کہہ سکتا تھا جو کافر تھا نہ کہ اسرائیلی جو مومن تھا۔ (شوکانی )
Ayah 28:20

وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ یَسْعٰى١٘ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِیَقْتُلُوْكَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 28:20 in the Quran reader

اور ایک شخص شہر کے پرلے سر سے دوڑتا آیا9 اور موسیٰ سے کہنے لگا دربار والیتیرے مار ڈالنے کا مشورہ کر رہے ہیں تو خدا کے واسطے شہر سے نکل جا میں تیرا بھلا چاہتا ہوں10

9 ۔ اس شخص کا نام بعض نے حزقیل، بعض نے شمعون، بعض نے طالوت اور بعض نے سمعان بتایا ہے اور وہ فرعون کا عمزاد بھائی اور موسن تھا۔ واللہ اعلم۔ (قرطبی) 10 ۔ یہ سنایا ہمارے رسول ﷺ کو یہ بھی وطن سے نکلیں جان کے خوف سے، کافر سب اکٹھے ہوئے تھے کہ ان پر مل کر چوٹ کریں۔ اسی رات نکلے ہجرت کر۔ (موضح)
Ayah 28:21

فَخَرَجَ مِنْهَا خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ١٘ قَالَ رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:21 in the Quran reader

یہ سنتے ہی موسیٰ شہر سے نکل بھاگا قدم قدم پر سوچتا ہو انہ پیچھے دیکھتا ہو اب پکڑا گیا اب گرفتار ہوا دعا کرنے لگا مالک میرے مجھ کو ان ظالم لوگوں سے بچا11 دے

11 ۔ جو بےقصور مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں۔ کسی شریعت یا انصاف کے قانون سے ایسی خفیف بےاحتیاطی کی سزا قتل نہیں ہے۔ (وحیدی)
Ayah 28:22

وَ لَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْیَنَ قَالَ عَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یَّهْدِیَنِیْ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 28:22 in the Quran reader

اور جب موسیٰ نے مدین کا رخ کیا تو کہنے لگا مجھ کو امید ہے میرا مالک مجھ کو سیدھا راستہ دکھائے گا1

1 ۔ جو فرعون کی سلطنت سے باہر مصر سے آٹھ دن کی مسافت پر تھا۔ (قرطبی)
Ayah 28:23

وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُوْنَ١٘۬ وَ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَیْنِ تَذُوْدٰنِ١ۚ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا١ؕ قَالَتَا لَا نَسْقِیْ حَتّٰى یُصْدِرَ الرِّعَآءُ١ٚ وَ اَبُوْنَا شَیْخٌ كَبِیْرٌ Open ayah 28:23 in the Quran reader

اور میں امن کے ساتھ مدین پہنچ جائوں اور جب موسیٰ مدین کے کنوئیں پر پہنچا وہاں لوگوں کی ایک بھیڑ دیکھی جو اپنے جانوروں کو اپنی پلا رہے ہیں اور دو عورتوں کو دیکھا جو ان لوگوں سے الگ (یا ایک نشیب میں اپنی بکریوں کو) روک رہی ہیں موسیٰ3 نے ان عورتوں سے کہا تم کیا کر رہی ہو پانی کیوں نہیں پلاتیں وہ کہنے لگیں ہم اپنی بکریوں کو اس وقت پانی نہیں پلاتیں جب تک سب چرواہے4 پانی پلا کر لوٹ نہ جائیں اور ہمارا باپ بوڑھا پھونس ہے5

2 ۔ مدین خلیج عقبہ کے مغربی ساحل پر مقنا سے چند میل بجانب شمال واقع تھا۔ آج کل ” البدع “ کے نام سے مشہور ہے۔ اس کے قریب تھوڑے فاصلے پر وہ جگہ ہے جسے اب مغائر شعیب یا مغارات شعیب کہا جاتا ہے۔ اس جگہ ثمودی طرز کی بعض عمارتیں بھی پائی جاتی ہیں اور اس سے تقریباً ڈیڑھ میل کے فاصلے پر کچھ قدیم کھنڈر واقع ہیں جہاں دو اندھے کنوئیں ہیں۔ ان دونوں میں سے ایک کنواں وہ تھا جس پر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے بکریوں کو پانی پلایا تھا۔ بعض اصحاب کا بیان ہے اور بعض قدیم معجمات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ واللہ اعلم۔ 3 ۔ تاکہ ایسا نہ ہو کہ وہ پانی پینے کے لئے لوگوں کی بکریوں میں گھس جائیں اور پھر گم ہوجائیں۔ 4 ۔ اور ہجوم چھٹ نہ جائے، اس وقت بچا بچایا پانی اپنی بکریوں کو پلا لیتی ہیں۔ (قرطبی) 5 ۔ یعنی اس میں اتنی طاقت نہیں کہ خود بکریوں کے ساتھ آئے اور ڈول نکال کر انہیں پانی پلا سکے۔ گھر میں کوئی دوسرا مرد بھی ہیں ہے اس لئے مجبوراً ہمیں یہ کام کرنا پڑتا ہے۔ قرآن یا حدیث میں اس کی تصریح نہیں ہے کہ ان کے والد کون تھے اور ان کا نام کیا تھا۔ اکثر مفسرین (رح) کا خیال ہے کہ وہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی بیٹیاں تھیں اور بعض نے حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی بھتیجیاں بھی کہا ہے لیکن پہلا قول زیادہ مشہور ہے اور سباق قرآن سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ (شوکانی)
Ayah 28:24

فَسَقٰى لَهُمَا ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّیْ لِمَاۤ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ Open ayah 28:24 in the Quran reader

موسیٰ نے ان کے جانوروں کو پانی پلایا پھر ایک طرف درخت کے سایہ میں ہٹ گیا ببول کا درخت تھا یا موز کا اور دعا کرنے لگا الٰہی اس وقت جو کوئی نعمت تو مجھ پر اتارے میں اس کا محتاج ہوں6

6 ۔ غالباً مراد یہ ہے کہ سخت بھوکا ہوں کچھ کھانے کو دلا۔ بےآسرا۔ اور بےوطن ہوں کوئی ٹھکانہ دے۔ حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) جب مصر سے بھاگے تو ان کے پاس کھانے کی کوئی چیز نہ تھی۔ سبزیاں اور درختوں کے پتے کھا کر راستہ طے کرتے رہے۔ جب مدین پہنچے اور بکریوں کو پانی پلا کر سایہ میں بیٹھے تو بھوک کے مارے ان کا پیٹ پیٹھ سے لگ رہا تھا۔ اس حال میں انہوں نے یہ دعا کی۔ حضرت حسن بصری سے مروی ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے علم و حکمت کیلئے دعا کی تھی اور ” خیر “ سے یہا یہی مراد ہے۔ (ملخص از ابن کثیر)
Ayah 28:25

فَجَآءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِیْ عَلَى اسْتِحْیَآءٍ١٘ قَالَتْ اِنَّ اَبِیْ یَدْعُوْكَ لِیَجْزِیَكَ اَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَا١ؕ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَ قَصَّ عَلَیْهِ الْقَصَصَ١ۙ قَالَ لَا تَخَفْ١۫ٙ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:25 in the Quran reader

کیا دیکھتے ہیں) ان دونوں عورتوں میں سے ایک شرماتی چل آرہی ہے7 اس نے موسیٰ سے کہا میرے باپ نے تجھ کو بلایا ہے تو نے جو ہماری بکریوں کو پانی پلایا ہم پر رحم کر کے اس کی مزدوری دینے کو جب موسیٰ اس کے پاس پہنچا اور سارا قصہ اس کو سنایا تو وہ بولا اب کچھ ڈر نہیں یہاں فرعون کی حکومت نہیں) تو ظالم لوگوں سے بچ گیا

7 ۔ ” شرماتی چلی آرہی ہے “۔ کی تشریح حضرت عمر ؓ نے فرمائی ہے : ” گھونگھٹ سے اپنا چہرہ چھپائے چلی آرہی ہے نہ کہ ان بےباک عورتوں کی طرح جو ہر طرف نکل جاتی ہیں اور ہر جگہ گھس جاتی ہیں۔ (ابن کثیر)
Ayah 28:26

قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا یٰۤاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ١٘ اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ Open ayah 28:26 in the Quran reader

ان دونوں عورتوں میں سے ایک کہنے لگی جو موسیٰ کو لے کر آئی تھی باوا اس کو نوکر رکھ لے بہتر نوکر جو تو رکھنا چاہے وہی ہے جو زور دار امانت دار ہو8

8 ۔ اور یہ دونوں صفات اس شخص میں پائی جاتی ہیں۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : اور دیکھا ڈول ڈالنے سے اور امانت دیکھی بےطمع ہونے سے (موضح)
Ayah 28:27

قَالَ اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَتَیَّ هٰتَیْنِ عَلٰۤى اَنْ تَاْجُرَنِیْ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ١ۚ فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ١ۚ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیْكَ١ؕ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 28:27 in the Quran reader

شعیب نے کہا اے موسیٰ میں یہ چاہتا ہوں کہ ان دونوں میریبیٹیوں میں سے ایک کو تجھ سے بیاہ دوں اس مہر پر کہ تو آٹھ برس تک میری خدمت کیر پھر اگر دس برس پورے کر دے تو یہ تیرا احسان ہے (کچھ میرا زور نہیں) اور میں تجھ کو تکلیف دینا نہیں چاہتا9 انشاء اللہ اللہ تعالیٰ تو دیکھے گا میں (کیسا) بھلا آدمی ہوں

9 ۔ کہ خواہ مخواہ دس برس پورے کرے یا سخت سخت کام سرانجام دے۔ معلوم ہوا کہ اجارہ کو صداق (مہر) مقرر کیا جاسکتا ہے۔ احادیث سے بھی یہ ثابت ہے۔ (قرطبی)
Ayah 28:28

قَالَ ذٰلِكَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ١ؕ اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ۠ Open ayah 28:28 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا اچھا یہی میرا تیرا قرار ہے ان دونوں مدتوں سے جو میں پوری کردوں تو مجھ پر کچھ زیادتی نہیں ہوسکتی اور جو ہم کہہ رہے ہیں اللہ کا گواہ ہے

1 ۔ یعنی آپ مجھے مجبور نہیں کرسکتے کہ ابھی اور خدمت کرو۔ میری خوشی کی بات ہے کہ آٹھ برس کے بعد دو برس اور خدمت کروں یا آٹھ ہی برس کے بعد اپنی بیوی کو لے کر چلا جائوں۔
Ayah 28:29

فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ وَ سَارَ بِاَهْلِهٖۤ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 28:29 in the Quran reader

کوئی اپنے قول سے بھرے نہیں پھر جب موسیٰ نے خدمت کی مدت پوری کردی دس3 برس گزر گئے اور اپنی بی بی صفوراً کو لیکر مصر کی طرف چلا طور پہاڑ کی طرف سے آگ دیکھی اپنی بی بی سے کہنے لگا تم (یہیں) ٹھہر جائو مجھے آگ دکھائی دیتی ہے میں جاتا ہوں، شاید وہاں پہنچ کر رستے کی خبر تم تک پائوں4 یا خبر رستے کا پتہ نہ لگے تو آگ کا ایک چنگاری لے آئوں تم تاپو تو (ذرا سردی کم ہو)

2 ۔ یہ کلمہ عہد کو پختہ کرنے کے لئے کہا جاتا ہے۔ “ ہمارے حضرت محمد ﷺ بھی وطن سے نکلے۔ سو آٹھ برس پیچھے آ کر مکہ فتح کیا۔ اگر چاہتے اسی وقت شہر خالی کرواتے کافروں سے۔ دس برس پیچھے پاک کیا۔ “ (موضح) 3 ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے آٹھ برس کے بجائے دس کی مدت پوری کی تھی۔ یہی بات متعدد روایات میں نبی ﷺ سے بھی مروی ہے۔ ان روایات کی سند میں اگرچہ کلام ہے لیکن وہ ایک دوسرے سے مل کر قوی ہوجاتی ہیں۔ (شوکانی) 4 ۔ یہ اس لئے کہ غالباً حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اندھیری رات میں راستہ بھول گئے تھے۔ (طہ :10)
Ayah 28:30

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَیْمَنِ فِی الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ یّٰمُوْسٰۤى اِنِّیْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 28:30 in the Quran reader

جب موسیٰ آگ کے پہنچا تو اس مبارک جگہ میں میدان کے دہنے کنارے5 ایک درخت سے اس کو آواز آئی اے موسیٰ میں اللہ ہوں سارے جہاں کا مالک

5 ۔ یعنی اس کنارے جو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے اپنے داہنے ہاتھ کی طرف تھا۔ (شوکانی)
Ayah 28:31

وَ اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰۤى اَقْبِلْ وَ لَا تَخَفْ١۫ اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ Open ayah 28:31 in the Quran reader

اور یہ بھی آواز آئی اپنی لاٹھی زمین پر ڈال دے موسیٰ نے ڈال دی جب دیکھا وہ سانپ کی طرح پھنپھناتی ہے تو پیٹھ موڑ کر بھاگا اور پیچھے پھر کر بھی نہ دیکھا پھر آواز آئی اے موسیٰ آگے اور ڈر نہیں تو بےفکر رہ (تجھے کوئی صدمہ نہیں ہنچنے کا)6

6 ۔ کسی قسم کا اندیشہ نہ کرو۔ (طہ :22، 46، 61)
Ayah 28:32

اُسْلُكْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١٘ وَّ اضْمُمْ اِلَیْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 28:32 in the Quran reader

اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال وہ سفید (نورانی) ہو کر نکلے گا بن روگ کوئی عارضہ نہ ہوگا اور ڈر دور ہونے کیلئے اپنا اپنی طرف سکیڑے7 یہ وہ نشانیاں میں تیرے مالک کی طرف سے فرعون اور اس کے دربارویں کے پاس بھیجنے کے لئے تجھ کو ملیں بیشک وہ نافرمان لوگ ہیں

7 ۔ یعنی جب کبھی لاٹھی کے سانپ بن جانے سے تمہارے دل میں خوف پیدا ہو تو اپنا بازو اپنے بدن سے ملا لیا کرو تمہارا سب خوف جاتا رہے گا اور تم اپنے اندر قوت اور جرأت محسوس کرنے لگو گے یا ایسا کرنے سے ہاتھ دوبارہ اپنی حالت میں نظر آئے گا۔ (قرطبی)
Ayahs 28:33–34

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ Open ayah 28:33 in the Quran reader

موسیٰ نے عرض کیا مالک میرے میں نے ان میں کا ایک آدمی مار ڈالا ہے تو مجھ کو ڈر لگتا ہے کہیں وہ مجھ کو اس کے بدل مارنہ ڈالیں

وَ اَخِیْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِیَ رِدْاً یُّصَدِّقُنِیْۤ١٘ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِ Open ayah 28:34 in the Quran reader

اور بھائی میرا ہارون اس کی زبان مجھ سے زیادہ صاف ہے تو اس کو میرے ساتھ بھیج دے اس کو بھی پیغمبر نبا دے وہ میرا مددگار رہ کر میری بات سچ کرتا رہے گا کیونکہ مجھ کو ڈر ہے اگر میں اکیلا جائوں گا وہ مجھ کو جھٹالئیں گے1

1 ۔ کیونکہ میں اتنا زبان آور نہیں ہوں کہ اکیلا ان کی ہر دلیل کا فوراً توڑ کرتا رہوں۔
Ayahs 28:35–36

قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِیْكَ وَ نَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا یَصِلُوْنَ اِلَیْكُمَا١ۛۚ بِاٰیٰتِنَاۤ١ۛۚ اَنْتُمَا وَ مَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 28:35 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اچھا) ہم تیرے بازو کو تیرے بھائی سے زور دیں گے اس کو تیرا قوت بازو بنائیں گے اور تم دونوں کی دشمنوں کے مقابل ہمیں جیت رکھیں گے تم کو نقصان نہ پہنچا سکیں گے جائو خوش ہوجائو ہماری نشانیوں کے سبب سے تم اور تمہارے ساتھی ہی غالب رہیں گے

فَلَمَّا جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَّ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 28:36 in the Quran reader

پھر جب موسیٰ ہماری کھلی نشانیاں لے کر ان کے پاس پہنچا تو کہنے لگے یہ تو بس جادو ہے جھوٹ لیا گیا ہے خدا کی طرف سے نہیں ہے اور ہم نے تو اپنے اگلے باپ دادا کے وقت سے یہ نہیں سنا2

2 ۔ کہ کسی نے اللہ کی طرف سے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا ہو یا اس قسم کا جادو دکھایا ہو۔ یہاں آیات سے مراد معجزات ہیں۔ (قرطبی)
Ayah 28:37

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى مِنْ عِنْدِهٖ وَ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 28:37 in the Quran reader

اور موسیٰ نے یہ جواب دیا کہ میرا مالک خوب جانتا ہے کون اس کے پاس سے ہدایت کی بات لے کر آیا ہے اور کس کا اجام بخیر ہوگا کیونکہ ظلم پنپ نہیں سکتے3

3 ۔ مطلب یہ ہے کہ تم مجھے جھوٹا اور جادوگر قرار دے رہے ہو لیکن میرا رب میرے حال سے پوری طرح واقف ہے۔ اسے خوب معلوم ہے کہ جس شخص کو اس نے اپنا رسول بنایا ہے اور اس کے ذریعہ اپنی ہدایت بھیجی ہے وہ کس سم کا آدمی ہے۔ اگر میں جھوٹا ہوں تو میرا انجام برا ہوگا اور اگر تم مجھے جھٹلا کر ظلم کر رہے ہو تو خوب سمجھ لو کہ ظالموں کا انجام کیا ہوتا ہے۔
Ayah 28:38

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرِیْ١ۚ فَاَوْقِدْ لِیْ یٰهَامٰنُ عَلَى الطِّیْنِ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى١ۙ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 28:38 in the Quran reader

اور فرعون نے اپنے درباریوں سے) کہا اے سردارو مجھے تو معلوم نہیں کہ میرے سوا کوئی متہارا خدا ہو4 تو سنا ہامان تو ایسا کر پجاوانگا میرے لئے اینٹیں مٹی کی پکوا اور ایک محل میرے لئے تیار کر میں اس پر چڑھوں تو شاید موسیٰ کے خدا کو جھانک لوں اور میں تو سمجھتا ہوں موسیٰ جھوٹا ہے5

4 ۔ شاہ صاحب (رح) نے یہاں ” الہ “ (خدا) کا ترجمہ ” حاکم “ کیا ہے اور یہی بات صحیح معلوم ہوتی ہے کیونکہ فرعون اپنے آپ کو ارض و سماکا خالق اور معبود نہیں سمجھتا تھا بلکہ وہ خود بہت سے دیوتائوں کی پرستش کرتا تھا۔ ( سورة اعراف :127) پس فرعون کا مطلب یہ ہے کہ میں ہی تمہارا مطاع اور حاکم مطلق ہوں۔ میرے سوا کوئی دوسرا ایسا نہیں ہوسکتا جس کی فرمانبرداری کی جائے۔ 5 ۔ جو یہ کہتا ہے کہ میرا خدا آسمان پر ہے فرعون نے جس ذہنیت کا مظاہرہ کیا، ہر دور میں خدا کے منکر ایسی باتیں کھلتے آئے ہیں۔
Ayah 28:39

وَ اسْتَكْبَرَ هُوَ وَ جُنُوْدُهٗ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اِلَیْنَا لَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:39 in the Quran reader

اور فرعون اور اس کے لشکر والے ناحق ملک میں غرور کرنے لگے6 اور سمجھے کہ ان کو ہمارے پاس لوٹ کر آنا نہیں ہے1

6 ۔ یعنی بڑائی کا حق تو صرف اللہ رب العالمین کو ہے مگر یہ لوگ ایک ذرا سے ملک میں اقتدار پا کر یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ بس ہم ہی بڑے ہیں۔ 1 ۔ یعنی وہ کسی کے سامنے جوابدہ نہیں ہیں لہٰذا کھلی چھٹی ہے کہ جو چاہیں کریں، اور جس قسم کی شرارت ملک میں پھیلانا چاہیں پھیلائیں۔
Ayah 28:40

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:40 in the Quran reader

آخر ہم نے اس کو اور اس کے لشکر والوں کو گانٹھ لیا اور سمندر میں پھینک دیا تو اے پیغمبر دیکھ تو سہی ظالم لوگوں کا انجام کیسا خراب ہوا2

2 ۔ ان میں سے کوئی زندہ نہ بچا اور نہ کسی کو بات تک کرنے کی مہلت ملی۔