35. Surah Faatir

فاطرThe Originator · 45 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 35:41

اِنَّ اللّٰهَ یُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا١ۚ۬ وَ لَئِنْ زَالَتَاۤ اِنْ اَمْسَكَهُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا Open ayah 35:41 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کو بیشک اللہ ہی تھامے ہوئے ہے وہ اپنی جگہ سے ٹل نہیں سکتے اور جو کہیں ٹل جائیں تو پھر اللہ کے سوا کوئی بھی ایسا نہیں جو ان کو تھام سکے بیشک اللہ تعالیٰ تحمل والا ہے بخشنے والاف 4

ف 3 ان کے معبودوں سے خلق وقدرت کی نفی کے بعد اب اللہ تعالیٰ کی قدرت کو بیان فرمایا۔ یعنی جس طرح یہ حقیقت ہے کہ آسمان و زمین کا بنانے والا صرف اللہ ہے اور اس کے سوا کوئی ان کا بنانے والا اور اس نظام کو چلانے والا نہیں ہے۔ اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی زمین و آسمان کو اپنی قدرت سے تھامے ہوئے ہے۔ کوئی دوسرا ان کے تھامنے اور ان کا نظام چلانے میں اس کا شریک نہیں ہے۔4 یعنی اللہ تعالیٰ کا حلم اور اس کی مغفرت نہ ہوتی تو بندوں کا کفر و عصیان ( خصوصاً شرک) اس بات کا متقاضی ہے کہ آسمان و زمین اپنی جگہ پر قائم نہ رہیں جیسے فرمایا (تکاد السموات یتفطرن منہ وتنشق الارض و تخر الجبال ھدا ان دعوا اللرحمن ولدا) (مریم : 9، 91) یا مطلب یہ ہے کہ مشرکین اپنے شرک و عصیان کی وجہ سے اس امر کے مستحق ہوچکے ہیں کہ آسمان کو گرا کر ان کو تباہ و برباد کردیا جائے اور زمین ویرانہ بن جائے۔ مگر اللہ تعالیٰ اپنے حلم و مغفرت کی وجہ سے ان کو تھامے ہوئے ہے۔ اگر یہ اپنی جگہ سے ٹلا گئے تو کوئی طاقت نہیں جو ان کو تھام سکے۔ ( کبیر وغیرہ)
Ayah 35:42

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآءَهُمْ نَذِیْرٌ لَّیَكُوْنُنَّ اَهْدٰى مِنْ اِحْدَى الْاُمَمِ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ نَذِیْرٌ مَّا زَادَهُمْ اِلَّا نُفُوْرَاۙ Open ayah 35:42 in the Quran reader

اور یہ کافر پیغمبر کے آنے سے پہلے تو بڑے زور کی قسمیں کھایا کرتے تھے کہ ان کے پاس خدا کی طرف سے کوئی ڈرانیوالا پیغمبر آئیگا تو وہ کوئی سی بھی مت ہو اس سے بڑھ چڑھ کر سیدھی راہ5 پر چلیں گے پھر جب ڈرانیوالا پیغمبر ان کے پاس آن پہنچاتو اور نفرت ان کی بڑھ گئی

ف 5 جس کی طرف اللہ نے کبھی اپنا کوئی پیغمبر بھیجا ہو۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ” عرب کے لوگ جو سنتے یہود کی بےحکیماں اپنے نبی سے تو کہتے۔ ہم میں اگر نبی آوے تو ہم ان سے بہتر رفاقت کریں۔ سو منکروں نے اور عداوت کی “۔ اکثر مفسرین (رح) نے آیت کی یہ تفسیر بیان کی ہے۔ اور ( سورة صفافات : 137، 169) سے بھی اس کی تائید وضاحت ہوئی ہے۔ فرمایا (وان کانو لیقولون لو ان عندنا ذکرا من الاولین لکنا عباد اللہ الخلصین) اور یہ قرآن اترنے سے پہلے کہا کرتے تھے کہ اگر پچھلوں کی کوئی کتاب ہمارے پاس ہوتی تو ہم اللہ کے برگزیدہ بندے ہوجاتے۔ مگر امام رازی (رح) کہتے ہیں کہ مشرکین مکہ تو رسالت اور حشر کے قائل ہی نہیں تھے۔ پھر ان کے اس قول کی یہ تفسیر کیسے کی جاسکتی ہے۔ دراصل اس قول سے ان کا مقصد مبالغہ کے ساتھ رسالت محمد ﷺ کی تکذیب کرنا ہے۔ یعنی اگر اللہ کی طرف سے واقعۃً کوئی پیغمبر آتاتو ہم اس پر ایمان لے آتے مگر یہ محمد ﷺ تو پیغمبر نہیں ہیں بلکہ نعوذ باللہ کا ذب اور مفتری ہیں ( کبیر)
Ayah 35:43

اِ۟سْتِكْبَارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَكْرَ السَّیِّئِ١ؕ وَ لَا یَحِیْقُ الْمَكْرُ السَّیِّئُ اِلَّا بِاَهْلِهٖ١ؕ فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا سُنَّتَ الْاَوَّلِیْنَ١ۚ فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا١ۚ۬ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَحْوِیْلًا Open ayah 35:43 in the Quran reader

لگے زمین میں شیخی مارنے اور برے برے فریب کرنے اور یہ نہیں جانتے برا فریب فریب کرنیوالے ہی پر لوٹ جاتا ہے (چاہ کن راجا درپیش) پھر اب وہ اسی اللہ کے برتائو کے منتظر ہیں جو اگلے کافروں کے ساتھ ہوتا رہا عذاب اترا تو اے پیغمبر اللہ تعالیٰ کا برتائو ( اس کا طریقہ قاعدہ) تو ہرگز بدلتا ہوا نہ پائے گا اور تو ہرگز اللہ کا برتائو ملتا ہوا نہ پائے گا6

ف 6 یعنی یہ اگر اپنی روش نہ بدلیں گے اور اپنی سرکشی میں بڑھتے جائیں گے تو پچھلے کافروں کی طرح ان پر عذاب نازل ہو کر رہے گا۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی سنت تبدیل نہیں ہوسکتی کہ یہ اس کی پکڑ سے محفوظ رہیں۔
Ayah 35:44

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعْجِزَهٗ مِنْ شَیْءٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَلِیْمًا قَدِیْرًا Open ayah 35:44 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے مکلوں کی سیر نہیں (اگر کرتے) تو دیکھ لیتے اگلے لوگوں (کافروں) کا انجام کیسا ہوا اور وہ زور قوت میں ان سے بڑھ کر تھے اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ آسمان اور زمین میں کوئی چیز بھی اس کا تھکا سکے وہ سب7 جانتا ہے اور (ہر طرح کی) قدرت رکھتا ہے1

ف 7 یعنی وہ اسے ہونے کا حکم دے یا کسی قوم پر عذاب نازل کرنے کا ارادہ کرے اور وہ نازل نہ ہو۔ 1 کوئی چیز اس سے سے پوشیدہ یا کوئی کام اس کیلئے دشوار نہیں ہے۔
Ayah 35:45

وَ لَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰى ظَهْرِهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّ لٰكِنْ یُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِیْرًا۠ Open ayah 35:45 in the Quran reader

اور اگر لوگوں کو ان کے کاموں پر فوراً پکڑ لیا کرے (سزا دے) تو زمین پر ایک جاندار بھی باقی نہ چھوڑے2 مگر اللہ تعالیٰ ایک مقررہ وقت قیامت تک ان کو ڈھیل دیتا ہے جب ان کا وقت موت کا یا قیامت آن پہنچے گا تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے3

ف 2 جاندار سے مراد جن و انس کے علاوہ عام جاندار ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جن و انس تو اپنے گناہوں کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے۔ اور دوسری جاندار چیزیں جن و انس کے گناہوں کی نحوست کی وجہ سے بعض آثار میں ہے۔ (کاذ الجعل ان یعذب فی حجرہ بذنب ابن ادم) (قرطبی)3 کسی کا حال اس سے پوشیدہ نہیں ہے وہ ہر ایک کو اس کے اچھے یا برے عمل کا ٹھیک ٹھیک بدلہ دیگا۔