44. Surah Ad-Dukhaan

الدخانThe Smoke · 59 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 44:41

یَوْمَ لَا یُغْنِیْ مَوْلًى عَنْ مَّوْلًى شَیْئًا وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَۙ Open ayah 44:41 in the Quran reader

جس دن کو فی دوست کسی دوست کے چھ کام نہ آئے گا اور نہ ان کو مدد ملے گی13

ف 13 جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا : فاذا الفخ فی الصور فلا انساب بینھم یومئذ ولا یتسآء لون اور جس دن صور پھونکا جائے گا تو ان میں کوئی نسب نہیں ہوں گے اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے۔ (مومنون :110) 14 یعنی نہ ان کو رشتہ داروں اور دوستوں اور نہ کسی اور سے کوئی مدد مل سکے گی۔
Ayah 44:42

اِلَّا مَنْ رَّحِمَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 44:42 in the Quran reader

مگر جس پر اللہ تعالیٰ رحم کرے15 بیشک وہ زبردت ہے رحم والا

ف 15 یعنی اس روز کسی سفارش سے بس اسی کو فائدہ پہنچ سکے گا جس پر اللہ تعالیٰ رحم کرے اور اس کی سفارش کرنے کی اجازت دے۔
Ayahs 44:43–44

اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِۙ Open ayah 44:43 in the Quran reader

بیشک آخرت میں تھوہر کا درخت

طَعَامُ الْاَثِیْمِ٤ۖۛۚ Open ayah 44:44 in the Quran reader

بڑے گنہگارہ (جیسے ابوجہل تھا) کھانا ہے16

ف 16 ۔ سورة صافات میں ہے کہ یہ زقوم کا درخت جہنم کی تہہ میں اگے گا اور جہنمیوں کو جب بھوک ستائے گی تو انہیں بس یہی کھانے کو ملے گا۔
Ayahs 44:45–49

كَالْمُهْلِ١ۛۚ یَغْلِیْ فِی الْبُطُوْنِۙ Open ayah 44:45 in the Quran reader

جیسے پگھلاتا بنا (یا تلچھٹ) وہ پیٹوں میں بسا کھولے گا

كَغَلْیِ الْحَمِیْمِ Open ayah 44:46 in the Quran reader

جیسے بہت گرم پانی کھولتا ہے

خُذُوْهُ فَاعْتِلُوْهُ اِلٰى سَوَآءِ الْجَحِیْمِۗۖ Open ayah 44:47 in the Quran reader

اور فرشتوں سے کہیں گے پکڑو اس کو اور گھسیٹتے ہوئے دوزخ کے بیچا بیچ اس کو لے جائو

ثُمَّ صُبُّوْا فَوْقَ رَاْسِهٖ مِنْ عَذَابِ الْحَمِیْمِؕ Open ayah 44:48 in the Quran reader

پھر اس کے سر پر جلتے پھلتے پانی کا عذاب برسائو

ذُقْ١ۙۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْكَرِیْمُ Open ayah 44:49 in the Quran reader

اور اس سے کہتے جائو اس عذاب کا مزہ چکھا تو عزت والا سردار ہے1

ف 1 یعنی تو دنیا میں اپنے آپ کو بڑا زبردست عزت دار آدمی سمجھتا تھا اس لئے ہم آج بھی تیری یہ عزت کر رہے ہیں کہ دوسرے دوزخیوں سے بڑھ کر عذاب دے رہے ہیں۔ یہ فرشتے طنزاً کہیں گے۔ (ابن کثیر)
Ayahs 44:50–51

اِنَّ هٰذَا مَا كُنْتُمْ بِهٖ تَمْتَرُوْنَ Open ayah 44:50 in the Quran reader

یہی تو وہ دوزخ ہے جس میں تم کو شک تھی

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامٍ اَمِیْنٍۙ Open ayah 44:51 in the Quran reader

بیشک پرہیز گار لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے ان کی جگہ میں ہوں گے2

ف 2 امن کی جگہ سے مراد ایسی جگہ ہے جہاں نہ کوئی موت کا کھٹکا ہوگا نہ غم اور پریشانی اور نہ محنت و مشقت۔ حدیث میں ہے کہ اہل جنت سے کہ دیا جائے گا کہ یہاں تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ ہو گے ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی نہ مرو گے ہمیشہ خوشحال رہو گے کبھی خستہ حال نہ ہو گے ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے۔ (ابن کثیر)
Ayahs 44:52–54

فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚۙ Open ayah 44:52 in the Quran reader

باغوں اور چشموں میں

یَّلْبَسُوْنَ مِنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَقٰبِلِیْنَۚۙ Open ayah 44:53 in the Quran reader

ریشمی باریک اور سنگین پوشاکیں پہنے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ایک دوسرے سے باتیں کر رہے ہوں گے

كَذٰلِكَ١۫ وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍؕ Open ayah 44:54 in the Quran reader

ایسا ہوگا اور ہم بڑی آنکھوں والی حوروں سے ان کا جوڑا لگا دیں گے3

ف 3 حور ” حورا کی جمع ہے جس کے معنی ” گورے رنگ کی عورت “ کے ہیں اور ” عین عینا “ کی جمع ہے اور اس سے مراد ڑی اور سیاہ آنکھوں والی عورت ہے۔
Ayah 44:55

یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ اٰمِنِیْنَۙ Open ayah 44:55 in the Quran reader

وہاں اطمینان سے ہر طرح کا میوہ منگوائیں گے اور4 مزے سے کھائیں گے

ف 4 اطمینان سے منگوانے کا مطلب یہ ہے کہ انہیں بدہضمی یا کسی قسم کی مضرت کا اندیشہ لاحق نہ ہوگا۔ اس لئے وہ جس مقدار میں جو میوہ منگوانا چاہیں گے بےفکری کے ساتھ منگوائیں گے اور وہ فوراً حاضر کردیا جائے گا۔
Ayah 44:56

لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰى١ۚ وَ وَقٰىهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِۙ Open ayah 44:56 in the Quran reader

بس جو ایک بار دنیا میں مرچکے اس کے سوا پھر متو کا مزہ وہاں نہ چکھیں گے5 اور اللہ تعالیٰ ان کو دوزخ کے عذاب سے بچائے رکھے گا

ف 5 یعنی وہاں کبھی موت نہ آئے گی۔ صحیحین کی ایک روایت میں ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا : موت کو ایک بھورے رنگ کے مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا اور اسے جنت و دوزخ کے درمیان کھڑا کر کے ذبح کردیا جائے گا پھر کہا جائیگا ” اے جنت والو ! تم ہمیشہ زندہ رہو گے۔ “ اور اے دوزخ والو ! تمہیں بھی ہمیشہ رہنا ہے۔ (ابن کثیر)
Ayah 44:57

فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 44:57 in the Quran reader

اے پیغمبر یہ تیرے مالک کا فضل ان پر6 ہوگا بیشک یہی تو بڑی کامیابی ہے بڑی مراد پائی ہے

ف 6 صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” عمل کرو، میانہ روی اختیار کرو حق سے قریب رہو اور یہ یاد رکھو کہ تم میں سے کسی کا عمل بھی اس کو جنت میں نہ لیجائے گا ؟ “ لوگوں نے پوچھا اے اللہ کے رسول ! کیا آپ کا عمل بھی آپ کو جنت میں نہیں لے جائے گا ؟ فرمایا ! ” ہاں ! میرا عمل بھی نہیں لایہ کہا اللہ تعالیٰ اپنے فضل و رحمت سے مجھے ڈھانک لے۔ (ابن کثیر)
Ayahs 44:58–59

فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 44:58 in the Quran reader

اے پیغمبر ہم نے تو اس قرآن کو تیری زبان عربی میں آسان کردیا اس لئے کہ یہ لوگ اس کو یاد رکھیں

فَارْتَقِبْ اِنَّهُمْ مُّرْتَقِبُوْنَ۠ Open ayah 44:59 in the Quran reader

یا اس سے نصیحت لیں تو راہ دیکھتا رہ وہ بھی راہ دیکھ رہے ہیں۔7

ف 7 یعنی یہ نصیحت قبول نہیں کر رہے تو آپ دیکھتے رہیں کہ ان کی تباہی کیونکہ آتی ہے اور یہ بھی انتظار کر رہے ہیں کہ آپ جس دعوت کو لے کر اٹھے ہیں اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔