43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 43:41–42

فَاِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَاِنَّا مِنْهُمْ مُّنْتَقِمُوْنَۙ Open ayah 43:41 in the Quran reader

پھر اگر ہم تجھ کو دنیا سے اٹھا لیں تب بھی ہم ان کافروں سے بدلہ لیں گے

اَوْ نُرِیَنَّكَ الَّذِیْ وَعَدْنٰهُمْ فَاِنَّا عَلَیْهِمْ مُّقْتَدِرُوْنَ Open ayah 43:42 in the Quran reader

یا جس عذاب کا ہم ان سے وعدہ کرتے وہ تجھ کو دلکھا دیں7 بیشک ہم کو (ہر طرح) ان پر قدرت ہے (ہم یہ بھی کرسکتے ہیں)8

ف 7 یعنی ان سے انتقام لینے کے لئے ان پر عذاب ضرور بھیجا جائے گا چاہے یہ عذاب آپ ﷺ کی زندگی میں آئے یا آپ ﷺ کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد۔ 8 چناچہ ایسا ہی ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی زندگی ہی میں بدر کے روز کافروں پر عذنب بھیجا۔ بہت سے مفسرین (رح) نے اس آیت کی یہی تشریح کی ہے اور ابن جریر (رح) نے اسے ترجیح دی ہے۔ حسن بصری (رح) اور قتادہ (رح) کہتے ہیں کہ یہ آیت مسلمانوں کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ اور بعض الذی نعدھم سے مرادوہ فتنے ہیں جو آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد مسلمانوں میں نمودار ہوئے لیکن زیادہ صحیح پہلی ہی ہے ( قرطبی، ابن کثیر) ۔
Ayah 43:43

فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِیْۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 43:43 in the Quran reader

تو اے پیغمبر تجھ کو جو حکم آیا اس کو مضبوط تھامے رہ شریعت پر قائم رہ بیشک تو سیدھے رستے پر ہے9

ف 9 یعنی آپ ﷺ کو ان کافروں کی مخالفت سے دل برداشتہ نہیں ہونا چاہیے۔ آپ ﷺ کے لئے یہ اطمینان کا فی ہے کہ آپ ﷺ راہ حق پر ہیں، لہٰذا نتائج سے بےفکر ہو کر اپنی دعوت کا کام جاری رکھیں اور خود اس پر کار بند رہیں۔
Ayah 43:44

وَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَ١ۚ وَ سَوْفَ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:44 in the Quran reader

اور یہ قرآن نصیحت ہے تیرے لئے اور تیرے قوم کے لئے10 اور لوگو آگے چل کر تم سے پوچھ ہوگی11

ف 10 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ قرآن آپ ﷺ کے لئے اور آپ ﷺ کی قوم ( قریش) کے لئے شرف ہے کیونکہ یہ عربی زبان میں نازل ہوا ہے اور اس کے اولین مخاطب قریش ہیں اور جو عجمی قومیں اس پر ایمان لائیں گی ان کو قرآن کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے عربی زبان حاصل کرنی پڑے گی۔ مگر قرآن شرف کا سبب اسی کے لئے ہے جو اس پر عمل پیرا ہوگا ( القرآن حجۃ لک اوعلیک) حدیث میں ہے ( لیس لاحد علی احد فضل الا بالتقوی) کہ کسی کو کسی پر کچھ فضلیت حاصل نہیں ہے الایہ کہ تقویٰ اختیار کرے۔ ( قرطبی) 11 یعنی قیامت کے دن کہ اس نصیحت کی کتاب پر عمل کر کے کسی حد تک اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کی۔
Ayah 43:45

وَ سْئَلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً یُّعْبَدُوْنَ۠ Open ayah 43:45 in the Quran reader

اور اے پیغمبر تجھ سے پہلے جو ہم پیغمبر بھیج چکے ہیں12 ان سے پوچھ لے کیا ہم نے خدا کے سوا دوسرے دیوتا ٹھہرائے تھے جن کو لوگ پوجیں13

ف 12 یعنی ان کی لائی ہوئی کتابوں سے یا ان کی امت کے لوگوں سے ( جامع) بعض علمائے تفسیر نے اس کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ جب انبیاء ( علیہ السلام) سے ملاقات ہو، جیسے شب معراج میں ہوئی تو ان سے دریافت کرلیجئے مگر آنحضرت ﷺ نے دریافت نہیں کیا۔ علامہ قرطبی نے اس دوسرے مطلب کو ترجیح دی ہے اور شاہ صاحب (رح) نے اپنی توضیح میں دونوں احتمال یکساں ذکر کردیئے ہیں۔ چناچہ لکھتے ہیں :” پوچھ دیکھ یعنی جس وقت ان کے ارواح سے ملاقات ہو یا ان کے احوال کتابوں میں دریافت کر۔ ( موضح) 13 ظاہر ہے کہ اس کا جواب نفی میں ہے کیونکہ شرک کسی مذہب میں روا نہیں۔
Ayah 43:46

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَقَالَ اِنِّیْ رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 43:46 in the Quran reader

اور ہم تو موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیچ چکے ہیں14 تو موسیٰ نے کہا میں اس کا بھیجا ہوا ہوں جو سارے جہان کا مالک ہے

ف 14 نشانیوں سے مراد نشانیاں ہیں جن کا ذکر سورة اعراف ( آیت 133) میں گزر چکا ہے۔
Ayah 43:47

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِاٰیٰتِنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَضْحَكُوْنَ Open ayah 43:47 in the Quran reader

جب موسیٰ ہماری نشانیاں لے کر ان کے پاس پہنچا دیکھا تو ہنسی میں اڑاتے ہیں1

ف 1 یعنی ان معجزات پر قہق ہے لگانے لگے۔
Ayahs 43:48–49

وَ مَا نُرِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ اِلَّا هِیَ اَكْبَرُ مِنْ اُخْتِهَا١٘ وَ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:48 in the Quran reader

اور ہم ان کو جو نشانی دکھلاتے تھے وہ پہلی نشانی سے (جس کو وہ دیکھ چکے تھے) بڑھ کر ہوتی ہے ہم نے ان کو عذاب میں (بھی) گانٹھا اس لئے کہ وہ (اپنے کفر سے) باز آئیں

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَ السّٰحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ اِنَّنَا لَمُهْتَدُوْنَ Open ayah 43:49 in the Quran reader

اور جب ان پر عذاب آتا تو کہتے او جادو گر تیرے مالک نے جس طرح تجھ سے وعدہ کیا ہے2 ہمارے لئے دعا کر (اگر عذاب اٹھ جائے گا تو ہم بیشک اوپر آجائیں گے (تیرا کہنا مان لیں گے)

ف 2 کہ جب لوگ ایمان لے آئیں تو میں عذاب اٹھالوں گا۔ یا تیرے ملک نے جو عہد منصب نبوت تجھے دیا ہے اس کے واسطہ سے ( بما عھد عندک) کے یہ دونوں مطلب ہوسکتے ہیں۔ بعض نے اس کے یہ معنی کہے ہیں ” اس واسطے کہ تیرے رب نے تیرے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے کہ تیری دعا قبول کروں گا۔ (ابن کثیر)
Ayahs 43:50–51

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 43:50 in the Quran reader

جب ہم ان پر سے عذاب اٹھا لیتے تو اسی وقت اپنا اقرار توڑ ڈالتے

وَ نَادٰى فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِهٖ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْكُ مِصْرَ وَ هٰذِهِ الْاَنْهٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ١ۚ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَؕ Open ayah 43:51 in the Quran reader

اور فرعون نے اپنے لوگوں میں یہ منادی کرائی بھائیو کیا مصر کا بادشاہ میں نہیں ہوں اور تم دیکھتے ہو نہریں میرے محل کے تلے پڑی بہہ رہی ہیں کیا تم کو سوجھتا نہیں3

ف 3 یعنی کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) میرا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ فرعون نے جب وہ نشانیاں دیکھیں تو ڈر گیا کہ کہیں عوام حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی طرف مائل نہ ہوجائیں اس لئے یہ بات کہی۔ ( قرطبی) ۔
Ayah 43:52

اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ مَهِیْنٌ١ۙ۬ وَّ لَا یَكَادُ یُبِیْنُ Open ayah 43:52 in the Quran reader

میں اسی شخص سے موسیٰ سے جو ذلیل آدمی ہے4 برابر بات نہیں کرسکتا ان کی زبان میں مکنت تھی کہیں بہتر ہوں5

ف 4 یعنی حقیہ جس کے پاس نہ مال و دولت ہے اور نہ قوت و اقتدار۔ 5 علمائے تفسیر (رح) نے لکھا ہے کہ فرعون کی مراد وہ لکنت ( عقدہ) ہے جو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی زبان میں تھی اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے دعا کرنے سے وہ دور ہوگئی تھی۔ لہٰذا فرعون کا یہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) پر طعن اور جھوٹ ہے۔ ( ابن کثیر)
Ayah 43:53

فَلَوْ لَاۤ اُلْقِیَ عَلَیْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَآءَ مَعَهُ الْمَلٰٓئِكَةُ مُقْتَرِنِیْنَ Open ayah 43:53 in the Quran reader

اگر وہ سچ مچ خدا کا بھیجا ہوا ہے تو اس پر سونے کے کنگن آسمان سے کیوں نہیں ڈالے گئے باخبر فرشتوں کو تو اکٹھا ہو کر اس کے ساتھ آنا تھا6

ف 6 اس زمانہ میں بادشاہت جب کسی شخص کو اعزاز بخشتے تو اسے سونے کے کنگن پہناتے اور اس کے ساتھ فوج کا ایک جتھہ رہتا۔ اس بناء پر فرعون نے کہا کہ اگر واقعی موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر بھیجا ہوتا تو ضروری تھا کہ اس کے پاس خلعت شاہی ہوتا اور فرشتوں کے پرے کے پرے اس کے ساتھ ہوتے۔ اور اب کہ ایسا نہیں ہے تو ہم اسے رسول کیسے مان لیں۔ شاہ صاحب (رح) نے بھی اپنی توصیح میں اسی مفہوم کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔
Ayah 43:54

فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 43:54 in the Quran reader

آخر فرعون نے ایسی ایسی باتیں بنا کر اپنی قوم کو پھسلا لیا7 تو بنا لیا انہوں نے اس کا کہنا مان لیا موسیٰ کا کہنا نہ سنا بیشک وہ نافرمان شریر لوگ تھے8

ف 7 لفظی ترجمہ یہ ہے کہ ” اس نے اپنی قوم کو ہلکا جانا “ یعنی اس نے اپنے ملک کے باشندوں کی عقل اور سمجھ کو بکائو مال سمجھا اس لئے وہ اپنی مکاریوں اور چال نازیوں سے انہیں پھسلانے اور الو بنانے میں کامیاب ہوگیا یا ان کو مجبور کیا کہ اس کا ساتھ دیں۔ ( قرطبی) ۔ 8 یعنی فسق و فجور ان کی سرشت بن چکا تھا۔
Ayah 43:55

فَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 43:55 in the Quran reader

جب انہوں نے ہم کو غصہ دلایا تو ہم نے ان سے بدلا لیا9 ان سب کو سمندر میں ڈبو دیا

ف 9 یعنی جب وہ اپنی سرکشی اور نافرمانی میں بڑھتے ہی چلے گئے تو ہم نے ان سے انتقام لیا پس گناہ گار کو چاہیے کہ اللہ کے غضب سے ڈر کر توبہ کرے اور اس کے علم و عفو پر مغرور نہ ہو (قرطبی)
Ayah 43:56

فَجَعَلْنٰهُمْ سَلَفًا وَّ مَثَلًا لِّلْاٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 43:56 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو گنے گزرے کردیا اور پچھلے کے لئے10 عبرت بنادیا

ف 10 دوسر ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” ہم نے انہیں بعد میں آنے والوں کیلئے پیش رو اور نمونہ عبرت بنادیا کہ ان کے انجام سے عبرت حاصل کریں “۔
Ayah 43:57

وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ یَصِدُّوْنَ Open ayah 43:57 in the Quran reader

اور جب مریم کے بیٹے عیسیٰ مسیح کا حال بیان کیا گیا تو تیری قوم کے لوگ خوشی سے چلا اٹھے11

ف 11 یعنی قرآن میں ان کا ذکر آوے تو اعتراض کرتے ہیں کہ ان کو بھی خلق پوجتے ہیں انہیں کیوں خوبی سے یاد کرتے ہو اور ہمارے پوجون (بتوں) کو برا کہتے ہو۔ ( موضح) قتادہ (رح) اور مجاہد (رح) کہتے ہیں کہ جب اس سورة کی آیت 45 نازل ہوئی۔ یعنی ” واسئل من ارسلنا “ تو مشرکین حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے معاملے کو لے بیٹھے کہ نصاری ان کی عبادت کرتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ( قرطی)
Ayah 43:58

وَ قَالُوْۤا ءَاٰلِهَتُنَا خَیْرٌ اَمْ هُوَ١ؕ مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًا١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ Open ayah 43:58 in the Quran reader

اور کہنے لگے کیا ہمارے دیوتا اچھے ہیں یا عیسیٰ12 یہ بات انہوں نے صرف جھگڑے کے لئے تجھ سے بیان کی13 بات یہ ہے کہ وہ بڑا جھگڑا لو لوگ ہیں

ف 12 یعنی جب ہر وہ شخص جس کی اللہ کے سواعبادت کی جاتی ہے دوزخ کا ایندھن ہے تو ہمارے بتوں اور عیسیٰ ( علیہ السلام) میں کیا فرق رہا۔ ہمیں یہ بات منظور ہے کہ عزیز ( علیہ السلام) ، عیسیٰ (علیہما السلام) اور فرشتے بھی دوزخ میں جائیں اور ہمارے بت بھی۔ ( قرطبی) 13 ورنہ اس کی جو حقیقت ہے اسے یہ خود بھی سمجھتے ہیں۔
Ayah 43:59

اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَیْهِ وَ جَعَلْنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 43:59 in the Quran reader

عیسیٰ تو ہمارا ایک بندہ تھا جس پر ہم نے اپنا فضل کیا تھا اور کچھ نہیں اور بنی اسرائیل کے لئے اس کو ہم نے اپنی قدرت کا ایک نمونہ بنایا تھا1

ف 1 قدرت کا نمونہ بنانے سے مراد یہ ہے کہ انہیں بن باپ پیدا کیا اور انہیں ایسے معجزے دیئے جو ان کے زمانہ میں کسی اور کو نہیں ملے۔ (قرطبی)
Ayah 43:60

وَ لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَّلٰٓئِكَةً فِی الْاَرْضِ یَخْلُفُوْنَ Open ayah 43:60 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو تم میں سے فرشتے پیدا کردیں جو زمین میں تمہاری جگہ رہیں2

ف 2 یعنی ایک عیسیٰ کو بن باپ پیدا کرنا کیا مشکل ہے، تم تو اگر چاہیں تمہاری نسل سے فرشتے پیدا کردیں۔ یا تم میں سے بعض کو فرشتے بنادیں جو زمین میں تمہارے قائم مقام ہوں۔ آیت کے یہ دونوں مطلب اس صورت میں ہیں جب منکم کا ترجمہ تم میں کیا جائے اور اگر اس کا ترجمہ تمہارے بجائے کیا جائے جو دراصل بدلا منکم کا ترجمہ ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ اگر ہم چاہیں تو تم سب کو ہلاک کر کے تمہارے بجائے زمین میں فرشتوں کو بسا دیں جو تمہاری طرح آپس میں ایک دوسرے وارث ہوں۔ یعنی فرشتوں کے آسمان میں رہنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کی عبادت کی جائے یا ان کو اللہ کی بیٹیاں کہہ کر پکارا جائے۔ ( قرطبی وغیرہ)
Ayah 43:61

وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَ اتَّبِعُوْنِ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 43:61 in the Quran reader

اور بیشک عیسیٰ کا اترن اقیامت کی ایک نشانی ہے3 تو اے پیغمبر لوگوں سے کہہدے تم قیامت میں شک مت کرو اور میرے کنے پر چلو یہی سیدھا رستہ ہے4

ف 3 لفظی ترجمہ یہ ہے کہ اور بیشک وہ قیامت کی ایک نشانی ہے اس وہ سے مراد اکثر مفسرین (رح) نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا آسمان سے اترنا لیا ہے جس کی خبر بکثرت احادیث میں دی گئی ہے اور بقول شوکانی وہ حد تواترکو پہنچ چکی ہیں اور ابن کثیر (رح) نے بھی ان کو متواتر کہا ہے اور ان کے نزول پر امت کا اجماع بھی ہے۔ اس مسئلہ کی تفصیل حجج الکرامۃ میں مذکور ہے بعض نے ہ کی ضمیر سے مراد قرآن اور بعض نے حضرت عیسیٰ کا بن باپ کے پیدا ہونا لیا ہے۔ اس اعتبار سے قرآن آخری کتاب ہے لہٰذا یہ قیامت کی علامت بن سکتی ہے۔ ( شوکانی) 4 یعنی توحید کا راستہ جس کی طرف تمہیں بلا رہا ہوں۔
Ayahs 43:62–63

وَ لَا یَصُدَّنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:62 in the Quran reader

اور شیطان ایسا نہ ہو تم کو اس رستے سے رہ کے بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

وَ لَمَّا جَآءَ عِیْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَ لِاُبَیِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ Open ayah 43:63 in the Quran reader

اور جب عیسیٰ بنی اسرائیل کے پاس معجزے لے کر آیا تو کہنے لگا (لوگو) میں تمہارے پاس نبوت دیا دانائی کی باتیں لے کر آیا ہوں اور میرا مطلب یہ بھی ہے کہ بعض باتیں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو تم کو سمجھا دوں5 تو اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میرا کہا مانو

ف 5 یعنی توراۃ کے بعض احکام جن میں تمہارے درمیان اختلاف ہے، ان کی حقیقت تمہیں سمجھا دوں۔
Ayahs 43:64–65

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 43:64 in the Quran reader

بیشک اللہ وہی میرا مالک ہے اور تمہا بھی مالک ہے اسی کو پوجتے رہو یہی توحید سیدھا رستہ ہے

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ یَوْمٍ اَلِیْمٍ Open ayah 43:65 in the Quran reader

پھر جب عیسیٰ نے ان کو یہ نصیحتیں سنائیں بنی اسرائیل کے آپس میں پھوٹ کر کئی گروہ ہوگئے6 تو جن لوگوں نے ظلم کیا7 وہ تکلیف والے دن کے عذاب سے خراب ہوں گے8

ف 6 بعض نے انہیں سچا پیغمبر ﷺ مانا، بعض نے غلو کر کے انہیں خدا کا بیٹا بنا لیا اور بعض نے ان کی اس حد تک مخالفت کی کہ جھوٹا اور مکار قرار دیا اور انہیں سولی دینے کی سکیم بنائی۔ 7 مراد آخری دو گروہ ہیں یعنی جنہوں نے انہیں خدا کا بیٹا قرار دے کر شرک کا ارتکاب کیا اور جنہوں نے ان کی مخالفت کی۔ 8 مراد قیامت کا دن ہے۔
Ayahs 43:66–67

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 43:66 in the Quran reader

کیا یہ لوگ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ ایک ہی ایکا قیامت ان پر آن پہنچے اور ان کو خبر نہ ہو

اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَئِذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَؕ۠ Open ayah 43:67 in the Quran reader

اس دن تو جانی دوست ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے مگر جو پرہیز گار ہیں9

ف 9 یعنی صرف انہی لوگوں کی دوستی باقی رہے گی جو دنیا میں صرف اللہ تعالیٰ کے لئے دوستی رکھتے تھے۔ دوسری تمام دوستیاں دشمنی میں تبدیل ہوجائیں گی۔
Ayahs 43:68–70

یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 43:68 in the Quran reader

اے میرے بندو ! تم کو آج کوئی ڈر نہیں اور نہ کوئی غم

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَۚ Open ayah 43:69 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہوں گے جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور دنیا میں ہمارے فرمانبردار رہے

اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ اَنْتُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُوْنَ Open ayah 43:70 in the Quran reader

ان سے کہا جائے گا تم اور تمہاری بی بیاں بہشت میں جائو (وہاں) تمہاری خاطر ہوگی10

ف 10 ازواج سے مراد بیویاں بھی ہیں۔ یعنی وہ جنہوں نے نیک اعمال میں ان کا ساتھ دیا تھا اور ایسے لوگ جو دنیا میں ان کے ساتھی اور ہم مشرب رہے تھے۔
Ayah 43:71

یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَهَبٍ وَّ اَكْوَابٍ١ۚ وَ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْهِ الْاَنْفُسُ وَ تَلَذُّ الْاَعْیُنُ١ۚ وَ اَنْتُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 43:71 in the Quran reader

ان پر سونے کی رکابیوں اور کو زوں کا دور چلے گا11 اور ان کے سوا جو ان کے جی خواہش کریں گے اور آنکھوں کو اچھا معلوم ہوگا اور وہ وہاں موجود ہوگا اور ان سے یہ بھی کہا جائے گا تم یہاں ہمیشہ رہو گے

ف 11 رکابیوں میں طرح طرح کے کھانے اور میوے ہونگے اور کو زوں میں طرح طرح کے پینے کی چیزیں۔
Ayah 43:72

وَ تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْۤ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 43:72 in the Quran reader

اور یہ باغ جو تم کو ملا ہے تو ان نیک کاموں کے بدل چن کر تم دنیا میں کرتے رہے1

ف 1 یعنی اللہ کے فضل سے ان نیک اعمال کی بدولت۔
Ayahs 43:73–75

لَكُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ كَثِیْرَةٌ مِّنْهَا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 43:73 in the Quran reader

تمہارے لئے اس باغ میں بہت میوے میں طرح طرح کے انہی کو کھاتے رہو

اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ عَذَابِ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚۖ Open ayah 43:74 in the Quran reader

بیشک گناہگار تو ہمیشہ دوزخ کے عذاب میں رہیں گے

لَا یُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَ هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَۚ Open ayah 43:75 in the Quran reader

ان کا عذاب کبھی کم نہ ہوگا وہ ناامید ہو کر اس میں پڑے رہیں گے2

ف 2 نا امیدہونے سے مراد نجات سے ناامید ہونا۔
Ayah 43:76

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْا هُمُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 43:76 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ظاگلم تھے3

ف 3 جو رسولوں ( علیہ السلام) کو سمجھانے کے باوجود گناہ پر گناہ کرتے رہے اور اپنی سرکشی سے باز نہ آئے۔
Ayah 43:77

وَ نَادَوْا یٰمٰلِكُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّكَ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ مّٰكِثُوْنَ Open ayah 43:77 in the Quran reader

اور وہ دوزخی داروغہ کو پکاریں گے او مالک کچھ ایسا کر کہ ہمارے پروردگار ہمارا فیصلہ کر دے4 وہ کہے گا تم کو تو (اسی حال میں) رہنا ہے5

ف 4 یعنی ہمارا خاتمہ کر دے تاکہ اس عذاب سے نجات ملے۔ مالک دوزخ کے داروغہ کا نام ہے۔ 5 یعنی اسی طرح عذاب کی چکی میں پستے رہنا ہے، موت نہیں آسکتی۔
Ayah 43:78

لَقَدْ جِئْنٰكُمْ بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 43:78 in the Quran reader

اے مکہ کے کافرو ہم تو تمہارے پاس سچا قرآن یا سچا دین) بھیج چکے لیکن تم میں بہت لوگ سچی بات سے چڑتے ہیں6

ف 6 یعنی اس سے نفرت کرتے ہیں اور اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
Ayah 43:79

اَمْ اَبْرَمُوْۤا اَمْرًا فَاِنَّا مُبْرِمُوْنَۚ Open ayah 43:79 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے کوئی بات ٹھان رکھی ہے7 تو ہم نے بھی ٹھان رکھی ہے8

ف 7 یعنی کیا انہوں نے آپ ﷺ کو شہید کرنے یا مکہ سے نکالنے کے لئے کوئی خفیہ منصوبہ تیار کیا ہے ؟ یعنی ضروری بنایا ہے۔ 8 یعنی کوئی بات نہیں ہم نے بھی ان کے منصوبے کو ناکام بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
Ayah 43:80

اَمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ١ؕ بَلٰى وَ رُسُلُنَا لَدَیْهِمْ یَكْتُبُوْنَ Open ayah 43:80 in the Quran reader

کیا کافر یہ سمجھتے ہیں ہم ان کی چھپی باتیں اور کانا پھوسی نہیں سنتے کیوں نہیں ہم سنتے ہیں اور ہمارے فرشتے ان کے پاس سب لکھتے جاتے ہیں9

ف 9 مراد وہ فرشتے ہیں جو آدمی پر مقرر ہیں اور اس کی اچھی بری باتوں کو قلمبند کرتے رہتے ہیں۔