39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 39:41

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ۠ Open ayah 39:41 in the Quran reader

اے پیغمبر ہم نے لوگوں کے سمجھانیکے لئے تجھ پر سچی کتاب اتاری قرآن3 پھر جو کوئی راہ پر آجائے تو اپنا ہی بھلا کرے اور جو کوئی بہک جائیتو بہک اپنا ہی برا کرے گا اور تو کچھ ان کا ذمہ دار نہیں ہے4

ف 3 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” حقیقت میں ہم ہی نے آپ ﷺ پر یہ کتاب اتاری ہے “4 یعنی آپ ﷺ کا کام ان پر سیدھی راہ واضح کرنا ہے۔ اس کے بعد اگر یہ اسے اختیار نہ کریں اور گمراہی میں بھٹکتے پھریں، تو آپ ﷺ سے کوئی مواخذہ نہ ہوگا۔
Ayah 39:42

اَللّٰهُ یَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِهَا١ۚ فَیُمْسِكُ الَّتِیْ قَضٰى عَلَیْهَا الْمَوْتَ وَ یُرْسِلُ الْاُخْرٰۤى اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 39:42 in the Quran reader

اللہ جانوں کو مرتے وقت اپنے پاس اٹھا لیتا ہے اور جو نہیں مریں ان کو سوتے وقت اٹھا لیتا ہے5 پھ رجن پر موت کا حکم لگا ہوا ان کو تو اپنے پاس رکھ چھوڑتا ہے بدن میں گھسنے نہیں دیتا اور باقی جانوں کو جن پر موت کا حکم نہیں لگا ایک ٹھہرے ہئے وعدے موت تک چھوڑ دیتا ہے بیشک اس میں غور کرنیوالوں کے لئے خدا کی قدرت کی نشانیاں ہیں6

ف 5” جان دو طرح کی ہے ایک ” نفس الحیاۃ “ یعنی وہ جان جس سے زندگی قائم ہے اور دوسری ” نفس التمیز “ یعنی وہ جان جس سے فہم و ادراک اور احساس و شعور قائم رہتا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ مرنے والے کی ” نفس الحیاۃ “ اور سونے والے کی نفس التمیز اپنی طرف اٹھا لیتا ہے “۔ یہ تفسیر حضرت ابن عباس ؓ کی طرف منسوب ہے جسے زجاج نے اختیار کیا ہے۔ شاہ صاحب (رح) نے بھی اپنی توضیح میں اسی کو اختیار کیا ہے لکھتے ہیں : کہ نیند میں جو جان کھینچتی ہے۔ یہ جان وہ ہے جسے ہوش ( نفس التمیز) کہتے ہیں اور ایک جان جس سے دم چلتا ہے اور نبضیں اچھلتی ہیں اور کھانا ہضم ہوتا ہے وہ دوسری ہے وہ موت سے پہلے نہیں کھینچتی۔ الغرض اس تفسیر کی بنیاد اس بات پر ہے کہ نفس اور روح دو چیزیں ہیں۔ مگر اس آیت اور صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں کیونکہ قبض کا لفظ روح اور نفس دونوں کے لئے آیا ہے۔ اب رہی یہ بات کہ نیند کی حالت میں بھی تو فی ہوتی ہے اور موت کے وقت بھی حالانکہ موت کے وقت آدمی میں جان نہیں رہتی اور نیند کی حالت میں جان باقی رہتی ہے تو پھر ان دونوں میں فرق کیا ہے ؟ اس کے جواب حضرت علی ؓ فرماتے ہیں :” نیند کی حالت میں روح کا تعلق جسم سے قائم رہتا ہے جیسے سورج کی شعاع کہ وہ زمین پر بھی پڑتی ہے اور سورج کے ساتھ بھی قائم ہے مگر موت کے وقت وہ تعلق قائم نہیں رہتا جیسا کہ قیامت کے دن سورج کے دم و بےنور کردیا جائے گا “۔ (از احسن)6 شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” نیند میں ہر روز جان کھینچتا ہے پھر بھیجتا ہے۔ یہی نشان ہے آخرت کا ( موضح) مطلب یہ ہے کہ جو خدا سونے والے کی جان قبضے کر کے دوبارہ اس کے بدن میں لوٹا دیتا ہے اس کے لئے کیا مشکل ہے کہ ایک دن مرنے والے کی جان بھی اس کے بدن میں لوٹا دے۔ ( ابن کثیر)
Ayah 39:43

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُفَعَآءَ١ؕ قُلْ اَوَ لَوْ كَانُوْا لَا یَمْلِكُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 39:43 in the Quran reader

کیا ان کافروں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا سفارشی بنا رکھا ہے7 اے پیغمبر کہہ دے اگر یہ سفارشی ذرہ بھی اختیار نہ رکھتے ہوں اور نہ ان کو عقل ہو8

ف 7 یعنی بجائے اس کے کہ یہ لوگ موت اور نیند کی کیفیت سے کوئی سبق حاصل کریں اور ہر معاملہ کا مختار صرف اللہ تعالیٰ کو سمجھیں، انہوں نے کچھ دوسرے معبود بنا لئے ہیں جنہیں یہ اللہ کے حضور اپنا سفارشی سمجھتے ہیں۔8 یعنی کیا پھر بھی تم انہیں اپنا سفارشی سمجھ کر ان کو پوجا کرتے رہو گے ؟ ان کے نام کی نذر نیاز مانتے رہو گے اور اپنی دعائوں میں بطور وسیلہ ان کا ذکر کرتے رہو گے۔ ظاہر ہے کہ تمہارے یہ بت بےجان چیزیں ہیں ان کا نہ کوئی اختیار ہے اور نہ ان میں عقل ہے، پھر کیوں انہیں اپنا سفارشی سمجھتے ہو ؟
Ayah 39:44

قُلْ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِیْعًا١ؕ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 39:44 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کہہ دے سفارش تو ساری خدا کے اختیار میں ہے9 آسمان اور زمین سب میں اسی کا راج ہے پھر مرنے کے بعد بھی تم کو اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے10

ف 9 یعنی کسی کو کسی کے لئے اس کے اذن کے بغیر سفارش کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ ( دیکھئے بقرہ : 255، انبیاء : 28)10 نہ کہ کسی اور کی طرف۔
Ayah 39:45

وَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اِذَا ذُكِرَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 39:45 in the Quran reader

جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے ان کے سامنے جب اکیلے خدا کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل بھینچ جاتے ہیں (نفرت کرتے ہیں) اور جب خدا کے سوا (دوسرے دیوتائوں کا) مذکور ہوتا ہے تو اسی وقت خوش ہوجاتے ہیں11

ف 11 افسوس ہے کہ آج بھی یہی کیفیت بہت سے ان مسلمانوں کی ہے جو اولیاء پرستی کے مرضی میں مبتلا ہیں، ان کے سامنے اللہ کی خالص توحید کا ذکر ہو تو ان کے دل بھینچ جاتے ہیں اور کہتے ہیں، یہ شخص ضرور اولیاء اللہ کا منکر ہے لیکن اگر اولیاء اللہ کے فضائل و کرامات کے من گھڑت قصے سنائے جائیں تو گویا ان کے دل کی کلی کھل جاتی ہے اور خوشی سے ان کے چہرے دمکنے لگتے ہیں۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اصل محبت اور دلچسپی اللہ تعالیٰ سے نہیں بلکہ اپنے ان اولیاء سے ہے۔
Ayah 39:46

قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ اَنْتَ تَحْكُمُ بَیْنَ عِبَادِكَ فِیْ مَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 39:46 in the Quran reader

اے پیغمبروں آسمان اور زمین کے پیدا کرنے والے چھپے اور کھلے کے جاننے والے تو ہی اپنے بندوں میں ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں12

ف 12 یہ دعا ہے جو گویا اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ایسے موقع پر پڑھنے کے لئے سکھائی ہے جب لوگ حق بات سنیں اور ناحق جھگڑے کئے جائیں۔ بہت سی احادیث میں اس مضمون کی ادعیہ مذکور ہیں۔ ( شوکانی)
Ayah 39:47

وَ لَوْ اَنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ مِنْ سُوْٓءِ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ بَدَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمْ یَكُوْنُوْا یَحْتَسِبُوْنَ Open ayah 39:47 in the Quran reader

اور اگر ان نافرمانوں کے پاس ساری زمین کی دلوت ہو اور اتنی ہی اور تو قیامت کے دن اپنی چھوڑائی میں حوالے کردیں دے کر پانی خلاصی کرا لیں)1 اور ان لوگوں پر خدا کی طرف سے وہ کھلے گا2 جس کا ان کو گمان بھی نہ تھا

ف 1 یعنی دے کر اپنی خلاصی کرانے کیلئے تیار ہوجائیں۔2 یعنی ایسے ایسے عذاب نمودار ہوں گے۔
Ayahs 39:48–49

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 39:48 in the Quran reader

اور ان کے سارے برے کام ان پر کھل جائیں گے اور جس عذاب کا ٹھٹھا کیا کرتے تھے وہی ان پر الٹ پڑے گا

فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا١٘ ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰهُ نِعْمَةً مِّنَّا١ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ١ؕ بَلْ هِیَ فِتْنَةٌ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:49 in the Quran reader

پھر آدمی کا تو یہ حال ہے جب اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو (گڑا گڑا گڑ گڑا کر) ہم کو پکارتا ہے اس کے بعد جب کوئی نعمت ہم اس کو دیتے ہیں تو یوں کہتا ہے مجھے تو میرے علم اور ریاضت سے یہ نعمت ملی ہے3 نہیں یہ سمجھنا غلط ہے وہ نعمت اللہ کی آزمائش ہے4 پر اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے5

ف 3 یا ” اس نعمت کے ملنے کا مجھے پہلے سے علم تھا “۔ یا ” اللہ کا علم تھا کہ میں اس نعمت کا مستحق ہوں “۔4 کہ آیا وہ اسے پا کر شکر بجا لاتا ہے یا نا شکری پر اتر آتا ہے۔5” کہ انہیں جو دولت اور نعمت ملی ہے اس سے اللہ تعالیٰ ان کا امتحان لینا چاہتا ہے “
Ayah 39:50

قَدْ قَالَهَا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:50 in the Quran reader

ان سے پہلے جو لوگ گزر چکے ہیں6 پر انہوں نے بای ایسی ہی باتیں کیں آخر تباہ ہوگئے اور جو انہوں نے کمایا تھا وہ ان کے کچھ کام نہ آیا7

ف 6 جیسے سورة قصص ( آیت 78) میں انہی الفاظ کے ساتھ قارون کا قول گزر چکا ہے۔7 مثال کے طور پر قارون ہی کا انجام دیکھ لیا جائے۔
Ayah 39:51

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ؕ وَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ هٰۤؤُلَآءِ سَیُصِیْبُهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ۙ وَ مَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 39:51 in the Quran reader

تو جو برے) کام انہوں نے کئے ان کے وبال ان پر پڑگئے اور (قریش کے) کافروں میں بھی جو قصور وار ہیں ان کے برے کاموں کے وہاں پر ضرور پڑیں گے اور (یہ کافر خدا کو، ہرا نہیں سکتے8

ف 8 یعنی خدا سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتے بلکہ اسی کی طرف واپسی ہوگی اور اسے پورا اختیار ہوگا کہ انہیں جو سزا دینا چاہے، دے۔
Ayah 39:52

اَوَ لَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 39:52 in the Quran reader

کیا ان کو یہ نہیں معلوم ہوا کہ اللہ جس کو چاہتا ہے فراغت کے ساتھ روزی دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے تنگی سے دیتا ہے بیشک اس میں روزی کی کمی بیشی میں ایماندار لوگوں کے لئے حق تعالیٰ کی قدرت9 کی نشانیاں ہیں

ف 9 یعنی روزی کی تنگی اور کشائش اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے جس کی حکمت ہماری سمجھ سے بالا تر ہے۔ اس کی کمی بیشی کا مدار ہرگز آدمی کے علم و عقل اور ہنر مندی پر نہیں ہے۔ کتنے عقل مند لوگ رات دن فکر معاش میں سر گردان رہتے ہیں مگر اتنا بھی نہیں پاتے جس سے اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ پال سکیں اور کتنے جاہل نادان ہیں جو بےفکر وسعی لاکھوں روپے کے مالک ہیں اور نہ اسکی کمی بیشی کا مطلب ہے کہ جس کو زیادہ روزی دی جا رہی ہے وہ حق تعالیٰ کا پسندیدہ اور جسے کم روزی دی جا رہی ہے وہ اس کی غیر پسندیدہ بندہ ہے۔ بعض اوقات کسی آدمی کو زیادہ روزی اس لئے دی جاتی ہے کہ اس کا امتحان لیا جائے کہ آیا وہ شکر کرتا ہے یا نا شکری پر اتر آتا ہے اور کسی کو فقرہ فاقہ میں اس لئے مبتلا کیا جاتا ہے کہ اس کا امتحان لیا جائے کہ آیا وہ صبر کرتا ہے یا اللہ تعالیٰ کو کو سنے پر اتر آتا ہے ؟
Ayah 39:53

قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 39:53 in the Quran reader

اے پیغمبر10 کہہ دے میرے بندوں جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا11 اللہ کی مہربانی سے ناامید نہ ہو12 کیونکہ اللہ سب گناہوں کا شرک کے سوا) بخشش دیتا ہے13 بیشک وہی بڑا بخشنے والا مہربان ہے

ف 10 یعنی اے نبی ﷺ ! میرے بندوں سے خطاب کر کے کہہ دیجئے۔ واضح رہے کہ تمام لوگ مسلمان ہوں یا کافر، انبیاء ( علیہ السلام) و الیاء ہوں یا فرشتے سب اللہ کے بندے ہیں حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو بھی متعدد آیات میں بندہ کہہ کر خطاب فرمایا ہے۔11 یعنی کفر و شرک اور گناہوں کا ارتکاب کر کے اپنے آپ کو دوزخ کا مستحق بنا لیا۔ یہاں اسراف میں اور گناہوں کے علاوہ کفر و شرک بھی داخل ہے۔12 یہ رحمت مقید بہ توبہ ہے کیونکہ شرک بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتا۔ یعنی یہ نہ سمجھو کہ ہم اتنے گناہ کرچکے ہیں اب ہماری بخشش کیونکر ہوگی بلکہ اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرو اس کی رحمت بڑی وسیع ہے اور ہر انسان کے سامنے توبہ کا دارومدار کھلا ہے۔ 13 یعنی توبہ کرو گے تو وہ ہر قسم کے گناہ چاہے وہ کتنے ہی زیادہ اور کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں معاف فرما دے گا حتیٰ کہ توبہ سے تو شرک جیسا گناہ بھی معاف ہوجاتا ہے۔ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ توبہ کے بغیر سب ہی گناہ معاف ہوجاتے ہیں اس لئے کہ شرک بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتا جیسا کہ آیت ( ان اللہ لا یغفر) الخ ( نساء : 48) میں بیان ہوچکا ہے۔ بہرکیف اس آیت میں گناہ گاروں کو توبہ کی دعوت دی ہے اور اس پر غفران ذنوب ( بشمول شرک) کی خبر دی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے بعض لوگوں نے شرک کی حالت میں بڑے پیمانے پر قتل اور زنا کا ارتکاب کیا تھا وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ ﷺ جو دعوت پیش فرما رہے ہیں وہ ہے تو ٹھیک، لیکن یہ بتایئے کہ ہماری بد اعمالیاں بھی معاف ہوسکتی ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اور سورة فرقان کی آیت ( والذین لا یدعون۔۔۔۔۔ ) الخ نازل فرمائی۔ (ابن کثیر)
Ayahs 39:54–57

وَ اَنِیْبُوْۤا اِلٰى رَبِّكُمْ وَ اَسْلِمُوْا لَهٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 39:54 in the Quran reader

اور تم پر عذاب آنے سے پہلے تم اپنے مالک کی طرف رجوع ہوجائو اور اس کی فرمانبرداری کرو عذاب آئے بعد پھر کوئی تمہاری مدد نہ کرسکے گا

وَ اتَّبِعُوْۤا اَحْسَنَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَّ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 39:55 in the Quran reader

اور تم پر بیخبر ی میں ناکارہ عذاب آجانے سے پہلے جو اچھا کلام تمہارے مالک کی طرف سے تم پر اترا ہے یعنی قرآن دس پر چلو

اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یّٰحَسْرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطْتُّ فِیْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَ اِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِیْنَۙ Open ayah 39:56 in the Quran reader

(ایسا نہ ہو تم میں سے) کوئی شخص یوں کہنے لگے ہائے افسوس میں نے اللہ کی اطاعت میں کیسی کوتاہی کی اور میں تو بیشک دنیا میں دین کا مسخرہ پن ہی کرتا رہا

اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 39:57 in the Quran reader

یا یوں کہنے لگے اگر اللہ تعالیٰ دنیا میں مجھ کو رستہ بتلاتاتو آج میں بھی پرہیز گاروں میں ہوتا1

ف 1 یعنی جب کوئی اور عذر نہ ملے تو اللہ تعالیٰ پر الزام دھرنے لگے کہ اسی نے مجھے ہدایت نہ دی، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر ﷺ اور قرآن کو اپنی طرف سے حجت تمام کردی ہے
Ayahs 39:58–60

اَوْ تَقُوْلَ حِیْنَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ اَنَّ لِیْ كَرَّةً فَاَكُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 39:58 in the Quran reader

یا جب عذاب اپنے سامنے دیکھ لے تو یوں کہے کاش میں ایک اور میں دنیا میں بھیج دیا جائوں تو میں بھی نیکوں میں شامل ہوجائوں

بَلٰى قَدْ جَآءَتْكَ اٰیٰتِیْ فَكَذَّبْتَ بِهَا وَ اسْتَكْبَرْتَ وَ كُنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:59 in the Quran reader

اس وقت اللہ تعالیٰ نے فرمائیگا کیوں نہیں ارے کافر میری آیتیں تجھ تک پہنچی تھیں لیکن تو نے کو جھٹلایا اور شیخی کرنے لگا اور منکرین بیٹھا

وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تَرَى الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلَى اللّٰهِ وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:60 in the Quran reader

اور اے پیغمبر قیامت کے دن تو دیکھے گا جن لوگوں نے دنیا میں اللہ پر جھوٹ باندھا انکے منہ کالے ہوں گے کیا غرور کرنے والوں کا ٹھکانا دوزخ میں نہیں ہے2

۔2 یقینا ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔
Ayah 39:61

وَ یُنَجِّی اللّٰهُ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ١٘ لَا یَمَسُّهُمُ السُّوْٓءُ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 39:61 in the Quran reader

اور جو لوگ شرک اور کفر سے) بچے رہے ان کو کامیابی کے ساتھ اللہ تعالیٰ بچا دے گا3 ان کو تکلیف چھوئے گی بھی نہیں اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے

ف 3 یعنی دوزخ سے بچائے گا اور جنت دے کر کامیاب فرمائے گا۔
Ayah 39:62

اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١٘ وَّ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 39:62 in the Quran reader

ہر چیز کا پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے اور ہر چیز اسی کی سپرد ہے4

ف 4 یعنی جس طرح ہر چیز کا پیدا کرنے والا صرف اللہ ہے اسی طرح ہر چیز کی تدیبر و حفاظت کرنے والا بھی صرف اللہ ہی ہے نہ اس کے پیدا کرنے میں اس کا کوئی شریک ہے اور نہ اس کی حفاظت و تدبیر کرنے میں۔
Ayahs 39:63–64

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 39:63 in the Quran reader

آسمان اور زمین کے خزانوں کی کنجایں اسی پاس ہیں اور جن لوگوں نے اللہ کی آیتوں کو نہیں مانا (قیامت میں) وہی نقصان اٹھائیں گے

قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْٓنِّیْۤ اَعْبُدُ اَیُّهَا الْجٰهِلُوْنَ Open ayah 39:64 in the Quran reader

(اے پیغمبر ان کافروں سے کہ جائو (نادانو) تم مجھ سے یہ کہتے ہو کہ اللہ کے سوا اور کسی کو) میں پوجوں5

ف 5 حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ مشرکوں نے اپنی جہالت کی بناء پر رسول اللہ ﷺ کو اپنے دیوتائوں کی پرستش کی دعوت دی۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ( ابن کثیر) ۔
Ayah 39:65

وَ لَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَئِنْ اَشْرَكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 39:65 in the Quran reader

اورت یری طرف اور تجھ سے پہلے جو پیغمبر گزر گئے ان کیطرف بھی یہ حکم بھیجا جا چکا ہے ہر ایک پیغمبر سے ہم نے کہہ دیا ہے اگر تو نے اللہ کے ساتھ شرک کی توتیرا کیا کرایا سب اکابت اور تو ٹوٹے میں پڑگیا تو1

ف 1 اس سے مقصود مسلمانوں کو متنبہ کرنا ہے کہ شرک اتنا بڑا گناہ ہے کہ اگر بغرض محال نبی ﷺ بھی جو اللہ تعالیٰ کے محبوب ترین بندے ہیں اس کا ارتکاب کر بیٹھیں تو ان کا سب کیا کرایا اکارت ہوجائے۔ مرتد ہونے سے تمام نیک اعمال باطل اور ضائع ہوجاتے ہیں بشرطیکہ اس کی موت بھی کفر پر ہو۔ اگر تائب ہوجائے تو وہ عمل دوبارہ بحال کردیئے جاتے ہیں۔ ( دیکھئے سورة بقرہ آیت 217)
Ayah 39:66

بَلِ اللّٰهَ فَاعْبُدْ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 39:66 in the Quran reader

کافروں کا کہنا ہرگز نہ مان) بلکہ اللہ ہی کو پوجتا اور اسی کا شکر کرتا رہ2

ف 2 کہ اس نے آپ ﷺ کو توحید کی توفیق دی اور شرک سے بچایا۔
Ayah 39:67

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ۖۗ وَ الْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌۢ بِیَمِیْنِهٖ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 39:67 in the Quran reader

اور ان کافروں نے اللہ کا جیسا مرتبہ کی طرح اس کے داہنے ہاتھ پر لپٹے ہوں گے3 یہ لوگ جن کو اسکا شریک بتاتے ہیں اس کی ذلت ان سے کہیں پاک اور برت ہے4

ف 3 بعض لوگوں نے اس کو استعارہ قرار دیتے ہوئے آیت کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ قیامت کے روز زمین و آسمان سب اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ہوں گے۔ لیکن صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ واقعی زمین اور آسمانوں کو اپنے ہاتھ میں لے گا، اس لئے اس آیت کو استعارہ پر محمول کرنا صحیح نہیں۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ زمین کو مٹھی میں لے گا اور آسمانوں کو دائیں ہاتھ میں لپیٹے گا اور پھر فرمائے گا ” میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں دنیا کے بادشاہ ؟ “ ایسے ہی الفاظ حضرت ابن عمر ؓ کی روایت میں بھی ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے منبر پر خطبہ میں یہ آیت پڑھی اور فرمایا :” اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں ہوں جبار، میں ہوں کبریائی کا مالک، میں ہوں عزت کا مالک “۔ یہ کہتے ہوئے آنحضرت ﷺ اپنی انگلیوں کو ہلاتے ہوئے انہیں آگے اور پیچھے لے جاتے رہے اور پھر آپ ﷺ پر ایسا لرزہ طاری ہوا کہ منبر لرزنے لگا اور ہمیں خطرہ پیدا ہوا کہ کہیں آپ ﷺ گر نہ پڑیں “۔ ( ابن کثیر) یاد رہے کہ آیات صفات کو سلف (رح) نے ان کے ظاہری معنی پر محمول کیا ہے اور تاویل نہیں کی اور کہا ہے کہ صفات اللہ تعالیٰ کے لئے ثابت ہیں جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے۔ (کتاب التوحید) ۔4” اس کی ذات ان کے شرک سے ( کہیں) پاک و برتر ہے “۔
Ayah 39:68

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ Open ayah 39:68 in the Quran reader

اور صور پہلی بار پھونکا5 جائیگا تو جو آسمان میں اور جو زمین میں ہیں سب بیہوش ہوجائیں گے مگر جن کو اللہ چاہے6 پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو ایک ہی ایکا وہ (سب قبروں سے نکل کر) دیکھتے کھڑے ہوں گے7

ف 5 ابن کثیر میں ہے کہ اس سے مراد نفخہ ثانیہ ہے۔ کذافی جامع البیان اور تفسیر فتح البیان میں ہے کہ یہ نفخہ اولیٰ ہے اور جمہور علماء کے نزدیک کل نفخے تین ہیں۔ پہلا نفخہ فزع، دوسرا نفحہ موت اور تیسرا نفخہ بعث ( کذافی الحواشی) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ایک بار نفخ صور ہے عالم کی فناکا نہ وسرا ہے زندہ ہونے کا، تیسرا بےہوشی کا بعد حشر کے، چوتھا خبر دار ہونے کا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے سامنے ہوجاویں گے۔ ( موضح)6” وہ بےہوش نہ ہوا گے “ بےہوشی سے مراد موت ہے یا وہ بےہوشی جو حشر کے بعد ہوگی “۔ (مگر جن کو اللہ چاہے) سے مراد بعض نے مقرب فرشتے لئے ہیں۔ حتیٰ کہ ملک الموت سب سے آخر میں مرے گا۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ اس سے شہداء مراد ہیں۔ (شوکانی، ابن کثیر)7 یعنی زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ صور پھونکے جانے پر سب سے پہلے میں اپنا سر اٹھائوں گا تو دیکھوں گا کہ موسیٰ عرش کا پایہ تھامے کھڑے ہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے مجھ سے پہلے سر اٹھایا ہوگا یا وہ ان لوگوں میں سے ہوں گے جو بےہوش نہ ہوں گے۔ (شوکانی) صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ” دونوں نفخوں میں چالیس۔۔۔۔۔ ( معدو وغیرہ مذکور) کا فاصلہ ہوگا۔ ( ابن کثیر) ۔ بعض ضعیف روایات میں چالیس سال کے الفاظ بھی مذکور ہیں۔ ( دیکھئے فتح الباری، ج، 2 ص 319)
Ayah 39:69

وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِایْٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 39:69 in the Quran reader

اور زمین اپنے مالک کے نور سے چمک اٹھے گی اور اعمال نامہ (سامنے) رکھا جائے گا اور پیغمبر اور گواہ حاضر کئے جائیں گے8 اور انصاف کے ساتھ ان کا فیصلہ کیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ ہوگا

ف 8 تاکہ وہ بتائیں کہ جب لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچا تو انہوں نے اس کا کیا جواب دیا اور ان کے اعمال کیسے رہے ؟ گواہوں سے مراد نبی ﷺ کی امت کے لوگ ہیں۔ ( دیکھئے بقرہ آیت 143) حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان سے مراد فرشتے ہیں جو لوگوں کے اعمال قلمبند کرتے ہیں۔ (ابن کثیر، شوکانی)
Ayah 39:70

وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 39:70 in the Quran reader

اور ہر شخص نے جو کام کیا ہے اس کو پورا (بدلہ) ملے گا اور وہ (یعنے خدا) ان کے کاموں کو خوب جانتا ہے9

ف 9 یعنی دنیا میں لوگ جو عمل کر رہے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ اسے کسی لکھنے والے یا حساب رکھنے والے یا گواہی پیش کرنے والے کی ضرورت نہیں لیکن اعمال نامہ اس لئے رکھا جائے گا اور پیغمبروں ﷺ اور گواہوں کو اس لئے لایا جائے گا کہ لوگوں پر حجت تمام ہو۔
Ayah 39:71

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَتْلُوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ رَبِّكُمْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:71 in the Quran reader

اور کافر ٹولایں ٹولیاں غول غول بنا کر دوزخ کی طرف ہانک دیئے جائیں گے10 جب وہاں پہنچیں گے تو اس کے ساتوں دروازے جو بند تھے کھول دیئے جائیں گے او وہاں کے داروغے ان سے کہیں گے کیا تمہارے پاس کوئی پیغمبر تمہاری قوم کے نہیں آئے جو تمہارے ملک کی آیتیں تم کو پڑھ کر سناتے اور اس دن کے پیش آنے سے تم کو ڈراتے وہ جواب دیں گے کیوں نہیں11 مگر قسمت کا لکھا عذاب کا وعدہ ہم کافروں کے حق میں پورا ہوا12

ف 10 یعنی اس فیصلہ کے بعد جب کافروں کا جرم ثابت کردیا جائے گا تو وہ ٹولیاں بنا کر دوزخ کی طرف ہانک دیئے جائیں گے۔11 یعنی ہاں آئے تھے اور انہوں نے ڈرایا بھی تھا۔12 یعنی ہمیں ایسے اعمال کرتے رہے کہ اللہ کا وہ کلمہ جو اس نے دوزخ کو کافر، جنوں اور انسانوں سے بھرنے کے متعلق فرمایا تھا ہمارے حق میں سچا ثابت ہوا۔
Ayahs 39:72–73

قِیْلَ ادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:72 in the Quran reader

ان سے کہا جائے گا (جب ایسا ہے) تو دوزخ کے دروازوں میں گھسو ہمیشہ اسی میں پڑے رہو مفوروں کا کیا ٹھکانا ہے

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِیْنَ Open ayah 39:73 in the Quran reader

اور جو لوگ دنیا میں اپنے مالک سے ڈرتے رہے ان کو ٹولیاں ٹولیاں غول خول بنا کر بہشت کی طرف لے جائیں گے جب وہ واں پہنچیں گے اور بہشت کے آٹھوں دروازے پہلے ہی سے کھلے ہونگے1 تو ان کی خوب خلفرداری کی جائیگی اور وہاں کے داروغہ ان سے کہیں گے سلام علیکم2 تم کو مزے میں رہے3 اب بہشت میں جائو ہمیشہ وہیں رہو

ف 1 جیسے کسی معظم و مکرم مہمان کے انتظار میں پہلے سے درازے کھلے رکھے جاتے ہیں اسی کو دوسری آیت میں بصراحت فرمایا ( جنات عدن مفتحۃ لھم الابواب) ہمیشہ رہنے کے باغ جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہونگے (ص 1، 5) جنت کے آٹھ دروازے ہیں جیسا کہ بعض صحیح احادیث میں نبی ﷺ کا ارشاد ہے۔ صحیحین میں حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” جنت کے آٹھ دروازے ہیں، ان میں سے ایک دروارے کا نام ” ریان “ ہے اس میں سے صرف روزہ دار داخل ہوں گے۔ (شوکانی) ۔2 یعنی تم ہر مصیبت اور ہر آفت سے سلامتی میں ہو۔3 جو دنیا میں کفر، شرک اور گناہوں سے آلودہ نہ ہوئے۔
Ayah 39:74

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَیْثُ نَشَآءُ١ۚ فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ Open ayah 39:74 in the Quran reader

اور بہشتی لوگ ویں کہیں گے شکر اس خدا کا جس نے اپنا دورہ ہم کو سچ کر دکھایا4 اور بہشت کی زمین کا ہم کو وارث بنایا ہم بہشت میں جہاں چاہیں وہاں رہیں5 تو نیک کاموں میں محنت کرنیوالوں کو کیا اچھا نیک ملا6

ف 4 یعنی مرنے کے بعد زندہ کرنے اور جنت عطا فرمانے کا جو اس نے ہم سے وعدہ فرمایا تھا وہ اس نے سچا کر دکھایا۔5 شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” ان کو حکم ہے جہاں چاہیں رہیں لیکن ہر کوئی وہی جگہ لے گا جو اس کے واسطے پہلے سے رکھی ہے “۔ ( موضح)6 صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : ” پہلی ٹولی میں جو اہل ایمان جنت میں داخل ہوں گے ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے اور جو ان کے بعد داخل ہونگے ان کے چہرے آسمان کے روشن ترین ستاروں کی طرح روشن ہوں گے۔ ( وھکذا درجۃ بعد درجۃ ) (شوکانی)
Ayah 39:75

وَ تَرَى الْمَلٰٓئِكَةَ حَآفِّیْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ قِیْلَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 39:75 in the Quran reader

اور اے پیغمبر تو اس دن فرشتوں کو دیکھے گا عرش کے گھیرا باندھے کھڑے ہیں اپنے مالک کی پاکی تعریف کے ساتھ بیان کر رہے ہیں اور لوگوں کا فیصلہ انصاف کے ساتھ کردیا جائیگا7 اور (ہر طرف سے یہی) کہا جائیگا اصل تعریف اللہ ہی کو سزا وار ہے جو سارے جہان کا مالک ہے8

ف 7 یعنی ان میں سے بعض کو جنت میں اور بعض کو دوزخ میں بھیج کر ان کا ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردیا جائے گا۔8 یعنی ہر طرف فرشتے اور اہل ایمان اللہ رب العالمین کے عدل و انصاف پر اس کی حمد وثناء کر رہے ہوں گے۔