28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 28:41

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 28:41 in the Quran reader

اور دنیا میں ہم نے ان کو سردار بنایا جو لوگوں کو دوزخ کی طرف بلاتے تھے اور قیامت کے دن ان کی کوئی مدد نہ کرے گا

3 ۔ یا ” ہم نے انہیں دوزخ کی دعوت دینے والے سردار بنایا۔ “ یعنی وہ اپنے بعد آنے والے لوگوں کے لئے مثال قائم کر گئے کہ یوں خدا کی نافرمانی کی جاتی ہے جس کا انجام دوزخ ہے۔
Ayah 28:42

وَ اَتْبَعْنٰهُمْ فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ۠ Open ayah 28:42 in the Quran reader

اور ہم نے اس دنیا میں پھٹکار ان کے ساتھ لگا دی ہر کوئی ان پر لعنت کرتا ہے اور قیامت کے دن وہ بدتر ہوں گے کالے منہ نیلی آنکھیں بد شکل بدصورت4

4 ۔ یا ” قیامت کے دن وہ مردودومطرود ہوں گے “۔ یعنی انہیں خدا کی رحمت سے کوئی حصہ نہ ملے گا۔ (قرطبی)
Ayah 28:43

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:43 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو اس وقت کتاب توریت شریف دی جب کئی امتوں سے پہلے تباہ کرچکے تھے جیسے عاد اور ثمود وغیرہ یہ کتاب لوگوں کو راہ سوجھانے والی اور ہدایت اور رحمت تھی اس لئے دی گی تھی کہ وہ نصیحت لیں یا اس کو5 یاد رکھیں

5 ۔ حضرت ابو سعید ؓ خدری سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : ” توراۃ کے اترنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے کسی قبیلے یا نسل یا اسم یا بستی کو آسمان سے عذاب بھیج کر تباہ نہیں کیا سوائے ” اصحاب سبت “ کے جو بند رہنا دیئے گئے۔ (قرطبی) فرعون کو غرق کرنے بعد عذاب کی بجائے جہاد شروع کردیا تاکہ لوگوں کی اصلاح اور تادیب ہوتی رہے۔
Ayah 28:44

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْ قَضَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ وَ مَا كُنْتَ مِنَ الشّٰهِدِیْنَۙ Open ayah 28:44 in the Quran reader

اور اے پیغمبر جب ہم نے موسیٰ کا قصا بتایا اس کو پیغمبر بنایا تو (طور پہاڑ کے) پیچھے کی طرف جہاں ہم نے موسیٰ سے باتیں کیں موجود نہ تھا اور نہ تو نے یہ واقعہ اپنی آنکھ سے دیکھا

6 ۔ اب یہاں سے قرآن کی حقانیت پر دلیل قائم کی جا رہی ہے یعنی آپ ﷺ اس وقت موجود نہ تھے کہ اس کا خود مشاہدہ کرتے اور پھر اپنی طرف سے بیان کرتے تو ظاہر ہے کہ یہ ساری معلومات آپ ﷺ پر وحی کے ذریعہ نازل کی گئی ہیں اور آپ ﷺ انہیں بتا رہے ہیں۔ (شوکانی)
Ayah 28:45

وَ لٰكِنَّاۤ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ۚ وَ مَا كُنْتَ ثَاوِیًا فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۙ وَ لٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَ Open ayah 28:45 in the Quran reader

اور بات یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ کے بعد کئی امتیں پیدا کیں ان پر لمبی مدتیں گذر گئیں7 اور تو مدین والوں میں نہیں رہا تھا جیسے موسیٰ رہا تھا کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتا ان سے سیکھ لیتا بلکہ ہم کو یہ منظور تھا کہ تجھ کو پیغمبر بنا کر بھیجیں8

7 ۔ چناچہ کئی قرن اور صدہا سال گزرنے کی وجہ سے شرائط و احکام متغیر ہوگئے تھے اور سابقہ ادیان اپنی اصلی صورت پر باقی نہیں رہ گئے تھے لہٰذا اب ضرورت تھی کہ نئے پیغمبر ( علیہ السلام) کے ذریعہ دین کی تجدید ہوتی اور دین و شریعت کو ایک مکمل اور آخری شکل میں پیش کیا جاتا۔ 8 ۔ یعنی آپ ﷺ کو ہم ہی نے قریظ کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔ اور یہ آخری کتاب آپ ﷺ پر نازل کی ہے جس میں یہ واقعات صحیح اور مکمل مذکور ہیں۔ (قرطبی)
Ayah 28:46

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا وَ لٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:46 in the Quran reader

اور جب ہم نے موسیٰ کو آواز دی تھی اس وقت بھی تو طور پہاڑ کی ایک طرف موجود نہ تھا9 لیکن تیرے مالک کی مہربانی ہے کہ تجھ کو پیغمبر بنا کر بھیجا اس لئے کہ تو عرب کے ان لوگوں کو خدا کے عذاب سے ڈرائے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی ڈرانے والا (پیغمبر) نہیں آیا تاکہ ان کو نصیحت ہو10

9 ۔ یعنی کوہ طور پر۔ مناجاۃ۔ اور کلام کے طورپ ر۔ اللہ تعالیٰ کے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو پکارنے کا قرآن حکیم میں کئی جگہ ذکر ہے۔ اسی کے مشابہ وہ آیت ہے جو ابھی اوپر گزر چکی ہے یعنی : وما کنت بجانب المغربی اذ قضینا الی موسیٰ الامر بعض علما نے یہاں ندا اور قضا کا مطلب یہ بھی بیان کیا ہے کہ ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو خبر دی کہ محمد (ﷺ) کی امت خیر الامم ہے واللہ اعلم۔ (قرطبی۔ ابن کثیر) 10 ۔ حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) کے بعد حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) تک جتنے پیغمبر اولاد ابراہیم میں آئے، بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوتے رہے۔ بنو اسماعیل یعنی عرب کے لوگ) ایسے تھے جن کی طرف حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) کے بعد نبی ﷺ سے پہلے کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ آیت میں اسی طرف اشارہ ہے یعنی آپ ﷺ اس جگہ موجود نہ تھے کہ ان واقعات کا خود مشاہدہ کرلیتے۔ یہ واقعات ہم نے محض اپنی رحمت سے آپ ﷺ کی طرف وحی کئے ہیں کہ آپ ﷺ عرب کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں۔
Ayah 28:47

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَیَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:47 in the Quran reader

اور ہم نے تجھ کو اس لئے بھیجا ایسان ہہو جب ان کے برے اعمال کی وجہ سے ان پر کوئی مصیبت (عذاب) آن پڑے تو وہ یوں کہنے لگیں مالک ہمارے تو نے ہمارے پاس ایک پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں پر چلتے اور مسلمان ہوجاتے اور اس عذاب سے بچے رہتے1

1 ۔ گویا اب آپ ﷺ کو بھیج کر اللہ تعالیٰ نے ان پر اتمام حجت کردیا ہے اور کوئی عذر ایسا نہیں رہنے دیا جسے یہ اپنے کفر اور بدعملی پر قائم رہنے کے لئے پیش کرسکیں۔ (قرطبی)
Ayah 28:48

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُوْتِیَ مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفُرُوْا بِمَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ۚ قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظٰهَرَا١ٙ۫ وَ قَالُوْۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوْنَ Open ayah 28:48 in the Quran reader

پھر جب ہماری طرف سے سچا پیغمبر ان کے پاس پہنچا (حضرت محمد تو کہین لگے اس کو ی سے معجزے کیوں نہ ملے جیسے موسیٰ کو ملے تھے کیا ان سے پہلے لوگوں نے ان (معجزوں کا انکار نہیں کیا جو موسیٰ کو ملی تھے کہنے لگے موسیٰ اور ہارون دونوں جادو گر ہیں ایک دوسرے کے مددگار4 اور کہنے لگے ہم نے تو کسی کو بھی نہیں مانتے

2 ۔ یعنی عصا اور ید بیضا وغیرہ جیسے معجزات نہیں دکھلاتے اور یہ قرآن توریت کی طرح ایک ہی مرتبہ پورے کا پورا ان پر کیوں نہیں اتارا گیا۔ (قرطبی) 3 ۔ یا ” کیا یہ لوگ۔ قریش۔ اس (نبوت) کا انکار نہیں کرچکے ہیں جو اس سے پہلے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو دی گئی تھی۔ “ یعنی ان معجزات کے باوجود حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی نبوت پر کونسا ایمان لے آئے تھے جو آج آنحضرت ﷺ سے ان جیسے معجزات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ 4 ۔ یہ مطلب اس صورت میں ہے جب ” اولم یکفروا “ کا فاعل پہلے لوگوں… قوم فرعون… کو قرار دیا جائے اور یہ معنی جید ہیں۔ (ابن کثیر) اور اگر اس کا فاعل قریش کو قرار دیا جائے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ توراۃ اور قرآن دونوں جادو ہیں اور قرآن میں عموماً توراۃ اور قرآن کا تذکرہ ایک ساتھ آیا ہے اور آگے کتاب کا ذکر آرہا ہے اس لئے یہی مطلب زیادہ موزوں معلوم ہوتا ہے۔ (شوکانی)
Ayahs 28:49–50

قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ هُوَ اَهْدٰى مِنْهُمَاۤ اَتَّبِعْهُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 28:49 in the Quran reader

اے پیغمبر ان سے کہ دے اگر تم سچے ہو تو ان سے بڑھ کر کوئی راہ بتانے والی (کتاب) لائو میں اس پر چلنے کو حاضر ہوں

فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَهْوَآءَهُمْ١ؕ وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:50 in the Quran reader

پھر اگر وہ ایسا نہ کرسکیں تو سمجھ لے کر5 اور وہ حق کی پیروی نہیں چاہتے بلکہ اپنی خواہش پر چلتا چاہتے ہیں اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے بن بتلائے اپنی خواہش پر چلے اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا بیشک اللہ تعالیٰ ایسے بےانصاف ہیکٹری لوگوں کو راہ پر نہیں لاگاتا6

5 ۔ یعنی اگر ان دونوں سے بہتر کتاب پیش نہ کرسکیں۔ (کبیر) 6 ۔ مطلب یہ ہے کہ ہدایت تو انہی لوگوں کو نصیب ہوسکتی ہے جن کے دل ضد اور ہٹ دھرمی سے پاک ہوں اور وہ حق کی معرفت کے بعد اسے قبول کرنے کو تیار ہوں مگر جن کے دلوں میں زیغ وعناد ہو انہیں راہ ہدایت کیسے مل سکتی ہے ؟
Ayah 28:51

وَ لَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 28:51 in the Quran reader

اور ہم نے تو لگاتار قرآن کی آیتیں لوگوں پر بھیجیں اس لئے کہ وہ دھیان کریں7

7 ۔ یعنی ایک کے بعد دوسرا رسول ﷺ مبعوث کیا اور ایک کے بعد دوسری نصیحت بھیجی تاکہ کسی طرح وہ خواب غفلت سے بیدار ہوں یا اس قرآن میں ہم وعدہ وعید، قصص و عبر اور نصائح و مواعظ تدریجاً اس لئے بھیج رہے ہیں کہ کسی طور یہ نصیحت حاصل کریں۔ اس صورت میں یہ لو لا نزل علیہ القرآن جملہ واحدۃ کا جواب ہوگا۔ (کبیر)
Ayah 28:52

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:52 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے پہلے کتاب دی تھی وہ قرآن پر بھی ایمان اتے ہیں8

8 ۔ مراد ہیں وہ لوگ جو یہود سے مسلمان ہوگئے تھے جیسے عبد اللہ ؓ بن سلام ؓ وغیرہ یا وہ عیسائی جو نجاشی کے پاس سے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور قرآن سن کر رونے لگے تھے۔ ان کا ذکر سورة اعراف آیت 83 میں گزر چکا ہے۔ (قرطبی)
Ayah 28:53

وَ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 28:53 in the Quran reader

اور جب ان کو قرآن پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو کہتے ہیں کچھ شک نہیں یہ ہمارے ملا کیک طرف سے اترا ہے ہم تو اس کے اترنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کے) تابعدار تھے9

9 ۔ یعنی اس کے پیغمبروں اور اس کی کتابوں کو مانتے تھے اور محمد ﷺ کی آمد کے منتظر تھے۔ جن کی خوش خبری ہم پچھلی کتابوں میں پڑھ چکے تھے۔ (شوکانی)
Ayah 28:54

اُولٰٓئِكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 28:54 in the Quran reader

ان لوگوں کو ان کی مضبوطی کے بدل (جو اگلی اور پچھلی کتاب دونوں پر قائم رہے) دوہرا ثواب دیا جائے گا10 اور یہ لوگ برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں1 اور ہمارا دیا کچھ خرچ کرتے ہیں2

10 ۔ کیونکہ وہ پہلی کتابوں کو بھی حق سمجھ کر مانتے رہے اور جب قرآن اترا اور انہیں اس کی حقانیت معلوم ہوئی تو اس پر ایمان لے آئے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری (رح) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : تین شخص ایسے ہیں جنہیں دوہرا اجر دیا جائے گا۔ ان میں سے ایک اہل کتاب کا وہ فرد ہے جو پہلی اور آخری دونوں کتابوں پر ایمان لایا۔ (قرطبی۔ ابن کثیر) 1 ۔ یعنی ان سے کوئی گناہ سرزد ہوجاتا ہے تو اس کے بعد کوئی نیک کام کرتے ہیں جس سے وہ گناہ مٹ جاتا ہے۔ یا ان کے مکارم اخلاق کی تعریف ہے کہ اگر کوئی شخص ان کے ساتھ برائی سے پیش آتا ہے تو وہ اس کا جواب بھلائی سے دیتے ہیں۔ (دیکھئے سورة رعد آیت 22) 2 ۔ یعنی جہاں شریعت نے خرچ کرنے کا حکم دیا ہے وہ اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔ اس میں فرض زکوٰۃ اور نفلی صدقات سب آگئے۔ (ابن کثیر)
Ayah 28:55

وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١٘ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١٘ لَا نَبْتَغِی الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 28:55 in the Quran reader

اور جب کوئی لغو بات (جیسے مشرکوں کی گالی گلوچ سنتے ہیں تو انجام3 ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں (اچھا بھائی تم جانور) ہمارے کئے ہمارے سامنے آئیں گے اور تمہارے سامنے اچھا بھائی اسلام ہم جاہلوں کو منہ نہیں لگاتے4

3 ۔ یعنی اس سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں اور اس کے کرنے والوں سے کوئی میل جول نہیں رکھتے۔ دیکھئے سورة فرقان 72 ۔ (قرطبی) 4 ۔ یہ محبت اور دعا کا سلام نہیں ہے بلکہ جدائی اور قطع تعلقی کا سلام نہیں ہے بلکہ جدائی اور قطع تعلقی کا سلام ہے دیکھئے فرقان :63 ۔ (قرطبی) حضرت شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : جس جاہل سے توقع نہ ہو کہ سمجھائے پر لگے گا اس سے کنارہ ہی بہتر ہے۔ (موضح)
Ayah 28:56

اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 28:56 in the Quran reader

اے پغمیرب تو جس کو چاہے اس کو راہ پر نہیں لگا سکتا یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے وہ جس کو چاہتا ہے راہ پر لاتا ہے اور وہ خو جانتا ہے کون راہ پر آنے کے لائق ہے5

5 ۔ صحیحین کی روایت ہے اور اس بارے میں تمام مفسرین (رح) کا اتفاق ہے کہ یہ آیت نبی ﷺ کے چچا ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئی۔ ابو طالب نے آنحضرت ﷺ کی ہمیشہ پشت پناہی کی لیکن ایمان نہ لایا۔ جب اس کا آخری وقت آیا تو آنحضرت ﷺ نے اپنی حد تک پوری کوشش فرمائی کہ وہ زبان سے توحید و رسالت کا اقرار کرلے تاکہ اس کا خاتمہ ایمان ر ہو۔ لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی قسمت میں ایمان نہیں رکھا تھا، اس لئے اس نے ملت عبد المطلب پر جان دینے کو ترجیح دی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی لیکن اصولی طور پر اس آیت کا حکم عام ہے اور اس میں ہر وہ شخص شامل ہے جس کے متعلق آنحضرت ﷺ کی خواہش تھی کہ وہ ایمان لے آئے مگر اس نے کفر کی حالت ہی میں جان دینے کو ترجیح دی۔ نیز دیکھئے برأت آیت 113 ۔ (قرطبی۔ شوکانی)
Ayah 28:57

وَ قَالُوْۤا اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا١ؕ اَوَ لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰۤى اِلَیْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 28:57 in the Quran reader

اور اے پیغمبر یہ قریش کے کافر کہتے ہیں اگر ہم تیری راہ پر ہوجائیں تیرے ساتھ سچا دین اختیار کرلیں تو اپنے ملک سے نکال6 دیئے جائیں کیا ہم نے ان کو حرم کی زمین میں نہیں جمایا جہاں کچھ ڈر نہیں ہر قسم کے میوے ہمارے دیئے ہوئے (ہر ملک سے) وہاں کھینچے چلے آتے ہیں لیکن ان میں اکثر لوگ نادان ہیں7

6 ۔ یعنی عرب کے دوسرے قبائل جو اسلام کے دشمن ہیں ہمارے مخالف ہوجائیں گے اور سب مل کر ہمیں مکہ کی سرزمین سے نکال باہر کریں گے۔ اور ہم اتنے طاقتور نہیں ہیں کہ ان کا مقابلہ کرسکیں۔ یہ بات منجملہ ان باتوں کے ہے جنہیں کفار قریش اسلام قبول نہ کرنے کے لئے بطور بہانہ کے پیش کرتے تھے۔ آیت کے اگلے حصہ میں اس کا جواب دیا جا رہا ہے۔ (قرطبی) 7 ۔ مطلب یہ ہے کہ یہ حرم جس کے امن وامان کی یہ حالت ہے کہ اس کے جانوروں تک کو کوئی نہیں ستاتا اور جسے وادی غیر ذمی زوع ہونے کے باوجود اس قدر مرکزی حیثیت حاصل ہے کہ دنیا بھر کے پھل اور اموال تجارت اس کی طرف کھچے چلے آتے رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اسے یہ حیثیت ہم نے بخشی ہے۔ تو جس خدا نے تمہیں اس قدر امن وامان دیا اور اپنی نعمتوں سے نوازا، کیا تم سمجھتے ہو کہ اس کا دین اختیار کرو گے تو تباہ و برباد ہوجائو گے۔ اگر ایسا سمجھتے ہو تو یہ تمہاری انتہائی نادانی ہے۔ (شوکانی)
Ayah 28:58

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍۭ بَطِرَتْ مَعِیْشَتَهَا١ۚ فَتِلْكَ مَسٰكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِّنْۢ بَعْدِهِمْ اِلَّا قَلِیْلًا١ؕ وَ كُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِیْنَ Open ayah 28:58 in the Quran reader

اور انہوں نے اس پر غور نہیں کیا کہ ہم نے بہت سی ایسی بستیاں کھپا دیں جو اپنی معاش پر8 اترا رہی تھیں لو دیکھو ان کے گھر ان کے تباہ ہوئے پیچھے پھر نہیں بےمگر کوئی کوئی9 اور آخر ہم ہی ان کے گھر بار مالمتاع کے وارث ہئے کیونکہ ان کا کوئی بھی وارث رہا

8 ۔ یعنی ان کے رہنے والے اپنی فارغ البالی اور خوشحالی کی بدولت بدمست ہوگئے تھے۔ 9 ۔ یا کبھی تھوڑی دیر کے لئے کوئی مسافر چند گھنٹے اترا اور پھر چل دیا۔ یعنی معنی زیادہ صحیح ہیں، گو بعض نے ترجمہ میں دیا ہوا مفہوم بھی اختیار کیا ہے۔ (دیکھئے قرطبی۔ شوکانی) 10 ۔ اس میں مشرکین مکہ کو تنبیہ ہے کہ تم اپنی خوشحالی کو بچانے کے لئے حق سے اعراض کر رہے ہو۔ تو پہلی قوموں کے حالات سے عبرت حاصل کرو کہ کیا ان کی آبادیوں میں کوئی بسنے والا باقی رہ گیا ہے۔
Ayah 28:59

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى حَتّٰى یَبْعَثَ فِیْۤ اُمِّهَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۚ وَ مَا كُنَّا مُهْلِكِی الْقُرٰۤى اِلَّا وَ اَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 28:59 in the Quran reader

اور اے پیغمبر تیرا مالک بستیوں کو اس وقت تک تباہ نہیں کرتا جب تک وہاں کی بڑی بستی میں ان بستیوں کے صدر مقام میں ایک پیغمبر نہ بھیج لے کہ ہماری آیتیں ان کو پڑھ کر سنا دے اور ہمارے حکم پہنچا دے اور ہم ان بستیوں کو اس وقت تباہ کرتے ہیں جب وہاں کے رہنے والے ظالم (بدکار) ہوتے ہیں11

11 ۔ یعنی جب تک وہ کفر پر اصرار کر کے خود ہی مستحق عذاب نہیں ہوجاتے اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی پکڑ نہیں ہوئی۔
Ayah 28:60

وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتُهَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 28:60 in the Quran reader

اور لوگو تم کو جو کچھ ملا ہے وہ دنیا کی چند روزہ زندگی کا سامان ہے اور اسی کی بہار رونق ہے اور اللہ تعالیٰ کے پاس جو ملنے والا ہے اگر تم ایمان لائو وہ کہیں بہتر اور پائدار ہے کیا تم کو عقل نہیں

1 ۔ کہ فانی کو اختیار کرتے ہو اور باقی رہنے والی زندگی کا خیال نہیں کرتے ؟ صحیح حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا :” اللہ کی قسم، آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ تم میں سے کوئی شخص سمندر میں اپنی انگلی ڈبوئے اور پھر دیکھے کہ اس کی انگلی کتنا پانی واپس لے کر آتی ہے “۔ (ابن کثیر)
Ayah 28:61

اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِیْهِ كَمَنْ مَّتَّعْنٰهُ مَتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ثُمَّ هُوَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 28:61 in the Quran reader

بھلا سوچو تو جس شخص سے ہم نے ایک اچھا وعدہ بہشت ملنے کا کیا ہے اور وہ اس کو پانے والاف 2 ہے کیا وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس کو ہم نے دنیا کی زندگی کے چند روزہ مزے دیئے ہیں پھر قیامت کے دن اس کو جواب دہی کے لئے پکڑ آنا ہے یا دوزخ میں جانا ہے3

2 ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ خلاف نہیں ہوسکتا۔ 3 ۔ مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں شخص ہرگز یکساں نہیں ہوسکتے ہر مومن اور کافر اس آیت کا مصداق بن سکتے ہیں گو بعض نے لکھا ہے کہ حمزہ اور ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا کے مزے معمولی بھی ہیں اور عارضی بھی اور آخرت کی نعمتیں اعلیٰ درجہ کی بھی ہیں اور ہمیشہ رہنیوالی بھی اب یہ کوئی عقلمندی نہیں ہے کہ دنیا کے چند روزہ مزوں کی خاطر اپنی آخرت تباہ کرلی جائے۔ (وحیدی)
Ayah 28:62

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:62 in the Quran reader

اور اے پیغمبر وہ دن یاد کر جس دن اللہ مشرکوں کو پکارے گا فرمائے گا وہ میرے شریک کہاں گئے یعنی جن کو تم دنیا میں میرا شریک سمجھتے تھے4

4 ۔ ” اور ان کی سفارش پر تکیہ کر کے گناہ پر گناہ کئے جاتے تھے “۔
Ayah 28:63

قَالَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَغْوَیْنَا١ۚ اَغْوَیْنٰهُمْ كَمَا غَوَیْنَا١ۚ تَبَرَّاْنَاۤ اِلَیْكَ١٘ مَا كَانُوْۤا اِیَّانَا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 28:63 in the Quran reader

اس وقت وہ لوگ جن پر اللہ کا فرمودہ پورا ہوچکا کہ وہ دوزخی ہیں بول اٹھیں گے مالک ہمارا5 سے بیشک یہ لوگ وہ ہیں جن کو ہم نے بہکایا ہم ان کے معبود بنے ہم نے ان کو اسی طرح بہکایا جیسے ہم خود بہکے6 تھے ہم تیرے سامنے ان سے الگ ہوئے ان کی صورت سے بیزار ہیں اور وہ ہم کو نہیں پوجتے تھے7

5 ۔ ان سے مراد شیاطین یا وہ بڑے بڑے پیشوا، سردار لیڈر اور پیر فقیر قسم کے لوگ ہیں جن کو دنیا میں لوگوں نے ادبابا من دون اللہ بنا لیا تھا اور ان کی بات کے مقابلے میں اللہ اور اس کے رسولوں کی بات کو رد کردیا کرتے تھے۔ (شوکانی) 6 ۔ یعنی ہم نے ان پر کوئی زبردستی نہیں کی تھی اور نہ ان سے سوچنے سمجھنے کی قوتیں سلب کرلی تھیں بلکہ جس طرح ہم خود اپنی مرضی سے گمراہ ہوئے تھے۔ اسی طرح ہم نے ان کے سامنے بھی گمراہی پیش کی اور انہوں نے اپنی مرضی سے اسے قبول کرلیا۔ (وحیدی بتصرف) 7 ۔ یعنی یہ ہماری نہیں بلکہ اپنے ہی نفس کی بندگی کرتے تھے۔ خود ان کے دل میں یہ سمایا کہ ہماری بندگی کریں اس لئے ہماری بندگی کرنے لگے لہٰذا ہم پر ان کے گمراہ ہونے کی ذمہ داری نہیں۔ (وحیدی) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” یہ شیطان بولیں گے بہکایا تو انہوں نے نام لے کر نیکیوں کا اسی لئے کہا کہ ہم کو نہ پوجتے تھے۔
Ayah 28:64

وَ قِیْلَ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 28:64 in the Quran reader

اور ان مشرکوں سے کہا جائیگا شریکوں کو پکارو کچھ تمہاری مدد کریں تو وہ پکاریں گے پر وہ ان کو جواب تک نہ دیں گے اور اپنی آنکھوں سے اللہ کا عذاب دیکھ لیں گے کہیں گے کاش دنیا میں وہ ٹھیک رسے پر ہوتے8

8 ۔ یعنی خالص توحید کا راستہ اختیار کرتے تو آج اس انجام بد سے دوچار نہ ہوتے۔
Ayah 28:65

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:65 in the Quran reader

اور جس دن اللہ کافروں کو پکارے گا ان سے فرمائے گا تم نے پیغمبروں کو دنیا میں کیا جواب دیا تھا9

9 ۔ جب انہوں نے تمہیں میرا پیغام پہنچایا اور اس پر چلنے کی ہدایت کی ؟ اوپر ندائے اول میں توحید کے متعلق سوال کا ذکر ہے اور ابندائے ثانی میں نبوت کے متعلق ہے۔ یہی دو سوال قبر میں ہوں گے یعنی من ربک و من تبیک (قرطبی۔ ابن کثیر)
Ayah 28:66

فَعَمِیَتْ عَلَیْهِمُ الْاَنْۢبَآءُ یَوْمَئِذٍ فَهُمْ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 28:66 in the Quran reader

اس دن سب باتیں بھول جائیں گے اور آپس میں ایک دوسرے سے بھی پوچھ نہ سکیں گے10

10 ۔ یعنی دہشت کے مارے اس قدر ہکا بکا ہوں گے کہ نہ خود کوئی جواب سوجھے گا اور نہ ایک دوسرے سے پوچھ کر کوئی بات کہہ سکیں گے۔ قیامت کے دن مختلف مقامات ہوں گے اس لئے کسی دوسرے مقام پر ان کا واللہ ربنا ما کنا مشرکین “ کہنا اس کے خلاف نہیں ہے۔ (دیکھئے انعام :23)
Ayahs 28:67–68

فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِیْنَ Open ayah 28:67 in the Quran reader

البتہ جس نے دنیا میں شرک سے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھے کام کئے اس کو نجات کی امید رکھنا چاہیے

وَ رَبُّكَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ١ؕ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 28:68 in the Quran reader

اور اے پیغمبر اصل بات یو ہے تیرا مالک جو چاہتا ہے11 وہ پیدا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے پیغمبری کے لئے چن لیتا ہے12 بندوں کو کوئی مستقل اختیار نہیں ہے13 یہ جن جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بتاتے میں اللہ ان سے کہیں پاک اور برتر ہے1

11 ۔ یعنی اسے یقینا نجات ملے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ جس چیز کی امید دلاتا ہے اس کے ہونے میں کوئی شک نہیں ہوتا یا عسیٰ سے اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ نجات پانا اللہ کے فضل سے ہوگا ورنہ یہ اللہ تعالیٰ پر واجب نہیں ہے۔ 12 ۔” یا جو چاہتا ہے اختیار کرتا ہے “۔ جیسے فرمایا : لا یسئل عما یفعل و ھم یسائولون۔ (انبیاء :23) یا ” جن کو چاہتا ہے (اپنے دین کی مدد کے لئے) پسند فرما لیتا ہے۔ سو اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام ؓ کو چن لیا اور ان میں سے پھر چار (خلفاء اربعہ) کو خاص طور پر منتخب کرلیا جیسا کہ حضرت جابر ؓ سے ایک مرفوع روایت میں ہے۔ (قرطبی) 13 ۔ کہ خدا کے حکم کے بغیر کوئی کام کرسکیں بلکہ خود بندے اور ان کے سب کام خدا کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ البتہ ظاہر میں بندوں کو ایک طرح مختار بنایا گیا ہے جس پر ثواب و عقاب کا مدار ہے۔ لیکن پھر بھی تکوینی طور پر سب اللہ کی قضا و قدر کے سامنے مجبور ہیں۔ اہل حدیث کا مذہب یہی ہے نہ وہ جبری ہیں کہ بندے کو مجبور محض کہیں اور نہ قدری کہ بندے کو کلی مختار سمجھیں۔ نبی ﷺ نے اس مسئلہ میں بحث کرنے کی ممانعت فرما دی ہے اور پہلی بدعت جو مسلمانوں میں ظاہر ہوئی اسی مسئلہ میں بحث تھی۔ (وحیدی بتصرف) یا مطلب یہ ہے کہ بندے اس بات کے مجاز نہیں ہیں کہ وہ اپنی مرضی سے جسے چاہیں منتخب کرلیں۔ مخلوق اور پھر بنی نوع انسان میں کسی شخص کو ممتاز بنانا اور اسے کسی منصب پر فائز کرنا سراسر اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ سیاق کے اعتبار سے یہی معنی اقرب ہیں۔ 1 ۔ معلوم ہوا کہ اس کارخانہ قدرت میں کسی بندے کو چاہے وہ ولی یا پیغمبر ہی کیوں نہ ہو کوئی اختیار نہیں ہے یہ تمام اختیارات صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔
Ayah 28:69

وَ رَبُّكَ یَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 28:69 in the Quran reader

اور اے پیغمبر جو باتیں یہ اپنے دل میں چھاپتے ہیں اور جو کھولتے ہیں تیرا مالک ان سب کو جانتا ہے

2 ۔ یعنی وہ ان کے دل کی باتوں کو بھی اسی طرح جانتا ہے جس طرح ان باتوں کو جنہیں وہ اپنی زبانوں پر لاتے ہیں۔ لہٰذا اگر یہ ایسا کریں کہ دلوں میں کفر و شرک یا نبی ﷺ کی عداوت چھپائے رکھیں اور ظاہر میں مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنے لگیں تو اس سے انہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
Ayahs 28:70–71

وَ هُوَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاُوْلٰى وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:70 in the Quran reader

اور وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی سچا خدا نہیں دنیا اور آخرت میں اسی کو تعریف سجتی ہے اور دونوں جگہ اسی کی حکومت ہے اور اسی کے پاس تم کو لوٹ جانا ہے

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِضِیَآءٍ١ؕ اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ Open ayah 28:71 in the Quran reader

اے پیغمبر ان لوگوں سے بوجھ بھلا بتلائو تو سہی اگر اللہ تعالیٰ ہمیشہ قیامت تک تم پر رات کئے رہے کبھی سورج نہ نکلے برابر اندھیرا رہے تو اللہ کے سوا دوسرا کون خدا ہے جو تم پر روشنی لے کر آئے دن نکالے کیا تم دل لگا کر یہ بات نہیں سنتے3

3 ۔ کہ اسے سمجھو اور راہ ہدایت پائو۔
Ayahs 28:72–73

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِلَیْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِیْهِ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 28:72 in the Quran reader

اے پیغمبر ان لوگوں سے پوچھ بھلا بتلائوت و سہی اگر اللہ تعالیٰ ہمیشہ قیامت تک تم پر دن کئے رہے رات نہ آئے سورج نہ ڈوبے تو اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرا کون خدا ہے جو تم پر رات لے کر آئے جس میں تم آرام کرو کیا تم ایسی کھلی بات بھی) نہیں دیکھتے

وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 28:73 in the Quran reader

اور اسی خدا کی مہربانی ہے کہ رات تمہارے آرام کیلئے بنائی اور دن اس لئے بنایا کہ اس کا فضل (روٹی رزقض ڈھونڈو اور اس کا شکر کرو4

4 ۔” یعنی اسی نے اسباب و وسائل معیشت مہیا کئے تاکہ اس کی نعمتوں کا شکر بجا لائو “… معلوم ہوا کہ فطری طریق یہی ہے کہ انسان دن کو کام کرے اور رات کو آرام اور عموماً ہوتا بھی ایسا ہی ہے پھر دونوں وقت دونوں کام ہوتے ہیں۔ (کذا فی الموضح)
Ayah 28:74

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:74 in the Quran reader

اور جس دن خدا مشرکوں کو پکار یگا فرمائے گا میرے شریک کہاں ہیں (یعنی) وہ جس کو تم میرا شریک سمجھتے تھے5

5 ۔ اس سے پہلے بھی یہی مضمون تھا۔ اسے دہرایا اس لئے گیا کہ کافروں کو تو بیخ و زجر کے طور پر بار بار اس قسم کی آواز دی جائے گی۔ کبھی وہ اپنے جھوٹے معبودوں کو پکاریں گے اور کوئی جواب نہ پائیں گے اور کبھی مایوس ہو کر خاموش ہو رہیں گے۔ (کذانی ابن کثیر)
Ayah 28:75

وَ نَزَعْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا فَقُلْنَا هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ فَعَلِمُوْۤا اَنَّ الْحَقَّ لِلّٰهِ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 28:75 in the Quran reader

اور اس دن ہم ہر امت میں سے ایک گواہ نکالیں گے6 پھر ہم فرائیں گے تم اپنی صفائی کی سند پیش کرو7 سب وہ جان لیں گے کہ سچا خدا اللہ ہی تھا اور جن کو وہ جھوٹ خدا سمجھتے تھے ان کا پتہ ہی نہ ہوگا8

6 ۔ یعنی وہ نبی ﷺ جس نے اس امت تک پیغام حق پہنچایا تھا کھڑے ہو کر گواہی دیگا کہ اس کی امت نے کہاں تک اس پیغام کو قبول کیا اور کہاں تک رد کردیا۔ اس احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ آخر کار امت محمدی ﷺ کو ان انبیا ( علیہ السلام) کی شہادت کی تصدیق کے لئے پیش کیا جائے گا۔ دیکھئے سورة نساء آیت 41 ۔ (قرطبی) 7 ۔ جس کی بنا پر تم معافی کے مستحق قرار دے جا سکو۔ یا یہ ثابت کرو کہ واقعی ہمارے کچھ شریک تھے جو بندگی کے اسی طرح مستحق تھے جیسے ہم۔ (ابن کثیر) 8 ۔ ” جتنی جھوٹی باتیں انہوں نے گھڑ رکھی تھیں کافور ہوجائیں گی۔ “
Ayah 28:76

اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰى فَبَغٰى عَلَیْهِمْ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوْٓاُ بِالْعُصْبَةِ اُولِی الْقُوَّةِ١ۗ اِذْ قَالَ لَهٗ قَوْمُهٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ Open ayah 28:76 in the Quran reader

قارون موسیٰ کی قوم بنی اسرائیل میں سے تھا1 پھر لاگ ان پر بڑائی کرنے یا ظلم کرنے اور ہم نے اس کو دولت کے اتنے خزانے دیئے تھے کہ اچھے کئی زبردست ہٹے کٹے آدمیوں کو اس کی گنجیاں یا تھیلیاں اٹھانا مشکل ہوتا ایک بار اس کی قوم والوں نے اس سے کہا اتنا مت اترا کیونکہ اترانے والوں کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا

1 ۔ اوپر بیان فرمایا تھا کہ جو کچھ مال و دولت یا اقتدار تمہیں حاصل ہے۔ یہ دنیا کا چند روزہ فائدہ ہے لہٰذا انسان کو اس پر مغرور نہیں ہونا چاہیے۔ اب قارون کا قصہ اس پر بطور دلیل پیش کیا۔ (قرطبی) نخعی (رح) ، قتادہ (رح) اور دوسرے مفسرین (رح) کہتے ہیں کہ قارون حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا اور یہی بات بائیبل کتاب خروج (باب 6) میں مذکور ہے۔ بعض مفسرین اسے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا خالہ زاد بھائی بتاتے ہیں۔ (فتح القدیر) بہرحال وہ بنی اسرائیل میں سے تھا۔ لیکن منافق ہو کر فرعون سے مل گیا تھا بلکہ اس کا مقرب بن گیا تھا۔ قرآن میں دوسری جگہ اس کا ذکر فرعون اور اس کے وزیر ہامان کے ساتھ کیا گیا ہے۔ (دیکھئے غافر :24)
Ayah 28:77

وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:77 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ نے جو تجھے دے رکھا ہے اس میں سے پچھلے گھر آخرت کا سامان کر خیرات دے اور دنیا میں جو تیرا حصہ ہے اس کو مت بھول2 اور جیسے اللہ تعالیٰ نے تجھ پر احسان کیا ہے تجھے اس قدر مالدار کیا ہے تو بھی اللہ کے بندوں کے ساتھ3 احسان کردیا دل سے عبادت کر اور ملک میں دھند مت مچا4 کیونکہ اللہ تعالیٰ دھند مچانے والوں کو پسند نہیں کرتا

2 ۔ یعنی دنیا میں آخرت کے لئے نیک کام کرتا وہ کیونکہ دنیا میں انسان کا حصہ اس کی عمر اور نیک عمل ہی ہیں۔ جمہور مفسرین (رح) نے اس کا یہی مطلب بیان کیا ہے۔ بعض نے لکھا ہے کہ دنیا میں حلال رزق سے متمتع ہونے اور حلال روزی طلب کرنے کا حصہ ضائع نہ کر اور دنیا کے انجام پر غور کرتا رہ جیسے حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا : اخرت لدناک کانک تعیش ابدا و اعمل لاخرتک کانک لموت غدا (کذا فی القرطبی) ۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” حصہ موافق کھا پہن اور زیادہ مال سے آخرت کما۔ “ (موضح) 3 ۔ یہاں ” احسان “ کے معنی ہیں ” خلوص سے اللہ کی عبادت کرنا “۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) نے آنحضرت ﷺ سے احسان کے بارے میں دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ان تعبد اللہ کا…“ کہ تم اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کرو جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو۔ بعض نے یہاں ” احسن “ کے معنی ” بندوں کے ساتھ احسان کرنا “ لئے ہیں۔ بہرحال ” احسان کی تاویل میں مختلف اقوال ہیں۔ سب کا جامع مفہوم یہ ہے کہ ” اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو طاعت الٰہی میں صرف کرنا۔ “ (قرطبی۔ شوکانی) 4 ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی معصیت کے کام نہ کرو۔ ظاہر ہے کہ دنیا میں سب سے بڑا دہند (فساد مچانا) اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کرنا ہے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” خرابی نہ ڈال یعنی حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی ضد نہ کر “۔ (موضح) ۔
Ayah 28:78

قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِیْ١ؕ اَوَ لَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ مِنْ قَبْلِهٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَّ اَكْثَرُ جَمْعًا١ؕ وَ لَا یُسْئَلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 28:78 in the Quran reader

قارون نے جواب دیا کہ میں نے یہ پیسہ اپنی عقل کے زور سے کمایا ہے5 کیا اس کو یہ نہیں معلوم ہوا کہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ایسی قوموں کو تباہ کردیا جو اس سے زیادہ بوتا اور اس سے زیادہ پونجی رکھتی ہیں6 اور گناہ گاروں سے ان کے گناہ پوچھے نہ جائیں گے7

5 ۔ لہٰذا اللہ کا مجھ پر کوئی احسان نہیں ہے جو میں اس کا شکر بجا لائوں۔ (کذا فی الموضح) اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ نے مجھے جو مال دیا ہے میرے اوصاف کو جانتے ہوئے دیا ہے۔ اگر میں اس کی نگاہ میں ناپسندیدہ آدمی ہوتا تو وہ مجھے یہ مال کیوں دیتا ؟۔ (کذا فی القرطبی) 6 ۔ مطلب یہ ہے کہ اگر قوت و اقتدار اور مالداری کسی کے پسندیدہ ہونے کی دلیل ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان پہلی قوموں کو کیوں تباہ کرتا جو اس سے زیادہ طاقت ور اور مالدار تھیں۔ (قرطبی) 7 ۔ یعنی ان کے گناہ اتنے زیادہ اور واضح ہونگے کہ پوچھنے کی ضرورت نہ ہوگی یا یہ کہ ان کو معاف کرنے کے لئے نہیں پوچھا جائے گا۔ دیکھئے۔ (النحل :84) بلکہ ان سے سوال ہوگا تو اس لئے کہ انہیں زجر و توبیخ کی جائے جیسے فرمایا : فوربک لنسالنھم اجمعین۔ اور تیرے رب کی قسم، ہم ان سب سے سوال کریں گے۔ (حجر :92) یا یہ کہ انہیں جو سزا دی جائے گی وہ ان سے پوچھ کر تھوڑا ہی دی جائے گی بلکہ فرشتے ان کی صورت دیکھتے ہی پہچان لیں گے کہ یہ مجرم ہیں کیونکہ ان کے چہرے سیاہ اور آنکھیں نیلی ہوں گی۔ دیکھئے سورة الرحمن آیت :4 ۔ سورة طہ :102 ۔ (شوکانی)
Ayah 28:79

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ قَارُوْنُ١ۙ اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 28:79 in the Quran reader

آخر ایک روز ایسا ہوا قارون اپنا جلوس لے کر اپنے لوگوں پر نکلا8 جو لوگ دنیا کی زندگی چاہتے تھے زندگانی دنیا کی اے کاش کہ وہ واسطے ہمارے جیسا دیا گیا ہے قارون تحقیق وہ بڑے ہے قسمت والا

8 ۔ اس جلوس کے بارے میں مفسرین (رح) کے مختلف اقوال ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ بڑے ٹھاٹ باٹ اور شان و شوکت سے نکلا جسے دیکھ کر اس کی قوم کے لوگ دنگ رہ گئے۔
Ayah 28:80

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١ۚ وَ لَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ Open ayah 28:80 in the Quran reader

اور جن کو خدا کے پاس علم ملا تھا وہ ان آرزو کرنے والوں سے کہنے لگے ارے کم بختو اللہ کے پاس جو ایماندار نیک کام کرنے والوں کو وثاب ملے گا وہ اس سے کہیں بہت رہے وہ باقی ہے۔ فانی اور یہ ثواب انہی کو ملے گا جو دنیا کی تنگئی اور مصیبت پر صبر کرتے ہیں

1 ۔ یعنی اپنا اصلی گھر آخرت کو سمجھتے ہیں۔ دنیا کی تکالیف کو عارضی اور چند روزہ سمجھ کر کسی نہ کسی طرح گزار دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے شکوہ شکایت کا کوئی لفظ زبان پر نہیں لاتے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” دنیا سے آخرت کو وہی بہتر جانتے ہیں جن سے محنت سہی جاتی ہے۔ اور بےصبر لوگ حرص کے مارے دنیا کی آرزو پر گرتے ہیں۔ نادان آدمی دنیا دار کی آسودگی کو جانتا ہے (یعنی اس کی آسودگی کو دیکھ کر سمجھتا ہے کہ یہ بڑا قسمت والا ہے) اس کی فکر کو اور آخر کی (یعنی آخرت کی) ذلت اور سوجائی (یعنی سو جگہ) خوشامد کرنے کو نہیں دیکھتا ہے کہ دنیا میں آرام ہے تو دس بیس برس اور مرنے کے بعد کاٹنے ہیں ہزاروں برس۔ “