34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 34:41

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ اَنْتَ وَلِیُّنَا مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ بَلْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ١ۚ اَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 34:41 in the Quran reader

وہ کہیں گے خداوندا تو ہر عیب سے پاک ہے ان سے ہمیں کیا کام تو ہمارا مالک ہے یہ لوگ ہم کو نہیں پوجتے تھے بلکہ شیطان کو پوجتے تھے ان میں اکثر لوگ شیطانوں کو ہی مانتے تھے8

ف 8 یعنی گویہ بظاہر ہمارے بت بنا کر ہماری عبادت کرتے تھے لیکن حقیقت میں یہ شیطن کی بندگی کرتے تھے کیونکہ ان شیاطین نے ان کو یہ راستہ دکھایا تھا کہ تجھے چھوڑ کر دوسروں کو اپنا معبود سمجھیں۔ ان کے آگے نذر و نیاز پیش کریں اور اپنی حاجت روائی کے لئے انہیں پکاریں۔ یہاں جن سے مراد شیاطین ہیں۔ ( ابن کثیر)
Ayah 34:42

فَالْیَوْمَ لَا یَمْلِكُ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ نَّفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ وَ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 34:42 in the Quran reader

(اللہ تعالیٰ فرمائیگا) پھر آج کے دن تم سے کوئی کسی کے بھلے یا برے کا اختیار نہیں رکھتا9 اور ہم مشرکوں سے کہیں گے اب تم دوزخ کے عذاب کا مزہ چکھو جس کو دنیا میں تم جھٹلاتے تھے

ف 9 یعنی تم میں سے کوئی شخص نہ دوسرے کو فائدہ پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان، جیسا کہ یہ لوگ دنیا میں سمجھا کرتے تھے کہ ہم اپنے دیوتائوں یا بزرگوں یا پیروں کا دامن تھام لیں گے اور خدا کی پکڑ سے محفوظ رہیں گے۔
Ayah 34:43

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا رَجُلٌ یُّرِیْدُ اَنْ یَّصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُكُمْ١ۚ وَ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكٌ مُّفْتَرًى١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 34:43 in the Quran reader

اور جب ان کافروں کو ہماری آیتیں ڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں یہ شخص پیغمبر تو ایک آدمی ہے ہماری طرح اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے باپ دادا جن کا پوجا کرتے تھے ان کے پوجے سے تم کو روک دے اور کہتے ہیں یہ قرآن تو نرا بنایا ہوا جھوٹ ہے اور کچھ نہیں اور کافروں کے پاس جب حق بات (اللہ تعالیٰ کی کاتب) آن پہنچی تو کہنے لگے یہ تو اور کچھ نہیں کھلا جادو ہے1

ف 1 یعنی کبھی تو قرآن کے متعلق کہتے کہ یہ جھوٹ جو خدا سے غلط طور پر منسوب کردیا گیا اور کبھی اسے جادو بتاتے یا ھذا کا ارشاد توحید کیط طرف ہو یعنی یہ کہ توحید کا دعویٰ محض جھوٹ ہے اور یہ قرآن جادو ہے۔ امام رازی (رح) لکھتے ہیں کہ توحید سے انکار تو صرف مشرکین ہی کرتے تھے لیکن قرآن اور معجزات سے انکار مشرکین اور اہل کتاب دونوں کرتے تے اس لئے ” کفروا “ کا لفظ دونوں کو شامل ہے۔ ( کبیر)
Ayah 34:44

وَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ كُتُبٍ یَّدْرُسُوْنَهَا وَ مَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ قَبْلَكَ مِنْ نَّذِیْرٍؕ Open ayah 34:44 in the Quran reader

اور (مکہ) کے کافروں کو تہم نے کوئی کاتب بھی ایسی نہیں دی جس کو وہ پڑھتے پڑھاتے رہتے ہیں (جیسے یہود اور نصاریٰ کو دی) اور نہ تجھ سے پہلے ہم نے ان کے پاس کوئی پیغمبر بھیجا2

ف 2 جس نے آ کر انہیں تعلیم دی ہو کہ خدا نے تمہارے لئے دوسروں کی پرستش کرنا جائز قرار دیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس شرک میں یہ مبتلا ہیں اور یہ جو آپ ﷺ کی تکذیب کر رہے ہیں وہ کسی علم پر نہیں بلکہ سراسر جہالت اور باب دادا کی اندھی تقلید پر مبنی ہے۔ ( کبیر)
Ayah 34:45

وَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۙ وَ مَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ فَكَذَّبُوْا رُسُلِیْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 34:45 in the Quran reader

اور ان سے پہلے کافروں نے بھی (پیغمبروں کو) جھٹلایا اور یہ عرب کے کافر تو ان کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے جو ہم نے اگلے کافروں کو دے کھا تھا3 غرض انہوں نے میرے پیغمبروں کو جھٹلایا پھر میں نے کیسا ان کو بگاڑ دیا4

ف 3 یعنی پچھے کافروں کو ہم نے جو دولت اور شان و شوکت دی تھی ان عرب کے کافروں کے پاس تو اس کا دسواں حصہ بھی نہیں ہے۔4 یعنی پیغمبروں کی تکذیب پر انہیں کیسی سخت سزا دی ایسا تباہ و برباد کیا کہ نام و نشان تک مٹ گیا تو پھر یہ عرب کے کافر کس بل بوتے پر اکڑتے ہیں اور کس زعم میں بغاوت کی روش اختیار کئے ہوئے ہیں ؟
Ayah 34:46

قُلْ اِنَّمَاۤ اَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ١ۚ اَنْ تَقُوْمُوْا لِلّٰهِ مَثْنٰى وَ فُرَادٰى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوْا١۫ مَا بِصَاحِبِكُمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ لَّكُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ Open ayah 34:46 in the Quran reader

اے پیغمبر ان لوگوں سے) کہہ دے میں تم کو ایک نصیحت کرتا ہوں تم دو دو اور ایک ایک اللہ کے واسطے اٹھ کھڑے ہو پھر (دل میں) سوچو (تم خود سمجھ لو گے کہ) تمہارا ساتھی (یعنے پیغمبر) بائولا نہیں ہے5 وہ تو اور کچھ نہیں بس ایک سخت عذاب کے آجانے سے تم کو ڈراتا ہے6(

ف 5 کفار آنحضرت ﷺ کی دعوت کو رد کرنے کے لئے آپ ﷺ پر مجنوں ہونے کا الزام لگاتے تھے۔ اس کے جواب میں فرمایا کہ تم لوگ آپس میں سر جوڑ کر یا پھر تنہائی میں بیٹھ کر ہر شخص آنحضرت ﷺ کے معاملہ میں غور کرے کہ وہ شخص جس کی راست بازی مشہور تھی اور تم میں سے ہر شخص اسے ” امین “ کہہ کر پکارتا تھا کیونکر ممکن ہے کہ یکایک بائولا ہوجائے اور خدا تک پر بہتان باندھنے لگے ؟۔6 تاکہ ایسا نہ ہو کہ تم اسی شرک اور کفر کی حالت میں مر جائو اور خدا کے ہاں عذاب کے مستحق قرار پائو۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک روز آنحضرت ﷺ نے کوہ صفا پر کھڑے ہو کر ” یا صباحاہ “ کہہ کر آواز دی۔ جب قریش آپ ﷺ کے گرد جمع ہوگئے تو انہوں نے دریافت کیا کہ آپ ﷺ نے ہمیں کس لئے بلایا ہے ؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : اگر میں یہ کہوں کہ صبح یا شام کو دشمن تم پر حملہ کرنے والا ہے تو میری تصدیق کرو گے ؟ جب سب نے اثبات میں جواب دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہیں سخت عذاب سے ڈرانیوالا ہوں “۔ اس پر ابو لہب نے کہا (تبالک الھذاجمعتنا) (ابن کثیر) ۔
Ayah 34:47

قُلْ مَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 34:47 in the Quran reader

اے پیغمبر) کہہ دے اگر میں تم سے کچھ نیگ مانگوں تو وہ تم ہی لے لو (تم ہی کو مبارک رہے) میرا نیک تو بس اللہ تعالیٰ پر ہے اور ہر چیز اس کے سامنے ہے

ف 7 وہ جانتا ہے کہ میں اپنے دعوائے نبوت میں سچا ہوں اور یہ دعوت کسی ذاتی مفاد کے لئے نہیں ہے۔ یہ آنحضرت ﷺ کے صدق فی الرسالۃ کی دوسری دلیل ہے۔ ( کبیر)
Ayah 34:48

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَقْذِفُ بِالْحَقِّ١ۚ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 34:48 in the Quran reader

کہہ دے8 میرا مالک حق بات پیغمبروں کے دل میں ڈالتا چلا جاتا ہے غیب کی باتوں کو وہ خوب جانتا ہے9

ف 8 لہٰذا وہ جو بات کہتے ہیں سچی کہتے ہیں ” یقذف بالحق) کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ حق کو باطل سے ٹکرا کر حق کو غالب اور باطل کو مغلوب کر رہا ہے۔ ( دیکھئے سورة انبیاء : آیت 18)9 مراد ہیں وہ باتیں جو دوسروں سے پوشیدہ ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ سے تو کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔
Ayah 34:49

قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ مَا یُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَ مَا یُعِیْدُ Open ayah 34:49 in the Quran reader

کہہ دے سچا دین (توحید کا) آن پہنچا اور جھوٹا دین (بالکل مٹ گیا) نہ وہ آسکتا ہے نہ پلٹ سکتا ہے10

ف 10 یعنی اب باطل کوئی چال چل لے وہ ہرگز کامیاب نہیں ہوسکتی۔ ( ابن کثیرعن ابن مسعود) روایات میں ہے کہ جب فتح مکہ کے دن آنحضرت ﷺ مسجد حرام میں داخل ہوئے تو کعبہ کے گرد جو بت نصیب تھے ان کو آنحضرت ﷺ اپنی کمان کے چلہ سے مارتے اور یہ آیت پڑھتے۔ ( ابن کثیر بحوالہ بخاری)
Ayah 34:50

قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَاۤ اَضِلُّ عَلٰى نَفْسِیْ١ۚ وَ اِنِ اهْتَدَیْتُ فَبِمَا یُوْحِیْۤ اِلَیَّ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ Open ayah 34:50 in the Quran reader

کہہ دے اگر میں بہک گیا ہوں تو بہک کر اپنا ہی برا کروں گا اور جو میں ہدایت پر آگیا ہوں تو میرے مالک کی مجھ پر وحی بھیجنے سے (میں راہ راست پر آیا ہوں) بیشک وہ سن رہا ہے نزدیک ہے11

ف 11 یعنی اگر تمہارے بتوں کو چھوڑدینے کی وجہ سے گمراہ ہوگیا ہوں، جیسا کہ تم میرے بارے میں کہتے پھرتے ہو تو اس گمراہی کا وبال مجھی پر پڑے گا تم پر اس کی ذمہ داری نہیں ہے اور اگر میں ہدایت یافتہ ہوں، جیسا کہ حقیقت ہے، تو یہ میرا کمال یا خوبی نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعہ میری رہنمائی ہے۔
Ayah 34:51

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ فَزِعُوْا فَلَا فَوْتَ وَ اُخِذُوْا مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ Open ayah 34:51 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) کاش تو (وہ سماں) دیکھے جب یہ کافر (مرتے وقت یا قبروں سے اٹھتے وقت) گھبرا جائینگے پھر بچ نہ سکیں گے اور نزدیک جگہ سے پکڑ لئے جائیں گے12

ف 12 یعنی اس طرح پکڑ لئے جائیں گے گویا ان کا پکڑنے والا قریب ہی کھڑا تھا۔ جونہی انہوں نے بھاگنے کی کوشش کی فوراً پکڑ لئے تھے۔ ابن جریر (رح) لکھتے ہیں کہ ان سے مراد وہ لشکر ہے جو عباسی دور حکومت میں مکہ اور مدینہ کے درمیان زمین کے اندر دھنسا دیا گیا تھا اور افسوس ہے کہ انہوں نے اس کی تائید میں ایک موضوع حدیث بھی درج کردی ہے مگر صحیح ہے کہ اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔ ( ابن کثیر) ۔
Ayah 34:52

وَّ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖ١ۚ وَ اَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍۚۖ Open ayah 34:52 in the Quran reader

اور (اس وقت) کہہ اٹھیں گے ہم (قرآن یا پیغمبر پر) ایمانل ائے اور بھلا اتنے دور مقام پر ان کا ہاتھ کہاں پہنچ سکتا ہے1

ف 1 یعنی اب ایمان ان کے ہاتھ کیسے آسکتا ہے ؟ دنیا میں ایمان لاتے تو اس کا فائدہ بھی ہوتا۔ اب جو دنیا دور ہوگئی اور اس کی طرف پلٹنا بھی ممکن نہیں رہا تو انہیں ایمان کا موقع کہاں سے مل سکتا ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ ایمان اور تو بہ کا وقت تو سکرات موت سے پہلے پہلے ہے۔ مرنے کے بعد عذاب کا مشاہدہ کر کے تو ہر ایک کو یقین آجائے گا مگر اس وقت کی توبہ قبول نہیں ہو سکے گی۔ ( ابن کثیر وغیرہ)
Ayah 34:53

وَّ قَدْ كَفَرُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ یَقْذِفُوْنَ بِالْغَیْبِ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 34:53 in the Quran reader

اور پہلے تو دنیا میں پیغمبر یا قرآن سے انکار کرتے رہے اور دور دور سے بن دیکھے بن سمجھے بوجھے تکے چلاتے رہے2

ف 2 یعنی محض اپنے گمان سے قرآن اور پیغمبر ﷺ کے متعلق جو دل میں آیا کہتے رہے۔ کبھی آپ ﷺ کو شاعر اور جھوٹا کہتے، کبھی جادوگر ہونے کی تہمت لگاتے اور کبھی بائولا کہتے، کبھی قرآن کا مذاق اڑاتے اور عقیدہ ٔ توحید پر طعن کرتے اور موت کے بعد دوبارہ زندگی کی تکذیب کرتے۔ الغرض جو دل میں آتا پوری بےباکی اور بےخوفی سے بکتے رہتے۔ ( ابن کثیر وغیرہ)
Ayah 34:54

وَ حِیْلَ بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ مَا یَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْیَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِیْ شَكٍّ مُّرِیْبٍ۠ Open ayah 34:54 in the Quran reader

اور (اب) ان میں اور جو وہ چاہتے ہیں اس میں روک ہوجائے گی3 جیسا اگلے لوگوں کے ساتھ کیا گیا جو انہی کے ہم جنس تھے وہ بھی انہی کی طرح شک در شک میں پڑے ہوئے تھے4

ف 3 یعنی عذاب سے چھٹکارا، یا دنیا کا مال و متاع اور عیش و آرام یا دنیا کی طرف پلٹنا یا توبہ اور ایمان وغیرہ۔ الغرض اس قسم کی جو خواہشیں بھی کریں گے اس سے محروم کردیئے جائیں گے۔ ( ابن کثیر)4 یعنی انہیں اللہ، رسول، آخرت الغرض ہر چیز میں شک تھا اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے روز شک کرنے والوں کا حشر بھی وہی ہوگا جو کھلم کھلا انکار کرنے والوں کا ( وحیدی)