40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 40:41

وَ یٰقَوْمِ مَا لِیْۤ اَدْعُوْكُمْ اِلَى النَّجٰوةِ وَ تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَى النَّارِؕ Open ayah 40:41 in the Quran reader

اور بھائیوں بتلائو تو سہی (یہ کیا بات ہے) میں تم کو (دوزخ کی آگ سے) چھڑنا چاہتا ہوں اور تم مجھ کو دوزخ کی طرف بلا رہے ہو6

ف 6 یعنی میں تمہیں توحید کی دعت دے رہا ہوں جس کا نتیجہ نجات ہے اور تم مجھے کفر و شرک میں پھنسانا چاہتے ہو جس کا انجام دوزخ ہے۔
Ayah 40:42

تَدْعُوْنَنِیْ لِاَكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ اُشْرِكَ بِهٖ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١٘ وَّ اَنَا اَدْعُوْكُمْ اِلَى الْعَزِیْزِ الْغَفَّارِ Open ayah 40:42 in the Quran reader

تم مجھے اس لئے بلاتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کا انکار کروں اور جس کو میں نہیں جانتا اس کو خدا تعالیٰ کا شریک بنائوں7 اور میں تم کو اس غلط کی طرف بلاتا ہوں جو زبردست ہے بڑی بخشش والاف 8

ف 7 یعنی جس کے خدا کا شریک ہونے کا کوئی دلیل نہیں جانتا اسے آنکھیں بند کرکے خدا کا شریک کیسے مان لوں ؟8 یعنی جو کفر کرے اس سے سخت انتقام لینے والا اور جو اس پر ایمان لائے اس کے گناہ معاف کرنے والا یا باوجود غلبہ اور بزرگی کے توبہ کرنے والے کے گناہ بخشنے والا۔ ( ابن کثیر) ۔
Ayah 40:43

لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ لَیْسَ لَهٗ دَعْوَةٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَا فِی الْاٰخِرَةِ وَ اَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَنَّ الْمُسْرِفِیْنَ هُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ Open ayah 40:43 in the Quran reader

بیشک تم جس کی طرف مجھے بلاتے ہو (جھوٹے معبود کی طرف) وہ نہ دنیا میں (کسی کو) بلا سکتا ہے (یا نہ دنیا میں کسی کی دعا قبول کرسکتا ہے) اور نہ آخرت میں1 اور بیشک ہم کو (مرے پیچھے) اللہ کے پاس لوٹ کر جانا ہے اور بیشک جو لوگ حد سے بڑھ گئے ہیں کفر اور شرک میں پڑگئے ہیں

ف 1 یعنی اور نہ آخرت میں کسی کی سفارش کرسکتا ہے۔
Ayah 40:44

فَسَتَذْكُرُوْنَ مَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ١ؕ وَ اُفَوِّضُ اَمْرِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 40:44 in the Quran reader

وہ دوزخی ہیں ثیراب جو میں تم سے کہہ رہا ہوں اور تم نہیں سنتے آگے چل کر اس کو یاد کرو گے کسی نے ہم کو نصیحت کی تھی اور میں تو اپنا معاملہ خدا کی سپرد کرتا ہوں بیشک وہ اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے2

ف 2 معلوم ہوتا ہے کہ اس تقریر کے دوران میں اسے پورا یقین ہوگیا تھا کہ فرعون کے یہ آدمی مجھے زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ اس لئے یہ آخری فقرہ اس نے اس شخص کے لہجہ میں کہا جسے اللہ تعالیٰ کی مدد پر پورا بھروسہ ہو اور اس کی راہ میں جان دینے کیلئے تیار کھڑا ہو۔
Ayah 40:45

فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓءُ الْعَذَابِۚ Open ayah 40:45 in the Quran reader

آخر ایسا ہی ہوا اللہ نے اس ایماندار شخص کو تو ان ک برے مکروں سے بچا لیا3 اور فرعون والوں پر برا عذاب الٹ پڑا4

ف 3 معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص غیر معمولی حیثیت کا مالک تھا اور فرعونیوں کو یہ ہمت نہ ہوسکی کہ اسے علانیہ سزا دے سکیں۔ اس لئے انہوں نے خفیہ تدبیریں اختیار کیں مگر اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کی اور وہ اس کے قتل میں ناکام رہے۔ قتادۃ (رح) کہتے ہیں کہ وہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے ساتھ سمندر کے پار چلا گیا۔ ( شوکانی)4 اور سب کو سمندر میں غرق ہونا پڑا
Ayah 40:46

اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا١ۚ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ١۫ اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ Open ayah 40:46 in the Quran reader

ڈوبے تو سمندر میں لیکن صبح اور شام ان کو دوزخ کی آگ دکھلائی جاتی ہے5 اور جس دن قیامت برپا ہوگی6 فرعون والوں کو سخت سے سخت عذاب میں لے جائو

ف 5 علماء نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ عالم برزخ ( قبر) میں کفار کو عذاب ہو رہا ہے۔ قرآن کی بعض دوسری آیات میں بھی اس کے متعلق اشارات ملتے ہیں اور حدیث میں بھی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : موت کے بعد ہر آدمی کو صبح و شام جنت یا جہنم میں اس کا ٹھکانہ دکھایا جاتا یہ اور اس کی دلیل میں یہی آیت تلاوت فرمائی۔ ( شوکانی) یہ آیت مکی ہے اور متعدد طرق حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت میرے پاس آئی اور دوران گفتگو میں اس نے کہا ( وقاک اللہ من عذاب القبر) کہ اللہ تعالیٰ تمہیں عذاب قبر سے محفوظ رکھے مجھے تعجب ہوا اور میں نے آنحضرت ﷺ کے سامنے یہ واقعہ بیان کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ( کذبت الیھودیہ) کہ اس یہودی عورت نے جھوٹ بولا ہے مگر چند روز کے بعد آنحضرت ﷺ نے خطبہ دیا اور فرمایا ” لوگو عذاب قبر سے پناہ مانگا کرو۔ بیشک عذاب قبر برحق ہے “۔ علماء نے لکھا ہے کہ آیت اور حدیث میں تعارض نہیں ہے۔ آیت سے صرف ارواح کا صبح و شام معذب ہونا ثابت ہوتا ہے اور احادیث سے روح مع الجسد کا جس کا علم بذریعہ وحی آنحضرت ﷺ کو مدینہ میں اس یہودیہ کے واقعہ کے بعد ہوا ہوگا۔ ( ابن کثیر) علماء نے اہل سنت کے نزدیک عذاب قبر برحق ہے اور اس کا انکار بدعت ہے۔ امام سیوطی (رح) نے اپنے رسالہ ” شرح الصدور “ میں ان تمام احادیث کو یکجا کردیا ہے جو اس مسئلہ سے متعلق ہیں۔ علی قاری (رح) نے بھی شرح مشکوٰۃ میں مفصل بحث کی ہے۔ ( منہ (رح)6” تو فرشتوں کو حکم دیا جائے گا۔۔۔۔۔ “ 7 بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار کی نیکیوں کی وجہ سے ان کے عذاب میں تخفیف کردی جائے گی اور ابو طالب کے متعلق آنحضرت ﷺ نے ( واھون عذابا) فرمایا ہے مگر قرآن کی روایات سے ثابت ہے کہ آخرت میں کافر کا کوئی عمل قابل قبول نہ ہوگا۔ ابو طالب کے قصہ کے متعلق کہا جاسکتا ہے کہ یہ آنحضرت ﷺ کا خاصہ اور آپ ﷺ کے کے ساتھ نیکی کا بدلہ ہے یا ان روایات کے پیش نظر یہ کہہ سکتے ہیں کہ کافر کی نیکی قبول نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کسی مرحلہ پر بھی اس کے لئے نجات کا سبب نہیں بن سکے گی اور وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ بعض نیک اعمال بعض اشخاص کیلئے آخرت میں تخفیف عذاب کا سبب بن جائیں جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے۔ ( شرح مسلم للنوید و فتح الباری)
Ayah 40:47

وَ اِذْ یَتَحَآجُّوْنَ فِی النَّارِ فَیَقُوْلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِیْبًا مِّنَ النَّارِ Open ayah 40:47 in the Quran reader

اے پیغمبر وہ وقت خیال کر جب دوزخی ایک دوسرے سے دوزخ میں جھگڑیں گے غریب آدمی بڑے آدمیوں سے کہیں گے ہم تو تمہارے تابعدار تھے دنیا میں تو تم کو زور تھا یہاں بھی کیا تم آگ کا کوئی حصہ ہم پر سے ہٹا سکتے ہو8

ف 8 یعنی آگ کی تکلیف کا کوئی حصہ ہٹا کر اپنے اوپر لے سکتے ہو ؟
Ayah 40:48

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُلٌّ فِیْهَاۤ١ۙ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ حَكَمَ بَیْنَ الْعِبَادِ Open ayah 40:48 in the Quran reader

بڑے آدمی کہیں گے تم ہم سب آگ میں پڑے ہیں اب ہٹائیں کیا اللہ تو بندوں کا جو فیصلہ کرتا تھا فیصلہ کرچکا9

ف 9 یعنی اللہ تعالیٰ کا فیصلہ نافذ ہوچکا اب تم اپنی سزا بھگتو، ہم اپنی بھگت رہے ہیں۔ اس عذاب میں کمی بیشی ہمارے بس میں نہیں ہے۔
Ayahs 40:49–50

وَ قَالَ الَّذِیْنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُوْا رَبَّكُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ Open ayah 40:49 in the Quran reader

اور جو لوگ دوزخ میں ہوں گے وہ دوزخ کے دارغوں سے کہیں گے تم ہی اپنے مالک سے عرض کرو ایک دن تو بھلا ہم پر سے کچھ عذاب ہلکا کر دے

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ تَكُ تَاْتِیْكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ؕ قَالُوْا فَادْعُوْا١ۚ وَ مَا دُعٰٓؤُا الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ۠ Open ayah 40:50 in the Quran reader

وہ جواب دیں گے کیا تمہارے پاس تمہارے پیغمبر (حق تعالیٰ کی) نشانیاں لے کر نہیں آئی تھے وہ کہیں گے کیوں نہیں آئے تو تھے10 تب داروغہ کہیں گے ایسا ہے تو تم ہی خود دا کرو11 اور کافروں کی دعا (اس دن) بیکار ہوگی

ف 10 ” لیکن ہم نے ان کی بات نہ مانی “11 ہم کافروں کی سفارش نہیں کرسکتے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : دوزخ کے فرشتے کہیں گے سفارش کوئی ہمارا کام نہیں، ہم عذاب پر مقرر ہیں، سفارش کام ہے رسولوں ( علیہ السلام) کا، رسولوں کے تم بر خلاف تھے۔ ( موضح) ۔
Ayah 40:51

اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْهَادُۙ Open ayah 40:51 in the Quran reader

اور کچھ نہیں ہم تو دنیا کی زندگی میں بھی اپنے پیغمبروں اور ایماند داروں کی مدد کرتے ہیں اور جس دن گواہ گواہی کے لئے کھڑے ہونگے اس دن بھی ان کی مدد کریں گے2

ف 1” اس لئے وہ اپنے دشمنوں پر غالب آتے ہیں “۔ مطلب یہ ہے کہ آخر کار دین حق غالب ہو کر رہتا ہے اور جن پیغمبروں کو شہید کردیا گیا ان کا دشمنوں سے طرح انتقام لیا گیا کہ ان کے دشمنوں پر ایسے لوگوں کو مسلط کیا گیا جو انہیں ذلیل و خوار کرتے رہے۔ چناچہ جن یہودیوں نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو سولی دینے کا پروگرام بنایا، ان پر رومیوں کو مسلط کیا گیا جنہوں نے انہیں ہر طریقہ سے ذلیل و خوار کیا اور پھر حق کی فتح کے لئے مادی غلبہ اور نصرت شرط نہیں ہے۔2 گواہوں سے مراد فرشتے ہیں جو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور انبیاء ( علیہ السلام) کے حق میں گواہی دینگے کہ انہوں نے اپنی اپنی قوموں تک تیرا پیغام پہنچا دیا تھا اور کافروں کے خلاف یہ گواہی دیں گے کہ انہوں نے تیرے پیغام کو جاننے اور پہچاننے کے بعد بھی ماننے سے انکار کردیا تھا۔ ( شوکانی از مجاہد و سدی) ۔
Ayahs 40:52–53

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ الظّٰلِمِیْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 40:52 in the Quran reader

جس دن نافرمانوں کافروں کو ان کا عذر کوئی فائدہ نہ دے گا اور ان پر پھٹکار ہوگی اور برا کھرد رہنے کو) ملے گا دوزخ

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْهُدٰى وَ اَوْرَثْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَۙ Open ayah 40:53 in the Quran reader

اور ہم موسیٰ کو راہ دکھانے والی کتاب یا نشانی دے چکے ہیں3 اور پانی اسرائیل کو کتاب تورایت شریف کا وارث کرچکے ہیں

ف 3 جیسا کہ دوسری آیت میں توراۃ کو ” ہدی و نور “ فرمایا ہے۔
Ayahs 40:54–55

هُدًى وَّ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 40:54 in the Quran reader

جو ہدایت اور نصیحت ہے عقلمندوں کیلئے

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ Open ayah 40:55 in the Quran reader

تو اے پیغمبر کافروں کی تکلیف دینے پر صبر کئے رہ بیشک اللہ کا وعدہ کہ ایک دن پیغمبر ضرو رغالب ہوگا چاہے اور اپنے قصور کی بخشش مانگتا رہ4 اور صبح اور شام اپنے مالک کی تعریف کے ساتھ پاکی بیان کر5

ف 4 قصور سے مراد امت کے قصور ہیں یا وہ چھوٹی چھوٹی لغزشیں ہیں جو بتقاضائے بشریت انبیاء ( علیہ السلام) سے سر زد ہوجاتی ہیں جیسے رائے اور اجتہاد کی غلطی یا شدید مخالفت کی فضاء میں کچھ نہ کچھ بےصبری کی کیفیت اور پھر انبیاء ( علیہ السلام) کو استغفار کا حکم اس لئے ہے کہ ان کے درجات زیادہ سے زیادہ بلند ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ عبادت میں مشقت اٹھاتے حتیٰ کہ آپ ﷺ کے پائوں ورم آلود ہوجاتے اور جب آپ ﷺ سے کہا جاتا تو آپ ﷺ فرماتے ( افلا اکون عبدا شکورا) کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔ ( قرطبی وغیرہ) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : حضرت رسول اللہ ﷺ دن میں سو سو بار استغفار کرتے گناہ سے ہر بندے سے قصور ہے، اس کے موافق ہر کسی کو استغفار ہے۔ ( موضح) عصمت انبیاء ( علیہ السلام) کے بارے میں حافظ ابن تیمیہ لکھتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں ﷺ کو گناہ پر قائم رہنے سے بچایا ہے اور یہی قول ہے موافق ان آثار کے جو سلف (رح) سے منقول ہیں۔ ( تفسیر الایۃ الکریمہ)5 یعنی ہر آن اللہ تعالٰ کی تسبیح وبحمدہ کرتے رہے یا صبح و شام کے اوقات میں نماز پڑھئے مگر یہ حکم اس وقت تھا جب پنج وقتہ نماز فرض نہیں ہوئی تھی۔ پھر جب معراج کے موقع پر نماز پنجگانہ فرض ہوگئی تو ان کے اوقات کا بھی باقاعدہ تعین کردیا گیا۔ ( شوکانی)
Ayah 40:56

اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ۙ اِنْ فِیْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِیْهِ١ۚ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 40:56 in the Quran reader

جو لوگبن سند پہنچے اللہ تعالیٰ کی ایٓتوں میں جھگڑتے ہیں انکو حق کی پیروی منظوری نہیں ہے بلکہ ان کے دلوں میں اور کچھ نہیں بڑائی کی ہوس سما گئی ہے بڑائی تک وہ پہنچ نہیں کستے ان کو بڑائی ملنے والی نہیں6 تو اے پیغمبر اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگ7 بیشک وہ (سب کچھ) سنتا دیکھتا ہے

ف 6 یعنی وہ جو یہ چاہتے ہیں کہ محمد ﷺ سے اونچے ہو کر رہیں اور انہیں اپنے سامنے جھکا لیں، اس میں وہ ہرگز کامیاب نہ ہو سکیں گے۔ ( کذافی الموضح)7 یعنی ان کی شرارتوں اور دھمکیوں کے مقابلے میں اللہ واحد وقہار کی پناہ مانگئے۔ جیسا کہ فرعون کی دھمکی کے مقابلے میں موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کی پناہ مانگی تھی اور پھر بالکل بےفکر ہوگئے تھے۔ ( ابن کثیر)
Ayah 40:57

لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 40:57 in the Quran reader

بیشک آسمان اور زمین کا پیدا کر آدمیوں کے پیدا کرنے سے (کہیں) بڑا کام ہے لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے8

ف 8 اب ان اصول عقائد کا اثبات ہے جن سے کفار انکار کرتے تھے۔ ( کبیر) اس آیت میں کفار قریش اور ان ہم خیال لوگوں کا رد ہے جو یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ آدمی کا ایک دفعہ مرجانے کے بعد دوبارہ پیدا کیا جانا محال ہے۔
Ayah 40:58

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ لَا الْمُسِیْٓءُ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 40:58 in the Quran reader

اور اندھا اور آنکھ والا برابر نہیں ہوسکتا اور اسی طرح جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے وہ اور گنہگار برابر نہیں ہوسکتے9 تم بہت ہی کم سوچتے ہو10

ف 9 یعنی جس طرح آخرت پر ایمان رکھنے والے اور اس پر یقین نہ رکھنے والے برابر نہیں ہوسکتے۔ یہی معاملہ ان لوگوں کا بھی ہے جو ایمان لا کر نیک عمل کریں اور جو کفر و شرک کی راہ پر چلتے ہیں۔10 اگر سوچو تو یہ حقیقت بڑی آسانی سے تمہاری سمجھ میں آسکتی ہے۔
Ayahs 40:59–60

اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 40:59 in the Quran reader

بیشک قیامت ضرو رآئے گی اس میں شبہ نہیں اور لیکن اکثر لوگوں کو اس کا یقین نہیں

وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 40:60 in the Quran reader

اور اے لوگو تمہارا مالک فرماتا ہے مجھ سے دعا کرو یا میرا پوجا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا11 بیشک جو میرا پوجا کرنے سے اینٹھتے ہیں (غرور سے اللہ کا پوجا نہیں کرتے) وہ ضرور (مرے پیچھے) ذلیل ہو کر دوزخ میں جائیں گے12

ف 11 دعا کے اصل معنی پکارنا ہیں۔ قرآن میں عموماً عبادت کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : ( الدعا ھوا العبادۃ) کہ دعا عبادت ہی ہے اور پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ بعض روایات میں دعا کو ( افضل العبادۃ) یا ( مح العبادۃ) بھی فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے دعا کرنا دراصل اپنی عبودیت کا اقرار کرنا ہے اور حدیث ہے جو اللہ سے دعا نہیں کرتا اللہ اس سے ناراض ہوتا ہے۔ (شوکانی)12 شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” بندگی کی شرط ہے اپنے رب سے مانگا، نہ مانگنا غرور ہے۔ اگر دنیا نہ مانگے تو مغفرت ہی مانگے۔ ( موضح)
Ayah 40:61

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 40:61 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے رات کو تمہارے آرام کے لئے اور دن کو (ہر چیز کا) دکھانے والا بنایا1 بیشک وہ لوگوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے پر اکثر لوگ اس کے فضل کا شکر نہیں کرتے2

ف 1 یعنی اس کی روشنی میں تم ہر چیز دیکھتے ہو۔2 یعنی اللہ تعالیٰ کی بندگی کی بجائے دوسروں کا احسان مان کر ان کی عبادت کرتے ہیں حالانکہ تمام احسانات کرنے والا صرف وہ ہے۔
Ayahs 40:62–64

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 40:62 in the Quran reader

لوگو یہی تو اللہ ہے تمہارا مالک ہر چیز کا پیدا کرنے والا اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے پھر تم کدھر بہکے جا رہے ہو

كَذٰلِكَ یُؤْفَكُ الَّذِیْنَ كَانُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 40:63 in the Quran reader

جو لوگ خدا کی آیتوں کو نہیں مانتے وہ اسی طرح بہکتے ہیں

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً وَّ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۖۚ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:64 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو رہنے کی جگہ اور آسمان کو چھت بنایا اور اسی نے تمہاری شکلیں بنائیں اور کیسی اچھی شکلیں بنئایں3 اور ستھری چیزیں تم کو کھانے کو دیں کیسی کیسی خوش مزہ یہی اللہ4 ہے جو تمہارا مالک ہے وہ بڑی برکت والا ہے سارے جہان کا پالنے5

ف 3 چناچہ کسی حیوان کو وہ عمدہ شکل و صورت اور جسمانی ساخت حاصل نہیں ہے جو انسان کو حاصل ہے۔ سیدھا قد اور با وقار طریقہ سے دو پائوں پر چلتا ہے جبکہ تمام جانور زمین کی طرف جھک کر چلتے ہیں۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں سب جانوروں سے انسان کی صورت بہتر اور روزی ستھری ہے۔ ( موضح)4 اس کے سوا کوئی تمہارا مالک نہیں کیونکہ تمہیں یہ نعمتیں دینے میں کسی کا کوئی حصہ نہیں۔5 کسی دوسرے کا یہ حق نہیں کہ اسکی نعریف کی جائے اور شکر ادا کرنے کیلئے اس کی بندگی کی جائے۔
Ayahs 40:65–66

هُوَ الْحَیُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:65 in the Quran reader

والا وہ (ہمیشہ) زندہ ہے اس کے سوا کوئی سچا خدا نہیں اسی کو پکارو خلاص اسی کی بندگی کر کے اصل تعریف اللہ ہی کو سمجھتی ہے جو سارے جہان کا مالک ہے

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَمَّا جَآءَنِیَ الْبَیِّنٰتُ مِنْ رَّبِّیْ١٘ وَ اُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:66 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کہہ دے جب میرے پاس میرے مالک کی طرف سے کھلی نشانیاں آچکیں تو مجھ کو اللہ تعالیٰ کے سوا اوروں کو پوجنا جن کو تم پکارتے ہو (پوجتے ہو) منع ہا اور مجھے یہ حکم ہوا کہ اللہ تعالیٰ ہی کے سامنے گردن جھکائوں جو سارے جہان کا مالک ہے6

ف 6 پھر مجھ سے یہ توقع کیوں رکھتے ہو کہ میں تمہارا کہنا مانوں اور تمہارے ان جھوٹے معبودوں کی بندگی کرنے لگوں ؟
Ayah 40:67

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ یُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُوْنُوْا شُیُوْخًا١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى مِنْ قَبْلُ وَ لِتَبْلُغُوْۤا اَجَلًا مُّسَمًّى وَّ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 40:67 in the Quran reader

کو ہی خدا ہے جس نے تم کو شروع میں مٹی سے بنایا پھر تمہاری نسل نطفی سے پھر پھٹکی سے پھر بچہ سادمان کے پیٹ سے تم کو نکالتا ہے پھر تم کو پرورش کرتا ہے اس لئے کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو پھر تم کو زندہ رکھتا ہے اس لئے کہ تم بوڑھے بنو اور کوئی تم میں ان وقتوں سے پہلے ہی مرجاتا ہے7 اور یہ سب اس لئے کہ تم اپنے مقررہ وعدے تک پہنچو8 اور اس لئے کہ تم سمجھو9

ف 7 یعنی کوئی پیدا ہونے سے پہلے، کوئی جوانی کو پہنچنے سے پہلے اور کوئی بوڑھا ہونے سے پہلے مرجاتا ہے۔8 یعنی اس عمر تک جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے لکھی ہے با قیامت جبکہ تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ ہو کر اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔9 یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں زندگی کے ان مختلف مراحل سے اس لئے گزارتا ہے کہ جب تم اس حیرت انگیز نظام پر غور کرو تو سمجھ سکو کہ کوئی خدا ہے جس نے اس ساری کائنات کو پیدا کیا ہے اور جو اپنی قدرت کاملہ سے اس کا نظام چلا رہا ہے اور یہ کہ وہ اپنی ذات وصفات میں یکتا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں، جس کی اس کے علاوہ عبادت کی جائے۔ شاہ صاحب (رح) اپنی توضیح میں لکھتے ہیں، یعنی اتنے احوال تم پر گزرے، شاید ایک حال اور بھی گزرے ( اور) وہ ( ہے) مر کر جینا۔ ( موضح) ۔
Ayah 40:68

هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ فَاِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 40:68 in the Quran reader

وہی خدا جلاتا ہے اور مارتا ہے تو جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے اسے (پاتا ہے ہوجاوہ ہوجاتا ہے

ف 10 یعنی کسی دیر کے بغیر فوراً ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسباب کا محتاج نہیں بلکہ اسباب اسکے حکم سے وجود میں آتے ہیں۔
Ayah 40:69

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ اَنّٰى یُصْرَفُوْنَ٤ۖۛۚ Open ayah 40:69 in the Quran reader

(اے پیغمبر کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں1 کدھر پھیرے جا رہے ہیں2

ف 1 یعنی کسی دلیل کے بغیر ان میں کج بحثیاں کرتے ہیں۔ ( دیکھئے آیت : 4)2 یعنی ان کے صحیح ہونے کے دلائل جاننے کے باوجود ان پر ایمان لانے سے کیوں ہٹائے جا رہے ہیں۔
Ayah 40:70

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِالْكِتٰبِ وَ بِمَاۤ اَرْسَلْنَا بِهٖ رُسُلَنَا١ۛ۫ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 40:70 in the Quran reader

جنہوں نے کتاب (قرآن) کو جھٹلایا اور ان باتوں کو ہی جھٹلایا) جو3 ہم نے اپنے پیغمبروں کو دے کر بھیجیں تو آگے چل کر ان لوگوں کو (اپنے جھٹلانے کا نتیجہ) معلوم ہوجائیگا

ف 3 یعنی ان کتابوں کو جو پہلے انبیاء پر نازل ہوئیں۔ یہ مطلب اس صورت میں ہے جب ” الکتاب “ سے مراد قرآن لیا جائے اور اگر اس سے مراد جنس کتاب ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ ” جنہوں نے ہماری کتابوں کو جھٹلایا اور اس ( شریعت یا سنت) کو بھی جھٹلایا ہے جسے دے کر ہم نے اپنے ” پیغمبروں کو بھیجا “۔ ( شوکانی)
Ayahs 40:71–73

اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَ السَّلٰسِلُ١ؕ یُسْحَبُوْنَۙ Open ayah 40:71 in the Quran reader

جب ان کی گردنوں میں طوق اور زنجیریں ہوں گی رکتوں کی طرح) کھولتیپانی میں گھسیٹے جائیں گے

فِی الْحَمِیْمِ١ۙ۬ ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوْنَۚ Open ayah 40:72 in the Quran reader

کھال اتر جائے گی پھر آگ میں جھونکے جائینگے اس کا ایندھن بنیں گے )

ثُمَّ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 40:73 in the Quran reader

ھ پر اس سے کہا جائیگا اب وہ وہ وگ کہاں گئے جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا شریک سمجھتے تھے4

ف 4 یعنی اگر وہ واقعی خدا کے شریک تھے اور تم اس امید پر ان کی عبادت کیا کرتے تھے کہ وہ مشکل وقت میں تمہاری دستگیری کریں گے تو آج وہ تمہاری مدد کو کیوں نہیں پہنچ رہے ؟ (ضلواعنا) یعنی جو امید ہم ان معبودوں سے رکھتے تھے وہ ضائع ہوگئی۔ ( جامع)
Ayah 40:74

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَیْئًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 40:74 in the Quran reader

وہ کہیں گے وہ تو ہمارے پاس سے غائب ہوگئے معلوم نہیں کدھر چل دیئے گویا ہم اس سے پہلے کسی کو پکارتے ہی نہ تھے5 اللہ تعالیٰ کافروں کو ایسا ہی بھٹکا دیتا ہے6

ف 5 یعنی وہ مشکل وقت میں ہمیں چھوڑ کر ایسے غائب ہوگئے جیسے دنیا میں ہم نے انہیں پکارا ہی نہ تھا اور وہ ہمیں جانتے تک نہ تھے۔ یہ مطلب اس صورت میں ہے جس ” بل “ کا ترجمہ ” گویا کہ “ کیا جائے اور اگر اس کا ترجمہ ” بلکہ “ کیا جائے جو اس کا معروف ترجمہ ہے تو مطلب یہ ہوگا ” بلکہ ہم دنیا میں کسی چیز کو سرے سے پکارتے ہی نہ تھے “۔ یعنی گھبراہٹ چیز کو سرے سے پکارتے ہی نہ تھے۔ جیسا کہ دوسری آیات میں ہے (واللہ ربنا ما کنا مشرکین) تیسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اب ہم پر یہ بات کھل گئی ہے کہ ہم دنیا میں کسی شی ( چیز) کو نہیں بلکہ لا شی ( ناچیز) ہستیوں کو پکارا کرتے تھے یعنی ہماری محنت رائیگاں گئی۔ ( جامع البیان وغیرہ)6 یعنی ان کے حواس باختہ کردیتا ہے اور وہ کوئی ڈھنگ کی بات نہیں کرسکتے۔ یہ سزا ہے ان کے شرک کی۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : اول منکر ہوچکے تھے کہ ہم نے شرک نہیں پکڑا۔ اب گھبرا کر منہ سے نکل جاو گا پھر سنبھل کر انکار کریں گے تو وہ انکار ان کا اللہ نے بچلا دیا اس حکمت سے۔ ( موضح)
Ayah 40:75

ذٰلِكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَۚ Open ayah 40:75 in the Quran reader

ان سے کہا جائے گا یہ اس کی سزا ہے جو تم دنیا میں ناحق اتراتے تھے7 اور اس کی جو تم دھند مچاتی تھے

ف 7 یعنی تمہاری گردن اکڑی رہتی تھی اور تم کسی کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔
Ayahs 40:76–77

اُدْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 40:76 in the Quran reader

اب دوزخ کے دوزے میں گھسو ہمیشہ اسی میں رہو غور کرنیوالوں کا کیا برا ٹھکانا ہے

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۚ فَاِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 40:77 in the Quran reader

تو اے پیغمبر صبر کئے رہ8 کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے9 پھر جو ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے ان کے قتل یا قید ہونے کا اگر اس میں سے کچھ تجھ کو دکھلائیں10 یا اگر اس وعدے میں دیر ہو) ہم تجھ کو نیا سے11 اٹھ الیں تو بھی یہ کافر بچ نہیں سکتے آخر ان کو ہمارے پاس لوٹ کر آن ہے

ف 8 یعنی یہ لوگ جو آپ ﷺ کو نیچا دکھانے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں ان سے بےچین نہ ہوں بلکہ آنے والے وقت کا صبر سے انتظار کریں۔9” وہ ایک نہ ایک دن ضرور پورا ہو کہ رہے گا “ وعدہ سے مراد کافروں سے انتقام کا وعدہ ہے دنیا یا آخرت میں۔10 یعنی آپ ﷺ کے جیتے جی اس وعدہ کو پورا کردیں تو آپ ﷺ اپنی آنکھوں سے دیکھ ہی لیں گے۔11 وہاں یہ وعدہ پورا ہوجائے گا اور یہ سخت عذاب میں پکڑے جائیں گے۔
Ayah 40:78

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْكَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْكَ١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ۠ Open ayah 40:78 in the Quran reader

اور اے پیغمبر ہم تجھ سے پہلے بہت پیغمبر بھیج چکے ہیں ان میں کوئی ایسے ہیں جنکا حال ہم نے تجھ کو سنایا اور کوئی ایسے ہیں جن کا حال ہم نے تجھ کو نہیں سنایا12 اور پیغمبر کیا یہ مقصد نہیں بےحکم خدا کے کوئی نشانی معجزہ دکھلائے پھر جب خدا کا حکمران پہنچے گا دنیا کا عذاب یا قیامت کا تو پیغمبروں اور ان کی امتوں کا انصاف سے فیصلہ13 کردیا جائیگا اور اس وقت جھوٹے بدکار گھاٹے میں پڑجائیں گے

ف 12 یعنی بعض کا تفصیلی حال بیان کیا اور بعض کا نہیں کیا۔ بہر حال سب پر ایمان لانا ضروری ہے۔ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں : یہ یعنی لم نفص ان پیغمبروں ﷺ سے کئی گنا کثیر تعداد میں ہیں جن کے احوال قرآن میں مذکور ہیں۔ جیسا کہ سورة نساء آیت 64 میں اس پر تنبیہ گزر چکی ہے۔ ( واللہ الحمد وامنہ) کسی قوم کے کسی قدیم رہنماء کے متعلق ( جو آنحضرت ﷺ سے پہلے ہو کر گزرے ہیں) قطعی طور پر یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ وہ نبی نہ تھا۔ ممکن ہے کہ وہ نبی ہو اور اس نے توحید ہی کی دعوت پیش کی ہو مگر بعد کے لوگوں نے اس کی تعلیمات کو مسخ کردیا۔13 مطلب یہ ہے کہ معجزہ کوئی کھیل نہیں کہ کافروں نے جب چاہا نبی ﷺ سے اس کا مطلب کردیا اور نبی ﷺ نے جب چاہا اسے دکھا دیا۔ بلکہ اسکی حیثیت دو ٹوک فیصلے کی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ ہی جب چاہتا ہے اسے اپنے کسی نبی ﷺ کے ہاتھ سے دکھواتا ہے اور جب تک نہیں چاہتا نہیں دکھواتا۔ معجزہ ظاہر ہونے کے بعد مومنوں کی نجات اور باطل پرستوں کی تباہی یقینی ہوجاتی ہے۔ یہ کفار مکہ کے اس مطالبہ کا جواب ہے جو وہ نبی ﷺ سے معجزہ دکھانے کیلئے آئے دن کرتے رہتے تھے۔
Ayah 40:79

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْكَبُوْا مِنْهَا وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 40:79 in the Quran reader

اللہ وہی ہے جس نے تمہارے لئے جو پائے (جانور) بنائے اس لئے کہ تم14 ان میں سے کسی پر سواری کرو (جیسے اونٹ گھوڑا وغیرہ) اور کسی کو کھائو

ف 14 جیسے اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکری وغیرہ۔
Ayah 40:80

وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ لِتَبْلُغُوْا عَلَیْهَا حَاجَةً فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَؕ Open ayah 40:80 in the Quran reader

اور تم کو ان جانوروں میں اور بھی فائدے ہیں ان کی کھال اور سینگ سے اور اس لئے کہ تم ان جانوروں پر چڑھ کر تمہارے دل میں جو مطلب ہے1 اس تک پہنچ جائو اور تم ان جانوروں پر خشکی میں اور جہاز پر دریا میں لدے پھرتے ہو

ف 1 جیسے کہیں کا سفر یا دشمن پر حملہ کرنا۔