37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 37:157–158

فَاْتُوْا بِكِتٰبِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 37:157 in the Quran reader

اگر سچے ہو تو اپنی کتاب ہے آئو

وَ جَعَلُوْا بَیْنَهٗ وَ بَیْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا١ؕ وَ لَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ Open ayah 37:158 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے خدا اور جنوں میں ناطہ رشتہ قائم کیا ہے2 اور جنوں سے اگر پوچھو تو ان کو خوب معلوم ہے کہ ایسا بکنے والے عذاب میں پکڑے آئیں گے3

ف 2 لغوی طور پر ” جن “ سے مراد ہر وہ مخلوق ہے جو پوشیدہ ہو اور نظر نہ آئے، اس لئے اکثر مفسرین (رح) نے اس آیت میں جنوں سے مراد فرشتے لئے ہیں۔ بعض مفسرین (رح) نے ان سے مراد اصطلاحی جن ہی لئے ہیں کیونکہ جیسا کہ یہ حضرات کہتے ہیں عربوں کا عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جنوں کے ایک قبیلہ میں شادی کی اور اس سے فرشتے پیدا ہوئے، اوالعیاذ باللہ ( شوکانی) یا ” نسا “ سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں شیطان کو شریک بنا لیا۔ ( قرطبی)3 اس سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ جہاں جنوں مراد فرشتے ہیں اور اگر اصطلاحی جن ہی مراد لئے جائیں تو اس فقرہ کا یہ مطلب ہوگا کہ ” جنوں کو خوب علم ہے کہ وہ ( یعنی جو ان میں سے کافر ہیں) عذاب میں پکڑے آئیں گے “۔
Ayahs 37:159–160

سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ Open ayah 37:159 in the Quran reader

اللہ ان باتوں سے پاک ہے جو یہ بناتے ہیں

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:160 in the Quran reader

مگر اللہ کے چنے ہوئے بندے4

ف 4” وہ ایسی باتیں نہیں کرتے “ یا ” وہ عذاب میں پکڑے ہوئے نہیں آئیں گے “۔
Ayahs 37:161–163

فَاِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 37:161 in the Quran reader

اے مکہ کے مشرکو تم اور جن بتوں کو تم پوجتے ہو

مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ بِفٰتِنِیْنَۙ Open ayah 37:162 in the Quran reader

یہ کسی کہ بکا کر بت پرستی پر نہیں لگا سکتے

اِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:163 in the Quran reader

مگر اس کو جو تقدیر الہی سے دوزخ میں جانے والا ہے5

ف 5 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” تم اور عبادت جو تم کرتے ہو، اس پر ( یعنی اس سے) تم کسی کو گمراہ نہیں کرسکتے مگر اس کو جو۔۔۔ “ پہلا ترجمہ “ ما تعبدون کے ” ما “ کو موصولہ ماننے کی صورت میں ہے۔ اور دوسرا ترجمہ اسے مصدر یہ ماننے کی صورت میں۔ نیز یہ دونوں ترجمے اس صورت میں ہیں جب ” علیہ “ میں ” ہ “ کی ضمیر ” ما تعبدون “ کے لئے قرار دی جائے اور اگر یہ اللہ تعالیٰ کے لئے قرار دی جائے تو ترجمہ یوں ہوگا کہ ” تم اور تمہارے معبود یا تم اور تمہاری عبادت اللہ تعالیٰ کے خلاف کسی کو گمراہ نہیں کرسکتے مگر اس کو جو ( قرطبی، شوکانی) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : یعنی تم انسان اور تمہارے شیطان بےمرضی اللہ کے گمراہ نہیں کرسکتے گمراہ وہی ہوگا جس کو اس نے دوزخی لکھی دیا۔ (موضح)
Ayah 37:164

وَ مَا مِنَّاۤ اِلَّا لَهٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌۙ Open ayah 37:164 in the Quran reader

اور فرشتے تو یہ کہتے ہیں ہم میں سے ہر ایک کا ایک درجہ مقرر ہے6

ف 6” جس سے ہم ذرہ برابر تجاوز نہیں کرسکتے، کجا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی اولاد ہونے کا دعویٰ کریں “۔
Ayah 37:165

وَّ اِنَّا لَنَحْنُ الصَّآفُّوْنَۚ Open ayah 37:165 in the Quran reader

اور ہم تو صف باندھتے رہتے ہیں7

ف 7 یعنی صف باندھے ہر آن اطاعت و حکم برداری کے لئے تیار رہتے ہیں۔ ( دیکھئے آیت 1)
Ayah 37:166

وَ اِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَ Open ayah 37:166 in the Quran reader

اور ہم خدا کی خوبی بیان کرتے رہتے ہیں8

ف 8 یا ” نماز پڑھتے رہتے ہیں ‘ لفظی ترجمہ یوں ہے ” اور ہم تسبیح کرنے والے ہیں “ حدیث میں ہے کہ آسمان میں قدم رکھنے کی کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جس میں کوئی فرشتہ سجدہ ریز نہ ہو اور یہی معنی ” مقام ملوم “ کے ہیں۔ (شوکانی)
Ayahs 37:167–169

وَ اِنْ كَانُوْا لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:167 in the Quran reader

اور یہ لوگ یوں کہا کرتے تھے

لَوْ اَنَّ عِنْدَنَا ذِكْرًا مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 37:168 in the Quran reader

اگر اگلے لوگوں کی کوئی کتاب ہمارے پاس ہوتی

لَكُنَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:169 in the Quran reader

تو ہم اللہ کے چنے ہوئے بندے ہوجاتے9

ف 9 یعنی اگر گزشتہ قوموں کی طرح ہمارے پاس کوئی پیغمبر آتا یا ہم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی کتاب نازل ہوتی تو ہم۔۔۔ “ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ بات مشرکین مکہ نبی ﷺ کی بعثت سے پہلے کہا کرتے تھے، نیز دیکھئے۔ آیت 42( شوکانی)
Ayah 37:170

فَكَفَرُوْا بِهٖ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 37:170 in the Quran reader

اور لگے اس کا انکار کرنے10 آگے چل کر ان کو معلوم ہوجائے گا11

ف 10 یعنی جب یہ کتاب، قرآن ان کے پاس آگئی تو یہ اس سے انکار کرنے پر تل گئے۔11 یعنی اس انکار کا نتیجہ معلوم ہوجائے گا۔ ( قرطبی)
Ayahs 37:171–173

وَ لَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 37:171 in the Quran reader

اور ہم تو پہلے ہی اپنے بھیجے ہوئے بندوں کیپیغمبروں کے باب میں فرما چکے ہیں

اِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ۪ Open ayah 37:172 in the Quran reader

کہ آخر ایک روز ضرور ان کو ہماری مدد پہنچے گی

وَ اِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 37:173 in the Quran reader

اور ضرور ہمارا ہی لشکر غالب ہوگا12

ف 12 ” ہمارے لشکر “ سے مراد انبیاء ( علیہ السلام) اور ان کے ماننے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایک ایک موقع پر انہیں فتح نصیب ہوگی بلکہ یہ مطلب ہے کہ آخر کار فتح ان ہی کی ہوگی اور کفر و شرک کا خاتمہ ہو کر رہے گا۔ نیز دیکھئے مومنون آیت 9۔ ( ابن کثیر)
Ayahs 37:174–175

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتّٰى حِیْنٍۙ Open ayah 37:174 in the Quran reader

تو اے پیغمبر چند روز تک ان مشرکوں کا خیال چھوڑ دے

وَّ اَبْصِرْهُمْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ Open ayah 37:175 in the Quran reader

اور ان کو دیکھتا رہ13 وہ آگے اپنی ذلت اور روسوائی دیکھ لیں گے14

ف 13 یعنی جب تک ہم آپ ﷺ کو ان سے جنگ کرنے کی اجازت نہیں دیتے آپ ﷺ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں اور زبانی طور پر دعوت و تبلیغ کا کام کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ آیت مکی دور کی ہے۔14 چناچہ یہ وعدہ پورا ہوا اور چند سال بعد آنحضرت ﷺ فاتحانہ مکہ میں داخل ہوئے اور کفار نے اپنی ذلت و رسوائی اپنی آنکھوں سے دیکھی۔
Ayah 37:176

اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 37:176 in the Quran reader

کیا وہ ہمارے عذاب (آنے) کی جلدی مچا رہے ہیں15

ف 15 یعنی مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ اگر سچے ہو تو ہم پر وہ عذاب کیوں نہیں لے آتے جس کی دھمکی دیتے ہو۔
Ayah 37:177

فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمْ فَسَآءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 37:177 in the Quran reader

جب ان کے آنگن (انگنائی صحن میں عذاب اتر یگا تو جن لوگوں کو (خدا کے عذاب سے) ڈرایا گیا تھا اور انہوں نے نہ مانا ان کی صبح بری منحوس ٹھیریگی

ف 16 یعنی وہ صبح جس میں ان پر عذاب نازل ہوگا ان کے حق میں انتہائی بری ہوگی۔ عرب عموماً صبح کے وقت دشمن پر حملہ کرتے اس لئے صبح کا لفظ خاص طور پر ذکر کیا گیا۔ ( قرطبی)
Ayahs 37:178–182

وَ تَوَلَّ عَنْهُمْ حَتّٰى حِیْنٍۙ Open ayah 37:178 in the Quran reader

اور اے پیغمبر چند روز تک ان کا خیال چھوڑ دے

وَّ اَبْصِرْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ Open ayah 37:179 in the Quran reader

اور دیکھتا رہ یہ بھی آگے جل کر اپنا نتیجہ دیکھ لیں گے

سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُوْنَۚ Open ayah 37:180 in the Quran reader

اے پیغمبر تیرا مالک جو عزت والا ہے ان باتوں سے پاک ہے جو یہ بناتے ہیں

وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَۚ Open ayah 37:181 in the Quran reader

اور سلام ہے پیغمبروں پر

وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 37:182 in the Quran reader

اور ساری تعریف اسی اللہ کی ہے جو سارے جہان کا مالک ہے1

ف 1 اس میں بندوں کی تعلیم کو دی گئی ہے کہ انہیں جب کوئی نعمت حاصل ہو یا ان سے کوئی مصیبت ٹلے تو انہیں چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا لشکربجا لائیں۔ حدیث میں ہے کہ جب تم رسولوں پر سلام بھیجو تو مجھ پر ( بھی) سلام بھیجو۔ آنحضرت ﷺ جب نماز سے واپس ہوتے تو ” سبحان ربک “ تا آخر پڑھتے اور ہر مجلس کے خاتمہ پر اس کا پڑھنا مستحب ہے۔ ( قرطبی، شوکانی)