37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 37:79–80

سَلٰمٌ عَلٰى نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:79 in the Quran reader

سارے جہان والے یہی کہتے ہیں نوح پر سلام

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:80 in the Quran reader

ہم نیکوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے (جیسے نوح کو دیا)8

ف 8 یعنی زندگی میں ان کی مدد کرتے ہیں اور مرنے کے بعد ان کا ذکر خیر باقی رکھتے ہیں۔
Ayahs 37:81–84

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:81 in the Quran reader

بیشک وہ ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھا

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:82 in the Quran reader

پھر دوسروں کو (جو کافر تھے) ہم نے ڈبو دیا

وَ اِنَّ مِنْ شِیْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 37:83 in the Quran reader

اور نوح ہی کے راہ پر چلنے والوں میں ایک ابراہیم تھا

اِذْ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ Open ayah 37:84 in the Quran reader

جب اپنے مالک کے پاس پاک دلے کر آیا9

ف 9 اپنے مالک کے پاس آنے سے مراد ہر طرف سے منہ موڑ کر اس کی طرف متوجہ ہونا ہے اور پاک دل سے مراد ایسا دل ہے جو شرک، کفر، بدعت شکوک و شبہات اور ہر قسم کے اعتقادی یا عملی خرابی سے پاک ہو۔
Ayah 37:85

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا ذَا تَعْبُدُوْنَۚ Open ayah 37:85 in the Quran reader

جب اس نے اپنے باپ (آزر) اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا تم کن چیزوں پوجتے ہو10

ف 10 یعنی سوچو تو سہی کہ یہ بت وغیرہ جن کی تم عبادت کرتے ہو آخر ہیں کیا چیز ؟
Ayahs 37:86–87

اَئِفْكًا اٰلِهَةً دُوْنَ اللّٰهِ تُرِیْدُوْنَؕ Open ayah 37:86 in the Quran reader

کیا اللہ کو چھوڑ کر تم ان جھوٹے خدائوں کے پیچھے لگیہو

فَمَا ظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:87 in the Quran reader

تم نے خدا کو جو سایر جہان کا مالک ہے کیا سمجھ رکھا ہے11

ف 11 یعنی کیا تم اس کے غضب سے نہیں ڈرتے کہ تم چاہے دوسروں کو اس کے ساتھ شریک قرار دے لو وہ تمہیں کوئی سزا نہ دے گا ؟
Ayah 37:88

فَنَظَرَ نَظْرَةً فِی النُّجُوْمِۙ Open ayah 37:88 in the Quran reader

تو اس نے12 ستاروں کو ایک بار دیکھا13

ف 12 یہاں سے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے جس واقعہ کا ذکر کیا جا رہا ہے اس کی تفصیل سورة انبیاء آیت (51، 73) میں بھی گزر چکی ہے۔13 اکثر مفسرین (رح) نے لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی قوم کے لوگ بتوں کے علاوہ ستاروں کی بھی پرستش کیا کرتے تھے اور ستاروں کی گردش کی حادث زمانہ میں اور موثر مانتے تھے۔ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے انہیں مغالطے میں ڈالنے کیلئے ستاروں پر ایک نظر ڈالی تاکہ وہ سمجھیں کہ ستاروں سے اپنا آئندہ حال معلوم کررہے ہیں۔ بعض نے لکھا ہے کہ یہ محاورہ ہے جو غور و فکر کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے سوچتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا جیسا کہ ہر شخص جب کوئی غور طلب معاملہ آتا ہے تو آسمان کی سمت یا اوپر کی طرف دیکھتا ہے واللہ اعلم۔ ( ابن کثیر)
Ayah 37:89

فَقَالَ اِنِّیْ سَقِیْمٌ Open ayah 37:89 in the Quran reader

پھر کہنے لگا میں (شاید) بمیار ہوجائوں گا14

ف 14 یا ” میں بیمار ہونے والا ہوں “ یا ” میں بیمارہوں “ کیونکہ دنیا میں ہر شخص کو کوئی نہ کوئی عارضہ ہوتا ہی ہے اور قوم کی حالت دیکھ کر جو کڑھتے تھے وہ بھی اپنی جگہ ایک تکلیف تھی۔ بہرحال حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے توریہ کیا جو اگرچہ جائز ہے مگر اپنی ظاہری صورت میں چونکہ جھوٹ ہوتا ہے اس لئے حدیث میں حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے اس قول ( انی سقیم) کو تین جھوٹوں میں سے ایک شمار کیا ہے جو انہوں نے اپنی زندگی میں اللہ کی خاطر ایک عظیم تر مقصد کے لئے بولے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” یہ ایک جھوٹ ہے اللہ کی راہ میں عذاب نہیں ثواب ہے۔ ) (موضح)
Ayah 37:90

فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِیْنَ Open ayah 37:90 in the Quran reader

وہ اس کو چھوڑ کر پیٹھ موڑ کر چل دیے15

ف 15 یعنی انہیں وہیں چھوڑ کر واپس چلے گئے۔ ( ابن کثیر) ۔
Ayahs 37:91–94

فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمْ فَقَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَۚ Open ayah 37:91 in the Quran reader

جب وہ لوگ چل دیئے تو ابراہیم چپکے سے ان کے بتوں میں جا گھسا اور ٹھٹھے کے طور ان سے کہنے لگا تم کھاتے کیوں نہیں

مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُوْنَ Open ayah 37:92 in the Quran reader

تم کو کیا ہوا ہے بولتے کیوں نہیں پھر

فَرَاغَ عَلَیْهِمْ ضَرْبًۢا بِالْیَمِیْنِ Open ayah 37:93 in the Quran reader

ان پر بل پڑا داہنے ہاتھ سے مارنے لگا

فَاَقْبَلُوْۤا اِلَیْهِ یَزِفُّوْنَ Open ayah 37:94 in the Quran reader

لوگ دوڑتے ہوئے اس کے پاس پہونچے1

ف 1 اور اسے کر مجمع کے سامنے لے آئے۔ تفصیل سورة انبیاء میں گزر چکی ہے۔
Ayahs 37:95–96

قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَۙ Open ayah 37:95 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا کیا تم ان چیزوں کو پوجتے ہو جن کو تم خود تراشتے ہو

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 37:96 in the Quran reader

حالانکہ تم کو اور جن چیزوں کو تم بناتے ہو اللہ نے پیدا کیا ہے2

ف 2 یا ” جو عمل تم کرتے ہو انہیں بھی اللہ نے پیدا کیا ہے “۔ معلوم ہوا کہ بندہ کے تمام افعال کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور یہی اہل سنت کا عقیدہ ہے۔ حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ ( ابن کثیر)
Ayahs 37:97–98

قَالُوا ابْنُوْا لَهٗ بُنْیَانًا فَاَلْقُوْهُ فِی الْجَحِیْمِ Open ayah 37:97 in the Quran reader

وہ لوگ (آپس میں) کہنے لگے ابراہیم کے لئے ایک عمارت بنائو پھر سا کو دہتی آگ میں ڈال دو

فَاَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 37:98 in the Quran reader

غرض انہوں نے ابراہیم پر دائوں چلانا چاہا ہم نے انہی کو نیچا دکھایا3

ف 3 یعنی حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو واقعی آگ میں ڈال دیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے بچا لیا۔ دیکھئے۔ ( سورة انبیاء آیت 69 و عنکبوت آیت 24)
Ayah 37:99

وَ قَالَ اِنِّیْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 37:99 in the Quran reader

اور ابراہیم نے آگ سے نکل کر یہ کہا اب میں اپنے مال ک کی (راہ میں) کسی اور طرف چلا جاتا ہوں4 وہ مجھ کو ضرور رہنے کا ٹھکانا بتلائیگا

ف 4 یعنی کافروں کے ملک سے ہجرت کرتا ہوں۔ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم کو سب سے پہلے ملک شام پہنچنے کا حکم دیا۔ ( فتح القدیر)
Ayah 37:100

رَبِّ هَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:100 in the Quran reader

مالک میرے مجھ کو ایک بیٹا دے جو نیک5 ہو

ف 5 مقاتل (رح) کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے یہ دعا شام پہنچ کر فرمائی۔ ( شوکانی)
Ayah 37:101

فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ Open ayah 37:101 in the Quran reader

تو ہم نے ایک تحمل والے لڑکے (کے پیدا ہونے) کی اسکو خوشخبری دی6

ف 6 ان سے مراد حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) ہیں اور یہ پہلے لڑکے ہیں۔ ان کے حضرت اسحاق ( علیہ السلام) سے بڑے ہونے پر تمام مسلمانوں اور اہل کتاب کا اتفاق ہے۔ قرآن کے انداز بیان سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ کیونکہ پہلے غلام حلیم کی بشارت اور ان کے ذبح سے بچ جانے کا واقعہ نقل کیا ہے اور پھر اس کے بعد ( وبشرناہ باسحاق) ذکر کیا ہے اور ان کو ( نبی تا من الصالحین) کہا جس کے معنی یہ ہیں کہ وہ جوانی کو پہنچ کر نبی بنیں گے نیز حضرت اسحاق ( علیہ السلام) کی خوشخبری کے ساتھ ان کے بعد حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کی خوشخبری ہے، اس لئے یہ نہیں ہوسکتا کہ حضرت اسحاق ( علیہ السلام) کے ذبح کا حکم دیا جائے۔ ( ابن کثیر)
Ayahs 37:102–103

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰى١ؕ قَالَ یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ١٘ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 37:102 in the Quran reader

جب وہ لڑکا اس لائق ہوا کہ ابرایہ مکہ ساتھ سکے تو ابراہیم نے کہا بیٹا میں خواب میں یہ دیکھتا ہوں جیسے تجھ کو ذبح کر رہا ہوں تو بھی سوچ کر دیکھ تیری رائے کیا ہے لڑکے نے کہا باوا جو اللہ کا حکم تجھ کو ہوا ہے اس کو فوراً بجا لائو دیکھے گا اللہ نے چاہا میں ضرور صبر کروں گا

فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِیْنِۚ Open ayah 37:103 in the Quran reader

جب پا اور بیٹا دونوں اللہ کا حکم بجا لانے پر مستعد ہوگئے اور اس نے بیٹے کو ماتھے کے بل اوندھا پچھاڑا7

ف 7( فطھر صبر ھما) ( تو ان دونوں کا صبر ظاہر ہوگیا) یہ عبادت محذوف ہے جو ( لما) کا جواب ہے۔ حضرت ابراہیم نے بیٹے کو اوندھا اس لئے لٹایا کہ ذبح کرتے وقت اس کا چہرہ دیکھ کر کہیں رقت اور ہاتھ میں لرزش پیدانہ ہوجائے۔ عموماً مفسرین نے ” للجین “ کا یہی مفہوم بیان کیا ہے اور اس سلسلہ میں بعض آثار بھی نقل کیے ہیں کہ حضرت اسماعیل نے اپنے باپ ابراہیم ( علیہ السلام) کو اس طریق سے ذبح کرنے کی وصیت کی۔ ممکن ہے حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) نے اپنے باپ سے یہ باتیں بطور احتیاط کہہ دی ہوں مگر آیت سے یہ مفہوم اخذ کرنا بعید ہے کیونکہ لفظ ” جبین “ کا معنی جبھۃ (ماتھا) کی ایک جانب کے آتے ہیں۔ پس اس کے معنی یہ ہیں کہ ان کو لٹالیا جیسا کہ ذبح کے وقت جانور کو لٹایا جاتا ہے قتاوہ (رح) سے منقول ہے ( ای کتبہ وحول وجھہ الی لقبلۃ) یعنی ان کو پچھاڑ کر ان کا چہرہ قبلہ کی طرف کردیا۔ اس سے اس مفہوم کی وضاحت ہوجاتی ہے۔ پھر یہ واقعہ وادی منی میں صخرہ کے قریب پیش آیا۔ بعض نے لکھا ہے کہ منحر کا واقعہ ہے جس جگہ آج کل قربانی ذبح کی جاتی ہے واللہ اعلم۔ ( قرطبی، روح)
Ayahs 37:104–105

وَ نَادَیْنٰهُ اَنْ یّٰۤاِبْرٰهِیْمُۙ Open ayah 37:104 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم کو پکارا

قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْیَا١ۚ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:105 in the Quran reader

اے ابراہیم تو نے اپنا خواب سچا کر دکھایا ہم نیکوں کو ایسا انکی نیکی کا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں8

ف 8 یعنی انہیں آزمائشوں سے اسی طرح سرخرو کر کے نکالتے ہیں اور ان کے درجات بلند کرتے ہیں۔
Ayah 37:106

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰٓؤُا الْمُبِیْنُ Open ayah 37:106 in the Quran reader

بیشک یہ کھلی آزمائش تھی9

ف 9 یعنی باپ کا اکلوتے بیٹے کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا
Ayah 37:107

وَ فَدَیْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ Open ayah 37:107 in the Quran reader

اور ہم نے اس لڑکے کے صدقے میں ایک بڑی قرباین دی10

ف 10 اکثر مفسرین (رح) کے نزدیک ” بڑی قربانی “ سے مراد ایک عظیم الشان مینڈھا ہے جو فرشتہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے پاس بھیجاتا کہ وہ بیٹے کی بجائے اس کی قربانی کریں۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ” حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ کر زور سے چھری چلائی، اللہ کے حکم سے گلا نہ کٹا۔ جبرئیل نے بیٹے کو سرکادیا ( اور) ایک ذنبہ رکھ دیا آنکھیں کھولیں تو دنبہ ذبح پڑا تھا۔ ( موضح)
Ayahs 37:108–112

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۖ Open ayah 37:108 in the Quran reader

اور ابراہیم کا ذکر خیر ہم نے پچھلے لوگوں میں باقی رکھا

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ Open ayah 37:109 in the Quran reader

ہر شخص یہی کہتا ہے سلام ہے ابراہیم پر

كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:110 in the Quran reader

ہم نیکوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں جیسے ابراہیم کو دیا)

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:111 in the Quran reader

بیشک وہ ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھا

وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:112 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو ایک دوسرے لڑکے اسحاق کی خوشخبری دی جو پیغمبر ہوگا نیک بخشوں میں سے1

ف 1 اس میں جیسا کہ اوپر بیان ہوا، اس چیز کی دلیل ہے کہ ذبح ہونے والے حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) تھے نہ کہ حضرت اسحاق ( علیہ السلام) کیونکہ ان کے تو جوانی کو پہنچ کر نبی بننے کی بشارت دی گئی تھی پھر ان کو ذبح کرنے کا حکم کیونکر دیا جاتا۔
Ayah 37:113

وَ بٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَ١ؕ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِیْنٌ۠ Open ayah 37:113 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم اور اس کے فرزند اسحاق پر برکت اتاری2 اور ان دونوں کی اولاد میں کوئی تو نیک ہے کوئی اپنی جان پر کھلا ستم کرنے والا بدکار ہے)

ف 2 برکت میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ انہیں کثیر اولاد بنایا اور ان کی اولاد میں سلسلہ نبوت رکھا۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” دونوں کہا دونوں بیٹوں کو، دونوں سے بہت اولاد پھیلی۔ اسحاق ( علیہ السلام) کی اولاد میں نبی گزرے بنی اسرائیل کے اور اسماعیل ( علیہ السلام) کی اولاد میں عرب، جن میں ہمارے پیغمبر ﷺ ہوئے۔ ( اضح)
Ayahs 37:114–115

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَۚ Open ayah 37:114 in the Quran reader

اور ہم موسیٰ اور ہارون پر بھی احسان کرچکے ہیں

وَ نَجَّیْنٰهُمَا وَ قَوْمَهُمَا مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 37:115 in the Quran reader

ان کو پیغمبر دے کر اور ان کو اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو ہم نے بڑی سختی سے بچا دیا3

ف 3 مراد ہے غلامی کی وہ حالت جس میں وہ فرعون اور اسکی قوم کے ہاتھوں مبتلا تھے۔
Ayahs 37:116–117

وَ نَصَرْنٰهُمْ فَكَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَۚ Open ayah 37:116 in the Quran reader

اور ہم نے ان مدد کی تو یا تو وہ مغلوب تھے پھر وہی غالب بن گئے

وَ اٰتَیْنٰهُمَا الْكِتٰبَ الْمُسْتَبِیْنَۚ Open ayah 37:117 in the Quran reader

اور ہم نے ان دونوں کو کھلی کتاب دی4

ف 4 یعنی توراۃ جس میں واضح احکام موجود تھے۔