29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 29:41

مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِ١ۚۖ اِتَّخَذَتْ بَیْتًا١ؕ وَ اِنَّ اَوْهَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْكَبُوْتِ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:41 in the Quran reader

جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے دیوتا سرپرستبنا رکھے ہیں ان کی مثال مکڑی کی ہے وہ بھی اپنے نزدیک ایک مضبوط گھر بناتی ہے3 حالانکہ سب گھروں میں بودے سے بودا مکڑی کا گھر ہے کاش یہ لوگ سمجھتے ہوتے4

3 ۔ اور سمجھتی ہے کہ اس گھر میں گرمی، سردی اور بارش سے محفوظ رہوں گی مگر دراصل یہ حماقت اور نادانی ہے۔ (شوکانی) 4 ۔ کہ ان کا اپنے ان دیوتائوں کو سرپرست بنانا ایسا ہی ہے جیسا مکڑی کا گھر بنانا، جس طرح مکڑی کا گھر ذرا سی چوٹ سے نیچے آرہتا ہے اسی طرح ان کے دیوتائوں کا آسرا بھی بودا ہے جو انہیں کسی مصیبت کے وقت کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا، انہیں پکارنا اور نہ پکارنا یکساں ہے۔ (شوکانی)
Ayah 29:42

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:42 in the Quran reader

جن چیزوں کو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو خوب جانتا ہے وہ اور وہی ہے زبردست حکمت والاف 6

5 ۔ یہ ترجمہ اس صورت میں ہے جب ” ما یدعون “ کے ” ما “ کو استفہامیہ قرار دیا جائے اور اگر اسے نافیہ قرار دیا جائے تو ترجمہ یوں ہوگا۔ ” اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ یہ لوگ اس لے سوا کسی چیز کو نہیں پکارتے یعنی وہ کوئی چیز نہیں ہے کہ اسے پکارنا ان کے کسی کام آسکے اور یہاں ایک تیسرا احتمال بھی ہے کہ ” ما “ مصدر بیان لیا جائے۔ (شوکانی) 6 ۔ اسی کو پکارنا، اسی کے سامنے التجائیں کرنا اور اسی سے مرادیں مانگنا کام آسکتا ہے۔
Ayah 29:43

وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ١ۚ وَ مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ Open ayah 29:43 in the Quran reader

اور ہم یہ مثالیں لوگوں کے سمجھانے کے لئے بیان کرتے ہیں اور جو علم والے ہیں وہی ان کو سمجھتے ہیں7

7 ۔ علم والوں سے مراد ایسے لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتاب اور آفاق میں پھیلی ہوئی نشانیوں پر سوچ بچار کرتے ہیں۔ ایسے لوگ ہی راسخ فی العلم کہلانے کے مستحق ہیں۔ (شوکانی)
Ayah 29:44

خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 29:44 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین حکمت سے بنائے ہیں8 بیشک ایمانداروں کے لئے اس میں نشانی ہے9

8 ۔ ان کے بنانے میں بندوں کی تمام ضرورتوں اور مصلحتوں کا خیال رکھا گیا ہے۔ ان کو تفریحاً … نہیں بنایا گیا ہے۔ (شوکانی۔ ابن کثیر) بعض نے حق سے مراد کلام اور قدرت بھی لی ہے۔ (قرطبی) 9 ۔ یعنی جو لوگ دل میں جذبہ ایمان رکھتے ہوئے اس نظام کائنات پر غور کریں گے۔ ان پر یہ حقیقت کھل جائے گی کہ یہ نظام نہ کسی خالق کے بغیر بنا ہے اور نہ اس کے ایک سے زیادہ خالق ہوسکتے ہیں۔ بس ایک ہی ذات پاک ہے جس نے اسے پیدا کیا اور وہی اس کی حقدار ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔ (ابن کثیر بتوضیح)
Ayah 29:45

اُتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ Open ayah 29:45 in the Quran reader

(اے پیغمبر) جو قرآن تجھ کو بھیجا گیا ہے اس کو پڑھتا1 اور نماز درستی سے ادا کرتا رہ2 کیونکہ نماز (آدمی کو) بےحیائی اور برے کام سے روکتی رہتی ہے3 اور اللہ کی یاد سب نیکیوں سے بڑھ کر ہے4 اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو (نیکی) تم کرتے ہو

1 ۔ ” اور لوگوں تک اس کے احکام و فرامین پہنچاتا رہ “ تاکہ میں ایمان، سیرت کی پختگی اور مصائب و شدائد برداشت کرنے کی اطاعت پیدا ہو۔ 2 ۔ نماز سے مراد تمام فرض نمازیں ہیں اور اسے درستی سے ادا کرنے کا مطلب پورے ارکان و شرائط و سنن، طمانیت اور خشوع و خضوع سے ادا کرنا ہے۔ (قرطبی) مزید وضاحت کے لئے دیکھئے۔ ( سورة بقرہ حاشیہ آیت) 3 ۔ یعنی آخر کار اس کے بےحیائی اور برے کاموں سے رک جانے کا سبب بنتی ہے۔ اور یہ ناممکن ہے کہ ایک شخص صحیح طور پر نماز گزار ہو اور پھر بےحیائی اور برے کاموں سے بھی چمٹا رہے۔ بعض روایات میں آنحضرت ﷺ نے بھی اس کی تصریح کی ہے جیسا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا : انہ سینواہ ماتقول کہ اس کی یہ عادت سے اسے چوری سے روک دے گی اور اگر نماز کا یہ اثر انسان کی عملی زندگی میں ظاہر نہ ہو تو سمجھنا چاہیے کہ وہ نماز، نماز ہی نہیں ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : من لم تنھہ صلاتہ عن الفحشاۃ و المنکر فلاصلاۃ لہ کہ جس شخص کو اس کی نماز بےحیائی اور برے کام سے نہ روکے، اس کی نماز، نماز ہی نہیں ہے اور دوسری روایت میں مزید فرمایا : لم یزد بھا من اللہ الا بعدا کہ اس کی نماز اللہ تعالیٰ سے قرب کی بجائے دوری ہی پیدا کرے گی۔ (ابن کثیر وغیرہ) اور ” تنھی “ کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ نماز سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ ” الصلوات الخمس یمحوا اللہ بھن الخطایا “ اور ہوسکتا ہے کہ خبر بمعنی امر ہو۔ یعنی جو شخص نماز پڑھتا ہے اسے چاہیے کہ معاصی کو ترک کر دے۔ (قرطبی) 4 ۔ اور نماز اللہ کو یاد کرنے کی بہترین صورت ہے بلکہ اس کا مقصد اللہ تعالیٰ ہی کی یاد کو تازہ کرتے رہنا ہے۔ جیسے فرمایا : اقم الصلوٰۃ لذکری کہ میری یاد کے لئے نماز قائم کرو۔ (طہ :14) یا مطلب یہ ہے کہ بندہ تو اللہ کو یاد کرتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے کو یاد کرنا اس سے بڑھ کر ہے اور وہ ہے بندے پر ہدایت اور نور علم کا فیضان۔ (قرطبی) شاہ صاحب اپنی توضیح میں لکھتے ہیں۔ ” جتنی دیر نماز میں لگے اتنے تو ہر گناہ سے بچے۔ امید ہے کہ آگے بھی بچتا رہے اور اللہ کی یاد کو اس سے زیادہ اثر ہے۔ یعنی گناہ سے بچے اور اعلیٰ درجوں پر چڑھے۔ “ (موضح)
Ayah 29:46

وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ۖۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ اِلٰهُنَا وَ اِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 29:46 in the Quran reader

اور کتاب والوں (یہود نصاریٰ ) سے جھگڑا نہ کرو مگر اچھے طور سے5 مگر جو ان میں شرارت کریں6 اور یوں کہو ہم ایمان لائے اس پر جو ہم پر اترا (یعنی قرآن پر) اور جو تم پر اترا7 اور ہمارا اور تم ہارا خدا ایک ہی ہے اور ہم اسی کے تابعدار ہیں

5 ۔ یعنی معقول دلائل اور شائستہ زبان کے ساتھ ان کے انبیا اور ان کی کتابوں کا ادب ملحوظ رکھتے ہوئے۔ یہی حکم اب بھی ہے (ابن جریر) نیز دیکھئے۔ ( سورة نمل :125) 6 ۔ یعنی اگر وہ صریح بےانصافی، ضد اور ہٹ دھرمی پر تل جائیں تو ان سے ان کے رویہ کے مطابق سختی کا برتائو بھی کرسکتے ہو۔ مجاہد فرماتے ہیں کہ ان سے مراد مشرکین اہل کتاب ہیں۔ یا وہ جو آنحضرت ﷺ کو ایذا رسانی پر تلے رہتے تھے۔ بہرحال یہ آیت مکی ہے اس سے قتال ثابت نہیں ہوتا۔ (روح) 7 ۔ یعنی توراۃ، انجیل، زبور اور ان دوسرے صحیفوں پر جو تمہارے انبیا پر نازل ہوئے۔ ایک حدیث میں بھی اسی کی تلقین فرمائی گئی ہے : لاتصدقوا اھل الکتاب ولا تکذبومھم و قولوا امنا “ گویا یہ بھی ” وجادلھم بالتیھی احسن “ کی ایک صورت ہے۔ (تنبیہ) پہلی کتابوں کے متعلق اجمالی طور پر یہ تسلیم کرنا تو ضروری ہے کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتاری گئی ہیں، مگر عمل صرف قرآن و حدیث پر کیا جائے گا جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ ” اہل کتاب سے کوئی مسئلہ دریافت نہ کرو اس لئے کہ وہ خود گمراہ ہوگئے تمہیں ہرگز ہدایت نہ کریں گے “ پھر فرمایا :” اللہ کی قسم، اگر آج موسیٰ زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری پیروی کے سوا چارہ نہ ہوتا۔ (شوکانی)
Ayahs 29:47–48

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ۚ وَ مِنْ هٰۤؤُلَآءِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 29:47 in the Quran reader

اور اے پیغمبر جیسے ہم نے اگلے پیغمبروں پر کتابیں اتاریں اسی طرح تجھ پر بھی ہم نے کتاب اتاری پھر جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی تھی یہود اور نصاریٰ میں سے وہ تجھ پر ایمان لاتے اور ان (مکہ والوں مشرکوں) میں سے بھی بعضے ایمان لاتے ہیں اور ہماری آیتوں کو وہی نہیں مانتے جو ان اہل کتاب اور مشرکوں میں) ہٹ دھرم ہیں

وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِیَمِیْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 29:48 in the Quran reader

اور اے پیغمبر قرآن (اترنے) سے پہلے نہ تو تو کوئی کتاب پڑھ سکتا تھا اور نہ اپنے ہاتھ سے اس کو لکھ سکتا تھا (کیونکہ تو المی تھا نہ پڑھا نہ لکھا) اگر پڑھا لکھا ہوتا تو یہ جھوٹے دغا باز ضرور شبہ کرتے8

8 ۔ کہ پچھلی کتابوں کو دیکھ کر آپ نے پیغمبر کا دعویٰ کردیا ہے۔ اس آیت میں آنحضرت ﷺ کے امی ہونے کو آپ ﷺ کے دعوائے نبوت میں سچا ہونے پر دلیل ٹھہرایا ہے۔ (دیکھئے سورة قصص آیت 86 و سورة یونس آیت 16) بعض لوگوں نے صحیح بخاری میں صلح حدیبیہ والی روایت میں ” اخذ لکتب “ کہ قلم پکڑا اور لکھا سے استدلال کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ لکھنا پڑھنا جانتے تھے مگر یہ استدلال بچند وجوہ مخدوش ہے۔ اولاً تو صحیح بخاری کی دوسری روایت میں ” امر لکتب “ کے الفاظ ہیں جو وضاحت کے لئے کافی ہیں یعنی کہ ” اپ نے حکم دیا تو کاتب نے لکھا “ اور پھر اسی روایت میں :” ولایحن ان لکتب “ کے الفاظ ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا اس موقع پر لکھنا بھی اعجازی حیثیت کا حال ہے جو بجائے خود آپ ﷺ کے سچا نبی ہونے کی دلیل ہے۔ (قرطبی۔ ابن کثیر)
Ayah 29:49

بَلْ هُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 29:49 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ یہ قرآن کیا ہے کھلی کھلی آیتیں ہیں ان لوگوں کے سینوں میں9 جن کو (خدا کی طرف سے ملا دیا گیا ہے اور ہماری آیتوں کو وہی نہیں مانتے جو بےانصاف ہیں

9 ۔ وہ اس کو زبانی یاد کریں گے اور بن دیکھے پڑھیں گے۔ یہ قرآن کے خدائی کتاب ہونے کی واضح دلیل ہے۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں :” یہ وحی جو اس پر آئی ہمیشہ کو بن دیکھے جاری رہے گی سینہ بسینہ۔ اور کتابیں حفظ نہ ہوتی تھیں۔ یہ کتاب حفظ ہی سے باقی ہے لکھنا افزود (زیادہ) ہے۔ (موضح) آیت کا دوسرا مطلب ابن جریر (رح) نے یہ بیان کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا امی ہونا ان لوگوں کے سینوں میں، جو اہل کتاب میں سے ہیں۔ آپ ﷺ کے سچا پیغمبر ہونے کی کھلی کھلی نشانیوں (میں سے) ہے۔ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں : یہ مطلب زیادہ واضح ہے (نیز دیکھئے : اعراف :157)
Ayah 29:50

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 29:50 in the Quran reader

اور (مشرک) کہتے ہیں اس پیغمبر (حضرت محمد) پر اس کے مالک کی طرف سے نشانیاں کیوں نہ اتریں10 کہہ دے نشانیاں کے اختیار ہیں اور میں تو اور کچھ میں ایک کھلا ڈرانیوالا ہوں

10 ۔ یعنی دوسرے انبیا ( علیہ السلام) کی طرح ایسے معجزے جنہیں دیکھ کر آپ ﷺ کے واقعی نبی ہونے سے انکار نہ کیا جاسکتا۔ (قرطبی) فوائد صفحہ ہذا۔
Ayah 29:51

اَوَ لَمْ یَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ یُتْلٰى عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّ ذِكْرٰى لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 29:51 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو یہ نشانی بس نہیں کہ ہم نے تجھ پر قرآن اتار اجو ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے اس میں ایمان ولاوں کے لئے رحمت اور نصیحت ہے1

1 ۔ یعنی امی ہونے کے باوجود آپ ﷺ پر قرآن جیسی کتاب کا اترنا، کیا یہ بجائے خود اتنا بڑا معجزہ نہیں ہے ج آپ ﷺ کی صداقت پر یقین کرنے کے لئے کافی ہو۔
Ayahs 29:52–53

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ شَهِیْدًا١ۚ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 29:52 in the Quran reader

اے پیغمبر ان لوگوں سے کہہ دے اللہ بس ہے گواہ مجھ میں اور تم میں وہ آسمانوں اور زمین کی سب چیزیں جانتا ہے اور جو لوگ جھوٹے معبودوں پر ایمان لائے اور اللہ تعالیٰ کو نہ مانا (قیامت کے دن) وہی نقصان پائیں گے

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ لَوْ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَیَاْتِیَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 29:53 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) یہ لوگ تجھ سے عذا اب کی جلدی کرتے ہیں2 اور اگر اللہ تعالیٰ کے پاس عذاب کی ایک ٹھیری ہوئی مدت نہ ہوتی تو کب کا ان پر عذاب آچکتا اور ایک نہ ایک دن ایک ہی ایکا ان پر عذاب آجائیگا اور وہ بیخبر ہوں گیف 3

2 ۔ یعنی آپ ﷺ کو جھٹلاتے اور آپ کا مذاق اڑاتے ہوئے بار بار مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر سچے ہو تو ہم پر عذاب کیوں نہیں لے آتے۔ (انفال :32، سورة صٓ:16) اور مطالبہ کرتے : امطر علینا حجارۃ اوئتنا بعذاب کہ ہم پر پتھر برسائو یا کوئی دوسری قسم کا عذاب لے آئو۔ (دیکھئے سورة انفال :32 و سورة ص :16) 3 ۔ مراد ہے دنیا کا کوئی عذاب، جیسا کہ کفار پر بدر کے روز آیا۔ کیونکہ وہ اپنے غرور کے سبب مسلمانوں کے غلبہ سے بالکل بیخوف تھے اور ان کے دل میں خیال تک نہ تھا کہ اس طرح ذلت کے ساتھ قتل اور قید و بند کے عذاب میں مبتلا ہوجائیں گے۔ یا قبر اور پھر آخرت کا جس کا سلسلہ مرنے بعد فوراً شروع ہوجائے گا اور موت کے متعلق کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ وہ کب آجائے۔ (کذافی فی الوحیدی)
Ayahs 29:54–56

یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 29:54 in the Quran reader

عجب حال ہے یہ لوگ تجھ سے عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں اور دوزخ کافروں کو گھیرے ہوئے ہے یعنی عنقریب گھیر لے گی،

یَوْمَ یَغْشٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ وَ یَقُوْلُ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:55 in the Quran reader

جس دن سب طرف سے دوزخ کا عذاب ان کو ڈھانک لے گا اوپر سے اور ان کے پائوں تلے سے اور اللہ تعالیٰ یا اس کا فرشتہ) فرمائیگا اپنے اعمال کا جو تم کرتے رہے مزہ چکھو

یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَةٌ فَاِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 29:56 in the Quran reader

یعنی سزا میرے ایمان دار بندوں میری زمین کشادہ ہے تو کہیں بھی رہ کر میری پوجا کرتے رہو4

4 ۔ اکثر مفسرین کے نزدیک یہ آیت ان کمزور مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی جو مکہ سے ہجرت نہیں کرسکے تھے اور کفار نہیں ستا رہے تھے۔ (روح) اس میں ہجرت کی ترغیب ہے۔ یعنی اگر مکہ کی سرزمین میں جہاں تم اب ہو، میری بندگی بجالانا مشکل ہو رہا ہے تو میری زمین تنگ نہیں ہے۔ تم اپنے وطن چھوڑ کر کسی ایسی جگہ چلے جائو جہاں تم آزادی سے میری بندگی کرسکو۔ زجاج (رح) کہتے ہیں کہ یہ حکم عام ہے یعنی اگر کوئی شخص کسی ایسی جگہ رہتا ہو جہاں برائیوں کا دور دورہ ہو اور اس کے لئے حالات کا بدل ڈالنا ممکن نہ ہو، تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اس جگہ سے ہجرت کر کے کسی ایسی جگہ چلا جائے جہاں وہ آزادی سے خدا کی بندگی کرسکتا ہو۔ (شوکانی)
Ayah 29:57

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١۫ ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:57 in the Quran reader

ہر جاندار کو ایک نہ ایک دن) موت کا مزہ چکھنا ہے پھر تم سب کو ہمارے پاس لوٹ کر آن ہے

5 ۔ اس میں بھی۔ اللہ کی راہ میں ہجرت اور خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کی ترغیب ہے۔ یعنی جان کی فکر نہ کرو۔ یہ تو ایک نہ ایک دن اس بدن سے نکلنے والی ہے۔ اصل فکر اور اصل تگ ودو ایمان بچانے کی ہونی چاہیے۔ (ابن کثیر)
Ayahs 29:58–59

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَۗۖ Open ayah 29:58 in the Quran reader

اور اپنے اعمال کا جواب دینا) اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کئے ان کو ہم بہشت کے بالاخانوں ماڑیوں میں جگہ دیں گے ان کے تلے نہریں پڑی بہہ رہی ہوں گی ہمیشہ ان میں رہیں گے (نیک) عمل کرنیوالوں کا

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 29:59 in the Quran reader

جنہوں نے (تکلیف پر) صبر کیا اور اپنے مالک پر بھروسا کئے رہے کیا عمدہ بدلہ ہے1

1 ۔ نہ کہ اپنی جائیدادوں، کاروبار یا برادری یا کسی اور چیز پر۔
Ayah 29:60

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا١ۗۖ اَللّٰهُ یَرْزُقُهَا وَ اِیَّاكُمْ١ۖ٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:60 in the Quran reader

اور (دنیا میں) کتنے جانور ایسے ہی جو اپنی روزی لادے نہیں پھرتے اللہ تعالیٰ ان کو روزی دیتا2 ہے اور تم کو بھی وہی دیتا ہے اور وہ سب کچھ سنتا جانتا ہے3

2 ۔ یعنی نہ روزی جمع کرتے ہیں اور نہ کل کے لئے کچھ رکھ چھوڑتے ہیں۔ مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جب صحابہ کو مدینہ کی طرف ہجرت کا حکم دیا تو انہوں نے سوچا کہ وہاں ہماری معیشت کا کیا انتظام ہوگا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (روح) 3 ۔ مطلب یہ ہے کہ ہجرت کی راہ میں جان کی طرح تمہیں روزی کی فکر بھی نہ ہونی چاہیے۔ جو اللہ اپنی لاتعداد مخلوقات کو روزی دے رہا ہے وہ تمہیں بھی روزی دے گا۔ (دیکھئے سورة ہود :6)
Ayah 29:61

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ۚ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 29:61 in the Quran reader

اور اے پیغمبر اگر تو ان کافروں سے پوچھے کس نے آسمان اور زمین پیدا کئے اور سورج اور چاند کو کام میں لگایا تو ضرور یہی کہیں گے اللہ نے۔ پھر کہاں بہکے جا رہے ہیں4

4 ۔ جو ایسے قادر مطلق کو چھوڑ کر دوسروں کی پوجا کر رہے ہیں۔
Ayah 29:62

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 29:62 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ اپنے بندے میں سے جس کو چاہتا ہے فراغت کے ساتھ روزی دیتا ہے اور جس کو5 چاہتا ہے تنگی سے دیتا ہے بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے6

5 ۔ یا ” اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے (جب) چاہتا ہے اور فراغت سے روزی دیتا ہے اور (جب) چاہتا ہے اسے تنگی سے روزی دیتا ہے۔ “ 6 ۔ وہ اپنے بندوں کی مصلحتوں سے خوب واقف ہے کہ کس کے حق میں فراغت سے روزی دینا بہتر ہے اور کس کے حق میں تنگی سے روزی دینا۔ یا ایک ہی بندے کو کب فراغت سے روزی دینا بہتر ہے اور کب تنگی سے۔ (ابن کثیر)
Ayah 29:63

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 29:63 in the Quran reader

اور اگر تو ان سے پوچھے آسمان سے پانی کس نے برسایا پھر زمین کو مرے پیچھے پانی برسا کر کس نے جلایا تو ضرور یہی کہیں گے اللہ نے اے پیغمبر کہہ دے شکر ہے7 اللہ کا ابھی تک تم یہ اقرار کرتے ہو بات یہ ہے کہ ان کافروں میں اکثر بےعقل ہیں8

7 ۔ یا ” شکر ہے اللہ کا کہ اس اعتراف نعمت کے باوجود تم جس شرک میں گرفتار ہو، ہم اس سے محفوظ ہیں۔ یا مطلب یہ ہے کہ جب یہ سب نعمتیں اللہ کی عطا کردہ ہیں اور تم اس کا اعتراف کرتے ہو تو ضروری ہے کہ شکر بھی اسی کا کرو۔ 8 ۔ اگر عقل رکھتے ہوتے تو اس اعتراف نعمت کے باوجود شرک جیسی لعنت میں گرفتار نہ ہوتے۔ مطلب یہ ہے کہ جب کائنات کا خالق اور مدبر صرف اللہ ہے تو عبادت بھی اسی کی کرنی چاہیے۔ وکثیرا مایقدر تعالیٰ مقام الالوھیۃ بالاعتراف بتوحید الربوبیۃ۔ (ابن کثیر)
Ayah 29:64

وَ مَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَهْوٌ وَّ لَعِبٌ١ؕ وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:64 in the Quran reader

اور یہ دنیا کی زندگی کیا ہے کچھ نہیں مگر بہلاوا اور کھیل کود اور اگر سچ پوچھو تو آخرت کا ہی گھر زندگی ہے9 کاش یہ لوگ اس بات کو جانتے ہوتے10

9 ۔ یعنی ہمیشہ باقی اور قائم رہنے والی ہے۔ 10 ۔ تو یقینا باقی کو چھوڑ کر فانی کو اختیار کرتے ہیں۔ (ابن کثیر) دنیا کی بےثباتی و بےحقیقتی کا ذکر بہت سی احادیث میں بھی مذکور ہے۔
Ayah 29:65

فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 29:65 in the Quran reader

پھر یہ مشرک لوگ جب جہاز میں سوار ہوتے ہیں تو خدا کو پکارتے ہیں خالص اسی کو پوجا کرتے ہیں11 پھر جب اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو بچا کر خشکی میں لاتا ہے تو خشکی میں آتے ہی شرک کرنے لگتے ہیں

11 ۔ وہاں سب بتوں کو بھول جاتے ہیں کیونکہ دل میں سمجھتے ہیں کہ اس آفت سے بچانے والا اللہ کے سوا کوئی نہیں ہے۔
Ayah 29:66

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ۙۚ وَ لِیَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:66 in the Quran reader

جن کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے جو ان کو دریا سے نجات دی اس کی ناشکری کریں اور دنیا کے چند روزہ مزے اڑائیں خیر آگے چل کر اس ناشکری کا انجام ان کو معلوم ہوجائیگا

12 ۔ بتوں کے تھانوں پر جا کر نذر مانتے اور چڑھاوے چڑھاتے ہیں۔ آج کل کے مسلمان ان سے بھی بدتر ہیں کہ یہ مصیبت کے وقت بھی غیر اللہ کو پکارتے اور ان کے نعرے لگاتے ہیں۔ اعاذنا اللہ من ھذہ الضلالۃ۔
Ayah 29:67

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 29:67 in the Quran reader

لیا ان لوگوں نے قریش کے کافروں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے انکا شہر مکہ) امن13 والا حرم بنایا اور ان کے آس پاس حرم کے باہر لوگ لٹ جاتے ہیں یا اچک لئے جاتے تک کیا یہ لوگ جھوٹی بات کا تو یقین کرتے ہیں شرک اور بت پرستی کا اور اللہ کی سچی نعمت آنحضرت کی نبوت کو نہیں مانتے

13 کہ امن سے زندگی گزار رہے ہیں اور مکہ کو امن وامان کی جگہ ہمیں نے بنایا ہے نہ کہ کسی اور نے۔ (دیکھئے سورة بقرہ :125 ۔ انفال :26)
Ayahs 29:68–69

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 29:68 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے اس کا شریک ٹھہرائے یا جب سچی بات اللہ کی کتاب اس تک پہنچے تو اس کو جھٹلائے کیا ایسے کافروں کا ٹھکانا دوزخ نہیں ہے

وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 29:69 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہمارے لئے کوشش کی۔ (یا جہاد کیا کافروں سے لڑے) ہم ان کو ضرور اپنے قرب2) کے رستے دکھلائینگے اور بیشک اللہ اپنی مدد سے) نیک لوگوں کے ساتھ ہے۔

1 ۔ ان سے آنحضرت ﷺ ، صحابہ کرام ؓ اور قیامت تک کے لئے ان کے متبعین مراد ہیں۔ (ابن کثیر) ” جہاد “ کا لفظ جس طرح دشمنوں کے ساتھ قتال پر بولا جاتا ہے۔ اسی طرح مجاہدات و ریاضات نفسانی پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے بلکہ بعض روایات میں ان مجاہدات کو ” جہاد اکبر “ فرمایا ہے بشرطیکہ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور شریعت کی حدود کے اندر رہ کر یہ ریاضتیں کی جائیں۔ (قرطبی) 2 ۔ یعنی ان کی رہنمائی فرمائیں گے اور نیکی کے راستے اختیار کرنے اور ان پر چلنے کی زیادہ سے زیادہ توفیق دیں گے۔ بعض نے بہشت کی راہ مراد لی ہے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ” اپنی راہیں یعنی راہ قرب کے اور رضا کے جو بہشت ہے۔ “ (موضح)