41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 41:41–42

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَكِتٰبٌ عَزِیْزٌۙ Open ayah 41:41 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے قرآن کو نہ مانا جب ان کے پاس پہنچا (وہ اپنی سزا دیکھ لیں گے) اور بیشک قرآن عزت والی (یا بینظیر نادر) کتاب ہے

لَّا یَاْتِیْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ لَا مِنْ خَلْفِهٖ١ؕ تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَكِیْمٍ حَمِیْدٍ Open ayah 41:42 in the Quran reader

جھوٹ کا تو اس میں دخل ہی نہیں نہ آگے سے نہ پیچھے سے1 حکمت والے تعریف کے لائق خدا کی اتاری ہوئی ہے

ف 1 یعنی باطل کی یہ مجال نہیں ہے کہ اس پر کسی پہلو سے حملہ آور ہو سکے، نہ کھلم کھلا سامنے آ کر اور نہ چوری چھپے پیچے سے۔ سو قرآن نقص و زیارت سے محفوظ ہے یا مطلب یہ ہے کہ پہلی کتابیں بھی قرآن کو باطل نہیں کرتیں اور نہ کوئی کتاب پیچھے آئے گی جو اس کو جھٹلا دے۔
Ayah 41:43

مَا یُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِیْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّ ذُوْ عِقَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 41:43 in the Quran reader

اے پیغمبر تجھ سے وہی کہا جاتا ہے جو تجھ سے پہلے (اگلے) پیغمبروں سے کہا جا چکا ہے2 بیشک تیرا مالک بخشنے والا بھی ہے اور (اس کے ساتھ ہی تکلیف کا عذاب دینے والا بھی ہے3

ف 2 یعنی کفار مکہ اگر آپ ﷺ کو جادو گر، شاعر، دیوانہ، کاہن یا اسی قسم کے دوسرے ناموں سے یاد کر کے آپ ﷺ کی دعوت کو زک دینا چاہتے ہیں تو آپ ﷺ اطمینان رکھیں۔ ان کے رکھے ہوئے ناموں میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کا طعنہ آپ ﷺ سے پہلے پیغمبروں کو نہ مل چکا ہو۔ لیکن پیغمبروں ( علیہ السلام) نے ہمیشہ صبر کیا اور پوری ہمت سے اپنی دعوت کا سلسلہ جاری رکھا۔ یہی فرض آپ ﷺ کا اس وقت ہے۔3 بخشنے والا ان لوگوں کے لئے ہے جو انبیاء ( علیہ السلام) کے ہاتھ پر اسلامی دعوت قبول کرکے توحید کے قائل ہوگئے اور تکلیف دہ عذاب ان لوگوں کیلئے ہے جنہوں نے انبیاء ( علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔
Ayah 41:44

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا لَّقَالُوْا لَوْ لَا فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ١ؕ ءَؔاَعْجَمِیٌّ وَّ عَرَبِیٌّ١ؕ قُلْ هُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّ شِفَآءٌ١ؕ وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ وَّ هُوَ عَلَیْهِمْ عَمًى١ؕ اُولٰٓئِكَ یُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ۠ Open ayah 41:44 in the Quran reader

اور اگر ہم اس قرآن کو عربی کے سوا کسی دوسری زبان میں کرتے تو یہ لوگ عرب کے کافر کہتے اس کی آیتیں صاف کیوں نہیں جو سمجھ میں آئیں کیا تعجب کی بات ہے دوسری زبان کا تو قرآن اور پیغمبر عرب کا4 اے پیغمبر کہہ دے قرآن ایمان والوں کے لئے ہدایت اور دل کی بیماری کے لئے تندرستی ہے جن لوگوں میں ایمان نہیں ان کے کانوں میں قرآن ایک بوجھ ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے وہ ان کو اندھا بنا دیتا ہے5 ان لوگوں کو جیسے کوئی دور جگہ سے پکار رہا ہے6

ف 4 یعنی یہ کفار مکہ بھی عجیب شے ہے۔ اگر ان کے پاس انہی میں سے ایک آدمی عربی میں قرآن لے کر آیا ہے تو کہتے ہیں کہ ایک عرب کا عربی قرآن پیش کرنا کوئی کمال نہیں ہے۔ کمال تو اس وقت ہوتا جب یہ شخص کسی عجمی زبان۔ فارسی، رومی یا ترکی میں قرآن پیش کرتا۔ حالانکہ اگر ہم ان کا مطالبہ مان لیتے اور آنحضرت ﷺ پر کسی عجمی زبان میں قرآن نازل کردیتے تو یہی لوگ اس وقت اعتراض کرتے کہ یہ عجیب معاملہ ہے کہ عربوں کو دعوت دینے کیلئے پیغمبر ﷺ بھیجا گیا ہے لیکن قرآن ایک ایسی زبان میں لے کر آیا ہے جسے عرب سمجھ بھی نہیں سکتے۔5 یعنی قرآن اگرچہ رشد و ہدایت کا سر چشمہ ہے لیکن وہ ان کافروں کے حق میں کانوں کا بوجھ اور آنکھوں کا پردہ ہے۔ اس کی وجہ ان کی اپنی ہٹ دھرمی اور تعصب ہے۔ اس میں قرآن کا کوئی قصور نہیں ہے بالکل اسی طرح جس طرح سورج روشنی دینے والی چیز ہے لیکن اس کے طلوع ہوتے ہی چمگادڑ کی آنکھیں چند ھیا جاتی ہیں۔6 یہ ایک محاورہ ہے اور اس شخص کے حق میں استعمال ہوتا ہے جو کوئی بات نہ سمجھتا ہو۔ ( قرطبی) یعنی یہ لوگ قرآن کو دل سے سننے کی کوشش نہیں کرتے صرف اوپری دل سے سنتے ہیں۔ اس لئے اس سے کوئی ہدایت نہیں پاتے، بالکل اسی طرح جس طرح کسی شخص کو دور سے پکارا جائے اور وہ کوئی آواز تو محسوس کرے مگر مطلب و طلب خاک نہ سمجھے۔
Ayah 41:45

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 41:45 in the Quran reader

اور ہم تو اس قرآن سے پہلے موسیٰ کو کتاب دے چکے ہیں پھ راس میں اختلاف ہوا7 اور اگر تیرا مالک ایک بات نہ فرما چکا ہوتا (کہ قیامت میں ان کا فیصلہ ہوگا)8 تو (اب تک کب کا) ان کا فیصلہ ہوچکا ہوتا (سب تباہ ہوجاتے) اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کو قرآن میں شک در شک ہے

ف 7 اس سے مقصود بھی آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا ہے۔ یعنی اس سے پہلے موسیٰ ( علیہ السلام) پر توارۃ نازل کی گئی مگر لوگوں نے اسے ماننے اور نہ ماننے میں اختلاف کیا۔ اسی طرح اگر یہ کفار مکہ قرآن کی مخالفت کر رہے ہیں تو آپ ﷺ کیوں کبیدہ خاطر ہوتے ہیں۔ ( قرطبی)8 شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں، بات وہی نکل چکی کہ فیصلہ ہے آخرت میں ( موضح)
Ayah 41:46

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ Open ayah 41:46 in the Quran reader

جو کوئی اچھا کرے گا وہ اپنے ہی بھلے کے لئے جو کوئی برا کرے گا وہ اپنے ہی برے کے لئے (ہنسی پر وبال پڑیگا) اور تیرا مالک بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں9

ف 9 کہ ان کی نیکیاں برباد کر دے یا ان پر ناکردہ گناہوں کا بوجھ لاد دے۔ مقصد کلیۃً ظلم کی نفی ہے جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا ( ان اللہ لا یظلم الناس شیئا) کہ اللہ تعالیٰ کسی پر ذرہ بھر بھی ظلم نہیں کرتا۔ (قرطبی) ۔
Ayah 41:47

اِلَیْهِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ١ؕ وَ مَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَكْمَامِهَا وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ اَیْنَ شُرَكَآءِیْ١ۙ قَالُوْۤا اٰذَنّٰكَ١ۙ مَا مِنَّا مِنْ شَهِیْدٍۚ Open ayah 41:47 in the Quran reader

قیامت کب آئیگی اس کا علم خدا ہی کے حوالے ہے1 اور کوئی پھل اپنے گا بھوں (غلافوں) میں سے نہیں نکلتے اور اسی طرح کسی مادہ کو پیٹ نہیں رہتا نہ وہ جنتی ہے مگر اس کو خبر ہے2 اور اے پیغمبر وہ دن یاد کرو جس دن اللہ مشروں کو پکاروں وہ (تمہارے دیوتا) کہاں گئے جن کو تم میرا شریک سمجھتے تھے وہ کہیں گے ہم تو عرض کرچکے ہیں ہم میں کوئی اس کا قائل نہیں3

ف 1 یعنی قیامت کب آئے گی ؟ اسے صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کسی مخلوق کو اس کا علم نہیں ہے۔ روایات میں ہے کہ مشرکین نے آنحضرت ﷺ سے کہا ” اگر تم محمد ﷺ دعوائے نبوت میں سچے ہو تو بتائو قیامت کب آئے گی۔ ان کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (شوکانی) مشہور صحیح حدیث میں ہے کہ حضرت جبریل ( علیہ السلام) نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر قیامت کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : جس سے سوال کیا جا رہا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا نیز دیکھئے اعراف آیت 187 (ابن کثیر) 2 مطلب یہ ہے کہ صرف قیامت کا علم ہی نہیں غیب کے متعلق جتنے بھی امور ہیں، ان سب کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ کسی نبی ﷺ یا ولی کو صرف اسی حد تک امور غیبیہ کا علم ہوسکتا ہے جس حد تک اللہ تعالیٰ نے اسے خبر دی ہوتی ہے۔ ( مزید دیکھئے انعام 59 رعد 8) 3 کہ تیرا کوئی شریک ہے یا ہوسکتا ہے کیونکہ اب ہمیں یقین ہوگیا ہے کہ ہم جو دوسروں کو دنیا میں تیرا شریک گردانتے رہے وہ سب غلط تھا۔ یہ بات مشرکین اس وقت کہیں گے جب ایک طرف تو عذاب دیکھیں گے اور دوسری طرف انہیں نظر آئے گا کہ ان کے معبودوں میں سے کوئی بھی ان کی مدد کو نہیں پہنچ رہا۔
Ayah 41:48

وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ وَ ظَنُّوْا مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 41:48 in the Quran reader

اور پہلے (دنیا میں) یہ لوگ جن دیوتائوں کو اللہ کے سوا پکارے گا4 تھے وہ (سب) غائب غلہ ہوجائیں گے اور اس وقت سمجھ لیں گے اب بھاگنے کی کوئی صورت نہیں

ف 4 یعنی پریشانی کے عالم میں وہ چاروں طرف نگاہ دوڑائیں گے مگر کوئی مددگار نظر نہیں آئے گا۔
Ayah 41:49

لَا یَسْئَمُ الْاِنْسَانُ مِنْ دُعَآءِ الْخَیْرِ١٘ وَ اِنْ مَّسَّهُ الشَّرُّ فَیَئُوْسٌ قَنُوْطٌ Open ayah 41:49 in the Quran reader

آدمی بھلائی چاہنے سے (یا مال دولت کی خواہش سے5) ہے کبھی سیر ہی نہیں ہوتا (مانگے ہی چلا جاتا ہے) اور اگر کہیں اس کو تکلیف پہنچے تو6(جھٹ) آس توڑ کر خدا کی رحمت سے ناامید بن جاتا ہے7

ف 5” خیر “ (بھلائی) سے مراد مال و دولت اور خوشحالی وغیرہ ہے جس کی ہوس سے صرف انبیاء ( علیہ السلام) اور اس کے مخصوص نیک بندے ہی مستثنیٰ ہیں۔ 6 جیسے تنگدستی یا بیماری وغیرہ۔ 7 اور منہ سے نا شکری کے کلمات نکالنے لگتا ہے۔
Ayah 41:50

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ رَحْمَةً مِّنَّا مِنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ هٰذَا لِیْ١ۙ وَ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّجِعْتُ اِلٰى رَبِّیْۤ اِنَّ لِیْ عِنْدَهٗ لَلْحُسْنٰى١ۚ فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِمَا عَمِلُوْا١٘ وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 41:50 in the Quran reader

اور کوئی تکلف اس کو پہنچے بعد اگر ہم اپنی مہربانی کام زہ اس کو چکھاتے ہیں تو کیا کہتا ہے یہ تو میرا حق تھا 88 اور میں تو نہیں سمجھتا کہ قیامت آئے گی اور اگر بالفرض قیامت آئی اور میں اپنے مال کے پاس لوٹ گیا تو وہاں میرے لئے اچھا ہی اچھا ہے9 خیر ہم کافروں کو ان کی کرتوتوت ضرور جٹا دیں گے کہ وہ اچھے تھے یا برے اور ان کو ضرور سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے

ف 8 یعنی اپنے آپ کو اس کا مستحق گردانتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کی بجائے اسے اپنی محنت اور ذہانت کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔ 9 یعنی میں اس کی نظر میں پسندیدہ ہوں تبھی تو اس نے مجھے خوشحالی دی ہے۔ اب یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اگر بالفرض آخرت بھی آئے تو وہ مجھے اپنی گونا گوں نعمتوں سے ہمکنارنہ کرے۔ دنیا پر آخرت کو قیامت کرنا یہ غلط بنیاد پر غلط عقیدہ ہے جس کی متعدد آیات میں قرآن نے تردید کی ہے۔
Ayah 41:51

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُوْ دُعَآءٍ عَرِیْضٍ Open ayah 41:51 in the Quran reader

اور ہم جب آدمی پر اپنافضل کرتے ہیں اس کو سب طرح کا آرام دیتے ہیں تو ہمارا خیال ہی چھوڑ دیتا ہے اور اپنی کروٹ موڑ لیتا ہے10

ف 10 یعنی اینٹھ جاتا ہے اور حق کے سامنے سرنگوں ہونے کو اپنی کسر شان سمجھنے لگتا ہے۔
Ayah 41:52

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ثُمَّ كَفَرْتُمْ بِهٖ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ هُوَ فِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 41:52 in the Quran reader

اور جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو لمبی چوڑی دعا مانگتا ہے11 اے پیغمبر ان کافروں سے کہہ رہے بھلا تو بتائوت و سہی اگر قرآن اللہ تعالیٰ کے پاس سے آیا ہو پھر تم نے اس کو نہ مانا تو اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہے جو سیدھی راہ سے اتنی دور ضد میں پڑا ہو12

ف 11 لمبی چوڑی دعا سے مراد ایسی دعا ہے۔ جس کے الفاظ زیادہ ہوں مگر مضمون کم ہو۔ (ابن کثیر) 12 ۔ یا ” جو ( اس قرآن کی) انتہائی مخالفت میں پڑاہو۔ لفظ شقاق کے معنی ضد بھی آتے ہیں اور مخالفت بھی۔
Ayah 41:53

سَنُرِیْهِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 41:53 in the Quran reader

ہم ان لوگوں کو پانی قدرت کی نشانیاں ملکوں میں اور خود انکی ذات میں عنقریب دکھلائیں گے یہاں تک کہ انکو کھل جائے گا قرآن برحق اللہ کا کلام ہے1 (تیری سچائی کی یہ دلیل کافی نہیں ہے کہ تیرے مالک کے سامنے ہر چیز حاضر ہے2

ف 1 انہ کی ضمیر قرآن اور پیغمبر ﷺ کے لئے بھی ہوسکتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے لئے بھی پہلی صورت میں آیات سے مراد فتوحات ہونگی اور مطلب یہ ہوگا کہ عنقریب ہی جب گرد و پیش کے ممالک اور خود ان ( قریش) پر فتوحال حاصل ہوں گی ( جو آنحضرت ﷺ اور خلفائے راشدین ؓ کے عہد میں حاصل ہوئیں) تب انہیں یقین حاصل ہوگا کہ قرآن یا پیغمبر برحق تھے اور یہ ناحق ان کی تکذیب کرتے رہے ہیں اور دوسری صورت میں یہ ہوگا کہ اگر یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ان دلائل پر غور کریں جو خود ان کے اندر اور باہر آفاق میں پائے جاتے ہیں تو ان کو اللہ کے یکتا اور خالق ومالک ہونے کا یقین ہوجائے۔ آفاق میں دلائل سے مراد سورج چاند وغیرہ ہیں۔ پہلے مطلب کو ابن جریر (رح) نے اختیار کیا ہے اور دوسرے مطلب کو بعض تابعین علمائے تفسیر نے ترجیح دی ہے۔ ( قرطبی، شوکانی) 2 یعنی اسے ہر چیز کا حال معلوم ہے۔ اس بناء پر اگر آپ ﷺ دعوائے نبوت میں معاذ اللہ جھوٹے ہوتے تو وہ ہرگز آپ ﷺ کو کامیاب نہ ہونے دیتا۔
Ayah 41:54

اَلَاۤ اِنَّهُمْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآءِ رَبِّهِمْ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطٌ۠ Open ayah 41:54 in the Quran reader

سن لے یہ لوگ اپنے مالک سے ملنے میں شک رکھتے ہیں3 سن لے وہ تو ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے4

ف 3 یعنی انہیں آخرت کے آنے کا یقین نہیں ہے اسی لئے وہ آپ ﷺ کی تکذیب کر رہے ہیں۔ 4 یعنی ان کی ایک ایک حرکت کا اسے علم ہے، لہٰذا یہ اس کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔